استمداد اور استعانت

استمداد اور استعانت کا معنی ’’طلب معونت‘‘یعنی مدد طلب کرنا ہے ۔’’ استغاثہ ‘‘ فریاد خواہی کو کہتے ہیں(عامۂ لغات ،نیز دیکھیں الجواہر المنظم؍ ص ۱۲۴،المجمع الثقافی ،ابو ظبی) اور توسل، وسیلہ،تشفع یہ استمداد اور استعانت کے قریب المعنی الفاظ ہیں جن کا معنی تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ(حاشیہ الصاوی علی الجلا لین ، ج۱؍ ص ۲۸۲) یہ بھی استعانت کی ایک نوع ہے ۔اور ’توحید‘’شرک‘ کی ضد ہے ،توحید کا حقیقی مفہوم الوہیت اور لوازم ِالوہیت کو صرف اللہ عز و جل کے لئے مخصوص ماننا اور اسی کی ذات میں منحصر سمجھنا ہے ۔بلفظ دیگر اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا و منفرد اعتقاد کرنا اور شریک سے پاک ماننا ہے۔ (حاشیہ صحیح البخاری ،ج۲؍ ص ۱۰۹۶، تعریف علامہ بدرالدین عینی حنفی)

زیر نظر عنوان میں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ اہل سنت و جماعت میں رائج و معمول انبیاء ،اولیاء،اور صالحین سے استمداد ’’استعانت اور استغاثہ و توسل‘‘آیا تصور توحید کے منافی ہے یا یہ کہ یہ اسلامی معتقدات اور معمولات ہی کا ایک حصہ ہے؟۔۔۔۔

اسلام کی ابتدائی تین صدیوں سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک تمام اہل اسلام میں انبیاء و صالحین سے طلبِ معونت، فریاد خواہی اور قضائے حاجت کے لئے انہیں وسیلہ بنانا ایک حقیقتِ ثابتہ رہی اور بلا تفریق جمہور مسلمین اس کے جواز و استحسان پرقولاً و عملاً متحد و متفق رہے۔خیر القرون میں صحابہ و تابعین و تبع تابعین ،کتاب و سنت کے حاملین خود ساتویں صدی ہجری کے علمائے راسخین و فقہاء و محدثین کا یہی موقف رہا،اور بے کسی اختلاف و نزاع کے رسول اللہکے صحیح و حقیقی جانشین آج بھی اسی پاکیزہ موقف پر گامزن ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی انبیاء و صلحاء سے’’ استمداد و توسل ‘‘کو اسلامی تصورِ توحید کے منافی نہیں جانا۔چنانچہ اسلامی معتقدات ومعمولات کے شارح حجۃ الاسلام امام غزالی(متوفی ۵۰۵؁ھ) قُدِّ سَ سِرُّہُ فرماتے ہیں:’’مَنْ یُّسْتَمَدُّ فِیْ حَیَا تِہٖ یُسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَا تِہٖ‘‘(احیاء العلوم للغزالی)جس سے زندگی میں مدد مانگی جاتی ہے بعد وفات بھی اس سے مدد مانگی جائے گی ۔امام احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی شافعی مکی (۹۷۴؁ھ)’’الجوہر المنظم‘‘ میں چند حدیثیں نقل فرماتے ہیں جو استمداد اور توسل کے جواز و استحباب کی دلیل ہیں۔

پھر فرماتے ہیں : ’’ہر طرح کے ذکر خیر میں حضور اقدسکا وسیلہ اور ان سے استعانت کی جاتی ہے۔آپ کے اس دنیا ئے فانی میں ظہور سے قبل بھی اور بعد ظہور بھی ،آپ کی حیات ظا ہری میں بھی اور بعد وصال بھی،یوں ہی میدان قیامت میں بھی ،چنانچہ آپاپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں گے اور یہ ان امور میں سے ہے جن پر اجماع قائم ہے اور اس تعلق سے اخبار تواتر کی حد تک ہیں۔(الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۸ ابو ظبی۔)

میں نے صرف دو اقوال نقل کئے، اگر علمائے راسخین کے اس قسم کے اقوال نقل کئے جائیں تو ایک کامل کتاب تیار ہوسکتی ہے ۔پوری جماعت اہل سنت کی جانب سے مسئلہ’’ استمداد اور توسل ‘‘کی وکالت کے لئے یہ دو اقتباسات کافی ہیں ۔’’استمداد وتوسل ‘‘کا یہ نظریہ ہر دور اور ہر قرن میں موجود رہا ۔اس میں پہلا رخنہ ڈالنے والا اور اس نظریۂ فکر کا پہلا منکر (نیز غیر اللہ سے استمداد وتوسل کو شرک وبت پرستی سے تعبیر کرنے والا) ساتویں صدی ہجری کے وسط کی پیدا وار ابن تیمیہ ہے(جس کی ولادت ۶۶۱ھ؁ میں ہوئی)اس دور کے علماء نے ابن تیمیہ کے دیگر تفردات کی طرح اس مسئلہ میں بھی اس کا شدید ردو ابطال فرمایا ۔ جس کے نتیجہ میں کوئی چار سو سال تک یہ فتنہ زیرِ زمین دفن رہا۔ بارہویں صدی کے آغاز میں محمد ابن عبد الوہاب نجدی نے اس فتنہ کو ابھارا اور اسی صدی کے اخیر میں شیخ نجدی کے ایک ریزہ خوار مولوی اسماعیل دہلوی نے ہندوستان میں اس فتنہ کو ہوادی،اور ان کے سُر سے سر ملاکر آج کل کے غیر مقلدین اس فاسد نظریہ کے داعی بن گئے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے سطور میں ہم اہل سنت کے نظریۂ استمداد پر ٹھوس دلائل وثبوت فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ استمدادو استعانت (غیر اللہ سے مدد طلب کرنا)کے وسیع مفہوم میں’’استغاثہ‘‘(فریاد خواہی)’’توسل‘‘تشفع‘‘مدد کے لئے ندا سبھی شامل ہیں،یوں ہی انبیاء وصلحاء سے ’’استمداد وتوسل‘‘خواہ ان کی ظاہری زندگی میں ہو یا بعد وصال اعمال صالحہ سے استعانت ووسیلہ کی طرح یہ بھی جائز ومستحسن ہے۔علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں :

’’ولا فرق بین ذکر التوسل والاستغاثۃ والتشفع والتوجہ بہ ا او بغیرہ من الانبیاء وکذاالاولیاء‘‘ (الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۵ ابو ظبی۔)

’’لفظ توسل واستعانت ذکر کیا جائے،یا تشفع وتوجہ ان میں کوئی فرق نہیں اور یہ سب رسول اللہ ا سے جائز ودرست ہیں یونہی دیگر انبیاء کرام اور اولیاء سے‘‘۔

میں اوپر بیان کرچکا ہوں کہ آغاز اسلام سے لیکر اب تک ہر دور میں انبیاء،صلحاء،اولیاء سے استمداد وتوسل کا عام دستور رہا ’علمائے راسخین اورکتاب وسنت کے حاملین سے ہر قرن وصدی معمور رہی ،مگر کسی نے اس پر نکیر نہیں فرمائی سبھی بالاتفاق جائز ومستحسن اور قضائے حاجات کا ذریعہ سمجھتے رہے پچھلی امت میں بھی ذوات واشخاص اور اعمال سے استمداد واستعانت وتوسل کا دستور رہا ۔

ولادت مبارکہ سے قبل استمداد وتوسل

حضورکی ولادت مبارکہ سے قبل بھی آپ کی ذات پاک کا وسیلہ لیا گیا ۔خود حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام نے لیا چنانچہ حاکم نے مستدرک میں ایک روایت نقل کی اور اسے صحیح قرار دیا کہ حضورﷺ نے فرمایا:لما اقترفت آدم الخطیئۃ قال یا رب!اسئلک بحق محمد اان غفرت لی۔ (المستدرک للحاکم ۲؍ ۶۱۵)

’’حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے بارگاہ خدا میں عرض کیا ،اے میرے پروردگار! میں تجھ سے محمدا کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوںکہ میری مغفرت فرما‘‘

اگر یہ وسیلہ واستعانت حرام یا شرک ہوتا تو حضرت آدم علیہ السلام کیوںکر وسیلہ لیتے؟ پھر حدیث کے آخری ٹکڑے میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الیّ اذا سالتنی بحقہ فقد غفرتک‘‘اے آدم ! تونے سچ کہا وہ مجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور جب تونے میرے حبیب کے وسیلے سے دعا مانگی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت فرمادی‘‘۔

کیا اب بھی کسی کے لئے یہ گنجائش باقی ہے کہ استمداد و توسل کو تصور توحید کے منافی سمجھے؟۔یہاں نہ تو وسیلہ لینے والا کوئی عامی ہے نہ وہ جس کا وسیلہ لیا جاتا ہے ۔وسیلہ لینے والا بھی نبی ہے جس کا وسیلہ لیا جارہا ہے وہ بھی نبی ہے ۔

اور پھر اللہ عزوجل کا اس وسیلے کو قبول فرماکر مغفرت فرمانا اس کے صحت واستحسان کی مستحکم دلیل ہے ۔یہ روایت حاکم کے نزدیک صحیح ہے ۔ اس روایت کو امام مالک علیہ الرحمہ نے بھی قبول فرمایا ہے ۔چنانچہ امام شہاب الدین خفاجی (متوفی ۸۱۲ھ؁) نے شرح شفاء میں نقل کیا ہے کہ جب خلیفہ منصور نے حج کیا اور حضور اقدسکی قبر شریف کی زیارت کی مسجد نبوی شریف میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ عرض کیا کہ اے ابو عبد اللہ ! میں قبلہ کی طرف رخ کرتا ہوا دعا مانگوں یا حضورکی طرف چہرہ کروں؟۔ حضرت امام مالک نے فرمایا:

’’ولمَ تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک آدم الی اللہ تعالیٰ بل استقبلہ واستشفع بہ فشفعہ اللہ فیک‘‘ ( شرح الشفاء لامام خفاجی ۳؍ ۳۹۸۔ شفاء السقام ؍ ۱۵۴ ۔۔ وفاء الوفاء ص ۱۳۷۶)

’’تم کیوں حضور کی طرف سے اپنا چہرہ پھیروگے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب تمہارا بھی وسیلہ ہیں،تمہارے باپ حضرت آدم کا بھی وسیلہ ہیں؟حضور ہی کی طرف چہرہ کرو اور حضور کی شفاعت کی درخواست کرو اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے میں آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے گا۔‘‘

پچھلی امتوں میں نبیٔ کریمسے توسل و استعانت کا رواج تھا چنانچہ یہود کے بارے میں قرآن کریم میں ہے۔’’اہل کتاب یہود نبی کے وسیلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح مانگا کرتے تھے‘‘۔ (سورۃ البقرہ ؍ ۸۹

)

اسی آیت کی تفسیر میں امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں ’’یعنی فتح ونصرت کا سوال کرتے اور یوں دعا مانگتے اے اللہ ! نبی ِامی کے صدقے ہمیں فتح ونصرت عطا فرما‘‘ (التفسیر الکبیر ج ۳؍ ص ۲۰)

تفسیر در منثور میں ابو نعیم کے حوالے سے حضرت عبد اللہ ابن عباس کی جو روایت تخریج کی گئی ہے اس میں بنی قریظہ ونضیر کے یہودیوں کی دعا کے الفاظ اس طرح تھے :

’’اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے آخری پیغمبراکے طفیل کافروں پرفتحیا بی چاہتے ہیں،توہماری مدد فرماتوان کی مدد ہوئی‘‘ (دُرِّ منثور ، ج ۱؍ ص ۱۲۵)

تابوت سکینہ سے استمدادو توسل

ذوات واشخاص ہی کے ساتھ استمداد وتوسل خاص نہ تھا بلکہ انبیاء وصلحاء کی طرف منسوب اشیاء سے بھی لوگ توسل کرتے اور مدد چاہتے تھے ۔چنانچہ ’’تابوت سکینہ‘‘ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور جسے کتاب اللہ نے عظیم الشان نشانی قرار دیا ہے ۔ (سورۃ البقرہ آیت ۲۴۸)علامہ قاضی بیضاوی اور دیگر مفسرین کی صراحت کے مطابق ’’تابوت سکینہ‘‘میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا مبارک اور آپ کے کپڑے،آپ کے نعلین،حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ مبارکہ اور توریت کے ٹکڑے تھے۔(تفسیر بیضاوی بقرہ ص۱۶۱)اس تابوت کے تعلق سے کتب تفاسیر میں یہ ذکر ہے کہ جب بنی اسرائیل کو کوئی مصیبت در پیش ہوتی تو وہ اس تابوت کے وسیلہ سے دعائیں کرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح پاتے’’وکانوا یستفتحونہٗ علی عدوھم ویقدمون فی القتال ویسکنون الیہ (تفسیر جلالین بقرہ ص ۳۸)’’بنی اسرائیل اس تابوت کے توسل سے اپنے دشمنوں پر فتح یابی طلب کرتے اور اسے معرکۂ جنگ میں آگے رکھتے اور اس سے سکون حاصل کیا کرتے تھے ‘‘ظاہر ہے کہ ’’تابوت سکینہ‘‘اللہ نہیں ہے ،غیر اللہ ہے تو اس کے توسل سے فتح یابی چاہنا غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔اور قرآن کریم نے نکیر نہ فرمائی بلکہ موقع مدح میں ذکر فرمایا۔اس لئے قرآن وتفاسیر کا مطالعہ کرنے والااور اس پر ایمان لانے والا کوئی بھی شخص استعانت بغیراللہ کا انکار کرہی نہیں سکتا ۔ان چیزوں سے استعانت اس لئے تھی کہ یہ چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی جانب منسوب تھیں ۔حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توسط سے رسول اللہکا زیب تن کیا ہوا جُبّہ ملا تو وہ اسے مریضوں کے لئے نکالا کرتی اور دھو کر اس کا غسالہ مریضوں کو پلایا کرتی تھیں اور اس سے شفا چاہتی تھیں۔

(مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص؍۳۷۴)

قرآن کریم سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

رب کریم ارشاد فرماتا ہے ’’واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘(سورۃ البقرہ آیت ۱۵۳) ’’صبر اور نماز سے مدد چاہو‘‘۔ظاہر ہے کہ نہ صبر خدا ہے ،نہ نماز بلکہ دونوں غیر اللہ ہیں،اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس سے ثابت ہو ا کہ اعمال صالحہ سے استمداد واستعانت جائز ومستحسن ہے ۔

رب عزوجل اشخاص وذوات سے بھی استمداد کا حکم فرماتا ہے۔ ارشاد ہے’’تعاونوا علی البر والتقویٰ‘‘(سورۂ مائدہ آیت ۲)’’نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘اس آیت میں اشخاص سے استمدادواستعانت کا حکم فرمایا گیا ہے۔ائمہ مجتہدین شخصیت اور عمل دونوں کے وسیلے سے متعلق استدلال میں درج ذیل آیت کریمہ پیش کرتے ہیں:

’’یاایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ‘‘(سورئہ مائدہ آیت ۳۵)’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وسیلہ لیا ۔اور ان کے وسیلہ سے بارش ہوئی ۔تو حضرت عمر نے فرمایا ’’ھذا واللہ الوسیلۃ الی عزوجل والمکان منہ‘‘خدا کی قسم حضرت عباس اللہ کی بارگاہ کے وسیلہ اور رتبہ والے ہیں۔(الاستیعاب لابن عبد البر) اس روایت نے واضح کردیا کہ مذکورہ آیت کریمہ میں صرف اعمال صالحہ کا وسیلہ مطلوب نہیں ۔ بلکہ صلحاء کی ذات کا بھی وسیلہ مطلوب ہے۔یعنی خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بناناجو غیر اللہ سے استمداد کی ایک اہم صورت ہے کیا کوئی دعویٰ اسلام کے بعد یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ غیر اللہ سے استمدادو استعانت کاحکم دے کر اللہ عزوجل نے ناجائز وحرام بلکہ شرک کا حکم دیا ۔لہٰذا ماننا پڑے گا کہ استمدادو استعانت اور توسل ذوات واشخاص کا بھی درست ہے پھر یہ اپنے عموم میں زندہ ووصال یافتہ دونوں کو شامل ہے ۔

احادیث سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

استمدادو استعانت خواہ اعمال سے ہو یا ذوات واشخاص سے قبل وصال ہو یا بعد وصال اس کا ثبوت کثیر وافر احادیث سے ہے ۔علماء راسخین نے غیراللہ سے استمداد ووسلیہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ (۱)عمل صالح سے استمدادوتوسل(۲)نیک اشخاص سے استمداد وتوسل۔

عمل صالح سے استمداد و توسل

اعمال صالحہ سے استمداد وتوسل کے تعلق سے مندرجہ ذیل حدیث پاک سے استدلال بہت معروف ہے جسے امام بخاری نے کتاب الاجارہ میں ،امام مسلم نے کتاب الذکر والدعا والتوبہ والاستغفار ،باب قصۃ اصحاب الغار الثلثۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ رسول اللہنے ارشاد فرمایا :

’’تین آدمی جارہے تھے کہ بارش ہونے لگی ان لوگوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی ،غار کے منھ پر ایک چٹان آگئی جس سے غار کا منھ بند ہوگیا ،ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ،اللہ کے لئے جو نیک کام تم نے کیا اس پرغور کرو اور ان اعمال صالحہ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگو،شاید اللہ عزوجل یہ مصیبت تم سے دور فرمادے ، تو ان تین میں سے ایک نے یہ دعا کی ۔ اے اللہ ! میرے ماں ،باپ بوڑھے تھے ، میری بیوی تھی اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ،میں ان کے لئے بکریاں چراتا جب میں واپس لوٹتا تو دودھ دُوہتا ،اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے ماں باپ کو دودھ پلاتا ،ایک دن درختوں نے مجھے دور پہونچا دیا تو رات سے پہلے میں لوٹ نہ سکا ،میرے والدین میرے لوٹنے تک سوچکے تھے ،میں نے حسب معمول دودھ دُوہااور ایک برتن میں دودھ لیکر والدین کے سرہانے کھڑا ہوگیا ،ان کو نیند سے بیدار کرنا میں ناپسند کرتا تھا اور ان سے پہلے بچوں کو دودھ پلانا بھی مجھے نا پسند تھا ،باوجودیکہ میرے بچے میرے قدموں کے پاس چیخ رہے تھے ،فجر طلوع ہونے تک میرا اور میرے ماں ،باپ کا یہی حال رہا ،اے اللہ تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا جوئی کے لئے کیا تھا ،تو ہمارے اس غار میں کشادگی کردے کہ ہم اس غار سے آسمان کو دیکھ لیں ،تو اللہ عزوجل نے کچھ کشادگی کردی اور ان تینوں نے اس غار سے آسمان کو دیکھ لیا ۔ پھر دوسرے شخص نے دعا کی اے اللہ ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے مجھے بے پناہ محبت تھی جیسا کہ مرد عورت سے محبت کرتا ہے ،میں نے اس سے ملاقات کی درخواست کی ،اس نے انکار کیا اور سودینار کی طلبگار ہوئی ،میں نے بڑی مشقّت سے سو دیناراکٹھا کئے اور اسے لے کر اپنی محبوبہ کے پاس گیا ،جب میں اس کے ساتھ جنسی عمل کرنے بیٹھا تو اس نے کہا ،اے اللہ کے بندے!اللہ سے ڈر اور حرام طریقے سے مہر نہ توڑ،تو میں اسی وقت اس سے علیحدہ ہوگیا ۔ اے اللہ! تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے تیری رضا مندی کے لئے ایسا کیا تھا ،تو ہمارے لئے اس غار کو کچھ کھول دے ،تو اللہ تعالیٰ نے غار کو کچھ کھول دیا ۔اور تیسرے شخص نے کہا ،اے اللہ ! میں ایک شخص کو ایک فرق چاول کی اجرت پر اجیر رکھا تھا ،جب اس نے اپنا کام پورا کرلیا تو کہا میری اجرت دے دو، میں نے اس کو مقررہ اجرت دے دی مگر اس نے اس سے اعراض کیا ،پھر میں ان چاولوں سے کاشت کرتا رہا تاآنکہ اس کی آمدنی سے میں نے گائے اور چرواہے جمع کرلئے ،ایک دن وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔اللہ سے ڈرو اور میرا حق نہ مارو،میں نے کہا جائو اوران گایوں اور چرواہوںکو لے لو ،اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کرتا یہ گائے اور چرواہے لے لو ،وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اے اللہ !تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضاجوئی کے لئے کیا تھا ،تو غار کے منھ کا جو حصہ کھلنے سے رہ گیا ہے اسے کھول دے تو اللہ تعالیٰ نے کھول دیا بعض روایتوں میں ہے کہ وہ غار سے نکل کر روانہ ہوگئے ۔ (صحیح المسلم جلد دوم ص ۳۵۳)

ان تینوں آدمی نے اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کی اور وہ دعا بارگاہ ِالٰہی میں قبول ہوئی اور یہ حدیث موقع مدح میں ہے تو اس سے وسیلے کا جواز واستحسان ثابت ہوا ۔

بخاری ونسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،وہ نبیٔ کریمسے روایت کرتے ہیں۔’’استعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشئی من الدجلۃ‘‘صبح کی عبادت سے استعانت کرو ،شام کی عبادت سے استعانت کرو ،کچھ رات کا حصہ باقی ہوتو اس کی عبادت سے استعانت کرو ۔

ابن ماجہ اور حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ نبیٔ کریمﷺ سے کہ فرمایا’’استعینوا بطعام السحر علے صیام النھاروبالقیلولۃ علے قیام اللیل‘‘سحر کے کھانے سے دن کے روزے پر استعانت کرواور دوپہر کے سونے سے قیام لیل پر استعانت کرو۔

ظاہر ہے کہ نہ تو صبح کی عبادت خدا ہے ،نہ شام کی ،نہ سحر کی ،نہ دوپہر کا سونا ۔تو ان سے استمدادو استعانت کا حکم دیا گیا۔ جس سے ثابت ہو کہ غیر اللہ سے استمدادواستعانت جائز وروا، مستحسن ومستحب ہے۔

ذوات واشخاص سے استمداد و توسل

ائمہ دین نے مندرجہ ذیل احادیث کریمہ سے مسئلۂ استمداد واستعانت وتوسل میں استدلال فرمایا ہے ۔حضرت عثمان ابن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث ہے،حضورﷺ نے انہیں خود ایک دعا تعلیم فرمائی ۔جس کے الفاظ یہ ہیں’’اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک نبیک محمد نبی الرحمہ یامحمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہٖ لتقضی لی حاجتی ۔اللھم فشفعہ۔ (ترمذی شریف جلد دوم ص ۱۹۷)

’’اے اللہ ! میں تیرے نبی محمد ا جو نبیِ رحمت ہیں۔کے وسیلے سے تجھ سے مانگتا اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، یارسول اللہ !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوںتاکہ میری حاجت پوری ہو ،الٰہی !حضور کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔‘‘یہ حدیث صرف امام ترمذی نے اخذ نہیں کی ہے بلکہ امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ،ابن ماجہ نے سنن صلوۃ الحاجۃ میں ،نسائی نے عمل الیوم واللیلۃ میں ،ان کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اس کی تخریج فرمائی اور متعدد محدثین نے اس کے صحیح ہونے کی صراحت بھی فرمائی اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہے کہ نبیٔ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو وسیلہ ورابطہ بنا کر قضائے حاجات کے لئے ان سے استمداد واستعانت منصوص ہے ۔ حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں مذکورہے کہ ایک شخص کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اہم کام تھا جو پورا نہیں ہورہا تھا ۔وہ حضرت عثمان بن حنیف کے پاس آیا آپ نے نماز حاجت کے سوا مذکورہ دعا ’’اللھم انی اسئلک الخ‘‘کی تعلیم فرمائی ۔ اس طرح اس کی حاجت پوری ہوگئی ،پھر جب اس شخص کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف سے ہوئی تو اس نے کہا ’’ جزاک اللہ خیرا ماکان ینظر ولا یلتفت اِلَیَّ حتّٰی کلمتُہ فی‘‘اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے وہ میری طرف التفات کرتے ہی نہ تھے پھر میں نے اپنی ضرورت کے تعلق سے گفتگو کی اور وہ پوری ہوئی ۔ (الترغیب والترہیب جلد اول۔ والخصائص الکبریٰ جلد دوم ؍ص۱ ۲۰)

روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف نے اس شخص سے کہا کہ ،خلیفۃ المسلمین سے آپ کے بارے میں میری کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر تھے ۔ایک نابینا صحابی بھی حاضر بارگاہ ہوئے ،اور اپنی بینائی کے لئے دعاکی درخواست کی ۔حضور ا نے اسے صبر کی تلقین کی ۔مگر وہ اپنی بات پر مصر رہے ۔تو حضورنے انہیں وضو،نماز اور اسی دعا کی تلقین فرمائی ۔ وہ نابینا صحابی دعا کرنے کے لئے گئے ،اور ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں دیر تک رہے۔ تو ہم نے دیکھا کہ وہ نابینا صحابی حضور کی بارگاہ میں اس حال میں آئے کہ ان کی دونوں آنکھیں بالکل صحیح تھیں۔(وفاء الوفاء جلد چہارم ص۱۳۷۳ للعلامہ السمھودی)

غور فرمائیں کہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابیٔ رسول ہیں ان حضرات سے بڑھ کر احادیث رسول کو سمجھنے والے کون ہوسکتے ہیں؟۔ انہوں نے دعائے حاجت والی حدیث سے یہی سمجھا کہ یہ دعا نبیٔ کریمکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔حضور سے استمدادو استعانت ،نداء اور پکار ان کی ظاہری زندگی کے بعد بھی خود صحابہ کا معمول ہے ۔پھر حضرت عثمان ابن حنیف کے کہنے پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آنے والے حاجت مند یا تو صحابی تھے یا کم از کم کبار تابعین میں سے تھے ۔ انہوں نے بلا چون و چرا اس عملِ توسل واستعانت پر عمل کیا جس سے واضح ہے کہ بعد رحلت بھی استمدادووسیلہ ونداء جائز ومستحسن ہیں ……… ربیعہ ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں’’کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل فقلت اسئلک مرافقتک فی الجنۃ قال أوغیر ذلک قلت ھو ذاک ،قال فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود (رواہ مسلم) (مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃص ۸۴)

’’میں سرکار دوعالمکے ساتھ وہاں رات میں رہتا ۔ ایک دفعہ رات میں آپ کے لئے وضو کا پانی اور دیگر ضرورت کی چیزیں لایا۔ آپ نے فرمایا کہ ربیعہ !مانگ کیا مانگتا ہے ؟۔عرض کی میں حضور سے سوال کرتا ہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت ہو ،فرمایا کچھ اور مانگنا ہے ۔ عرض کی میری مراد تو بس یہی ہے ،فرمایا تو تم اپنے نفس پرمیری مدد زیادہ سجدہ کرکے کرو‘‘۔ مذکورہ حدیث پاک میں وارد دو،تین الفاظ کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں۔(۱)ایک تولفظ’’ سَلْ‘‘ ہے(۲)دوسرا’’اسئلک مرافقتک‘‘ یعنی جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال(۱)سَلْ امر کا صیغہ ہے جس میں حضورا نے ربیعہ بن کعب سے مانگنے کو کہا ،اس کا مفعول مذکور نہیں کیونکہ کوئی خاص مفعول یہاں مطلوب نہیں ،تو جس چیز کا بھی مطالبہ ہو وہ صحیح ہوگا۔کہ اس میں نا کسی چیز کی تقید ہے ،نا کسی امر کی تحصیص تو اس سے صاف واضح ہوا کہ حضورا ہر قسم کی حاجت وضرورت پوری فرما سکتے ہیں ،ہر طرح کی مدد کرسکتے ہیں۔(۲)جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال خود حضور سے ہی کیا گیا ، جنت میں رفاقت عظیم ترین نعمت ہے۔مگر اس نعمت کے سوال پر حضور نے منع نہ فرمایااور نہ یہ فرمایا کہ ربیعہ یہ شرک ہے ۔بلکہ مزید مانگنے کا مطالبہ فرمایا۔یہ غیر خدا سے مدد مانگنا ہوا ۔(۳)لفظ أعِنِّیْ کا معنی ہی ہے ’’میری مدد واعانت کر ‘‘اسی کو استعانت کہتے ہیں۔تو غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔ اگر یہ تصور توحید کے منافی ہوتا تو حضور ہر گز ارشاد نہ فرماتے۔شیخ محقق اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں’’سل‘‘فرماکر سوال کو مطلق رکھا ،کسی خاص چیز سے مقید نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ تمام معاملات حضور کے دست کرم میں ہیں،جوچاہیں ،جس کو چاہیںاپنے رب کے حکم سے عطا کردیں۔ (اشعۃ اللمعات للشیخ عبد الحق ،باب السجود وفضلہ)

شیخ محقق کی یہ تشریح استمداد کو تصور توحید کے منافی قرار دینے والوں کے لئے تا زیانۂ عبرت ہے ۔

قحط میں حضورکے وسیلے سے دعاکرنا

جب اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر شکایت کی تو رسول اللہﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی۔تو خوب جم کر بارش ہوئی ۔مدینہ منورہ کے آس پاس کے لوگوں نے حاضر ہوکر عرض کی ہم ڈوب جائیں گے ۔پھر آپ نے دعا کی اور بارش صرف ارد گرد میں ہوئی ۔حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ولو ادرک ابو طالب ھذا الیوم لسرہ فقال لہ بعض اصحابہ یا رسول اللہ!اردت بقول ؎ وابیض یستقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامیٰ عصمۃللارامل

’’ قال نعم‘‘یعنی اگر ابو طالب اس دن کو پاتے تو خوش ہوتے ایک صحابی نے عرض کیا ۔ حضور آپ کااشارہ ان کے اس شعر کی جانب ہے ۔ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگی جاتی ہے ۔ یتیموںاور ناداروں کے ماویٰ وملجاء ،فرمایا ہاں۔(السیرۃ النبویہ لابن ھشام ج ۱؍ص ۱۷۹ ۔صحیح البخاری باب الاستقاء اول ص ۱۳۷)

بعد رحلت حضور سے توسل واستعانت

وسیلہ بالانسان کے متعلق بخاری باب الاستقاء میں روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل یہ تھا کہ جب قحط پڑتا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلے سے آپ اللہ سے بارش کا سوال کرتے ۔دعا کے الفاظ یہ ہوتے۔’’اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون۔ (صحیح البخاری جلد اول ص ۱۳۷)

اے اللہ ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی ا کا وسیلہ لے کر حاضر ہوتے تھے توتو ہمیں سیراب کرتا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ لیکر آئے ہیں،ہم پر بارش برسا ۔راوی کہتے ہیں تو مینہ برستا‘‘۔

یہ حدیث اس پر واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور بزرگان دین کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنانا اور ان کے سہارے مدد طلب کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل تمام صحابۂ کرام کے مجمع میں ہوا اور بلا نکیر سب نے اس پر عمل کیا تو توسل واستعانت کے مستحب ہونے پر صحابہ کا اجماع ہوگیا ۔توسل سے یہاں دعاکی درخواست مراد نہیں ،جیسا کہ ابن تیمیہ کے ریزہ خوار کہتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں صاف تصریح ہے کہ اے اللہ !ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ لاتے ہیں۔ہم پر بارش نازل فرما۔اس کو دعا کی درخواست پر محمول کرنا حدیث کی تحریفِ معنوی ہے۔ابن تیمیہ کے پیرو کاروں کا یہ کہنا ہے کہ اگر بعد رحلت بھی حضور اکرم ا سے تو سل جائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس سے کیوں وسیلہ لیتے۔دھوکا اور فریب وجہالت ہے کیونکہ کسی چیز کے مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو اپنانا دوسرے کی نفی کی دلیل نہیںبلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بر تر کے ہوتے ہوئے اس سے کم رتبے والے سے بھی وسیلہ لیا جاسکتا ہے ۔پھر یہ کہ حضرت عباس سے توسل میں ایک اہم افادہ مقصود تھا حضور اقدس ا سے توسل واستعانت کا مستحب مستحسن ہونا سب کو معلوم تھا ممکن ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ غیر نبی سے تو سل جائز نہیں تو حضرت عمر نے حضرت عباس کو وسیلہ بنا کر واضح کردیا کہ غیر نبی سے توسل بھی مستحب ہے،بالخصوص رشتۂ نبی ا کا وسیلہ لینا ، حدیث کے الفاظ ’’کنا نتوسل‘‘سے ظاہر ہے کہ یہ تو سل واستعانت صرف عہد رسالت ا کے ساتھ خاص نہ تھا بعد میں بھی صحابہ کا یہ معمول رہا ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وصال کے بعد استمداد ووسیلہ لینا جائز نہیں،وہ در اصل صحیح روایتوں کے منکر ہیں۔چنانچہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اور علامہ قسطلانی نے ’’المواھب اللدنیہ‘‘میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے یہ روایت بیان فرمائی۔ اس کے راوی حضرت عمر کے خازن مالک الدار ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اصاب الناس قحط فی زمان عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجاء رجل الی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ!استق اللہ لامتک فانھم قد ھلکو افاتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام فقال ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انھم یسقون۔ (فتح الباری دوم ،ص ۱۳۷)

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ قحط میں مبتلاء ہوئے تو ایک شخص نبیٔ کریم ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوا ،اور کہا یا رسول اللہا !اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرمائیں ،لوگ ہلاک ہورہے ہیں ۔نبی کریم ا خواب میں ایک شخص کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عمر سے جاکر عرض کرو کہ عنقریب بارش آئے گی۔بعض لوگوں نے اس شخص کا نام بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتایا ہے۔اس حدیث کو علامہ ابن حجر اور علامہ قسطلانی نے صحیح قرار دیا ہے۔بیہقی نے’’ دلائل النبویہ‘‘ میں یہ حدیث ذکر کیا ہے ۔تو اس حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ وقتا فوقتا صحابۂ کرام حضور ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر حضورا سے استعانت واستمداد کرتے تھے ۔

منکرین استمداد کے لئے یہ آیت کریمہ کافی ہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے :

’’ولوانھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروااللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔(سورۃ النساء آیت ۶۴)

اور جب وہ اپنی جانو ںپر ظلم (یعنی گناہ)کرکے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور معافی مانگیںان کے لئے رسول تو بیشک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔

رسول پاک کی بارگاہ میں حاضری دے کر ان سے معافی مانگنے اور توبہ واستغفار کرنے کا یہ حکم حضور کی حیات ظاہری کے ساتھ خاص نہیں۔بلکہ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد بھی یہ حکم جو ں کا تو ںباقی ہے ۔ صحابۂ کرام اور ائمۂ اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے ۔ چنانچہ علامہ نور الدین علی ابن احمد سمہودی اپنی کتاب’’وفاء الوفاء ‘‘ میںفرماتے ہیں :

’’علماء اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے کہ یہ حکم حضور اکی ظاہری حیات اور بعد وصال دونوں کو عام ہے اور آپ کی قبر انور پر حاضر ہونے والوں کے لئے اس آیت کریمہ کی تلاوت اور توبہ کرنے اور مغفرت چاہنے کو مستحب قرار دیا ہے‘‘ چنانچہ ذیل میں عہد صحابہ کے دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے علامہ سمہودی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے راسخین کی رائے اور مسلک اہلسنت وجماعت کی تائید ہوتی ہے ۔

(۱)محمد عتبی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی قبر انور کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی دیہاتی آیا اور وہ السلام علیک یا رسول اللہ کے بعد کہنے لگا ،اے رسولوں میں سب سے بہتر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے ،اور اس میں ارشاد فرمایا ہے جب لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرکے آپ کی بار گاہ میں حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور آپ بھی ان کے لئے سفارش کریں تو اللہ ضرور توبہ قبول فرمائے گا ۔میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے آیا ہو ں یارسول اللہ! میں آپ کو اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں شفیع بناتاہوں،پھر روتے ہوئے اس نے یہ اشعار پڑھے۔

یا خیرمن دفنت بالقاع أعظمہ

فطاب من طیبھن لاقاع والاکم

نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ

فیہ العفاف وفیہ الجود والکرم

’’اے ان تمام لوگوں میں سب سے افضل جو زمین میں دفن کردیئے گئے تو ان کی خوشبو سے چٹیل میدان اور ٹیلے مہک اٹھے ۔میری جان اس قبر پر فدا جس میں آپ آرام فرماہیںجو پاک دامنی اور جود وکرم کا خزانہ ہے‘‘۔راوی کہتے ہیں کہ وہ اعرابی دوبارہ مغفرت طلب کرکے لوٹااتنے میں میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں نبیٔ کریم ا کی زیارت سے مشرف ہوا۔سرکار نے فرمایا:’’یا عتبی الحق الاعرابی فبشرہ بان اللہ تعالیٰ قد غفرلہ۔‘‘ ’’جائو اس اعرابی سے مل کر بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے میری سفارش سے اس کی مغفرت فرمادی ہے۔‘‘(رواہ ابن عساکر فی تاریخہ ،الجواہر المنظم لابن حجر الھیتمی ص ۱۵۳)

(۲)دوسری روایت ابو سعید السمعانی کی ہے ۔وہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے وصال کے تین دن بعد ایک اعرابی آپ کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور انہوں نے خود کو قبر شریف پر گرا دیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگے اور کہتے جاتے تھے ۔ یارسول اللہ ! جو کچھ آپ نے فرمایا ہم نے سنا اور ہم نے آپ کے بتائے ہوئے کو محفوظ کرلیا یا رسول اللہ! آپ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ’’ولو انھم اذ ظلمواالخ‘‘میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں آپ کی بار گاہ میں حاضر آیا ہوںکہ آپ اپنے رب سے میرے لئے استغفار کریں ۔تو قبر انور سے آواز آئی کہ تیری مغفرت ہوگئی‘‘۔( وفاء الوفاء ،ج ۴، ص ۱۳۶۱، الجواہر المنظم ص ۱۵۵)

ان دونوں روایتوں میں صاف وضاحت ہے کہ آپﷺ کی رحلت کے بعد قبر انور پر حاضر ہوکر استغفار واستمداد واستعانت واستشفاء جائزومستحب ہے اور یہ صحابۂ کرام کا طریقہ ہے۔عہد صحابہ کے بعد کے ائمہ ،علماء واولیاء نے بھی استمداد واستعانت وتوسل کو جائز ومستحسن سمجھا ۔ اس تعلق سے مستند کتابوں میں اتنا کچھ ہے کہ اس کے لئے دفتر در کار ہے ۔ یہاں سید الاولیاء حضرت غوث الثقلین کا ایک ارشاد نقل کیا جارہا ہے ۔ حضور سیدنا غوث اعظم کا یہ ارشاد’’ بہجۃ الاسرار شریف ‘‘میں مذکور ہے ۔’’جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہواور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے اور دورکعت نماز پڑھے ،ہر رکعت میںبعد فاتحہ کے سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام پھیر کر نبی اپر درود بھیجے اور مجھے یاد کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے‘‘۔اس طرح بہت سے اقوال حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں ۔ان کے علاوہ بہت سے بزرگان دین سے اس طرح کے اقوال مروی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء وصلحاء سے استمداد جائز ودرست ہے۔

حضرت شیخ حسن عدوی حمزاوی نے ’’مشارق الانوار‘‘ میں شیخ الاسلام شہاب الدین رملی کا یہ عقیدہ بیان فرمایا۔’’شیخ الاسلام رملی سے پوچھا گیا کہ عوام مصیبت وپریشانی کے وقت یا شیخ فلاں اور اس قسم کے الفاظ کہتے ہیں تو کیا مشائخ کرام وصال کے بعد امداد فرماتے ہیں ؟تو آپ نے جواب دیا کہ انبیاء،اولیاء، صالحین اور علماء سے استغاثہ(فریاد خواہی)جائز ہے۔کیونکہ یہ حضرات وصال کے بعد ایسی ہی امداد فرماتے ہیں ۔جیسی وہ اپنی حیات ظاہری میں امداد فرمایا کرتے تھے کیونکہ انبیاء کے معجزے ، اولیاکی کی کرامتیں ہیں۔ مشارق الانوار ،للشیخ الحسن العدوی الحمزاوی

خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی کی رد المختار کے حاشیہ میں ہے’’زیادی نے یہ بات بہ تحقیق بیان کی ہے، جب کسی انسان کی کوئی چیز گم ہوجائے اور وہ یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز واپس فرمادے تو اسے چاہییٔ کہ کسی بلند جگہ قبلہ رو کھڑا ہو جائے اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب نبیٔ کریم ا کو پہونچائے پھر سیدی احمد بن علوان کو ایصال ثواب کرے۔’’یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علی ضالتی والانزعتک من دیوان الاولیاء‘‘یعنی اس طرح کہے یا سیدی احمد اے ابن علوان !اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کی تو میں آپ کا نام دفتر اولیاء سے کاٹ دوں گاتو اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے کہنے والے کو واپس فرمادے گا۔‘‘رد المختار کتاب اللقطہ ج ۶؍ص ۴۴۷

شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح العزیز‘‘میں سورئہ فاتحہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غیراللہ سے استمدادو استعانت اگر بایں طور ہے کہ اس غیراللہ پر کلی اعتماد کرتا ہے اور اسے عون الٰہی کا مظہر نہیں جانتا تو وہ حرام ہے اور اگر التفات تو حق تعالیٰ کی طرف ہے اور غیر اللہ سے استمداد بایں طور ہے کہ اسے مدد الٰہی کا مظہر جانتا ہے جس کو استعانت ظاہری کہتے ہیں یہ شرعا جائز ودرست ہے۔انبیاء ،اولیاء سے اس قسم کی استعانت کی جاتی ہے‘‘۔ فتح العزیز تفسیر سورۂ فاتحہ

الغرض ذوات واشخاص سے استعانت واستمداد بلا شبہ جائز ومستحسن ہے۔کوئی بھی مسلمان انبیاء ،اولیاء ،صلحاء سے استمدادا نہیں مستقل بالذات سمجھ کر نہیں کرتا ہے۔نہ ہی انہیں قادر بالذات سمجھتا ہے بلکہ انہیں قضائے حاجات کا وسیلہ اور وصول فیض کا واسطہ جانتا ہے اور یہ معنیٰ تو غیر خدا ہی کے ساتھ خاص ہے ۔اس استمدادواستعانت کو تصور توحید کے منافی قرار دینا اور مشرک گرداننا توحید اور شرک کے شرعی مفہوم سے جاہل وناواقف رہنے کی بین دلیل ہے۔جیسا کہ ابن تیمیہ اور اس کے ریزہ خوار محمد ابن عبد الوھاب واسماعیل دہلوی نے اسے شرک قرار دیا ہے ۔ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ پورے عالم کا مسئلہ استمدادپر اجماع واتفاق رہا کہ عہد رسالت سے تقریبا سات سو سال تک کسی کے دل میں یہ خیال بھی نہ گزرا ہوگا کہ انبیاء واولیاء سے استمداد توحید کے منافی عمل ہے۔رہا ابن تیمیہ کا اسے حرام وشرک بتانا تو یہ جمہور اسلام کی مخالفت ہے جسے اس کے دور کے علماء نے اسے مسترد کردیا ہے ۔در اصل ابن تیمیہ اور اس کے متبعین شرک وتوحید کا معنیٰ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ لوگ اس بنیادی نکتہ پر غور نہ کر سکے کہ عہد رسالت کے مشرکین کا اصل شرک کیا تھا ۔اس لئے انہوں نے اپنے خود ساختہ تصور توحید کو اسلامی تصور توحید قراردے دیاحالانکہ اسلامیات کے ماہرین نے اس بات کی خوب صراحت کردی ہے ، کہ عہد رسالت کے مشرکین کا شرک ان کا چند معبود جاننے کا نظریہ تھا اور اللہ سبحانہ کے لئے اولاد ماننے کا عقیدہ تھا اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو نظام کائنات کی تدبیر میں خدا کا شریک سمجھناتھا ۔شرک توحید کی ضد ہے۔علامہ عینی نے توحید کا معنیٰ یہ بیان کیا ہے۔ ’’توحید اصل میں وَحَّدَ یُوَحِّدُ کا مصدر ہے اور وَحّدْتُ اللہ َ کے معنیٰ ہیں میں نے اللہ کو اس کی ذات وصفات میں منفرداعتقاد کیا ۔ جس کی نہ تو کوئی نظیر ہے ،نہ ہی اس کی کوئی شبیہ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ توحید نام ہے اللہ کی ذات کے لئے یہ ثابت کرنا کہ وہ دوسری ذات کے مشابہ نہیں ہے اور نہ صفات سے عاری ہے‘‘۔ حاشیہ بخاری جلد دوم ،ص ۱۰۹۶

اسی کے ساتھ ساتھ شرک کا مفہوم بھی ذھن میں بسالیں علامہ سعد الدین تفتازانی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں ۔شرک کرنے کے معنیٰ یہ ہیں۔الوہیت بمعنٰی وجوب وجود میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ مجوسیوں کا شرک ہے ۔یا الوہیت بمعنیٰ استحقاق عبادت میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ اصنام پرستوں کا شرک ہے۔ شرح العقائد للنسفی ۶۱ ، مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ

شرک کی اس تعریف سے بخوبی عیاں ہے کہ خدا کی عطا کردہ قوت امداد مان کر انبیاء اولیا ء سے مدد طلب کرنا ہرگز ہرگز شرک کے خانے میں نہیں آتا …نہ ہوگا کہ دینی و دنیاوی کسی بھی طرح کی مدد کسی غیر اللہ سے چاہنا شرک ٹھہرے گا ۔والعیاذ باللہ ! تو حق وہی ہے جس پر عہد رسالت سے لیکر آج تک مسلمانان عالم کا اجماع ہے ۔بلکہ پچھلی اُمتوں کا بھی کہ قضائے حاجات کے لئے صالحین سے استمدادتصوّرِ توحید کے منافی نہیں ۔

مُجدِّد ومُحَدَّث

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو منصب قرآنِ کریم میں مذکور ہے ‘وہ ہے :”نبوت ورسالت‘‘۔اللہ تعالیٰ نے کئی انبیائے کرام کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا: ”بے شک وہ ہمارے نزدیک چنیدہ وپسندیدہ ہیں ‘(ص:47)‘‘۔قرآنِ کریم میں پچیس انبیائے کرام کے نام صراحت کے ساتھ آئے ہیں ‘اُن پر نام بنام ایمان لانا فرض ہے اور اُن میں سے کسی ایک کی نبوت کا انکار بھی کفر ہے ‘ اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

(1) حضرت آدمؑ (2) حضرت نوح ؑ(3) حضرت ابراہیمؑ(4) حضرت اسماعیلؑ (5) حضرت اسحاقؑ (6) حضرت یعقوبؑ (7) حضرت یوسفؑ (8) حضرت موسیٰؑ (9) حضرت ہارونؑ (10) حضرت شعیب ؑ(11) حضرت لوطؑ (12) حضرت ہودؑ (13) حضرت داؤدؑ(14) حضرت سلیمانؑ (15) حضرت ایوبؑ (16) حضرت زکریاؑ (17) حضرت یحییٰؑ (18) حضرت عیسیٰؑ (19) حضرت الیاسؑ (20) حضرت الیَسَعؑ (21) حضرت یونُسؑ (22) حضرت ادریسؑ (23) حضرت ذُوالکِفلؑ (24) حضرت صالحؑ (25)اورخاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ‘صلوات اللّٰہ تعالیٰ وسلامہٗ علیہم اجمعین۔

حضرت عزیر علیہ السلام کا نام التوبہ:30میں صراحت کے ساتھ آیا ہے ‘اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور یہود نے کہا: ”عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا: مسیح اللہ کے بیٹے ہیں‘ یہ محض ان کے منہ سے کہی ہوئی (بے سروپا) باتیں ہیں‘‘۔ اسی طرح البقرہ : 258میں حیات بعد الموت کے حوالے سے ایک تجربہ اور مشاہدہ بیان ہوا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر اس حال میں گزرا کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی ‘ اس نے (تعجب سے) کہا: اللہ اس بستی والوں کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گاتو اللہ نے سو برس تک اس پر موت طاری کردی ‘ پھر اس کو زندہ کر کے اٹھایا ‘‘۔مفسرینِ کرام نے یہاں عزیر علیہ السلام مراد لیے ہیں ‘ بعض علما نے انہیں نبی کہا ہے لیکن ان کی نبوت قطعی نہیں ہے ‘ بلکہ ظنی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ قرآنِ کریم میں مذکور نہیں ہے ‘ اُن کی نبوت کے بارے میں بھی اختلاف ہے‘ تاہم جمہور علمائے امت کی رائے یہ ہے کہ وہ نبی تھے ‘ اُن کا ذکرالکہف:65 میں ان الفاظ میں ہے: ”تو اُن دونوں (حضراتِ موسیٰ ویوشع ) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے ( خضر )کو پایا ‘جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت اورعلم عطا کیا تھا‘‘۔قرآنِ کریم نے اسے ”عِلمِ لَدُنِّی‘‘ سے تعبیر فرمایا ‘یعنی وہ علم جو کسی استاذ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔الغرض تکوینی امور کے پیچھے جو اللہ تعالیٰ کے اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں ‘”عِلمِ لَدُنِّی‘‘سے اُن کا علم مراد ہے ۔اللہ تعالیٰ نے المؤمن:78میں فرمایا: ”اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسول بھیجے‘ اُن میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرمادیا اور بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان نہیں فرمایا ‘‘۔اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ سارے انبیائے کرام علیہم السلام کے احوال قرآنِ کریم میں بیان نہیں ہوئے‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور ہر امت میں( اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے والاگزرا ہے‘ (فاطر:24)‘‘۔

لیکن اِجمالاً تمام انبیا پرایمان لانا ضروری ہے ‘ البقرہ:285میں فرمایا: ”رسول ایمان لائے اُس کلام پر جو اُن پر اُن کے رب کی جانب سے اتارا گیا اور سب مومن بھی ‘سب کے سب اللہ پر‘ اس کے فرشتوں پر‘ اُس کی کتابوں پر اور اُس کے (سب ) رسولوں پرایمان لائے‘‘۔ اسی آیۂ مبارکہ میں فرمایا :”ہم (ایمان لانے میں)اُس کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ‘‘۔ تاہم قرآنِ کریم نے یہ ضرور بتایا کہ انبیائے کرام کے مابین درجہ بندی موجود ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”یہ (سب) رسول ہیں‘ ہم نے ان میںسے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے‘ (البقرہ:253)‘‘۔انبیائے کرام کی قطعی تعداد قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث صحیح میں مذکور نہیں ہے کہ اس کا انکار کفر وضلالت قرارپائے‘ البتہ بعض روایات میں انبیائے کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم وبیش‘ رسولوں کی تعداد313اور صُحفِ سماوی کی تعداد110بتائی گئی ہے‘ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اپنے اپنے زمانے میں جسے بھی اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بناکر بھیجا‘ وہ سب کے سب برحق تھے اور ہم ان پر ایمان لاتے ہیں۔ 

خاتم المرسلین ﷺ نے خود بیان فرمایا: ”بنی اسرائیل کی سیاست کے امور انبیائے کرام انجام دیتے تھے ‘ جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا ‘مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘ بس خلفاہوں گے‘ (صحیح البخاری:3455)‘‘۔ سو آپ ﷺ کے بعد خلافت کا تصور موجود ہے ‘لیکن خلیفہ نبی اور رسول کی طرح منصوص نہیں ہوتاکہ اُس کی خلافت پر ایمان نہ لانے والے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے ۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں مُجَدِّد اور مُحَدَّث کے مناصب کا بھی ذکر آیا ہے ‘ لیکن مُجدِّد یا مُحَدَّث بھی نبی اور رسول کی طرح منصوص اور مُعیَّن نہیں ہوتا کہ اس کی اس حیثیت کا انکار کفر قرار پائے ۔ نبیﷺ نے فرمایا:”بے شک اللہ اِس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کا فریضہ انجام دے گا‘ (سنن ابودائود: 4291)‘‘۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب دین کی تعلیمات مٹ جاتی ہیں یا اُن میں باطل کی آمیزش کردی جاتی ہے یا دین کو اپنی خواہشات کے تابع بنادیا جاتا ہے ‘بدعات ومُنکَرات اہلِ دین میں نفوذ کرجاتی ہیںاور دین کا روشن چہرہ دھندلانے لگتا ہے ‘تو اللہ تعالیٰ پردۂ غیب سے ایسے اشخاص کو غیر معمولی علمی وفکری صلاحیتوں‘قوتِ عملی اور جذبۂ صادق سے فیض یاب کر کے ظاہر فرماتا ہے جو دین کی تعلیمات کو باطل کی ہر آمیزش سے پاک وصاف کر کے اپنی اصل پاکیزہ شکل میں دوبارہ پیش کرے ‘ اسی کو تجدید واِحیائے دین کہتے ہیں ‘ حدیث میں ایسی ہی عالی مرتبت شخصیات کی طرف اشارہ ہے ۔واضح رہے کہ تجدید اور تجدُّدْ میں زمین آسمان کا فرق ہے ‘ تجدید دین کو اپنی اصل شکل میں پیش کرنا ہے اور تَجدُّدْ سے مراد دین کو اپنے باطل افکار اور خواہشات کے تابع بنانا ہے۔مُجدِّد یقینا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ظہور میں آتا ہے اور دین کے حوالے سے انقلابی کارنامہ انجام دیتا ہے ‘ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کا نام منصوص نہیں ہوتا‘ اس لیے کوئی کسی مجدِّد کا انکار کرے تو اس پر کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا جائے گا۔ مختلف صدیوں میں روئے زمین کے مختلف خطوں میں اپنے اپنے زمینی حقائق اور تقاضوں کے مطابق لوگوں نے شخصیات کو مجدِّد قرار دیا ہے ‘اس لیے ایک وقت میں مختلف خطوں میں ایک سے زائد مجدِّدین کا ہونا بعید از امکان نہیں ہے‘ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کوئی شخص خود سے مجدِّد ہونے کا دعویٰ کرے ‘ اہلِ علم اُن کے تجدیدی کارناموں کے سبب انہیں جان لیتے ہیں ‘ علامہ علی القاری لکھتے ہیں: 

”مُجدِّد سنت کو بدعت سے ممتاز کرتا ہے‘ علم کو فروغ دیتا ہے‘ اہلِ علم کو عزت سے سرفراز کرتا ہے ‘ بدعت کو جڑ سے اکھیڑ کر اہلِ بدعت کی سازشوں کو توڑ دیتا ہے‘ علامہ ابن اثیر جذری نے ”جامع الاصول‘‘ میں لکھا ہے: ”علماء نے اس حدیث کی تاویل میں کلام کیا ہے اور ہر ایک نے اپنی سوچ کے مطابق کسی نہ کسی عالم کو مجدِّد اور اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے ‘ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو عموم پر محمول کیا جائے ‘ کیونکہ لفظِ ”مَنْ‘‘ کا اطلاق واحد وجمع دونوں پر ہوتا ہے اور تجدید کا تعلق صرف فقہا کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے ‘ اگرچہ امت کو زیادہ فائدہ انہی سے پہنچاہے ‘ مجدِّد کسی عہد کا اولوالامر یا صاحبِ اقتدار بھی ہوسکتا ہے ‘ ہر شعبے کے لیے الگ الگ مجدِّد بھی ہوسکتے ہیں ‘کیونکہ دین اور مسلمانوں کے امورِ اجتماعی کی تدبیر اور عدل کا قیام صاحبانِ اقتدار کی ذمے داری ہے ‘ علومِ دینیہ کے مختلف شعبوں کے غیر معمولی ماہرکو بھی اپنے شعبے کا مجدِّد قرار دیا جاسکتا ہے ‘لیکن شرط یہ ہے کہ ان فنون میں مجدِّد اپنے عہد کے لوگوں میں ممتاز ہواور اُس کے نمایاں تجدیدی کارنامے سب پر عیاں ہوں۔مجدِّد کے لیے شخصِ واحد ہونا بھی ضروری نہیں ‘بلکہ ایک جماعت مل کر بھی تجدیدی کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ تجدید ایک اضافی امر ہے‘ کیونکہ علم روبہ زوال اور جہل مائل بہ ترقی ہے ‘ سو مجدِّد کا اپنے عہد کے لوگوں سے تقابل ہوگا نہ کہ قرنِ اول سے لے کر آخر تک ‘ کیونکہ متقدمین عہدِ نبوت سے قرب کے سبب علم ‘عمل ‘حلم‘ فضل اور تحقیق وتدقیق میں یقینا متاخِّرین پر فضیلت رکھتے ہیں ‘ کیونکہ جس کادور منبعِ نورِ ہدایت سے جتنا قریب رہا‘ اُس پر نور کا فیضان اتنا ہی زائد رہا‘(مرقاۃ المفاتیح‘ ج:1ص:322ملخصاً)‘‘۔ 

حدیث پاک میں ایک منصب ”مُحَدَّث‘‘ کا بھی آیا ہے ‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا:” بے شک تم سے پہلی امتوں میں ”مُحَدَّث‘‘ گزرے ہیں اور اگر میری امت میں اس منصب کا حامل کوئی ہے تو وہ یقینا عمر بن خطاب ہیں‘ (بخاری:3469)‘‘۔ محدِّثینِ کرام نے اس حدیثِ مبارک کی شرح میں فرمایا: محدَّث سے مرادپاکیزہ قلب ‘نورانی ذہن‘علمِ نافع اور اعمالِ صالحہ کی حامل وہ شخصیت ہے‘ جس کے قلب وذہن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِلقاوالہام ہوتا ہے ‘ یعنی اُس کا ظاہر اتنا پاکیزہ اور باطن اتنا نورانی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پرحق کاالقاہوتا ہے ‘اُن کا ذہن منشائے ربانی کے سانچے میں ڈھلا ہوتا ہے اور وہ وہی بات سوچتے ‘ وہی بات کہتے اور وہی بات کرتے ہیں جو رِضائے باری تعالیٰ کے عین مطابق ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت ایسی ہی صفات کی حامل تھی ۔کئی مواقع پر انہوں نے نزولِ وحی سے پہلے ہی منشائے ربانی کو پالیا‘پھر وحیِ ربانی نے اُن کی تائید کی ‘ ایسی آیات کو ”مُوَفَّقَاتِ عُمَر‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اس کی مزید تائید ان احادیث سے ہوتی ہے (1):”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ حق کو عمر کی زبان اور قلب پر جاری فرماتا ہے‘ (ترمذی:3682)‘‘۔(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” بے شک اللہ حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیتا ہے ‘ پھر وہ بیان کرتے ہیں‘ (ابن ماجہ:108)‘‘۔ یہاں ہم نے کالم کی محدودیت کے پیشِ نظر ہر صدی کے مجدِّدین کا ذکر نہیں کیا‘ کیونکہ ہر دور کے اکابر علما نے اپنے اپنے خطے کے اعتبار سے مجدِّدین کا ذکر کیا ہے ۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ‌ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى الۡغَيۡبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجۡتَبِىۡ مِنۡ رُّسُلِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ۖ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ۚ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَلَـكُمۡ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 179

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ عَلٰى مَاۤ اَنۡـتُمۡ عَلَيۡهِ حَتّٰى يَمِيۡزَ الۡخَبِيۡثَ مِنَ الطَّيِّبِ‌ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُطۡلِعَكُمۡ عَلَى الۡغَيۡبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَجۡتَبِىۡ مِنۡ رُّسُلِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ۖ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ۚ وَاِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَلَـكُمۡ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ

ترجمہ:

اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر (آج کل) تم ہو ‘ حتی کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے ‘ اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تم (عام مسلمانوں) کو غیب پر مطلع کرے لیکن اللہ (غیب پر مطلع کرنے کے لیے) جن کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور وہ اللہ کے (سب) رسول ہیں، سو تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان (برقرار) رکھو اور اگر تم ایمان اور تقوی پر (برقرار) رہے تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر (آج کل) تم ہو حتی کہ وہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے۔ 

اصحاب رسول کے مومن اور طیب ہونے پر دلیل : 

امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو منافقوں سے متمیز کردیا ‘ ابن جریج نے کہا اللہ تعالیٰ نے سچے مومنوں کو جھوٹوں سے الگ کردیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٢٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

یہ آیت بھی قصہ احد کے واقعات میں سے ہے جب عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مسلمانوں کے لشکر سے نکل گیا تو مومن اور منافق الگ الگ ہوگئے، اسی طرح جنگ احد کے فورا بعد جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا کہ حمراء الاسد کے مقام پر ابو سفیان دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے تو آپ نے مسلمانوں کو اس کا تعاقب کرنے کا حکم دیا ‘ اس وقت مسلمان زخمی اور دل شکستہ ہونے کے باوجود آپ کے حکم کی تعمیل میں چل پڑے اور منافقوں نے آپ کا ساتھ نہیں دیا ‘ اس طرح مومن اور منافق الگ الگ ہوگئے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دینے والے تمام صحابہ کرام (رض) کو مومن اور طیب فرمایا ہے اور یہ سات سو صحابہ تھے اور میں خلفاء راشدین حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) ‘ حضرت عثمان (رض) اور حضرت علی (رض) بھی ہیں اس لیے جو شخص ان کو برا اور کافر ‘ ظالم یا منافق کہتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ آپ کے وصال کے بعد چھ کے سوا تمام اصحاب مرتد ہوگئے تھے وہ قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف کہتا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تم (عام مسلمانوں) کو غیب پر مطلع کرے لیکن اللہ (غیب پر مطلع کرنے کے لیے) جن کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور وہ اللہ کے (سب) رسول ہیں۔ (آل عمران : ١٧٩) 

اعلی حضرت فاضل بریلوی (رح) (متوفی ١٣٤٠ ھ) اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ” اور اللہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے چاہے۔ “ 

محدث اعظم ہند سید محمد کچھوچھوی (رح) (متفی ١٩٦١ ء) ” اور نہیں ہے اللہ کہ آگاہی بخشے تم سب کو غیب پر لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے چ سے چاہے۔ “ 

علامہ پیر محمد کرم شاہ الازہری (رح) (متوفی ١٤١٨ ھ) لکھتے ہیں ” اور نہیں اللہ (کی شان) کہ آگاہ کرے تمہیں غیب پر البتہ اللہ (غیب کے علم کے لیے) چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہتا ہے “۔ 

ان تراجم میں ” من “ کو تبعیضیہ قرار دیا ہے ‘ جس کا حاصل ہے بعض رسولوں کو غیب پر مطلع فرمایا ہے اور ہمارے ترجمہ میں ” من “ ” من یشاء “ کا بیان ہے ‘ جس کا حاصل ہے سب رسولوں کو غیب پر مطلع فرمایا ہے ‘ کیونکہ سب رسول اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے اور برگزیدہ ہیں۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کو علم الغیب ہے یا غیب کی خبروں کا علم ہے :

یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ تم عام مسلمانوں کو لوگوں کے دلوں کے احوال پر مطلع کر دے اور تم لوگوں کو دیکھ کر یہ جان لو کہ فلاں شخص مومن ہے اور فلاں منافق ہے اور فلاں کافر ہے ‘ البتہ اللہ تعالیٰ مصائب ‘ آلام ‘ اور آزمائشوں کے ذریعہ مومنوں اور منافقوں کو متمیز کردیتا ہے۔ جیسا کہ جنگ احد میں منافق مسلمانوں سے الگ ہوگئے۔ اسی طرح اسلام کی راہ میں جب بھی جہاد کا موقع آیا منافق پیچھے ہٹ گئے اور مسلمان آگے بڑھے ‘ ماسوا رسولوں کے جن کو اللہ تعالیٰ غیب پر مطلع کرنے کے لیے چن لیتا ہے اور ان کو لوگوں کے دلوں کے احوال پر مطلع فرماتا ہے اور وہ نور نبوت سے جان لیتے ہیں کہ کس کے دل میں ایمان ہے اور کس دل میں نفاق ہے۔ 

اس آیت میں یہ صراحت سے بیان فرمایا ہے کہ انبیاء السلام غیب پر، مطلع ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ غیب پر مطلع ہونا غیب کے علم کو مستلزم ہے ‘ سو یہ آیت انبیاء (علیہم السلام) کے لیے علم غیب کے ثبوت میں قطعی الدلالۃ ہے ‘ بعض متاخرین علماء یہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کو علم الغیب نہیں دیا گیا اور علم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے البتہ انبیاء (علیہم السلام) کو غیب کی خبریں دی گئی ہیں اور غیب کی خبروں کا حاصل ہونا اور چیز ہے اور علم الغیب اور چیز ہے ‘ ان علماء کی مراد یہ ہے کہ علم الغیب میں اضافت اور ” الغیب “ میں لام استغراق کے لیے ہے اور اس سے مراد ہے تمام امور غیبیہ غیر متناہیہ کا علم ‘ اور ظاہر ہے کہ یہ علم الغیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے علم الغیب کی اپنے غیر سے مطلقا ‘ نفی کی ہے : rnّ (آیت) ” قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ “۔ (النمل : ٦٥) 

ترجمہ : آپ کہئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کسی کو علم الغیب نہیں ہے۔ 

اب اگر انبیاء (علیہم السلام) کے لیے علم الغیب مانا جائے تو ظاہر ہے قرآن مجید سے تعارض لازم آئے گا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کہ جب مطلقا علم الغیب کا اطلاق کیا جائے تو اس سے متبادر علم الغیب ذاتی اور مستقل ہوتا ہے جس کا ثبوت بغیر کسی کی عطا کے ہوتا ہے اس لیے جب مطلقا یہ کہا جائے گا کہ انبیاء (علیہم السلام) کو علم الغیب ہے تو اس سے یہ وہم ہوگا کہ ان کو ذاتی اور مستقل طور پر علم الغیب ہے۔ 

امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے اس کی تشریح حاشیہ کشاف پر میر سید شریف (رح) نے کردی ہے اور یہ یقینا حق ہے کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقینا کافر ہے۔ (الملفوظ ج ٣ ص ٤٧‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور) 

دوسری طرف قرآن مجید کی متعدد آیات اور بہ کثرت احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو عموما اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خصوصا غیب کا علم دیا گیا ہے اس لیے ان میں تطبیق کے لیے بعض علماء نے یہ کہا کہ یوں کہا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو بعض علوم غیبیہ عطا کئے گئے ہیں (واضح رہے کہ یہ علوم اللہ کے اعتبار سے بعض ہیں) علامہ آلوسی نے کہا یوں کہا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو غیب کا علم دیا گیا یا وہ غیب پر مطلع کیے گئے ‘ علماء دیوبند نے اس کی یہ تعبیر کی انبیاء (علیہم السلام) کو غیب کی خبریں دی گئی ہے اور امت کو ان کے واسطے سے غیب پر مطلع کیا جاتا ہے ‘ اب ہم اس کے ثبوت میں مستند مفسرین کی عبارات نقل کر رہے ہیں۔ 

انبیاء (علیہم السلام) کو غیب پر مطلع کرنے کے متعلق علماء امت کی تصریحات : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ تم سب کو غیب کا عالم نہیں بنائے گا جیسے رسول کو علم ہے حتی کہ تم رسول سے مستغنی ہوجاؤ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے رسالت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے اور باقی لوگوں کو ان رسولوں کی اطاعت کا مکلف کرتا ہے ‘ نیز اس سے پہلے امام رازی نے لکھا ہے کہ غیب پر مطلع ہونا انبیاء (علیہم السلام) کے خواص میں سے ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٠٦‘ مطبوعہ دار الفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ غیب پر مطلع کرنے کے لیے اپنے رسولوں کو چن لیتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢٨٩ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ ابو الحیان عبداللہ بن یوسف غرناطی اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ علم الغیب سے جس پر چاہے اپنے رسولوں کو مطلع فرماتا ہے ‘ پس رسول کا غیب پر مطلع ہونا اللہ تعالیٰ کی اس کی طرف وحی کے ذریعہ ہے ‘ سو اللہ تعالیٰ غیب سے یہ خبر دیتا ہے کہ فلاں شخص میں اخلاص ہے اور فلاں میں نفاق ہے اور یہ ان کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے خود بہ خود بغیرواسطہ وحی کے معلوم نہیں ہوتا۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ٤٤٩ طبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

واحدی نے سدی سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ پر میری امت اپنی صورتوں میں پیش کی گئی جیسا کہ حضرت آدم پر پیش کی گئی تھی اور مجھے یہ علم دیا گیا کہ کون مجھ پر ایمان لائے گا اور کون کفر کرے گا ‘ منافقوں کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے مذاق اڑایا اور کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زعم یہ ہے کہ انہیں ان پر ایمان لانے والوں اور کفر کرنے والوں کا علم ہے اور ہم انکے ساتھ ہیں اور ان کو ہمارا علم نہیں ہے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ 

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں : 

یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ نفوس قدسیہ میں سے بعض اہل کشف کو بھی غیب پر مطلع فرماتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بہ طور وراثت ہے یعنی انبیاء (علیہم السلام) کے واسطے سے ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) کو بلاواسطہ غیب پر مطلع فرماتا ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ‘ ١٣٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

شیخ محمود الحسن دیوبندی متوفی ١٣٣٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

خلاصہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو بلاواسطہ کسی یقینی غیب کی اطلاع نہیں دی جاتی۔ انبیاء (علیہم السلام) کو دی جاتی ہے مگر جس قدر خدا چاہے۔ 

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٢ ھ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں 

اور اس آیت سے کسی کو شبہ نہ ہو کہ جو غیب خصائص باری تعالیٰ سے ہے اس میں رسل کی شرکت ہوگئی کیونکہ خواص باری تعالیٰ سے دو امر ہیں اس علم کا ذاتی ہونا اور اس علم کا محیط ہونا۔ یہاں ذاتی ہونا اور اس علم کا محیط ہونا۔ یہاں ذاتی اس لیے نہیں ہے کہ وحی سے ہے اور محیط اس لیے نہیں کہ بعض امور خاص مراد ہیں (بیان القرآن ج ١ ص ١٥٠‘ مبطوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور ‘ کراچی) 

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

حق تعالیٰ خود بذریعہ وحی اپنے انبیاء کو جو امور غیبیہ بتاتے ہیں وہ حقیقتا علم غیب نہیں بلکہ غیب کی خبریں ہیں جو انبیاء کو دی گئی ہیں جس کو خود قرآن کریم نے کئی جگہ انباء الغیب کے لفظ سے تعبیر فرمایا : (معارف القرآن ج ٢ ص ٢٤٨‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٤١٤ ھ) 

سید ابوالاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : 

مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کر دے۔ غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے منتخب کرلیتا ہے، یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس ترجمہ کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب رسولوں کو غیب پر مطلع نہیں فرماتا بلکہ منتخب رسولوں کو غیب پر مطلع فرماتا ہے۔ شیخ اشرف علی تھانوی کا ترجمہ صحیح ہے وہ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ (بمقتضائے حکمت) ایسے امور غیبیہ پر تم کو (بلاواسطہ ابتلاء امتحان کے) مطلع نہیں کرنا چاہتے لیکن ہاں جس کو (اس طرح مطلع کرنا) خود چاہیں اور (ایسے حضرات) وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب اور علم ماکان وما یکون ‘ کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو اللہ تعالیٰ نے علم غیب عطا فرمایا ہے اس پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوموسی اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چند چیزوں کے متعلق سوال کیا گیا جن کو آپ نے ناپسند کیا جب آپ سے زیادہ سوالات کیے گئے تو آپ غضبناک ہوئے اور آپ نے لوگوں سے فرمایا تم جو چاہو مجھ سے سوال کرو ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ‘ دوسرے شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ شیبہ کا آزادہ کردہ غلام سالم ہے ‘ جب حضرت عمر (رض) نے آپ کے چہرے میں غضب کے آثار دیکھے تو عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اللہ عزوجل سے توبہ کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٠۔ ١٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے یہ وجہ استدلال یہ ہے کہ آپ کا یہ فرمانا مجھ سے جو چاہو سوال کرو یہ اسی وقت درست ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر سوال کے جواب کا علم عطا فرمایا ہو خواہ احکام شرعیہ سے متعلق سوال کیا جائے یا ماضی اور مستقبل کی خبروں کے متعلق سوال کیا جائے یا اسرار تکوینیہ کے متعلق سوال کیا جائے اور صحابہ کرام (رض) نے اس کو عموم پر ہی محمول کیا تھا اس لیے دو اصحاب نے آپ سے اپنے نسب کے متعلق سوال کیا۔ 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان ایک مجلس میں کھڑے ہوئے پھر آپ نے ابتداء خلق سے خبریں بیان کرنا شروع کیں حتی کہ جنتیوں کے اپنے ٹھکانوں تک جانے اور جہنمیوں کے اپنے ٹھکانوں تک جانے کی خبریں بیان کیں جس شخص نے ان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے ان کو بھلا دیا اس نے ان کو بھلا دیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٥٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم میں ایک تقریر فرمائی اور اس میں قیامت تک ہونے والے تمام امور بیان فرمادیے جس شخص نے اسے جان لیا اس نے جان لیا اور جس نے نہ جانا اس نے نہ جانا (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوزید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا پھر منبر سے اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر آپ منبر سے اترے اور عصر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا پھر آپ نے ہمیں تمام ماکان وما یکون کی خبریں دی سو جو ہم میں زیادہ حافظہ والا تھا اس کو ان کا زیادہ علم تھا۔ (صحیح مسلم ج ٤ ص ‘ ٢٢١٧‘ رقم الحدیث ٢٨٩٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے تمام روئے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے تمام مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا۔ 

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں : 

لہذا ان لوگوں کا قول باطل ہے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر شریف اور دیگر صالحین کی قبروں کی زیارت کیلیے سفر کرنے سے منع کیا ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ ابن تیمیہ سے جو مسائل منقول ہیں یہ ان میں سب سے قبیح مسئلہ ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٦٦ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ) 

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

طلب علم ‘ تجارت نیک لوگوں اور متبرک مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع نہیں ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ قاضی ابن کج نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے نذر مانی تو اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

ملا علی قاری حنفی نے لکھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کو حرام کہنے کی وجہ سے شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کی گئی ہے اور یہ تکفیر صحت اور صواب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جس چیز کی اباحت پر اتفاق ہو اس کو حرام کہنا بھی کفر ہے تو جس چیز کے مستحب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے اس کو حرام کہنا بہ طریق اولی کفر ہوگا۔ (شرح الشفاء ج ٣ ص ١٦١۔ ١٦٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص نیکی کرتی ہوا بیت اللہ میں داخل ہو وہ اپنے گناہوں سے بخشا ہوا بیت اللہ سے نکلے گا۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ‘ ١٤٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا وہ بخشا ہوا نکلے گا۔ 

علامہ عز الدین بن جماعہ الکنانی متوفی ٧٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابو سعید جندی فضائل مکہ میں اور امام واحدی اپنی تفسیر میں حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد سات طواف کئے اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی ‘ اور زمزم کا پانی پیا اس کے گناہ جتنے بھی ہوں ہوں معاف کردیئے جائیں گے۔ 

امام ازرقی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص بیت اللہ میں طواف کے ارادہ سے نکلتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کا استقبال کرتے ہے ‘ اور جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے ‘ اور اس کے ہر قدم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ پانچ سو نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے پانچ سو گناہ مٹا دیتا ہے ‘ اور اس کے لیے پانچ سودرجات بلند کردیتا ہے اور جب وہ طواف سے فارغ ہو کر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھتا ہے ‘ تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور اس کے لیے اولاد اسماعیل سے دس غلاموں کے آزاد کرنے کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور حجر اسود کے قریب ایک فرشتہ اس کا استقبال کرکے کہتا ہے تم اپنے پچھلے عملوں سے فارغ ہوگئے ‘ اب از سر نو عمل شروع کرو ‘ اور اس کو اس کے اس کے خاندان کے ستر نفوس کے حق میں شفاعت کرنے والا بنایا جائے گا۔ (اخبار مکہ ج ٢ ص ٥۔ ٤) (صحیح مسلم ج ٤ ص ٢٢١٦۔ ٢٢١٥‘ رقم الحدیث ٢٨٨٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن ابوداؤد ج ٤ ص ٩٥‘ رقم الحدیث ٤٢٥٢ مطبوعہ بیروت ‘ دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٥٨٧‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٧٨ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز کے لیے آنے میں دیر کی حتی کہ عنقریب ہم سورج کو دیکھ لیتے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی سے آئے اور نماز کی اقامت کہی گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختصر نماز پڑھائی ‘ پھر آپ نے سلام پھیر کر ہم سے بہ آواز بلند فرمایا جس طرح اپنی صفوں میں بیٹھے ہو بیٹھے رہو ‘ پھر ہماری طرف مڑے اور فرمایا میں اب تم سے یہ بیان کروں گا کہ مجھے صبح کی نماز کے لیے آنے میں کیوں دیر ہوگئی ‘ میں رات کو اٹھا اور وضو کر کے میں اتنی نماز پڑھی جتنی میرے لیے مقدر کی گئی تھی پھر مجھے نماز میں اونگھ آگئی پھر مجھے گہری نیند آئی اچانک میں نے اچھی صورت میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھا رب تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد ! میں نے کہا اے میرے رب میں حاضر ہوں ‘ فرمایا ملاء اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا ‘ آپ نے کہا میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا اور اس کے پوروں کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر ہر چیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے اس کو جان لیا۔ الحدیث الی قولہ امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٥ ص ٣٦٩۔ ٣٦٨‘ رقم الحدیث ٣٢٣٥‘ مطبوعہ بیروت ‘ ج ٢ ص ١٥٥‘ فاروقی کتب خانہ ملتان ‘ ومطبع مجتبائی پاکستان وکتب خانہ رحیمیہ دیوبند انڈیا ‘ مسند احمد ج ١ ص ٣٦٨‘ ج ٤ ص ٦٦‘ العلل المتناصیہ ج ١ ص ٢١۔ ٢٠) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے (خواب میں) اپنے رب کو حسین صورت میں دیکھا ‘ میرے رب نے فرمایا : اے محمد ! میں نے کہا حاضر ہوں یارب ! فرمایا ملاء اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا اے رب میں نہیں جانتا پھر اللہ تعالیٰ نے اپناہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی ‘ پھر میں نے جان لیا جو کچھ مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٥ ص ٣٦٧‘ رقم الحدیث ٣٢٣٤‘ مطبوعہ بیروت ‘ ج ٢ ص ١٥٦‘ فاروقی کتب خانہ ملتان ‘ ومطبع مجتبائی پاکستان وکتب خانہ رحیمیہ دیوبند انڈیا ‘ تحفۃ الاحوذی ج ٢ ص ١٧٥۔ ١٧٣‘ نشرالسنۃ ملتان) 

یہ حدیث حضرت عبدالرحمن بن عائش سے بھی مروی ہے دیکھئے سنن دارمی ج ٢ ص ٥١‘ کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٣٧٨‘ جامع البیان للطبری ج ٧ ص ١٦٢‘ الدرالمنثور ج ٣ ص ٢٤‘ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کو امام ابن خزیمہ اور امام ابو نعیم کے حوالے سے بھی ذکر کیا ہے۔ الاصابہ ج ٢ ص ٣٩٩۔ ٣٩٧‘ الطبقات الکبری ج ٧ ص ١٥٠‘ زاد المسیر ج ١ ص ١٥٥‘ اتحاف السادۃ المتقین ج ١ ص ٢٢٥ میں بھی یہ حدیث مذکور ہے۔ 

اس حدیث کے مزید حوالہ جات شرح صحیح مسلم ج ١ ص ٣١٦۔ ٣١٤ اور ج ٥ ص ١١٦۔ ١١٤ میں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 179

نام اقدسﷺ پر انگوٹھے چومنے پر علما ومحدثین کا اجماع

*نام اقدس پر انگوٹھے چومنے پر علما ومحدثین کا اجماع*

چنانچہ علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

وضعف تقبیل ظفری إبهاميه مع مسبحتيه والمسح على عينيه عند قوله *محمد رسول الله*ﷺ لأنه لم يثبت في الحديث المرفوع لكن المحدثين إتفقوا على أن الحديث الضعيف يجوز العمل به في الترغيب والترهيب.الخ

یعنی انگوٹھوں اور شہادت کی انگلیوں کے ناخن چوم کر آنکھوں پر ملنا جبکہ حضورﷺکا نام پاک سنا جائے

یہ حدیث ضعیف ہے۔ کیونکہ کسی حدیث مرفوع سے یہ بات ثابت نہیں ہے *لیکن محدثین کرام نے اس بات پر اتفاق فرمایا ہے* کہ ترغیب وترہیب میں حدیثِ ضعیف پر بھی عمل کرنا جائز ہے۔

(روح البیان ج2پارہ6ص401 زیرآیت وإذا ناديتم إلى الصلوة مطبوعہ بیروت)

جب حدیثِ ضعیف ثواب وعتاب اعمال میں بالاتفاق مقبول ہے تو انگوٹھے چومنے کے اثبات میں اگرچہ حدیثِ صحیح مرفوع نہیں لیکن ضعیف تو موجود ہے اور یہ کام ترغیب وترہیب کے زمرہ میں آتا ہے لہذا اتفاق محدثین یہ جائز ہوا اب اسکی مخالفت کرنا در اصل تمام محدثین کرام کی مخالفت کرنا ہے

جو کسی صاحب علم کو زیب نہیں دیتا۔

اور

پھر اسکے علاوہ خاتم الفقہاء علامہ ابنِ عابدین نے ردالمختار میں اس مسئلہ پر فیصلہ و فتویٰ دیا ہے۔

یستحب أن يقال عند سماع الأولى من الشهادة *صلى الله عليك يا رسول الله* وعند الثانية *قرت عينى بك يا رسول الله* ثم يقول اللهم متعنى بالسمع والبصر بعد وضع ظفرى الإبهامين على العينين.الخ

اذان میں بوقتِ سماع شہادت اولی صلی اللہُ علیک یارسول اللّٰہ پڑھنا مستحب ہے اور دوسری شہادت کے وقت قرت عینی بک یا رسول اللّٰہ پڑھنا مستحب ہے اس کے بعد انگوٹھوں کے دونوں ناخن آنکھوں پر رکھتے ہوئے یہ پڑھے اللھم متعنی بالسمع والبصر (یعنی ایسے کہنے اور کرنے والے کو حضور صلی اللہُ علیہ وسلم اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے)

ردالمختار ج1 ص415 باب الاذان مطبوعہ مصر)