اپنے دوست پر 20 درہم خرچ کرنا ، فقیروں میں 100درہم بانٹنے سے بہتر ہے

مولا علی پاک رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:

” اپنے دوست پر 20 درہم خرچ کرنا ، فقیروں میں 100درہم بانٹنے سے بہتر ہے ۔ “

حجة الاسلام امام غزالی رحمہ اللہ کہتےہیں:

دوستی کے دس حقوق ہیں ؛ پہلا حق مال سے تعلق رکھتاہے ، جس کا درجہ سب سے بڑا ہے ۔

دوست کو چاہیے اپنے دوست کا حق اپنےسے بڑھ کرسمجھے ، اور اپناحصہ بھی اسے دے دے ۔

جو چیز اپنی ضرورت سے زیادہ ہو ، بغیر مانگے دوست کو پیش کردے ۔

اگر دوست کو مانگ کر لینی پڑے تو یہ دوستی کے درجے سے باہر ہے ، کیوں کہ اِس کا دل ہمدردی سے محروم ہے ۔

دیکھیے: کیمیائے سعادت فارسی ، رکن دوم معاملات ، پیدا کردن حقوق صحبت و دوستی ، حق اول، ص 315 ، 316 ، مطبوعہ تہران ۔

لقمان شاہد

21/2/2019 ء

کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ

کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ علما کے جذبات ٹھنڈے کردیے اور عوام کو نرم کردیا ۔

بہ قول سیداکبرالٰہ آبادی ؎

سر تراشا اُن کا ، کاٹا اِن کا پاؤں

وہ ہوئے ٹھنڈے ، گئے یہ بھی پگَھل

شیخ کو یَخ کردیا ، مومن کو موم۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں کی حالت گئی آخر بدَل !!

لفظِ شیخ تین حروف کا مجموعہ تھا ، اس کا سر کاٹا ( یعنی پہلا حرف شین مٹایا ) تو یہ یخ ہو گیا ۔

مطلب: موجودہ شیخ ، شیخ نہ رہا ، اس کی قائدانہ صلاحتیں ختم ہوگئیں ، مجاہدانہ جذبات یخ ٹھنڈے ہوگئے ، یہ بزدل بن گیا ۔

اور مومن چار حروف کامجموعہ تھا ، اس کا پاؤں کاٹا

( یعنی آخری حرف نون کاٹا ) تو پیچھے موم رہ گیا ۔

مطلب: بندۀ مومن کے دینی جذبات کو ” امن “ وغیرہ کے نام پر نرم کیا ، پھر انھیں پگھلا کر اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال دیا —

لقمان شاہد

20/2/2019 ء

سائنس و ٹیکنالوجی کا دوسرا رخ

*سائنس و ٹیکنالوجی کا دوسرا رخ*

*سید خالد جامعی صاحب*

عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی اور سائنس کی ایجادات نے دین پر عمل کو آسان کر دیا ہے حج کرنا عمرہ کرنا زیارتیں کرنا ایک دوسرے سے میل جول، عبادات میں سہولت سب کچھ ممکن ہوگیا ہے…

یہ تصویر کا صرف ایک رُخ ہے جس پر عالم اسلام کی اکثریت کو شدت سے اصرار ہے مگر اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے وہ یہ کہ

♥ آج سے چالیس سال پہلے کیا نیک سادہ زندگی بسر کرنا آسان تھا یا آج آسان ہے.

♥ کیا سائنس و ٹیکنالوجی کی بے تحاشہ ترقی کے باعث گناہ گار زندگی بسر کرنے کے مواقع ہر شخص کو ہر وقت میسر ہوگئے ہیں یا نیک زندگی کی خواہش نے ہر دل میں جگہ بنا لی ہے

♥ کیا آج گناہ سے بچنا ممکن ہے؟ بچنے کی شدید کوشش کے باوجود آپ کو گناہ سے گزرنا لازمی ہے ٹی وی انٹرنیٹ استعمال کرنے والے گناہگار نیکیوں کی فصلِ بہار سے خوب واقف ہوں گے. ایک ایسا نظام زندگی ترتیب دے دیا گیا ہے کہ ارتکاب گناہ کے بغیر نیک کام کرنا ممکن نہیں رہ گیا ہے.جب تک کاریں، اے سی، کولر، فریج، بوتلیں، فریزر نہیں تھے تو اکثر دین دار لوگ سنت پر عمل کرتے ہوئے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے لیکن اب گھر میں کار میں دفتر میں اے سی ہے لیکن دیندار لوگ روزے نہیں رکھتے حالانکہ اب تو زیادہ روزے رکھنے چاہیں جب لوگوں کے پاس فون کار موٹر سائیکل نہیں تھی تو لوگ سال میں کئی بار قبرستان بھی جاتے تھے اور اپنے عزیزوں کے پاس بھی لیکن جب سے یہ سہولتیں حاصل ہوئی ہیں لوگ رشتہ داروں سے سالانہ ملاقات کرتے ہیں سال میں ایک بار قبرستان جاتے ہیں.جب تیز رفتار سواریاں نہیں تھیں تو لوگوں کے پاس وقت تھا لیکن جب یہ سواریاں آگئیں تو نہ رشتہ داروں کے لیے وقت ہے نہ قبرستان کے لیے.

نہ ماں باپ کی خدمت کے لیے آخر یہ وقت جو گاڑیوں نے بچایا کہاں چلا گیا؟

ظاہر ہے گاڑی کو رکھنے کے لیے سرمایہ چاہیے جو وقت بچ گیا وہ سرمایہ کمانے کی نظر ہوگیا عصرِ حاضر میں بارہ گھنٹے کام کیے بغیر ضروریات زندگی کا حصول ممکن نہیں لہذا وقت اب مارکیٹ کی نذر ہوگیا ہے.اشیاء ٹیکنالوجی نے مہیا کردی ہیں مگر وقت چھین لیا ہے دیہاتوں میں وقت اسلیے ہوتا ہے کہ زندگی سادہ، روزگار گھر کی چوکھٹ پر میسر اور خاندانی زندگی کے ساتھ منسلک ہے مارکیٹ میں جاکر وقت خاندان کہاں.

جب تک گھروں میں قرآن کے قلمی نسخے تھے ہر گھر سے تلاوت کی صدا گونجتی تھی جب سے طبع شُدہ لاکھوں قرآنی نسخے آگئے ہر گھر میں چار چار پانچ مصحف جمع ہیں تو کسی گھر سے تلاوت کی آواز نہیں آتی حتی کہ گھروں میں ٹیپ ریکارڈ بھی نہیں چلائے جاتے کہ قرآن کی آواز تو سُنائی دے لیکن کاروباری لوگ صبح دوکان کھولتے ہی یہ کام کاروبار میں برکت کے لیے نہایت خشوع و خضوع سے پابندی کے ساتھ انجام دیتے دیتے ہیں حتی کہ عورتوں کے جسم بیچنے والا سی ڈی کا کاروباری بھی یہ کارِ خیر انجام دیتا ہے.ہر گھر اور گاڑی میں ٹیپ ریکارڈر ہے لیکن گھروں اور گاڑیوں میں ٹیپ پر قرآن چلانے کی روایت نہیں ہے انسان کی آواز نہ سہی ٹیکنیکل آواز ہی سہی.

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں اندر کا انسان ہی مرگیا ہے تو تلاوت کی آواز کیسی…..

انسان زندہ ہے پر اس کا قلب بے نور ہے وہ دنیا میں مبتلا ہے اور ٹیکنالوجی اسے آخرت سے کاٹ کر دنیا سے جوڑنے کا فریضہ تن دہی سے انجام دے رہی ہے.انبیاء ع سب سے پہلے انسان کو زندہ کرتے اور اسے نئی روح عطا کرتے ہیں جو بظاہر زندہ اور فی الحقیقت مردہ ہے.کیا وجہ ہے کہ جدید ایجادات انسان کو اپنے دین مذہب روایت تاریخ رشتوں سے دور کر رہی ہے بیٹی ماں کو روزانہ چھ مرتبہ فون کرے گی لیکن ہفتے میں ایک دن بھی ماں کے گھر جانا پسند نہیں کرے گی فون نے رشتے بھی کاٹ دیے ہیں ہم اسے رشتے جوڑنا سمجھتے ہیں.بیٹی پہلے ہر ہفتے ماں کے گھر رہنے جاتی تھی اب سسرال ہی رہتی ہے کیوں کہ ماں کے گھر میں اے سی نہیں ہے نہ بیٹی کے پاس وقت.

یہ تبدیلیاں کس انقلاب کی طرف راہنمائی کر رہی ہیں تاریخ میں آتا ہے کہ مسلمان ہر سال ایک ریاست کے بادشاہ سے خراج لینے جاتے تھے ایک سال گئے تو اس نے خراج دینے سے انکار کردیا انہوں نے پوچھا کہ تم نے پہلے تو کبھی انکار کی جرات نہیں کی اب کیوں؟ اس نے کہا پہلے جو لوگ خراج لینے آتے تھے مجھے انکے چہروں سے خوف آتا تھا ان کو دیکھ کر میرے دل پر ہیبت طاری ہوجاتی تھی میں خراج ادا کرنے سے انکار کی جرات نہیں کرسکتا تھا ان کے چہرے خشک سوکھے ہوئے گال پچکے ہوئے پیٹ اندر دبے ہوئے آنکھیں دھنسی ہوئیں کپڑے پیوند زدہ،مگر انکے چہروں پر ایک نور اور جلال ہوتا تھا تم ان تمام صفات سے خالی نظر آتے ہو وہ لوگ کہاں چلے گئے تم ان کو لے آؤ میں ان کو خراج دے دوں گا تم کو ایک پائی نہ دوں گا.

کیا یہ سب تاریخ کے افسانے ہیں یا حقیقت بھی ہیں؟ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ کفار کے دلوں پر اہل ایمان کا رعب دبدبہ قائم کردیں گے یہ وعدہ قرآن میں بار بار بیان ہوا ہے.عصر حاضر کہ مسلمان خوشحال ہیں انکے گال پچکے ہوئے نہیں انکے کپڑے شاندار ہیں گھر عالیشان مگر دنیا پر انکی کوئی ہیبت نہیں فارغ البالی،مرفع الحالی،عیش میں اضافہ خوشحالی،ترقی کی آرزو وہی ان کے دینی فہم کا حاصل ہے.عصر حاضر میں نیک کام بھی بدراہ سے ہوتا ہے؟ دینی پروگرام ٹی وی پر دیکھنے کیلیے آپ کو طوائفوں کے اشتہارات کے جھرمٹ سے گزرنا ہوتا ہے بد راہ سے گزر کر دین کا علم ملتا ہے آپ جدید ٹیکنالوجی کا کوئی بھی طریقہ اختیار کریں خیر کے حصول کیلیے آغاز یا انجام شر سے لازماً گزرنا پڑتا ہے کیا ایسا خیر خالص رہ سکتا ہے؟ کیا ایسے غیر خالص خیر سے ایمان کا نور پھوٹ سکتا ہے؟

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ان دنوں مِن حَیثُ القوم ہم ایک دوسرے کی قبریں کھودنے ‘ چیتھڑے اڑانے ‘ طعنہ زنی ‘عیب جوئی اور تذلیل وتحقیر میں مصروف رہتے ہیں اور اس میں ہمیں بڑا لطف آتا ہے‘ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان عادات واقدار کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

(1)”ہلاکت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو منہ پر طعنے دیتا ہے اور پسِ پشت عیب جوئی کرتا ہے‘جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا ‘وہ گمان کرتا ہے کہ اُس کا مال اُسے حیاتِ جاودانی عطا کرے گا‘ہرگز نہیں!وہ ”حُطَمَۃ‘‘ میں ضرور پھینک دیا جائے گا اور آپ کو کیامعلوم ”حُطَمَۃ‘‘کیا ہے ‘وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (جس کے شعلے ) سینوں تک بلند ہوں گے ‘بے شک وہ آگ ان پر ہر طرف سے لمبے لمبے ستونوں میںبند کی ہوئی ہوگی ‘(الہُمَزہ:1-9)‘‘۔ 

تفسیر کبیر میں ہے:”ھُمَزَہ‘‘ سے مراد غیبت کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد عیب جوئی کرنا ‘ ابوزید نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد ہاتھ یا اشاروں سے اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد زبان سے عیب جوئی کرنا ‘ ابوالعالیہ نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد سامنے طعن کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد پیٹھ پیچھے غیبت کرنا‘ ایک معنی یہ بیان کیا ہے کہ ھُمَزَہ سے مراد ظاہراً اور لُمَزَہ سے مراد آنکھ یا ابروکے اشارے سے طعن کرنا ‘ ولید بن مغیرہ ایسے ہی کرتا تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت نفیس انداز میں فرمایا:”اپنے عیب نہ نکالواور(ایک دوسرے کو)برے ناموں سے نہ پکارو‘‘ (الحجرات:11)۔ اس میں نفسیاتی انداز میں بتایا گیا کہ تم جس کے عیب نکالتے ہو‘ وہ تمہارا ہی بھائی ہے ‘ تمہاری ملّت کا ایک فرد ہے‘ کوئی غیر تو نہیں ہے ‘ یعنی اس کی توہین کر کے تم اپنی توہین کر رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(1) ”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو‘ بے شک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگائو اور نہ تم ایک دوسرے کی غیبت کرو‘ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ سو تم اس کو ناپسند کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘(الحجرات: 12)۔(2) ”اور(اے مخاطَب!) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی ٹوہ میں نہ لگ جائو‘ بے شک کان ‘ آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (روزِ قیامت) باز پرس ہوگی‘‘ (الاسرائ: 36)۔اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگانے سے منع فرمایا ‘ حدیث پاک میں اسے ”تجسُّس‘‘اور ”تَحَسُّس‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے:

” رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارا: اے لوگو! جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور (ابھی) ایمان تمہارے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا‘ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائو‘ انہیں عار نہ دلائو‘ ان کی پوشیدہ باتوں کے درپے نہ ہوجائو‘ پس بے شک جو اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ راز کے درپے ہوگا‘اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائے گااور جس کے عیوب کو اللہ ظاہر کر دے ‘وہ رسوا ہوجائے گاخواہ وہ کجاوے میں بیٹھا ہو‘نافع بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرکی نظر بیت اللہ پر پڑی تو انہوں نے کہا: (اے بیت اللہ!)تیری عظمت بے پایاں ہے ‘ تیری حرمت عظیم ہے لیکن ایک (بے قصور)مسلمان (کے خونِ ناحق) کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘ (سنن ترمذی:2032)۔

(2)”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان‘ مسلمان کا بھائی ہے‘ وہ نہ اس پر خود ظلم کرے اور نہ کسی اور کو اس پر ظلم کرنے دے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے‘اللہ تعالیٰ اس کی حاجت براری فرماتا ہے اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی مصیبت دور کی تو اللہ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی مصیبت دور فرمادے گا اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا‘ اللہ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا‘‘ (صحیح البخاری:2442)۔

اسلام نے ایک دوسرے کی پردہ دری اور عیب جوئی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اپنے دین کے دشمنوں کو اپنا رازدار نہیں بنانا چاہیے ‘ اس کا انجام نقصان ہی نقصان ہے ‘ فرمایا:”اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بنائو‘ وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے‘ انہیں وہی چیز پسند ہے ‘جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ‘ان کی باتوں سے تودشمنی عیاں ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے‘ وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے‘ اگر تم عقل سے کام لیتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے نشانیوں کو بیان کردیا ہے‘‘(آل عمران:118)۔بہت سے حضرات اپنا راز دوسروں پر افشا کرتے ہیں اور پھر اُن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اُس پر پردہ ڈالے رہیں ‘ جب ایک شخص خود اپنے رازوں کی حفاظت نہیں کرسکتا تو کسی دوسرے سے توقع رکھنا عبث ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مفاسد کا منبع زبان ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا: (1)”جو مجھے اس چیز کی (شریعت کے تابع رکھنے کی )ضمانت دے گا جو دو داڑھوں اور دو ٹانگوں کے درمیان ہے(یعنی زبان اور شرمگاہ) ‘ تو میں اُسے جنت کی ضمانت دوں گا‘‘ (بخاری: 6474)۔(2)”جو خاموش رہا‘ اس نے نجات پائی‘‘ (سنن ترمذی:2501)۔(3)”جب بنی آدم صبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اعضازبان کے تابع ہوتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ ‘ کیونکہ ہمارے حقوق کی حفاظت تمہارے ذریعے ہے‘ اگر تو صحیح رہے گی تو ہم بھی صحیح رہیں گے اور اگر تو کجی اختیار کرلے گی تو ہم میں بھی کجی آجائے گی‘‘ (ترمذی:2407)۔(4)سفیان بن عبداللہ ثقفی نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے وہ چیز بتائیے‘ جسے میں مضبوطی سے تھام لوں‘ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو:میرا رب اللہ ہے ‘ پھر اس پر ثابت قدم رہو ‘ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے‘ جس سے مجھے سب سے زیادہ خوفزدہ رہنا چاہیے ‘ تو آپ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ(یعنی زبان)‘‘ (ترمذی: 2410)۔(5)”نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپایا‘اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب پر پردہ ڈالے گااور جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ دری کی تو قیامت میں اللہ تعالیٰ اُس کے عیب کو فاش کردے گایہاں تک کہ اُسے اپنے گھر میں رسواکرے گا‘ ‘(سنن ابن ماجہ:2546)۔

اب حکومتِ وقت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اس پر کریک ڈائون کی بات کر رہی ہے ‘ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کا شعار بھی ہماری آج کی حکمراں جماعت نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے رائج کیا اور اب اُسی کاہتھیار اس کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور وہ اس سے بچائو کی تدبیر اختیار کرنے پر مجبور ہے‘ ماضی کی حکومت نے جب سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی تھی تو جنابِ عمران خان نے اس کی شدیدمخالفت کی تھی ‘لیکن : دیر آید درست آید‘ موجودہ حزبِ اختلاف یقینااس کی مخالفت کرے گی ۔ ہمارے سیاسی رہنماہرچیز کے حُسن وقبُح کے بارے میں وقتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج سوشل میڈیا موجودہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا تو اس کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے ‘ اس اقدام کانیک نیتی پر مبنی ہوناصرف اُس صورت میں سمجھا جائے گاکہ حکومت خود بھی اپنے ماضی کے رویے پراظہارِ ندامت کرے اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم کرے تو یہ اقدام قابلِ ستائش ہے ‘ لیکن اگر اپنے خلاف موادپر مواخذہ کرے اور دوسروں کی بدستور تضحیک کرے ‘تو اسی کو چنیدہ انصاف کہتے ہیں؛البتہ جو لوگ اسلام دشمن عناصر بالخصوص قادیانی‘ سیکولرز لبرلز کامہذب انداز میں ردّاور اسلام کا دفاع کرتے ہیں‘ توان پرپابندی کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ ہمیشہ دائمی مفاد پیشِ نظر رہنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی بابت ایک عالم نے کہا: ” فوائد ونقصانات دونوں کے حامل جدید آلات کوان کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کا موازنہ کیے بغیراستعمال نہ کریں ‘ انسان جلد باز ہے‘ وہ مثبت پہلوئوں سے جلد متاثر ہوتا ہے اور منفی گوشوں سے غفلت برتتا ہے۔ ذرائع ابلاغ واشتہارات کے ذریعے جب کسی نئی چیز کا فائدہ اس کے علم میں آتا ہے‘ تو وہ فوراً اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کے منفی پہلوئوں اور نقصانات پر غور نہیں کرتا؛ چنانچہ وہ نتائج سے بے خبر رہ کربتدریج ان کے نقصانات کاشکار ہوجاتا ہے‘‘۔اسلام نے شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے شراب اور جوئے سے اجتناب کے بارے میں یہی اصول تعلیم فرمایا: ”(اے رسول !)وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ آپ کہیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیںاور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ‘‘ (البقرہ:219)۔اسی کو فقہ کی اصطلاح میں ”سدِّ ذرائع‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی دفعِ شر کوحصولِ منفعت پر مقدم رکھنا۔ اس آفت میں بعض دین دار لوگ بھی مبتلا ہوگئے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی فہم میں شر کو خیر کے حصول کا ذریعہ بنارہے ہیں ‘ کیونکہ اُن کے نزدیک اپنے مخالف کا رَد یا اہانت خیر ہے ۔

سوشل میڈیا کے غیر دانشمندانہ استعمال کا نقصان شعارِدین کو بھی ہورہا ہے‘ بعض ایسے لوگ جو اہلیت نہیں رکھتے‘جہاد باللسان یا جہاد بالقلم سمجھ کر اپنے اپنے فتوے صادر کردیتے ہیں اور ردعمل میں لبرل طبقہ چاہتا ہے کہ صریح کفر کے سدِّباب کے لیے جہاں فتویٰ ضروری ہے ‘وہاں بھی پابندی لگا دی جائے‘ تاکہ کفروضلالت کے آگے کوئی شرعی رکاوٹ ہی نہ رہے اور دین بازیچۂ اطفال بن جائے۔ یہ لوگ کچھ حساس و اہم اسلامی قوانین کوبے اثر بنانے کیلئے شہادتِ مردودہ کوبہانہ بنا کرشعوری طور پراسی حربے کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ماضی میں ”اِنِ الْحُکمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘ (یعنی حکم اور فیصلہ تو اللہ ہی کا نافذہو گا)کا نعرہ لگا کر خوارج نے فتنہ برپا کیا‘ جو مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے ‘ اسی حربے کی فتنہ سامانی پرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”یہ کلمۂ حق ہے ‘جسے باطل مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ‘‘۔ الغرض باطل کو حق کے لیے یا حق کو باطل کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

 

ویل ڈن وزیر مذہبی امور

حکومت کا اچھا اقدام

ویل ڈن وزیر مذہبی امور

اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے سیاسی جماعتوں اور کاسہ لیس نام نہاد رہنماوں کے ایم بی ایس کے لیے لگائے گئے خیر مقدمی بینرز اتار دیئے ہیں.یہ اچھا اقدام ہے.ایم بی ایس ریاست پاکستان کے مہمان ہیں کسی شخصیت یا جماعت کے نہیں ہیں.جو خیرات شخصیات یا جماعتوں کو برادر اسلامی ملک سے ملتی ہے وہ.اس کے بغیر بھی ملتی رہے گی.یہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا قابل تعریف اقدام ہے.انکا کہنا بجا ہے کہ ایم بی ایس یہاں کسی مسلک کے مہمان نہیں ہیں بلکہ وہ ریاست پاکستان کے مہمان ہیں.

میں ذاتی طور یہ سمجھتا ہوں کہ ایم بی ایس کےدورے سے پورا پاکستان اور تمام مسالک کے لوگ خوش ہیں.کیونکہ سب کے سب وطن عزیز کو معاشی طور پر ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں.اگر امریکہ کو اب بھی پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے تو یہ اچھی بات ہے.اس میں کوئی ذرا بھی شک نہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے اہم ملک ہےاور دفاعی اعتبار سے مضبوط ترین ہے.روس کی شکست ہو یا امریکہ کی افغانستان کو گود میں لینی کی حسرت اس کے سامنے جس ریاست نے بند باندھا ہے وہ یہی ریاست ہے.یہ وہ ریاست ہے جس کو پتھروں کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی گئی اور اسکی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کی گئی لیکن اس ریاست کےجوشیلے اور قوت ایمان سے لبریز مجاھدوں نے ہر خواب کو خاک میں ملا دیا.آج جنرل باجوہ اور عمران خان کی قیادت میں یہ ملک جنوبی ایشیا کی ایک مستحکم اقتصادی قوت بننے جارہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ولی عہد کا دورہ سنگ میل ثابت ہوگا اس لیے ہم سب اس دورہ کی حمایت کرتے ہیں.

البتہ کچھ تحفظات ہیں جن کی وجہ سے ہم پریشان ہیں کہ ڈالروں کے عوض ہمیں یمن کی جنگ میں نہ جھونک دیا جائے, ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ڈالرز ایک ٹول کے طور پر استعمال نہ کیے جائیں اور ہمیں کہیں اپنے برادر اسلامی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ الجھا دیا جائے.یمن کی جنگ کے حوالے سے پاکستان نے ماضی میں ایک اعلی موقف اپنایا ہے امید ہے اسی موقف پر قائم رہے گا.ہم اسرائیل کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے اور ایران کے ساتھ جنگ کو ہم یہ سمجھیں گے کہ پاکستان اپنے خلاف جنگ کر رہا ہے.اس لیے یہ بڑے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری قیادت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو عوام کے جذبات کا خون کرے.ہم ایسے کسی غلط فیصلے کی اپنی قیادت سے توقع نہیں کرسکتے.

جہاں تک اقتصادی امداد کا تعلق ہے وہ.سعودی عرب کو ہر اسلامی ملک کی کرنی چاہیے.خون مسلم کو بہنے سے بچانے کے لیے سعودی عرب کو اہم اقدامات اٹھانے چاہییں.خطے میں اسلامی ممالک کی اسے نمائیندگی کرنی چاہیے.اگر سعودی عرب اسلام مخالف قوتوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر اسلامی ملک اسکی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا.ہم سب کو اپنا قبلہ درست رکھنا چاہیے.

طالب دعاء.

گلزار احمد نعیمی

Brexit

Brexit

برطانیہ عظمیٰ یعنی Great Britainکسی وقت سپر پاور تھا اور کہا جاتا تھا: ”اس کی حدودِسلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا‘ ایک خطے میں سورج غروب ہورہا ہوتا تو دوسرے میں طلوع ہورہا ہوتا ‘‘۔ امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ ‘ برصغیر پاک وہند‘ ہانگ کانگ اور افریقا کے کئی ممالک اس کے زیر نگیں تھے‘ پھر اس کے عالمی اقتدار کا سورج بتدریج غروب ہوتا چلا گیااور جنگ عظیم دوم کے بعد اس سمٹائو کی رفتار تیز تر ہوگئی ۔آج کا برطانیہ چار اکائیوں پر مشتمل ہے : انگلینڈ‘ ویلز‘سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ۔سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں بھی یو کے سے علیحدگی کی تحریک موجود ہے‘ مستقبل میں ‘اگر یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں تو برطانیہ انگلینڈ اور ویلزتک محدود ہوکر رہ جائے گا۔

یورپین یونین نومبر1993ء میں قائم ہوئی‘ یونین کے قیام کے بعداس کے رکن اٹھائیس ممالک الگ الگ خود مختار ریاستیں رہنے کے باوجود ایک مشترکہ منڈی میں شامل ہوگئے ہیں۔اس میں چار چیزوں کی آزادانہ نقل وحرکت کی ضمانت دی گئی ہے ‘یعنی؛ سامانِ تجارت‘ سرمایہ‘ خدمات اور لیبر‘ ان اٹھائیس ممالک کے درمیان کسٹم اور امیگریشن کی چیک پوسٹیں نہیں ہیں ۔ برطانیہ یورپین یونین کے قیام کے باوجود کافی عرصہ الگ تھلگ رہا‘ مگر آخر کار 1998ء میں یونین میں شامل ہوگیا‘ تاہم اس نے اپنی کرنسی پائونڈ سٹرلنگ برقرار رکھی۔

اس کے نتیجے میں برطانیہ میں یورپی یونین کے لوگوں کی آزادانہ آمد شروع ہوئی‘ پولینڈ ودیگر ممالک سے سستی لیبر کی درآمد ہونے لگی‘ سوشل ویلفیئر کے شعبے پر بھی دبائو پڑا۔ انگریزوں کے اندر اپنے ماضی کے اعتبار سے برتری اور تفاخر کا ایک احساس تھا ‘ انہیں خدشہ لاحق ہوا کہ یورپ کی وسیع تر وحدت میں کہیں ان کی انفرادیت اور امتیاز گم نہ ہوجائے‘ سو بوجوہ یونین سے علیحدگی کی تحریک چلی اور آخر کار23جون 2016ء کو اس مسئلے پر ریفرنڈم ہوا‘ جذباتی فضا میں عواقب پر نظر رکھے بغیر محض دو فیصد کی اکثریت سے علیحدگی کا فیصلہ ہوا ۔ یورپین یونین سے علیحدگی کا عمل بھی کافی پیچیدہ ہے اور اسی لیے اس عمل کے مکمل ہونے کے لیے کافی وقت رکھا گیا ہے۔ اُس وقت کے مقبول وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون علیحدگی کے حق میں نہیں تھے‘ ریفرنڈم کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آیا تو انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفا دے دیا‘ تاکہ یورپین یونین سے علیحدگی کی مہم ایک نئی قیادت انجام دے۔

ٹرِسامَے نئی وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور ان کی قیادت میں بریگزٹ کا عمل شروع ہوا۔ بریگزٹ Britishکے مخفَّفBR اور Exitکا مرکب ہے ‘اس کے معنی ہیں: ”یورپین یونین سے برطانیہ کا خروج‘‘۔ عربی کا محاورہ ہے :”قَدِّمِ الْخُرُوجَ قَبْلَ الْوُلُوْج‘‘یعنی داخل ہونے سے پہلے نکلنے کی بابت سوچو کہ اگر کہیں اس کی نوبت آگئی تو تدبیر کیا ہوگی‘ اس کو ہم یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں:”کسی کام کے آغاز سے پہلے انجام کی سوچو‘‘۔انگریزوں کی بابت ہمارے ہاں مشہور ہے کہ سو سال بعد کی سوچتے ہیں‘ شاید یورپین یونین میں شمولیت کے وقت وہ یہ نہ کرسکے۔ 

ٹرِسامَے کو آج یہی مشکل درپیش ہے ‘انہوں نے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد یورپین یونین کے ساتھ یونین سے علیحدگی کا جو معاہدہ ”بریگزٹ ڈیل‘‘ کے عنوان سے طے کیا‘ برطانوی پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دینے سے انکار کردیا‘ پھر اس میں چند ترمیمات پیش ہوئیں‘ مگر پارلیمنٹ نے انہیں بھی رد کردیا‘ آخر میں صرف ایک ترمیم کی منظوری ہوئی: ”No Brexit with out deal‘‘ یعنی ڈیل کے بغیر بریگزٹ نہیں ہوگی‘ جبکہ بظاہر تا حال No Dealکے آثار زیادہ ہیں۔ ٹرِسامَے ہاتھ پائوں مار رہی ہیں ‘ان کی حالت قابلِ رحم ہے ‘ لیکن یورپین یونین ڈیل پرنظرثانی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انگریزوں نے سوچا نہیں ہوگا کہ ایسی بند گلی میں بھی پھنس سکتے ہیں۔

در اصل دو ایسے تضادات ہیں‘ جن میں بیک وقت تطبیق آسان نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ یورپین یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ اور یونین کے دیگر ممالک کے درمیان کسٹم ڈیوٹی اور امیگریشن چیک پوسٹ کے روایتی اصول لاگو ہوں گے‘افراداور سامان کی بلا روک ٹوک اور آزادانہ نقل وحمل کی سہولت ختم ہوجائے گی‘ الغرض برطانیہ یونین کے دوسرے ممالک کے لیے اجنبی ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ برطانیہ اورجمہوریہ آئر لینڈ کے درمیان 2003میں ”Good Friday Agreement‘‘کے نام سے یہ معاہدہ طے پاچکا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اورشمالی آئر لینڈکے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ نہیں ہوگی اور لوگوں کی دونوں طرف آمد ورفت اور سامان کی نقل وحمل آزادانہ رہے گی ۔ آئر ش قوم کے یہ دونوں حصے خشکی پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں‘ جبکہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان سمندر ہے ۔ آئر لینڈ کے دونوں حصوں کی صورت ایسی ہی ہے‘ جیسے ہمارے قبائلی علاقہ جات میں افغانستان کے لوگوں کی آمد ورفت کسٹم اور امیگریشن کے بغیر جاری رہتی ہے ‘ کیونکہ دونوں طرف ایک ہی قبائل کے لوگ رہتے ہیں۔واضح رہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ آزاد ملک ہے اور بدستوریورپین یونین کا رکن ہے اور شمالی آئر لینڈ برطانیہ کے زیر اقتدار ہے۔

شمالی آئر لینڈ برطانیہ کا حصہ ہے ‘لہٰذا اب بریگزٹ کے بعد یونین قوانین کا تقاضا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان باقاعدہ ہارڈکسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹیں ہوں ‘ سامان کی آزادانہ نقل وحمل اور دونوں طرف کے لوگوں کی آزادانہ آمد ورفت موقوف ہوجائے‘ جب کہ شمالی آئر لینڈ کے لوگ اس پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گے‘ ماضی میں فسادات ہوتے رہے ہیںاوراگرآئر لینڈ کے دونوں حصوں کے درمیان سامان اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل اور آمد ورفت جاری رہتی ہے تو یورپین یونین کا مطالبہ ہے کہ برطانیہ اور یونین کے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ کے لیے کوئی بیک اپ لائن ہونی چاہیے‘ جبکہ ٹرسامَے کہتی ہیں کہ ہم سمندر میں لائن کیسے کھینچ سکتے ہیں‘ کیونکہ ایک ہی ملک ہے۔ 

سو‘ اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے اور ٹرِسامے مشکل میں ہے۔ پس آج ماضی کی سپر پاور کا المیہ یہ ہے کہ بریگزٹ اُس کے گلے کا چھچھوندر بنا ہوا ہے‘ نہ نگلا جارہا ہے اور نہ اگلا جارہا ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں گارڈین اخبار نے لکھا: ”یہ مذاکرات بے خبر لوگوں کے لیے کسی تیاری کے بغیر نامعلوم ایجنڈے کے تحت نامعلوم نتائج حاصل کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں ‘‘۔ 

ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جہل کو فروغ دینے کے لیے شہباز شریف‘ عبدالعلیم خاں ‘شیخ رشید اور فواد چودھری ایسے اہم موضوعات میں اتنا مصروف ہے کہ نئی نسل کوعالمی مسائل کے بارے میں آگہی دینے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور شاید ہمارے کالج اور یونیورسٹی سطح کے نوجوان طلبہ بھی عالمی امور کی ان نزاکتوں سے آگاہ نہیں ہوں گے ۔

فطرت سے بغاوت: کیتھولک مسیحیت میں ان کے مذہبی پیشوامرد وزن تجردکی زندگی گزارتے ہیں‘ شادی نہیں کرتے‘ وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی تھی‘ یہ لوگ رُہبان (راہب کی جمع) اور راہبات (راہبہ کی جمع)کہلاتے ہیں اورانگریزی میں انہیں Monksاور Nunsکہتے ہیں‘ یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کریمﷺ کے امتی کی حیثیت سے قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے :”شادی بھی کریں گے‘‘۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”یہ تمہارے لیے کیسامقامِ افتخار ہوگا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘ (مسند احمد: 7680)۔بالفرض شادی کی روایت سے کسی کو اختلاف بھی ہو تو وہ نبی ہیں اور نبی معصوم ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا نے جب حضرت مریم کے حجرۂ عبادت میں اُن کے پاس بے موسم کا تازہ پھل دیکھا ‘ تو اُن کے دل میں امنگ پیدا ہوئی کہ جوقادرِ مطلق بے موسم کا تازہ پھل عطافرماسکتا ہے ‘ وہ بڑھاپے میں اولاد بھی عطا فرماسکتاہے۔سو‘ انہوں نے اولاد کے لیے دعا کی اور اس کی قبولیت کی بابت قرآنِ کریم میں ہے: ” بے شک اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے‘ جو کلمۃ اللہ (حضرت عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘سردار ہوں گے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور نیک لوگوں میں سے نبی ہوں گے ‘‘ (آل عمران:39)۔پس غیر ِنبی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصیات پرقیاس نہ کرے۔سیدنا محمد ﷺ کی بھی بہت سی خصوصیات وامتیازات ہیں‘ جو امت کے لیے واجب الاتباع نہیں ہیں‘ جیسے: ایک وقت میں چار سے زیادہ ازواجِ مطہرات کا نکاح میں ہونا‘ افطار کیے بغیر پے در پے روزے رکھنااور تہجد کی نماز کااضافی ہوناشامل ہے۔ اس لیے سنت صرف آپ ﷺ کے اُن اقوال‘ افعال اور احوالِ مبارکہ کو کہتے ہیں ‘جو امت کی اتباع کے لیے ہیں۔

عیسائی مذہبی پیشوائوں کا تجرُّد کا شعار فطرت کے خلاف ہے اور ان کے منفی نتائج کا برآمد ہونا ناگزیر ہے ؛ چنانچہ اب کیتھولک عبادت گاہوں میں بچوں اور خود ان کی راہبات (Nuns)کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں۔ پہلے تو کیتھولک چرچ ان جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا تھا‘ لیکن کچھ عرصے سے مغربی پریس نے ان واقعات کو بہت زیادہ اچھالنا شروع کردیاہے‘لہٰذا اب کیتھولک مسیحیت کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پراعتراف کیا ہے کہ راہبات کو جنسی غلام بنا لیا جاتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ مسیحی چرچ اس پر غور کرے اور اپنے راہبوں(Monks) اور راہبات (Nuns) کو شادیوں کی اجازت دے‘ تاکہ چرچ میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا سدِّباب ہوسکے۔ قانون فطرت سے انحراف منفی نتائج کو جنم دیتا ہے‘ آپ پانی کے فطری بہائو کو روکیں گے تو وہ کسی اور جانب سے اپنا راستہ بنالے گا۔

الحمد للہ علیٰ احسانہٖ! میرے فتاویٰ کا مجموعہ ”تفہیم المسائل ‘‘ کے عنوان سے دس مجلّدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے‘ گیارہویں جلد زیر ترتیب ہے اور روزنامہ دنیا میں مطبوعہ کالموں کا مجموعہ ”آئینہ ایام‘‘ کے نام سے پانچ مجلدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے اور ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور/کراچی سے دستیاب ہے ‘ تفہیم المسائل کا مجموعہ خواجہ بک ڈپو جامع مسجد دہلی کے زیر اہتمام انڈیاسے بھی شائع ہوچکا ہے ۔الحمد للہ! ہمارے کالموں اور تحریروںکے قارئین دیگر ممالک کے علاوہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھی کافی تعداد میں ہیں ‘ ان کے ساتھ برطانیہ کے دوست علماء کے توسط سے ہمارابالواسطہ رابطہ ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی