شہادت حضرت عثمان غنی

#مظلوم_مدینہ

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 10 دن بند رہا تب بھی ٹھیک اگر تاریخ کہے حضرت حسینؓ کا پانی 7 دن بند رہا تب بھی ٹھیک

میرا نظریہ ہے کہ حضرت حسینؓ کاپانی بند نابھی کیا گیا ہو تب بھی نواسہ رسولؐ مظلوم ہے

لیکن تاریخ کو چھیڑنے کی بجائے تاریخ کا مطالعہ کرتاہوں تو مجھے نظر آتاہے کہ اسلام کی تاریخ میں صرف حضرت حسینؓ کی ہی شھادت مظلومانہ یا دردناک نہیں بلکہ اگر ہم 10 محرم کہ طرف جاتے ہوئے رستہ میں 18 ذی الحج کی تاریخ پڑھیں تو ایک ایسی شھادت دکھائی دیتی ہے جسمیں شھید ہونیوالے کا نام حضرت عثمانؓ ہے

جی ہاں____ وہی عثمانؓ جنہیں ہم ذالنورین کہتے ہیں

وہی عثمانؓ جسے ہم داماد مصطفیؐ کہتے ہیں

وہہ عثمان جسے ہم ناشر قرآن کہتے ہیں

وہی عثمانؓ جسے ہم خلیفہ سوئم کہتے ہیں

وہی عثمانؓ جو حضرت علیؓ کی شادی کا سارا خرچہ اٹھاتے ہیں

وہی عثمانؓ جسکی حفاظت کیلئے حضرت علیؓ اپنے بیٹے حضرت حسینؓ کو بھیجتے ہیں

وہی عثمانؓ جسے جناب محمد الرسول اللہؐ کا دوہرا داماد کہتے ہیں

خیر یہ باتیں تو آپکو طلبا خطبا حضرات بتاتے رہتے ہیں

کیونکہ حضرت عثمانؓ کی شان تو بیان کی جاتی

حضرت عثمانؓ کی سیرت تو بیان کیجاتی ہے

حضرت عثمانؓ کی شرم حیا کے تذکرے کئے جاتے ہیں انکے قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے واقعات سنائے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی ہے یہ کہ انکی مظلومیت کو بیان نہیں کیا جاتا انکی دردناک شھادت کے قصہ کو عوام کے سامنے نہیں لایاجاتا

10 محرم کو قاتلان حسینؓ ہی حسینؓ کی مظلومیت کا رونا تو روتے ہیں انکی مظلومیت کو بیان کرکے خود ہی چالاکی اور منافقت سے خود کو مقتولین کی لسٹ میں شامل کرنے کی ناکام کوشش تو کرلیتے ہیں لیکن لیکن دوسری طرف عثمانؓ کی خلافت کے قائل عثمانؓ کی مظلومیت کو بیان نہیں کرتے

تاریخ کی چیخیں نکل جائیں اگر عثمانؓ کی مظلومیت کا ذکر کیا جائے #ہائے_عثمانؓ میں کوئی عالم یا خطیب نہیں لیکن میں اتنا جانتاہوں کہ عثمان وہ مظلوم تھا

جسکا 40 دن پانی بند رکھا گیا آج وہ عثمان پانی کو ترس رہاہے جو کبھی امت کیلئے پانی کے کنویں خریدا کرتاتھا

حضرت عثمانؓ قید میں تھے تو پیاس کی شدت سے جب نڈھال ہوئے تو آواز لگائی ہے کو جو مجھے پانی پلائے ؟

حضرت علیؓ کو پتہ چلا تو مشکیزہ لیکر علیؓ عثمان ؓ کا ساقی بن کر پانی پلانے آرہے ہیں

ہائے ۔۔۔ آج کربلا میں علی اصغر پر برسنے والے تیروں کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر برسنے والے تیروں کا ذکر نہیں ہوتا باغیوں نے حضرت علیؓ کے مشکیزہ پر تیر برسانے شروع کئے تو علیؓ نے اپنا عمامہ ہوا میں اچھالا تاکہ عثمانؓ کی نظر پڑے اور کل قیامت کے روز عثمانؓ اللہ کو شکایت نا لگاسکے کہ اللہ میرے ہونٹ جب پیاسے تھے تو تیری مخلوق سے مجھے کوئی پانی پلانے نا آیا

کربلا میں حسینؓ کا ساقی اگر عباس تھا

تو مدینہ میں عثمانؓ کا ساقی علیؓ تھے

اس عثمانؓ کو 40 دن ہوگئے ایک گھر میں بند کیئے ہوئے جو عثمانؓ مسجد نبوی کیلئے جگہ خریدا کرتاتھا

آج وہ عثمانؓ کسی سے ملاقات نہیں کرسکتا جسکی محفل میں بیٹھنے کیلئے صحابہ جوق درجوق آیاکرتے تھے

40 دن گزر گئے اس عثمانؓ کو کھانہ نہیں ملا جو اناج سے بھرے اونٹ نبیؐ کی خدمت میں پیش کردیا کرتاتھا

آج اس عثمان کی داڑھی کھینچی جارہی ہے جس عثمان سے آسمان کے فرشتے بھی حیاکرتے تھے

آج اس عثمانؓ پر ظلم کیا جارہا ہے جو کبھی غزوہ احد میں حضور نبی کریمؐ کا محافظ تھا

آج اس عثمانؓ۔کا ہاتھ کاٹ دیا گیا جس ہاتھ سے آپؐ کی بیعت کہ تھی

ہائے عثمان میں نقطہ دان نہیں میں عالم نہیں جو تیری شھادت کو بیان کروں اور دل پھٹ جائیں آنکھیں نم ہوجائیں

آج اس عثمانؓ کے جسم پر برچھی مار کر لہو لہان کردیا گیا جس عثمان نے بیماری کی حالت میں بھی بغیر کپڑوں کے کبھی غسل نہ کیا تھا

آج آپؐ کی 2 بیٹیوں کے شوہر کو ٹھوکریں ماری جارہی ہیں

18 ذی الحج 35 ھجری ہے جمعہ کا دن ہے حضرت عثمانؓ روزہ کی حالت میں ہیں باغی دیوار پھلانگ کر آتے ہیں اور حضرت عثمانؓ کی داڑھی کھنچتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں ایک باغی پیٹھ پر برچھی مارتاہے ایک باغی لوہے کا آہنی ہتھیار سر پر مارتاہے ایک تلوار نکالتا ہے حضرت عثمانؓ کا ہاتھ کاٹ دیتاہے وہی ہاتھ جس ہاتھ سے آپؐ کی بیعت کی تھی قرآن سامنے پڑا تھا خون قرآن پر گرتا ہے تو قران بھی عثمانؓ کی شھادت کا گواہ بن گیا عثمانؓ زمین پر گر پڑے تو عثمانؓ کو ٹھوکریں مارنے لگے جس سے عثمانؓ۔کی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں حضرت عثمانؓ باغیوں کے ظلم سے شھید ہوگئے

اسلام وہ شجر نہیں جس نے پانی سے غذا پائی

دیا خون صحابہؓ نے پھر اس میں بہار آئی::

سیلفی و تصویر کشی کے رجحان نے طواف و زیارت حرمین متاثر کر دیا

*سیلفی و تصویر کشی کے بڑھتے رجحان نے طواف و زیارت حرمین جیسی عظیم نعمت کی روح کو متاثر کر دیا*

غلام مصطفی رضوی

(نوری مشن مالیگاؤں)

مسلمان! حرمین مقدس کا احترام کرتے ہیں۔ حرمین سے محبت رکھتے ہیں۔ وہاں کی زیارت سعادت جانتے ہیں۔ اسی تمنا میں جیتے ہیں۔ بلاشبہہ کعبے کا دیدار عبادت۔ روضۂ رسول ﷺ کی حاضری سعادت و خوش نصیبی کی بات ہے۔ لوگ اسی آرزو میں عمریں گزار دیتے ہیں۔ پھر جب یہ انعام ملتا ہے تو مسرتوں کا عجب عالَم ہوتا ہے۔زہے نصیب یہ سعادت کم عمری میں مل جائے۔ عقیدتوں کے قافلے سوئے حرم رواں دواں ہوتے ہیں۔ کتنے ارمان سے سفرِ حرمین کی تیاری کی جاتی ہے۔ جذبات کا عالم بھی ایسا کہ محسوس قلب سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ایک طلاطم بپا ہوتا ہے۔ دل و جاں وجد کناں جھک گئے بہر تعظیم۔

ایسے مبارک سفر، ایسے تقدس مآب سفر جس کی آرزو میں لمحہ لمحہ انتظار میں گزرتاہے۔ خانۂ خدا کی حاضری؛ درِ محبوب رب العالمین ﷺ کی حضوری۔ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ لیکن بعض ایسے عوامل ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ زیارت حرمین سعادت مندی لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ اِس مبارک سفر کے آداب ملحوظ رہیں؛ ورنہ سعادتوں کے لمحے کہیں گناہوں کے ابتلا سے اعمال کو ضائع نہ کردیں۔ اِس ضمن میں راقم ایک اہم پہلو اپنے حالیہ سفرِ حجاز کے مشاہدے سے ذکر کرتا ہے؛ جو گزشتہ دنوں [6فروری تا 21فروری2018ء] درپیش ہوا۔

آج کل سیلفی و تصویر کشی و کیمرے کے بے جا استعمال نے انسانی اقدار؛ اخلاقی اطوار اور اعمال کی چاندنی کو گہنا دیا ہے۔ اِس کے بڑھتے رجحان نے کئی نازک لمحات میں خدمت انسانی کو فروگذاشت کردیا۔ مثلاً کوئی حادثہ ہوا تو فوقیت انسانی جان بچانے کو ہونی چاہیے؛ لیکن تصویر کشی کے رجحان نے فرض شناسی کو نظر انداز کر کے رکھ دیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہے سفرِ حرمین میں اِس رجحان کی تباہ کاریوں کا۔ جس کے زیرِ اثر اعمال کا توشہ گناہوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ مکۃ المکرمہ میں ایک نیکی کے بدل میں لاکھ نیکی کی بشارت ہے تو ایک گناہ بھی نامۂ اعمال میں کثیر گناہ کے اندراج کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس لیے ایسے کاموں سے بچنے کے جتن کیے جانے چاہئیں کہ گناہوں کا دفتر پُر نہ ہونے پائے۔

راقم نے دیکھا کہ بندگانِ خدا محوِ طواف ہوتے ہیں۔ سیلفی کے شائق دورانِ طواف سیلفی لیتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ طواف محویت کے ساتھ کیا جائے۔ رب کی رحمتیں ہماری سمت متوجہ ہیں۔ مطاف کی مقدس زمیں ہمارے اعمال کی گواہی دے رہی ہے۔ میزابِ رحمت، حطیم، حجر اسود، مقام ابراہیم سبھی ہمارے طواف کے گواہ بن رہے ہیں، یہ لمحات بڑے اَنمول ہیں۔ یہ بڑی قبولیت کی گھڑی ہے، ایسے قیمتی وقت میں عبادتوں سے نگاہیں موند کر سیلفی نکالنا؛ محض چند احباب کو دکھانے کے لیے ایسے گناہوں کا حرم محترم میں ارتکاب بڑی محرومی ہے۔ یہ رجحان گناہ در گناہ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ طبقۂ نسواں بھی محوِ طواف ہوتا ہے، سیلفی لینے والے یہ بھول جاتے ہیں؛ وہ تقدس فراموش کر کے نامعلوم کیسی کیسی تصویر نکال لیتے ہیں۔ایک گناہ کو کئی گناہ سے اور یوں کثیر گناہ سے بدل لیتے ہیں۔ راقم نے دیکھا کہ اس مرض میں ایک دو اورتین نہیں کثیر نوجوان حتیٰ کہ بعض بوڑھے بھی مبتلا ہیں۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پورا کنبہ کعبہ شریف کی جانب پیٹھ کیے کھڑے ہو کر تصویر بنوا رہا ہے۔ کبھی دورانِ سعی سیلفی لی جا رہی ہے۔ کبھی مروہ کی مقدس وادی میں سیلفی، کبھی صفا کے جلو میں سیلفی۔ جن نشانیوں کے سائے میں دعاؤں کی سوغات پیش کرنی تھی؛اعمالِ سیاہ کے دھبے دھونے تھے؛ تا کہ یہ دعائیں آخرت کا سرمایہ بنتیں وہاں ایسے اعمال جو شریعت نے ممنوع قرار دیے؛ کی انجام دہی کیا توشۂ آخرت بنے گی؟ یہ سوال بہت اہم ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

عبادت میں حضوریِ قلب درکار ہے۔ تصویر کشی کی فکر نے ریا و دکھاوے کوبڑھاوہ دیا؛ اخلاص کو رُخصت کردیا؛ یکسوئی میسر نہیں؛ موبائلوں کا بے محابا استعمال۔ بے جا استعمال نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ عبادت ہے؛ روحِ عبادت رُخصت ہوگئی۔ رسم باقی ہے خشیت رُخصت ہوگئی۔ خوفِ خدا معاذاللہ ایسا نکلا کہ حرم میں بھی دُنیا داری! اللہ اکبر! کاش میری قوم اس کا تصفیہ کرتی اور تصویر کشی کے مرض سے بچتی۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اِس میں کم علم و دنیا دار افراد تو الگ رہے؛ دین دار حتیٰ کہ بہت سے علماو مصلحین بھی مبتلا ہیں جس سے گفتار میں تاثیر نہیں رہی اور دل دنیا دار ہو کر رہ گئے۔ ایسوں کی قیادت فتنۂ ملت بیضا بن گئی ہے۔

روضۂ رسول ﷺ پر حاضری حیات کا غازہ ہے۔ زندگی کا حاصل ہے۔ سعادتوں کی اِس مسافرت میں جب ہم نے دیکھا کہ مواجہ شریف جہاں آواز بلند کرنا اعمال کے ضائع ہونے کا سبب ہے۔ جس کے احترام میں نص قطعی وارد۔ جس بارگاہ میں جبریل بھی مؤدب آتے۔ جہاں جنبش لب کشائی کی جرأت کسی کو نہ ہوئی۔ جہاں اسلاف نے سانسوں کو بھی تھامے رکھا۔ جہاں دلوں کی دھڑکنوں کو بھی ادب کا پیرہن دیا۔ جہاں خیالات بھی طہارت مآب رکھے جاتے؛ وہاں دھڑا دھڑ تصویریں کھینچی جا رہی ہیں؛ سلیفیاں لی جا رہی ہیں؛ کیمروں کی کھچاک سے مقدس بارگاہ کے سکوت کو توڑا اور ادب کا رُخ موڑا جا رہا ہے! اللہ اکبر! ہم کہاں آگئے۔ آقا ﷺ نے بلایا؛ اِس احسان کو لمحے میں بھلا دیا؛ کیسا کرم کیا کہ ہم تو طیبہ کے لائق نہ تھے؛ حاضری کا پروانہ دیا اور محبوب ﷺ کے در کا آداب بھی بجا نہ لائے؛ بلکہ غافل ہو کر سیلفیوں میں پاکیزہ لمحات آلودہ کر بیٹھے۔ کاش ہم اپنی اصلاح کرتے اور اِس خطرنات رجحان سے بچ کر قوم کو ادب کا شعور دیتے تو مبارک سفر توشۂ نجات بن جاتا۔ محبوب پاک ﷺ کی شفاعت کا مژدہ سنتے اور ادب کے طفیل ہر منزل پر با مُراد ہوتے۔ یہ مصائب کی بجلیاں خرمن پر نہ گرتیں؛ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کر لیں؛ خواص بھی دامنِ تقویٰ کو دھبوں سے بچائیں۔ احترام کی فضا آراستہ کریں۔ رب العالمین کی رحمتوں اور محبوب پاک ﷺ کی نوازشوں پر تشکر کے موتی لٹائیں۔ تصویر کشی سے حرمین کے تقدس کو بچائیں۔ بے شک ادب حیات ہے۔ ادب عبادت کی روح ہے۔ ادب ایمان کا زیور ہے۔ جو ادب و احترام بجا لایا اس کا سفر بھی سعادتوں کی صبح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ! محبوب پاک ﷺ کے درِ پاک کی حاضری احترام کے سائے میں نصیب کرے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا

ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

٭٭٭

گلدستہ

گلدستہ
 دوسرے پھول کی روح آہ بھرتے ہوئے بولی ، میں ان پھولوں میں تھی جنھیں ایک آدمی بازار لے گیا میرے ساتھ اور بھی پھول تھے جو رنگ و نسل کے اعتبار سے مختلف تھے ، ہم سب کو ایک لفافے میں بند کردیا ہمارا دم تک گھٹنے لگا تھوڑی دیر بعد ایک آدمی آیا اس نے ہمیں خریدا اور بڑے آرام سے ہمیں‌رکھا اور لے جاکر اپنی محبوبہ کو پیش کیا اس نے اپنا خوبصورت سا چہرہ ہمارے قریب کیا ایک لمحے کے لئے تو ہم اپنا دکھ بھی بھول گئے لیکن خوشی کب تک ؟ اس نے ہمیں ایک کونے میں رکھ دیا ۔۔۔ پھر کیا ہوا ؟
 پھر کیا ہوا ہماری ساری روح ( خوشبو ) نکل گئی ۔۔۔

پھولوں کی آہ

پھولوں کی آہ

میں ایک روز ڈان کو باغ چلا گیا ، ہر پھول رویا تھا اور ہر ایک کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا ۔۔۔ میں صبح پہنچا لگتا یوں تھا کہ رات بھر روئے ہیں سوئے نہیں ، میں نے پوچھا کیا ہوا ؟ کیوں روتے ہو ؟‌۔۔۔ ایک پھول نے وجہ بتائی ، پرسوں کی بات ہے میں نے ابھی پوری آنکھ بھی نہ کھولی تھی ، ایک انسان آیا اس کے ہاتھ میں قینچی تھی اس نے میرے سامنے تمام پھولوں کی گردنیں کاٹیں اور ٹوکری میں لےگیا، ہمیں نہیں معلوم ہمارے ساتھیوں کو کدھر لےگیا ۔۔۔ ہم ان کے متعلق جاننا چاہتے تھے ۔ کل شام کی بات ہے چند پھولوں کی روح (خوشبو) کا ادھر سے گزر ہوا ۔۔۔ میں نے اُن کو روک لیا ۔۔ ان سے پوچھنے لگا ۔۔۔ ایک نے بتایا کہ ہم سب کو وہ پھولوں کی منڈی میں لےگیا اور وہاں ہمارے اور بھائی بھی موجود تھے مختلف علاقوں سے قید کرکے لائے گئے اور سب کو مختلف ٹوکریوں میں پیک کرکے مختلف علاقوں میں بھیجا جارہا تھا ۔۔ اور میں ان پھولوں میں شامل تھا جنہیں ایک آدمی خرید کر قبرستان لےگیا ، وہاں‌پکی دکانیں بھی تھیں اور پھٹے بھی تھے جن پہ رکھ کر ہمیں بیچا جاتا تھا ۔۔۔ بس کچھ نہ پوچھو ۔۔۔ دکاندار نے ہمیں ٹوکری سے نکالا اور ایک بڑی سوئی گردن میں پرو کردی ہماری آہ و بکا بلند ہوگئی مگر قبرستان میں کون سنتا سب مُردے تھے ، اس ظالم نے مجھے اور میرے چند ساتھیوں‌کے گلے میں دھاگہ ڈالا اور ہمیں لٹکایا ۔۔۔۔
 یہ منظر ناقابل برداشت تھا کئی پھول تو اس تکلیف سے پتی پتی ہوگئے ۔۔۔ آیک آدمی آیا اس نے کچھ کاغذ کے ٹکڑوں کے عوض ہمیں خریدا اور اندر لے گیا اور جاکر ایک قبر پہ ڈال دیا ہم مظلوموں سے ہمدردی کرنے کے بجائے وہ ہمیں ایک مُردے کے پاس چھوڑ گیا وہ تھوڑی دیر کے بعد چلا گیا ۔۔۔
پھر کیا ہوا ۔۔۔۔
 کیا ہونا تھا ۔۔۔
آہ ۔۔۔اور کیا ؟

خاوند کی آہ

خاوند کی آہ
 ایک خاوند صاحب اپنا ماتھا شہادت کی انگلی اور انگھوٹھے سے پکڑے ہوئے رو رہے تھے ، میں نے کہا بھائی تجھے کیا ہوا ؟‌ کیا جسم کا سارا پانی آنکھوں سے نکالنے کا ارادہ ہے ؟ کہا مختار کیا کروں میرا مرنے کو جی چاہتا ہے ۔۔ میرے منہ سے آہ کے علاوہ اور لفظ نکلتا ہی نہیں ۔۔۔ یوں لگتا ہے بچپن سے شاید یہی لفظ سیکھا ہے ۔۔۔ میرا پورا جسم صرف آہ بناتا ہے اور سب کام چھوڑ گیا ہے ۔۔۔ آج سے پانچ سال پہلے میں نے راتوں کا سکون بیچ کر ۔۔۔ موتیوں سے قیمتی آنسو دیکر ۔۔۔ دل و دماغ‌دیکر ایک خوبصورت عورت کی توجہ خریدی ۔۔۔ میں‌نے اسے کہا تھا تم صرف میرے سامنے رہا کرو ۔۔۔ بھوک لگے تو جگر حاضر ہے پیاس لگے تو اشک حاضر ہیں ۔۔۔ چلنا ہوتو سر آنکھوں‌پر ۔۔ رہنا ہوتو دل و دماغ‌حاضر ہیں‌۔۔ وہ مانوس ہوگئی ۔۔۔ جو میں‌چاہتا تھا وہی اس کی چاہت بن گئی یعنی ہم نے شادی کرلی ہماری شادی کو پانچ سال ہوگئے ہیں‌۔۔۔ میں اپنا جسم اور بعض اوقات ضمیر تک بیچ کر اسے آرام خرید کردیتا رہا ۔
 پھر وہ زور زور سے رونے لگا۔۔۔ اور کہتا ہے مختار تجھے معلوم ہے ؟ اس نے میرے ساتھ کیا کیا ؟ میں نے اسے ٹوٹ کر چاہا تھا اس نے مجھے توڑ کر رکھ دیا ۔۔۔ میں ٹوٹ گیا وہ کسی اور سے جڑ گئی ۔۔۔ وہ اپنا سب کچھ کسی دوسرے کو مفت دے رہی ہے ۔۔۔
 آہ
 اللہ مجھے ماردے ورنہ یہ گرم آہیں میرا سینہ جلادیں‌گی۔

بیوی کی آہ

بیوی کی آہ
 بیوی اپنی ایک راز دار سہیلی سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ اب میرا میاں مجھ سے کم پیار کرتا ہے ۔۔۔ پہلے پہار کرتے کرتے تکھتے نہیں تھے اب کرتے نہیں ہیں ۔۔۔ پہلے بات کرتے تھے ساری رات کرتے تھے ۔۔۔ اب بات بات پر ٹوکتے ہیں ۔۔۔ باہر جانے سے روکتے ہیں ۔۔۔ کل تو مجھے مارا بھی ۔۔ چہرہ پیلا ہوگیا ہے ۔۔۔ ہاتھ مار کی وجہ سے نیلے ہوگئے ۔۔۔ حالانکہ انھیں میرے گورے ہاتھ بہت اچھے لگتے تھے ۔۔۔۔
 ہائے میرے نصیب ۔۔۔۔
 آہ
 وہ عرفان مجھ سے کتنا پیار کرتا تھا ۔۔۔
 میرا کتنا خیال رکھتا تھا ۔۔
 سکول چھوڑنے جاتا تھا ۔۔۔
 لینے جاتا تھا ۔۔۔
 اس سے شادی کرلیتی کتنا خوش رہتی ۔۔۔
 اور وہ میری ساس اللہ کی پناہ۔۔۔
 ہٹلر کی بیٹی ہے ۔۔
اس کی آنکھ میں میری خوبیاں بھی خامیاں نظر آتی ہیں ۔۔۔
 بس یہی کچھ ہوتا رہتا ہے ۔۔۔
 آخرکار خاوند مرجاتا ہے یا وہ بیوی مرجاتی ہے ۔۔۔
بچتا کیا ہے  آہیں ۔۔۔
بیوی کی خاوندکے مرنے پر
یا خاوند کی بیوی کے مرنے پر۔

ماں باپ کی آہ

ماں باپ کی آہ
 ماں باپ ہر قسم کی آہ سے آشنا ہوجاتے ہیں ۔۔۔ 

آہ   اولاد بات نہیں مانتی ۔۔۔
 بچہ دیر سے گھر آتا ہے ۔۔۔
 آوارہ لڑکوں کے ساتھ پھرتا ہے ۔۔۔
 پڑھائی کی طرف دھیان کم دیتا ہے ۔۔۔
 خوشی نہیں غم دیتا ہے ۔۔۔
 بڑی لڑکی جوان ہوگئی ۔۔اے جی کچھ کرو۔۔
 ہائے ایک جان کتنے دکھ ۔۔۔
 کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈو ۔۔۔
 پر آہ  اچھے لڑکے کدھر ملتے ہیں ۔؟
ماں‌باپ یونہی آہوں کے ہوکر رہ جاتے ہیں‌۔