دعوت اسلامی پر ایک نظر اور میرا تجزیہ ۔
سب سے پہلی بات جو کہنا ضروری ھے کہ میرا تعلق کسی بھی مذہبی جماعت سے نہیں ھے اور نہ ہی میں آج تک کسی بھی مذہبی جماعت کا رکن یا ممبر رھا ھوں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا کوئی ارادہ ھے
میں اگر سمجھتا ھوں کہ کسی چیز پر مجھے تجزیہ یا تبصرہ کرنا چاہیے تو میں اپنی رائے اور معلومات شیئر کر دیتا ھوں۔

مگر ایک انسان اور مسلمان ھونے کے ناطے میں یہ اپنا فرض سمجھتا ھوں کہ جیسے اگر میں کوئ برا یا غلط کام ھوتا دیکھتا ھوں تو اس پر میں لکھ کر اور اپنی ویڈیو کے ذریعے تنقید بھی کرتا ھوں۔ بلکل اسی طرح میں یہ بھی فرض سمجھتا ھوں کہ اگر میں کسی انسان یا کسی جماعت کا کوئ اچھا کام دیکھوں تو اس پر بھی لکھوں اور بول کر اس اچھے کام کی حوصلہ افزائی کروں۔


پچھلے دنوں دعوت اسلامی مالمو سویڈن کی طرف شاید یورپ کا سب سے بڑا دعوت اسلامی کا اجتماع ہمارے شہر مالمو میں ھوا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شامل ھوئے۔
دعوت اسلامی کی کسی بھی باقاعدہ بڑے اجتماع میں میری یہ زندگی کی پہلی شرکت تھی۔ اس سے پہلے میں صرف ایک دفعہ ایک چھوٹے سے پروگرام میں شامل ھوا تھا۔
اس اجتماع میں شامل ھونے کے بعد میں نے اس جماعت کے بارے میں کچھ تحقیق کی اور اس کے بانی جناب الیاس قادری صاحب کے اور ان کے کام پر نظر ڈالی تو مجھے یہ لگا کہ باوجود اس کے کہ مجھے شاید بہت ساری فقہی اور عملی باتوں میں تو ان سے اختلاف ھو سکتا ھے اور ھے بھی ۔ یہ اختلاف صرف مجھے نہیں اور بھی ھزاروں لوگوں کا ھو سکتا ھے ۔ لیکن یہاں میں اس کی تفصیل میں نہیں جاوں گا ۔
ایک اور بات جو ہم سب کے یاد رکھنے والی ھے کہ حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد نہ تو کوئ ہستی خطا سے پاک ھے اور نہ ہی ان کا علم مکمل کامل ھے۔ ھر انسان خطا کا پتلا ھے اور غلطی اور خطا کر سکتا ھے ۔ چاھے وہ عام آدمی ھو ۔ عالم دین ھو ۔ سیاسی یا سماجی شخصیت ھو۔

مگر میرے دل نے گواہی دی مجھے ان کے تمام جو اچھے کام ہیں ان کو اجاگر بھی کرنا چاہیے اور حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔
اور امید کرتا ھوں کہ میری تحریر کو پڑھنے والے بھی اس چیز کو مدنظر رکھیں گے ۔ اور اگر آپ کا کوے اختلاف ھو بھی تو میں گزارش کروں گا کہ اس کو اخلاقی دائرہ کار میں ھونا چاہیے۔

مولانا الیاس قادری صاحب نے دعوت اسلامی کی بنیاد 1981 میں رکھی جو کہ شروع میں صرف چند افراد پر مشتمل تھی مگر اللہ کے فضل کے بعد ان کی اور ان کے ساتھیوں اور طلباء کی شب روز کی محنت اور ان تھک کوشش سے آج یہ دعوت اسلامی لاکھوں لوگوں کی جماعت بن چکی ھے جس کا نیٹ ورک آہستہ آہستہ پوری دنیا میں بہت تیزی سے بڑھ رھا ھے ۔
اور دن بدن اس میں ان کے چاہنے والوں اور شامل ارکان کی تعداد ان کے طالب علم اور فارغ التحصیل حفاظ اور علماء میں اضافہ ھونے کے ساتھ ساتھ یہ جماعت دور حاضر کے جدید ترین طریقہ سے انٹرنیٹ ۔ ٹی وی اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ھوئے بہت آگے بڑھ رھے ہیں۔
کچھ سال پہلے تک لوگوں کو قرآن یا حدیث سیکھنے کے لئے کسی مدرسہ یا کسی جگہ پر جانا پڑتا تھا مگر اللہ کا شکر ھے کہ آج جدید دور کی سہولیات اور ٹیکنالوجی نے یہ کام گھر گھر پہنچا دیا ھے
ان کی جو سب سے پسندیدہ بات میرے نزدیک ھے کہ یہ لوگ قرآن پاک کی اور احادیث کی تعلیم کا نہ صرف سکولوں میں بندوبست کرتے ہیں بلکہ آن لائن بھی ان کے تقریبا 30 ساے زیادہ کورسز موجود ہیں۔
ان کے سکول جامع المدینہ کے نام سے جہاں علمی کورس جیسا کہ درس نظامی مختلف زبانوں میں کروایا جا رھا ھے یہ پاکستان سمیت ایشیا ۔ یورپ ۔ امریکہ۔ اور افریقہ کے کئ ممالک میں 1100 سے زیادہ کی تعداد میں اس وقت موجود ہیں۔
اور دعوت اسلامی کے ذرائع کے مطابق یہ تعلیم مکمل فری ھے۔

اس کے ساتھ ان کا ایک دوسرا شعبہ ھے مدرسہ المدینہ۔ جس میں بچے قرآن پاک ناظرہ اور حفظ کی تعلیم پا رھے ہیں۔ان مدرسوں کی تعداد اس وقت 5000 سے زیادہ ھے اور اس وقت موجود طلبا و طالبات کی تعداد سوا 2 لاکھ سے زیادہ ھے۔
ایک اندازے کے مطابق اس میں تقریبا ایک لاکھ کے قریب بچے حافظ قرآن بن چکے ہیں اور تقریبا 3 لاکھ سے زیادہ بچے ناظرہ قرآن کی تعلیم پا چکے ہیں۔ اور مدرسے بھی پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کام کر رھے ہیں اور ان کئ تعداد میں اضافہ ھو رھا ھے۔
اور دعوت اسلامی کے ذرائع کے مطابق یہ شعبہ بھی مکمل فری تعلیم دیتا ھے۔
جدید ٹیکنالوجی کا دور شروع ھوتے ہیں دس سال پہلے فیضان آن لائن اکیڈمی بھی اس کا حصہ ھے جس میں تقریبا 75 ممالک سے 21000 لوگ 30 کورسز اور قرآن پاک ناظرہ اور حفظ کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں
اور اس کے ساتھ دینی اور دنیاوی تعلیم ساتھ ساتھ کرنے کے لئے دارالمدینہ کے نام سے 115 انگلش میڈیم سکول بھی پاکستان اور بیرون ملک قائم کر چکے ہیں جس میں تقریبا 25000 سے زیادہ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں اور جلد ہی ان کی طرف سے پاکستان میں دعوت اسلامی کی پہلی یونیورسٹی کا قیام بھی متوقع ھے ۔
اس کے علاوہ خدام المساجد کے پروجیکٹ کے تحت دعوت اسلامی ھزاروں مساجد بھی پوری دنیا میں لوگوں کی ڈونیشن کی مدد سے تعمیر کر چکی اور کر رھی ھے۔
ان کا ایک اور سب سے خوبصورت پراجیکٹ جو مجھے سب سے زیادہ پسند ھے وہ نابینا افراد ۔ بصارت سے محروم اور گونگے لوگوں کے لئے سپیشل تعلیمی مراکز قائم کر رھے ہیں
کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان میں معذور افراد کو بوجھ سمجھا جاتا ھے اور ان کی مکمل تعلیم اور تربیت کر کے ان کو اچھا اور معاشرے کے برابر کے شہری بننے کے مواقع بہت کم تھے اور ہیں۔ اللہ کا شکر ھے کہ آجکل کچھ تنظیموں نے یہ کام کرنا شروع کیا ھے جن میں دعوت اسلامی بھی سرگرم ھے۔

اور دعوت اسلامی اپنے ٹی وی چینل مدنی چینل اور یوٹیوب کے ذریعے بھی لاکھوں لوگوں تک روزانہ پہنچ رھی ھے جس میں انگریزی اور اردو میں پروگرام اور بچوں کے کارٹون اور درجنوں اسلامی اور تعلیمی پروگرام نشر ھوتے ہیں۔ جو کہ چھ سے ساتھ سیٹلائٹ استعمال کر کے دنیا کے مختلف ممالک میں لائن پہنچائے جا رھے ہیں۔

باقی پاکستان میں کہیں بھی کوئ قدرتی آفت جیسے زلزلہ یا سیلاب وغیرہ ھوں وھاں بھی ہم کو دعوت اسلامی کے کارکن مدد کرتے سرگرم نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ
کرونا میں جب تھیلسیمیا کے مریضوں کے لئے خون کے عطیات کم پڑھ رھے تھے تو دعوت اسلامی نے ملک بھر میں خون کے عطیات جمع کر کے مریضوں کی خدمت کی اور ایک اندازے کی مطابق تقریبا پچاس ھزار خون کی بوتلیں دعوت اسلامی پچھلے تین سال میں فراہم کر چکی ھے۔
اس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے کافی اچھے کام ہیں جو یہ تنظیم کر رھی ھے۔
دعوت اسلامی کی اور بات جو مجھے بہت اچھی لگی کہ یہ جماعت جب شروع ھوئ تو اس نے سب سے زیادپسے اور غریب طبقے کو ساتھ لگایا ۔
حالانکہ بہت ساری اور بھی مذہبی جماعتیں ہیں مگر سب سے زیادہ غریب اور پسے ھوئے طبقے کے لوگوں نے جس تعداد میں اس جماعت کو پاکستان میں جوائن کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ اگر میں یورپ میں بھی جائزہ لوں۔ تو یہاں بھی مڈل کلاس کے زیادہ لوگ دعوت اسلامی میں عہدے داران ہیں۔ جو کہ مجھے بہت پسند آیا۔ جبکہ چند دوسری مذہبی جماعتوں کو اگر دیکھا جائے تو وھاں ہمیں اکثریت امیروں اور سرمایہ داروں کی اجارہ داری نظر آتی ھے ۔ تو یہ بھی میری نظر میں دعوت اسلامی کا ایک پلس پوائنٹ ھے ۔

جب میں نے پہلی دفعہ دعوت اسلامی کے پروگرام میں شرکت کی تھی تو ان کے ایک عہدیدار کی طرف سے مجھے ایک بہت ہی برا تجربہ ھوا ۔ جو کہ میرے نزدیک صرف جہالت اور کم علمی پر مبنی تھا ۔
ھوا یہ کہ ہم چھوٹے بچوں کی تربیت کے بارے میں بات کر رھے تھے اور کسی نے مجھے سوال پوچھا کہ کئ بچے چھوٹی عمر میں ڈر کی وجہ سے یا سردی کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے پینٹ میں چھوٹا پیشاب کر دیں تو وہ رونے لگ جاتے ہیں۔ خوفزدہ ھو جاتے ہیں۔ تو میں نے عرض کی کہ ان بچوں کو سینے سے لگایئں ۔ دلاسہ دیں۔ محبت سے کہیں کہ کوئ بات نہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو شاید یہ ہمارے ساتھ بھی ھوا ھو گا ۔
تو وہ صاحب بدتمیزی کی حد تک کرخت لہجے میں بولے کہ میں کھانا کھا رھا ھوں اور آپ بچوں کے پیشاب کے بارے بات کیوں کر رھے ہیں۔
مجھے برا تو بہت لگا اور میں نے نہایت صبر سے معذرت کر کے وھاں سے چلا گیا ۔ مگر میں نے سوچا کہ جس جاہل کہ پیدائش خود منی کے گندے قطرے سے ھوئ ھو ۔ اور ماں کی پیشاب والی جگہ سے وہ خود نکلا ھو اور جس کا وجود جلد ہی موت کے بعد گل سڑ کر کیڑے کی خوراک بننا ھو اور وہ بچوں کی تربیت میں پیشاب کا ذکر آنے پر اتنی کراہت اور غصے میں آجائے وہ کس طرح ایک اسلامی اور علمی اور عملی تحریک کا عہدہ دار ھے ۔ خیر پھر بھی ہمیں برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ہم تو اس نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی امت سے ہیں کہ جن کا اخلاق مسجد نبوی کے اندر ایک بدو کے پاخانہ کر دینے پر بھی صرف رحمت اور شفقت کا تھا ۔
خیر مجھے امید ھے دعوت اسلامی سویڈن اپنی ایسی خامیوں کو دور کرے گی تا کہ لوگ متنفر نہ ھوں۔
آخر میں میری طرف سے میں دعوت اسلامی کے امیر جناب مولانا الیاس قادری صاحب اور ان کی پوری جماعت کو ان کے تمام اچھے کاموں کی بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ھوں۔ اور اللہ پاک سے دعا گو ھوں اللہ پاک مولانا الیاس قادری عطاری صاحب کو صحت اور تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے۔ ان کے دین کے اس کام میں خیر و برکت عطا فرمائے۔ اور زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ان کا دست و بازو بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
اور پوری دنیا میں موجود دعوت اسلامی کے جو دوست بھائ اس کارخیر میں جس طریقے سے بھی حصہ لے رھے ہیں۔ اللہ پاک ان کے کام ۔ زندگی میں خیر اور برکتیں عطاء فرمائے۔
اور اللہ پاک ہم سب کو ایک پکا ۔ سچا ۔ عاشق رسول بنائے جو کہ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور تعلیمات کی روشنی میں باعمل ھو ۔ ہم سے اس امت اور انسانیت کی بھلائی کا کام لیتا رھے۔ آمین
دعوت اسلامی کے بارے میں پڑھنے اور معلومات حاصل کرنے کے بعد میرے دل میں دعوت اسلامی اور اس کے تمام لوگوں کے لئے محبت کافی زیادہ بڑھی ھے۔ اللہ پاک یہ محبت کا جذبہ سلامت رکھے۔ آمین
تحریر و دعاگو: چوہدری نوید حسین آرایئں