مولانے

مولانے

نام لکھنے کی ضرورت نہیں ‘ آپ خود سمجھ جائیں گے کہ اتنا ”شیریں دہن‘‘ معروف دانشورکون ہے‘ ان سے کسی مولانا کے حوالے سے سوال ہواتو وہ بھرے بیٹھے تھے ‘ چھلک پڑے۔ کافی عرصے سے ٹیلی ویژن کے پروگرام نہیں دیکھ رہا ‘ بس صرف ہیڈ لائنز اورٹِکرزپر اکتفا کرتاہوں۔موصوف اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں ‘ اپنی دانش پر افتخاراوردوسروں کی توہین اُن کا پسندیدہ شیوہ ہے۔اس سے شاید انہیں قلبی سکون ملتا ہے ۔بعض لوگ فطرتاً مردم آزاروآدم بیزار ہوتے ہیں‘ جنابِ شاہنواز فاروقی کے کالم میں درج ذیل اقتباسات پڑھے ‘ آپ بھی ان کے افکار سے لطف اندوز ہوں:

”یار خدا کا واسطہ! یہ” مولانے‘‘ مسلمانوں کو جینے دیں‘ انہیں زندہ رہنے دیں‘ یہ ہمارے بچوں کو مغرب سے مقابلہ کرنے دیں‘ احسان کریں‘ کس بات کا انتقام لے رہے ہیں یہ ہم سے۔ بیڑہ غرق ستیاناس مسلمانوں کا تب سے شروع ہوا جب مولانا اسلام نے کہا پرنٹنگ پریس نہیں چاہیے‘ہم صدیوں پیچھے چلے گئے‘ پہلا میڈیکل کالج‘ مولانا نے کہا: نہیں یہ غیر اسلامی ہے۔ صبح کرتے ہیں‘ یہ فلش سسٹم‘ٹوتھ پیسٹ‘یہ سب اہلِ مغرب لائے‘سمجھ آئی بات۔ کوئی کنویں کھودنے والے( یعنی مسلمان)نہیں‘ یہ ہینڈ پمپ گورا لایا تھا‘ یہ رحم کریں ہم لوگوں پہ‘ بیمار ہوتے ہیں پہنچ جاتے ہیں ہسپتال‘ کوئی ایک دوائی‘ کوئی وہ جسے سرجیکل کہتے ہیں‘آلات‘ مشین‘ وہ تمہاری میری بنائی ہوئی ہیں‘شرم نہیں آتی‘ اس سے تو بہتر ہے مر جائیں۔ہسپتال جانے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود کو مغرب کے رحم و کرم پہ ڈال دیا‘ سارے ٹیسٹ وغیرہ یہ وہ۔جہاز پر بیٹھتے ہیں حج اور عمرہ کا ثواب کمانے‘ تو یار کوئی توپانچ فیصد ثواب اُس (کافر)کو بھی دے دو جس نے تمہیں Facilitateکیا۔ عمریں بیت جاتی تھیں حج اور عمرہ پہ جاتے ہوئے‘ واپس آتے ہوئے اور پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ واپس لوٹے گا کہ نہیں‘اب ہماری زیادہ تر مسجدیں ماشا اللہ ائرکنڈیشنڈہیں‘ وہاں بیٹھ کے پرسکون طریقے سے اب آپ نماز ادا فرماتے ہیں۔ بجلی انہوں نے دی جس کے صدقے یہ گفتگو ہورہی ہے اور کروڑوں لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ ریل اور کار‘ اس پہ تشریف رکھ لیتے ہیں اور کروزوں پہ ہاں‘ سائیکل سے لے کرسیٹلائٹ تک اہلِ مغرب نے‘پولٹری سے لے کر ہائی برِڈ سیڈ تک‘ ٹی وی سے لے کرسپر کمپیوٹرتک‘سمارٹ فون سے لے کر خون کی تبدیلی تک انہوں نے دی‘ کوئی شرم حیا ہمیں نہیں آتی۔انجکشن جس کا مذاق اڑایا تھا ”ملا حضرات‘‘ نے‘لائوڈ سپیکر کا مذاق اڑایا‘ اسے شیطانی آلہ قرار دیا۔ڈسپرین سے لے کرلیور ٹرانسپلانٹ تک۔ میں دعاگو ہوں اللہ ان کی صحت درست رکھے‘ چلتے پھرتے جائیں‘ لیور ٹرانسپلانٹ کی نوبت نہ آئے۔ خدا کا خوف کرو‘ روبوٹ سے لے کر مریخ تک جانا ہے‘ یہ ہمارے پلے کیا ہے‘ یہ جو عہدِ حاضر ہے اس میں مسلمانوں کی بنی نوع انسانی کے لیے ایک کنٹری بیوشن بتائو او زندگیاں تم ان کے صدقے گزار رہے ہو۔ترکی سے انہوں نے برباد‘ سلطنت عثمانیہ‘ خلافت عثمانیہ‘ تین کانٹی نینٹ پہ حکومت‘ انہوں نے مسلمانوں کو ایسا ریورس پر ڈالا‘ ان کے نزدیک پتا ہے کیا ہے مغرب۔ننگی ٹانگیں اور حجاب نہ ہونا یا الکوحل اور نہیں ہے۔ ایڈیسن نے اپنی زندگی دے دی‘ ہمیں ایک ہزار سے زیادہ ایجادات دینے کے لیے‘ ان کو یہ کیوں نہیں لگتا‘ ان کے دماغوں میں اہلِ مغرب بھی مخلوق ہے میرے رب کی مخلوق ہے۔ قرآن ایک وزڈم بتاتا ہے‘ لکھا ہے:بے شک تم غالب آئوگے اگر تم مومن ہو‘غالب ہمیشہ وہ ہوتا ہے جو مومن کے قریب تر ہواور ہم جھوٹے لوگ ہیں۔ ہمارے یہاں خالص چیز کوئی نہیں ملتی‘ وہاں ملاوٹ کا تصور ہی نہیں ہے‘ دو نمبر فیکٹریاں ہیں‘ ملک لوٹ کر باہر جاتے ہیں‘ او تم کرتے کیا ہو؟ اور گالیاں اہلِ مغرب کو‘او کس بات پہ ہم ایٹمی طاقت ہیں‘ تم ایٹمی طاقت کہاں سے ہو‘ یہ تو سیکنڈورلڈ وار میں ایک پرزہ‘ ایک آلہ‘ یہ اسلحہ‘ یہ تواستعمال ہوچکا‘ اس سے پہلے اسے Conceiveکیا گیا تھا‘بنالیا گیا‘پھر یہ ہیروشیما‘ ناگاساکی یہ تو پھر۔ تو ہم ایٹمی طاقت‘ ٹینک‘ یہ جتنا ماڈرن ہتھیارہے‘ کدھر ہے‘ یہ کون لوگ ہیں‘ اہلِ مغرب‘ اوئے اہل مغرب سے مقابلہ کرنے کے لیے بچے تیار کرو اپنے‘ اپنے بچے تیار کرو ورنہ ہمارے بچے ان کے قدموں تلے روند دیے جائیں گے‘ جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ او اعلیٰ تعلیم کے لیے جاتے کہاں ہو تم‘ تمہارے تو پورے ملک میں اعلیٰ تعلیمی ادارہ ڈھنگ کا نہیں ہے‘یہ میرا بلڈ پریشر تباہ کرنے کے لیے تم نے یہ سوال کیا ہے‘ مولانا خدا کا خوف کرو‘ ڈرو اس طرح کی باتیں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری نظر میں روزِ محشر نہیں ہے‘ انصاف نہیں ہونا‘ اس کا مطلب یہ ہے‘ اہلِ مغرب موریلٹی میں‘ اخلاقیات میں بلند ترین مقام پر فائز ہیں‘ میں کہہ رہا ہوں‘ دو فتویٰ میرے خلاف اور ہمارے قدم قدم پر تمہارے الیکشن جھوٹے‘ خود کہہ رہے ہو‘ تمہاری اسمبلیاں جھوٹی‘ ہمارے الیکشن فراڈ‘تمہارا وزیراعظم‘ تمہارا سب کچھ غلط‘ ان کا سب کچھ صحیح‘ پھر اہلِ مغرب او ان کی نقل کرلو‘ زندہ رہ لو‘ کیوں ہم کو برباد کررہے ہو‘‘ ۔

اس عہدِ تنزُّل میں بھی ہمارے لبرل سیکولر اسلام بیزار دانشور اپنی شدید خواہش کے باوجود اسلام پر براہِ راست حملہ کرنے کی جسارت نہیں کرپاتے ‘تو علامت کے طور پر کسی مولانا کا ہیولیٰ ذہن میں تشکیل دے کر سنگ باری فرماتے ہیں ۔اگر نشانے پر کسی دوسرے مسلک کا عالم ہے ‘تو مخالف مسلک کے لوگ خوش ہوتے ہیں ‘ یہ نہیں سوچتے کہ ہدف شخص نہیں ہے ‘اس کا نام توعلامت کے طور پر لیاجارہا ہے ‘اصل ہدف دین اور اسلام ہے ‘ پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کا سیلابِ بلا خیز آنے کے بعد مُصلحِ اعظم بن کرسٹوڈیوز میں یہی اینکر پرسنزبراجمان ہیں ‘ لیکن پھر بھی قصور وار ”مولانے ‘‘ ہیں۔ 

آپ اس کالم کو بار بار پڑھیے ‘اس کاTheme یا مرکزی خیال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ یا پاکستان کے زوال کا سبب دینی طبقات ہیں ۔ پاکستان کی حد تک ستر سال میں دینی طبقات تختِ اقتدار پر کب فائز ہوئے ہیں‘ نظامِ حکومت کی ڈرائیونگ سیٹ پر کب بیٹھے ہیں ‘ کیا ریاست کے زیرِ انتظام یا پرائیویٹ سیکٹر میں یونیورسٹیوں کے ریکٹر یا وائس چانسلر ”مولانے‘‘ ہیں تاکہ انہیں کوس کر تسکین حاصل کی جائے۔ نظام تو روزِ اول سے سیکولر لبرل طبقات کے پاس ہے ‘ اسٹیبلشمنٹ پر انہی طبقات کو غلبہ حاصل ہے ‘وہی الیکشن کراتے ہیں‘ تخت پر بٹھاتے اور اتارتے ہیں‘ کیا ملک کی پالیسیاں ”مولانے‘‘بناتے ہیں‘ کیا ملک کے زوال کا سبب ”مولانے‘‘ ہیں‘ کیا ہمارے ہاں سائنسی ایجادات ‘ فنی ترقی ‘ معاشی استحکام کے نہ ہونے اور سیاسی انتشار کا سبب فقط دینی طبقات اور”مولانے ‘‘ہیں ۔ کیا ملک کو مذہبی طبقات نے لوٹا ہے ‘کیا قومی خزانوں کی کنجیاں ہمیشہ ان کے پاس رہی ہیں۔ کیا کسی ایک قومی انتخاب میں بھی قوم نے کلی اقتدار دینی طبقات کو سونپا ہے تاکہ انہیں کوسنے کا جواز مل جائے۔ باستثنائے انقلابِ ایران‘ جو داستان پاکستان کی ہے وہی تمام مسلم ممالک کی ہے ‘ کیا ستاون مسلم ممالک کے صدور ‘وزرائے اعظم‘ آمرین اور ملوک وسلاطین ”مولانے‘‘ ہیں۔ کیا کسی ”مولانا ‘‘کے ٹرین یالائوڈ سپیکر کی مخالفت کرنے سے ان دونوں چیزوں کا برصغیر میں چلن موقوف ہوگیا تھا۔ کیا ملک کو غریبوں‘ مفلسوں اور ناداروں نے لوٹا ہے یا انہوں نے جن کے پاس حدیث پاک کے مطابق سونے کی ایک وادی ہے تو دوسری کی تمنا ‘دو ہیں تو تیسری کی تمنا انہیں بے چین کیے رہتی ہے ‘ کوئی بتائے کہ ان بالادست طبقات میں ”مولانے‘‘کتنے ہیں ۔ نفرت کرنا آپ کا اختیارہے ‘ لیکن خدارا! انصاف پر مبنی بات کیجیے‘ دینی مدارس نے ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جن پر مغرب کی یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی ہورہا ہے۔ دین سے آپ کو نفرت ہے تو براہِ راست اپنا مؤقف بیان کیجیے‘ ہاتھ گھماکر کان پکڑنے کا تکلف کیوں ‘ کیا ملک کے بڑے سرمایہ دار ‘ جاگیر دار وزمیندار‘ سیاسی مقتدرین اور اسٹیبلشمنٹ کے ستون ”مولانے‘‘ ہیں ‘اہلِ دین کی اکبر الٰہ آبادی کی زبان میں ایک عاجزانہ سی التجا ہوتی ہے :

جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو

اللہ کو اور اس کی حقیقت کو نہ بھولو

کیا ایسا ہوا ہے کہ آپ مریخ کی طرف پرواز کررہے تھے اور کوئی مولانا آپ کے راستے میں رکاوٹ بن گیا‘آپ نے سائنسی ایجادات اور فنی کمالات کا ہمالیہ کھڑا کردیا اور کسی مولانا نے انہیں آگ لگادی‘ اُن پر پردہ ڈال دیا ‘ انہیں چرا لیا اوراُن کی نفی کردی ۔ مولانا ئوںکے بھی قصور یقینا ہوں گے‘ لیکن جو سوال یونیورسٹیوں سے کرنا چاہیے ‘وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ جو وقت کے اہلِ اقتدار اورعدالت سے کرنا چاہیے ‘ وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ جو خود سے کرنا چاہیے وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ علامہ اقبال نے کہا ہے: 

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے‘ وہ خطا کیا ہے!

موصوف کو علامہ اقبال سے بھی بہت نفرت ہے ‘لیکن ہر خطیب اور لکھاری کی مجبوری ہے کہ عنوان کوئی بھی ہو‘ مشکل میں اقبال کام آتے ہیں ‘ موصوف نے اُن پر بھی چاند ماری فرمائی ہے۔

اہلِ دانش سے گزارش ہے کہ ”مولانوں‘‘ کے جرائم کی فہرست ایک ہی بار اور ایک ہی جگہ مرتب کر دیجیے تاکہ ان کواپنا جائزہ لینے اور اصلاح کرنے کا موقع مل سکے ‘ وہ بھی اپنے اندر جھانک سکیں اور اپنی کوتاہیوںکا ازالہ کرسکیں ‘ لیکن زندگی کو جرم بنادیا جائے اور ”بے خطائی‘‘کو خطا قرار دے کر سزا دے دی جائے ‘ تو اس کا حل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ جب تحریکِ پاکستان چل رہی تھی ‘ تو یہی ”مولانے‘‘ صفِ اول میں تھے ‘ استاد قمر جلالوی نے کہا تھا:

اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں

اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں

سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی

یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

آپ کی وفا کا تقاضا یہ ہے کہ جن کے آپ قصیدے پڑھ رہے ہیں‘وہ آپ کو اپنے دیس اوراس دنیا کی جنت میں لے جائیں تاکہ ”مولانوں‘‘ سے آپ کی جان چھوٹے ‘ہمہ وقت کڑھنے سے آپ کو راحت ملے ‘وہاں لذتوں کے بڑے سامان ہیں ‘ الکوحل بھی پانی کی طرح دستیاب ہے ‘ عریاں نظارے ‘ رقص وسرود‘عَشوَہ وطرَب ‘ رنگ ونور ‘الغرض !کیا ہے جو وہاں نہیں ہے ‘سونے پر سہاگہ یہ کہ وہاں ”مولانے‘‘ بھی نہیں ہیں۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

تحریر : سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی

صدر المدرسین : دارالعلوم محبوبِ سبحانی، کُرلا ویسٹ، ممبئی

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اؤتُمِنَ خَانَ [الصحیح للامام البخاری ، کتاب الایمان ، باب علامۃ المنافق ، رقم الحدیث: ۳۳]ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں [۱] جب بات کرے تو جھوٹ بولے [۲] جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے[۳] جب اُس کے پاس کوئی امانت رکھی جاے تو اُس میں خیانت کرے ۔یعنی مسلمان کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ جھوٹ بولے ، وعدہ خلافی کرے اور امانتوں میں خیانت کرے ۔ ایسا کرنا تو منافقوں کا کام ہے جو کہ اللہ و رسول پر ایمان نہیں رکھتے ؛لیکن جو لوگ اللہ و رسول پر یقینِ کامل رکھتے ہیں وہ صداقت کے پیکر ہوتے ہیں ، کیے ہوے وعدہ کو پورا کرنا اُن کی فطرت ہوتی ہے اور وہ خیانت سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔حدیثِ پاک میں آقاے دو عالَم ﷺنے اسلام کے بنیادی اوصاف بیان فرماے ہیں ، اِسی لیے بعض روایتوں میں یہ آیا کہ جو لوگ اِن اوصاف سے عاری ہوں وہ مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ، اگرچہ وہ نمازی ، روزے دار اور مدعیٔ ایمان ہوں ۔

کچھ نادانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دین صرف چند فرائض و واجبات پر عمل کر لینے کا نام ہے ۔ نماز پڑھ لی ، روزے رکھ لیے ، حجِّ بیت اللہ کے ساتھ ہر سال ایک عمرہ کر لیا اور زکوٰۃ کے نام پر کچھ رقم غریبوں اور مسکینوں کو دے کر فارغ ہو گیے۔ایسے جاہلوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اِن باتوں کے علاوہ ہم سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں ہوگا ۔ اِسی لیے بہت سے نمازیوں اور روزے داروں بلکہ حاجی صاحبان کو جھوٹ بولتے ، مکاری کرتے ، ناجائز طریقے سے تجارت کرتے ، امانت میں خیانت کرتے ، گالی گلوج کرتے ، سودی کاروبار کرتے ، رشوت خوری کرتے ،ناپ تول میں کمی کرتے اور بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا دیکھا جاتا ہے جن کی مذہبِ اسلام میں ایک ذرّے کے برابر ایک لمحہ بھر کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ایسے لوگ نماز ، روزہ اور حج و زکوۃ کا اہتمام کرکے ، سر پر ٹوپی رکھ کر یا عِمامہ باندھ کراور چہرے پر ڈاڑھی سجا کرخود کو بہت بڑا متقی وپارسا خیال کرتے ہیں حالانکہ دیگر ناجائز کاموں اور حرام کاریوں میں مبتلا ہونے کے سبب یہ لوگ بد ترین فاسق و فاجر ہوتے ہیں ۔

جو چیزیں مومن کو فاسق و فاجر بنا کر کمالِ ایمان سے بہت دور کر دیتی ہیں ،اُن میں سے تین اہم چیزوں کا ذکر حدیثِ مذکور میں کیا گیا ہے ، جن کے اندر یہ تینوں باتیں ہو ں وہ منافقوں جیسے کام کر رہے ہیں ، ایسے لوگ صحیح معنوں میں مومن کہلانے کا حق نہیں رکھتے ۔عام مسلمان کے ذہنوں میں حدیثِ پاک میں مذکور تینوں عیبوں کا تصور بہت ہی محدود ہے ، حالاں کہ اِن کے مفہوم میں بہت زیادہ وسعت ہے ، اتنی وسعت کہ اگر کوئی انسان زندگی کے تمام شعبوں میں اِن تینوں برائیوں سے بچتا رہے تویقینا وہ اللہ رب العزت کا صالح بندہ اور حضور ﷺ کا سچا غلام ہوگا ۔

نفاق کی سب سی پہلی علامت ’’جھوٹ بولنا‘‘ ہے ۔ جھوٹ بولنا حرام و ناجائز ہے ۔ایسا حرام و ناجائز کہ آج تک کسی بھی قابلِ شمار مذہب و مسلک میں اِسے جائز و درست قرار نہیں دیا گیا ، حتی کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی اِسے بہت برا سمجھتے تھے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے کفار و مشرکین سیکڑوں قسم کی برائیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود جھوٹ جیسی بیماری سے بدرجۂ غایت نفرت کیا کرتے تھے ۔ گناہوں کا پلندہ ہونے اور رب تعالیٰ کی توحید کے انکاری ہونے باوجود کذب بیانی سے کوسوں دور رہا کرتے تھے ؛ کیوں کہ خلافِ واقعہ بات کرنا اُن کی غیرت کے خلاف تھی ۔

مگر افسوس صد افسوس!کہ دیگر مہلک امراض کی طرح ’’کذب بیانی ‘‘کے خطرناک جراثیم بھی امتِ مسلمہ کی رگوں میں داخل ہو چکے ہیں ۔ عجیب تماشا ہے ! لوگ اِس دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں کہ گویا یہ گناہ ہے ہی نہیں ۔ اکثر مسلم آبادی جھوٹ میں اِس قدر گرفتار ہے کہ اگر سروے کرکے کذب بیانی کا فی صد نکالا جاے تو تقریباً مسلمانوں کی ۲۰ پرسنٹ سے زائد باتیں جھوٹی اور خلافِ واقعہ نکلیں گی۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے بڑوں سے ، بڑے چھوٹوں سے ،بچے ماں باپ سے ، والدین اپنے بچوں سے ،طلبہ اساتذہ سے اور اساتذہ اپنے طلبہ سے ،تاجر گاہکوں سے اور گاہک اپنے تاجروں سے ،دوست دوست سے اور پڑوسی اپنے پڑوسی سے جھوٹ بولنے میں نہ عار محسوس کرتے ہیں نہ کسی قسم کی جھجھک ۔ یہ جھوٹ اِس قدر تیزی کے ساتھ مسلم معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے کہ اب وہ لوگ جو با قاعدہ حلال و حرام کی تمیز کرتے ہیں ، جائز و نا جائز پر نگاہیں رکھتے ہیں اور شریعت پر چلنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اُنھوں سے بھی جھوٹ کی بہت سی قسموں کو حرام و ناجائز ہونے سے خارج سمجھ لیا ہے ؛ کیوں کہ اُن کے گمانِ باطل کے مطابق وہ چیزیں جھوٹ میں داخل ہی نہیں ہیں ۔ اِس لیے ہر صاحبِ ایمان پر لازم و ضروری ہے کہ جھوٹ کی تمام صورتوں کو جانے ، پہچانے اور پھر اُن سے بچنے کی کامیاب کوشش کرے ۔ ورنہ بروزِ قیامت یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں مل سکے گا کہ ہمیں کچھ پتا نہ تھا ، ہماری زبان سے لا علمی میں جھوٹ صادر ہو گیا یا ہم سے نادانی میں جھوٹ سرز د ہو گیا ۔

اب ذیل میں کذب بیانی [جھوٹ] کی وہ مروَّجہ صورتیں بیان کی جا رہی ہیں جو بد قسمتی سے مسلم معاشرے میں اِس قدر رواج پا چکی ہیں کہ بالعموم لوگ اُنھیں غلط اور نا جائز نہیں سمجھتے ، بلکہ فخریہ علی الاعلان سر انجام دیتے ہیں ۔حالاں کہ وہ نا جائز و حرام ہیں ۔

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنوانا :

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنانا یا بنوانا جھوٹ میں شامل ہے ، لہذا جھوٹ کی دوسری صورتوں کی طرح یہ بھی نا جائز و حرام ہے ۔جھوٹے سر ٹیفکٹ کے فاسد جراثیم مسلم معاشرے میں اِس طرح داخل ہو چکے ہیں کہ اچھے خاصے حاجی و نمازی صاحبان بھی اِس میں اِس طرح ملوث ہیں کہ اِ س کے جھوٹ ، غلط اور فراڈ ہونے کا تصور بھی اُن کے دماغ میں نہیں آتا ۔کمپنی سے بلا رخصت غائب ہونے والے ملازمین ، اسکول و کالجز سے بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے طلبہ و معلمین جھوٹا سرٹیفکٹ بنوا کر اپنی کمپنی یا کالج میں اِس لیے جمع کرتے ہیں کہ مواخذہ[پوچھ تاچھ] یا تنخواہ کٹنے سے بچ جائیں، یا پھرمزید چھٹیاں حاصل کرنے کے لیے اِسے بنوا کر بھجوا دیتے ہیں ۔ بعض حضرات تواپنے دوست و احباب سے ایسے جھوٹے سرٹیفکٹ بنوانے کا ذکر اِس انداز سے کرتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو اوراس کے جواز میں کوئی شبہ نہ ہو ، حالاں کہ اِس کا جھوٹ ہونا مسلَّمات میں سے ہے ۔ لہذا مسلمانوں کو اِس طرح کے فراڈ اور ایسی کذب بیانی سے بچنا چاہیے !

جھوٹی سفارش کرنا :

جھوٹی سفارش کرنا بھی جھوٹ کی مروجہ شکلوں میں سے ایک نا جائز شکل ہے ۔ مگر صد افسوس! کہ اِسے بھی بہت سے مسلمانوں نے جھوٹ ہونے سے خارج کر دیا ہے ۔ اِس روحانی مرض میں لوگوں کا ایسا ابتلاے عام ہے کہ الامان والحفیظ ۔جاہل تو جاہل اچھے خاصے پڑھے لکھے دین دار لوگ بھی اِس میں گرفتار نظر آتے ہیں ۔ نوکری دلانے ، اسکول یا مدرسے میں داخلہ کرانے ، پاسپورٹ وغیرہ سرکاری کاغذات بنوانے اور زمین و جائداد کی خریداری کے لیے دھڑلِّے سے جھوٹی سفارشیں کی جا رہی ہیں ۔ لا علمی میں کسی کی جھوٹی سفارش ہو جاے توخیر شرعاً جرم نہیں ، مگر قصداً جان بوجھ کر جھوٹی سفارش کرنا یقیناً نا جائز و حرام ہے ، شریعتِ اسلامیہ میں اِس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے اور آخرت کے سخت محاسبہ سے ڈرنا چاہیے ۔ اللہ ربُّ العزت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ [سورۂ ق ، آیت نمبر : ۱۸]ترجمہ: وہ جو بات بھی کرتا ہے اس کو لکھنے کے لیے اس کا محافظ فرشتہ منتظر رہتا ہے ۔مفہوم ِ آیت : تمھاری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ تمھارے نامۂ اعمال میں رکارڈ ہو رہا ہے ۔لہذا ہم سب کو اِس خوش نما جھوٹ سے بھی لازماً پرہیز کرنا چاہیے !

مذاق میں جھوٹ بولنا :

مذاق و تفریح میں بولا جانے والا جھوٹ بھی جھوٹ ہی ہوتا ہے ، مگر بہت سے مسلمان مذاق میں جھوت بولنے کو برا نہیں سمجھتے ، بلکہ بعض نادان تو اِسے اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے تفریح میں بھی زبان سے جھوٹ نکالنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے ۔چنانچہ آقاے دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ فَیَکْذِبُ لِیُضْحِکَ بِہٖ الْقَوْمَ وَیْلٌ لَّہٗ وَیْلٌ لَّہٗ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث: ۴۹۹۲ ] ترجمہ:جو شخص جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساے اُس پر افسوس ہے ، افسوس ہے ، افسوس ہے ۔یہ ترجمہ میں نے بڑی احتیاط سے کیا ہے ۔ورنہ سخت لب و لہجہ میں اس کا ترجمہ کیا جاے تو یوں ہوگا ’’تباہی و بربادی یا دردناک عذاب ہے اُس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے کذب بیانی سے کام لے ‘‘ ایسا بھی نہیں کہ مذہبِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تفریح و مذاق سے یکسر محروم کر رکھا ہے ، بلکہ اس نے تفریحِ طبع کے لیے پاکیزہ اور صاف ستھرے مذاق کی اجازت دی ہے ۔ہمارے نبی آقاے دو عالم ﷺ نے بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے خوش طبعی اور مذاق کی باتیں ارشاد فرمائی ہیں ۔ کتبِ احادیث میں کثیر روایتیں موجود ہیں ، لیکن آپ ﷺ نے مذاق میں بھی کبھی کذب بیانی سے کام نہیں لیا ،بلکہ ہمیشہ آپ کی زبانِ اقدس سے حق ہی جاری ہوا ۔

شمائلِ ترمذی کے اندر یہ روایت موجود ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ایک خاتون نے آکر عرض کیا :حضور ! دعا فرما دیں کہ اللہ عز وجل مجھے جنت میں پہنچا دے ! حضور ﷺ نے[از راہِ مزاح] فرمایا: کوئی بھی بڑھیا جنت میں نہیں جاے گی ۔یہ سن وہ بوڑھی خاتون زار و قطار رونے لگیں ۔ حضور ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ کوئی عورت اِس حالت میں جنت میں نہیں جاے گی کہ وہ بوڑھی ہو ، بلکہ جوان ہو کر جاے گی ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ ﷺ ]آپ غور فرمائیں کہ : آقا ﷺ نے مذاق میں کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جو خلافِ واقعہ ہو ۔ حضور ﷺ کی پر لطف مذاق کی ایسی متعدد روایتیں موجود ہیں۔

شمائلِ ترمذی کی یہ روایت بھی دیکھیں ! کہ:ایک دیہاتی صحابی آپ ﷺ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں آکر عرض گزار ہوے ، یا رسول اللہ !مجھے ایک اونٹنی عنایت فرما دیجیے !اُن کی فریاد سن کرحضور ﷺ نے[از راہِ مذاق]ارشاد فرمایا : ہم تمھیں ایک اونٹنی کا بچہ دیں گے ۔اُنھوں نے کہا: حضور ! مجھے سواری کا جانور چاہیے ! اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ارے [نادان]تمھیں جو دیا جاے گا وہ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوگا ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی مزاح النبی ﷺ ]

لہذا ہمیں اپنی زبان سنبھال کر استعمال کرنی چاہیے ، بطورِ تفریح و مذاق کہی جانے والی باتیں بھی فحش و عریانیت اور کذب بیابی سے پاک ہونی چاہئیں اور مذاق کے معاملات میں بھی اپنے حبیب ،کائنات کی طبیب حضور سرورِ عالم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنا چاہیے !

بچوں سے جھوٹ بولنا کیسا ؟: بعض والدین اپنے بچوں کو بہلانے یا ٹرخانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں ، مثلاً چاکلیٹ یا کھلونا دلانے کا یاباہر لے جانے کا جھوٹا وعدہ کرتے ہیں اور اُس وقت اُن کے حاشیۂ ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اُنھوں نے جھوٹ بول کر اپنے نامۂ اعمال میں ایک گناہ کا اضافہ کر لیا ہے ۔ صحابۂ رسول حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ :

دَعَتْنِیْ اُمِّیْ یَوْماً وَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْ ھَا تَعَالَ اُعْطِکَ ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ وَمَا اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیہِ ، قَالَتْ: اُعْطِیْہِ تَمْرًا ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَمَا اِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطیِہِ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث : ۴۹۹۳]

ترجمہ: ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا : اِدھر آ !میں تجھے کچھ دوں گی ۔اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے غریب خانہ پر جلوہ بار تھے ۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے میری ماں سے فرمایا :تونے اِسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : میں اِسے کھجور دوں گی ۔ یہ سن حضور ﷺ نے ماں سے فرمایا: اگر تو اِسے کچھ نہ دیتی تو تیرے نامۂ اعمال میں ایک گناہ لکھا جاتا ۔

اِس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ سبق ملا کہ والدین پر واجب ہے کہ محض بہلانے کے لیے اپنے بچوں سے جھوٹ نہ بولیں ، اُن سے وعدہ خلافی نہ کریں ،بلکہ اُن سے ہمیشہ سچ بولیں ، تاکہ بچوں کی دلوں میں سچائی سے الفت ومحبت اور کذب بیانی سے نفرت و بیزاری پیدا ہو ۔ آج مسلم معاشرے میں پروان چڑھنے والے بہت سے بچوں کے سینوں سے جھوٹ کی برائی اِس لیے نکل چکی ہے کہ اُن کی پرورش جھوٹ اور وعدہ خلافی جیسے گندے ماحول میں ہوئی ہے ۔اگر بچوں کو امانت و صداقت کا پیکر بنانا ہے تو گھروں میں دینی ماحول بپا کرنا ہوگا۔

جھوٹے کیریکٹر سر ٹیفکٹ کی حیثیت :

آج کل جھوٹا کیریکٹر سرٹیفکٹ بنانے یا بنوانے کا بھی کا فی رواج ہو چکا ہے ۔عوام تو خیر عوام ہے بہت سے خواص کہلوانے بھی اِس مرض میں مبتلا ہیں ۔شاید ہی کسی کے دل و دماغ میں اِس کی حرمت کا خیال آتا ہو ۔حالاں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ حاصل کرنا یا دوسروں کے لیے جاری کرنا ’’کذب و دغا بازی‘‘ کے زمرے میں آنے کی وجہ سے نا جائز ہے ۔کیوں کہ اِس طرح کے سرٹیفکٹ کو جاری کرنے والا کذب بیانی کرتے ہوے اُس میں یہ لکھتا ہے کہ : مثلاً میں اِنھیں پانچ سال سے جانتا ہوں ، اِنھیں پانچ سال کا تجربہ ہے ، اِ ن کااخلاق و کردار بہت اچھا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔تعجب و افسوس اُس وقت زیادہ ہوتا ہے جب مدارسِ اسلامیہ میں داخلہ لینے یا تقرری کرانے کے لیے پڑھے لکھے لوگ اِس قسم کا فراڈ کرتے نظر آتے ہیں ۔بلکہ بعض نادان تو اِس قسم کی حرکت کو نہ صرف یہ کہ درست بلکہ کارِ ثواب سمجھتے ہیں ۔لا حولَ ولا قوۃَ الا باللّٰہ العلیِّ العظیمِ ۔

ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے ! کہ سرٹیفکٹ جاری کرنا یا اس پر دست خط کرنا ایک قسم کی گواہی ہے، سرٹیفکٹ یا تصدیق نامہ جاری کرنے والا در اصل ’’گواہ‘‘ ہوتا ہے ۔ کسی کے بارے میں گواہی اُس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے بارے میں یقین سے معلوم نہ ہو ۔اور یہ ایسی معروف و مشہور بات ہے جسے ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے، لہذا بغیر علم کے کسی کے کیریکٹر و کردار کی گواہی دینا درست نہیں ہے ۔ بلکہ اگر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل ’’گناہِ کبیرہ‘‘ ہے ۔ کیوں کہ حدیثِ پاک میں’’ شھادۃ زُور‘‘ یعنی جھوٹی گواہی کو نہ صرف بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے بلکہ آقاے دو عالم ﷺ نے اِسے شرک کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : :

کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَآئِرِ ۔ ثَلَاثاً ۔اَلاِشْرَاکُ بِاللہِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ ۔ وَ کَانَ رَسُوْ لُ اللہِ ﷺ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہٗ سَکَتَ ۔ [ الصحیح للامام مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان الکبائر و اکبرھا ۔ رقم الحدیث : ۲۶۹]

ترجمہ: ہم غلامانِ مصطفی اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوے تھے ۔ تبھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ حضور ﷺ نے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ عز وجل کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا۔آقاے کریم ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے تھے ،جب’’ جھوٹی گواہی‘‘ کا ذکر آیا تو آپ وﷺ بالکل سیدھے بیٹھ گیے اور بار بار’’شھادۃ الزور ‘‘ کے الفاظ دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ہماری تمنا ہوئی کہ حضو ر ﷺ خاموش ہو جائیں ۔

جھوٹی گواہی کی شناعت و خباثت کا اندازہ اس بات لگائیں کہ آقاے دو عالم ﷺ نے صرف یہی نہیں کہ گناہِ کبیرہ شمار کراتے وقت اِس کا ذکر ’’شرک‘‘ کے ساتھ کیا ، بلکہ اِس کے ذکر کے وقت سیدھے بیٹھ کر اِس کی شدتِ حرمت پر تنبیہ بھی فرمائی ۔

در اصل اِس حدیثِ پاک میں آقاے دو عالم ﷺ نے سنتِ اِلٰہیہ پر عمل کیا ہے ؛ کیوں کہ خود پروردگارِ عالَم نے جھوٹی گواہی کو شرکِ اکبر اور بت پرستی کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے اور اپنے بندوں کو اِن دونوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے ، فرماتا ہے :

فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔[سورۃ الحج ، رقم الآیت : ۳۰]ترجمہ: اے میرے بندو! تم بت پرستی کی غلاظت اور ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی بچو !

اِ س آیتِ کریمہ اور حدیثِ نبوی سے اُنھیں عبرت حاصل کرنی چاہیے جو جھوٹے تصدیق نامے اور کیریکٹر سر ٹیفکٹ بناتے یا بنواتے پھر رہے ہیںاور اللہ کے بندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بلکہ غور کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینا جھوٹ بولنے سے زیادہ نقصان دن اور خطرناک ہے ،اس لیے کہ جھوٹی گواہی میں ’’کذب بیانی‘‘ کے ساتھ دوسروں کو ’’گمراہ کرنے‘‘ کے عناصر بھی پاے جاتے ہیں، کیوں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ جس کے پاس پہنچے گا بادی النظر میں وہ یہی سمجھے گا کہ یہ صاحب بڑے نیک ہیں اور پھر اس پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ معاملات کرے گا ، جس کے نتیجے میں اُسے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔لہذا جھوٹے تصدیق نامے بنانے اور بنوانے سے پرہیز کرنا لازم وضروری ہے ۔

بلا تحقیق کسی مدرسے کی تصدیق کرنا :

بعض لوگ علما یا اربابِ اقتدار یا کسی صاحبِ رسوخ کے پاس آکر اپنے ادارے کے کاغذات دکھا کر ’’تصدیق نامہ ‘‘ لکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور تصدیق کرنے والا بلا تحقیق و تفتیش اپنے لیٹر پیڈ پر یہ لکھ دیتا ہے کہ ’’ میں اِس ادارے کو جانتا ہوں ، یہاں شاندار دینی تعلیم ہوتی ہے ، دارالاقامہ میں کافی تعداد میں طلبہ بھی رہتے ہیں ،نظم ونسق ماشاء اللہ کافی بہتر چل رہا ہے ، آپ حضرات ادارے کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون فرمائیں ‘‘حالاں کہ تصدیق کرانے والوں میں بہت سے حضرات اعلیٰ درجے کے مکار اور فراڈی ہوتے ہیں ، محض اپنی چالاکی اور چرب زبانی سے لوگوں سے اپنے فرضی مدرسوں کے لیے تصدیق نامے حاصل کر لیتے ہیںاور پھر دھڑلِّے سے چندہ کرتے اور خوب دادِ عیش دیتے ہیں ۔ اِس لیے بلا تحقیق و معلومات کیے کسی بھی نامعلوم شخص کے کہنے پر تصدیق نامہ دینے سے گریز کیا جاے ، کیوں کہ یہ بھی جھوٹی گواہی دینے کی زمرے میں داخل ہونے کے سبب ممنوع ہے ۔

خود ساختہ مولانا یا مفتی بننا کیسا ؟:

بعض لوگ عالم یا مفتی نہیں ہوتے یعنی با ضابطہ کسی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے ،مگر بڑے ناز و فخر سے خود کو عالم ،مولانا یا مفتی کہلواتے ہیں ، بلکہ اگر اُن کے نام کے آگے اِس قسم کے القاب و آداب مذکور نہ ہوں تو بڑی برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے حضرات بھی کذب بیان کے جرم میں مبتلا ہیں ۔ بعض شہروں میں مثلاً ممبئی میں القاب و آداب کی ایسی درگت بنی ہوئی ہے کہ الامان و الحفیظ ۔ یہاں ہر عالمانہ وضع قطع رکھنے والا کسی جید عالم یا تجربہ کار مفتی سے کم نہیں ہے ، بلکہ اب حالات یہ ہیں کہ جسے بھی عالم ، فاضل یامفت کا مفتی بننا ہوتا ہے وہ بڑے شہروں کو رخ کرلیتاہے۔بعض پوسٹروں میں تو صرف مفتیانِ کرام اور مفکرانِ عظام ہی جلوہ بار نظر آتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ بعض نا ہنجار قسم کے لوگ اپنے جلسوں کی جھوٹی شان پڑھانے کے لیے بعض حفاظ و قراء بلکہ بعض طلبہ کو بھی بھاری بھرکم القاب سے نواز دیتے ہیں ۔

یہ تمام صورتیں کذب بیانی کے زمرے میں شامل ہیں ، لہذا نا جائز ہیں ۔ بعض حضرات اپنے بھولے پن کے سبب ہر ڈاڑھی ٹوپے اور ہر جبے قبے والے کو عالمِ دین سمجھ لیتے ہیں بلکہ انھیں ’’ عالم یا مفتی صاحب‘‘ کہہ کر پکارتے بھی ہیں ۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کی جاے اور بتایا جاے کہ اسلامی وضع رکھنے والا ہر شخص مفتی نہیں ہوتا ۔ بلکہ جس غیرِ عالم کو عالم کہہ کر پکارا جاے ،اُس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ فوراًپکارنے والی کی اصلاح کرے اور آئندہ اِس قسم کے القاب کے ساتھ پکارنے سے گریز کرنے کی تلقین کرے ۔اگر ایسا ہو گیا تو ان شاء اللہ تعالی بہت جلد اِس قسم کی برائیاں دم توڑ دیں گی ۔

عیب دار کو بے عیب اور نقلی کو اصلی بتانا کیسا ؟:

بازار و مارکیٹ میں ہر قسم کی چیزیں بیچی جاتی ہیں ،بعض چیزیں عیب دار اور بعض بے عیب ہوتی ہیں ، اِسی طرح بعض چیزیں اصلی جب کہ بعض چیزیں نقلی ہوا کرتی ہیں ، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہر تاجر اپنے مال کو اچھا اور ہر دکان دار اپنے سامان کو بے عیب بتاتا ہے ۔ یہ بھی دھوکہ ، فریب اور کذب بیانی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے حرام و ناجائز ہے ، بلکہ اِس کا غلط اور فراڈ ہونا ایسا واضح ہے کہ خود بیچنے والوں کو بھی اس کا اعتراف ہوتا ہے ۔لہذا دکان دار پر واجب و ضروری ہے کہ گاہک سے جھوٹ نہ بولے ،بلکہ اُسے حقیقتِ حال سے آگاہ کرے ۔ ہاں اگر کسی مال کا نقلی ہونا یا کسی سامان کا عیب دار ہونا گاہک کو معلوم ہے تو اب اسے بتانے کی حاجت نہیں ۔ یہ ایسا ابتلاے عام ہے کہ شاید ہی کوئی تاجر یا دکان دار اِس سے محفوظ و مامون ہو ۔

دیکھیے ! یہ ہمارے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے امام، حضرت سیدنا امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، جوکہ بہت بڑے فقیہ و محدث اور جلیل القدر تابعی ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑے تاجر بھی تھے ۔آپ کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے ۔ مگر آپ کی دین داری ملاحظہ فرمائیں ! کہ : ایک مرتبہ آپ کے پاس کپڑے کا ایسا تھان آیا جس میں کوئی عیب تھا ۔آپ نے دکان پر کام کرنے والے ملازموں کو حکم دیا کہ گاہک کو بتا دیا جاے کہ اِس کپڑے میں فلاں عیب ہے ۔ چند دنوں کے بعد اُس ملازم نے بغیر عیب بتاے اُس کپڑے کو بیچ دیا ۔ جب منافع کی رقم سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ کو دی تو

آپ نے پوچھا کہ تم نے اُس گاہک کو عیب بتا دیا تھا ؟ ملازم نے کہا : حضور ! میں بھول گیا تھا ۔ یہ سن کر آپ کو بڑا رنج لاحق ہوا ، فوراًا ُس گاہک کی تلاش و جستجو شروع کی اور پورے شہر میں اُسے ڈھنڈھوایا ، جب وہ گاہک مل گیا تو آپ نے اُس سے کہا : آپ نے جو مال میری دکان سے خریدا ہے ، وہ عیب دار ہے ، آپ چاہیں تو اُسے واپس کر دیں اور قیمت لے لیں اور چاہیں تو اُسی عیب کے ساتھ اُسے رکھ لیں ۔

بعض روایتوں میں آیا کہ تلاشِ بسیار کے باوجود جب آپ اُسے نہ پا سکے تو اُس تھان کی پوری رقم آپ نے راہِ خدا میں صدقہ کر دی ۔ سبحان اللہ ! یہ تھا ہمارے امام کا زہد و تقویٰ ۔آج ہم میں سے کوئی ہوتا تو شاید اُس ملازم کو شاباشی دیتا کہ تو نے عیب دار سامان بیچ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، مگر ہمارے امام نے نقصان برداشت کر لینا تو گوارا کر لیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ کسی گاہک کو دھوکہ دیا جاے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سب کچھ اِس لیے کیا کہ ہمارے نبی حضور سیدنا محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

مَنْ بَاعَ عَیْبًا لَمْ یُبَیِّنْہُ لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللہِ وَ لَمْ تَزَلِ الْمَلٰئِکَۃُ تَلْعَنُہُ ۔[السنن للامام ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب من باع عیبا و لم یبینہ ، رقم الحدیث : ۲۳۳۲]

ترجمہ: جو شخص عید دار چیز بیچے اور اس عیب کے بارے میں وہ خریدار کو نہ بتاے [کہ اِس کے اندر یہ خرابی ہے ]تو ایسا شخص مسلسل اللہ رب العزت کے غضب میں رہتا ہے اور اللہ کے فرشتے ایسے آدمی پر لگاتار لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔

ہمارے امام کو اِسی امانت وصداقت کا صلہ ملا کہ آج دنیا کے اکثر مسلمان آپ ہی کے مقلد ہیں ، بلکہ آپ کی تقلید کو باعث فخر یقین کرتے ہیں ۔جب کہ آج کل کے تاجروں کا حال یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ، عیب دار کو عمدہ بتاتے ہیں ، نقلی سامان کو اصلی بتاتے ہیں ، بلکہ قسمیں کھا کھاکر معیوب سامانوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ مصائب و آلام کی شکل میں جو ہم پر عذابِ خدا نازل ہو چکا ہے ،وہ اِسی کذب بیان اور اِسی دھوکہ دھڑی کی دین ہے ۔

اِس قسم کے اور بھی بہت سے جھوٹ ہمارے معاشرے میں بولے جاتے ہیں جن کی نشان دہی ان شاء اللہ تعالیٰ کسی اور موقع پر کی جاے گی ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہمارے معاشرے کو پر قسم کی کذب بیان سے محفوظ و مامون فرماے ۔ آمین !

ویل ڈن وزیر مذہبی امور

حکومت کا اچھا اقدام

ویل ڈن وزیر مذہبی امور

اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے سیاسی جماعتوں اور کاسہ لیس نام نہاد رہنماوں کے ایم بی ایس کے لیے لگائے گئے خیر مقدمی بینرز اتار دیئے ہیں.یہ اچھا اقدام ہے.ایم بی ایس ریاست پاکستان کے مہمان ہیں کسی شخصیت یا جماعت کے نہیں ہیں.جو خیرات شخصیات یا جماعتوں کو برادر اسلامی ملک سے ملتی ہے وہ.اس کے بغیر بھی ملتی رہے گی.یہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا قابل تعریف اقدام ہے.انکا کہنا بجا ہے کہ ایم بی ایس یہاں کسی مسلک کے مہمان نہیں ہیں بلکہ وہ ریاست پاکستان کے مہمان ہیں.

میں ذاتی طور یہ سمجھتا ہوں کہ ایم بی ایس کےدورے سے پورا پاکستان اور تمام مسالک کے لوگ خوش ہیں.کیونکہ سب کے سب وطن عزیز کو معاشی طور پر ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں.اگر امریکہ کو اب بھی پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے تو یہ اچھی بات ہے.اس میں کوئی ذرا بھی شک نہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے اہم ملک ہےاور دفاعی اعتبار سے مضبوط ترین ہے.روس کی شکست ہو یا امریکہ کی افغانستان کو گود میں لینی کی حسرت اس کے سامنے جس ریاست نے بند باندھا ہے وہ یہی ریاست ہے.یہ وہ ریاست ہے جس کو پتھروں کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی گئی اور اسکی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کی گئی لیکن اس ریاست کےجوشیلے اور قوت ایمان سے لبریز مجاھدوں نے ہر خواب کو خاک میں ملا دیا.آج جنرل باجوہ اور عمران خان کی قیادت میں یہ ملک جنوبی ایشیا کی ایک مستحکم اقتصادی قوت بننے جارہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ولی عہد کا دورہ سنگ میل ثابت ہوگا اس لیے ہم سب اس دورہ کی حمایت کرتے ہیں.

البتہ کچھ تحفظات ہیں جن کی وجہ سے ہم پریشان ہیں کہ ڈالروں کے عوض ہمیں یمن کی جنگ میں نہ جھونک دیا جائے, ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ڈالرز ایک ٹول کے طور پر استعمال نہ کیے جائیں اور ہمیں کہیں اپنے برادر اسلامی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ الجھا دیا جائے.یمن کی جنگ کے حوالے سے پاکستان نے ماضی میں ایک اعلی موقف اپنایا ہے امید ہے اسی موقف پر قائم رہے گا.ہم اسرائیل کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے اور ایران کے ساتھ جنگ کو ہم یہ سمجھیں گے کہ پاکستان اپنے خلاف جنگ کر رہا ہے.اس لیے یہ بڑے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری قیادت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو عوام کے جذبات کا خون کرے.ہم ایسے کسی غلط فیصلے کی اپنی قیادت سے توقع نہیں کرسکتے.

جہاں تک اقتصادی امداد کا تعلق ہے وہ.سعودی عرب کو ہر اسلامی ملک کی کرنی چاہیے.خون مسلم کو بہنے سے بچانے کے لیے سعودی عرب کو اہم اقدامات اٹھانے چاہییں.خطے میں اسلامی ممالک کی اسے نمائیندگی کرنی چاہیے.اگر سعودی عرب اسلام مخالف قوتوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر اسلامی ملک اسکی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا.ہم سب کو اپنا قبلہ درست رکھنا چاہیے.

طالب دعاء.

گلزار احمد نعیمی

Brexit

Brexit

برطانیہ عظمیٰ یعنی Great Britainکسی وقت سپر پاور تھا اور کہا جاتا تھا: ”اس کی حدودِسلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا‘ ایک خطے میں سورج غروب ہورہا ہوتا تو دوسرے میں طلوع ہورہا ہوتا ‘‘۔ امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ ‘ برصغیر پاک وہند‘ ہانگ کانگ اور افریقا کے کئی ممالک اس کے زیر نگیں تھے‘ پھر اس کے عالمی اقتدار کا سورج بتدریج غروب ہوتا چلا گیااور جنگ عظیم دوم کے بعد اس سمٹائو کی رفتار تیز تر ہوگئی ۔آج کا برطانیہ چار اکائیوں پر مشتمل ہے : انگلینڈ‘ ویلز‘سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ۔سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں بھی یو کے سے علیحدگی کی تحریک موجود ہے‘ مستقبل میں ‘اگر یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں تو برطانیہ انگلینڈ اور ویلزتک محدود ہوکر رہ جائے گا۔

یورپین یونین نومبر1993ء میں قائم ہوئی‘ یونین کے قیام کے بعداس کے رکن اٹھائیس ممالک الگ الگ خود مختار ریاستیں رہنے کے باوجود ایک مشترکہ منڈی میں شامل ہوگئے ہیں۔اس میں چار چیزوں کی آزادانہ نقل وحرکت کی ضمانت دی گئی ہے ‘یعنی؛ سامانِ تجارت‘ سرمایہ‘ خدمات اور لیبر‘ ان اٹھائیس ممالک کے درمیان کسٹم اور امیگریشن کی چیک پوسٹیں نہیں ہیں ۔ برطانیہ یورپین یونین کے قیام کے باوجود کافی عرصہ الگ تھلگ رہا‘ مگر آخر کار 1998ء میں یونین میں شامل ہوگیا‘ تاہم اس نے اپنی کرنسی پائونڈ سٹرلنگ برقرار رکھی۔

اس کے نتیجے میں برطانیہ میں یورپی یونین کے لوگوں کی آزادانہ آمد شروع ہوئی‘ پولینڈ ودیگر ممالک سے سستی لیبر کی درآمد ہونے لگی‘ سوشل ویلفیئر کے شعبے پر بھی دبائو پڑا۔ انگریزوں کے اندر اپنے ماضی کے اعتبار سے برتری اور تفاخر کا ایک احساس تھا ‘ انہیں خدشہ لاحق ہوا کہ یورپ کی وسیع تر وحدت میں کہیں ان کی انفرادیت اور امتیاز گم نہ ہوجائے‘ سو بوجوہ یونین سے علیحدگی کی تحریک چلی اور آخر کار23جون 2016ء کو اس مسئلے پر ریفرنڈم ہوا‘ جذباتی فضا میں عواقب پر نظر رکھے بغیر محض دو فیصد کی اکثریت سے علیحدگی کا فیصلہ ہوا ۔ یورپین یونین سے علیحدگی کا عمل بھی کافی پیچیدہ ہے اور اسی لیے اس عمل کے مکمل ہونے کے لیے کافی وقت رکھا گیا ہے۔ اُس وقت کے مقبول وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون علیحدگی کے حق میں نہیں تھے‘ ریفرنڈم کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آیا تو انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفا دے دیا‘ تاکہ یورپین یونین سے علیحدگی کی مہم ایک نئی قیادت انجام دے۔

ٹرِسامَے نئی وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور ان کی قیادت میں بریگزٹ کا عمل شروع ہوا۔ بریگزٹ Britishکے مخفَّفBR اور Exitکا مرکب ہے ‘اس کے معنی ہیں: ”یورپین یونین سے برطانیہ کا خروج‘‘۔ عربی کا محاورہ ہے :”قَدِّمِ الْخُرُوجَ قَبْلَ الْوُلُوْج‘‘یعنی داخل ہونے سے پہلے نکلنے کی بابت سوچو کہ اگر کہیں اس کی نوبت آگئی تو تدبیر کیا ہوگی‘ اس کو ہم یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں:”کسی کام کے آغاز سے پہلے انجام کی سوچو‘‘۔انگریزوں کی بابت ہمارے ہاں مشہور ہے کہ سو سال بعد کی سوچتے ہیں‘ شاید یورپین یونین میں شمولیت کے وقت وہ یہ نہ کرسکے۔ 

ٹرِسامَے کو آج یہی مشکل درپیش ہے ‘انہوں نے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد یورپین یونین کے ساتھ یونین سے علیحدگی کا جو معاہدہ ”بریگزٹ ڈیل‘‘ کے عنوان سے طے کیا‘ برطانوی پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دینے سے انکار کردیا‘ پھر اس میں چند ترمیمات پیش ہوئیں‘ مگر پارلیمنٹ نے انہیں بھی رد کردیا‘ آخر میں صرف ایک ترمیم کی منظوری ہوئی: ”No Brexit with out deal‘‘ یعنی ڈیل کے بغیر بریگزٹ نہیں ہوگی‘ جبکہ بظاہر تا حال No Dealکے آثار زیادہ ہیں۔ ٹرِسامَے ہاتھ پائوں مار رہی ہیں ‘ان کی حالت قابلِ رحم ہے ‘ لیکن یورپین یونین ڈیل پرنظرثانی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انگریزوں نے سوچا نہیں ہوگا کہ ایسی بند گلی میں بھی پھنس سکتے ہیں۔

در اصل دو ایسے تضادات ہیں‘ جن میں بیک وقت تطبیق آسان نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ یورپین یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ اور یونین کے دیگر ممالک کے درمیان کسٹم ڈیوٹی اور امیگریشن چیک پوسٹ کے روایتی اصول لاگو ہوں گے‘افراداور سامان کی بلا روک ٹوک اور آزادانہ نقل وحمل کی سہولت ختم ہوجائے گی‘ الغرض برطانیہ یونین کے دوسرے ممالک کے لیے اجنبی ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ برطانیہ اورجمہوریہ آئر لینڈ کے درمیان 2003میں ”Good Friday Agreement‘‘کے نام سے یہ معاہدہ طے پاچکا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اورشمالی آئر لینڈکے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ نہیں ہوگی اور لوگوں کی دونوں طرف آمد ورفت اور سامان کی نقل وحمل آزادانہ رہے گی ۔ آئر ش قوم کے یہ دونوں حصے خشکی پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں‘ جبکہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان سمندر ہے ۔ آئر لینڈ کے دونوں حصوں کی صورت ایسی ہی ہے‘ جیسے ہمارے قبائلی علاقہ جات میں افغانستان کے لوگوں کی آمد ورفت کسٹم اور امیگریشن کے بغیر جاری رہتی ہے ‘ کیونکہ دونوں طرف ایک ہی قبائل کے لوگ رہتے ہیں۔واضح رہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ آزاد ملک ہے اور بدستوریورپین یونین کا رکن ہے اور شمالی آئر لینڈ برطانیہ کے زیر اقتدار ہے۔

شمالی آئر لینڈ برطانیہ کا حصہ ہے ‘لہٰذا اب بریگزٹ کے بعد یونین قوانین کا تقاضا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان باقاعدہ ہارڈکسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹیں ہوں ‘ سامان کی آزادانہ نقل وحمل اور دونوں طرف کے لوگوں کی آزادانہ آمد ورفت موقوف ہوجائے‘ جب کہ شمالی آئر لینڈ کے لوگ اس پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گے‘ ماضی میں فسادات ہوتے رہے ہیںاوراگرآئر لینڈ کے دونوں حصوں کے درمیان سامان اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل اور آمد ورفت جاری رہتی ہے تو یورپین یونین کا مطالبہ ہے کہ برطانیہ اور یونین کے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ کے لیے کوئی بیک اپ لائن ہونی چاہیے‘ جبکہ ٹرسامَے کہتی ہیں کہ ہم سمندر میں لائن کیسے کھینچ سکتے ہیں‘ کیونکہ ایک ہی ملک ہے۔ 

سو‘ اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے اور ٹرِسامے مشکل میں ہے۔ پس آج ماضی کی سپر پاور کا المیہ یہ ہے کہ بریگزٹ اُس کے گلے کا چھچھوندر بنا ہوا ہے‘ نہ نگلا جارہا ہے اور نہ اگلا جارہا ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں گارڈین اخبار نے لکھا: ”یہ مذاکرات بے خبر لوگوں کے لیے کسی تیاری کے بغیر نامعلوم ایجنڈے کے تحت نامعلوم نتائج حاصل کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں ‘‘۔ 

ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جہل کو فروغ دینے کے لیے شہباز شریف‘ عبدالعلیم خاں ‘شیخ رشید اور فواد چودھری ایسے اہم موضوعات میں اتنا مصروف ہے کہ نئی نسل کوعالمی مسائل کے بارے میں آگہی دینے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور شاید ہمارے کالج اور یونیورسٹی سطح کے نوجوان طلبہ بھی عالمی امور کی ان نزاکتوں سے آگاہ نہیں ہوں گے ۔

فطرت سے بغاوت: کیتھولک مسیحیت میں ان کے مذہبی پیشوامرد وزن تجردکی زندگی گزارتے ہیں‘ شادی نہیں کرتے‘ وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی تھی‘ یہ لوگ رُہبان (راہب کی جمع) اور راہبات (راہبہ کی جمع)کہلاتے ہیں اورانگریزی میں انہیں Monksاور Nunsکہتے ہیں‘ یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کریمﷺ کے امتی کی حیثیت سے قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے :”شادی بھی کریں گے‘‘۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”یہ تمہارے لیے کیسامقامِ افتخار ہوگا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘ (مسند احمد: 7680)۔بالفرض شادی کی روایت سے کسی کو اختلاف بھی ہو تو وہ نبی ہیں اور نبی معصوم ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا نے جب حضرت مریم کے حجرۂ عبادت میں اُن کے پاس بے موسم کا تازہ پھل دیکھا ‘ تو اُن کے دل میں امنگ پیدا ہوئی کہ جوقادرِ مطلق بے موسم کا تازہ پھل عطافرماسکتا ہے ‘ وہ بڑھاپے میں اولاد بھی عطا فرماسکتاہے۔سو‘ انہوں نے اولاد کے لیے دعا کی اور اس کی قبولیت کی بابت قرآنِ کریم میں ہے: ” بے شک اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے‘ جو کلمۃ اللہ (حضرت عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘سردار ہوں گے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور نیک لوگوں میں سے نبی ہوں گے ‘‘ (آل عمران:39)۔پس غیر ِنبی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصیات پرقیاس نہ کرے۔سیدنا محمد ﷺ کی بھی بہت سی خصوصیات وامتیازات ہیں‘ جو امت کے لیے واجب الاتباع نہیں ہیں‘ جیسے: ایک وقت میں چار سے زیادہ ازواجِ مطہرات کا نکاح میں ہونا‘ افطار کیے بغیر پے در پے روزے رکھنااور تہجد کی نماز کااضافی ہوناشامل ہے۔ اس لیے سنت صرف آپ ﷺ کے اُن اقوال‘ افعال اور احوالِ مبارکہ کو کہتے ہیں ‘جو امت کی اتباع کے لیے ہیں۔

عیسائی مذہبی پیشوائوں کا تجرُّد کا شعار فطرت کے خلاف ہے اور ان کے منفی نتائج کا برآمد ہونا ناگزیر ہے ؛ چنانچہ اب کیتھولک عبادت گاہوں میں بچوں اور خود ان کی راہبات (Nuns)کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں۔ پہلے تو کیتھولک چرچ ان جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا تھا‘ لیکن کچھ عرصے سے مغربی پریس نے ان واقعات کو بہت زیادہ اچھالنا شروع کردیاہے‘لہٰذا اب کیتھولک مسیحیت کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پراعتراف کیا ہے کہ راہبات کو جنسی غلام بنا لیا جاتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ مسیحی چرچ اس پر غور کرے اور اپنے راہبوں(Monks) اور راہبات (Nuns) کو شادیوں کی اجازت دے‘ تاکہ چرچ میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا سدِّباب ہوسکے۔ قانون فطرت سے انحراف منفی نتائج کو جنم دیتا ہے‘ آپ پانی کے فطری بہائو کو روکیں گے تو وہ کسی اور جانب سے اپنا راستہ بنالے گا۔

الحمد للہ علیٰ احسانہٖ! میرے فتاویٰ کا مجموعہ ”تفہیم المسائل ‘‘ کے عنوان سے دس مجلّدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے‘ گیارہویں جلد زیر ترتیب ہے اور روزنامہ دنیا میں مطبوعہ کالموں کا مجموعہ ”آئینہ ایام‘‘ کے نام سے پانچ مجلدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے اور ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور/کراچی سے دستیاب ہے ‘ تفہیم المسائل کا مجموعہ خواجہ بک ڈپو جامع مسجد دہلی کے زیر اہتمام انڈیاسے بھی شائع ہوچکا ہے ۔الحمد للہ! ہمارے کالموں اور تحریروںکے قارئین دیگر ممالک کے علاوہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھی کافی تعداد میں ہیں ‘ ان کے ساتھ برطانیہ کے دوست علماء کے توسط سے ہمارابالواسطہ رابطہ ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو (جنتی) حوریں جو کہ جنت میں اس (شوہر) کی زوجہ ہوں گی، کہتی ہیں:

اے عورت! اسے تنگ نہ کر، تیرا ستیاناس یہ شوہر تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا-

(انظر: ابن ماجہ، باب فی المراۃ توذی زوجھا، ج1، ص560، ملخصاً)

اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ عورتوں کو اپنے شوہر کو تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ اس روایت سے دو اہم مسئلے بھی معلوم ہوئے:

(1) اگر کسی بندے کو دور سے پکارنا شرک ہوتا تو جنتی حوریں دنیا کی عورتوں کو نہ پکارتیں اور جو کہتا ہے کہ نبی کو پکارنے سے مسجد گندی ہو جاتی ہے تو بہ قول اس کے غیر نبی کو پکارنے کی وجہ سے جنت بھی گندی ہو جانی چاہیے!

(2) جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو جنت کی حور سن لیتی ہے؛ جب جنت کی ایک مخلوق کی سماعت کا یہ عالم ہے تو مالک جنت، صاحب شریعت ﷺ کی سماعت کا کیا عالم ہوگا-

ممکن ہے کہ کسی کے پیٹ میں اس حدیث کی سند کو لے کر درد اٹھے لہذا دوا کے طور پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے-

(صحیح سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ نمبر341)

عبد مصطفی

بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی