نحوست گناہ اور توبہ نہ کرنے کی وعید

نحوست گناہ اور توبہ نہ کرنے کی وعید:

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

"مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرے اور بخشش چاہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو وہ نکتہ پھیلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔”

[الزواجر عن اقتراف الکبائر للھیتمی (مترجم) ج 1 ص 60]

اس حدیث کو امام ابن ماجہ علیہ الرحمہ نے اپنی سنن [ج2 ص1418 رقم الحدیث 4244] میں روایت کیا ہے۔ اور امام احمد علیہ الرحمہ نے اپنی مسند [مسند احمد (ت شاکر) ج 8 ص 71 رقم الحدیث 7939] [مسند احمد (ط الرسالۃ) ج13 ص 333 رقم الحدیث 7952] میں روایت کیا ہے۔

امام حاکم نے اس حدیث کو امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت اختیار کی ہے۔ [المستدرك للحاکم ج 2 ص 562 رقم الحدیث 3908]

احمد شاکر صاحب نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دے دیا ہے۔ [حاشیہ مسند احمد (ت شاکر) ج 8 ص 71 رقم الحدیث 7939]

شعیب الارنوؤط صاحب نے اس حدیث کی سند کو قوی قرار دے دیا ہے۔ [ حاشیہ مسند احمد (ط الرسالۃ ) ج 13 ص 334 رقم الحدیث 7952] [حاشیہ سنن ابن ماجہ (ت الارنوؤط) ج 5 ص 317 رقم الحدیث 4244]

اور البانی صاحب نے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دے دیا ہے۔[حاشیہ سنن ابن ماجہ ج 2 ص 1418 رقم الحدیث 4244]

میری تحقیق کے مطابق اس حدیث کی سند حسن ہے کیونکہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن عجلان ہے اس پر کچھ ائمہ کا کلام ہے اس لیے امام ذہبی نے اسے حسن الحدیث قرار دے دیا ہے۔[سیر اعلام النبلاء الجزء السادس (الطبقۃ الخامسۃ) ص 321] اور باقی رجال ثقہ ہیں۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

22 فروری 2019ء

بیٹھ کر پیشاب کیا

حدیث نمبر :355

روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن حسنہ سے ۱؎ فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ شریف میں ڈھال تھی آپ نے ڈھال زمین پر رکھی پھر بیٹھ کراس کے پیچھے پیشاب کیا ۲؎ تو بعض کفار بولے انہیں دیکھو تو عورتوں کیطرح پیشاب کرتے ہیں۳؎ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی تو فرمایا افسوس تم پر کیا تمہیں خبر نہیں کہ بنی اسرائیل والے کو کیا آفت پہنچی تھی کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو قینچیوں سے جگہ کاٹ ڈالتے تھے اس نے انہیں منع کیا تو اپنی قبر میں عذاب دیا گیا۴؎ اسے ابوداؤد ابن ماجہ نے روایت کیا اور نسائی نے ان سے انہوں نے ابوموسی سے۔

شرح

۱؎ حسنہ ان کی والد ہ کا نام ہے،والد کا نام عبداللہ ابن مطاع ہے،آپ صحابی ہیں۔

۲؎ ورقہ چمڑے کی وہ ڈھال ہے جس میں لکڑی اور پٹھا استعمال نہ کیا جائے۔ہلکی ہوتی ہے،جنگ میں تلوار کا وار آسانی سے روک لیتی ہے۔ڈھال کی آڑمیں پیشاب کرنے سےمعلوم ہوا کہ پیشاب کے وقت پورے جسم کا چھپانا ضروری نہیں،صرف شرمگاہ کا چھپ جانا کافی ہے،کیونکہ ڈھال چھوٹی ہوتی ہے۔

۳؎ اسلام سے پہلے عربی مردبے دھڑک سب کے سامنے ننگے پیشاب پاخانہ کرلیا کرتے تھے۔ستر اور شرمِ حجاب اسلام نے سکھایا وہ لوگ اس تہذیب کا مذاق اڑاتے تھے،جیسے آج بعض بے دین جاہل بعض اسلامی احکام داڑھی،نماز وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔یہ ایسے ہی ہے جیسے نکٹے ناک والوں کا نکو کہہ کر مذاق اڑائیں۔

۴؎ خلاصۂ جواب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیشاب کے احکام بہت سخت تھے کہ اگر کپڑے میں لگ جائے جلا ڈالو،اوراگر بدن پر لگ جائے تو اتنی کھال چھیل ڈالو۔ان میں ایک شخص نے بنی اسرائیل کو مشورہ دیا کہ ایسا نہ کرو۔اس مشورے پر وہ عذاب قبر میں گرفتار ہوا،حالانکہ اس نے ایسی چیزسے روکا تھا جو نفس پر سخت گراں تھی اور تو مجھے اس حجاب اور حیاسےمنع کررہا ہے جو نہ تکلیف دہ ہے نہ نفس پر بھاری،بتا تیرا کیا حال ہوگا؟اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص کوئی بنی اسرائیل ہوگا اور یہ واقعات اس زمانہ میں مشہور ہوں گے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ تو دیکھو کہ اس کے مذاق کا کوئی جواب نہ دیا،نرمی سے مسئلہ سمجھادیا۔

تم کو پاخانہ کرنا تک سکھاتے ہیں

حدیث نمبر :354

روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں بعض مشرکوں نے مذاقًا کہا کہ ہم تمہارے صاحب کو دیکھتے ہیں کہ تم کو پاخانہ کرنا تک سکھاتے ہیں ۱؎ میں نے کہاہاں ہمیں حکم دیا ہے کہ قبلہ کو منہ نہ کریں اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کریں اور تین پتھروں سے کم پر کفایت نہ کریں ان میں نہ گوبر ہو نہ ہڈی ۲؎(مسلم)احمد نے روایت کیا یہ اس کے لفظ ہیں۔

شرح

۱؎ ایسی معمولی باتیں سکھانا ان کی شان کے خلاف ہے بڑے لوگ بڑی باتیں سکھائیں۔

۲؎ سبحان اﷲ!کیسا حکیمانہ جواب ہے یعنی یہ تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ہے کہ ہمیں کسی کا محتاج نہ رکھا سب کچھ سکھا دیا۔دیکھو ہمیں استنجاء کے بارے میں کیسے نفیس احکام عطا فرمائے،تم بھی یہ باتیں سیکھ لو۔

نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل اور پانی سے استنجاء

حدیث نمبر :353

روایت ہے حضرت ابوایوب و جابر و انس سے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اﷲ ستھروں کو پسند فرماتاہے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے انصار کے گروہ اﷲ نے تمہاری پاکی کی بہت تعریف کی ہے تمہاری کیسی پاکی ہے۲؎ وہ بولے کہ ہم نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء ۳؎ تو فرمایا کہ وہ یہ ہی پاکی ہے اسے لازم کرلو ۴؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ اس آیت میں مسجد قباء کی تعریف فرمائی گئی ہے،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے،یعنی چونکہ مسجد کے آس پاس انصار رہتے ہیں،اور اس میں وہی نماز پڑھتے ہیں،یہ بڑے پاک لوگ ہیں،آپ بھی وہاں نماز پڑھاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس مسجد کو بزرگوں نے بنایا ہو،یا بزرگوں نے وہاں نمازیں پڑھی ہوں،یا اس کے قریب بزرگ رہتے ہوں،یا دفن ہوں وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے اور ارادۃً وہاں جا کر نماز پڑھنا رب کو پسند ہے۔اس سے شریعت اورتصوف کے بہت سے مسائل حاصل ہوسکتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری تفسیر”نورالعرفان”میں دیکھو۔

۲؎ یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لیے ہے،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک کے عمل سے واقف ہیں،فرماتے ہیں”لَایُخْفٰی عَلیَّ صَلوٰتُکُمْ”الخ۔

۳؎ ڈھیلوں کے بعد پانی سےبھی استنجاء کرلیتے ہیں،یاصرف پانی سے ہی استنجاءکرتے ہیں نہ کہ ڈھیلوں سے،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں،جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔دوسرے لوگ صرف ڈھیلوں پر کفایت کرتے ہیں مگر یہ کفایت خشک پاخانے میں ہوسکتی ہے،دست کی صورت میں دھونا فرض ہے جب کہ روپے سے زیادہ جگہ لتھڑ جائے۔

۴؎ یعنی پانی سے استنجاء لازم کرلو۔نماز کے لیئے وضوءاور جنابت سے غسل تو سب حضرات ہی کرتے تھے۔

جہنم کی زنجیر

جہنم کی زنجیر

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"اگر اس کی مثل سیسے کا گولہ آسمان سے زمین کی طرف گرایا جائے، جو کہ 500 سال کی مسافت ہے، تو رات سے پہلے زمین پر پہنچ جائے، لیکن اگر جہنم کے سِرے سے ایک زنجیر لٹکا کر گرائی جائے تو 40 دن رات میں بھی اس کی تہہ تک نہ پہنچ سکے گا۔”

[الزواجر عن اقتراف الکبائر (مترجم) ج 2 ص 928]

اس حدیث کو امام احمد علیہ الرحمہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے [مسند احمد (ت شاکر) ج 6 ص 340 رقم الحدیث 6856] [ مسند احمد (ط الرسالۃ) ج 11 ص 443 رقم الحدیث 6856 ] اور امام ترمذی علیہ الرحمہ نے روایت کیا اور اسے "حسن” قرار دے دیا۔ [سنن الترمذی (ت شاکر) ج 4 ص 709 رقم الحدیث 2588] [ سنن الترمذی (ت بشار) ج 4 ص 290 رقم الحدیث 2588] اور سنن الترمذی کے بعض نسخوں میں "حسن صحیح” کے الفاظ بھی ہیں۔

اس روایت کو احمد شاکر نے صحیح قرار دے دیا ہے [مسند احمد (ت شاکر) ج 6 ص 340 رقم الحدیث 6856] اور شعیب الارنوؤط نے حسن قرار دے دیا ہے [مسند احمد (ط الرسالۃ) ج 11 ص 443 رقم الحدیث 6856]

جب کہ البانی صاحب نے تو اس روایت ضعیف قرار دے دیا ہے۔ [حاشیہ سنن الترمذی (ت شاکر)ج 4 ص 709 رقم الحدیث 2568]

میری تحقیق کے مطابق البانی صاحب کا اس روایت کو ضعیف کہنا غلط ہے کیونکہ دراج بن سمعان پر کچھ ائمہ کا کلام ہے لیکن امام ذہبی اور امام ابن حجر نے اس کلام کو صرف ابوالہیثم کی روایت تک مخصوص کر دیا ہے۔[ الکاشف رقم 1473] [تقریب التہذیب رقم 1824]۔ صرف ابو الہیثم کی روایت میں اختلاف ہے امام احمد اور امام داود وغیرہ تضعیف کے قائل ہیں جب کہ امام ابن معین، امام ابن شاہین اور امام حاکم وغیرہ تصحیح کے قائل ہیں۔

لیکن اس روایت کو دراج بن سمعان نے ابوالہیثم سے بیان نہیں ہے اس لیے اس پر اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے لہذا یہ روایت سندا حسن ہے۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

21 فروری 2019ء

دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

اسی طرح حضور کے خادم خاص حضرت ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایتیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعہ جمع ہوچکی تھیں۔( الطبقات الکبری لابن سعد ۲/۱۲۳)

حضرت سمرہ بن جندب کی روایتیں بھی انکی زندگی میں جمع ہوئیں اوریہ مجموعہ انکے خاندان میں ایک عرصہ تک محفوظ رہا ، انکے پوتے حبیب نے اسے دیکھ کر روایتیں کیں ۔(تہذیب التہذیب ۴/۱۹۸)

حضرت سعد بن عبادہ انصاری فن کتابت میں مہارت کی بنیاد پر مردکامل سمجھے جاتے تھے ،آپ نے بھی ایک صحیفہ احادیث مرتب کیا تھا ، آپکے صاحبزادے نے ان احادیث کو روایت کیا ۔(الجامع للترمذی، باب الیمین مع الشاہد، ۱/۱۶۰)

حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس بھی ایک مجموعہ تھا ،ایک مرتبہ آپ نے اپنے کاتب وراد ثقفی سے حضرت امیر معاویہ کو ایک حدیث لکھواکر بھیجی تھی۔( الجامع للبخاری، باب العساکر بعد الصلوۃ، ۱/۱۱۷)

حضرت براء بن عازب جلیل القدر صحابی ہیں ، انکی روایتیں انکی حیات ہی میں تحریری شکل میں مرتب ہوگئی تھیں ،انکے شاگردوں کے شوق کتابت کا یہ عالم تھا کہ کاغذ موجود نہ ہوتا تو ہتھیلیوں پر لکھ لیتے تھے۔(السنن للدارمی، ۶۶)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ایک خاص صحابی ہیں ،انہوں نے بھی حدیثیں کتابی شکل میں جمع کی تھیں ،سالم ابو النضر کا بیان ہے کہ میں نے آپکی تحریر کردہ ایک حدیث پڑھی ہے۔( الجامع للبخاری، باب الصبر عند القتال، ۱/۳۹۷)

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کتابت حدیث سے اتنی دلچسپی تھی کہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو نصیحت کرتے تھے کہ علم حاصل کرو ،کیونکہ آج تم قوم میں چھوٹے ہو لیکن کل بڑے ہوگے توقوم کو تمہاری ضرورت ہوگی ،جویاد نہ کرسکے تو اسے چاہیئے کہ وہ لکھ لیا کرے۔( جامع بیان العلم، ۴۰)

حضرت امیر معاویہ ،حضرت ثوبان اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مرویات انکے شاگرد خالد بن معدان کے ذریعہ تحریری شکل میں مدون ہوئیں ،انہوں نے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی تھی ،تحریر وتدوین کی جانب خاص توجہ کے باعث انکے پاس ایک باقاعدہ کتاب مرتب ہوگئی تھی۔( تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۱۱۹)

جن صحابہ کرام کی تحریری کوششوں کا ذکر ہم نے کیا ان میں بالخصوص وہ حضرات بھی ہیں جنکو مکثرین صحابہ میں شمارکیاجاتاہے یعنی جن سے ایک ہزارسے زائد احادیث روایت کی گئی

ہیں ۔ انکی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے ۔

۱۔ حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴

۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر ۲۶۳۰

۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶

۴۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰

۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۱۶۶۰

۶۔ حضرت جابر بن عبداللہ ۱۵۴۰

۷۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۱۱۷۰

انکے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعداد حدیث کے بارے میں آپ خود حضرت ابو ہریرہ کا فرمان پڑھ چکے کہ مجھ سے زیادہ احادیث حضرت ابن عمرو کی ہیں ۔اس طرح ان حضرات کی مرویات کی تعداد تیئیس ہزار سے زیادہ ہوگی ۔ اور بعض محدثین نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے تو کم از کم دوہزار کے مزید اضافہ سے یہ تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد ہوجائیگی ۔اور باقی صحابہ کرام کی روایات علیحدہ رہیں ۔

ناظرین اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عہد صحابہ میں تدوین حدیث کس منزل میں تھی ۔لہذا منکرین کا یہ کہنا کہ احادیث دوسوسال کے بعد ہی صحیفہ قرطاس پر ثبت ہوئیں ،اس سے پہلے فقط حافظوں پرموقوف تھیں یہ حقیقت سے کتنی بعید بات ہے ۔

امیرالمؤمنین حضرت علی مرتضی کا صحیفہ

امیرالمؤمنین حضرت علی مرتضی کا صحیفہ

ؑ آپ باب علم نبوت ہیں ، کوفہ کی علمی مجالس ابن مسعود اور آپ کی تعلیمات کی رہین منت تھیں ،آپکے پاس احادیث نبویہ اوراحکام شرعیہ پر مشتمل ایک صحیفہ تھا جسکو خود آپ نے تحریر فرمایا تھا ۔

فرماتے ہیں: ۔

ماکتبنا عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الا القرآن وما فی ہذہ الصحیفۃ ۔(الجا مع للبخا ری باب ما یکرہ من العمق الخ ۲/۱۰۸۴)

ہم نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے قرآن کریم اوراس صحیفہ کے سوا کچھ نہ لکھا ۔

یہ صحیفہ چمڑے کے ایک تھیلے میں تھا ،اس میں آپکی تلواربھی رہتی تھی ،اس میں خون بہا ، اسیروں کی رہائی ،کافرکے بدلے مسلمان کو قتل نہ کرنا ،حرم مدینہ کے حدود اور اسکی حرمت ،غیرکی طرف انتساب کی ممانعت ،نقض عہد کی برائی کے احکام و مسائل درج تھے ۔(الجا مع البخاری باب مایکرہ من العمق الخ ۲/۱۰۸۴)