تحریر : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی ، جامعہ نظام مصطفی بہاولپور

(مقام صدیق اکبر رضی اللہ عنہ)

خلفائے راشدین میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ آپ ’’صدیقیت‘‘ کے مرتبے پر فائز ہیں جو کہ نبوت کے بعد دنیا کا سب سے بڑا مقام ہے ۔

قرآن حکیم میں آپ کو صحابی مصطفی ، اہل فضل ، ثانی اثنین ، معیت رسول کا اولیں حق دار ، سب سے بڑا متقی اور رسول اللہ کا مصدّق (تصدیق کرنے والا) قرار دیا گیا ہے۔

آپ آسمان محبت کے نیراعظم، صحابہ واہل بیت کے مقتدا، حسن نبوت کی تجلی اول اور انوار رسالت کے مظہراتم
تھے۔

رخ مصطفی کو تکتے رہنا آپ کی روحانیت کا حسین ترین پہلو تھا.

آپ کا ہر پل اتباع رسول اور ہر سانس رضاۓ رسول میں صرف ہوتا تھا.

آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ مزاج رسول میں ڈھلا ہوا تھا۔ آپ آئینہ جمال مصطفی ، سیرت رسول کا سراپا، اللہ تعالی کے محبوب اور رسول اللہ کے مطلوب تھے۔

آپ رسول اللہ کی صحبت سے کبھی بھی غیر حاضر نہیں رہے، غارثور میں تین دن اور تین راتیں بلا شرکت غیرے اور بلا واسطہ اپنے عظیم مرشد سے فیض کے جلوے سمیٹتے رہے. اسی کا نتیجہ تھا کہ اب چہرہ تو ابوبکر کا تھا مگر اس میں جمال رسول اللہ کا تھا، قامت تو ابوبکر کی تھی مگر اس میں زیبائی رسول اللہ کی تھی ، زبان تو ابوبکر کی تھی مگر اس میں گفتار رسول اللہ کی تھی ، ثنویت کا تصور تک مٹ چکا تھا اور وحدت ہی وحدت باقی رہ گئی تھی.

شب معراج سدرہ سے پار قرب الہی کی منزلیں طے کرتے ہوۓ رسول اللہ کی دل جوئی کے لیے اللہ تعالی نے ابوبکر کی آواز میں کہا : قف یا محمد فان ربک یصلی ( الیواقیت و
الجواہر )

آپ جملہ صوفیاء کے امام اکبر ہیں۔ بقول حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری آپ دین میں تمام مسلمانوں کے امام عام اور تمام صوفیوں کے امام خاص ہیں. آپ تارکین دنیا کے سردار ، صاحبان خلوت کے شہنشاہ ، ارباب مشاہدہ میں سب سے اعلی اور اہل معرفت میں سب سے مقدم ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے خواب دیکھا کہ حوض کوثر پر رسول اللہﷺ کے دائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف رکھتے ہیں اور بائیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ۔

داتا صاحب مزید فرماتے ہیں: ان الصفا صفا الصديق ان اردت صوفيا على التحقيق.. یعنی اگر تو نے حقیقی معنوں میں کوئی صوفی با صفا دیکھنا ہے تو وہ تجھے صدیق اکبر کی ذات میں نظر آۓ گا۔

اہل تصوف لکھتے ہیں کہ اس امت میں سب سے پہلے جس ہستی نے سب سے عظیم صوفیانہ کردار ادا کیا اور جس کی زبان پر عظیم صوفیانہ کلام جاری ہوا وہ صدیق اکبر کی
ذات ہے، وہ اس طرح کہ آپ نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنے گھر کا سب ساز و سامان لا کر سرکار دو عالم ﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا، پھر جب آپ سے ہادی بر حق نے سوال کیا کہ اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ آۓ ہو؟ تو عرض کیا : تـركـت لهم الله و رسوله (میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں) فنافی اللہ اور فنا فی الرسول کا یہ وہ مقام ہے کہ نہ تو ایسا کردار کسی اور میں دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ایسی گفتار.

زہد و عبادت میں آپ کا مقام یہ تھا کہ رات بھر نمازیں پڑھتے اور دن کو اکثر روزہ رکھتے…خشوع وخضوع کا عالم یہ تھا کہ نماز میں لکڑی کی طرح بے حس و حرکت کھڑے رہتے… رقت قلبی اس درجے کی تھی کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی… تقوی اس سطح کا تھا کہ کوئی مشتبہ چیز کھا لیتے تو یاد آنے پر فورا قے کر کے اگل دیتے. (کشف انحجوب)

آپ کا فرمان عالی شان ہے : ہم مباح کے ستر دروازے اس ڈر سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں گناہ میں ملوث نہ ہو جائیں، یادرکھو! رخصت میں خطرہ اور عزیمت میں سلامتی ہے۔