مذہبی فکر کی تعمیر

از: محمد زبیر قادری
رکن روشن مستقبل، دہلی

ہمارے یہاں مذہبی فکر کی تعمیر بالکل نہیں ہوتی۔۔۔
دینی مدارس صرف دینی علوم پڑھانے پر توجہ دیتے ہیں،
دینی تنظیمیں سنتوں پر عمل اور ظاہری تبدیلیوں پر زور دیتی نظر آتی ہیں…
سُنّّی طالب علم ہوں یا مبلغین، ان میں عقائد و نظریات کی پختگی مفقود ہوتی ہے، اس لیے ہماری نوجوان نسل بآسانی باطل فرقوں و تحریکوں کے بہکاوے میں آکر بہت جلد گمراہوں کی صف میں شامل ہوجاتی ہے..
غور کیجیے کہ شیعہ کا بچہ زندگی بھر سنیوں کے درمیان رہنے پر بھی سُنّی نہیں ہوتا، جبکہ سُنّّی بچے ان کے ساتھ رہ کر تفضیلی و گستاخِ صحابہ بن جاتے ہیں۔
وہابی اپنے بچوں کو توحید و شرک کی کیسی گھٹی پلاتے ہیں کہ وہ لوگ کبھی سُنّّی نہیں بنتے…پھر ہمارے اندر تربیت کی کیا کمی ہے کہ سُنّّی نوجوان بدمذہبوں کی صحبت میں بہت جلد گمراہ و بے دین ہوجاتے ہیں..
ہمارے یہاں بچپن سے ہی عقائد کی تعلیم نہیں دی جاتی، بس نیاز، فاتحہ، عرس، میلاد وغیرہ معمولاتِ اہلِ سنّت پر ہی زور دیا جاتا ہے۔ جس سے بچے کے اندر عقائد کی پختگی بالکل نہیں ہوتی۔ اس لیے جب ایسے بچے بدمذہب بچوں کی صحبت میں رہتے ہیں (جن سے بچنا آج کے دور میں ناممکن ہے، کیوں کہ اسکول، کالج وغیرہ میں ساتھ ہوتے ہیں)، تو انھیں عقائد اہلِ سنّت علمِ غیب، نور و بشر، حاضر ناظر وغیرہ اور معمولاتِ اہل سنّت پر اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ یہ شرک ہے، بدعت ہیں۔ سُنّی بچے کنفیوز ہوکر ان کے اعتراضات کے جواب کی تلاش میں اپنے محلے کی مسجد کے امام صاحب کے پاس جاتے ہیں تو وہ اکثر تسلی بخش علمی و تحقیقی جوابات نہیں دے پاتے۔ جس سے بچے باطل فرقوں کو ہی اسلام میں صحیح فرقہ تصور کرکے اس سے جڑ جاتے ہیں۔
احقر کے نزدیک بچپن سے ہی عقائد اہلِ سنّت گھٹی میں پلائے جائیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے متعلق کیا عقیدہ رکھنا چاہیے۔ صفتِ ایمانِ مفصل اور صفتِ ایمانِ مجمل مکمل تشریح کے ساتھ یاد کرانا چاہیے۔
یہ المیہ ہے لیکن اس کے تدارک کی ٹھوس کوشش ہونی چاہیے. نوجوان نسل میں فکر کی مضبوطی کیسے آئے، اس پر غور و فکر کریں.. اور فوری طور پر روبہ عمل میں لایا جائے، کہ فتنوں کے دور میں ایمان کو بچانا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اور ہم ہیں کہ غفلت میں پڑ کر اپنی آنے والی نسلوں کے ایمان کی مضبوطی کی فکر نہ کریں، تو سوچیے مستقبل کا منظر نامہ کیا ہوگا۔