انجمن طلبہ اسلام کے بانی رکن، اولین سرپرست، بزرگوں کی روایات کے امین، علم کا نمونہ، اہلسنّت کی تاریخ۔۔۔۔
مولانا جمیل احمد نعیمی علیہ الرحمہ

تحریر و تحقیق: معین نوری
مولانا جمیل احمد نعیمی،12فروری ،1935ء کو انبالہ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد قادر بخش (متوفی1958ء) ایک مل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔ آپ نے قرآن پاک ناظرہ اورابتدائی پرائمری تعلیم انبالہ میں حافظ قاری اسماعیل پانی پتی سے حاصل کی۔ ستمبر1947ء میں والد کے ہمراہ دہلی سے لاہور ہجرت کی۔اس وقت آپ کی عمر12سال تھی۔لاہورمیں رنگ محل شاہ عالمی گیٹ کے قریب 2سال رہائش پذیر رہے۔ 1949ء میں لاہور سے کراچی منتقل ہوئے اور رنچھوڑ لائن میں صابری مسجد کے قریب سکونت اختیار کی۔1948ء تا 1951ء آپ کا تعلیمی سلسلہ منقطع رہا۔ 1951ء میں اسلامیہ نائٹ اسکول رنچھوڑ لائن میں چھٹی کلاس میں داخلہ لیا اور دسویں کلاس تک جا پہنچے مگر ناگزیر وجوہات کی بناپر میٹرک کا امتحان نہ دے سکے۔
کراچی میں آپ اپنے محلے رنچھوڑ لائن کی صابری مسجد میں نماز ادا کرتے تھے، جہاں کے خطیب مولانا مسعود احمد صابری(متوفی28جولائی 1986ء) تھے۔مولانا مسعود احمد کی شخصیت سے متاثر ہو کر آپ نے مئی 1952ء میں مفتی محمد عمرنعیمی اشرفی (متوفی 17مارچ1966ء) کے دارالعلوم، ”مخزن العربیہ بحرالعلوم“(1951ء),رابسن روڈ نزد جامع کلاتھ کراچی میں داخلہ لے لیا۔ تعلیم کے دوران اسی دارالعلوم میں موقوف علیہ تک کتب کی تدریس کی اور1953ء کی تحریک ِ ختم نبوت میں حصہ لیا۔ اسی اثناء میں مولانا محمد وارث ہزاروی، قاضی زین العابدین(متوفی دسمبر1974ء)، مولانا ارشاد حسین،مولانا عبدالباری اور مولانا عبدالحفیظ حقانی(متوفی23جون1958ء) سے بھی علمی فیض حاصل کیا۔
15جون 1960ء کو مخزن العربیہ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔ آپ کی تقریب دستار بندی میں علامہ سید احمد سعید کاظمی،پیر فاروق رحمانی (متوفی11 اگست1983ء)، مولاناغلام معین الدین نعیمی،سفیر عراق السّید عبدالقا در گیلانی(متوفی 26مارچ1976ء)، مولانا مسعود احمد صابری (سسر، نعیمی صاحب)، مولانا عبدالسلام باندوی (متوفی6جنوری1968ء) اور دیگر اکابر علماء کرام شامل تھے۔ آپ کے ہمراہ فارغ التحصیل ہونے والوں طلبہ میں مفتی عبداللہ نعیمی(متوفی30جولائی1982ء)، حافظ محمد ازہر، غلام مجتبیٰ کشمیری اور مولانا تعظیم الدین بھی شامل تھے۔ 1960ء میں آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔
مولانا جمیل احمد نعیمی نے دسمبر1956ء میں سبز مسجد، میٹھادر کراچی میں امامت و خطابت کا سلسلہ شروع کیا جو 1974ء تک جاری رہا۔بعد ازاں امامت ترک کردی تاہم خطابت کا سلسلہ مرض الموت تک اسی مسجد میں رہا۔سند ِفراغت کے بعد ایک سال (1962-1961ء) مولانا عبدالحامد بدایونی(متوفی 20جولائی1970ء) کی مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے بہار کالونی میں واقع مسلم ہائی اسکول میں استاد رہے۔ 1961ء میں پرتگال کے زیر انتظام بحرِ ہند کے علاقوں گووا، دیواور دمن وغیرہ کا دورہ کیا۔ ایک سال دارالعلوم مظہریہ میں مدرس رہے پھردار العلوم قادریہ اور مخزن العر بیہ میں یکے بعد دیگرے، پڑھاتے رہے۔ مخزن عربیہ میں میں درس و تدریس کا سلسلہ 1972ء تک جاری رہا۔ آپ دارالعلوم نعیمیہ کراچی(1975ء) کے بانی ارکان میں سے ہیں۔ یہاں آپ 1975ء سے2008ء تک استاذ الحدیث رہے۔ اس کے بعد سے تا رحلت ناظم ِ تعلیمات کے منصب پر فائز رہے۔
مئی1963ء میں مولانا عبدالحامد بدایونی کے ہمراہ وفد میں شامل ہوکر پہلاحج کیا۔یہ وفد کراچی سے غلاف کعبہ لے کر گیا تھا۔وفد میں مولانا محمد عمر نعیمی،مولانا عارف اللہ شاہ قادری،مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا خلیل احمدقادری، مفتی غلام قادرکشمیری، حاجی نظیر احمد، محترم فتح علی حیدری،مولانا مسعود احمد، سیداحمد اشرف جیلانی او ردیگر علماء کرام شامل تھے۔اس موقع پر مدینہ منو رہ میں مولانا ضیاء الدین احمد مدنی (متوفی2اکتوبر1981ء) سے بیعت ہوئے۔ انہی ایام میں آپ مولانا ضیا الدین مدنی علیہ الرحمہ کی رہا ئش گاہ پر منعقدہ علامہ شاہ احمد نورانی کی تقریب ِ نکاح میں گواہ بنے۔1965ء میں کشمیر کا دورہ کیا جہاں سے واپسی پر کتابچہ ”جہاد کشمیر اور افواج پاکستان“ تحریر کیا۔
اگست 1962ء میں سبزمسجد کراچی میں ”انجمن محبان اسلام“قائم کی۔اس کارِ خیر میں آپ کے ہمراہ عبدالغنی سلیمان، عبدالسلام،امان اللہ،عبدالرزاق حبیب کشوڈیہ، صغیرحسین،عمر دین،عبدالرشید،عبدالرزاق موسیٰ، محمد حسین لوائی اور دیگر افراد شامل تھے۔چند ماہ بعد سبز مسجد میں انجمن محبان اسلام کی لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس موقع پر علاقے کی ایک بزرگ شخصیت صوفی بشیر الد ین بھی قابل ذکر ہیں جو مسجد میں محفل ذکر منعقد کرتے اور نوجوانوں کو دین کی طرف رغبت دلاتے۔ مسجد میں بعد نماز عشا ہونے والے مولانا نعیمی کے درس،ان کے حسن ِ سلوک،صوفی بشیر الدین کی شخصیت،ان کی محفل ذکر، انجمن محبان اسلام کی لائبریری،مخلص کارکنان کی دلچسپی اور مولانا نعیمی کی سرپرستی کے باعث علاقے میں، انجمن محبان اسلام کی دینی سرگرمیوں نے فروغ پایا۔
20-19جنوری 1968ء کو سبز مسجد میں انجمن محبان اسلام اور نواب شاہ کے محمد یعقوب قادری صاحب کی جمعیت طلبہ اہلسنت کا مشترکہ اجلاس نعیمی صا حب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں تنظیموں کے انضمام سے انجمن طلبہ اسلام کی تشکیل عمل میں آئی۔ نعیمی صاحب کی سرپرستی اور مخلص کارکنان کی انتھک محنت نے انجمن طلبہ اسلام کو بہت جلد بام عروج پر پہنچا دیا۔ نعیمی صاحب نے انجمن طلبہ اسلام کے فروغ کے لیے محمد حنیف حاجی طیب،حاجی عبدالمجید اگر اور محمد یعقوب قادری کے ہمراہ ملک گیر دورے کئے اور علمائے کرام سے ملاقاتیں کرکے انہیں انجمن کے ساتھ تعاون پر آمادہ کیا۔ انجمن کے بانی رکن میاں فاروق مصطفائی لکھتے ہیں
”یہ انہی کی ذاتِ گرامی تھی جس کے سبب طلبہ کی اس نوخیز تنظیم کو سوادِ اعظم کے علماء اور مشائخ کی نظرِ التفات میسر آئی“(مضمون: نوائے انجمن، جنوری2001ء)۔
20 جون 1964ء کو جب جماعت اہلسنّت کی تشکیلِ نو ہوئی تو نعیمی صاحب جماعت اہلسنّت کراچی کے ناظم نشرو اشاعت نامزد ہوئے اور تقریباً 14 جنوری 1971ء تک اس عہدے پر رہے۔آپ نے 1970ء میں کراچی سے صوبائی الیکشن میں حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ 15جنوری 1971ء سے 10 مارچ1974ء تک جماعت اہلسنت کراچی کے ناظم اعلیٰ رہے۔ اس اثنا میں جمعیت علماء پاکستان سندھ کے ناظم اعلیٰ کے عہدے پر بھی فائز رہے جب کہ جے یو پی سندھ کے صدر پیر محمد قاسم مشوری (متوفی28مارچ1990ء) تھے۔ آپ متحدہ جمہوری محاذ کی تحریک بحالی جمہوریت کے دوران 1973ء کے رمضان المبارک کے پہلے جمعہ میں سبز مسجد میں حکومت کے خلاف ایک تقریر کرنے کی پاداش میں 9 اکتوبر 1973 ء کو گرفتار ہوئے اور ڈیڑھ ماہ قید رہنے کے بعد 24 نومبر کو رہا کئے گئے۔ اس کے بعد آپ تقریباً دس برس جمعیت علماء پاکستان صوبہ سندھ کے صدر رہے۔ پیشتر ازیں آ پ جے یو پی سندھ کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی جنرل کونسل کے رکن بھی رہے۔
مولانا نعیمی نے1971ء میں ہفت روزہ المدینہ جاری کیا اور 1974-1972ء میں جماعت اہلسنت کے رسالے ”ترجمان اہلسنت“ کے مدیرکی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں۔ علامہ شاہ احمدنورانی کو پاکستان کے سیاسی مذہبی پلیٹ فارم پر لانے کا سہرا مفتی شجاعت علی قادری، مولانا سعادت علی قادری، مولانا حسن حقانی اور مولانا جمیل احمد نعیمی کے سرجاتا ہے۔ 1978ء کی سنی کانفرنس میں آپ نے سندھ کی نمایند گی کرتے ہوئے خطاب کیا۔ 1983ء میں جے یو پی سندھ کے صدر اور 1987ء میں مرکزی نائب صدر منتخب ہوئے۔ 1988ء میں عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے طور پر حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ نعیمی صاحب کو ورلڈ اسلامک مشن کے ٹرسٹی ہونے کا بھی شرف حاصل رہا ہے۔
یوں تو جمعیت علماء پاکستان کو اپنی ابتداء سے ہی مختلف نوعیت کے اندرونی اختلافات کا سامنا کرنا پڑا مگر 1979میں، اس میں جن غلط فہمیوں اور بد گمانیوں نےجنم لیا ، اس سے اس کے کئی اہم رہنماوں کے دلوں میں، پارٹی کی طرف سے انہیں نظر انداز کرنے کے احساس نے جنم لیا ، جس کے باعث جے یو پی کے بعض اہم رہنماوں کی رفتہ رفتہ اس سے دوری اور بل آخر علحدگی عمل میں آئی اور جے یو پی کے کئی رہنما سیاسی طور پر غیر متحرک ہو گئے۔ان رہنماوں میں انجمن کے بانی رکن حاجی محمد حنیف طیب اور دیگر احباب بھی شامل تھے۔ جبکہ مولانا جمیل احمد نعیمی،علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت میں کام کرتے رہے۔
1985ء میں جمعیت علماء پاکستان کے کئی سابق رہنماوں نے ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ اس الیکشن کے ذریعے ،حاجی محمد حنیف طیب بھی کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور کامیابی کے بعد وفاقی وزیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس موقع پر مولانا جمیل احمد نعیمی اور ان کے ہم خیال طلبہ کا موقف تھا کہ محمد حنیف حاجی طیب نے اے ٹی آئی کو وزارت کے حصول کے لیے استعمال کیا ہے اور اے ٹی آئی اُن کی حمایت میں حکومت کے غیر جمہوری مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ مولانا نعیمی سیاسی اور غیر سیاسی تقسیم کو اسلامی نقطۂ نگاہ سے غلط قرار دیتے ہوئے علامہ شاہ احمد نورانی کی سیاسی قیادت کو تسلیم کرنے پر زور دیتے تھے۔ مولانا کے ہم خیال کارکنان محمد حنیف حاجی طیب کو اے ٹی آئی کے پروگراموں میں مدعو کرنے کے بھی خلاف تھے۔
مسئلے کے حل کے لیے ہونے والی گفت و شنید 6ستمبر1987ء تک کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
6ستمبر1987ء کو مولانا جمیل احمد نعیمی کے نام سے جاری کردہ ایک خط کے ذریعے اے ٹی آئی کی انتظامیہ کو توڑنے اور اس کی تشکیلِ نو کرنے کا اعلان کیا گیا۔
مولانا جمیل احمد نعیمی صاحب کا یہ قدم اے ٹی آئی کی تاریخ کا متنازعہ ترین قدم رہا۔ اُن کے اس اقدام سے اے ٹی آئی ملکی سطح پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اورہر ایک کا دعویٰ رہا کہ وہ ہی اصلی و دستوری انجمن ہے۔
تاہم ہمارے خیال میں انجمن طلبہ اسلام کے اکثر کارکنان نے سیاسی رہنماؤں کے اختلافات میں غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دی اور تنظیمی طور پر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری صاحب کی قیادت میں متحد رہے۔
3جنوری 1988ء کو مولانا جمیل احمد نعیمی نے جمعیت علماء پاکستان صوبہ سندھ کے صدر کی حیثیت سے تحریر کردہ اپنے ایک خط میں جے یو پی کے عہدیداروں کو جے یو پی کی حمایت یافتہ اے ٹی آئی سے تعاون کرنے کی ہدایت دی (عکس مکتوب: حیاتِ جمیل مع افکار جمیل،حصہ دوم، صفحہ76)۔ انجمن طلبہ اسلام میں گروپنگ کی کوششوں کو نظریاتی سطح پر اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے انجمن طلبہ اسلام سے زیادہ جمعیت علماء پاکستان کو نقصان سے دوچار کیا۔
نعیمی صاحب ، حاجی حنیف طیب صاحب سے بیک ڈور رابطے میں بھی رہے۔ حاجی صاحب جب بطور وفاقی وزیر، اسلام آباد میں رہائش رکھتے تھے تو نعیمی صاحب ایک مرتبہ اپنی ہمشیرہ سے ملنے اسلام آباد تشریف لائے اور حاجی صاحب سے رابطہ کرکے ملنے آنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حاجی صاحب نے انہیں آنے سے منع فرمایا اور خود اُن کی قیام گاہ پہنچے ۔ نعیمی صاحب ہی کی خواہش پر ، حاجی صاحب نے اپنی دور وزارت میں ، پروفیسر ڈاکٹر منظور الدین احمد کو کراچی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی لگوایا ۔
سانحہ نشتر پارک کے بعد 8مئی 2006 ء کو دارالعلوم امجدیہ میں منعقدہ علماء کے ایک اجلاس میں مولانا جمیل احمد نعیمی نے اے ٹی آئی کے اتحاد کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ مولانا نعیمی نے 7-6فروری2007ء کو اردو کالج میں منعقدہ کراچی ڈویژن کی ایک تربیتی ورکشاپ سے بھی خطاب کیا(اخبارات کراچی 8-7 فروری2007ء؛ نوائے انجمن مئی2007ء)۔ تاہم آپ نے اپنے گروپ سے کنارا کشی اختیار نہیں کی۔ 18-17مئی 2008ء کو لاہور میں منعقدہ جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی اجلاس میں صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر جے یو پی کے صد راور مولانا جمیل احمد نعیمی مرکزی سپریم کونسل کے سربراہ منتخب ہوئے۔ بعد ازاں صحت اور مصروفیات کے باعث آپ اس عہدے سے سبک دوش ہوگئے۔
مولانا جمیل احمدنعیمی گو کہ بعض اُمور پر انجمن کے بانی رکن محمد حنیف حاجی طیب سے اختلافِ رائے رکھتے تھے، مگر اس کے باوجود آپ دونوں کے درمیان میں دعا سلام اور خیر و عافیت سے آگاہی کا رشتہ رہا۔ 21اگست 2012ء کو آپ نے کراچی میں المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کی عید ملن پارٹی میں اور 22دسمبر 2012ء کو انجمن کے سابق صدر احمد عبدالشکور مرحوم کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کرکے سوسائٹی کے سرپرست محمد حنیف حاجی طیب کے ساتھ خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔ 21ستمبر 2014ء کو کراچی کی ایک تنظیم بزم مصطفی ﷺ کی جانب سے اِن دونوں راہنماؤں کے اعزاز میں ”تقریب پذیرائی“ منعقد کی گئی، جس میں دونوں نے ایک دوسرے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ایک دوسرے کو خدمات کے اعتراف میں شیلڈز پیش کیں۔ اس موقع پر نعیمی صاحب نے تاریخِ انجمن پر معین الدین نوری کی، تاریخ انجمن پر مطبوعہ کتاب کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
مولانا جمیل احمد نعیمی نےدو حج اور گیارے عمرے اداکرنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ تا دم مرگ دارالعلوم نعیمیہ میں ناظم تعلیمات کے منصب پر فائز رہے ۔ 2008ء اور2009ء میں آپ کی حیات و خدمات پر صاحبزادہ فیض الرسول رضا نورانی کی تالیف کردہ کتاب ”حیاتِ جمیل مع افکارِ جمیل“(حصہ اوّ ل اور حصہ دوم) شائع ہوئیں۔2020 میں انجمن طلبہ اسلام کے سابق رہنما ملک محبوب رسول قادری نے اپنے رسالے ”انوار رضا“ کا ”مفتی جمیل احمد نعیمی نمبر“ شائع کیا۔
مولانا جمیل احمد نعیمی نے مختلف دینی کتا بچے بھی تصنیف کیے جن میں افضل التوسل با سید الرسل، فلسفہ و فضائل نماز، فضائل جہاد، فضائل درود و سلام، فضائل رمضان و شعبان، فضائل عیدقربان، فضا ئل عید میلاد النبی، تبلیغی جماعت کی حقیقت، تذکرہ تاج العلماء اور اہلسنت کے لیے لمحہ فکریہ، قابل ذکر ہیں۔علاوہ کئی کتب و کتابچے آپ کی سرپرستی میں شا یع ہوئے۔
ممتاز محقق علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری رقم طراز ہیں ”مولانا جمیل احمد نعیمی، استاذ دارالعلوم نعیمیہ کراچی بہت ہی ممتاز ہیں۔ نہایت وسیع المطالعہ، انتہائی خوش اخلاق اور مسلک وملّت کے لیے پردرد دل رکھتے ہیں۔ ان کی مسلکی اور دینی خدمات نہایت دقیع اور قابلِ قدر ہیں“ (تذکرہ اکابر اہلسنّت، صفحہ497)۔ گو کہ ادلادِ نرینہ کی نعمت سے محروم رہے لیکن آپ اپنے شاگردوں اور کارکنان انجمن کو اپنی روحانی اولاد قرار دیتے تھے۔
آپ کا ایک خاصہ یہ تھاکہ آپ نے بے شمار خطوط و رسائل کا ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھا ہوا تھا، اس میں انجمن کا پرانا ریکارڈ بھی شامل ہے جو انجمن سے آپ کی دیرینہ وا بستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انجمن کی تاریخ پر کتاب، “انجمن طلبہ اسلام: نظریات، جدوجہد، اثرات “کی تالیف کے دوران، آپ نے مولف کو اپنے ریکارڈ سے استفادہ کا موقع فراہم کیا اور اس ضمن میں ہر ممکن علمی تعاون فرمایا۔
آپ نے کتاب کا مسودہ پڑھنے کے بعد، اس پر اپنا تبصرہ بھی تحریر فرمایا جو مذکورہ کتاب میں شامل ہے۔
آپ جہاں بزرگوں کی روایات کے امین اور علم کا نمونہ تھے، وہاں اہلسنّت کی ایک زندہ تاریخ تھے۔ مولانا نعیمی کو خوشبو بہت پسند تھی، موسم کے مطابق عطر استعمال کرتے تھے اور اپنے ملنے والوں کو بھی خوشبو سے معطر کرتے تھے۔
نومبر 2020 کے وسط میں آپ نمونیہ کے باعث کراچی میں ”المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی“ کے ہسپتال میں داخل ہوئے۔ جہاں، آپ کے دیرینہ رفیق کار حاجی محمد حنیف طیب صاحب کی خصوصی ہدایت پر آپ کی خصوصی نگہداشت کی گئی اور المصطفی کی طرف سے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی گئیں۔ بعد ازاں آپ میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ اس دوران راقم کو بھی ان کا عیادت کا موقع نصیب ہوا۔ نعیمی صاحب چند دن علیل رہنے کے بعد 17 نومبر 2020 کی شب اس دار فانی سے رخصت ہوگئے۔
18نومبر کو بعد ظہر داراالعلوم نعیمیہ کراچی میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مفتی منیب الرحمن نے نماز پڑھائی۔ جنازے میں انجمن طلبہ اسلام کے کارکنان، نعیمی صاحب کے شاگرد، محبان اور علماء کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مولانا کو کراچی کے محمد شاہ قبرستان میں سپر د خاک کیا گیا۔
اللہ تعالی آپ کی عظیم خدمات کے طفیل آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔

معین نوری

ماخذ: ذاتی انٹرویو: علامہ جمیل احمد نعیمی، 12جنوری2002ء؛ 24دسمبر2012ء، کراچی۔
انٹرویو: مولانا جمیل احمد نعیمی، ماہنامہ نوائے انجمن،کراچی، اکتوبر1985ء، صفحہ20
گفتگو : محمد حنیف حاجی طیب
صاحبزادہ فیض الرسول رضا نورانی ”حیاتِ جمیل مع افکار ِ جمیل“(حصہ اوّل، دوم)، مکتبہ اہلسنت،لاہو ر
ترجمانِ اہلسنت، کراچی۔ریکارڈ: انجمن محبان ِ اسلام، انجمن طلبہ اسلام اور مختلف لٹریچر