قرآن کریم سے دنیا کی تمام بیماریوں کا علاج و شفا

Iروحانی پیشوا صوفی طالب اطہر القادری

قرآنِ مجید ہمارے لئے نہ صرف ایک بہترین ضابطۂ حیات ہے بلکہ اس میں ہمارے لئے دنیاو آخرت کی نجات ہے۔ اس کی برکت سے جسمانی و رُوحانی بیماریاں دُور ہوتی ہیں، اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ چنانچ اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ہُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیۡنَ ۙ وَ لَایَزِیۡدُ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا خَسَارًا

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔ (پ ۱۵، بنی اسرائیل، آیۃ:۸۲)

اس آیتِ کریمہ کے تحت مفسرِ قراٰن امام فخرالدین رازی عَلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الْقَوِی فرماتے ہیں:”قراٰنِ کریم ہر طرح کی بیماریوں سے شفا عطا فرماتا ہے وہ روحانی امراض ہوں چاہے جسمانی، قراٰنِ کریم کا امراضِ روحانیہ کے لیے شفا ہونا تو ظاہر ہے ہی اس کی تلاوت کی برکت سے بکثرت امراضِ جسمانیہ سے بھی شفا حاصل ہوتی ہے۔”(تفسیر کبیر،بنی اسرائیل،تحت الآیۃ:۸۲،۷/۳۹۰ ملخصاً)

(اسی آیت کے تحت دیگر مفسرینِ عظام نے جہاں یہ ارشاد فرمایا کہ) قراٰنِ مجید سے امراضِ ظاہرہ اور باطنہ، ضلالت و جہالت (گمراہی و لاعلمی)وغیرہ دُور ہوتے ہیں اور ظاہری و باطنی صحت حاصل ہوتی ہے، اعتقاداتِ باطلہ واخلاقِ رذیلہ(غلط عقیدے اور بُرے اَخلاق) دفع ہوتے ہیں اور عقائدِ حقّہ و معارفِ الٰہیہ و صفاتِ حمیدہ و اخلاقِ فاضلہ(صحیح عقیدے،اللّٰہ تعالٰی کی معرفت و پہچان،بہترین صفات اور زبردست اَخلاق)حاصل ہوتے ہیں(خزائن العرفان، ص۵۴۱) وہیں مفسرِ قراٰن علامہ ابنِ عطیہ اُندلسی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہ القَوِی (متوفٰی ۶۴۵) نے یہ بھی فرمایا کہ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آیتِ کریمہ میں شِفَآء ٌسے دم اور تعویذات کے ذریعے بیماریوں میں قراٰنِ پاک کا فائدہ مند ہونا مراد ہے۔(تفسیر المحررالوجیز، بنی اسرائیل،تحت الآیۃ:۸۲،۳/۴۸۰)

مُفَسِّرینِ عِظام کی مندرجہ بالا تصریحات سے پتہ چلا کہ قراٰنِ مجید پورے کا پورا شفا ہے لیکن بعض سورتوں کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں صراحتاً مختلف بیماریوں سے شفا کا بیان فرمایا گیا جیسا کہ سورۂ فاتحہ کے متعلق ارشاد ہے: حضرت سیّدنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنہ سے حضور سراپا نورعَلیہِ الصَّلٰوۃُ و السَّلام نے فرمایا: اے جابر کیا میں تجھے قراٰن میں نازل شدہ سب سے اچھی سورت نہ بتا دوں؟ سیّدنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنہ نے عرض کی: کیوں نہیں یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم۔تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا یہ سورئہ فاتحہ ہے مزید فرمایا:”اس میں ہر مرض کے لیے شفا ہے۔”(شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الإیمان ہو باب فی تعظیم القرآن، فصل فی فضائل السور و الآیات، ۲/۴۴۹،حدیث: ۲۳۶۷)

مُحَدِّثِین ِکرام نے قراٰنِ مجید کی آیات بیماروں پر پڑھ کر دم کرنے کی بھی کئی روایات نقل فرمائی ہیں چنانچہ حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعالٰی عَنہا بیان فرماتی ہیں کہ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وَ سَلَّم اس پر قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ کر دم فرماتے۔(مسلم،کتاب السلام،باب رقیۃ المریض بالمعوذات والنفث، ص ۱۲۰۵، حدیث:۲۱۹۲)

حضرت سیِّدُنا ابو سعید خُدری رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنہ بیان فرماتے ہیں: ایک بار چند صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان سفر میں تھے، ان کا گزر عربوں کے ایک قبیلہ کے پاس سے ہوا، صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان نے ان سے مہمان نوازی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ اس قبیلے کے سردار کو بچھو نے ڈس لیا تھا ، قبیلے والوں نے اس کی صحت کے لیے بڑے جتن کیے لیکن کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا، پھر ان میں سے کسی نے کہا:تم اس (صحابۂ کرام کی)جماعت کے پاس جاؤ، ہو سکتا ہے ان کے پاس کوئی نفع بخش چیز ہو۔ وہ صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے :ہمارے سردار کو بچھو نے ڈس لیا ہے ، ہم نے اس صحتیابی کے لیے ہر قسم کی کوشش کر لی ہے مگر کسی چیز سے فائدہ نہیں ہوا، کیا آپ میں سے کسی کے پاس کوئی ایسی چیز ہے؟ ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہ تَعالٰی عَنہ نے فرمایا: ہاں! اللّٰہ کی قسم میں دم کرتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے مہمانی طلب کی تو تم نے انکار کر دیا تھا ،لہٰذا اب میں اس وقت تک تمہارے سردار کودم نہیں کروں گا،جب تک تم مجھ سے اس کی اجرت نہ مقرر کرلو۔اس پر انہوں نے بکریوں کی ایک معین تعداد پر صلح کر لی، پھر وہ صحابی گئے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ سردار بالکل تندرست ہو گیا اور اس طرح چلنے لگا گویا اسے کوئی بیماری تھی ہی نہیں۔ پھر ان قبیلے والوں نے جو بکریوں کی تعداد مقرر ہوئی تھی وہ دے دیں۔ بعض صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان نے کہا:”ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔”بعض نے کہا: نہیں!یہ دم کی اجرت ہے ہم اس کو اس وقت تک تقسیم نہیں کریں گے جب تک کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کرسارا ماجرا بیان نہ کر دیں، پھر دیکھیں کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم اس میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ جب صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا عرض کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: تمہیں کس نے بتایا کہ یہ(سورہ فاتحہ)دم ہے، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: تم نے درست کیا ان کو آپس میں تقسیم کرلو اور اس میں سے میرا حصہ بھی دو، پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم مسکرا دیے۔ (بخاری،کتاب الاجارۃ، باب مایعطی فی الرقیۃ علی احیاء العرب بفاتحۃ الکتاب، ۲/ ۶۹، حدیث: ۲۲۷۶)

حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسٰی ترمذی عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ القَوِی روایت نقل فرماتے ہیں: بے شک رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈر جائے تو وہ یہ دعا پڑھے :

اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِن غَضَبِہ وَعِقَابِہ وَشَرِّ عِبَادِہ وَمِن ھَمَزَاتِ الشَّیٰطِین وَاَن یَّحضُرُون

تو شیاطین اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ حضرت سیّدنا عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تعالٰی عَنہ اپنے بالغ بچوں کوا س دعا کی تلقین فرماتے اور جو نابالغ بچے ہوتے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر گلے میں لٹکا دیتے تھے۔(ترمذی،کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل التسبیح الخ،۵/۳۱۲، حدیث:۳۵۳۹)

مُحَقِّق عَلَی الاِطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللّٰہ القَوِی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں”اس حدیث سے گردن میں تعویذات لٹکانے کا جواز معلوم ہوتا ہے، اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، مختار یہ ہے کہ سیپیوں اور اس کی مثل چیزوں کا لٹکانا حرام یا مکروہ ہے لیکن اگر تعویذات میں قراٰنِ مجید یا اللّٰہ تعالیٰ کے اسماء لکھے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔”(اشعۃ اللمعات، کتاب اسماء اللّٰہ تعالی ،باب الاستعاذۃ، ۲/۳۰۷)

اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :جائز تعویذ کہ قراٰن کریم یا اسمائے الٰہیّہ (یعنی اللّٰہ تعالیٰ کے ناموں)یادیگر اذکارو دَعوات (دُعاؤں) سے ہو اس میں اصلاً حرج نہیں بلکہ مستحب ہے۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وَ سلَّم نے ایسے ہی مقام میں فرمایا کہ۔۔۔

مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُم اَنْ یَّنْفَعَ اَخَاہُ فَلْیَنْفَعْہٗ

یعنی تم میں جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاسکے(تو اسے نفع) پہنچائے۔ (فتاویٰ افریقہ ،ص ۱۶۸)

انسان میں شیطان کا بھی اثر ہے اور فرشتہ کابھی شیطان کا اثر

حدیث نمبر :72

روایت ہےحضرت ابن مسعودسے فرماتےہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان میں شیطان کا بھی اثر ہے ۱؎ اور فرشتہ کابھی شیطان کا اثر تو مصیبت سے ڈرانا اور حق کاجھٹلاناہے ۲؎ لیکن فرشتہ کا اثر خیر کا وعدہ کرنا اورحق کی تصدیق کرناہے۳؎ جو یہ آخری بات محسوس کرے وہ جان لے کہ یہ رب کی طرف سےہے خدا کا شکرکرے۴؎ اورجووہ دوسری چیز محسوس کرے وہ مردودشیطان سے اﷲ کی پناہ مانگے۵؎ پھر یہ تلاوت کی کہ شیطان تمہیں فقیری سے ڈراتا اور بے حیائی کا مشورہ دیتا ہے۔ترمذی نے روایت کی اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح

۱؎ یہاں شیطان سے مراد یا تو ابلیس ہے یا انسان کا قرین جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا۔دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے اس کا اثر قریبًا سارے انسانوں پرہوتاہےکسی پرکم کسی پرزیادہ۔

۲؎ اس طرح کہ وہ خبیث برائیوں کوخوبیاں اور نیکیوں کو مصیبت بنا کر دکھاتا ہے۔خیرات کے ارادہ پر فقر سے ڈراتا ہے،ناجائزخرچوں کے موقعہ پر ناموری کا لالچ دیتا ہے۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر مسلمان حج و خیرات سے گبھراتے ہیں،لیکن شادی بیاہ کے حرام رسوم پر خوب دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔یہ اسی کا اثر ہے۔رب فرماتا ہے:”اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ”اس کا یہی مطلب ہے۔

۳؎ اس طرح کہ اگر صدقہ اور خیرات سے نفس گھبرائے اور شیطان فقر سے ڈرائے تو یہ فرشتہ دل میں آواز دیتا ہے کہ مت ڈر صدقہ سے مال بڑھتا ہے،گھٹتا نہیں اور فورًا یہ آیت سامنے آتی ہے۔” یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ”یہ اس فرشتہ کا ہی کام ہے جوشخص جس آواز پر کان دھرتا رہے گا وہی آوازقوی ہوتی رہے گی اور دوسری آواز مدہم۔بعض اولیاءسےشیطان مایوس ہوکر انہیں بہکانا ہی چھوڑ دیتا ہے۔

۴؎ کیونکہ نیک ارادہ اور اچھے خیالات بھی اللہ کی نعمت ہیں،شکر سے نعمت بڑھتی ہے،نیز نیک ارادہ کو جلد پورا کرے کہ پتہ نہیں پھر موقعہ ملے یا نہ۔

۵؎ کیونکہ اعوذ اور لاحول سے شیطان بھاگتا ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جوکوئی صبح شام ۲۱ بار لاحول شریف پانی پر دم کرکے پی لیا کرے تو ان شاء اﷲ وسوسۂ شیطانی سے بہت حد تک امن میں رہے گا۔

جنتی ہونے کے لیئے عمل

حدیث نمبر :12

روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا اﷲ کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو ۱؎ وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں۲؎ پھرجب وہ چل دیئے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۳؎

شرح

۱؎ یہ جملہ عبادت کی تفسیر ہے،چونکہ اس وقت تک جہاد وغیرہ احکام آئے نہ تھے یا اس پر جہاد فرض نہ تھا اس لیے جہاد کا ذکر نہ فرمایا۔

۲؎ یعنی ان فرائض میں اپنی طرف سے زیادتی کمی نہ کروں گا کہ فجر چار یا چھ پڑھوں اور ظہردویاتین یا روزے چالیس رکھ لوں،یا اپنی قوم تک بعینہ یہ ہی احکام پہنچا دوں گا،تبلیغ میں زیادتی کمی نہ کروں گا یا اب سوال میں زیادتی کمی نہ کروں گا،لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ فطرہ،قربانی،نماز عیدین،روزہ،نذر،وتر ضروری نہ ہوں۔احکام اسو قت تک آئے ہی نہ تھے بعد میں خود حضور نے احکام میں زیادتی فرمائی لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔

۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنتی آدمی کو دیکھنا بھی ثواب،بزرگوں کے دیدار سے گناہ بخشے جاتے ہیں ؎

اُٹھ جاگ فریدا ستیادل مسجددے جا مت کوئی بخشیا مل پوے تو بھی بخشیا جا

دوسرے یہ کہ حضورکو لوگوں کے انجام نیک بختی،بدبختی کا علم ہے،جانتے ہیں کہ جنتی کون ہے دوزخی کون،حضور کو خبر تھی کہ یہ بندۂ مؤمن تقویٰ پر قائم رہے گا،ایمان پر مرے گا،جنت میں جائے گا۔

رزق میں اضافہ کرنے والے وظائف و اعمال

*رزق میں اضافہ کرنے والے وظائف و اعمال*

مرتب: *افتخار الحسن رضوی*

یہ مضمون میں نے شیخ الاسلام امام برہان الاسلام ابراہیم زرنوجی رحمۃ اللہ علیہ (متوٖفی 610 ھ) کی کتاب "علیم المتعلم طریق التعلم” سے لیا ہے۔ اۤپ اپنے دور کے معروف حنفی فقیہ، معلم و مدرس ، متقی و صوفی بزرگ تھے۔ اۤپ امام برہان الدین ابی الحسن علی بن ابی بکر المغینانی (صاحب ہدایہ) علیہ الرحمہ کے شاگرد تھے۔ یہ مضمون ویسے تو تمام مسلمانوں کے لیے نفع بخش ہے لیکن میری نظر میں بالخصوص یہ وظائف علماء کرام، ائمہ، دینی اساتذہ و مذہبی پہچان رکھنے والے لوگوں کے لیے زیادہ مفید ہو سکتا ہے کیونکہ امام موصوف نے یہ کتاب لکھتے وقت اصل توجہ تعلیم و تعلم سے وابستہ حضرات پر فرمائی اور یہی ہدف رکھتے ہوئے اس کتاب میں بہت انمول مبارک ملفوظات شریف عطا فرمائے۔ اس کتاب میں امام نے علمِ فقہ کی اہمیت، طالب علم اور استاذ کے لیے محنت، صبر، اجر، مشقت، مصائب ، توکل، قناعت، تقوٰی، طریقہ تعلیم، وسائل و اسبابِ تعلیم، شفقت و نصیحت اور حصول رزق کے ساتھ ساتھ رزق میں برکت جیسے عنوانات پر کلام فرمایا ہے۔ امام موصوف کی کتاب سے "رزقِ میں برکت و اضافہ کے وظائف” اۤپ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں

رزق میں اضافہ کرنے والے اسباب :

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :

اَسْتَنْزِلُوا الرِّزْقَ بِالصَّدَقَۃِ

(الکامل فی ضعفاء الرجال،حبیب بن ابی حبیب،ج۳،ص۳۲۶)

ترجمہ:صدقات کی کثرت سے رزق طلب کرو۔

علی الصبح بیدار ہونا نعمتوں میں اضافہ کا باعث بنتاہے ،خصوصاًاس سے رزق میں اضافہ ہوتاہے، اسی طرح خوشخطی رزق کی کنجیوں میں سے ایک کنجی ہے اورخندہ پیشانی وخوش کلامی بھی رزق کو بڑھاتی ہے ۔

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا : گھراوربرتنوں کو صاف ستھرا رکھنا موجب غناء ہے ۔ نیز رزق کی وسعت کاقوی ترین ذریعہ یہ ہے کہ انسان نماز کو خشوع وخضوع ، تعدیل ارکان کا لحاظ کرتے ہوئے اورتمام واجبات اورسنن وآداب کی پوری طرح رعایت کرتے ہوئے ادا کرے ۔

حصول رزق کے لیے نماز چاشت پڑھنا بے حد مفید اورمجرب ہے ۔ اس طرح سورۃالواقعہ کو خصوصاًرات میں پڑھنا نیز سورۃ الملک ، سورۃ المزمل ، سورۃ اللیل اور سورۂ الم نشرح کی تلاوت کرتے رہنا بھی فراخی رزق کا سبب ہے ۔

اسی طرح مسجد میں اذان سے پہلے پہنچنا ، ہمیشہ باوضورہنا ، سنت فجر اوروترکو گھر پر ادا کرنا اوروتر کے بعد کوئی دنیاوی کلام نہ کرنا ، عورتوں کے پاس ضرورت سے زیادہ نہ بیٹھنا ، غیر مفیداورلغو کلام سے اجتناب کرنا ،رزق میں اضافہ کا موجب ہوتاہے۔جیسا کہ کسی نے کہا :

مَنِ اشْتَغَلَ بِمَا لاَ یَعْنِیْہٖ یَفُوْتُہ، مَا یَعْنِیْہٖ

ترجمہ:جو غیر ضروری کاموں میں مشغول ہوجائے اس سے ضروری کام تک چھوٹ جاتے ہیں۔ کسی کا قول ہے :

جب تم کسی شخص کو بہت زیادہ بولتے دیکھو تو پھر اس کے مجنون ہونے کا بھی یقین کرلو۔

حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ارشادفرماتے ہیں :

اِذَا تَمَّ الْعَقْلُ نَقَصَ الْکَلاَمُ

ترجمہ:جب عقل کامل ہوجاتی ہے تو انسان کاکلام بھی مختصر ہوجاتاہے ۔

خود میں نے اس موضوع پر کہاہے :

اِذَا تَمَّ عَقْلُ الْمَرْءِ قَلَّ کَلاَمُہ،

وَأَیْقِنْ بِحُمْقِ الْمَرْءِ اِنْ کَانَ مُکْثِرًا

ترجمہ:جب عقل کامل ہوجاتی ہے تو بندے کی گفتگو بھی کم ہوجاتی ہے اورجب کسی باتونی کو دیکھو تو پھر اس کی حماقت کا یقین کرلو۔

ایک اور شاعر کہتاہے :

اَلنُّطْقُ زَیْنٌ وَالسُّکُوْتُ سَلاَمَۃٌ

فَاِذَا نَطَقْتَ فَلاَ تَکُنْ مِکْثَارًا

ترجمہ: بولنا زینت ہے اورخاموشی سلامتی ہے لہذا جب بولنے کا ارادہ کرو تو پھر ضرورت سے زیادہ کلام مت کرو۔

مَااِنْ نَدِمْتُ عَلیٰ سُکُوْتِی مَرَّۃً

وَلَقَدْ نَدِمْتُ عَلَی الْکَلاَمِ مِرَارًا

ترجمہ:میں نے کبھی خاموشی پر ندامت نہیں اٹھائی لیکن بولنے پر مجھے بارہا ندامت اٹھانی پڑی

وہ وظائف جور زق کو بڑھاتے ہیں ان میں سے چند ایک یہ بھی ہیں

(۱) روز انہ صبح صادق کے وقت نماز فجر سے قبل یہ کلمات سو بار پڑھنا :

سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ ، سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ ، اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ.

(روایات میں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ بھی مذکور ہے)

(۲) ہر روز صبح وشام سو سو مرتبہ یہ کلمات پڑھنا :

لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ

(۳) روزانہ نماز فجر کے بعد اورنماز مغرب کے بعدان کلمات کو۳۳،۳۳ مرتبہ پڑھنا :

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ، سُبْحَانَ اللہِ ، لاَاِلٰہَ اِلاَّ اللہُ

(۴) نماز فجر کے بعد چالیس بار استغفار کرنا ۔

(۵) ان کلمات کی کثرت کرنا :

لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ

(۶) سرکارمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم پر درود پاک کی کثرت کرنا ۔

(۷) جمعہ کے دن ستر مرتبہ ان کلمات کو پڑھنا :

اَللّٰھُمَّ اَغْنِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاکْفِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ

(یہ دعا مختلف الفاظ کے ساتھ روایات میں مذکور ہے)

(۸) ان کلمات کو ہر روز صبح وشام پڑھے :

اَنْتَ اللہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ، اَنْتَ اللہُ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ ، اَنْتَ اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، اَنْتَ اللہُ خَالِقُ الْخَیْرِ وَالشَّرِّ، اَنْتَ اللہُ خَالِقُ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ ، عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ، عَالِمُ السِّرِّوَاَخْفَی ، اَنْتَ اللہُ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالِ، اَنْتَ اللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ، وَاِلَیْہِ یَعُوْدُ کُلُّ شَیْئٍ، اَنْتَ اللہُ دَیَّانُ یَوْمِ الدِّیْنِ لَمْ تَزَلْ وَلاَ تَزَالُ ، اَنْتَ اللہُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّاَنْتَ ،اَنْتَ اللہُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ، اَنْتَ اللہُ لَااِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ، اَنْتَ اللہُ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلاَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ، لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ الْخَالِقُ الْبَارِیئُ الْمُصَوِّرُ، لَہُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمَوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.

وما علینا الا البلاغ المبین

(امام برہان الاسلام ابراہیم زرنوجی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ کتاب "علیم المتعلم طریق التعلم” اردو ترجمہ کے ساتھ بنام ” راہِ علم” چھپ کر "مکتبۃ المدینہ” کی طرف سے شائع کی جا چکی ہے اور مارکیٹ میں دستیاب ہے)

*یہ مضمون اسی طرح بغیر کسی قسم کی تبدیلی کیے شئیر کرنے کی اجازت ہے*