انڈین اسلام

__________

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

سرخی دیکھ کر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اسلام تو “اسلام” ہی ہے۔کیا ملکی سرحدیں اسلام کو بدل دیتی ہیں جو اسلام کے ساتھ ‘انڈین’ کا سابقہ لگا کر اسے ایک نیا روپ اور نیا نام دیا جارہا ہے؟

جواب بڑا سادہ سا ہے؛
جی ہاں!

مسلمانوں کا اسلام بھلے ہی ایک ہو مگر بھارت میں موجود ایک طبقے کا اسلام عام مسلمانوں کے اسلام سے الگ ہوچکا ہے۔اسی لیے وہ اسلام نہیں انڈین اسلام کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں اور اسی کی تبلیغ بھی کر رہے ہیں۔
انڈین اسلام کا یہ دعوی اور شوشہ کسی آر ایس ایس کارکن یا ہندو لیڈر کے دماغ کی اُپَج نہیں ہے بل کہ یہ دعویٰ ایک معروف صوفی صاحب کا ہے۔ان کے مطابق ان کا دین انڈین اسلام ہے۔جس کے احکام اصل اسلام سے مختلف ہیں۔چند خصوصی احکام اس طرح ہیں:
🔸انڈین اسلام میں حج بیت اللہ کی ادائیگی سے پہلے وِرِنداوَن جاکر ہندوؤں کے بھگوان شری کرشنا کے درشن کا concept بھی ہے۔
🔹انڈین اسلام میں بھگوان دا جیسے نام رکھنے کی بھی روایت ہے۔
🔸انڈین اسلام میں گوتم بدھ اور شری کرشن کو ماننا اور ان سے محبت کرنا تصوف کی نشانی ہے۔

یہ نکات ہمارے نہیں بل کہ مذکورہ صوفی صاحب ہی کے بیان کردہ ہیں۔جو انہوں نے مسلم دشمنی میں بدنام زمانہ “سُدرشن چینل” پر فخریہ طور پر بیان کئے۔

معاملے کی تفصیل____________

16 فروری کو سدرشن چینل پر ایک ڈبیٹ چل رہی تھی۔جس کا عنوان تھا:
اللہ سب سے بڑا کیسے؟

پروگرام کا اینکر سریش چَوَانکے تھا جس نے پچھلے دنوں دلّی/ہری دُوار میں منعقدہ دھرم سنسند میں مسلمانوں کو قتل کرنے کی جارحانہ اپیل کی تھی اور سبھی شرکا کو قتل مسلم کی قسم بھی کھلائی تھی۔اس ڈبیٹ میں ایک مرتد(ایکس مسلم) ثمیر، ایک ہندو سندیپن رائے ایک مسلم حاجی ناظم اور ایک خود یہی صوفی صاحب تھے۔صوفی صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز اُپنِشَد اور رِگ وید کے شلوک سے کیا، جس پر اینکر نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا؛
“آپ اپنے دین سے شروعات کریں۔آپ مسلمان ہیں۔یہ شلوک تو ہمارا ہی ہے۔”

صوفی صاحب نے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے کرشنا کا یہ قول پیش کیا:
“دھرم شاشوت ہے، سناتن ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

پھر موصوف فرماتے ہیں کہ جو کرشن نے کہا اسی کو ہم دین کہتے ہیں کہ دین بھی ازلی اور ابدی ہے۔

انہوں نے ویدوں اور ہندو دھرم گرنتھوں کی اہمیت کو قرآن کی مذکورہ آیت؛
وَاِنَّہٗ لَفِیۡ زُبُرِ الۡاَوَّلِیۡنَ۔(سورہ شعرا:۱۹۶)

سے ثابت کرتے ہوئے یہ دعوی کیا؛
“قرآن میں ایک آیت موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ دھرم کو ڈھونڈنا ہو تو پِرَاچِین(قدیم) کتابوں میں ڈھونڈو۔اور سب سے پِرَاچِین کتابیں اُپنِشَد ہیں مَہا اُپنِشَد ہیں۔”

یعنی دین کی تلاش میں وید، پران اور اُپنِشَد جیسے ہندو گرنتھ معتبر ہیں کہ یہ سب سے قدیم ہیں اور خود قرآن مجید نے اس کا حکم دیا ہے۔

اب اسے صوفی صاحب کی کرشن بھکتی کہا جائے یا کفر سے مرعوبیت کہ انہوں نے اپنے خیال فاسد کو ثابت کرنے کے لیے آیت قرآنیہ کا جو مفہوم بیان کیا وہ آج تک کسی مفسر کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں گزرا۔مذکورہ آیت میں قدیم کتابوں سے آسمانی کتابیں توریت، زبور، انجیل اور دیگر صحائف مراد ہیں، نہ کہ ہندوؤں کے وید و پران، لیکن صوفی صاحب کو اپنے یوگیشور کرشنا جی کی بات کو ثابت کرنا تھا سو تفسیر بالرائے کرنے میں انہیں کوئی جھجک، شرم محسوس نہیں ہوئی۔

اس دعوے پر ڈبیٹ میں شامل مرتد پینلسٹ ثمیر بھی چونک اٹھا اور اعتراض کرتے ہوئے کہا؛
“آپ کا دعوی قرآن کے خلاف ہے۔قدیم کتابوں سے توریت، زبور اور انجیل مراد ہیں۔اگر واقعی اس آیت سے ہندو گرنتھ مراد ہیں تو قرآن کی کسی ایک آیت سے کسی ہندو گرنتھ کا نام دکھا دیں۔”

اس مرتد نے یہ بھی اعتراض کیا کہ؛
“جب آپ کا قرآن “اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ۔” کہتا ہے تو آپ سناتن دھرم کو دین کیسے مان سکتے ہیں؟ یا پھر آپ یہ مان لیں کہ سناتن دھرم ہی آپ کا دین ہے۔”

ایکس مسلم کے ان اعتراضات پر آنجناب کوئی جواب نہیں دے سکے اور اس نے تمسخرانہ ہنسی کے ساتھ صوفی صاحب پر manipulate کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کی باتوں کو قرآن وحدیث کے خلاف قرار دیا۔

صوفی صاحب کی کرشن بھکتی______

وہ لمحہ بڑا عبرت ناک تھا جب مرتد ثمیر نے صوفی صاحب کی کرشن بھکتی کو خلاف قرآن بتاتے ہوئے چیلنج کیا کہ؛
“کیا آپ کرشنا کو اپنا پُوروَج(جد اعلی) اور Eternal God مانیں گے؟

اس پر صوفی صاحب نے کہا کہ؛
“ہمارے دھرم گُرُو مولانا حسرت موہانی جب حج کو جاتے تھے تو پہلے وِرِندَاوَن(کرشن مندر) کرشنا کے درشن کو جاتے تھے۔”

حج بیت اللہ جیسے سفر کے ساتھ کرشن درشن جیسا مشرکانہ نظریہ ایک مرتد کو بھی قبول نہیں ہوا، اس نے نقد کرتے ہوئے کہا:
“میں آپ سے کسی مولانا کا عقیدہ نہیں پوچھ رہا ہوں، اسلام پوچھ رہا ہوں کیا اسلام میں اس شرک کی اجازت ہے؟

صوفی صاحب کی کرشن بھکتی پر اینکر نے دوسرے مسلم پینلسٹ حاجی ناظم سے پوچھا کہ کیا آپ بھی حج سے پہلے کرشنا درشن کو گئے تھے؟

دوسرا مسلم پینلسٹ حاجی ناظم اگرچہ ایک عامی مسلمان تھا لیکن اس نے جاہل ہونے کے باوجود کرشن درشن کو قبول کرنے سے صاف منع کردیا۔

جب ثمیر مرتد نے اِنَّ الشِّرۡکَ لَظُلۡمٌ عَظِیۡمٌ (سورہ لقمان:۱۳) کا مفہوم بیان کرکے کہا کہ اسلام میں کرشن درشن کی اجازت ہو ہی نہیں سکتی۔اسلام کرشن کو ماننے کی اجازت نہیں دیتا۔اس پر موصوف نے بڑے اطمینان سے جواب دیا:
“میرا اسلام انڈین اسلام ہے اور میرا اسلام/قرآن مجھے گوتم بدھ اور شری کرشنا کو ماننے کی اجازت دیتا ہے۔”

اس پر ثمیر مرتد نے کہا؛
“کیا آپ ﷲ اکبر کی جگہ ‘اوم ھُو اکبر’ کہیں گے؟

اس پر صوفی جی خاموش ہوگئے لیکن ان کے رویے سے لگ رہا تھا کہ اگر زور دیا جاتا تو شاید وہ اس پر بھی راضی ہوسکتے تھے۔

صوفی صاحب کی صاف گوئی_______

یہاں صوفی صاحب کی صاف گوئی کی داد دینا ہوگی کہ انہوں نے کرشن کے ماننے کو ‘اسلام’ نہیں بل کہ ‘انڈین اسلام’ کا حصہ بتا کر سارا معاملہ کلئیر کردیا۔اس سے پہلے اتنی صاف گوئی کے ساتھ مرزا قادیانی نے کرشنا اور گوتم بدھ کی عظمتوں کا اعتراف کیا تھا، جیسا کہ مرزا کے ملفوظات میں لکھا ہے:
“حضرت کرشن بھی …انبیا میں سے ایک تھے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر خلق اللہ کی ہدایت اور توحید قائم کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے۔”
(ملفوظات جلد9صفحہ459تا460)

گوتم بدھ کے بارے میں لکھا ہے:
“بدھ کی زندگی کے بغور مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا طرز زندگی مختلف علاقوں اور زمانوں میں مبعوث ہونے والے دیگر انبیا سے مختلف نہیں تھا۔ تمام انبیا کے کردار میں ایک ہمہ گیر مشابہت پائی جاتی ہے جو ہمیں بدھ کی زندگی میں بھی نظر آتی ہے۔”(الہام، عقل، علم اور سچائی صفحہ117)

کیا یہ یکسانیت اتفاقی ہے؟

ڈبیٹ میں صوفی صاحب نے جس طرح کرشن سے اپنی محبت ووابستگی کا اظہار کیا ہے، ایسی ہی وابستگی بہائی اور قادیانی مذہب میں بھی نظر آتی ہے۔تاریخ سے ادنیٰ سی وابستگی رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ یہ دونوں ہی جماعتیں نبوت کے جھوٹے دعوے دار مرزا بہاء اللہ اور مرزا قادیانی کی پیروکار ہیں۔اب یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ آج سلوک وتصوف کے علم برادر فکری طور پر اسی زمین پر کھڑے ہیں جہاں قادیانیت اور بہائیت کے ماننے والے مرتد آباد ہیں۔یہ یکسانیت اتفاقی بھی ہوسکتی ہے اور خارجی اثر کا نتیجہ بھی، بہرحال اسلام میں دونوں ہی فکروں کی گنجائش تھی نہ کبھی ہوسکے گی۔

صوفی صاحب کا سکوت________

ڈبیٹ میں ایک عجیب بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ صوفی صاحب نے گیتا اور ویدوں کے شلوک تو خوب سنائے لیکن ثمیر نامی مرتد اور سندیپن رائے نے نظریات اسلام پر جو اعتراض کئے اس پر آنجناب مکمل خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ثمیر کا اعتراض تھا؛
1۔قرآن سے آدم کا پیغمبر ہونا ثابت کرو۔
2۔قرآن سے آدم کا مسلمان ہونا ثابت کرو۔
3۔قرآن کے ماسوا کسی بھی آسمانی کتاب سے لفظ اللہ ثابت کرو۔

وہ مرتد بار بار صوفی پینلسٹ کو چیلنج کرتا رہا مگر آنجناب کے لبوں پر معنی خیز خاموشی بنی رہی ہے۔موصوف کی خاموشی سے حوصلہ پاکر اس مرتد نے یہاں تک جسارت کرڈالی کہ اس خدا کے وجود کا انکار کرتے ہوئے نہایت گستاخانہ لہجے میں کہا:
“اللہ کو تمہارے محمد نے گڑھا اور کرئیٹ کیا اپنے مقصد اور حصول کے لیے۔اللہ نہ کبھی تھا نہ ہے۔”

اس بدزبان کی اتنی جسارت پر بھی صوفی جی پر کوئی فرق نہیں پڑا اور آنجناب اسی طرح کان ڈالے سنتے رہے اور اینکر سمیت دونوں پینلسٹ اسلام اور پیغمبر اسلام پر زبان درازی کرتے رہے مگر افسوس صوفی صاحب کرشن بھکتی کی طرح حب رسالت کا ہلکا سا مظاہرہ بھی نہیں کر سکے۔

افسوس صد افسوس!
جن لوگوں کو ہم اسلام اور مسلمانوں کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔جو خود کو تصوف کا پیروکار اور سلوک واحسان کا ایمبیسڈر بتاتے پھرتے ہیں وہ لوگ کس بے باکی کے ساتھ اسلام کو انڈین اسلام میں بدلنے کی سازش پر علانیہ کام کر رہے ہیں۔اس لیے ضرورت ہے کہ تصوف کے نام اٹھنے والے ہر چہرے/تنظیم/ترجمان کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تصوف کے نام پر اہل اسلام کو گمراہی کے اندھے غار میں نہ دھکیل دیں۔

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والوں جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

٣ شعبان المعظم ١٤٤٤ھ
24 فروری 2023 بروز جمعہ