قرآنی تعارض پر ایک سؤال اور مسئلہ حساب و کتاب اور قضاء قدر

قرآنی تعارض پر ایک سوال اور مسئلہ حساب و کتاب اور قضاء قدر:

اعتراض:

قرآن میں ہے:

"وما تشاؤون إلا أن يشاء الله..” (سورۃ انسان ، 30 )

یہ آیت بتارہی ہے کہ ہوتا وہی جسکو اللہ چاہتا ہے تو جب جو وہ چاہتا ہے وہی ہونا ہے تو ہمارا حساب کیوں ؟

پھر دوسری آیت میں ہے :

"وقل الحق من ربكم فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر..” ( سورۃ کھف ، 29 )

اس آیت میں اللہ مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف کررہا ہے اور پہلی آیت میں أپنی ذات کی طرف تو اس طرح قرآن کی دونوں آیات میں تعارض ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب أز ابن طفیل الازہری ( محمد علی):

محترم دوست!

مختصراً یہ بتاتا چلوں کہ انسان کے مختلف مجالات ہیں ایک من مجال خلقت ، ایک مجال تکلیف ( شریعت کا پابند ہونا) ، ایک مجال عدم ( موت)

أب قضاء و قدر کو ان تین مجالات کی روشنی میں سمجھیں:

پہلا مجال خلقت:

انسان مجال خلقت میں آزاد نہیں ، یعنی اپنی ولادت ، أپنی جنڈر اپنی لمبائی و ہائٹ وغیرہ لہذا اس میں انسان مجبور ہے وہ چاہے جتنے بھی آزادی کے نعرے لگا لے وہ اس میں بے بس ہے اور مجبور ہے اسکو کوئی اختیار حاصل نہیں ، لہذا حریت مطلقہ کا خیال طبعی طور پہ باطل ہے۔

دلیل:

” لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ "

( سورۃ شوری ، 49 )

ترجمہ: زمین و آسمان اللہ کی ملکیت ہیں ، جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جسے چاہے بیٹی عطاء کردے جیسے چاہے بیٹا دے دے۔ ( اور یہی آیت دیگر مخلوق کے لیے بھی ہے )

دوسرا مجال عدم:

اسی طرح انسان مجال عدم یعنی موت میں بھی مجبور ہے اور اسے کوئی آزادی حاصل نہیں وہ اپنے اختیار سے اپنی موت اور اسکے مکان و وقت کا تعین نہیں کرسکتا لہذا وہ تقدیر الہٰی میں مجبور ہے وہ اسی کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔

دلیل:

” أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ۔۔”

( سورۃ نساء ، 78 )

ترجمہ:

تم جہاں بھی ہو موت تمہیں پالے گی اگر چہ تم كتنے ہی مضبوط قلعے ( محلات) میں ہوں۔

مجال خلقت و عدم پر خود بداہت دلیل جلی ہے۔

تیسرا مجال تکلیف:

مجال تکلیف یعنی مکلف ہونا مطلب یہ کہ اللہ کے أحکام کی اتباع کرنا ، اس مجال میں انسان آزاد ہے کیونکہ اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ ظلم کرے یا عدل، جھوٹ بولے یا سچ ، قتل کرے یا جان کی حفاظت اس میں اسے اختیار حاصل ہے

اس مجال میں وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہیں اور یہ منطقی طور پہ ثابت ہے کہ بعض اوقات انسان جھوٹ کو ترک کرکے سچ بولتا ہے ، قتل کو چھوڑ کر جان کی حفاظت کرتا ہے تو یہ دلیل ہے کہ وہ آزاد ہے مجبور نہیں ۔

اس پر کافی دلائل ذکر کیے ہیں قرآن نے کیوں محاسبہ کا مدار اسی پر ہے کچھ دلائل درج ذیل ہیں :

” وهديناه النجدين "

(بلد ،10 )

ترجمہ:

ہم نے اس ( انسان) کو واضح دو ( خیر وبد) رستوں ( میں فرق کرنے کی) ہدایت دی.

"فألھمھا فجورھا وتقواھا”

(شمس ، 8 )

ترجمہ:

أس ( اللہ رب العزت) نے أس ( نفس انسانی) کو بدی وہ نیکی کا إلہام کردیا.

"وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن۔۔۔۔۔”

( اس آیت کا نمبر سؤال میں درج ہے)

ترجمہ:

آپ فرمادیں! حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔

” لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغي …..”

( بقرۃ ، 256 )

ترجمہ:

دین میں ( داخل ہونے کے لیے )کوئی جبر نہیں ، تحقیق ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے۔

اب آپ کے سؤال کی طرف آتے ہیں کہ محاسبہ کیوں؟

آپ نے دیکھا کہ انسان مجال خلقت اور مجال عدم میں مجبور ہے

تو لہذا ان دونوں مجالات میں کوئی محاسبہ نہیں ،

اللہ آپ سے آپکے رنگ مکان ولادت قد و قامت کے متعلق سوال نہیں کرے گا اور نہ محاسبہ اور اسی طرح نہ ہی آپکی موت کے متعلق کہ اس وقت کیوں فوت ہوئے؟ اس جگہ کیوں فوت ہوئے؟

اس کا بھی سؤال نہیں ہوگا کیونکہ انسان مجبور ہے تو لہذا اس میں محاسبہ نہیں ہے ، اگر اس میں محاسبہ ہوتا تو پھر آپکا اعتراض بنتا تھا ،کیونکہ ان دو مجالات میں محاسبہ کرنا گویا کہ ظلم ہے ، اس لیے کوئی حساب کتاب نہیں۔

اب بچا تیسرا مجال وہ مجال تکلیف یعنی احکام شریعت کی پابندی تو اس میں انسان آزاد ہے جیسے ہم نے وضاحت کی تو جب وہ آزاد ہے تو شر و خیر کے متعلق بھی اسے بتادیا گیا تو اب اسکے خیر و شر کا حساب ہوگا ، اور یہ حساب اسکی آزادی کی وجہ سے ہے۔

اب اعتراض ہوگا کہ شر کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر حساب کیسا؟

جواب:

پہلی بات تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ شر ایک اضافی نسبت کا نام ہے،

اور اگر مان بھی لیں تو اس نے شر کو مستقل پیدا کیا ہے لیکن ہمیں اسی شرکو کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ بتایا ہے کہ یہ شر ہے اور یہ خیر اور ہمیں آزادی دے دی کہ جو چاہو کرو کیونکہ شر و خیر مجال تکلیف میں آتے ہیں،

اور اس میں ہمیں آزادی ہے لیکن شر پر سزا ہے اور خیر پر جزاء تو لہذا جب ہم آزاد ہیں تو پھر حساب کرنا عدل کا تقاضا ہے ،

اور یہ حساب صرف مجال تکلیف میں ہے مجال خلقت و مجال عدم میں نہیں کیونکہ ان دونوں میں ہم مجبور ہیں لہذا محاسبہ سے آزاد ہیں۔

دوسرا:

آپ نے دو آیات کے تعارض کی بات کی۔

تو اگر اب آپ پہلے سؤال کے جواب میں غور فرمائیں تو آپکو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں مجال خلقت و مجال عدم اور مجال تکلیف کو دیکھتے ہوئے۔

دوسرا اس کا جواب یہ ہے کہ :

مجال تکلیف میں جو ہمیں مشیئت کی آزادی ہے یہ بھی اللہ کی مشیئت کی وجہ سے عطاء ہوئی تو جس میں مشیئت کی نسبت اللہ کی طرف ہے وہ مجال خلقت و عدم و مجال تکلیف میں ذاتی اعتبار سے ہے ،

اور جس آیت میں مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف ہے تو وہ مجال تکلیف میں عطائی ہے

تو جب اس نے ہمیں مجال تکلیف میں آزادی دی ہے تو ضروری ہے کہ اسکا محاسبہ بھی وہ کرے اور یہی عدل کا تقاضا ہے

لہذا دونوں آیات تعارض سے پاک ہیں اور حکمت بلیغ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔

واللہ أعلم.

بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟

سؤال:

محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟ اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے.

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

منکرین أحادیث کے إس اعتراض کے کچھ أسباب ہیں پہلے یہ بیان کرتے ہیں پھر محدثین کے نقل کرنے کے أسباب بیان کریں گے ،

منکرین أحادیث کے اعتراض کے أسباب درج ذیل ہیں:

پہلا سبب :

عام فہم لوگوں کو سنت سے دور کرنا ، أور إس کے لیے وہ عام عوام کو کہتے ہیں کہ یہ دیکھیں یہ کتب أحادیث ضعیف أور موضوعات أحادیث سے بھری پڑی ہیں تو آپ إن پہ عمل کیسے کرسکتے ہیں.

دوسرا :

أئمۂ کرام جنہوں نے یہ دین ہم تک قرآن و أحادیث کی شکل میں بحفاظت منتقل کیا أنکی تنقیص کرنا مراد ہوتی ہے کہ انہوں نے جھوٹے لوگوں سے روایات لے کر دین کا مذاق بنایا .

تیسرا سبب :

منکرین أحادیث کو سب سے زیادہ فائدہ دینے والے خطباء و واعظین ، نقیبان محافل ، قوال ، أور حتی کہ حال و ماضی کے بعض بڑے بڑے علماء أور حتی کہ جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے وہ بھی ،کیونکہ أنہوں نے سیرت و تفاسیر ، تاریخ أور أحادیث کی کتب جیسے معاجم طبرانی و حلیلۃ الأولیاء إصفہانی وغیرہ میں جو أحادیث آئیں یہ بیان کرتے چلے گئے ،

أور أپنی کتب میں لکھتے گے کبھی ان لوگوں نے مناقب یا أپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے خطابات کے دوران کبھی نہیں کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے یہ ضعیف جدا ہے یا موضوع ہے تو جب ان جید علماء أور حال و ماضی کے مجددین کرام نے بغیر ضعف و موضوع کی طرف إشارہ کیے بیان کرتے گے تو لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کردیا کہ کتب میں جو أحادیث آگی ہیں وہ صحیح ہیں،

إسکا فائدہ منکرین أحادیث کو ہوا أور نقصان مسلمانوں کو ہوا کہ أن میں سے ہر شخص أپنے عالم سے سنی ہوئی أحادیث کو اپنا عقیدہ سمجھنے لگا جس سے أمت میں انتشار بڑا۔

أور ضعیف و ضعیف جدا أور موضوع أحادیث سے ثابت ہونے والی چیزوں کو سنیت و غیر سنیت میں فرق کرنے کے لیے بنیاد بنا لیا گیا جس میں بلا شبہہ أمت کی ہلاکت ہے،

أگر آج بھی آپ أردو یا سیرت یا تفاسیر کی کتب أٹھا کر دیکھیں تو آپکو أن میں حدیث کا درجہ نہیں ملے گا کہ وہ کس درجے کی ہے إلا ماشاء الله یہی وجہ ہوئی کہ یہ علماء کسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے پھر انہیں احادیث کو بیان کرتے ہیں جو کتب تفسیر میں آئی ہوتی ہیں.

دوسری طرف محدثین کرام و جید علماء و مجددین نے درجہ احادیث کے بیان کے لیے مستقل کتب لکھیں جیسے کتب تخریجات ، کتب علل ، کتب تراجم ، کتب جرح و تعدیل ، کتب شروحات حدیث ، أور بعض متون میں بھی صحت کی شروط ہیں ، کتب فقہ، أور محقیقین نے تحقیق کے دوران حکم لگائے لہذا ہمیں أنکی کاوش سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

چوتھا سبب:

ہمارے ہاں جہالت کی انتہاء ہے کہ کسی بھی حدیث کی صحت کا معیار یہ ہے کہ بس بیان کرنے والا کسی کتاب کا حوالہ دے دے چاہے وہ کتاب حدیث کی بھی نہ ہو یا حدیث کی ہو لیکن حدیث کا درجہ بیان نہ کیا گیا ہو حتی کہ أردو کی کتابوں کا حوالہ چلتا ہے ،

تو یہ بھی سبب بنا کہ لوگوں کا ذہن بن گیا کہ جو حدیث بھی کتابوں میں آجائے وہ صحیح ہوتی ہے تو جب أنکو منع کیا جاتا ہے تو پھر یہ سؤال أٹھایا جاتا ہے کہ کتب میں کیا ضعیف و شدید الضعف أور موضوع أحادیثیں ہیں کیوں ؟

یہ مرض عام لوگوں سے نہیں أور نہ ہی خطباء سے بلکہ چند إیک جید علمائے کرام أور جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے أنکی وجہ سے عوام میں یہ کینسر پھیلا یہی وجہ ہے جب أن لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے یا موضوع تو کہتے ہیں وہ اتنے بڑے عالم تھے أنکو نہیں پتا تھا؟

یہ جہالت ہے جسکی لپیٹ میں ہمارا معاشرہ ہے سوائے چند إیک لوگوں کے مثال کے طور پہ واقعہ کربلا کو ہی لے لیں.

پانچواں سبب:

محدثین کرام نے فرمایا کہ أحادیث ضعیفہ فضائل میں قبول ہیں جب تک وہ موضوع نہ ہوں تو إس قاعدے کے تحت پھر جو حدیث ملی بعد میں آنے والے لوگوں کو چاہے وہ قرآن یا صحیح أحادیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو بیان کی جانے لگیں تو جب أنکو سمجھایا جاتا ہے تو یہ قاعدے پیش کردیتے ہیں ،

حالانکہ یہ قاعدہ متفق علیہا نہیں ہے أگرچہ إمام نووی نے اتفاق ذکر کیا ہے ، أور سب کو معلوم ہے کہ وہ لفظ اتفاق بولنے میں کتنا تساہل کرتے ہیں.

اگر متفق مان بھی لیں تو کیا محدثین کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ سند صحیح ہے متن موضوع ہے یا منکر المتن ہے تو اس قاعده پہ عمل کیا جائے گا۔

اور اس میں سب زیادہ أحسن وہی ہے جو علامہ ابن حجر عسقلانی نے نزہۃ النظر میں شروط بیان کی ہیں حدیث ضعیف قبول کرنے کی کہ وہ شدید الضعف حدیث نہ ہو وغیرہ

محدثین کرام نے بولا تھا ( تساھلنا ) أور ہم نے معنی لے لیا ( قبلنا/ قبول ہے) إس پہ پھر کبھی بحث ہوگی – بإذن اللہ-

یہ وہ بعض أسباب تھے جو إس سؤال کا سبب بنے أور محدثین کرام کی جہود پر سؤالات اُٹھنے لگے،

تو میں إیک ہی شعر کہنا چاہونگا:

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر ، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا ؟

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

محدثین کرام کے قافلے کی أس جد و جہد کو مشکوک أپنے ہی علماء نے کیا جب وہ بغیر حدیث کا درجہ بیان کیے أپنے خطابات کو پرکشش کرتے رہے تو سؤال إن علماء کی رہبری پہ ہے أور سوشل میڈیا کے مفکرین کی رہبری پہ بھی؟؟؟

چھٹا سبب:

فیسبک کے بعض دانشور و مفکرین و عام عوام بھی إسکے کسی حدتک حصہ دار ہیں۔

أب درج ذیل میں وہ أسباب بیان کرتے ہیں جنکی وجہ سے محدثین کرام نے ضعیف و موضوعات روایات کو بیان کیا؟

محدثین کرام نے إسکے کئ أسباب بیان کیے ہیں جن میں سے چند إیک درج ذیل ہیں:

أحادیث ضعیفہ روایت کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

کسی عنوان میں یا مسئلہ میں جتنی أحادیث ملتی ہیں أنکو جمع کرلیں تاکہ وہ أنکے ضعیف کو جان سکیں أور پھر أس ضعف سے لوگوں کی أگاہی کے لیے کتب میں لکھ دی جائیں.

دوسرا سبب:

متابعات و شواہد کے لیے أنکی أحادیث لیں یعنی أس میں صحیح یا حسن حدیث وارد تھی تو ساتھ ضعیف سند والی حدیث بھی لکھ دی تاکہ بعد میں آنے والے لوگ جب ضعیف سند والی حدیث پڑھیں تو أنکو معلوم ہو کہ یہ دوسرے طریق سے صحیح یا حسن ہے ،

أگر وہ یہ بیان نہ کرتے تو ہو سکتا تھا کہ یہ حدیث کسی کو معلوم ہوتی تو وہ إسے ضعیف سمجھنے لگتا.

تیسرا سبب:

أگر ضعف خفیف ہے تو أسکو بھی لکھا جاتا تاکہ وہ بھی أپنے دیگر أپنے جیسے طریق سے یا کم ضعف والے سے ارتقاء پاکر حسن لغیرہ کے درجے کو پہنچ جائے بشرطیکہ کہ وہ شدید الضعف نہ ہو جیسے متہم بالکذب یا کثرت سے خطأ کرنے والا یا فاسق ہو وغیرہ کیونکہ وہ حدیث درجہ حسن کو نہیں پہنچتی لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی نے شدید الضعف کے ارتقاء کے متعلق بھی قاعدہ بیان کیا ہے جو إمام سیوطی نے تدریب الراوی میں ” حکم حدیث روی من وجوہ ضعیفہ” کی بحث کے آخر میں لکھا ہے .

چوتھا سبب:

کبھی راوی کا ضعف مقید ہوتا ہے یعنی وہ مطلقاً ضعیف نہیں ہوتا تو لہذا أسکی صحیح و ضعیف و باطل روایات کو واضح کرنے کے لیے لکھتے ہیں تاکہ لوگ أسکی تعدیل مقید سے واقف رہیں.

پانچواں سبب:

حدیث ضعیف فضائل کے باب میں قبول ہے تو لہذا إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے.

إمام نووی نے إن أسباب کو شرح صحیح مسلم کے مقدمے میں بیان کیا ہے.

( شرح صحیح مسلم ، فرع فی جملة المسائل والقواعد التي تتعلق بهذا الباب ، 1/125 )

چھٹا سبب:

بعض أحادیث کی أقسام صحت کے اعتبار سے متفق علیہ نہیں ہیں ہوسکتا ہے إیک حدیث محدثین کرام کے ہاں ضعیف ہو أور فقہاء کرام کے ہاں صحیح تو إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف کو روایت کیا جاتا ہے.

جیسے إمام حاکم نے فرمایا:

” والصحيح من الحديث منقسم على عشرة أقسام خمسة متفق عليها وخمسة مختلف فيها "

ترجمہ: صحیح حدیث کی دس أقسام ہیں جن میں پانچ متفق علیہ ( صحت کے اعتبار سے) ہیں أور پانچ مختلف فیہ.

( المدخل إلی کتاب الإكليل للحاكم ابن البيع ، ص : 33 )

مزید مطالعہ کے لیے کتاب اصلاح ابن الصلاح إمام مغلطائی الحنفی کا مطالعہ فرمائیں جس میں أنہوں نے منہج محدثین و فقہاء میں فروق کو بیان کیا ہے.

إسی طرح علامہ ابن حجر عسقلانی نے أپنی کتاب ( نکت) میں مسئلہ ( أول من صنف الصحیح ، ص : 277 ) کے تحت إمام عراقی و إمام مغلطائی کے درمیان جو محاکمہ کیا ہے أسکو بھی پڑھیں ب۔

یہ فرق بہت کم لوگوں کو معلوم ہے،

اس لیے بعض لوگ لا علمی میں فقہائے کرام پر أحادیث ضعیفہ سے احتجاج کرنے کی تہمت لگاتے ہیں مذکورہ بالا مواقع کو پڑھنے سے تشفی ہوجائے گی باذن اللہ۔

أحادیث موضوع روایات کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

لوگوں کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے بچانے کے لیے موضوع أحادیث کو روایت کیا.

دوسرا سبب:

راوی کے کذاب ہونے کو ثابت کرنے کے لیے موضوع روایات بیان کی گئیں.

أحادیث ضعیف و موضوع روایات لانے کے أسباب مشترکہ:

پہلا سبب:

متقدمین محدثین کا أسلوب تھا کہ سند سے حدیث بیان کردیں ،

بعد میں آنے والے سند کا دراسہ کرکے خود معلوم کرلیں گے یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع تو یہ سبب بھی بنا ضعیف أحادیث بیان کرنے کا ،

لیکن شومئی قسمت کے أصول حدیث سے أور منہج محدثین سے ناواقف لوگوں نے کتب حدیث میں آنے والی ہر حدیث کو صحیح سمجھنا شروع کردیا تو لہذا یہ غلطی ہماری طرف سے ہے نہ کہ محدثین کی طرف سے،

جب إسماعیل بن محمد بن الفضل التیمی نے جب إمام طبرانی پر اعتراض کیا کہ وہ شدید الضعف أور موضوع أحادیث لائے ہیں أور بعض احادیث میں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین پر طعن بھی ہے تو علامہ ابن حجر عسقلانی نے إمام طبری پر ہونے والے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

” وهذا أمر لا يختص به الطبراني فلا معنى لإفراده باللوم بل أكثر المحدثين في الأعصار الماضية من سنة مائتين وهلم جرا إذا ساقوا الحديث بإسناده اعتقدوا أنهم برئوا من عهدته ، والله أعلم”

ترجمہ: یہ ( حدیث ضعیف یا موضوع روایت کرنے والا) معاملہ صرف طبرانی کے ساتھ خاص نہیں لہذا أنکی ملامت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بہت سے محدثین زمانہ ماضی دوسری صدی ہجری سے لے کر أبھی تک وہ حدیث کو سند کے ساتھ روایت کردیتے ہیں ، أور أنکا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سند بیان کرکے أپنی ذمہ داری سے بری ہوگے ہیں ( أور أب جو بعد میں آئیں گے وہ سند کو دیکھ کر أسکے صحیح یا ضعیف یا موضوع ہونے کو معلوم کرلیں گے)

( لسان المیزان ، ترجمہ إمام طبرانی ، 4/125 )

لہذا کسی بھی کتاب میں حدیث کا آجانا أسکی صحت پر دلالت نہیں کرتا سوائے أن کتب کے جنہوں نے صحت کی شرط لگائی أور پھر أس شرط پر عمل بھی کیا جیسے صحیحین بخاری ومسلم وغیرہ.

دوسرا سبب:

لا علمی أور عدم معرفت کی وجہ سے ضعیف یا موضوع روایات کو بیان کیا.

إس کے لیے إمام عینی کی البنایہ شرح الہدایہ کا مطالعہ فرمالیں تو آپکو کئی مثالیں ملیں گی جس میں وہ شارحین ہدایہ پر اعتراض کرتے ہیں ،

أور کتب موضوعات خاص کر ملا علی قاری کی صغری و کبری وغیرہ .

إسی طرح یہ مجموعی دس أسباب ہوئے جنکی وجہ سے محدثین نے أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کیا.

أحادیث ضعیفہ و موضوعہ روایات لانے پر عقلی دلیل:

إس پر عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر شئے أپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے جیسے کہا جاتا ہے ( تعرف الأشياء بأضدادها ) ،

أگر وہ راویوں کی ضعیف و موضوع أحادیث نہ لکھتے تو صحیح روایات کو کیسے پہچانتے ، کیونکہ صحت کو جاننے کے لیے أمراض کا مطالعہ کرنا ضروری ہوتا ہے،

کیا أگر کوئی ڈاکٹر أپنی کتب میں مرض کے بارے میں لکھے تو ہم کیا یہ کہیں گے کہ إس نے أمراض کو کیوں لکھا صرف صحت کے أسباب لکھتا ؟

کیونکہ جب تک مرض معلوم نہ ہو تو أس سے بچیں گے کیسے؟

تو احادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کرکے مرض کی تشخیص کی گئی تاکہ لوگ إس مرض میں مبتلا نہ ہوں.

واللہ أعلم .

حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

وسیلہ کے منکر غیرمقلد زبیر علی زئی حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کو اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ میں درج کرتا ہے اور اس پر جرح کر کے اس کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

لہذا ہم یہاں غیرمقلد زبیرعلی زئی کے ایک ایک اعتراض کو نقل کرتے جائیں گے اور ساتھ میں ان کا رد کرتے جائیں۔

زبیر علی زئی اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص 542 پر لکھتا ہے:

روح بن صالح کی بیان کردہ ایک روایت میں آیا ہے:

’’حدثنا سفیان الثوری عن عاصم الاحول عن انس بن مالک قال:

لما ماتت فاطمة بنت اسد بن هاشم ام علی، دخل علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم فجلس عند راسها فقال: رحمک الله یا امی، کنت امی بعد امی، تجوعین و تشبعینی و تعرین و تکوسننی و تمنعین نفسک طیب الطعام و تطمعینی، تریدین بذلک وجه الله والدار الآخرة، ثم امر ان تغسل ثلاثا و ثلاثا، فلما بلغ الماء الذی فیه الکافور سکبه علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده، ثم خلع رسول الله صلی الله علیه وسلم قمیصه فالبسه ایاه و کفنت فوقه، ثم دعا رسول الله صلی الله علیه وسلم اسامة بن زید و ابا ایوب الانصاری و عمر بن الخطاب و غلاما اسود لیحفروا فحفروا قبرها فلما یلغوا اللحمد حفره رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده و اخرج ترابه بیده، فلما فرغ دخل رسول الله صلی الله علیه وسلم فاضجع فیه وقال:

الله الذی یحیی و یمیت و هو حی لایموت، اغفرلامی فاطمة بنت اسد و لقنها حجتها و وسع علیها مدخلها بحق نبیک والانبیاء الذین من قبلی، فانک ارحم الراحمین، ثم کبر علیها اربعا، ثم ادخلوها القبر هو والعباس وابوبکر الصدیق رضی الله عنهم۔‘‘

ہمیں سفیان ثوری نے حدیث بیان کی، انھوں نے (عن کے ساتھ) عاصم الاحول سے، انھوں نے انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے، انھوں نے فرمایا:

جب علی رضی اللہ عنہ کی والدہ: فاطمہ بنت اسد بن ہاشم (رضی اللہ عنہما) فوت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے پھر آپ ان کے سر کی طرف بیٹھ گئے تو فرمایا: اے میری ماں! اللہ تجھ پر رحم کرے، میری (حقیقی) ماں کے بعد تو میری ماں تھی، تو خود بھوکی رہتی اور مجھے خوب کھلاتی، تو کپڑے (چادر) کے بغیر سوتی اور مجھے کپڑا پہناتی، تو خود بہترین کھانا نہ کھاتی اور مجھے کھلاتی تھی، تمھارا مقصد اس (عمل) سے اللہ کی رضامندی اور آخرت کاگھر تھا۔

پر آپ نے حکم دیا کہ انھیں تین، تین دفعہ غسل دیا جائے، پھر جب اس پانی کا وقت آیا جس میں کافور (ملائی جاتی) ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے ان پر پانی بہایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر انھیں پہنا دی اور اسی پر انھیں کفن دیا گیا۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید، ابو ایوب الانصاری، عمر بن الخطاب اور ایک کالے غلام کو بلایا تاکہ قبر تیار کریں پھر انھوں نے قبر کھودی، جب لحد تک پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کھودا اور اپنے ہاتھ سے مٹی باہر نکالی پھر جب فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قبر میں داخل ہوکر لیٹ گئے اور فرمایا:

اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ زندہ جاوید ہے کبھی نہیں مرے گا۔

(اے اللہ!) میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور اس کی دلیل انھیں سمجھا دے، اپنے نبی اور مجھ سے پہلے نبیوں کے (وسیلے) سے ان کی قبر کو وسیع کردے، بے شک تو ارحم الراحمین ہے۔

پھر آپ نے ان پرچار تکبیریں کہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)، عباس اور ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہما (تینوں) نے اسے قبر میں اتار دیا۔

(المعجم الاوسط للطبرانی ۱۵۲/۱۔ ۱۵۳ ح۱۹۱، وقال: ’’تفروبہ روح بن صلاح‘‘ و عنہ ابو نعیم الاصبہانی فی حلیۃ الاولیء ۱۲۱/۳، و عندہ: یرحمک اللہ… الحمدللہ الذی یحیی…، وعنہ ابن الجوزی فی العلل المتناہیہ ۲۶۸/۱، ۲۶۹ ح۴۳۳)

زبیرعلی زئی کے اعتراضات کے جواب:

اعتراض1: زبیرعلی زئی لکھتا ہے

یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے و مردود ہے:

اول: اس کا راوی روح بن صلاح جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔

ابن عدی نے کہا: ’’وفی بعض حدیثہ نکرۃ‘‘

اور اس کی بعض حدیثوں میں منکر روایات ہیں۔

(الکامل ۱۰۰۶/۳، دوسرا نسخہ ۶۳/۴)

الجواب: یہ اعتراض زبیر علی زئی کا علامہ ابن عدی کے منہج سے جاہل ہونے کا نتیجہ ہے حقیقت میں یہ جرح ہی نہیں ہے۔

اس کا جواب ہم محدثین کے حوالہ جات سے پیش کرتے ہیں:

امام ابن حجر عسقلانی (المتوفی: 752ھ) علامہ ابن عدی کے منہج کے بارے میں لکھتے ہیں:

و من عادتہ فیہ ان یخرج الاحادیث التی انکرت علی الثقۃ او علی غیرالثقۃ

اس کتاب (الکامل لابن عدی) میں علامہ ابن عدی کی یہ عادت ہے کہ وہ ثقہ اور غیر ثقہ کی منکر احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(مقدمہ فتح الباری ص 429)

امام تاج الدین سبکی (المتوفی: 771ھ) فرماتے ہیں:

و ذکر فی کل ترجمۃ حدیثا فاکثر من غرائب ذاک الرجل و مناکیرہ

اور علامہ ابن عدی ہر راوی کے ترجمہ میں اس کی غریب اور منکر احادیث میں سے ایک یا اس سے زیادہ کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج 3 ص 316)

امام ذہبی (المتوفی: 748 ھ) لکھتے ہیں:

و یروی فی ترجمۃ حدیثا او احادیث مما استنکر للرجل

اور علامہ ابن عدی راوی کے ترجمہ میں اس کی منکر احادیث میں سے ایک یا کئی احادیث ذکر کرتے ہیں۔

(سیراعلام النبلاء ج 16 ص 155- 156)

اس کے علاوہ خود علامہ ابن عدی بھی اپنی کتاب میں اپنے منہاج کی تصریح کی ہے چنانچہ مہلب بن ابی حبیبۃ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

لم ارلہ حدیثا منکرا فاذکرہ

میں نے ان کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی کہ اس کا تذکرہ کروں۔

(الکامل فی ضعفاء الرجال ج 8 ص 228)

اس سے ثابت ہوتا ہے علامہ ابن عدی کی عادت ہے کہ وہ اپنی کتاب الکامل فی ضعفاءالرجال میں ثقہ اور غیر ثقہ کی مناکیر روایات کا ذکر کرتے ہیں اور یہاں روح بن الصلاح کی مناکیر روایت کا ذکر کرنا جرح ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ اس روایت کو امام ابن عدی نے منکرات میں شمار نہیں کیا۔لہذا یہ اعتراض باطل ہے

روح بن الصلاح کی مناکیر روایات کا تحقیقی جائزہ

علامہ ابن عدی نے جو منکر روایات روح بن الصلاح کے ترجمہ میں ذکر کی ہیں حقیقت میں علامہ ابن عدی کو وہ روایات مجہول اور کذاب رواۃ کے طرق سے پہنچی ہیں جس میں روح بن الصلاح کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

اب آتے ہیں علامہ ابن عدی کی درج شدہ روایات پر پھر اس پر تحقیقی تبصرہ کر کے روح بن الصلاح کو بری ذمہ ثابت کرتے ہیں

علامہ ابن عدی کی پہلی روایت:

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ علي بْن بيان الغافقي بمصر في رجب سنة تسع وتسعين ومِئَتَين.

حَدَّثني رُوحُ بْنُ سِيَابةَ أَبُو الْحَارِثِ الَحَارِثِيُّ، حَدَّثني سَعِيد بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَن مُحَمد بْنِ عَبد الرَّحْمَنِ عَنْ عَبد اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنّ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وسَلَّم قَال: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں علامہ ابن عدی نے خود تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ علامہ ابن عدی کے شیخ جعفر بن احمد بن علی بن بیان الغافقی خود ان کے نزدیک کذاب ہیں۔

علامہ ابن عدی خود اپنے شیخ کے بارے میں لکھتے ہیں:

أَبُو الفضل الغافقي مصري يعرف بابن أَبِي العلاء كتبت عنه بمصر في الدخلة الأولى فِي سنة تسع وتسعين ومِئَتَين وكتبت في الدخلة الثانية في سنة أربع وثلاثمِئَة وأظن فيها مات (ح) وحدثنا هُوَ، عَن أَبِي صَالِح كاتب الليث وسعيد بْن عفير، وَعَبد اللَّه بْن يُوسُف التنيسي وعثمان بن صالح كاتب بن وهب وروح بْن صلاح، وَهو بن سيابة ونعيم بْن حَمَّاد وغيرهم بأحاديث موضوعة وكنا نتهمه بوضعها بل نتيقن فِي ذلك وَكَانَ مع ذلك رافضيا.

(الکامل لابن عدی ج 2 ص 400 رقم 348)

لہذا اس منکر روایت سے روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی دوسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ بْنُ بِجْمَاكَ البُخارِيّ بِدِمَشْقَ، قَال: حَدَّثني عِيسَى بْنُ صَالِحٍ الْمُؤَذِّنُ بِمِصْرَ، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَافِعٍٍ، عنِ ابْنِ عُمَر قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی علامہ ابن عدی نے تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ اس میں بھی خود علامہ ابن عدی کے شیخ عصمہ بن بجماک مجہول ہیں ۔خود اس کا تذکرہ علامہ ابن عدی نے بھی نہیں کیا اپنی کسی بھی کتاب میں اس کے علاوہ عیسیٰ بن صالح الموذن خود علامہ ابن عدی کے نزدیک بھی مجہول ہے۔

علامہ ابن عدی روح بن صلاح کے ترجمہ میں عیسیٰ بن صالح المؤذن کے بارے میں لکھتے ہیں:

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی تیسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ، حَدَّثني عَنْسِيُّ بْنُ صَالِحٍ المؤذن بمصر، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنِ الأَعْرَجِ وَأَبِي يُونُس، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی وہی عصمہ بن بجماک اور عیسیٰ بن صالح المؤذن راوی ہیں جو کہ مجہول ہیں ۔لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔اس لیے آخر میں علامہ ابن عدی کو بھی حقیقت تسلیم کرنی پڑی یہ لکھ کر

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

یہ دو احادیث اپنی سند کے ساتھ غیر محفوظ ہیں ۔شاید اس میں بلا (مصیبت) اس عیسٰی کی وجہ سے آئی ہے کیونکہ وہ مشہور نہیں ہے ۔

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس سے ثابت ہوا کہ علامہ ابن عدی کو کوئی بھی منکر روایت کی صحیح سند روح بن صلاح تک نہ مل سکی لہذا بنا کوئی دلیل کے علامہ ابن عدی کا روح بن صلاح کو ضعیف قرار دینا صحیح نہیں ہےاور اس سے علامہ ابن عدی کی جرح کمزور اور غیرمفسر ثابت ہو رہی ہے جو کہ اصول حدیث میں قبول نہیں۔

اعتراض نمبر2: ابن یونس المصری نے کہا: ’’روت عنہ مناکیر‘‘ اس سے منکر روایتیں مروی ہیں۔ (تاریخ الغرباء بحوالہ لسان المیزان ۴۶۶/۲، دوسرا نسخہ ۱۱۰/۳)

الجواب: یہ اعتراض بھی فضول ہے کیونکہ تاریخ ابن یونس میں روح بن صلاح کے بارے میں روت عنہ منکر نہیں کہا ۔ علامہ ابن یونس کی اصل عبارت یہ ہے۔

وقد قيل: إن «روح بن صلاح» من الموصل ناقلة إلى مصر. وأما دارهم، فبمصر فى مراد الحارثين. والله أعلم

(تاریخ ابن یونس ج 1 ص 302 رقم 816)

علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ سے یہاں تسامح ہو گیا ہے تاریخ ابن یونس سے عبارت نقل کرتے وقت (واللہ اعلم)

لہذا امام ابن یونس کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض 3: امام دارقطنی نے کہا: ’’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘

وہ حدیث میں ضعیف تھا، مصر می رہتا تھا۔ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳)

الجواب: اس بات کا تعلق امام دارقطنی کی دوسری کتاب کے ساتھ ہے لہذا اس کی وضاحت نیچے آ رہی ہے۔

اعتراض 4: ابن ماکولا نے کہا: ’’ضعفوہ فی الحدیث‘‘ انھوں نے اسے حدیث میں ضعیف قرار دیا ہے۔ (الاکمال ۱۵/۵، باب شبابہ و شبانہ و سیابہ)

الجواب: اس میں امام ابن ماکولا نے کوئی جرح نہیں کی بلکہ ا نہوں نے کسی اور کی طرف اشارہ کیا "ضعفوہ” میں واؤ ضمیر کا مرجع کون ہے؟؟؟

کیونکہ اس میں کسی نام کی تصریح نہیں کہ کس نے ضعیف قرار دیا ہے لہذا یہ جرح بھی مبہم اور غیرمفسر ہے۔

لہذا امام ابن ماکولا کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض5 :حافظ ذہبی نے کہا: ’’لہ مناکیر‘‘ اس کی منکر روایتیں ہیں۔ (تاریخ الاسلام ۱۶۰/۱۷)

الجواب: منکر روایات ہونا کوئی جرح نہیں یہ بھی زبیر زئی کی جہالت ہے کیونکہ بہت سے ثقہ محدثین نے مناکیر روایات روایت کی ہیں کیا وہ سب ضعیف ہو جائیں گے اس سے؟؟؟

اس کے باوجود امام ذہبی نے اس روایت کو منکر روایت میں شمار نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا ہے یہ روایت روح بن صلاح کی منکرات میں سے نہیں ہے

اعتراض 6: ابن الجوزی نے روح بن صلاح کو اپنی کتاب المجروحین (۲۸۷/۱) میں ذکر کیا اور اس کی بیان کردہ حدیث مذکور کو ’’الاحادیث الواھیۃ‘‘ یعنی ضعیف احادیث میں ذکر کیا۔ (دیکھئے العلل المتاہیہ: ۴۳۳)

الجواب: ابن جوزی نے یہاں ابن عدی کی تقلید کی اور اس کی مبہم اور غیرمفسر جرح سے روح بن صلاح کو ضعیف کہا جس سے ثابت ہوا کہ ابن جوزی صرف جرح کرنے والے ناقل ہیں خود انہوں نے جرح نقل نہیں کی لہذا اس کو جارح شمار کرنا باطل اور مردود ہے۔ امام ابن جوزی لکھتے ہیں

روح بن صَلَاح وَيُقَال روح بن شَبابَة يكنى أَبَا الْحَارِث

يروي عَن ابْن لَهِيعَة

قَالَ ابْن عدي هُوَ ضَعِيف

الضعفاء والمتروکین لابن جوزی ج 1 ص 287 رقم 1243

اعتراض6: احمد بن محمد بن زکریا ب ابی عتاب ابوبکر الحافظ البغدادی، اخومیمون (متوفی ۲۹۶ھ) نے کہا: ہمارا اس پر اتفاق ہوا کہ مصر میں علی بن الحسن السامی، روح بن صلاح اور عبدالمنعم بن بشیر تینوں کی حدیثیں نہ لکھیں۔ (لسان المیزان ۲۱۳/۴۔ ۲۱۴، سوالات البرقانی الصغیر: ۲۰، بحوالہ المکتبۃ الشاملۃ و سندہ صحیح)

الجواب : یہ جرح امام دارقطنی کی بات سے تعلق رکھتی ہے

جس کی پوری وضاحت یہ ہے۔

قال لی ابوالحسن : سمعت اباطالب یقول : قال لی اخو میمون ، اسمہ احمد بن محمد بن زکریا ابوبکر بغدادی اقام بمصر

‘اتفقنا علی ان لایکتب بمصر حدیث ثلاثۃ : علی بن الحسن السامی، و روح بن صلاح و عبدالمنعم بن بشیر۔(اس کا ترجمہ اوپر زبیر زئی نے کیا ہوا ہے آگے والی عبارت کو زبیر علی زئی نے چھپا لیا ہے کیونکہ اس سے امام دارقطنی کی جرح مبہم ثابت ہوتی تھی آگے والی ہم پیش کر کے زبیر زئی کا رد پیش کرتے ہیں)

اس عبارت کے آگے امام دارقطنی فرماتے ہیں:

ثم قال لی ابوالحسن : و روح بن صلاح یقال لہ ایضا : روح بن سیابۃ مصری ، و کذا عبدالمنعم مصری ، و علی بن الحسن السامی مصری۔

پھر مجھے امام دارقطنی نے کہا روح بن صلاح کے بارے میں اسی طرح کہا گیا ، روح بن سیابہ مصری اور اسی طرح عبدالمنعم مصری اور علی بن الحسن السامی مصری۔

(سوالات ابی بکر البرقانی للدارقطنی ، ص 56 رقم 18)

امام دارقطنی کی جرح ’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳) کی یہاں وضاحت ہوگی ہے اس سے مراد اس کی احادیث نہ لکھی جائیں۔

پہلے تو یہ اتفاق باطل ہے کیونکہ روح بن صلاح کی روایات بہت سے محدثین نے لکھیں ہیں خود امام دارقطنی نے بھی سنن دارقطنی رقم ٤٥١٤ میں لکھ کر خاموشی اختیار کی ہے.

لہذا اب یہاں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا "لایکتب حدیثہ” جرح مفسر ہوتی ہے؟؟

اس کا جواب غیر مقلدین کے ذہبی عصر عبدالرحمن معلمی غیرمقلد اپنی کتاب التنکیل ج1 ص 109 پر دیتا ہے۔

"ان کلمۃ لا تکتب حدیثہ لیس بتصریح فی الجرح”

یعنی لا تکتب حدیثہ کا کلمہ جرح میں صریح نہیں ہے۔

اس کے علاوہ زبیر علی زئی کے ممدوح ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں "

"کسی محدث کا کسی راوی سے حدیث نہ لینا اس کے ضعف کا موجب نہیں (توضیح الکلام ج1/548)

لہذا امام دارقطنی اورابوبکر بغدادی کی یہ جرح مبہم ہے اور زبیر علی زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔

اعتراض 7: ابن عدی، ابن یونس، دارقطنی، ابن ماکولا، ذہبی، ابن جوزی اور احمد بن محمد بن زکریا البغدادی (سات محدثین) کے مقابلے میں حافظ ابن حبان نے روح بن صلاح کو کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ (۲۴۴/۸)

حاکم نے کہا: ’’ثقہ مامون، من اھل الشام‘‘ (سوالات مسعود بن علی السجزی: ۶۸، ص۹۸)

اور یعقوب بن سفیان الفارسی نے اس سے روایت لی۔ (موضح اوہام الجمع و التفریق للخطیب ۹۶/۲، و فیہ علی بن احمد بن ابراہیم البصری شیخ الخطیب)

مختصر یہ کہ جمہور علماء کی جرح کے مقابلے میں تین کی توثیق مردود ہے۔

الجواب: ابن عدی کی جرح ضعیف و مبہم ہے امام دارقطنی اور اابوبکر بغدادی کی جرح کی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے وہ بھی مبہم ہے جس کو ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔

امام ابن یونس نے کوئی جرح نقل نہیں کی امام ابن ماکولا اور امام ابن جوزی ناقل ہیں خود جارح نہیں اس جرح میں۔امام ذہبی نے کوئی جرح نہیں کی۔اس سے ثابت ہوتا ہے زبیر علی زئی کی ریاضی کمزور ہے ناقلین کو بھی جارحین میں شمار کیا ہوا ہے۔

تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے جرح مبہم ہے اور مبہم جرح کو جمہور کہنا زبیر علی زئی کی جہالت ہے اور اس میں روح بن صلاح کی توثیق ہی راجح ہے۔ (واللہ اعلم)

اعتراض 8 دوم: روح بن صلاح (ضعیف) ااگر بفرض محال ثقہ بھی ہوتا تو یہ سند سفیان ثوری (مدلس) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔

سفیان ثوری کے بارے میں محمد عباس رضوی بریلوی نے کہا:

’’یعنی سفیان مدلس ہے اور روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصول محدثی کے تحت مدلس کا عنعنہ غیرمقبول ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا۔‘‘ (مناظرے ہی مناظرے ص۲۴۹)

سفیان ثوری کی تدلیس کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: ۶۷ ص۱۱۔۳۲

خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ سوال میں روایت مذکورہ غیر ثابت ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔

نیز دیکھئے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی (۳۲/۱۔ ۳۴ ح۲۳ وقال: ضعیف)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص542

الجواب : امام سفیان ثوری دوسرے طبقہ کے مدلس ہیں ان کی عن والی روایت جمہور کے نزدیک قبول ہے۔

خود غیر مقلد کفایت اللہ سنابلی اپنی جماعت کے غیر مقلد زبیر علی زئی کا رد کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

"اور سفیان ثوری رحمہ اللہ قلیل التدلیس ہی ہیں ، لہذا ان کا عنعنہ بھی مقبول ہے، بلکہ ان کے عنعنہ کے مقبول ہونے پر اجماع ہے۔(انوارالبدر طبع جدید ص 354)

خود زبیر علی زئی کے استاد محمد یحیی گوندلوی لکھتا ہے

"بلاشبہ بعض محدثین نے امام ثوری کو مدلس کہا ہے مگر یہ مدلس کے اس طبقہ میں ہیں جہاں تدلیس مضر اور روایت کی صحت کے مانع نہیں ہے۔حافظ ابن حجر کی اصولی تحریر سے واضح ہو گیا ہے کہ اگرچہ امام ثوری مدلس تھے مگر ان کی تدلیس مضر نہیں جو حدیث کی صحت پر اثر انداز ہو اور حدیث کو تدلیس کی وجہ سے رد کر دیا جائے،

(خیرالبراہین فی الجہربالتامین ص 25-26)

اس کے علاوہ اس مسئلہ پر خود زبیر علی کے استاد محب راشدی اور بدیع الدین راشدی نے اپنے شاگرد کا رد کیا۔مزید تحقیق کے لیے مقالات راشدیہ جلد اول اور مقالات اثریہ کا مطالعہ کریں۔

علامہ محمد عباس رضوی صاحب نے یہ بات غیر مقلد محمدسلیمان سے تحریری مناظرے میں الزامی جواب کے طور پر ہاتھ باندھنے کے موضوع پر لکھی ہے۔ کیونکہ غیرمقلدین حضرات رفع یدین کے مسئلہ پر امام سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف لکھتے ہیں۔

جب کہ خود علامہ محمد عباس رضوی نے اسی کتاب مناظرے ہی مناظرے ص 356 پر لکھتے ہیں امام سفیان ثوری پر جرح اور اس کا جواب۔اس سرخی میں غیرمقلدین کے اعتراضات کے جواب دیئے لہذا زبیر زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ روح بن صلاح حسن درجے کا راوی ہے اور زبیر علی زئی کے تمام اعتراض ضعیف اور مبہم جرح پر مبنی ہیں ایک جرح بھی مفسر نہیں اس کے علاوہ امام یعقوب بن سفیان جیسے متشدد محدث نے ان سے روایت لی اور یہ ان سے روایت لیتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں ۔امام حاکم کا تساہل صرف مستدرک تک محدود ہے اس کا اظہار خود غیرمقلد کفایت سنابلی نے بھی کیا ہے محدث فورم پر۔لہذا اس راوی پر امام حاکم کا تساہل ثابت نہیں ہوتا، اس کے علاوہ امام ابن حبان بھی اس توثیق میں منفرد نہیں ہیں لہذا یہاں ان سے تساہل ثابت نہیں ہوتا۔

اگر مبہم جرح کو تسلیم بھی کیا جائے تو پھر بھی راوی ضعیف ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس کی توثیق بھی ثابت ہے لہذا مبہم جرح اور توثیق کی تطبیق سے ثقہ کے درجہ سے گر کر یہ راوی حسن الحدیث پر ہی فائز ہوتا ہے اور زبیر علی زئی کا بھی یہ منہج ہے اپنی کتب میں۔ (واللہ اعلم)

خادم حدیث شریف:

رضاءالعسقلانی

مولوی کون ہوتا ہے کسی کو کافر قرار دینے والا

غامدی صاحب جیسے لبرل سیکولر گمراہ کنندگان کی جڑیں کاٹ دینے والا ویڈیو کلپ!

"مولوی کون ہوتا ہے کسی کو کافر قرار دینے والا”… جانئیے اس ویڈیو میں۔

کوئی کافر ہے یا مسلمان اس کا فیصلہ کرنے والے علماء کون؟

علماء پر اس طرح کے اعتراض کرنے والوں کو زبردست جواب خود بھی سنیں اور شیئر کیجئے

نبی ﷺ کا دیا کھاتے ہیں یا جو کچھ ہے وہ سرکار کا دیا ہے

بعض حضرات اس پر بگڑ جاتے ہے کہ اپ نے یوں کیوں کہہ دیا

کہ نبی ﷺ کا دیا کھاتے ہیں یا جو کچھ ہے وہ سرکار کا دیا ہے

یا نعت وغیرہ کے اشعار پر کہ تیرا کھاواں میں یارسول اللہ ﷺ

بلکہ صرف اللہ کا کہنا چائیے کہ اللہ کا ہی کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ

بہت ہیاعتراضات بنا دیے جاتے ہیں

تو ایسے حضرات سے گزارش ہے کہ پہلے علم سیکھیں اور پھر بحث کیا کریں اور فتوا جات جو اپکے پاس مشرک اور کفر کہ مفت پڑھے ہوئے ہے مت دیا کریں