ایمان کے دوحصے : محبت اور اطاعت

ایمان کے دوحصے : محبت اور اطاعت

غلام مصطفی الازہری

جس نے محبت،دشمنی، منع اورعطا صرف اللہ کی رضاحاصل کرنےکے لیےکیا اُس کا ایمان کامل ہوگیا

اللہ،رسول اور صالحین کی محبت انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے ۔ اللہ رب العزت کائنات کی ہرچیز کا خالق و مالک ہےاورمربی ومحسن ہے، اسی لیے فطری طورپر ہر شئے اس کی مدح و ثنا کرتی ہے۔ اسی فطری محبت کا تقاضا ہےکہ جو ذات یاجوشئے اللہ تعالیٰ کا پتادے گی وہ اُس کی معرفت کا ذریعہ بنےگی،لہٰذااِنسان بھی اللہ کی معرفت کے لیے لازمی طورپراُس ذات یااُس شئے سے محبت کرے گا۔ 
چنانچہ انبیاومرسلین اور صالحین سے اس کی محبت بھی اسی لیے ہے،کیوں کہ یہ لوگ ہمیں اللہ تک پہنچانے میں مدد کرتے ہیں،ان ہی نیک ہستیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنا پیغام عام بندوں تک پہنچاتاہے، اور اپنے بندوں کا تزکیہ و تطہیر بھی اُن ہی صالح بندوں کے ذریعے فرماتا ہے ۔ 
سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کواپنی معرفت و ہدایت طلب کر نے کا سلیقہ سیکھایا ہے اور اُس کے حصول کے لیے اولیائےکرام اور انبیائےکرام کو رہنمااور مقصود قرار دیاہے ۔ 
 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۝۵ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۝۶(سورۂ فاتحہ) 
ترجمہ:یااللہ ! تو مجھے سیدھے راہ کی ہدایت دے،اُن لوگوں کی راہ کی جن پر تو نے اپنا انعام فرمایا ہے۔ 
 اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟اس تعلق سے قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 
 وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ۝۶۹(نسا)
 یعنی جولوگ اللہ و رسول کی اتباع کرتے ہیں وہ لوگ ان کے ساتھ ہوںگے جن پر اللہ نے انعام فرمایاہے یعنی مطیع و فرماں بردارلوگ انبیا، صدیقین، شہدا اورصالحین کے ساتھ ہوں گے۔ 
 انبیا و صالحین کی اطاعت کا ذکر آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ میں اس کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر ہے : آیات کریمہ  میں محبت والفت قرآن کریم میں ہے:
 ۱۔قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝۲۴(توبہ)
 ترجمہ:اے محبوب!آپ فرمادیں کہ تمہارے باپ، تمہاری اولاد،تمہارے بھائی،تمہاری عورتیں،تمہاراکنبہ، تمہاری کمائی کے مال، وہ تجارت جس میںنقصان کا خوف ہے اور تمہارے پسندیدہ مکان ،اگریہ تمام چیزیں اللہ ورسول اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پسند ہوں تو اللہ کے حکم کا انتظار کرو،اور اللہ تعالیٰ فاسق قوموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 
۲۔لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّأَصِيْلًا ۝۹(فتح) 
ترجمہ:تاکہ تم اللہ اوراُس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اُن کی تعظیم وتوقیرکرو،اورصبح وشام اُس کی پاکی بیان کرو۔

 احادیث کریمہ میں محبت والفت حدیث پا ک میں ہے:

 ۳۔ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ: أَنْ يَّكُوْنَ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا،وَأَنْ يُحِبَّ المَرْءَ لَايُحِبُّهٗ إِلَّا لِلهِ، وَأَنْ يَّكْرَهَ أَنْ يَّعُوْدَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُّقْذَفَ فِي النَّارِ۔ (بخاري،باب حلاوۃ الایمان)
 ترجمہ:تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس کے اندریہ تینوں خصلتیں ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت پائے گا،یہ کہ اُس کے نزدیک اللہ ورسول سے زیادہ کوئی محبوب نہ ہو،اللہ ہی کے لیے انسان سے محبت کرے اور وہ کفر میں لوٹنے کو ایسے ہی ناپسند کرے جیسے وہ جہنم میں جانے کو ناپسند کرتا ہے۔
 ۴۔ مَنْ أَحَبَّ لِلهِ، وَأَبْغَضَ لِلهِ، وَأَعْطَى لِلهِ، وَمَنَعَ لِلهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ۔(ابو داؤد،باب الدلیل علی زیادۃ الایمان)
 ترجمہ:جس نے محبت،دشمنی،منع اورعطاصرف اللہ کی رضا حاصل کرنےکے لیےکیا اُس کا ایمان کامل ہوگیا۔

 آیات کریمہ میں طاعت وفرماں برداری

 قرآن کریم میں ہے: 
 ۱۔وَمَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَه فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا۝۷۱ (سورۂ احزاب)
 ترجمہ:جو مومن اللہ اور اُس کے رسول کی فرماںبرداری کرتا ہےوہی سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ 
 ۲۔يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا أَطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ۝۵۹(نسا) 
ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ،رسول اور اپنے امیر کی اطاعت کرو۔ 
۳۔وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ۝۱۵ (لقمان)
 ترجمہ:تم اس کی اتباع کرو جو میری طرف مائل ہو۔ 
 کیوں کہ اُن کی اتباع کے بغیر اوراُن کی راہ اختیار کیے بغیر ہم اللہ تک نہیں پہنچ سکتے ہیں،اورنہ ہی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ 
 احادیث کریمہ میں طاعت وفرماں برداری حدیث پا ک میں ہے: 
۱۔عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ، فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَمَنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ عَلَيْهِ وَلَا طَاعَةَ۔(سنن ابن ماجہ،باب :لا طاعۃ فی معصیۃ اللہ) 
ترجمہ:مسلمان پر واجب ہے کہ بات سنے اور اُس کی اطاعت بھی کرے خواہ اُسے پسندہو،یاناپسند ہو ،اوراگر گناہ کا حکم دیاجائے تو نہ بات سنے اور نہ اُس بات کی اطاعت کرے ، کیوں کہ جس کو گناہ کا حکم دیاجائے اُس پر نہ بات سننا واجب ہےاور نہ اُس کی اطاعت وفرماں برداری ۔
 دوسری حدیث پاک میں ہے: 
 إِنِّي تَارِكٌ فِيْكُمُ الثَّقَلَيْنِ مِنْ بَعْدِي:كِتَابَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي ، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتّٰى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ۔
(معجم کبیر،زیدبن ارقم انصاری)
 ترجمہ:میں اپنے بعدتمہارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑے جارہاہوں،ایک اللہ عزوجل کی کتاب(قرآن )اور دوسری اپنی عترت واہل بیت ، اور وہ کبھی بھی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گی جب تک کہ وہ دونوں مجھ سے حوض کوثر پر نہ ملیں۔  
غرض کہ ایمان کے دو حصے ہیں:نصف کا نام محبت ہے اور نصف کانام طاعت ۔بغیر محبت کے طاعت بے سودہے ، درخت بے ثمرہے اور بغیر طاعت کے محبت کادعویٰ ناقص و ناتمام ہے، بلکہ نفاق کی علامت ہے۔ طاعت و فرماں برداری کرنے والوں کی وہ جماعت جو جذبۂ محبت سے خالی ہواُسے ہم خارجی کہہ سکتے ہیں،کیوں کہ خارجی دین دار تھے اور علم و عمل والے بھی تھے،مگر اِنِ الْحُكْمُ اِلَّالِلهِ۝۵۷(انعام)یعنی’’اللہ کے علاوہ کسی کی حاکمیت نہیں‘‘کے علم بردار ہوئےاورامیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی امارت وسیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔گویا امیر کی محبت و امارت تسلیم کیے بغیر اللہ کی عبادت کرناحقیقتاً اللہ کی نہیں،بلکہ نفس پرستی ہوئی جو سخت ضلالت وگمراہی ہے۔
 اس کے مقابل میں ایک دوسری جماعت سامنے آئی جو محبتِ امیر کا خوب دم بھرتی رہی لیکن اُن کے دل جذبۂ ایثار و قربانی سے خالی رہے اور طاعت و فرماں برداری کے نام پر صرف دعویٔ محبت ِاہل بیت ہی رہا،یہ سرا سر نفاق کی نشانی ہے۔ اس جماعت کو رافضی یا شیعہ سے موسوم کیا گیا ہے۔ 
 جو شخص بھی ان دونوں صفات میں سے جس صفت کا حامل ہوگا اُس کا حشر اسی صفت والوں کے ساتھ ہوگا اگرچہ وہ کسی بھی مسلک و مشرب سے اپنا انتساب کرتاہو، صوفیائے کرام کی جماعت میں اپنا شمار کرتا ہویا اہل سنت و جماعت سے اپنے آپ کو منسوب کرتا ہو ۔ 
 آج جو لوگ اولیا سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور اُن کی اطاعت نہیں کرتے ،فرائض و واجبات کی ادائیگی نہیں کرتے، منہیات سے نہیں بچتے اُن کے اندر صفتِ رفض پائی جاتی ہے۔جب شیعانِ علی گمراہ ہوسکتے ہیں تو شیعانِ ولی کیوں نہیں ؟ اللہ و رسول اور امیر کی اطاعت کے بغیر صرف محبت کا دم بھرنے والے یقینا ًجہنم میں جائیں گے۔ 
 اسی طرح جو لوگ اللہ و رسول سے محبت کے بغیر اپنے علم و عبادت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کے اندر خارجیت و ابلیسیت کا عنصر پایا جاتا ہے، ان کے سارے علم و عمل بے کار ہوجائیں گے ، قیامت میں ان کے منھ پر ماردیے جائیں گے اوراُنھیں افسوس کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔

چارباتوں پر ایمان

حدیث نمبر :102

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک چارباتوں پر ایمان نہ لائے گواہی دے کے اﷲ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں اﷲ کا رسول ہوں مجھے اﷲنےحق کےساتھ بھیجا اورمرنے اورمرے بعد اٹھنے ۱؎ اور تقدیر پر ایمان لائے۲؎ (ترمذی،وابن ماجہ)

شرح

۱؎ موت میں دہریوں کا رد ہے کہ وہ شخصی موت کے تو قائل ہیں مگر عالم کی مجموعی موت کے قائل نہیں اور اٹھنے میں منکرین قیامت کا رد ہے یعنی یہ بھی مانیں کہ سارے عالم کوفنا ہے اور یہ بھی کہ بعد موت سزاو جزا کے لیے اٹھنا ہے اورممکن ہے کہ موت سے مرادشخصی موت ہو اوراٹھنے سے قبر میں اٹھنا۔

۲؎ کہ نہ جبریہ بن کر انسان کو مجبورمحض مانے اور نہ قدریہ بن کرتقدیر کا انکارکرے،اوراپنےکوقادرِمطلق جانے۔

وعظ میں یہ پانچ چیزیں

حدیث نمبر :89

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزیں بتانے کو قیام فرمایا ۱؎ کہ یقینًا اﷲ تعالٰی نہ سوتا ہے نہ سونا اس کے لائق ہے ۲؎ پلہ یا رزق جھکاتا یا اٹھاتاہے۳؎ اس کی بارگاہ میں رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے پیش ہوجاتے ہیں۴؎ اس کا پردہ نور ہے ۵؎ اگر پردہ کھول دے تو اس کی ذات کی شعاعیں(تجلیات) تاحدِ نظر مخلوق کو جلادیں۶؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی آپ وعظ کے لیے کھڑے ہوئے اور وعظ میں یہ پانچ چیزیں بیان فرمائیں۔وعظ اور خطبہ کھڑے ہو کر کہنا سنت ہے۔خطبہ خواہ جمعہ کا ہو یا نکاح کا یا کوئی اور۔(کتب فقہ)

۲؎ کیونکہ نیند ایک قسم کی موت ہے اسی لیے جنت دوزخ میں نیند نہ ہوگی رب تعالٰی موت سے پاک ہے،نیز نیندتھکن اتارنے اور آرام کے لئے ہوتی ہے۔پروردگار تھکن سے پاک ہے ارشاد فرماتا ہے:”وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ”اس میں ان مشرکین کا رد ہے جو کہتے تھے کہ اﷲ تعالٰی دنیا بنا کر تھک گیا اب دنیا کا کام ہمارے بُت چلا رہے ہیں۔معاذ اﷲ!

۳؎ قسط کے لغوی معنے ہیں حصہ۔اب رزق کو بھی قسط کہتے ہیں اور ترازو کے پلے کو بھی،کیونکہ رزق حصے سے ملتا ہے اور ترازو بھی حصے کرتی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:”وَزِنُوۡا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیۡمِ”یعنی کسی کو زیادہ روزی دیتا ہے اورکسی کو کم یا ایک ہی شخص کبھی غریب ہوتا ہے کبھی امیر،کبھی مؤمن ،کبھی کافر،کبھی متقی،کبھی فاجر ایسے ہی ایک قوم کبھی غالب کبھی مغلوب۔

۴؎ کہ اعمال لکھنے والے فرشتے دنیا بھر کے اعمال دو وقتہ پیش کرتے رہتے ہیں۔یہ پیشی رب تعالٰی کی بے علمی کی وجہ سے نہیں جیسے حضور پر امت کے درود فرشتے پیش کرتے ہیں اس لیئے نہیں کہ حضور بے خبر ہیں۔

۵؎ یعنی اﷲ تعالٰی نور ہے مخلوق کثیف،اس لیے مخلوق اسے نہیں دیکھ سکتی۔مرقاۃ میں ہے کہ ہمارے حضور نے اپنے رب کو دنیا میں اس لیئے دیکھ لیا کہ حضور خود نور ہوگئے تھے نیز حضور نے دعا مانگی تھی۔”وَاجْعَلنِی نُورًا”خدایا مجھے نور بنادے حضور کی دعا قبول ہوئی اور آپ نور ہوگئے۔

۶؎ فرشتوں کو بھی اور دیگر مخلوقات کو بھی نہیں یہ طاقت تو ہمارے حضور کی تھی کہ معراج میں عین ذات کو بغیرحجاب دیکھا اورپلک بھی نہ جھپکایارب تعالٰی فرماتاہے:”مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی”۔

نفاق یا کفر ہے یا ایمان

حدیث نمبر: 60

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں ۱؎ کہ نفاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا لیکن آج یا کفر ہے یا ایمان ۲؎(بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام شریف حذیفہ،کنیت ابو عبداﷲ عبسی ہے،آپ کے والد حسیل،ان کا لقب یمان ہے،آپ حضور کے صاحب اسرا ر ہیں، ۲۵ھ؁ میں شہادت عثمان غنی کے چالیس دن بعد مدائن میں آپ کا انتقال ہوا اور وہیں آپ کا مزار پر انوار ہے۔

۲؎یعنی حضور کے زمانہ میں وقتی مصلحتوں کے ماتحت منافقوں کو قتل نہ کیا گیا۔اگرچہ ان سے علاماتِ کفر ظاہر ہوئیں تاکہ کفّار ہماری خانہ جنگی سے فائدہ نہ اٹھائیں اس زمانہ میں تین قسم کے لوگ مانے گئے:کافر،مؤمن اور منافق۔حضور کے بعد نفاق کوئی چیزنہیں یاکفر ہے یا اسلام اگرکسی سے علامت کفر دیکھی گئیں قتل کیا جائے گا،کھلا کافر بھی قتل ہوگا چھپا بھی کیونکہ وہ مرتد ہے۔(لمعات وغیرہ)

زنا اور ایمان

حدیث نمبر :58

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے ایمان نکل جاتا ہے اس کے سر پر شامیانہ کی طرح ہوجاتا ہے ۱؎ پھر جب بندہ اس بدعمل سے علیحدہ ہوجاتا ہے تو ایمان بھی اس کی طرف لوٹ آتا ہے۲؎

شرح

۱؎ اس کی تفسیر پہلے گزرچکی ہے کہ یہاں نور ایمان یاغیرت ایمانی نکلنا مراد ہے نہ کہ اصل ایمان کا نکل جانا۔

۲؎ یعنی جب توبہ کرلیتا ہے تو توبہ کی برکت سے ایمان کا نور اور غیرت لوٹ آتے ہیں۔

تین چیزیں ایمان کی بنیاد ہیں

حدیث نمبر :57

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزیں ایمان کی بنیاد ہیں ۱؎ جو لَااِلٰہَ اِلّا اﷲ کہے اس سے زبان روکنا ۲؎ یعنی محض گناہ سے اُسے کافر نہ کہے۳؎ اور نہ اسے اسلام سے خارج جانے محض کسی عمل سے ۴؎ اور جہاد جاری ہے جب سے مجھے رب نے بھیجا یہاں تک۵؎ کہ اس امت کی آخری جماعت دجال سے جہاد کرے۶؎ جہاد کو ظالم کا ظلم،منصف کا انصاف باطل نہیں کرسکتا۷؎ اور تقدیروں پر ایمان ۸؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی جس پر ایمان کی عمارت قائم ہے۔جن کے بغیر انسان مؤمن نہیں ہوسکتا۔

۲؎ اسے کافر نہ کہنا۔کلمہ پڑھنے سے مراد سارے اسلامی عقائد کا ماننا ہے جیسا کہ ہم بارہا عرض کرچکے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتے اس کا بھی یہی مطلب ہے محض کلمہ پڑھ لینا،کعبہ کی طرف منہ کرلینا ایمان کے لئے کافی نہیں،منافقین یہ دونوں کام کرتے تھے مگر کافر تھے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمّت کے ۷۳ فرقے ہوں گے ایک کے سوا سب جہنمی خوارج کی خبر دی کہ بڑے نمازی اور قرآن خوان ہوں گے مگر دین سے ایسے دور ہوں گے جیسے چھوٹا ہوا تیر کمان سے اس تفسیر کی تائید اگلے مضمون سے ہورہی ہے۔

۳؎ اس میں خوارج کی تردید ہے جو گناہ کبیرہ کو کفر اورگنہگار کو کافر کہتے ہیں۔یہ جملہ پچھلے مضمون کی تفسیر ہے یعنی گناہ بدعملی ہے کفر نہیں۔خیال رہے کہ بعض گناہ علامت کفر ہے،اس لئے فقہاء انہیں کفر قرار دیتے ہیں۔جیسے زنّار باندھنا،بت کو سجدہ کرنا،قرآن کریم کو گندگی میں پھینکنا،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی کسی چیز کا مذاق اڑانا،بے ادبی کرتے ہوئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر آواز بلند کرنا رب فرماتا ہے:” لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمٰنِکُمْ” اور فرماتاہے:”فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ "الخ،نیز فرماتا ہے:”اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمٰلُکُمْ”الخ۔یہ گناہ اس لئے کفر ہیں کہ کفر کی علامتیں ہیں۔لہذا حدیث قرآن متعارض نہیں۔

۴؎ اس میں معتزلہ کا ردہے۔جوکہتے ہیں کہ گناہ کبیرہ والا نہ مؤمن ہے نہ کافربلکہ فاسق ہے۔حالانکہ کفرواسلام کے درمیان کوئی درجہ نہیں۔

۵؎ مدینہ طیّبہ کی طرف کیونکہ ہجرت سے پہلے جہاد فرض نہ تھا۔

۶؎ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی مسلمانوں کے ساتھ دجّال اور اس کی جماعت پر تلوار کا جہاد کریں گےکیونکہ عیسیٰ علیہ السلام حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہوں گے۔چونکہ دجّال کے بعد تمام دنیا مسلمان ہوجائے گی،کوئی کافر نہ رہے گا اورحضرت عیسیٰ و امام مہدی کی وفات کے کچھ عرصہ بعد دنیا میں کفر ہی ہوگا کوئی مؤمن نہ رہے گا اس لیے یہ جہاد آخری ہوگا اس کے بعد کوئی جہاد نہ ہوگا۔خیال رہے کہ اگرچہ بعض پچھلی شریعتوں میں بھی جہاد تھا مگر اسلامی جہاد اور اس کے قوانین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوکرقتلِ دجّال تک رہیں گے۔لہذاحدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

۷؎ یعنی ہرمنصف اور ظالم بادشاہ کے ساتھ مل کر کفّار پر جہاد کرو اس میں اشارۃ دو مسئلے بتائے گئے:ایک یہ کہ جہاد کے لیے سلطان اسلام یا امیر المسلمین شرط وجوب ہے۔دوسرے یہ کہ فاسق فاجر بادشاہ کے ماتحت بھی کفّار سے جہاد لازم ہے۔صحابہ کرام نے حجاج ابن یوسف جیسے فاسق حاکم کے ساتھ کفار پر جہاد کیے ہیں۔اس میں قادیانیوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جہاد منسوخ کردیا۔جہاد نماز کی طرح محکم اور ناقابل نسخ عبادت ہے۔جہاد کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔رب فرماتا ہے:”وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ "۔

۸؎ تقدیر کی پوری بحث ہماری کتاب”تفسیرنعیمی”پارہ سوم میں ملاحظہ کرو۔یہاں صرف اتنا ہی سمجھ لو کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ اﷲ کے علم اور اس کے ارادہ سے ہے ہم اپنے اعمال کے کاسِب ہیں،خالق نہیں۔لہذا ہم کسب میں مختار اورخلق میں مجبور ہیں نہ قادرمطلق نہ مجبور محض یہی مذہبِ اہلسنت ہے۔

یہودی کو نصیحت

الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :56

روایت ہے حضرت صفوان ابن عسال سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ یہودی اپنے ساتھی سے بولا کہ مجھے ان نبی کے پاس لے چل ساتھی بولا کہ انہیں نبی نہ کہو ۲؎ اگر وہ سن لیں گے تو انکی چار آنکھیں ہوجائیں گی ۳؎ پھر وہ دونوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کھلی نشانیوں کے بارے میں پوچھا ۴؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کسی چیز کو اﷲ تعالٰی کا شریک نہ ٹھہراؤ ۵؎ نہ چوری کرو،نہ زنا کرو،نہ ناحق کسی محترم جان کو قتل کرو،نہ کسی بےقصورکو حاکم کے پاس لے جاؤ تاکہ اسے قتل کردے ۶؎ اور نہ جادو کرو نہ سود کھاؤ۷؎ نہ پاکدامن کو زنا کا بہتان لگاؤ،نہ جہاد کے دن بھاگنے کے لئے پیٹھ پھیرو۸؎ اور اے یہودیو تم پر خصوصًا یہ بھی لازم ہے کہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نہ بڑھو ۹؎ راوی فرماتے ہیں کہ تب ان دونوں نے حضور کے ہاتھ پاؤں چومے۱۰؎ اور بولےہم گواہ ہیں کہ آپ سچے نبی ہیں ۱۱؎ حضور نے فرمایا پھر تمہیں میری پیروی سے کون چیز روکتی ہے۱۲؎ وہ بولے کہ داؤد علیہ السلام نے رب سے دعا کی تھی کہ انکی اولادمیں نبوت رہے۱۳؎ ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کرلیں تو ہم کو یہودی مار ڈالیں گے۔(ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،کوفے کے رہنے والے،قبیلہ بنی مراد سے ہیں،بارہ غزووں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے دل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کی گواہی دیتے تھے مگر محض ضد سے انکاری تھے۔

۳؎ یعنی وہ خوش ہوجائیں گے اور یہود سے یہ کہہ سکیں گے کہ تمہارے لوگ بھی ہمیں نبی کہتے ہیں۔سبحان اﷲ! عظمت وہ جس کی دشمن بھی گواہی دیں۔

۴؎ کھلی نشانیوں سے مراد یا تو وہ نیک اعمال ہیں جو عامل کی نیک بختی کی علامت ہوں،اس صورت میں حضور کا یہ جواب سوال کے مطابق ہے،یااس سے موسیٰ علیہ السلام کے کھلے ہوئے نو معجزے مراد ہیں۔رب فرماتا ہے:”وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ”ٍ اس صورت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا جواب حکیمانہ ہے یعنی وہ نہ پوچھو بلکہ اپنی فکر کرو اور کرنے والے اعمال پوچھو۔خیال رہے کہ انہوں نے نو چیزیں پوچھیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دس بتائیں ۹ وہ جو ہر دین کے احکام ہیں اور دسویں وہ جو دین یہود کے ساتھ خاص ہیں،یعنی ہفتہ کو شکار نہ کرنا۔

۵؎ ہوسکتا ہے کہ اس میں اشارۃً یہ بتایا گیا ہو کہ یہودی مشرک ہیں۔کیونکہ وہ حضرت عزیز علیہ ا لسلام کو اﷲ کا بیٹا مانتے ہیں۔اور بیٹا باپ کا شریک ہوتا ہے۔

۶؎ کہ یہ ڈبل جرم ہے حاکم کو دھوکہ دینا اور بے قصور کی جان لینا یہ بھی عام دینوں میں حرام رہا۔

۷؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سو د کسی نبی کے دین میں جائز نہ ہوا کیونکہ یہ ان اعما ل کی فہرست ہے جو تمام دینوں میں مروّج تھے۔

۸؎ یہ حکم بھی تمام دینوں میں رہا جن میں جہاد فرض تھا جن میں جہاد ہی نہ تھا وہاں یہ حکم بھی نہ تھا۔

۹؎ اس دن شکار نہ کرو یعنی ہفتہ کو شکار نہ کرنا تمہاری توریت کا حکم ہے یہ تمہارے لئے آیت بیّنہتھی اَب توریت منسوخ ہوچکی یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ساری آسمانی کتب سے واقف ہیں اور یہ واقفیّت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل ہے اسی لیئے وہ سائل حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں گر گئے۔

۱۰؎ ظاہر یہ ہے کہ پاؤں شریف پر بھی منہ لگا کر بوسہ دیا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے قدم چومنا جائز ہیں۔اور پابوسی کے لیے جھکنا نہ سجدہ ہے نہ ممنوع ورنہ حضور علیہ السلام انہیں منع فرمادیتے۔خیال رہے کہ قرآن کریم،سنگ اسود،بزرگوں کے ہاتھ پاؤں،والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا ثواب بھی ہے اور باعث برکت بھی۔بعض بزرگ تو اپنے مشائخ کے تبرّکات چومتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا منبر چومتے تھے بوسہ کی بحث اور اُس کی قسمیں ہماری”جاء الحق وزھق الباطل”میں دیکھو۔

۱۱؎ کیونکہ امّی کا یہ علم کھلا معجزہ ہے۔خیال رہے کہ یہ گواہی جاننے پہچاننے کے معنی میں ہے یعنی ہم نے پہچان لیا کہ آپ نبی ہیں لہذا وہ اس لفظ سے مؤمن نہ بنے اسی لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا اگلا سوال بھی درست ہوا۔

۱۲؎ یعنی جب تم نے مجھے نبی جان لیا پھر مان کیوں نہیں لیتے اورمسلمان کیوں نہیں ہوجاتے۔

۱۳؎ ان کی یہ دعا قبول ہے اور آپ ان کے اولاد میں نہیں کہ وہ بنی اسرائیل تھے آپ بنی اسمعیل،یہ ان کا خالص افتراءتھا سارے نبیوں نے ہمارے حضور کی پیش گوئی کی۔داؤد علیہ السلام یہ دعا کیسے مانگ سکتے تھے۔تعجب ہے کہ یہ دونوں ابھی تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کر چکے اور اب یہ بہتان باندھ رہے ہیں۔بعض یہود یہ بھی کہتے تھے کہ حضور فقط مشرکین عرب کے نبی ہیں، ہمارے نہیں۔شاید ان کا یہ مقصد ہو۔اور یہ بھی غلط تھا۔توریت و زبور میں خبر تھی کہ محمدمصطفی سارے عالم کے نبی ہوں گے،تمام شریعتوں کے ناسخ۔