از قلم مفتی علی اصغر
29 محرم الحرام 1445 بمطابق 2023
*دجل و فریب کی جنگ*

سورہ بقرہ کی آیت نمبر 120 میں واضح طور پر فرما دیا گیا ہے کہ یہود و نصاری کی خواہش ہے کہ آپ ان کے طریقے پر چلیں لیکن فرما دیں کہ اللہ کا راستہ ہی سچا راستہ ہے ۔ (خلاصہ ایت)

بلا شبہ یہود و نصاری کی روزِ اول سے خواہش رہی کہ صرف ان کی پیروی کی جائے
لیکن اللہ نے ہمیں دینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے
بے شک حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتباع کرنا اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے
لہٰذا اغیار کی پیروی مسلمان کو روا نہیں
ہر طرف سے مسلمان کے دل و دماغ میں ان نظریات و افکار اور کاموں کی محبت پیدا کی جاتی ہے جن سے دینِ اسلام منع کرتا ہے
پھر کچھ عرصے بعد ایسے افکار و اعمال کی تحسین بیان کی جاتی ہے ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ان کاموں کے فوائد و ثمرات بیان کیے جاتے ہیں
پھر تیسرے مرحلے میں جو ان چیزوں کو نہ اپنائے یا مخالفت کرے اس پر طعن شروع ہو جاتا ہے
بے حیائی ہو یا خواہشِ نفس کے اسباب، سودی نظام ہو یا پھر خاندانی نظام کی بربادی کے اسباب
دیگر خرابیوں کے ساتھ یہ خرابیاں مسلمانوں میں اسی طریقے سے رچ بس رہی ہیں
ہر دوسری غیر ملکی این جی او ایسے افکار کو پھیلانے میں خاص کردار ادا کرتی ہے معاشرے میں ایک نیٹ ورک بناتی ہے ہم خیال لوگ پیدا کرتی ہے
برائی کو اچھائی کہہ کر بیان کرتی ہے
ہم جنس پرستی اور مرد خود کو عورت کہے اور عورت خود کو مرد کہہ کر جنس تبدیل کرے یہ سب ہمارے معاشرے میں شروع ہو چکا ہے بلکہ جنس کی تبدیلی پر قانون بن چکا ہے
پنجاب میں حال ہی میں ایک کیس رپورٹ ہوا ہے کہ پولیس میں ایک مرد نے عورت کی جنس اپنا کر بھرتی لی ہے اور خواتین اس کے ساتھ ٹریننگ اور رہنے کے لئے تیار نہیں۔
نام بدلنے سے حقیقت تو نہیں بدل جایا کرتی جو مرد ہے وہ مرد ہی رہے گا
جنس کے بارے میں نئے نئے افکار پیدا کیے گئے ہیں کہ جناب جنس جسمانی ساخت نہیں بلکہ میلان پر مشتمل ہوتی ہے۔ جس کا جو میلان ہو وہ خود کو اس جنس کا قرار دے سکتا ہے۔
ان سب باتوں کے لئے چاروں طرف سے پروپیگنڈا مہم چل رہی ہے۔
ہم جن آندھیوں کو دیکھ رہے ہیں ان میں ایک بات مشترک ہے کہ
پروپیگنڈا ہوتا ہے تو صرف ان چیزوں کی ترویج و اشاعت کے لئے جو ان کو پسند ہے
کیا کسی نے میڈیا پر کوئی ایسی گفتگو سنی ہے کہ فلموں کی ایک خرابی یہ ہے کہ کوئی بھی فلم لڑائی جھگڑے اور فائٹ سے خالی نہیں ہوتی دشمن کو ہلاک کرنا اور ماورائے عدالت قتل سب سے بڑا ہدف ہوتا ہے
لہٰذا یہ عمل مسلسل جنگجو پن پر اکساتا ہے
کتنے ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں کہ لوگوں نے کرائم سین دیکھ کر جرم کا وہ طریقہ اختیار کیا
ان سب چیزوں پر اس لئے گفتگو سننے کو نہیں ملے گی کہ اس وقت فلم اور ڈرامے مسلمانوں کا ذہن بدلنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں
لہٰذا فلم اور ڈرامے کی کوئی مخالفت میڈیا پلیٹ فارم سے پھر کیسے ہو سکتی ہے۔
بری خصلتیں، غلط نظریات، غلط افکار و اعمال کی ترویج ان ٹولز کے ذریعے منتقل کرنا بہت آسان اور تیز رفتار عمل ہے
ایک فلم یا ڈرامہ دیکھنے والا وقتی طور پر ہیپناٹائز ہوجاتا ہے
جس کو ہم دوسرے الفاظ میں کہتے ہیں کہ کہانی کے ایک کے بعد دوسرے سین کے سحر میں کھو جاتا ہے
لہٰذا جب وہ دل و دماغ کے راستے کھول کر اس سے میں مبتلا ہوتا ہے
تو قبولیت قبولیت اور قبولیت کو غیر محسوس انداز میں اس کے دل و دماغ میں جگہ مل رہی ہوتی ہے۔ اسے دکھائی دینے والے سین بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ وہاں دکھائی دیا جانے والا ہر سین قابلِ تقلید نظر آتا ہے جو لائف اسٹائل دکھایا جاتا ہے وہ دلی طور پر اس کے دل و دماغ میں آئیڈیل کے طور پر گھر کر جاتا ہے۔