اس وقت بجلی کا بلز عوام و خواص سب کے واسطے دردِ سر بن چکے ہیں، جن کے پاس ہے وہ سولر لگوارہا ہے اور جس کے پاس
نہیں وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے اور کوئی پرسانِ حال
نہیں

ہمارے ایک قریبی عزیز دوست کے گھر 20000 کا بل آگیا ،
کاروبار ہوگا تو بل بھریں گے ، اپنی سلائی مشینیں بیچ رہے
تھے ہمیں علم ہوا تو ہم نے کہا اپ مشینیں نہ بیچیں اللہ
پاک کوئی سبب بنادے گا پھر ہوا بھی یہی کہ کسی اللہ
کے بندے نے انکا وہ بل بھردیا یوں ایک ماہ کی ذہنی اذیت
سے نجات مل گئ

رواں ماہ کئی افراد بل اس واسطے بل نہ ادا کرسکے کہ کاروبار
ہی نہیں، اور اسی ذہنی کشمکش میں بہت سو نے خو کشیاں
بھی کیں

پھر اوپر سے پولیس ، بھتہ خوری، ڈاکو راج نے عوام کی رہی
سہی کسر پوری کردی

ابھی ایک ویڈیو دیکھی جس میں بھوسی ٹکڑے والے کو
بھی نہیں چھوڑا اسے بھی لوٹ لیا
باقی بچی اشرافیہ اور وہ طبقہ جن کے اصل گھر و محلات یورپ، برطانیہ، امریکہ وغیرہ میں ہیں اور صرف یہاں ” مزدوری” کرنے آتے
ہیں انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ ان کے بنک
بیلنس حلق تک بھرے ہیں، ان کو بجلی و گیس و پٹرول
و دیگر مراعات بالکل فری ہیں
ان کے کتے ، بلی کے فوڈز باہر سے آتے ہیں،ان کے پرس، میک اپ
جیولری، شوز امپورٹڈ ہیں، ان کے بچوں نے پاکستان کی شکلیں
بھی شاید نہیں دیکھیں،
اب غریب ادمی کھائے گا یا ان حرام خوروں کا پیٹ اپنے ٹیکس
کے پیسے سے بھرے گا، حالانکہ حکومت اسی بات کا ٹیکس لیتی
ہے تاکہ اسکے بدلے میں وہ عوام کو کھانا ، پانی ، راشن، تعلیم،
علاج معالجہ پر سبسڈی دے اور انہیں آرام پہنچائے جبکہ
اس ٹیکس کے پیسے سے صرف امراء و اشرافیہ آرام میں
رہتے ہیں ، عوام جائے چولہے میں

وہ وقت دور نہیں جب عوام انہیں اپنے ہاتھوں سے سزا دیگی
کیوں بھوک بہت ظالم چیز ہے جو اچھوں اچھوں کی عقل
ماؤف کردیتی ہے
بس تھوڑا انتظار کریں۔۔۔۔

ابنِ حجر
24/802023ء