تحریر : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی ، جامعہ نظام مصطفی بہاولپور

(شہنشاہ کائنات ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری کے آداب)

1.. حج و عمرہ سے قبل یا بعد مدینہ طیبہ میں شہنشاہ کائنات ، رحمۃ للعالمین ، خاتم النبیین شفیع المذنبین ، سید المرسلین، سیدنا محمد رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں حاضری عشق کی دنیا کا فرض اولیں ہے ، فقہاء نے اسے قریب ہواجب لکھا ہے۔ اس حاضری میں نیت خالصتا آپ ﷺ کی زیارت کی کریں۔ آپ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے ختمات قرآن، درود و سلام، نفلی طواف وعمرے ساتھ لے کر جائیں۔ سفر مدینہ کے دوران مسلسل ذکر و درود میں مشغول رہیں۔ جیسے جیسے مدینہ منورہ قریب آتا جاۓ ذوق وشوق میں خوب اضافہ ہوتا چلا جائے ۔
2.. جب شہر پاک میں داخل ہوں تو اشک بار آنکھوں کے ساتھ سر جھکاۓ درود و سلام پڑھتے ہوئے داخل ہوں ۔ اس دوران اگر گنبد خضرا شریف پر نگاہ پڑے تو فورا با ادب کھڑے ہو کر صلوۃ و سلام پیش کریں۔ اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر ضروری امور سے فارغ ہوں، دانت صاف کریں، غسل یا وضو کریں، نیا سفید لباس پہنیں، سرمہ لگائیں، خوشبو سے معطر ہوں، اور پھر ہو سکے تو ننگے پاؤں حرم شریف کی طرف روانہ ہوں ۔
3.. حرم شریف کے قریب پہنچ کر جیسے ہی گنبد خضراء شریف پر نظر پڑے تو فورا وہیں رک جائیں، با ادب ہاتھ باندھ کر صلوۃ و سلام عرض کریں اور تصور ہی تصور میں حاضری کی اجازت طلب کریں۔ اس دوران اگر کوئی جان پہچان والانظر آۓ تو اس کی طرف بھی توجہ نہ دیں، نیز حرم شریف کے نقش ونگار وغیرہ بھی نظر میں نہ لائیں ، دل و دماغ ہر طرح کے غیر متعلقہ خیالات سے پاک ہوں، لوگوں کی چہل پہل کی طرف قطع متوجہ نہ ہوں.
4.. پھر مسجد نبوی شریف(قدیم) میں حاضر ہو کر نوافل ادا کریں ،اگر فرض نماز کا وقت ہو تو وہ بھی ادا کریں، پھر سجدہ شکر ادا کریں کہ بارگاہ حبیب میں حاضری کی توفیق ملی. نیز اللہ تعالی سے دعا مانگیں کہ آپ کو باادب اور مقبول حاضری نصیب ہو۔ اب نہایت عاجزی وانکساری کے ساتھ ڈرتے جھجکتے ،لرزتے کانپتے.. روتے ہوۓ یا رونے کی صورت بنا کر ہاتھ باندھے سر جھکاۓ کل کائنات کی رحمت کی بارگاہ میں با ادب حاضری کے لیے اور اپنا بگڑا بخت سنوارنے کے لیے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوۓ باب السلام کی طرف چلنا شروع کریں۔
5.. جب باب السلام پر پہنچیں اور دیکھیں کہ عاشقان رسول سرور کائنات کی خدمت اقدس میں حاضری کے لیے جا رہے ہیں تو آپ بھی ان میں شامل ہو جائیں۔ اور اگر وہ راستہ کھلنے کے انتظار میں ہوں تو آپ بھی خاموشی سے ایک طرف ٹھہر جائیں۔ مسجد اقدس اور اس کے آس پاس
آپ کی آواز ہرگز ہرگز اونچی نہیں ہونی چاہیے۔
6.. اب باب السلام سے چلتے چلتے اللہ تعالی کے حبیب ﷺ کی بارگاہ بے کس پناہ کے قریب پہنچیں تو یہ عقیدہ و رکھیں کہ آپ ﷺ اپنی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات کے ساتھ جلوہ فرما ہیں ، سب کچھ ملاحظہ فرما رہے ہیں اور آپ کی حاضری، سلام و قیام اور جملہ حالات وخیالات سے باخبر ہیں ۔
7.. اب کمال ادب کے ساتھ گناہوں کی ندامت سے پسینہ پسینہ مواجہہ شریف کی طرف منہ کر کے ہاتھ باندھ کر چار ہاتھ کے فاصلے پر بالکل اس طرح ہاتھ باندھ کے کھڑے ہوں جیسے نماز میں ہاتھ باندھتے ہیں. جالی مبارک کو ہاتھ لگانے یا اندر جھانکنے سے سخت سخت پرہیز کریں کہ خلاف ادب
ہے۔ یہ آپ کی عظیم ترین خوش نصیبی ہے کہ اس وقت آپ دو جہانوں کے سردار ، وجہ تخلیق کائنات، فخر موجودات، امام الانبیاء، سیاح لامکاں ، سیدنا محمد رسول ﷺ کے رو برو حاضر ہیں۔ یہ آپ کے لیے زندگی بھر کا سرمایہ اور سب سے بڑھ کر قیمتی لحات ہیں ۔
8.. اب نہایت ادب و وقار اور روتی ہوئی پست و معتدل آواز کے ساتھ یوں سلام عرض کریں:
السلام علیک ایها النبي و رحمة الله و بركاته.. السلام علیک یا رسول الله.. السلام علیک یا حبیب الله .. السلام علیک یا نبی الله .. السلام علیک یا نور الله.. السلام علیک یا خیر خلق الله.. السلام علیک یا شفیع المذنبين، وعلی آلک و اصحابک و امتک اجمعین.
9..پھر اس کے بعد زیادہ سے زیادہ جتنی دیر ممکن ہو بارگاہ اقدس میں با ادب کھڑے ہو کر صلوۃ وسلام پیش کریں. اپنے والدین، اساتذہ، اولاد اور تمام متعلقین کے لیے شفاعت مانگیں۔ بار بار عرض کریں “اسألک الشفاعة يا رسول الله”
پھر جتنے حضرات نے سلام بھیجا ہو ان کے سلام شہنشاہ کائنات کی مقدس بارگاہ میں عرض کریں۔
10..اس کے بعد تھوڑا سا آگے کو پڑھیں اور وزیر رسول، امیر المؤمنين سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے چہرہ انور کے سامنے ٹھہر کر انہیں یوں سلام عرض کریں :
السلام علیک یا خليفة رسول الله.. السلام علیک یا وزیر رسول الله ـ پھر تھوڑا اور آگے بڑھیں اور مراد رسول خلیفۃ المسلمین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے روبرو کھڑے ہوں اور انہیں یوں سلام عرض کریں :
السلام علیک یا امیر المؤمنين.. السلام علیک یا خليفة المسلمين.
یہ تینوں بارگاہیں قبولیت دعا کی ہیں، لہذا جو کچھ مانگنا چاہیں مانگیں۔
11..حاضری کے بعد اس طرح ہا ادب باہر آئیں کہ آپ ﷺ اور شیخین کریمین کی طرف ہرگز ہرگز پیٹھ نہ ہو۔ اگر کوئی شرطہ یا مطوع وغیرہ آپ کے ساتھ الجھنے کی کوشش کرے تو آپ پوری کوشش کریں کہ ان کے ساتھ کوئی بحث مباحثہ نہ ہو، کیونکہ وہ ایسا کر کے آپ کی توجہ سرور کائنات ﷺ سے ہٹانا اور آپ کا ذوق شوق خراب کرنا چاہتے ہیں.
12.. اس کے بعد ریاض الجنۃ میں ہر ہر ستون اور منبر پاک کے پاس نوافل پڑھیں اور دعائیں مانگیں ۔ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے کوئی ایک سانس بھی ہے کار نہ جانے دیں ، ضروریات کے علاوہ سارا وقت مسجد شریف میں باوضو گزاریں۔ نوافل، تلاوت قرآن اور درود پاک کی کثرت کریں، روزے رکھیں ،صدقہ و خیرات کریں. قرآن حکیم کا کم از کم ایک ختم کریں۔
13..جیسے کعبہ شریف اور قرآن حکیم کی زیارت عبادت ہے اسی طرح روضہ پاک کی زیارت بھی عبادت ہے ۔ ہر فرض نماز کے بعد یا کم از کم صبح شام مواجہہ شریف پر حاضر ہوکر با ادب سلام پیش کریں۔ اگر آپ باہر کہیں کام جا رہے ہوں اور گنبد خضرا شریف پر نظر پڑے تو فورا رک جائیں اس کی طرف منہ کر کے ہاتھ باندھ کر سلام عرض کریں، اگر ایسا نہ کیا تو یہ خلاف ادب ہے ۔ جب گنبد خضرا شریف سامنے ہو تو آپس میں باتیں ہرگز نہ کریں، اگر بات کرنا ضروری ہو تو گنبد شریف سے چھپ کر کریں۔
14.. تمام نمازیں مسجد نبوی شریف میں قرب رسول میں ادا کریں ، یہاں کی ایک نیکی پچاس ہزار نیکیوں کے برابر ہے ۔ کوشش کریں کہ چالیس نمازیں مسلسل بلا ناغہ مسجد شریف میں ادا ہوں ۔ روضہ انور کی طرف کسی بھی صورت میں پیٹھ نہیں ہونی چاہیے. نماز میں بھی ایسی جگہ نہ کھڑے ہوں کہ روضہ اقدس کو پیٹھ کرنی پڑے۔
15.. جب مدینہ منورہ سے رخصت ہونے کا وقت آئے تو شہنشاہ کائنات ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوں ، با ادب سلام عرض کریں ، اجازت کے طلب گار ہوں ، بار بار حاضری کی نعمت کی بھیک مانگیں، مدینہ طیبہ میں ایمان پر موت اور جنت البقیع میں دفن ہونے کی دعا کریں اور نہایت غمگین کیفیت کے ساتھ واپس لوٹیں ۔
مر کے جیتے ہیں جو ان کے در پہ جاتے ہیں حسن
جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر