حضرت امیر معاویہؓ پر ایک روایت کے حوالے سے شراپ پینے کے الزام کی حقیقت اور روایت کی تحقیق
ازقلم : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

اس فحش الزام کو ثابت کرنے کے لیے مذکورہ روایت پیش کی جاتی ہے جو کہ مسند احمد میں ہے :

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﺤﺒﺎﺏ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺣﺴﻴﻦ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺑﺮﻳﺪﺓ، ﻗﺎﻝ ﺩﺧﻠﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﺃﺑﻲ، ﻋﻠﻰ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻓﺄﺟﻠﺴﻨﺎ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻔﺮﺵ ﺛﻢ ﺃﺗﻴﻨﺎ ﺑﺎﻟﻄﻌﺎﻡ ﻓﺄﻛﻠﻨﺎ ﺛﻢ ﺃﺗﻴﻨﺎ ﺑﺎﻟﺸﺮﺍﺏ ﻓﺸﺮﺏ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺛﻢ ﻧﺎﻭﻝ ﺃﺑﻲ ﺛﻢ ﻗﺎﻝ ﻣﺎ ﺷﺮﺑﺘﻪ ﻣﻨﺬ ﺣﺮﻣﻪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ۔۔۔
ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺑﻦ ﺑﺮﯾﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﯾﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺟﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﺮﻭﺏ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎ۔۔۔
ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﺝ 5 ﺹ 347 ﺣﺪﯾﺚ 22991

اس روایت میں سند اور متن دونوں اعتبار سے علتیں ہیں ۔
اس روایت کا مرکزی راوی زید بن حباب ہے
اور امام ابو حاتم نے بھی اسکی منکر روایت کی نشاندہی کی ہے کیونکہ اس سے منکرات بھی مروی تھیں۔
وسألتُ أَبِي عَنْ حديثٍ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الحُبَاب عَنْ سليمان ابن الربيع، عن مَوْلَى أنسٍ ، عَنْ أنسِ بنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رسولُُ اللَّهِ: مَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللهُ عَنْهُ عَذَابَهُ، وَمَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللهِ قَبِلَ اللهُ عُذْرَهُ؟قَالَ أَبِي: هَذَا حديثٌ مُنكَرٌ
اما م ابو حاتم نے ان سے مروی ایک روایت کو منکر کہا ہے
[العلل لابن أبي حاتم جلد 5 ص 200]

امام احمد بن حنبل کی اس پر جرح مفسر کے دلائل:
سمعته يَقُول كَانَ رجل صَالح مَا نفذ فِي الحَدِيث إِلَّا بالصلاح لِأَنَّهُ كَانَ كثير الْخَطَأ قلت لَهُ من هُوَ قَالَ زيد بن الْحباب
امام عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ:میں نے انکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ وہ ایک صٓالح آدمی تھا لیکن حدیث میں اسکا نفاذ نہیں تھا مگر اصلاح کے ساتھ کیونکہ وہ بہت زیادہ خطا کرتا تھا ۔ میں نے پوچھا وہ کون ہے فرمایا وہ زید بن الحباب ہے
(یہ جرح مفسر ہے مطلق)
[العلل ومعرفة الرجال جلد 2 96]

قَالَ [سَمِعت أَحْمد قَالَ] زيد بن الْحباب كَانَ صَدُوقًا وَكَانَ يضْبط الْأَلْفَاظ عَن مُعَاوِيَة بن صَالح وَلَكِن كَانَ كثير الْخَطَأ
امام ابو داود اپنے شیخ امام احمد سے روایت کرتے ہیں : میں نے امام احمد سے سنا وہ کہتے ہیں زید بن حباب صدوق تھا وہ ابو معاویہ سے الفاظ تو یاد کر تا تھا لیکن کثیر خطاء کرتے تھا
[: سؤالات أبي داود للإمام أحمد بن حنبل في جرح الرواة وتعديلهم برقم 432]

یہ تو اس روایت کے راوی کا حال ہے جو عمومی طور صدوق ہے لیکن صاحب منکرات ہے اور بعض اوقات یہ روایات کو صحیح یاد نہیں کر پاتا تھا اور بقول امام احمد کثیر غلطیاں بھی کرتا تھا ۔
اور مذکورہ روایت میں اس سے غلطی ثابت بھی ہے متن کے حوالے سے ۔

روایت کے متن میں قابل اعتراض الفاظ شرب نہیں جسکا ترجمہ تفضیلیہ یا روافض شراب کر رہے ہیں کیونکہ عربی میں شراب کو خمر کہتے ہیں اور شرب تو عمومی مشروبات کو کہا جاتا ہے جس میں نبیذ بھی شامل ہے جب وہ تیز نہ ہو اور زیادہ پکی نہ ہو تو حلال ہوتی ہے کیونکہ اس میں نشہ نہیں ہوتا اور یہ چیزیں سنت ہیں پینا ۔

جیسا کہ صحیح مسلم میں ایک باب قائم ہے :
باب إِبَاحَةِ النَّبِيذِ الَّذِي لَمْ يَشْتَدَّ وَلَمْ يَصِرْ مُسْكِرًا:
باب: جس نبیذ میں تیزی نہ آئی ہو اور نہ اس میں نشہ ہو وہ حلال ہے۔

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا عفان ، حدثنا حماد بن سلمة ، عن ثابت ، عن انس ، قال: ” لقد سقيت رسول الله بقدحي هذا الشراب كله العسل والنبيذ والماء واللبن “.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے اپنے اس پیالہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد، نبیذ، پانی اور دودھ پلایا۔
[صحیح مسلم برقم: 523]

اس متن میں قابل غور بات ہے کہ شراب کے لفظ استعمال ہیں جس کا اطلاق مشروب و نبیذ پر ہے ۔ نہ کہ اس سے مراد اردو میں شراب مراد ہے جسکو عربی میں خمر کہتے ہیں
پس ثابت ہوا کہ روایت میں شراب سے مراد مشروب ہیں نہ کہ خمر شراب ۔۔۔

باقی رہا یہ اعتراض کہ اگر یہ حلال مشروب تھا تو عبداللہ بن بریدہ کے والد نے یہ کیوں کہا : ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ‏( ﺹ ‏) ﻧﮯ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎ۔۔۔

تو اسکا جواب یہ ہے کہ یہ متن منکر اور غیر ثابت ہے کیونکہ اصل روایت میں یہ الفاظ موجود نہیں تھے ۔ جب امام ابن ابی شیبہ نے اس سے مذکورہ روایت سنی تھی تو اس میں یہ الفاظ نہ تھے جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں فقط اتنی روایت ہے :

حدثنا زيد بن الحباب، عن حسين بن واقد قال: حدثنا عبد الله بن بريدة قال: قال: دخلت أنا وأبي على معاوية، فأجلس أبي على السرير وأتى بالطعام فأطعمنا، وأتى بشراب فشرب، فقال معاوية: «ما شيء كنت أستلذه وأنا شاب فآخذه اليوم إلا اللبن، فإني آخذه كما كنت آخذه قبل اليوم» والحديث الحسن
[مصنف ابن ابی شیبہ برقم: 30560]

اس میں مذکورہ متن موجود نہیں کہ جس میں عبداللہ بن بریدہ کے والد نے کہا ہو یہ کہ میں یہ نہیں پیتا جسکو نبی اکرمﷺ نے حرام قرار دیا ہے ۔ تو ثابت ہوا کہ امام احمد کی جرح ان پر صحیح تھی کہ اس سے منکرات مروی ہیں اور یہ صحیح سے یاد نہیں کرتا تھا اور کثیر غلطیاں کرجاتا تھا ۔ اور امام احمد کو بیان کرنے میں زید بن حبیب نے متن میں زیادتی کر دی جو کہ منکر ہے پچھلے متن سے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحقیق : دعواگو اسد الطحاوی الحںفی البریلوی