حدیث ”لا نورث ما تركناه صدقة”
کیا نبی پاک علیہ الصلواتہ والسلام کی ميراث والى حديث کے راوی صرف حضرت ابوبکر رضی الله عنه هیں؟
ریفرنس نمبر :269-HAB
تاریخ:2023-12-30
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ زید کا دعوی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی حدیث ”لا نورث ما تركناه صدقة”( ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو بھی چھوڑیں وہ صدقہ ہے )” صرف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ، ممکن ہے ان سے سننے میں خطا واقع ہو گئی ہو۔ کیا واقعی ایسا ہے کہ یہ حدیث حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے ہی مروی ہے؟
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب
زید کی بات مکمل طور پر باطل و مردودہے۔
مردودیت و بطلان کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اس روایت کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تنہا روایت کہہ کر یہ وسوسہ ڈالنا کہ ممکن ہے سننے میں خطا واقع ہوگئی ہو، یہ جملے وہی ہیں ، جو منکرین احادیث ، جدیدیت کے شکار اور خبر واحد حدیثوں کے منکر جیسے لوگ استعمال کرتے ہیں اور یہ جملہ اسی گمراہی کی طرف قدم اٹھانا اور دین کے دو تہائی سے زیادہ ذخیرہ کو مشکوک بنانے کا طریقہ ہے۔
زید کے قول کے مردود و باطل ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ائمہ محدثین نے اس حدیث کے متواثر ہونے تک کی صراحت کی ہے ، 13 صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ حدیث مبارک مروی ہے اور بکثرت کتب میں اس حدیث کی تخریج کی گئی ہے ۔ زید کے قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سطحی علم رکھتا، ہوائی باتیں کرتا، علم حدیث سے نا آشنا، کتب احادیث کے مطالعہ سے محروم ، فہم دین سے فارغ اور علم الحدیث و علم العقائد سے جاہل ہے۔
حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے مابین ایک فیصلے میں یہی حدیث مبارک حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت کے سامنے بیان کی اور سب سے معلوم کیا کہ کیا آپ لوگوں نے یہ حدیث نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے سنی ہے ؟ جس کا سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم نے سنی ہے ۔
بعض ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن نے بھی اس بات کا ارادہ کیا تھا کہ رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ترکے کا مطالبہ کریں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انہیں یہی حدیث یاد دلائی تھی، جس پر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
افضل البشر بعد الانبیاء حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ حدیث بیان کرنے اور قبول کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے تھے ، وہ کس طرح بغیر تحقیق و تثبت کے حدیث کو بیان کر سکتے ہیں۔
امام ذہبی رحمة الله تعالى عليه تذکرۃ الحفاظ میں فرماتے ہیں: ” وكان أول من احتاط في قبول الأخبار “ ترجمہ : سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ پہلے شخص تھے جنہوں نے احادیث کو قبول کرنے میں احتیاط اختیار کی۔
(تذكرة الحفاظ،جلد1، صفحه 9، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور حافظ محمد مرتضی زبیدی حنفی رحمہ اللہ نے متواتر احادیث پر لکھی گئی اپنی کتب میں اس حدیث کو بھی شمار کیا ہے ۔
علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں: ” أخرجه الشيخان : عن (1) عمر (2) وعثمان (3) وعلي (4) وسعد بن أبي وقاص ومسلم : عن (5) العباس (6) وأبي بكر الصديق (7) وعبد الرحمان بن عوف (8) والزبير بن العوام (9) وأبي هريرة. و أبو داود :عن (10) عائشة. والنسائي :عن (11) طلحة. والطبراني :عن (12) حذيفة (13) وابن عباس ثلاثة عشر نفسا رضی اللہ تعالى عنهم- قال فقد رواه من العشرة المشهود لهم بالجنة ثمانية نظير حديث من كذب علي“
ترجمہ : اس حدیث کو شیخین نے حضرت عمر ، عثمان، علی ، سعد بن ابی وقاص سے ؛ اور امام مسلم نے حضرت عباس ، ابوبکر الصدیق ، عبد الرحمن بن عوف، زبیر بن عوام ، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنھم سے روایت کیا؛ اور ابو داود نے حضرت عائشہ سے ؛ اور نسائی نے طلحہ سے ؛ اور طبرانی نے حذیفہ اور ابن عباس رضی اللہ عنھم اجمعین سے روایت کیا۔
یہ کل تیره نفوس قدسیہ ہیں ، پھر فرمایا کہ اس حدیث کو ان دس صحابہ میں سے آٹھ صحابہ نے بھی روایت کیا ہے ، جن کو جنت کی بشارت دی گئی۔ یہ حدیث ” “من كذب علی والی” حدیث کی مثل ہے ۔
(قطف الأزهار المتناثرة في الأخبار المتواترة للسيوطي، ص 273، المكتب الإسلامي)
(لقط اللآلى المتناثرة في أحاديث المتواتره، ص88، دارالکتب العلميه)
حافظ مغرب شیخ جعفر الکتانی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ” ثم هذا الحديث قال الحافظ ابن حجر أيضا في أماليه أنه حديث صحيح متواتر “ترجمہ: پھر اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنے امالی میں فرمایا کہ یہ حدیث صحیح متواتر ہے۔
(نظم المتناثر من الحديث المتواتر صفحه 216 حدیث 272، طبع مصر)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حضرت عثمان ، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالى عنهم موجود تھے ، پھر حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم اور حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ اپنا ایک معاملہ لے کر آۓ، تو فیصلے سے قبل حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان تمام کو قسم دے کر یہ پوچھا:” أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:”لا نورث ما تركنا صدقة؟ “ ترجمہ : کیا آپ حضرات یہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو بھی چھوڑیں وہ صدقہ ہے ۔ جس پر ان تمام نے کہا: ہاں۔ (صحیح البخاری، جلد 7، صفحہ 63،حدیث 5358، طبع بیروت)
(صحیح المسلم، جلد3، صفحہ 1377، حدیث 1757، طبع بیروت)
امام نسائی رحمہ اللہ تعالی نے السنن الکبری میں ذکر کیا ہے کہ ان صحابہ کرام علیہم الرضوان میں حضرت سیدنا طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے۔
(السنن الكبرى للنسائی، جلد 6، صفحه 98، رقم 6273، طبع مؤسسة الرساله، بیروت)
مسند احمد میں سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے : ” أن أزواج النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم أردن أن يرسلن عثمان إلى أبي بكر يسألنه ميراثهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت لهن عائشة: أوليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا نورث، ما تركنا فهو صدقة “
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت حضرت عثمان کو حضرت ابوبکر صدیق کے پاس بھیجنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث میں اپنے حصے کا سوال کریں، تو ان سے حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو بھی چھوڑیں، وہ صدقہ ہے ۔
(مسنداحمد، جلد43، صفحہ302، حدیث 26260، طبع دارالرساله، بیروت)
مسند اسحاق بن راھویہ میں یہ الفاظ زائد ہیں:’’ فرضین بقولها وتركن ذلك “
ترجمہ:تو وہ تمام ازواج حضرت عائشہ کے اس قول پر راضی ہوگئیں اور اس مطالبہ کو ترک کر دیا۔
(مسند اسحاق بن راهويه، جلد1، صفحه 513، رقم الحديث 865، طبع دار التأصيل)
امام بزار نے اپنی مسند میں حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔
اس کے رجال کے بارے میں امام ہیثمی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:’’ورجاله رجال الصحیح“ ترجمہ:اور اس کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
(مجمع الزوائد، جلد4، صفحہ 407، رقم 7139، طبع دارالفکر بیروت)
امام مسلم صحیح مسلم میں حضرت سیدنا ابوہریرہ سے اور امام طبرانی اوسط میں حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کرتے ہیں: ”لا نورث، ما تركناه صدقة“
ترجمہ: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو بھی چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔
حافظ ہیثمی رحمہ الله تعالى حديث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم کے بارے میں فرماتے ہیں :” رواه الطبراني في الأوسط وفيه إسماعيل بن عمرو البجلي وثقه ابن حبان وضعفه غيره وبقية رجالہ ثقات ‘‘
ترجمہ : اس کو امام طبرانی نے اوسط میں روایت کیا اور اس میں اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، اس کو ابن حبان نے ثقہ اور ان کے علاوہ نے ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے باقی تمام رجال ثقہ ہیں۔
(صحیح المسلم،جلد3، صفحہ 1383، رقم 1761، طبع بیروت)
(المعجم الاوسط، جلد 5، صفحه157، رقم 4933، طبع دار الحرمين، قاهره)
(مجمع الزوائد، جلد8، صفحه 620، حدیث 14287، طبع بیروت)
والله اعلم عزوجل و رسوله اعلم صلى الله تعالى عليه و آله و سلم
الجواب صحیح
مفتی محمد قاسم عطاری
کتبہ
ابوحمزه محمدحسان عطاری




