ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ان دنوں مِن حَیثُ القوم ہم ایک دوسرے کی قبریں کھودنے ‘ چیتھڑے اڑانے ‘ طعنہ زنی ‘عیب جوئی اور تذلیل وتحقیر میں مصروف رہتے ہیں اور اس میں ہمیں بڑا لطف آتا ہے‘ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان عادات واقدار کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

(1)”ہلاکت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو منہ پر طعنے دیتا ہے اور پسِ پشت عیب جوئی کرتا ہے‘جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا ‘وہ گمان کرتا ہے کہ اُس کا مال اُسے حیاتِ جاودانی عطا کرے گا‘ہرگز نہیں!وہ ”حُطَمَۃ‘‘ میں ضرور پھینک دیا جائے گا اور آپ کو کیامعلوم ”حُطَمَۃ‘‘کیا ہے ‘وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (جس کے شعلے ) سینوں تک بلند ہوں گے ‘بے شک وہ آگ ان پر ہر طرف سے لمبے لمبے ستونوں میںبند کی ہوئی ہوگی ‘(الہُمَزہ:1-9)‘‘۔ 

تفسیر کبیر میں ہے:”ھُمَزَہ‘‘ سے مراد غیبت کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد عیب جوئی کرنا ‘ ابوزید نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد ہاتھ یا اشاروں سے اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد زبان سے عیب جوئی کرنا ‘ ابوالعالیہ نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد سامنے طعن کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد پیٹھ پیچھے غیبت کرنا‘ ایک معنی یہ بیان کیا ہے کہ ھُمَزَہ سے مراد ظاہراً اور لُمَزَہ سے مراد آنکھ یا ابروکے اشارے سے طعن کرنا ‘ ولید بن مغیرہ ایسے ہی کرتا تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت نفیس انداز میں فرمایا:”اپنے عیب نہ نکالواور(ایک دوسرے کو)برے ناموں سے نہ پکارو‘‘ (الحجرات:11)۔ اس میں نفسیاتی انداز میں بتایا گیا کہ تم جس کے عیب نکالتے ہو‘ وہ تمہارا ہی بھائی ہے ‘ تمہاری ملّت کا ایک فرد ہے‘ کوئی غیر تو نہیں ہے ‘ یعنی اس کی توہین کر کے تم اپنی توہین کر رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(1) ”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو‘ بے شک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگائو اور نہ تم ایک دوسرے کی غیبت کرو‘ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ سو تم اس کو ناپسند کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘(الحجرات: 12)۔(2) ”اور(اے مخاطَب!) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی ٹوہ میں نہ لگ جائو‘ بے شک کان ‘ آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (روزِ قیامت) باز پرس ہوگی‘‘ (الاسرائ: 36)۔اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگانے سے منع فرمایا ‘ حدیث پاک میں اسے ”تجسُّس‘‘اور ”تَحَسُّس‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے:

” رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارا: اے لوگو! جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور (ابھی) ایمان تمہارے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا‘ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائو‘ انہیں عار نہ دلائو‘ ان کی پوشیدہ باتوں کے درپے نہ ہوجائو‘ پس بے شک جو اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ راز کے درپے ہوگا‘اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائے گااور جس کے عیوب کو اللہ ظاہر کر دے ‘وہ رسوا ہوجائے گاخواہ وہ کجاوے میں بیٹھا ہو‘نافع بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرکی نظر بیت اللہ پر پڑی تو انہوں نے کہا: (اے بیت اللہ!)تیری عظمت بے پایاں ہے ‘ تیری حرمت عظیم ہے لیکن ایک (بے قصور)مسلمان (کے خونِ ناحق) کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘ (سنن ترمذی:2032)۔

(2)”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان‘ مسلمان کا بھائی ہے‘ وہ نہ اس پر خود ظلم کرے اور نہ کسی اور کو اس پر ظلم کرنے دے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے‘اللہ تعالیٰ اس کی حاجت براری فرماتا ہے اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی مصیبت دور کی تو اللہ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی مصیبت دور فرمادے گا اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا‘ اللہ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا‘‘ (صحیح البخاری:2442)۔

اسلام نے ایک دوسرے کی پردہ دری اور عیب جوئی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اپنے دین کے دشمنوں کو اپنا رازدار نہیں بنانا چاہیے ‘ اس کا انجام نقصان ہی نقصان ہے ‘ فرمایا:”اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بنائو‘ وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے‘ انہیں وہی چیز پسند ہے ‘جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ‘ان کی باتوں سے تودشمنی عیاں ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے‘ وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے‘ اگر تم عقل سے کام لیتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے نشانیوں کو بیان کردیا ہے‘‘(آل عمران:118)۔بہت سے حضرات اپنا راز دوسروں پر افشا کرتے ہیں اور پھر اُن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اُس پر پردہ ڈالے رہیں ‘ جب ایک شخص خود اپنے رازوں کی حفاظت نہیں کرسکتا تو کسی دوسرے سے توقع رکھنا عبث ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مفاسد کا منبع زبان ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا: (1)”جو مجھے اس چیز کی (شریعت کے تابع رکھنے کی )ضمانت دے گا جو دو داڑھوں اور دو ٹانگوں کے درمیان ہے(یعنی زبان اور شرمگاہ) ‘ تو میں اُسے جنت کی ضمانت دوں گا‘‘ (بخاری: 6474)۔(2)”جو خاموش رہا‘ اس نے نجات پائی‘‘ (سنن ترمذی:2501)۔(3)”جب بنی آدم صبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اعضازبان کے تابع ہوتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ ‘ کیونکہ ہمارے حقوق کی حفاظت تمہارے ذریعے ہے‘ اگر تو صحیح رہے گی تو ہم بھی صحیح رہیں گے اور اگر تو کجی اختیار کرلے گی تو ہم میں بھی کجی آجائے گی‘‘ (ترمذی:2407)۔(4)سفیان بن عبداللہ ثقفی نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے وہ چیز بتائیے‘ جسے میں مضبوطی سے تھام لوں‘ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو:میرا رب اللہ ہے ‘ پھر اس پر ثابت قدم رہو ‘ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے‘ جس سے مجھے سب سے زیادہ خوفزدہ رہنا چاہیے ‘ تو آپ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ(یعنی زبان)‘‘ (ترمذی: 2410)۔(5)”نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپایا‘اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب پر پردہ ڈالے گااور جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ دری کی تو قیامت میں اللہ تعالیٰ اُس کے عیب کو فاش کردے گایہاں تک کہ اُسے اپنے گھر میں رسواکرے گا‘ ‘(سنن ابن ماجہ:2546)۔

اب حکومتِ وقت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اس پر کریک ڈائون کی بات کر رہی ہے ‘ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کا شعار بھی ہماری آج کی حکمراں جماعت نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے رائج کیا اور اب اُسی کاہتھیار اس کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور وہ اس سے بچائو کی تدبیر اختیار کرنے پر مجبور ہے‘ ماضی کی حکومت نے جب سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی تھی تو جنابِ عمران خان نے اس کی شدیدمخالفت کی تھی ‘لیکن : دیر آید درست آید‘ موجودہ حزبِ اختلاف یقینااس کی مخالفت کرے گی ۔ ہمارے سیاسی رہنماہرچیز کے حُسن وقبُح کے بارے میں وقتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج سوشل میڈیا موجودہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا تو اس کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے ‘ اس اقدام کانیک نیتی پر مبنی ہوناصرف اُس صورت میں سمجھا جائے گاکہ حکومت خود بھی اپنے ماضی کے رویے پراظہارِ ندامت کرے اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم کرے تو یہ اقدام قابلِ ستائش ہے ‘ لیکن اگر اپنے خلاف موادپر مواخذہ کرے اور دوسروں کی بدستور تضحیک کرے ‘تو اسی کو چنیدہ انصاف کہتے ہیں؛البتہ جو لوگ اسلام دشمن عناصر بالخصوص قادیانی‘ سیکولرز لبرلز کامہذب انداز میں ردّاور اسلام کا دفاع کرتے ہیں‘ توان پرپابندی کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ ہمیشہ دائمی مفاد پیشِ نظر رہنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی بابت ایک عالم نے کہا: ” فوائد ونقصانات دونوں کے حامل جدید آلات کوان کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کا موازنہ کیے بغیراستعمال نہ کریں ‘ انسان جلد باز ہے‘ وہ مثبت پہلوئوں سے جلد متاثر ہوتا ہے اور منفی گوشوں سے غفلت برتتا ہے۔ ذرائع ابلاغ واشتہارات کے ذریعے جب کسی نئی چیز کا فائدہ اس کے علم میں آتا ہے‘ تو وہ فوراً اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کے منفی پہلوئوں اور نقصانات پر غور نہیں کرتا؛ چنانچہ وہ نتائج سے بے خبر رہ کربتدریج ان کے نقصانات کاشکار ہوجاتا ہے‘‘۔اسلام نے شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے شراب اور جوئے سے اجتناب کے بارے میں یہی اصول تعلیم فرمایا: ”(اے رسول !)وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ آپ کہیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیںاور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ‘‘ (البقرہ:219)۔اسی کو فقہ کی اصطلاح میں ”سدِّ ذرائع‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی دفعِ شر کوحصولِ منفعت پر مقدم رکھنا۔ اس آفت میں بعض دین دار لوگ بھی مبتلا ہوگئے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی فہم میں شر کو خیر کے حصول کا ذریعہ بنارہے ہیں ‘ کیونکہ اُن کے نزدیک اپنے مخالف کا رَد یا اہانت خیر ہے ۔

سوشل میڈیا کے غیر دانشمندانہ استعمال کا نقصان شعارِدین کو بھی ہورہا ہے‘ بعض ایسے لوگ جو اہلیت نہیں رکھتے‘جہاد باللسان یا جہاد بالقلم سمجھ کر اپنے اپنے فتوے صادر کردیتے ہیں اور ردعمل میں لبرل طبقہ چاہتا ہے کہ صریح کفر کے سدِّباب کے لیے جہاں فتویٰ ضروری ہے ‘وہاں بھی پابندی لگا دی جائے‘ تاکہ کفروضلالت کے آگے کوئی شرعی رکاوٹ ہی نہ رہے اور دین بازیچۂ اطفال بن جائے۔ یہ لوگ کچھ حساس و اہم اسلامی قوانین کوبے اثر بنانے کیلئے شہادتِ مردودہ کوبہانہ بنا کرشعوری طور پراسی حربے کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ماضی میں ”اِنِ الْحُکمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘ (یعنی حکم اور فیصلہ تو اللہ ہی کا نافذہو گا)کا نعرہ لگا کر خوارج نے فتنہ برپا کیا‘ جو مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے ‘ اسی حربے کی فتنہ سامانی پرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”یہ کلمۂ حق ہے ‘جسے باطل مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ‘‘۔ الغرض باطل کو حق کے لیے یا حق کو باطل کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

 

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

تحریر : سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی

صدر المدرسین : دارالعلوم محبوبِ سبحانی، کُرلا ویسٹ، ممبئی

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اؤتُمِنَ خَانَ [الصحیح للامام البخاری ، کتاب الایمان ، باب علامۃ المنافق ، رقم الحدیث: ۳۳]ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں [۱] جب بات کرے تو جھوٹ بولے [۲] جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے[۳] جب اُس کے پاس کوئی امانت رکھی جاے تو اُس میں خیانت کرے ۔یعنی مسلمان کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ جھوٹ بولے ، وعدہ خلافی کرے اور امانتوں میں خیانت کرے ۔ ایسا کرنا تو منافقوں کا کام ہے جو کہ اللہ و رسول پر ایمان نہیں رکھتے ؛لیکن جو لوگ اللہ و رسول پر یقینِ کامل رکھتے ہیں وہ صداقت کے پیکر ہوتے ہیں ، کیے ہوے وعدہ کو پورا کرنا اُن کی فطرت ہوتی ہے اور وہ خیانت سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔حدیثِ پاک میں آقاے دو عالَم ﷺنے اسلام کے بنیادی اوصاف بیان فرماے ہیں ، اِسی لیے بعض روایتوں میں یہ آیا کہ جو لوگ اِن اوصاف سے عاری ہوں وہ مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ، اگرچہ وہ نمازی ، روزے دار اور مدعیٔ ایمان ہوں ۔

کچھ نادانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دین صرف چند فرائض و واجبات پر عمل کر لینے کا نام ہے ۔ نماز پڑھ لی ، روزے رکھ لیے ، حجِّ بیت اللہ کے ساتھ ہر سال ایک عمرہ کر لیا اور زکوٰۃ کے نام پر کچھ رقم غریبوں اور مسکینوں کو دے کر فارغ ہو گیے۔ایسے جاہلوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اِن باتوں کے علاوہ ہم سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں ہوگا ۔ اِسی لیے بہت سے نمازیوں اور روزے داروں بلکہ حاجی صاحبان کو جھوٹ بولتے ، مکاری کرتے ، ناجائز طریقے سے تجارت کرتے ، امانت میں خیانت کرتے ، گالی گلوج کرتے ، سودی کاروبار کرتے ، رشوت خوری کرتے ،ناپ تول میں کمی کرتے اور بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا دیکھا جاتا ہے جن کی مذہبِ اسلام میں ایک ذرّے کے برابر ایک لمحہ بھر کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ایسے لوگ نماز ، روزہ اور حج و زکوۃ کا اہتمام کرکے ، سر پر ٹوپی رکھ کر یا عِمامہ باندھ کراور چہرے پر ڈاڑھی سجا کرخود کو بہت بڑا متقی وپارسا خیال کرتے ہیں حالانکہ دیگر ناجائز کاموں اور حرام کاریوں میں مبتلا ہونے کے سبب یہ لوگ بد ترین فاسق و فاجر ہوتے ہیں ۔

جو چیزیں مومن کو فاسق و فاجر بنا کر کمالِ ایمان سے بہت دور کر دیتی ہیں ،اُن میں سے تین اہم چیزوں کا ذکر حدیثِ مذکور میں کیا گیا ہے ، جن کے اندر یہ تینوں باتیں ہو ں وہ منافقوں جیسے کام کر رہے ہیں ، ایسے لوگ صحیح معنوں میں مومن کہلانے کا حق نہیں رکھتے ۔عام مسلمان کے ذہنوں میں حدیثِ پاک میں مذکور تینوں عیبوں کا تصور بہت ہی محدود ہے ، حالاں کہ اِن کے مفہوم میں بہت زیادہ وسعت ہے ، اتنی وسعت کہ اگر کوئی انسان زندگی کے تمام شعبوں میں اِن تینوں برائیوں سے بچتا رہے تویقینا وہ اللہ رب العزت کا صالح بندہ اور حضور ﷺ کا سچا غلام ہوگا ۔

نفاق کی سب سی پہلی علامت ’’جھوٹ بولنا‘‘ ہے ۔ جھوٹ بولنا حرام و ناجائز ہے ۔ایسا حرام و ناجائز کہ آج تک کسی بھی قابلِ شمار مذہب و مسلک میں اِسے جائز و درست قرار نہیں دیا گیا ، حتی کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی اِسے بہت برا سمجھتے تھے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے کفار و مشرکین سیکڑوں قسم کی برائیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود جھوٹ جیسی بیماری سے بدرجۂ غایت نفرت کیا کرتے تھے ۔ گناہوں کا پلندہ ہونے اور رب تعالیٰ کی توحید کے انکاری ہونے باوجود کذب بیانی سے کوسوں دور رہا کرتے تھے ؛ کیوں کہ خلافِ واقعہ بات کرنا اُن کی غیرت کے خلاف تھی ۔

مگر افسوس صد افسوس!کہ دیگر مہلک امراض کی طرح ’’کذب بیانی ‘‘کے خطرناک جراثیم بھی امتِ مسلمہ کی رگوں میں داخل ہو چکے ہیں ۔ عجیب تماشا ہے ! لوگ اِس دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں کہ گویا یہ گناہ ہے ہی نہیں ۔ اکثر مسلم آبادی جھوٹ میں اِس قدر گرفتار ہے کہ اگر سروے کرکے کذب بیانی کا فی صد نکالا جاے تو تقریباً مسلمانوں کی ۲۰ پرسنٹ سے زائد باتیں جھوٹی اور خلافِ واقعہ نکلیں گی۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے بڑوں سے ، بڑے چھوٹوں سے ،بچے ماں باپ سے ، والدین اپنے بچوں سے ،طلبہ اساتذہ سے اور اساتذہ اپنے طلبہ سے ،تاجر گاہکوں سے اور گاہک اپنے تاجروں سے ،دوست دوست سے اور پڑوسی اپنے پڑوسی سے جھوٹ بولنے میں نہ عار محسوس کرتے ہیں نہ کسی قسم کی جھجھک ۔ یہ جھوٹ اِس قدر تیزی کے ساتھ مسلم معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے کہ اب وہ لوگ جو با قاعدہ حلال و حرام کی تمیز کرتے ہیں ، جائز و نا جائز پر نگاہیں رکھتے ہیں اور شریعت پر چلنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اُنھوں سے بھی جھوٹ کی بہت سی قسموں کو حرام و ناجائز ہونے سے خارج سمجھ لیا ہے ؛ کیوں کہ اُن کے گمانِ باطل کے مطابق وہ چیزیں جھوٹ میں داخل ہی نہیں ہیں ۔ اِس لیے ہر صاحبِ ایمان پر لازم و ضروری ہے کہ جھوٹ کی تمام صورتوں کو جانے ، پہچانے اور پھر اُن سے بچنے کی کامیاب کوشش کرے ۔ ورنہ بروزِ قیامت یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں مل سکے گا کہ ہمیں کچھ پتا نہ تھا ، ہماری زبان سے لا علمی میں جھوٹ صادر ہو گیا یا ہم سے نادانی میں جھوٹ سرز د ہو گیا ۔

اب ذیل میں کذب بیانی [جھوٹ] کی وہ مروَّجہ صورتیں بیان کی جا رہی ہیں جو بد قسمتی سے مسلم معاشرے میں اِس قدر رواج پا چکی ہیں کہ بالعموم لوگ اُنھیں غلط اور نا جائز نہیں سمجھتے ، بلکہ فخریہ علی الاعلان سر انجام دیتے ہیں ۔حالاں کہ وہ نا جائز و حرام ہیں ۔

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنوانا :

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنانا یا بنوانا جھوٹ میں شامل ہے ، لہذا جھوٹ کی دوسری صورتوں کی طرح یہ بھی نا جائز و حرام ہے ۔جھوٹے سر ٹیفکٹ کے فاسد جراثیم مسلم معاشرے میں اِس طرح داخل ہو چکے ہیں کہ اچھے خاصے حاجی و نمازی صاحبان بھی اِس میں اِس طرح ملوث ہیں کہ اِ س کے جھوٹ ، غلط اور فراڈ ہونے کا تصور بھی اُن کے دماغ میں نہیں آتا ۔کمپنی سے بلا رخصت غائب ہونے والے ملازمین ، اسکول و کالجز سے بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے طلبہ و معلمین جھوٹا سرٹیفکٹ بنوا کر اپنی کمپنی یا کالج میں اِس لیے جمع کرتے ہیں کہ مواخذہ[پوچھ تاچھ] یا تنخواہ کٹنے سے بچ جائیں، یا پھرمزید چھٹیاں حاصل کرنے کے لیے اِسے بنوا کر بھجوا دیتے ہیں ۔ بعض حضرات تواپنے دوست و احباب سے ایسے جھوٹے سرٹیفکٹ بنوانے کا ذکر اِس انداز سے کرتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو اوراس کے جواز میں کوئی شبہ نہ ہو ، حالاں کہ اِس کا جھوٹ ہونا مسلَّمات میں سے ہے ۔ لہذا مسلمانوں کو اِس طرح کے فراڈ اور ایسی کذب بیانی سے بچنا چاہیے !

جھوٹی سفارش کرنا :

جھوٹی سفارش کرنا بھی جھوٹ کی مروجہ شکلوں میں سے ایک نا جائز شکل ہے ۔ مگر صد افسوس! کہ اِسے بھی بہت سے مسلمانوں نے جھوٹ ہونے سے خارج کر دیا ہے ۔ اِس روحانی مرض میں لوگوں کا ایسا ابتلاے عام ہے کہ الامان والحفیظ ۔جاہل تو جاہل اچھے خاصے پڑھے لکھے دین دار لوگ بھی اِس میں گرفتار نظر آتے ہیں ۔ نوکری دلانے ، اسکول یا مدرسے میں داخلہ کرانے ، پاسپورٹ وغیرہ سرکاری کاغذات بنوانے اور زمین و جائداد کی خریداری کے لیے دھڑلِّے سے جھوٹی سفارشیں کی جا رہی ہیں ۔ لا علمی میں کسی کی جھوٹی سفارش ہو جاے توخیر شرعاً جرم نہیں ، مگر قصداً جان بوجھ کر جھوٹی سفارش کرنا یقیناً نا جائز و حرام ہے ، شریعتِ اسلامیہ میں اِس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے اور آخرت کے سخت محاسبہ سے ڈرنا چاہیے ۔ اللہ ربُّ العزت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ [سورۂ ق ، آیت نمبر : ۱۸]ترجمہ: وہ جو بات بھی کرتا ہے اس کو لکھنے کے لیے اس کا محافظ فرشتہ منتظر رہتا ہے ۔مفہوم ِ آیت : تمھاری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ تمھارے نامۂ اعمال میں رکارڈ ہو رہا ہے ۔لہذا ہم سب کو اِس خوش نما جھوٹ سے بھی لازماً پرہیز کرنا چاہیے !

مذاق میں جھوٹ بولنا :

مذاق و تفریح میں بولا جانے والا جھوٹ بھی جھوٹ ہی ہوتا ہے ، مگر بہت سے مسلمان مذاق میں جھوت بولنے کو برا نہیں سمجھتے ، بلکہ بعض نادان تو اِسے اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے تفریح میں بھی زبان سے جھوٹ نکالنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے ۔چنانچہ آقاے دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ فَیَکْذِبُ لِیُضْحِکَ بِہٖ الْقَوْمَ وَیْلٌ لَّہٗ وَیْلٌ لَّہٗ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث: ۴۹۹۲ ] ترجمہ:جو شخص جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساے اُس پر افسوس ہے ، افسوس ہے ، افسوس ہے ۔یہ ترجمہ میں نے بڑی احتیاط سے کیا ہے ۔ورنہ سخت لب و لہجہ میں اس کا ترجمہ کیا جاے تو یوں ہوگا ’’تباہی و بربادی یا دردناک عذاب ہے اُس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے کذب بیانی سے کام لے ‘‘ ایسا بھی نہیں کہ مذہبِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تفریح و مذاق سے یکسر محروم کر رکھا ہے ، بلکہ اس نے تفریحِ طبع کے لیے پاکیزہ اور صاف ستھرے مذاق کی اجازت دی ہے ۔ہمارے نبی آقاے دو عالم ﷺ نے بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے خوش طبعی اور مذاق کی باتیں ارشاد فرمائی ہیں ۔ کتبِ احادیث میں کثیر روایتیں موجود ہیں ، لیکن آپ ﷺ نے مذاق میں بھی کبھی کذب بیانی سے کام نہیں لیا ،بلکہ ہمیشہ آپ کی زبانِ اقدس سے حق ہی جاری ہوا ۔

شمائلِ ترمذی کے اندر یہ روایت موجود ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ایک خاتون نے آکر عرض کیا :حضور ! دعا فرما دیں کہ اللہ عز وجل مجھے جنت میں پہنچا دے ! حضور ﷺ نے[از راہِ مزاح] فرمایا: کوئی بھی بڑھیا جنت میں نہیں جاے گی ۔یہ سن وہ بوڑھی خاتون زار و قطار رونے لگیں ۔ حضور ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ کوئی عورت اِس حالت میں جنت میں نہیں جاے گی کہ وہ بوڑھی ہو ، بلکہ جوان ہو کر جاے گی ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ ﷺ ]آپ غور فرمائیں کہ : آقا ﷺ نے مذاق میں کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جو خلافِ واقعہ ہو ۔ حضور ﷺ کی پر لطف مذاق کی ایسی متعدد روایتیں موجود ہیں۔

شمائلِ ترمذی کی یہ روایت بھی دیکھیں ! کہ:ایک دیہاتی صحابی آپ ﷺ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں آکر عرض گزار ہوے ، یا رسول اللہ !مجھے ایک اونٹنی عنایت فرما دیجیے !اُن کی فریاد سن کرحضور ﷺ نے[از راہِ مذاق]ارشاد فرمایا : ہم تمھیں ایک اونٹنی کا بچہ دیں گے ۔اُنھوں نے کہا: حضور ! مجھے سواری کا جانور چاہیے ! اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ارے [نادان]تمھیں جو دیا جاے گا وہ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوگا ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی مزاح النبی ﷺ ]

لہذا ہمیں اپنی زبان سنبھال کر استعمال کرنی چاہیے ، بطورِ تفریح و مذاق کہی جانے والی باتیں بھی فحش و عریانیت اور کذب بیابی سے پاک ہونی چاہئیں اور مذاق کے معاملات میں بھی اپنے حبیب ،کائنات کی طبیب حضور سرورِ عالم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنا چاہیے !

بچوں سے جھوٹ بولنا کیسا ؟: بعض والدین اپنے بچوں کو بہلانے یا ٹرخانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں ، مثلاً چاکلیٹ یا کھلونا دلانے کا یاباہر لے جانے کا جھوٹا وعدہ کرتے ہیں اور اُس وقت اُن کے حاشیۂ ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اُنھوں نے جھوٹ بول کر اپنے نامۂ اعمال میں ایک گناہ کا اضافہ کر لیا ہے ۔ صحابۂ رسول حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ :

دَعَتْنِیْ اُمِّیْ یَوْماً وَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْ ھَا تَعَالَ اُعْطِکَ ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ وَمَا اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیہِ ، قَالَتْ: اُعْطِیْہِ تَمْرًا ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَمَا اِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطیِہِ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث : ۴۹۹۳]

ترجمہ: ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا : اِدھر آ !میں تجھے کچھ دوں گی ۔اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے غریب خانہ پر جلوہ بار تھے ۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے میری ماں سے فرمایا :تونے اِسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : میں اِسے کھجور دوں گی ۔ یہ سن حضور ﷺ نے ماں سے فرمایا: اگر تو اِسے کچھ نہ دیتی تو تیرے نامۂ اعمال میں ایک گناہ لکھا جاتا ۔

اِس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ سبق ملا کہ والدین پر واجب ہے کہ محض بہلانے کے لیے اپنے بچوں سے جھوٹ نہ بولیں ، اُن سے وعدہ خلافی نہ کریں ،بلکہ اُن سے ہمیشہ سچ بولیں ، تاکہ بچوں کی دلوں میں سچائی سے الفت ومحبت اور کذب بیانی سے نفرت و بیزاری پیدا ہو ۔ آج مسلم معاشرے میں پروان چڑھنے والے بہت سے بچوں کے سینوں سے جھوٹ کی برائی اِس لیے نکل چکی ہے کہ اُن کی پرورش جھوٹ اور وعدہ خلافی جیسے گندے ماحول میں ہوئی ہے ۔اگر بچوں کو امانت و صداقت کا پیکر بنانا ہے تو گھروں میں دینی ماحول بپا کرنا ہوگا۔

جھوٹے کیریکٹر سر ٹیفکٹ کی حیثیت :

آج کل جھوٹا کیریکٹر سرٹیفکٹ بنانے یا بنوانے کا بھی کا فی رواج ہو چکا ہے ۔عوام تو خیر عوام ہے بہت سے خواص کہلوانے بھی اِس مرض میں مبتلا ہیں ۔شاید ہی کسی کے دل و دماغ میں اِس کی حرمت کا خیال آتا ہو ۔حالاں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ حاصل کرنا یا دوسروں کے لیے جاری کرنا ’’کذب و دغا بازی‘‘ کے زمرے میں آنے کی وجہ سے نا جائز ہے ۔کیوں کہ اِس طرح کے سرٹیفکٹ کو جاری کرنے والا کذب بیانی کرتے ہوے اُس میں یہ لکھتا ہے کہ : مثلاً میں اِنھیں پانچ سال سے جانتا ہوں ، اِنھیں پانچ سال کا تجربہ ہے ، اِ ن کااخلاق و کردار بہت اچھا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔تعجب و افسوس اُس وقت زیادہ ہوتا ہے جب مدارسِ اسلامیہ میں داخلہ لینے یا تقرری کرانے کے لیے پڑھے لکھے لوگ اِس قسم کا فراڈ کرتے نظر آتے ہیں ۔بلکہ بعض نادان تو اِس قسم کی حرکت کو نہ صرف یہ کہ درست بلکہ کارِ ثواب سمجھتے ہیں ۔لا حولَ ولا قوۃَ الا باللّٰہ العلیِّ العظیمِ ۔

ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے ! کہ سرٹیفکٹ جاری کرنا یا اس پر دست خط کرنا ایک قسم کی گواہی ہے، سرٹیفکٹ یا تصدیق نامہ جاری کرنے والا در اصل ’’گواہ‘‘ ہوتا ہے ۔ کسی کے بارے میں گواہی اُس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے بارے میں یقین سے معلوم نہ ہو ۔اور یہ ایسی معروف و مشہور بات ہے جسے ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے، لہذا بغیر علم کے کسی کے کیریکٹر و کردار کی گواہی دینا درست نہیں ہے ۔ بلکہ اگر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل ’’گناہِ کبیرہ‘‘ ہے ۔ کیوں کہ حدیثِ پاک میں’’ شھادۃ زُور‘‘ یعنی جھوٹی گواہی کو نہ صرف بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے بلکہ آقاے دو عالم ﷺ نے اِسے شرک کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : :

کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَآئِرِ ۔ ثَلَاثاً ۔اَلاِشْرَاکُ بِاللہِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ ۔ وَ کَانَ رَسُوْ لُ اللہِ ﷺ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہٗ سَکَتَ ۔ [ الصحیح للامام مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان الکبائر و اکبرھا ۔ رقم الحدیث : ۲۶۹]

ترجمہ: ہم غلامانِ مصطفی اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوے تھے ۔ تبھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ حضور ﷺ نے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ عز وجل کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا۔آقاے کریم ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے تھے ،جب’’ جھوٹی گواہی‘‘ کا ذکر آیا تو آپ وﷺ بالکل سیدھے بیٹھ گیے اور بار بار’’شھادۃ الزور ‘‘ کے الفاظ دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ہماری تمنا ہوئی کہ حضو ر ﷺ خاموش ہو جائیں ۔

جھوٹی گواہی کی شناعت و خباثت کا اندازہ اس بات لگائیں کہ آقاے دو عالم ﷺ نے صرف یہی نہیں کہ گناہِ کبیرہ شمار کراتے وقت اِس کا ذکر ’’شرک‘‘ کے ساتھ کیا ، بلکہ اِس کے ذکر کے وقت سیدھے بیٹھ کر اِس کی شدتِ حرمت پر تنبیہ بھی فرمائی ۔

در اصل اِس حدیثِ پاک میں آقاے دو عالم ﷺ نے سنتِ اِلٰہیہ پر عمل کیا ہے ؛ کیوں کہ خود پروردگارِ عالَم نے جھوٹی گواہی کو شرکِ اکبر اور بت پرستی کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے اور اپنے بندوں کو اِن دونوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے ، فرماتا ہے :

فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔[سورۃ الحج ، رقم الآیت : ۳۰]ترجمہ: اے میرے بندو! تم بت پرستی کی غلاظت اور ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی بچو !

اِ س آیتِ کریمہ اور حدیثِ نبوی سے اُنھیں عبرت حاصل کرنی چاہیے جو جھوٹے تصدیق نامے اور کیریکٹر سر ٹیفکٹ بناتے یا بنواتے پھر رہے ہیںاور اللہ کے بندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بلکہ غور کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینا جھوٹ بولنے سے زیادہ نقصان دن اور خطرناک ہے ،اس لیے کہ جھوٹی گواہی میں ’’کذب بیانی‘‘ کے ساتھ دوسروں کو ’’گمراہ کرنے‘‘ کے عناصر بھی پاے جاتے ہیں، کیوں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ جس کے پاس پہنچے گا بادی النظر میں وہ یہی سمجھے گا کہ یہ صاحب بڑے نیک ہیں اور پھر اس پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ معاملات کرے گا ، جس کے نتیجے میں اُسے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔لہذا جھوٹے تصدیق نامے بنانے اور بنوانے سے پرہیز کرنا لازم وضروری ہے ۔

بلا تحقیق کسی مدرسے کی تصدیق کرنا :

بعض لوگ علما یا اربابِ اقتدار یا کسی صاحبِ رسوخ کے پاس آکر اپنے ادارے کے کاغذات دکھا کر ’’تصدیق نامہ ‘‘ لکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور تصدیق کرنے والا بلا تحقیق و تفتیش اپنے لیٹر پیڈ پر یہ لکھ دیتا ہے کہ ’’ میں اِس ادارے کو جانتا ہوں ، یہاں شاندار دینی تعلیم ہوتی ہے ، دارالاقامہ میں کافی تعداد میں طلبہ بھی رہتے ہیں ،نظم ونسق ماشاء اللہ کافی بہتر چل رہا ہے ، آپ حضرات ادارے کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون فرمائیں ‘‘حالاں کہ تصدیق کرانے والوں میں بہت سے حضرات اعلیٰ درجے کے مکار اور فراڈی ہوتے ہیں ، محض اپنی چالاکی اور چرب زبانی سے لوگوں سے اپنے فرضی مدرسوں کے لیے تصدیق نامے حاصل کر لیتے ہیںاور پھر دھڑلِّے سے چندہ کرتے اور خوب دادِ عیش دیتے ہیں ۔ اِس لیے بلا تحقیق و معلومات کیے کسی بھی نامعلوم شخص کے کہنے پر تصدیق نامہ دینے سے گریز کیا جاے ، کیوں کہ یہ بھی جھوٹی گواہی دینے کی زمرے میں داخل ہونے کے سبب ممنوع ہے ۔

خود ساختہ مولانا یا مفتی بننا کیسا ؟:

بعض لوگ عالم یا مفتی نہیں ہوتے یعنی با ضابطہ کسی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے ،مگر بڑے ناز و فخر سے خود کو عالم ،مولانا یا مفتی کہلواتے ہیں ، بلکہ اگر اُن کے نام کے آگے اِس قسم کے القاب و آداب مذکور نہ ہوں تو بڑی برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے حضرات بھی کذب بیان کے جرم میں مبتلا ہیں ۔ بعض شہروں میں مثلاً ممبئی میں القاب و آداب کی ایسی درگت بنی ہوئی ہے کہ الامان و الحفیظ ۔ یہاں ہر عالمانہ وضع قطع رکھنے والا کسی جید عالم یا تجربہ کار مفتی سے کم نہیں ہے ، بلکہ اب حالات یہ ہیں کہ جسے بھی عالم ، فاضل یامفت کا مفتی بننا ہوتا ہے وہ بڑے شہروں کو رخ کرلیتاہے۔بعض پوسٹروں میں تو صرف مفتیانِ کرام اور مفکرانِ عظام ہی جلوہ بار نظر آتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ بعض نا ہنجار قسم کے لوگ اپنے جلسوں کی جھوٹی شان پڑھانے کے لیے بعض حفاظ و قراء بلکہ بعض طلبہ کو بھی بھاری بھرکم القاب سے نواز دیتے ہیں ۔

یہ تمام صورتیں کذب بیانی کے زمرے میں شامل ہیں ، لہذا نا جائز ہیں ۔ بعض حضرات اپنے بھولے پن کے سبب ہر ڈاڑھی ٹوپے اور ہر جبے قبے والے کو عالمِ دین سمجھ لیتے ہیں بلکہ انھیں ’’ عالم یا مفتی صاحب‘‘ کہہ کر پکارتے بھی ہیں ۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کی جاے اور بتایا جاے کہ اسلامی وضع رکھنے والا ہر شخص مفتی نہیں ہوتا ۔ بلکہ جس غیرِ عالم کو عالم کہہ کر پکارا جاے ،اُس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ فوراًپکارنے والی کی اصلاح کرے اور آئندہ اِس قسم کے القاب کے ساتھ پکارنے سے گریز کرنے کی تلقین کرے ۔اگر ایسا ہو گیا تو ان شاء اللہ تعالی بہت جلد اِس قسم کی برائیاں دم توڑ دیں گی ۔

عیب دار کو بے عیب اور نقلی کو اصلی بتانا کیسا ؟:

بازار و مارکیٹ میں ہر قسم کی چیزیں بیچی جاتی ہیں ،بعض چیزیں عیب دار اور بعض بے عیب ہوتی ہیں ، اِسی طرح بعض چیزیں اصلی جب کہ بعض چیزیں نقلی ہوا کرتی ہیں ، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہر تاجر اپنے مال کو اچھا اور ہر دکان دار اپنے سامان کو بے عیب بتاتا ہے ۔ یہ بھی دھوکہ ، فریب اور کذب بیانی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے حرام و ناجائز ہے ، بلکہ اِس کا غلط اور فراڈ ہونا ایسا واضح ہے کہ خود بیچنے والوں کو بھی اس کا اعتراف ہوتا ہے ۔لہذا دکان دار پر واجب و ضروری ہے کہ گاہک سے جھوٹ نہ بولے ،بلکہ اُسے حقیقتِ حال سے آگاہ کرے ۔ ہاں اگر کسی مال کا نقلی ہونا یا کسی سامان کا عیب دار ہونا گاہک کو معلوم ہے تو اب اسے بتانے کی حاجت نہیں ۔ یہ ایسا ابتلاے عام ہے کہ شاید ہی کوئی تاجر یا دکان دار اِس سے محفوظ و مامون ہو ۔

دیکھیے ! یہ ہمارے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے امام، حضرت سیدنا امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، جوکہ بہت بڑے فقیہ و محدث اور جلیل القدر تابعی ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑے تاجر بھی تھے ۔آپ کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے ۔ مگر آپ کی دین داری ملاحظہ فرمائیں ! کہ : ایک مرتبہ آپ کے پاس کپڑے کا ایسا تھان آیا جس میں کوئی عیب تھا ۔آپ نے دکان پر کام کرنے والے ملازموں کو حکم دیا کہ گاہک کو بتا دیا جاے کہ اِس کپڑے میں فلاں عیب ہے ۔ چند دنوں کے بعد اُس ملازم نے بغیر عیب بتاے اُس کپڑے کو بیچ دیا ۔ جب منافع کی رقم سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ کو دی تو

آپ نے پوچھا کہ تم نے اُس گاہک کو عیب بتا دیا تھا ؟ ملازم نے کہا : حضور ! میں بھول گیا تھا ۔ یہ سن کر آپ کو بڑا رنج لاحق ہوا ، فوراًا ُس گاہک کی تلاش و جستجو شروع کی اور پورے شہر میں اُسے ڈھنڈھوایا ، جب وہ گاہک مل گیا تو آپ نے اُس سے کہا : آپ نے جو مال میری دکان سے خریدا ہے ، وہ عیب دار ہے ، آپ چاہیں تو اُسے واپس کر دیں اور قیمت لے لیں اور چاہیں تو اُسی عیب کے ساتھ اُسے رکھ لیں ۔

بعض روایتوں میں آیا کہ تلاشِ بسیار کے باوجود جب آپ اُسے نہ پا سکے تو اُس تھان کی پوری رقم آپ نے راہِ خدا میں صدقہ کر دی ۔ سبحان اللہ ! یہ تھا ہمارے امام کا زہد و تقویٰ ۔آج ہم میں سے کوئی ہوتا تو شاید اُس ملازم کو شاباشی دیتا کہ تو نے عیب دار سامان بیچ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، مگر ہمارے امام نے نقصان برداشت کر لینا تو گوارا کر لیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ کسی گاہک کو دھوکہ دیا جاے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سب کچھ اِس لیے کیا کہ ہمارے نبی حضور سیدنا محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

مَنْ بَاعَ عَیْبًا لَمْ یُبَیِّنْہُ لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللہِ وَ لَمْ تَزَلِ الْمَلٰئِکَۃُ تَلْعَنُہُ ۔[السنن للامام ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب من باع عیبا و لم یبینہ ، رقم الحدیث : ۲۳۳۲]

ترجمہ: جو شخص عید دار چیز بیچے اور اس عیب کے بارے میں وہ خریدار کو نہ بتاے [کہ اِس کے اندر یہ خرابی ہے ]تو ایسا شخص مسلسل اللہ رب العزت کے غضب میں رہتا ہے اور اللہ کے فرشتے ایسے آدمی پر لگاتار لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔

ہمارے امام کو اِسی امانت وصداقت کا صلہ ملا کہ آج دنیا کے اکثر مسلمان آپ ہی کے مقلد ہیں ، بلکہ آپ کی تقلید کو باعث فخر یقین کرتے ہیں ۔جب کہ آج کل کے تاجروں کا حال یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ، عیب دار کو عمدہ بتاتے ہیں ، نقلی سامان کو اصلی بتاتے ہیں ، بلکہ قسمیں کھا کھاکر معیوب سامانوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ مصائب و آلام کی شکل میں جو ہم پر عذابِ خدا نازل ہو چکا ہے ،وہ اِسی کذب بیان اور اِسی دھوکہ دھڑی کی دین ہے ۔

اِس قسم کے اور بھی بہت سے جھوٹ ہمارے معاشرے میں بولے جاتے ہیں جن کی نشان دہی ان شاء اللہ تعالیٰ کسی اور موقع پر کی جاے گی ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہمارے معاشرے کو پر قسم کی کذب بیان سے محفوظ و مامون فرماے ۔ آمین !

نماز میں دل لگانے کی تدبیر

نماز میں دل لگانے کی تدبیر:

نمازمیں غفلت دو وجہ سے ہوتی ہے،ایک سبب ظاہری جبکہ دوسرا باطنی ہے ۔

ظاہری سبب ایسی جگہ نمازپڑھنا ہے ،جہاں توجہ ادھر اُدھر متوجہ ہوجاتی ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ایسی جگہ نماز پڑھی جائے ،جہاں کوئی چیز سنائی اور دکھا ئی نہ دے ،بہتر ہے ،انسان دوران نماز اپنی آنکھیں بھی بند کر لے ،کیونکہ دل، آنکھ اور کان کے تابع ہے۔

باطنی سبب خیالات اور وساوس کا آنا ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے ،پہلے ضروری کام کاج کرلے ،پھر نماز پڑھے،دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے ،اس کے معانی میں غور و فکر کرے ،تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جس چیزکے باکثرت خیال آتے ہیں ،اس سے جان چھڑانے کی صورت نکالے ،جیسے ایک مرتبہ دوران نماز حضور کا دہیان کپڑے کی کڑھائی کی طرف گیا ،تو آپ نے وہ قمیص دوبارہ نہیں پہنی، اسی وجہ سے حضرت طلحہ نے اپنا پوراباغ صدقہ کر دیا تھا۔

(ملخص ازکیمیائے سعادت ،امام غزالی )

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو (جنتی) حوریں جو کہ جنت میں اس (شوہر) کی زوجہ ہوں گی، کہتی ہیں:

اے عورت! اسے تنگ نہ کر، تیرا ستیاناس یہ شوہر تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا-

(انظر: ابن ماجہ، باب فی المراۃ توذی زوجھا، ج1، ص560، ملخصاً)

اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ عورتوں کو اپنے شوہر کو تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ اس روایت سے دو اہم مسئلے بھی معلوم ہوئے:

(1) اگر کسی بندے کو دور سے پکارنا شرک ہوتا تو جنتی حوریں دنیا کی عورتوں کو نہ پکارتیں اور جو کہتا ہے کہ نبی کو پکارنے سے مسجد گندی ہو جاتی ہے تو بہ قول اس کے غیر نبی کو پکارنے کی وجہ سے جنت بھی گندی ہو جانی چاہیے!

(2) جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو جنت کی حور سن لیتی ہے؛ جب جنت کی ایک مخلوق کی سماعت کا یہ عالم ہے تو مالک جنت، صاحب شریعت ﷺ کی سماعت کا کیا عالم ہوگا-

ممکن ہے کہ کسی کے پیٹ میں اس حدیث کی سند کو لے کر درد اٹھے لہذا دوا کے طور پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے-

(صحیح سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ نمبر341)

عبد مصطفی

زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب

*زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب*

*حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔ چمشید پور*

اللہ تعالیٰ نے جو زبان ہمیں عطا فرمائی ہے، اس پر ذرا غور کریں کہ یہ اتنی عظیم نعمت ہے کہ بندہ اس کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔ یہ زبان پیدائش سے لے کر مرتے دم تک انسان کا ساتھ دیتی ہے۔نہ اس کی سروس(Service) کی ضرورت نہ ایندھن یا ریچارج کی ،نہ اوورہالنگ کی اور مفت میں انسان کا ساتھ دیتے چلی جارہی ہے۔یہ زبان ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے پاس اللہ کی اَمانت ہے۔ جب یہ امانت ہے تو پھر اس کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو دل میں آیا بک دیا بلکہ جو بات اللہ کے احکام کے مطابق ہو، وہ بات بولی جائے اور وہی بات سنی جائے ۔ زبان ہی سے آدمی جنت کا مستحق بنتاہے اور زبان ہی سے وہ اللہ نہ کرے دوزخ کا بھی مستحق بن جاتاہے۔ اس لئے زبان کی بہت اہمیت ہے ،ویسے بھی مومن کو ہر اہم اور قیمتی چیز کی حفاظت کرنا پڑتی ہے ورنہ وہ چیز ناقدری کی صورت میں اپنی اہمیت وافادیت کھو دیتی ہے۔ زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال انتہائی ضروری ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ میں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کی بڑی تاکیدیں آئی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا ایک بائیں۔کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس سے پہلے وہ لکھ لی جاتی ہے۔ ایک تیار بیٹھا ہوا محافظ لکھ لیتاہے۔(سورہ ق18، آیت50) اللہ تبارک و تعالیٰ سب جانتاہے صرف زبان سے بات کرنا ہی نہیں بلکہ سوچ اور نیت کو بھی جانتاہے۔ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے( کرام الکاتبین ) ہمیشہ ہمیشہ رہتے ہیں جو ہر بات اور ہر عمل لکھ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مریضوں کا کراہنا بھی لکھا جاتاہے ۔ اچھی بات دائیں طرف والا اور بری بات بائیں والا فرشتہ لکھتا رہتاہے۔(سوائے پیشاب پاخانہ کی حالت میں یا بیوی کے ساتھ مقاربت کے وقت خاص میں) ۔یہ معزز فرشتے الگ ہو جاتے ہیں (اسی لئے اس وقت بات کرنا ممنوع ہے)۔نیکی والا فرشتہ ایک نیکی کا دس لکھتاہے، بدی والا ایک بدی کی جگہ ایک ہی لکھتاہے۔ بندہ توبہ کر لے تو گناہ مٹ جاتا ہے ،بندہ مومن کے مرنے کے بعد وہ دونوں فرشتے قیامت تک اس کی قبر پر تسبیح تہلیل کرتے رہتے ہیں جس کا ثواب اس بندے کو ملتاہے۔

*زبان کو گناہ کی باتوں سے بچاؤ:*

زبان کو بات چیت، بیان و احکام میں ہمیشہ گناہوں کی باتوں سے بچانا ضروری ہے۔ مثلاً حرام کو حلال اور حلال کو حرام قراردے دینا، کسی کو تکلیف پہنچانا، بات چیت سے دل آزاری کرنا، بُرے ا لقاب سے یا دکرنا، گالیاں بکنا، جھوٹ بولنا ، جھوٹی گواہی دینا۔قرآن پاک کا ارشاد ہے ۔ترجمہ: اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، یہ حلال ہے یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں۔(سورہ نحل، آیت 114) آج جو لوگ حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن پاک اور حدیث پاک میں جن چیزوں کو حرام وحلال قرار دیا گیا ہے، صرف وہ حرام وحلال ہیں۔ تو اب لوگوں کو یہ حق کہاں سے مل گیا کہ اللہ پر افتراء کرکے حلال چیزوں کو زبانی کلامی حرام قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح آج بہت سے لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دے کر بھی بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔ مثلاً سود، رشوت، جوا، ناجائز کھیل تماشے ، شرعی ضرورت کے بغیر فوٹو کھنچوانا وغیرہ۔ آج کل ان سب چیزوںکا بازارخوب گرم ہے اور اس پر نرم لفظوں میں باز آنے کی نصیحت پر لوگ طرح طرح کے حیلے بہانے نکالتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی اس آیت مبارکہ میں داخل ہیں۔ آج کل لوگوں کی عادت یہ بھی بنی ہے کہ کسی سے ناراض ہوئے ،غصہ آیا اور لعنت ملامت شروع کردی۔ فلاں پر اللہ کی لعنت ، فلاں پر لعنت۔ یہ بیماری بلکہ وبا عام ہو چکی ہے۔ حالانکہ ہم کو نہیں معلوم کہ کسی پر یہ ہماری بھیجی ہوئی لعنت کا کیا حشر ہوتاہے۔حضور ﷺ نے فرمایا: مومن نہ لعن وطعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا ، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتاہے۔(ترمذی) رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو لعنت ملامت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ کسی کے سفارشی۔(صحیح مسلم) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مومن کو یہ نہ چاہئے کہ لعنت کرنے والا ہو۔(ترمذی) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتاہے تو وہ لعنت آسمان کو جاتی ہے ۔آسمان کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔ پھر دائیں بائیں جاتی ہیں ، جب کہیں راستہ نہیںپاتی تو اس کی طرف آتی ہے جس پر لعنت بھیجی گئی۔ اگراُسے اس کا اہل پاتی ہے تو اس پر پڑتی ہے ورنہ بھیجنے والے پر آجاتی ہے۔ (ابو داؤد شریف) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کی چادر کو ہوا کے تیز جھونکے لگے۔ اس نے ہواپر لعنت کی ۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ کرو،وہ خدا کی طرف سے مامور ہے ۔ اور جو شخص ایسی چیز پر لعنت کرتاہے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔ (بحوالہ کشف القلوب جلد3صفحہ280،ترمذی شریف)

زبان اللہ کی امانت ہے:

حضرت ابو ہریرہ ص روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ،اس کو چاہئے کہ یا تو وہ اچھی اور نیک بات کہے یا خاموش رہے۔ دوسری روایت بھی ابو ہریرہ صسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے سنا ،آپؐ نے فرمایا کہ ایک انسان سوچے سمجھے بغیر جب کوئی کلمہ زبان سے کہہ دیتاہے تو وہ کلمہ اس شخص کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتاہے جتنا مشر ق اور مغرب کے درمیان فاصلہ اور بُعد(دوری) ہے۔(صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان)

*زبان جہنم میں لے جانے والی ہے:*

ایک حدیث پاک میں سرکار دوجہاں ﷺ نے فرمایا کہ جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے ان میں اکثریت ان لوگوںکی ہوگی جو اپنی زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ مثلاً جھوٹ بول دیا، غیبت کردی ، کسی کا دل دُکھا یا، کسی کی دل آزاری کی، دوسروں کے ساتھ غیبت میں حصہ لیا، کسی کی تکلیف پر خوشی منائی ، زیادہ باتیں کیں۔ جب یہ گناہ کے کام کئے تو اس کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلا گیا۔(ترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ، حدیث نمبر2414) یعنی بہت سے لوگ زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ ایک بڑی پیاری حدیث پاک ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک تین لوگوں کو سخت ناپسند فرماتاہے۔(1)زیادہ باتیں کرنے والے کو(2)فضول خرچی کرنے والے کو (3)زیادہ سوال کرنے والے کو۔بیہقی نے حضرت عمر بن حصینص سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ سکوت پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ ترمذی شریف میں ابو سعید خدری صسے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم جب صبح کرتا تو تمام اعضاء زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں کہ تو خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں ،اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے۔(ترمذی، حدیث نمبر2408) ۔یہ زبان جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے اگر اس کو صحیح استعمال کریں اس کو قابو میں رکھیں،بے قابو نہ چھوڑیں تو ہمارے دنیا وآخرت کے لئے بڑی نعمت ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ زبان سے یا تو صحیح بات بولو ورنہ خاموش رہو۔ اس لئے کہ خاموشی اس سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ آدمی غلط بات زبان سے نکالے اور اسی سبب سے زیادہ باتیںکرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نہ صرف منع کیا گیا ہے بلکہ اللہ پاک ایسے شخص کو ناپسند فرماتاہے جیساکہ اوپر حدیث پاک آپ پڑھ چکے ہیں۔

اگر انسان زیادہ بولے گا تو زبان قابو میں نہیں رہے گی،کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوگی اور اس کے نتیجے میں انسان گناہ اور بغض وعداوت کے شیطانی جال میںمبتلا ہوجائے گا۔ اس لئے ضرورت کے مطابق بولئے، زیادہ نہ بولئے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ پہلے بات کو تولو پھر بولو۔ جب تول تول کربولو گے تو یہ زبان قابو میں آجائے گی۔ صحابہ کرامؓ اور صوفیائے کرامؒ نے بھی زبان کی حفاظت کو خوب اہمیت دی ہے اور خوب جچی تلی زبان میں بات کر نے کو فوقیت کودی ہے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جو انبیاء کرام کے بعد سب سے افضل انسان ہیں ،وہ ایک مرتبہ اپنی زبان کو پکڑ ے بیٹھے تھے اور اس کو مروڑ رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ ؓ ایساکیوں کر رہے ہیں؟انہوں نے جواب دیا،ترجمہ: اس زبان نے مجھے ہلاکتوں میں ڈال دیا ہے، اس لئے اس کو قابومیں کرنا چاہتا ہوں۔(موطا امام مالک،کتاب الکلام باب ماجاء فی مایخاذ من اللسان) بعض روایات مروی ہیں کہ آپ منہ میں کنکریاں ڈال کر بیٹھ گئے تاکہ بلا ضرورت زبان سے بات نہ نکلے۔ زبان ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان جنت بھی کماسکتاہے اور دوزخ بھی کما سکتا ہے۔ زبان کو بہرحال قابو میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ے جا استعمال نہ ہو۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ انسان زیادہ باتیں کرنے سے پرہیز کرے ۔ اس لئے انسان جتنا زیادہ غلط کلام کرے گا اتنا ہی وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں زبان کے غلط استعمال کی جو وبا چل پڑی ہے، یہ بہت خراب اور خطرناک بات ہے۔ دوستوں کو بلالیا کہ آنا ذرا بیٹھ کر گپ شپ کریں گے۔ اب اس گپ شپ کے اندر جھوٹ بولا جارہاہے ، غیبت ہورہی ہے،دوسروں کی برائی ہورہی ہے، دوسروں کی نقلیں اُتاری جارہی ہیں۔ اس طرح کی اڈہ بازی میں نہ جانے کتنے گناہ ہورہے ہیں۔ یاد رکھیں زبان کی آفات، خرابی، فحش گوئی، دشنام طرازی، زبان درازی کی لعنت ، مسخرہ پن، فضول گوئی ، چغلی ، حسد وغیرہ وغیرہ جتنی آفتیں ہیں زبان کی ہی وجہ سے ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ یہی زبان شکر بھی کھلائے اور یہ زبان جوتے بھی کھلائے۔ حضرت ہشام بن عمرص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غلام کو طمانچہ مارے ، اس کا کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے گا ،اس کو عذاب سے نجات دی جائے گی۔ جو اللہ سے معذرت کرے گا ،معذرت قبول کی جائے گی۔ مومن کو چاہئے کہ پڑوسی اور مہمان کا اکرام کرے ،زبان کی ترشی سے بچائے اور پڑوسی سے بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے۔

*زبان کی گھٹتی قیمت:*

نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے دور میں زبان کی قدر وقیمت گھٹتی جارہی ہے اور اس کے صحیح استعمال سے ہم سب بہت غفلت اور بے احتیاطیاں برت ر ہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب اہل ِعلم ، دین کے ذمہ داران اور میڈیا سے وابستہ سنجیدہ لوگ بھی اس سلسلے میں بے توجہی کے شکار نظر آرہے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلا کام یہ ہو نا چاہیے کہ اس زبان کو قابو میں کرنے کی اہمیت دل میں پیدا کریں، خوفِ خدا پیدا کریں اور صرف وہی بات کریں جس سے صلاح وفلاح کی ہوائیں چلیں۔

*ہم اپنا احتساب کریں:*

کیا ہمارے نزدیک ہماری زبان ہر قسم کی ذمہ داری اور لگام سے آزاد اور مستثنیٰ ہے؟ کیا ہم اس بات کے قولاًنہ سہی عملاً منکرہیں جو قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انسان کوئی بات بولتا ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک فرشتہ تیار رہتا ہے لکھنے کے لئے۔(القرآن سورہ ق، آیت 81)کیا ہم سب کو اطمینان ہے کہ ہماری زبان سے جو کچھ نکل رہا ہے اس پر کسی کی گرفت نہیں ہوگی؟ اگر آج ہم میں سے ہر شخص اتنا عزم وارداہ کرلے کہ اسی لمحے سے اپنی زبان اپنے قابو میں رکھیں گے تو ذاتی ، گھریلو، رشتے ہمسائیگی اوردوستی کے دائر ے میں پڑیں بڑی خرابیوں ، رنجشوں اور فتنوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔بات کہو تو پکی اور مضبوط اور قرآن کی زبان میں *قولوللناس حسنا* یعنی لوگوں سے بات کرو تو خوبی کی بات کرو ۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کثیر سے حفاطت زبان کی اہمیت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے اور اس بارے میں ہمیں قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مخلصانہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں قرآنی نسخۂ کیمیا پر عمل کی توفیق ہوجائے۔ آمین,رابطہ: hhmhashim786@gmail.com, حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب وامام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشیدپور پن کوڈ 831020, جھارکھنڈ،

بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

حضرت سیدنا عبدالله بن مسعود رضي الله عنه کا قول ہے :

رسول الله صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا

*🌷أَلَا أُخْبِرُكم بمَن يَحْرُمُ على النَّارِ، وبمَن تَحْرُمُ عليه النَّارُ؟ على كلِّ قريبٍ هيِّنٍ سهْلٍ🌷*

📗 ترمذی اورأحمد

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ حدیث پاک کے ابتدائیہ پر قربان ۔

اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت و شفقت کا انتہائی انداز اختیار فرمایا ۔

کیا میں تمہیں بتاءوں نہیں

اس قدر نرم ، دھیما ، پیار بھرا لہجہ اختیار فرما کر بات کرے محبوب رب العالمین تو پھر صد ہزار حیف ہے اس پر جو ان پر عمل نہ کرے ، ان کو اپنے کردار کا حصہ نہ بنائے ۔ پھر خصوصا جب کہ نہ زیادہ مشکل ہوں اور نہ ان پر خرچ آئے ۔

ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا۔

اس قدر اظہار شفقت سے متوجہ کر کے فرمایا

جو جہنم کی آگ پر حرام کر دیا گیا ہے اور جس پر جہنم کی آگ حرام کر دی گئی ۔

فقیر خالد محمود آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ فرمایا

حرام کر دیا گیا ہے، حرام کر دی گئی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ہو جائے گی بلکہ پختہ اور ٹھوس انداز میں فرمایا کہ حرام ہو چکا ہے ۔ پھر اس بات کو صرف ایک ہی بار نہیں فرمایا بلکہ جملہ بدل کر دو بار فرمایا ۔ ان کو جہنم پر اور جہنم کو ان پر قطعا حرام ہو جانا بتایا

تو بات یہ بنی کہ جہنم میں جانا تو دور کی بات ہے ، جہنم کے قریب تک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔

*کن پر :

*على كُلِّ قَريبٍ*،

دوستو !

اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بشارت کو کتنا عام فرما دیا ۔

كُلِّ _ یعنی ہر کوئی ، امیر غریب چھوٹا بڑا شاہ گدا کالا گورا کوئی بھی ہو

ہو بس !

(1) *قَريبٍ* : لوگوں کے قریب، ان سے دور نہ بھاگنے والا ۔ لوگ اس کے ساتھ آسانی سے مل سکیں ۔

یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اعزہ و احباب و اقارب اس سے بے شک دور ہوتے رہیں ۔ یہ قریب رہتا ہے ۔

(2) *هَيِّنٍ*، سكون و وَقار اور نرمی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ برتاؤ رکھنے والا ۔

(3) *سَهْلٍ*: معاملات اور اخلاق میں سہولت والا ، لوگوں میں آسانیاں بانٹنے والا ۔

🌻 فقیر خالد محمود اس معاشرے کا کمزور ترین فرد ہے اور بخوبی آگاہ کہ یہ تینوں عادات اپنانا اتنا آسان نہیں خصوصا اس عہد عجیب و پرآشوب میں

لیکن آپ کو یقین دلاتا ہے کہ ناممکن بھی نہیں ۔ مرد تو ہوتا ہی وہی ہے جو مشکلات سے کھیلے ۔

بدی را بدی سھل باشد جزا

اگر مردی احسن إلى من أساء.

حضرت شیخ سعدی عليه الرحمة کا شعر جو اپنے والد مرحوم و مغفور سے بچپنے میں بھی اکثر سنا ۔

مفتی خالد محمود