میاں بیوی کا تعلق، احکام اور احتیاطیں

(خورشید احمد سعیدی، اسلام آباد، 15 نومبر 2022ء)

آج بعد نماز مغرب میں نے سورۃ البقرۃ کی آیت 223 پر غور کیا تو خوفزدہ ہو گیا۔ آپ بھی اس پر تدبر کریں۔

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِين} سورة البقرة: 223.

ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ۔ اور اپنے لئے آئندہ کا سامان کر لو۔ اور الله کا تقوٰی اختیار کرو اور جان لو کہ تم اس کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ اور (اے حبیب!) آپ اہلِ ایمان کو خوشخبری سنادیں (کہ الله کے حضور ان کی پیشی بہتر رہے گی)۔ (استفادہ از عرفان القرآن)

قابل توجہ نکات:

1. اس آیت میں لفظ نساء کا معنی عام عورتیں نہیں بلکہ بیویاں ہے۔ عورت بحیثیت بیوی کا درجہ کوئی عام یا نظر انداز کر دینے والا درجہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ شوہر جو بھی رویہ اختیار کرے گا اپنے اور اپنی بیوی کے خالق و مالک الله تعالیٰ کو جواب دہ ہو گا۔ حساب کے بعد یا تو اجر یا پھر سزا ملے گی۔

2. میاں بیوی کے تعلق کی نوعیت کا ایک نکتہ یہ ہے کہ (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ کھیتی سے محبت، اس سے پیار، اس کی حفاظت، رکھوالی، اس کی ضرورتوں کو مناسب اوقات اور مناسب انداز میں پورا کرنا، وغیرہ کوئی کھیتی کے مالک کسان سے سیکھے۔

3. تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ (فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ) پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ۔ یہ نہیں فرمایا کہ تعلقِ خاص کے لیے جہاں چاہو آؤ۔ بس کھیتی میں آنے کی چاہ سنت رسول صلى الله عليه وآله سلم کے خلاف نہ ہو ورنہ سنت کی مخالفت کا انجام جان لیں۔

میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں احکام:

4. (وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ) اور اپنے لئے آئندہ کا سامان کر لو۔ یعنی اس نوع کی کھیتی کو بہتر مستقبل اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بناؤ. محض مزے لینے والے اور ہوس کے پجاری نہ بنو۔

5. (وَاتَّقُوا اللَّهَ) میاں بیوی کے تعلق میں الله کا تقوٰی اختیار کرو. یعنی ازدواجی تعلقات میں اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری کو نہ بھول جاؤ۔

6. (وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ) اور جان لو کہ تم اس کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ جہاں تم نے اس تعلیم الہی کے متعلق حساب دینا ہے۔ کوشش کرو اس ملاقات میں شرمساری، ندامت یا سزا نہیں بلکہ اجر و ثواب ملے۔

7. (وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِين) جو اہل ایمان میاں بیوی کے تعلق میں الله تعالیٰ کی اطاعت کریں گے ان اہلِ ایمان کو اے حبیب صلى الله عليه وآله سلم آپ خوشخبری سنا دیں کہ الله کے حضور ان کی پیشی بہتر رہے گی۔

اہل ایمان دوستو! سوچو! اپنی اہلیہ کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لو اور اس آیت کی روشنی میں اپنی اصلاح کرو، توبہ کرو اور سنت رسول صلى الله عليه وآله سلم پر عمل کرو۔

اس آیت کے متعلق آپ کی فہم قرآن کیا کہتی ہے؟