اِداریہ مَیں کیا لکھوں؟
محمد زبیر قادری
مدیر اعلیٰ مسلک، ممبئی

اِداریہ لکھنے بیٹھا ہوں… مَیں سوچتا ہوں کہ کیا لکھّوں؟ اپنوں کی ریشہ دوانیوں، سرپھٹول کا نوحہ لکھوں … غیر مقلّدین کی اہلِ حق کے خلاف یلغار کی داستاں لکھّوں… فرقوں و فتنوں کی جال سازیاں اور فریب کاریاں لکھّوں… یہود و نصاریٰ اور ہنود کی اسلام کی بیخ کنی کا المیہ لکھّوں… کہ کیا لکھّوں؟ … جہاں دیکھتا ہوں باطل کو حق کے خلاف سرگرم پاتا ہوں… اہلِ حق سانس لیتے ہوئے بھی مُردار ہیں، بے ہوشی و غفلت کی نیند کا شکار ہیں… شاید کہ صورِ اسرافیل سے ہی اُٹھیں گے… مَیں یہ سب دیکھتا ہوں تو میرا پتھر جیسا دِل بھی پگھل جاتا ہے… اپنی بے بسی، ناتوانی اور کم زوری پر میری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں…
جب مَیں یہ سنتا ہوں کہ کسی قصبے میں ۵۰؍ میں سے صرف ۲ ؍مساجد سُنیوں کی ہیں، باقی غیر مقلدین و دیوبندیوں کے تصرّف میں چلی گئی ہیں… تو دل تڑپ اُٹھتا ہے… جب معلوم ہوتا ہے کہ کسی شہر میں ۳۰۰؍ میں سے صرف ۷۰؍ مساجد اہلِ حق کی ہیں، باقی پر اہلِ توہب قابض ہیں … تو دل سے ہوک اُٹھتی ہے … جب مَیں یہ دیکھتا ہوں کہ ہماری مسجدیں، خانقاہیں، مدارس، دینی اِدارے، مراکز ہماری اکثریت کے باوجود خستہ و بوسیدہ، ویران اور زبوں حال ہیں… جبکہ قلیل تعداد میں ہوتے ہوئے بھی باطل فرقوں کی مساجد، مدارس، ادارے، مراکز… عالی شان، آباد اور خوش حال ہیں… تو دل کُڑھتا ہے…
جب مَیں دیکھتا ہوں کہ اہلِ حق کے ادارے، علما و مشائخ لاکھوں لاکھ خرچ کرکے سمینار و کانفرنسوں کا انعقاد کررہے ہیں، جن میں اکثر جوشیلے نعرے، ٹھٹھّے بازیاں، باہم مدح سرائیاں… کہیے سبحان اللہ… من ترا حاجی بگویم … میں ہی وقت اور پیسہ برباد کیا جارہا ہے… اور نتائج دیکھیں تو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا… جبکہ غیروں کے سمینار و کانفرنسیں بامقصد، منظم، عنوان سے متعلق تقاریر پر مشتمل ہوتے ہوئے آگے بڑھنے کا حوصلہ و جذبہ دیتے ہیں… تو اپنی بے مقصدیت پر مایوسی کا شکار ہونے لگتا ہوں۔
جب مَیں کچھ نوجوانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ کسی تنظیم سے جڑ کر سبز، سفید، کتھئی یا دیگر رنگوں کے عمامے سجائے لوگوں کو فجر کے لیے بیدار کررہے ہیں، نمازوں کے لیے لے جارہے ہیں، درس دے رہے ہیں، قرآن پڑھنا سکھا رہے ہیں، باطل فرقوں کی عیاری اور فضول وقت گزاری سے نکال کر اجتماعات و قافلوں میں لے جارہے ہیں، دینِ حق کے قریب لارہے ہیں… تو دل خوش ہوتا ہے… لیکن تھوڑی ہی دیر بعد یہ جان کر صدمہ ہوتا ہے کہ ان کے بڑوں کے بعض مسائل نے انھیں آپس میں برسرِ پیکار کردیا ہے، تنازعات کا شکار کر دیا ہے… تو جو طاقت اپنوں کو گمراہیت سے بچانے اور مساجد کے تحفظ کے لیے استعمال ہونی چاہیے تھی، اب وہ فتوے بازی میں صرف ہورہی ہے … جب کہ دشمن خاموشی اور تیز رفتاری سے اپنا کام کیے جارہا ہے… تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔
جب مَیں اُن علما کو دیکھتا ہوں جو معاوضہ طے کیے بغیر دین کی خدمت کے لیے تیار نہیں ہوتے… ایک ہی علاقے میں مدرسے ہونے کے باوجود نئے نئے مدارس اس لیے قائم کرتے جاتے ہیں کہ ان کی روزی، روٹی چلے… جب دیکھتا ہوں کہ بعض علما ہیں جن کے پاس تبلیغی و تعمیری کاموں کے لیے سرمایہ نہیں، مگر اپنے ہی دینی بھائی کی بعض غلطیوں کے رَد کے لیے پوسٹر، پمفلٹس اور کتابوں کی اشاعت کے لیے خوب سرمایہ جمع کرلیتے ہیں… تو دل ٹوٹ جاتا ہے… لیکن جب ان چند علما، ذمے دارانِ مدرسہ اور اہلِ قلم کو خلوص و للہیت سے دین کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے پاتا ہوں تو جھلستی گرمی میں موسمِ بہار کی خوش گواری کا احساس ہونے لگتا ہے۔
جب مَیں دیکھتا ہوں کہ ہمارے ہاں ہر زبان میں لٹریچر کا فقدان ہے… جدید اور حالاتِ حاضرہ پر لٹریچر تو کجا …قرآن، حدیث، تفسیر، سیرت پر بھی لٹریچر کا فقدان ہے… اس کے برعکس باطل کا خوب صورت، دیدہ زیب، بہترین طباعت سے مزین ہر ہر عنوان پر مشتمل لٹریچر کثیر تعداد میں نظر آتا ہے … تو اپنوں کی غفلت پر دل غم گین ہوجاتا ہے۔
جب مَیں دیکھتا ہوں کہ اہلِ حق کے نوجوان و بچّے رات رات بھر جاگ کر شربت بنانے، کھچڑا پکانے میں لگے ہیں… جلوسِ عید میلاد و جلوسِ غوثیہ کی گاڑیاں سجانے اور جلوس میں شرکت کرکے نعرے بازی کرنے کی محنت میں لگے ہیں … لیکن نماز کا وقت آتا ہے تو تھکن سے چور، مسجد سے دور مجبور نظر آتے ہیں… اس کے باوجود مَیں ان نوجوانوں میں دین کی خدمت کا کچھ جذبہ دیکھتا ہوں تو دل کو کچھ تسلّی ہوتی ہے… بے چارے یہ سب کرنے پر مجبور اس لیے ہیں کہ کیا کریں کچھ سمجھ میں آتا نہیں، کوئی بتانے والا، سمجھانے والا نہیں… نہ گھر سے صحیح تعلیم ملتی ہے، نہ واعظین اصلاحِ احوال کی کوشش کرتے ہیں… یہ نوجوان ایسے نابینا ہیں جن کے پاس عصا نہیں… یہ باطل کا نہایت آسان شکار ہوتے ہیں… کوئی گائیڈ کرے تو فضول کاموں کی بجائے بامقصد کاموں میں ان کی توانائیاں استعمال ہوں… اور اہلِ حق کا کارواں مضبوط ہو… یہ بچے، یہ نوجوان ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں… خدارا، خدارا … انھیں بچا لیجیے۔
جب کبھی دیکھتا ہوں کہ جو ذمے دار ہیں، جن پر اُمّت کا بار ہے… وہ چین کی زندگی جی رہے ہیں، تو مَیں کیوں فکرمندی میں گھلتا جاؤں… مَیں بھی بے فکری سے زندگی گزاروں، چار دن کی زندگی عیش سے بسر کروں… لیکن میرا ضمیر مجھے چین و سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا… وہ کچوکے لگاتا ہے… اُکساتا ہے کہ اللہ نے تجھے خدمت ِ دین کی توفیق دی… تجھے کام کرنے کا سلیقہ دیا… توُ شکر کر کہ تجھ سے خدمت ِ دین کا کام لیا جارہا ہے… تیرے اعمال تو ایسے نہیں جو تجھے جنت میں لے جانے کا سبب بن سکیں… شاید اللہ کی توفیق و عطا سے اسی کام کے عوض تیری نجات و بخشش ہوجائے… اس لیے توُ چلتا جا… کام کرتا جا… جب تک سانسیں رواں ہیں۔
ان سب خرابیوں، خامیوں، کمیوں کے باجود اتنا تو یقین ہے مجھ کو، وہ بھی کامل یقین ہے کہ… ہم ہی اہلِ حق ہیں… ہم ہی صراطِ مستقیم پر گامزن ہیں… اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود سوادِ اعظم یعنی اکثریت کیوں اس دین سے جڑے ہیں… صرف اور صرف اس لیے کہ اپنی حقّانیت کا یقین ہے ہم کو … کوئی پوچھے کہ کیوں… کیسے حق پر ہو ؟ …ہم بتلاتے ہیں کہ یوں…
پڑھیے اہلِ حق کا ترجمان ’’مسلک‘‘ … ان شاء اللہ یقیناً آپ جان جائیں گے کہ ہم کیوں حق پر ہیں۔
(دوماہی مسلک، 2010ء)