ماں باپ بڑی نعمت ہیں

ماں باپ بڑی نعمت ہیں

محمد ساجد سعیدی مصباحی  حسین
 

اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر و احسان ہے کہ اس نے انسان کو دنیا کی بہترین نعمتوں سے سرفراز فرمایاہے، ساتھ ہی ساتھ اسے مخلوق میں افضل و احسن بنایا ہے۔اگر انسان اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کر سکتا۔ ان ہی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت والدین بھی ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے محبت و شفقت کی شکل میں عنایت فرمایاہے۔ یہی نہیں بلکہ انھیں اولاد کا ایک اہم ذریعہ بھی بنایا ہے۔
والدین کی طرح مشفق اور مہربان انسان دنیا میں ملنا کافی مشکل ہے ۔ والدین کی محبت و شفقت بچپن سے لے کر جوانی تک بلکہ تا حیات باقی رہتی ہے۔ یہ والدین ہی ہیں جو اپنی اولاد کو کسی پریشانی میں دیکھتے ہیں تو ان کا کلیجہ دہل جاتاہے اور اپنی اولادکو پریشانی سے چھٹکارا دلانے کے لیے اپنی جان و مال تک قربان کر دیتے ہیں،پھر انسان اپنے والدین کی فرمانبرداری کیوں نہ کرے؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی سخت تاکید فرمائی کہ: اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان سے اچھا برتاؤ کرواور ان کی فرمانبرداری کرو۔
اس لیے انسان کو چاہیے کہ والدین کی فرمانبرداری اور ان کی خوشنودی حاصل کرکے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرے۔ چونکہ جس انسان پر والدین کا سایہ رحمت بن کر رہتا ہے تو وہ انسان، اس کے ذریعے دنیا کے مشکل سے مشکل کاموں کو حل کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پاتاہے اور دنیااسے عزت کی نظرسے دیکھتی ہے ۔ چنانچہ جو شخص اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہے،ایسے خوش نصیب انسان کے لیے جن و انسان تو کیا فرشتے بھی دعا کرتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں کہ اے مولیٰ! اس شخص پر رحمت نازل فرما جیسا کہ اس نے اپنے والدین پر رحم کیا اور ان کی خدمت کی۔
اللہ رب العزت نے قرآن مقدس کے پندرہویں پارے میں ارشاد فرمایا کہ :
تمھارے رب نے حکم دیا کہ اس کے علاوہ کسی کو نہ پوجو اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اُف تک نہ کہو۔
مگر افسوس ہے ان اولاد پر جو والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کی بجائے انھیں گھر سے نکالنا ، تکلیفیں دینا اوران کے ساتھ دیگر غیر اخلاقی باتوں کا مظاہرہ کرنا اپنا معمول بنا لیا ہے۔ ایسی اولاد کو اس آیت مبارکہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جب اللہ رب العزت نے ’’اُف‘‘ تک کہنے کی اجازت نہیں دی ہے اور بڑی سختی سے روکا ہے تو پھر والدین کے ساتھ بدسلوکی کو وہ کیسے برداشت کرے گا۔ ایسا کرنے والے نہ صرف دنیا میں ذلیل و رسوا ہوتے ہیں بلکہ ان کے لیے آخرت میں بھی ہلاکت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ والدین کی نافرمانی سے بچو، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انھیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ دو۔ جو والدین کی عظمت کی دلیل ہے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے ان کو تکلیف پہنچے اور اپنی جان و مال ہر طرح سے ان کی خدمت کی جائے۔ حدیث شریف میں بھی والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کی بہت تاکید آئی ہے،چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے والدین کو ستائے گا وہ جنت کی بو نہیں پائے گا۔
اس سے پتہ چلا کہ جو شخص والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے گا وہ جنت کی خوشبو سے محروم نہ رہے گا۔ ایک اور حدیث شریف ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:
یا رسول اللہ! والدین ہمارے لیے کیا ہیں؟
تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے لیے جنت بھی ہیں اور دوزخ بھی، یعنی اگر تم نے اپنی زندگی میں انھیں کوئی تکلیف نہ دی، ان کی ہر حاجت پوری کی اور ان کو خوش اس لیے رکھاکہ اللہ اور رسول کی خوشنودی حاصل ہو جائے تو وہ تمہارے لیے جنت ہیں اور اگر تم نے انھیں اپنی زندگی میں تکلیف دی، ان کی خدمت نہ کی اور ان سے جدا ہو کر لوگوں سے میل جول رکھا تو جان لوکہ وہ تمہارے لیے جنت کے بجائے جہنم ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو والدین کی نافرمانی سے بچائے اور تا حیات ان کی دل جوئی کی توفیق بخشے۔(آمین)

 

بچوں کی تربیت

بچوں کی تربیت

شاکرعالم

انسانی زندگی کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ بچپن حقیقت میں بہت ہی شاہانہ اور حسین ہوتا ہے۔اس کی وجہ شاید لاابالی پن، بے نیازی اور بے فکری ہوتی ہے، لیکن شیر خواری جو کہ دو سے ڈھائی سال کا زمانہ ہوتا ہے۔اس مدت میں جسم بڑی تیزی سے نشو و نماپاتا ہے اورطبیعت کے ساتھ اندرونی وبیرونی اعضاو جوارح اور خدو خال میں کافی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کی صحت و تندرستی بہت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ چنانچہ والدین کو ان سبھی باتوں پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے جو بچے کی صحیح تربیت وپرورش میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

بچوں کا کھان پان

چونکہ بچوں کی پرورش و پرداخت ایک اہم فریضہ ہے۔اس لیے وہ والدین سے ضبط نفس، خواہشات کی قربانی اور جان و مال کا ایثار چاہتا ہے۔ خود غرض، نفس پرست لوگ جو اپنی انفرادیت اور جسمانی و ذہنی سہولت کے مکمل طورسے عادی ہوچکے ہیںوہ اس فریضے کی انجام دہی کے لیے کسی طرح راضی نہیں ہو تے، مگر جو ماں باپ اپنے بچوں کی بھلائی اور سچی خوشی چاہتے ہیں ۔اپنے بچوں کو خوش رکھنا اور انھیں کامیاب و کامران بنانے ہی میں فخر وعزت محسوس کرتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کے لیے قیمتی سے قیمتی چیز قربان کر دیتے ہیں اور اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے میں سرگرداں رہتے ہیں ،تبھی یہ بچے اپنے ماں باپ کے لیے بڑھاپے کا سہارا، دنیامیں صدقۂ جاریہ اورآخرت میں مغفرت وبخشش کا سامان بنتے ہیں۔

لیکن جو والدین خاص طور سے مائیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت نہیں کرتیں۔ اپنا دودھ جو کہ ہر بچے کا پیدائشی حق ہے، نہ دے کر بچوں کو ڈبے کا دودھ پلاتی ہیں۔ بچے کو قدرتی غذائیں دینے کے بجائے بازاری اور ریڈی میڈ بے بی فوڈس وغیرہ کھلاتی ہیں وہ ان بچوں کے حقوق مارنے کے ساتھ ؛ان کی صحت سے بھی کھلواڑکرتی ہیں،کیونکہ جتنی اچھی صحت ماں کے دودھ پینے سے بچوںکو حاصل ہوتی ہے وہ کسی بھی اچھے سے اچھے بازارو کھانے اوردودھ سے حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کے برخلاف بازارو کھانے اور ڈبے کا دودھ پینے سے بچوں کو ذہنی، فکری اور جسمانی طور پر کمزوری لاحق ہوجاتی ہے۔ ماہرڈاکٹروں کا کہنا ہے :

بچے کی صحت و تندرستی سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس لیے بچوں کو دی جانے والی خوراک اور غذاؤں پر خاطر خواہ توجہ دینا ضروری ہے۔ ایک نو زائیدہ بچے کے لیے اس کی ماں کا دودھ کائنات میں مناسب اور مقوی غذا ہے۔ماں کا دودھ بچوں کی جسمانی و ذہنی نشو و نما کے لیے بے حد مفیدا ور سود مند ہے۔اس بات پرسبھی ڈاکٹروں کا اتفاق ہے کہ ایک بچے کے لیے ماں کے دودھ سے بڑھ کرکوئی ٹانک نہیں ہے۔ البتہ جب بچہ کچھ بڑا ہو جائے اور چند مہینے کا ہو جائے تو اسے گھر کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے تھوڑاتھوڑاکھلانا شروع کردینا چاہیے۔

مثال کے طور پردال کا پانی، کھیر، دلیہ اور روٹی کی اوپری باریک پرت کو پانی یا دال کے پانی میں بھگو کر بچے کے منہ میں دیں اور آہستہ آہستہ سادہ بسکٹ وغیرہ کھلانے کی عادت ڈالیں،بلکہ جیسے جیسے بچے کی عمرمیںاضافہ ہوتا جائے ویسے ویسے اس کی خوراک میں چاول، گیہوں اورجوکے بنے ہوئے کھانے بھی شامل کر سکتے ہیں تاکہ بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اناج اور گھریلو کھانا کھانے کی عادت ہوجائے۔ اسی طرح بکری اور گائے کا نیم گرم دودھ پلانے کی عادت ڈالیں اور اگر بچے کی صحت کچھ زیادہ ہی کمزور اور لاغر ہے تو ماہر تجربہ کار ڈاکٹروں کی رائے لے کر کچھ ویٹامن والی خوراک اور ٹانک والی چیزیں وقت وقت سے ضرور دیں۔

ویسے ماں کے دودھ میں ہر طرح کے ویٹامن خاطر خواہ مقدار میں موجود ہوتاہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ماں کے دودھ میں ہر ضروری نیٹوریشن(Nutrition)اور بنیادی مناسب غذائیں قدرتی طور پر عطا فرماتا ہے جو ہر بچے کے لیے بہت مفیداورصحت بخش ہیں۔

بچے کی صحت کے ساتھ اس کی بنیادی ضروریات میں اچھی زبان، عمدہ اخلاق اور اعلی تعلیم کو شمارکرایاگیاہے۔یہ بات ذہن میں رہے کہ ہر بچے کے لیے ماں کی شفقت بھری گود سب سے پہلا اسکول ہے جہاں پہلے پہل اس کی تربیت ہوتی ہے اوریہ حقیقت ہے کہ جس ماحول میں بچہ پھلتا پھولتا اور نشو و نما پاتا ہے اس کا اثراس کے ذہن و دماغ اور جسم پرضرور پڑتا ہے۔ اس لیے بچے کے آس پاس کا ماحول بھی بہتر ہونا ضروری ہے۔ بچے کے والدین اور پرورش کرنے والوں کے علاوہ اس کے خویش و اقارب بھی بچوں کے ذمے دار ہیں۔

چنانچہ بچوں کی تربیت سے لے کر ان کی تعلیم تک بڑا دھیان دیناہوتا ہے،کیونکہ اس دوران بچے ہر اس عمل کا اثر قبول کرلیتے ہیں جسے وہ اپنے اردگرددیکھتے اور سنتے ہیں۔ اگربچہ بد زبانی ،بد اخلاقی اور بد چلنی کامظاہرہ کررہا ہے تو اس کامطلب ہے کہ یہ سب وہ اپنے احباب واقارب سے سیکھ کر کررہا ہے۔ چونکہ بچے جو سنتے ہیں وہی دہراتے اور بولنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح جو دیکھتے ہیں وہی کرنا چاہتے ہیں ۔ بچوں کی قوت باصرہ اور سامعہ (دیکھنے اورسننے کی قوت)بچپنے میں تیز ی سے کام کرنے لگتے ہیں اور اسی قدربچوں پر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے بچوں کے سلسلے میں جو بھی طریقے اپنائے جائیں اس کے ہرمثبت و منفی پہلو پر نگاہ رکھنا اشدضروری ہے

انگیزوں کا باپ

انگیزوں کا باپ:

انگریزوں نے تمام انسانوں کو بندر کی اولاد بنایا ہے وہ کیسے؟
تحقیق غور سے پڑھئے 1884 ء میں ایک میشن تشکیل دیا۔ جس کا مقصد “ زندگی کیسے شروع ہوئی“ کا حتمی جواب حاصل کرنا تھا۔ جہاں اور بہت سے سائنسدانوں کے دلائل پر غور کیا گیا وہاں خاص طور پر لوئی پاسچر اور پوشے کے دلائل غور سے سنے گئے اور کمیشن اس نتیجے پر پہنچا۔

"ابتدائی جانداروں کی نسل بے جان غیر نامیاتی مادہ سے وجود میں آئی البتہ ایک عرصہ کے بعد یہ طریقہ پیدائش ختم ہو گیا اور اب زندگی ہی زندگی کو جنم دیتی ہے۔”
20 صدی کے ابتداء میں یہ سوال اٹھا کہ وہ کونسے عاوامل تھے جن کے ذریعے مردہ غیر نامیاتی مادہ زندگی [color=#800000]میں تبدیل ہوا۔
جواب:
جن زمین پر ہزاروں سال بارشیں ہوتی رہیں نتیجا سمندروں نے جنم لیا۔ فضا کی میتھبن اور امونیا گیس بھی سمندروں میں جمع ہوگئی۔ پھر ایمونیا گیس کا ربن ڈائی اکسائڈ گیس میتھبن گیس اور پانی پر الٹرا وائلٹ اور کاسموس شعاعوں کی بمباری سے ایمنیوایسڈزکے مرکبات وجود میں آئے جو زندگی کے ابتدائی بلڈنگ بلاکس ہیں۔
ایمنیوایسڈز میں نمی اور شعاعوں کے عمل سے تبدیلیاں آئیں تو شوگر کے مرکبات وجود میں آئے اکسیجن، ھائیڈروجن، نائیٹروجن اور کاربن کے ہزارھا ایٹموں کے اجتماع سے پروٹینز کو وجود ملا۔ پروٹینز کے پیچیدہ مرکبات نے نیو کلیک ایسڈز کی شکلیں اختیار کیں۔ مختلف نیو کلیک ایسڈز کے مجموعے نے زندگی کا وہ نیو کلیک تیار کیا جس میں خود افزدگی کی صلاحیتیں موجود تھیں۔
دنیا میں سب سے پہلے آبی نباتات نے زندگی کی شکل اختیار کی حیات و موت کا عمل شروع ہوا پرانے پودے مرتے گئے اور نئے نئے پودے پیدا ہوتے گئے 80 کروڑ سال تک پودوں میں ارتقا ہوتا رہا۔ پھر سمندر کے اندر جراثیم پیدا ہوئے اور کچھ متنفس پودے سمندر میں پیدا ہوئے اور یہی پودے بعد میں مرجان اور کینچوے کی شکل میں اختیار کر گئے۔ سمندری کائی ۔ بے ریڑھ اور رینگنے والے جانور وجود پذیر ہوئے ان آبی جانوروں نے اہستہ اہستہ پانی کے کناروں اور سمندروں کے ساحلوں پہ بیٹھ کر زندگی کے کچھ لمحات گزارنے کی صلاحیت پیدا کی۔ یہ جانور 65 کروڑ سال تک ارتقاء کے منازل طے کرتے رہے ۔ ان جانداروں کے جب ہوا نے بارہ راست تقویت دی تو ان کے ارتقاء کی رفتار تیز ہوگئی تو مونگے۔ سوسن۔ اسفنج۔ شکم پائے۔ بازو پائے جیسے جانور نمودار ہوئے اور سمندروں میں جانداروں کا ایک جہاں آباد ہو گیا۔ 25 کروڑ سال تک یہ ارتقاء کے منازل طے کرتے رہے سب سے پہلا جانور جو خشکی پر بھی رہنے کی صلاحیت رکھتا تھا وہ “ جل تھیلا“ تھا۔ یہ سمندر میں بھی رہتا تھا اور خشکی پر بھی، سمندری جانوروں کے باہمی اختالط سے بہت سے نئے نئے جانوروں نے جنم لیا۔
ان میں رینگنے والے جانور بھی تھے اسی دور میں ایسے جانور بھی پیدا ہوئے ۔ جو پانی پہ تیرتے تھے کچج ایسی مچھلیاں تھیں جو ہوا میں اڑتی تھیں۔ پروں والے جانوروں کی افزائش ہوئی تو پرندے عام ہوئے۔ بعد ازاں سب سے اہم جانور جو زمین پہ نمودار ہوا وہ (MAMMEL) تھا۔ ایک بہت بڑا پستان دار جانور اور یہ جانور اپنے نر کا محتاج تھے۔ یوں زمین پہ یہ جانوروں کی زندگی کا آغاز ہوا۔

انسان (MAN)

انسان پوری کائنات میں سب سے زیادہ افضل اور اشرف مخلوقات ہے ۔ حیوانات میں سب سے ممتاز حیثیت کا مالک ہے۔ ڈارون کا نظریہ یہ ہے کہ انسان پہلے اپنی موجودہ صورت تھا وہ انسان کی نسل بندر سے چلاتے ہیں ان کے نزدیک انسان مندرجہ ذیل منازل سے گزرا۔
1
۔ پلوپیتھکس:۔
(PLIOPTHECUS)
یہ بہت ابتدائی بندروں میں سے ہے۔ اس کی بیرونی ساخت یعنی خدوخال جدید دور کے Gibbon سے کافی ملتے جلتے ہیں ۔

Gibbon
موجودہ دور کے بندر کی وہ قسم ہے جس کے بازو عام بندر سے سائز میں کافی لمبے ہوتے ہیں Gibbon کی نسبت انکے بازو لمبائی میں کچھ زیادہ عدم توازن کے شکرا نہ تھے۔ دانتوں اور کھوپڑی کی ساخت کی بنا پر درجہ بندی کے اعتبار سے اس کو Gibbon نسل کے آباء اجداد میں رکھا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک درخت سے دوسرے درختتک چھلانگ لگانے میں مخصوص تھے۔

2
۔ پروقضل:۔
( PROCONSUL)
APE
بندر کی اس نسل کو کہتے ہیں جس کی دم نہیں ہوتی اور جو انسانوں کی طرح چل پھر سکتا ہے ۔ جیسا کہ گوریلا چمپینیزی۔ نچے کھچے ٹکڑوں اور تقریبا ایک مکمل ڈھانچے کی دریافت سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ PROCONSUL بہت ہی ابتدائی درجہ کے APE تھے۔ یعنی موجودہ دور کے گعریلا کے آباء اجداد کے آثار PROCONSUL میں ملے ہیں۔

3
۔ ڈروئیو پیتھی کس:۔
( Dryo Pithecus)
ان کا مکمل ڈھانچہ تو دریافت نہ ہو سکا۔ صرف یورپ ، شمالی ہندوستان اور چین میں کھدائی کے دوران جبڑے اور دانت ملے ہیں اور انہی سے ان کا کچھ نا مکمل سا پتی چلتا ہے۔

4
۔ اور یو پیتھی کس :۔
( Oreo Pithecus)
ان کا شمار انسان کے شجرہ نسب کے قریب ترین شاخ کے طور پر کر سکتے ہیں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان ان کا قد تقریبا 4 فٹ اور ان کا وزن 80 پونڈ کے قریب ہوتا ہے۔ اسکے دانتوں اور pelvis کا مطالعہ کرتے ہوئے سائنسدانوں نے اسے انسان کے آباء اجداد کا درجہ دیا ہے۔ یہ منحرف شدہ APES تھے آپ یوں کہہ سکتے ہیں APES کی بہتر شکل۔

5
۔ راما پیتھی کس:۔
( Rama Pithecus )
اس انسان نما بندر یا بندر نما انسان کا زمانہ تقریبا 70 لاکھ سال قبل مسیح مانا جاتا ہے۔ انکو اس زنجیر کی پہلی کڑی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس کی آخری کڑی موجودہ دور کا انسان ہے۔ اس نوع کو کوئی ڈھانچہ نہیں مل سکتا۔ جس کی بنا پر اس کے جسم کا صحیح تعین نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ اب تک صرف جبڑوں اور دانتوں کے کچھ جزئی رکازات یا FOSSIL FRAGMENTS کہا جاتا ہے کہ دو میروں پر چلنے کی ابتداء اسی نوع سے شروع ہوئی۔

6
۔ آسٹر الو پیتھیکس
(Australo Pithecus)
لاطینی زبان میں اس کے معنی جنوبی بندر کے ہیں کیونکہ اس کی دریافت پہلی بار افریقہ میں ہوئی تھی۔ اس نوع کی یہ خصوصیت تھی کہ یہ واضح طور پر دو پیروں پہ چلتی تھی اس کا دور 9 ملین قبل بتا یا جاتا ہے۔ اس قسم کو بن مانسوں کی اعلٰی اقسام اور انسان کے درمیان ایک سرحد کے طور پر مانا جاتا ہے۔ زمین پر رہنا سیکھا یعنی جنگلوں سے نکلے یہ پتھر کے اوزار بنانا جانتے تھے۔

7
۔ پیرن تھراپس
(Paran Thropus)
اپنے سیدھے کھڑے ہونے اور انسانی خدوخال کے باوجود Paran Thropus انسان کی مورثیت میں ارتقاء کے عمل کی آکری حد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک سبزی خور جس کو اس کے بڑے بڑے جبڑوں اور پیسنے والے دانتوں سے پہچانا گیا۔ اس کا مقابہ Australo Pithecus سے کیا جا سکتا ہے جو غالبا بہت جلد ناپید ہو گئے تھے۔

8
۔ اڈوانس آسٹر الو پیتھیکس
( Advanced Australo Pithecus)
ان کو کھوپڑی کے سائز کی بنا پر ابتدائی Australo Pithecus سے ممتاز کیا جا سکتا ہے۔ ترقی یافتہ اسٹرالوپیتھیکس Paran Thropus کے ہمعصر تھے۔ قدیم اوزار ان دونوں کے ساتھ پائے گئے ہیں۔ یہ کوئی خاص طرز زندگی اختیار نہ کر سکے اور جو اوزار اور Tools ملے ہیں وہ بھی خام حالت میں ہیں۔

9ِ:
ھومویرکٹس :۔
(HOMO‌‌)
اس کے لغوی معنی ہیں سیدھا ہو کر چلنا والا انسان HOMO ” انسان” ERECTUS ” سیدھا چلنے والا“۔ یہ قسم دوسال پہلے پائی گئی آج کل بالکل معدوم ہے۔ اس کی کھوپڑی کچھ محراب نما اور پیشانی سکڑی ہوئی نوکدار تھی۔ اس کا چہرہ لمبا اور دانت برے بڑے تھے۔ یہ انسان کی قریبی پیشتو قسم ہے۔ دریافت شدہ قدیم شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اجتماعی سماجی زندگی گزارتے تھے اور آگ کا استعمال انکو آتا تھا۔

10
۔ ارلی ھوموسپی ینس:۔
( Early Homo Sapiens )
اس کا معنی ذہیں انسان۔ یہ وہ جنس نوع ہے جس سے موجودہ انسان تعلق رکھتے ہیں اور اس سے منسوب ہونے والے انسان احفوری آثار قریب قریب ساڑھے تین لاکھ پرانے ہیں ۔ یہذہین مخلوق دوسرے حیوانات اور سابقہ انسانی انواع سے چند خصوصیات اور عادات میں ممتاز ہے۔ مثلا دو پیروں پر چلنے کی چال، دماغی مقدار 1350 مکعب سنٹی میٹر اونچی پیشانی چھوٹے دانت اور جبڑے ، برائے نام ٹھوڑی ۔ کہتے ہیں کہ یہ تعمیر کے کام سے واقف تھا زبان اور تھریر و غیرہ کی علامتوں کا استعمال کرنے کی قابلیت تھی۔

11
۔ سولومین :۔ (Solo Man) انسان کے شجرہ نسب کی ایک ناپید شدہ شاک Solo ہے ۔ اس کے بارے میں اندازہ ان Fossil سے لگایا گیا ہے جو Java سے ملے ہیں ۔ یہ Fossil ظاپر کرتے ہیں کہ Solo کے بازو اور ٹاکنگوں کی پڈیاں کافی ترقی یافتہ اور جدید دور سے ملتی جلتی ہیں۔ لیکن جہان تک کھوپڑی کا تعلق ہے وہ جدید انسان کی نسبت زیادہ وزنی اور زیادہ موٹی تھی اور بھنویں کافی موٹی تھیں جبکہ پیشانی ڈھلوان کی طرح تھی۔

12
۔ رٹو ڈیسن مین :۔
( RTTODESAIN MAN )
یہ انسان کی ناپید شدہ ایک اور نسل ہے ۔ ان کی آمجگاہ افریقہ تھی یہ Homo Erecuts کی نسبت اچھے خاصے جسمانی خدوخال کے حامل تھے ۔ لیکن ان لوگوں کی نسبت خاصے قدیم نے جھاڑیوں کو اپنا مسکن بنایا تھا۔

13
۔ نیندرتھل انسان :۔
(Neanderthal Man )
نیندر تھل انسان سے تہذیب کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف شکاری تھا بلکہ اہم بات یہ ہے کہ وہ زندگی اور موت کے بارے میں شعور بھی رکھتا تھا یہ ہتھیار ساز تھا۔ جو تقریبا ایک لاکھ دس ہزار سال پہلے نمودرا ہوا ۔ یہ مختلف اوزار بناتا تھا۔ مثلا لکڑی بھگو کر اور اس کو آگ میں تپا کر بعض ہتھیار تیار کرتا تھا۔ Hand Axes چاقو Knives اور Choppers بھی بناتا تھا انکے مرد شکار کیلئے نکلتے تھے اور عورتیں گھروں میں رہتی تھیں۔

14
۔ کرومیگنن انسان
( Cro-Magnon Man )
مکمل طور پر جدید انسان تقریبا 35 ہزار سال پہلے ظاہر ہوا جس کا اولین نمائندہ کرومیگنن انسان ہے۔ ان کے سر لمبے پیشانیاں چھوٹی، چہرے بہت چوڑے ، آنکھیں گہرائی میں اور قد لمبا تھا یہ اپنے مورثوں کی طرح شکار کرتا اور گروہ کی شکل میں رہتا تھا یہ غذا کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے تھے۔

15ِ
ماڈرن انسان :۔
( Modern Man )
جسمانی اعتبار سے جدید انسان Cromagnen سے کچھ مختلف وہ چیز جو ان دونوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا سبب بن سکتی ہے وہ ثقافتہے یہ سب سیکھنے کے بعد کہ خوراک کس طرح اگائی جا سکتی ہے اور پالتو جانوروں کو کیسے رکھا جاتا ہے۔ جدید انسان اس قابل ہو گیا کہ وہ اپنا خانہ بدوشانہ طرز زندگی ترک کر دے اور اپنے لئے مستقل رہائش گاہیں بنا لے اور اس طرح متمدن دنیا بن گئی۔

تبصرہ:
1882- 1809
ڈراون کو یقین تھا کہ زندگی ایک ارتقائی عمل ہے۔ کیڑے مکوڑے اعضاء میں ترقی تبدیلیاں کرتے کرتے بکری بن گئے وغیرہ وغیرہ، چارلس ڈارو نے 1859 ء میں اپنی کتاب

” The Origin Of Species”
میں رائے پیش کی کہ زندگی کی تمام اشکال ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچی ہیں۔ بس پھر کیا تھا یہودیوں نے اس نظریہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا وہ تو یہی چاہتے تھے کہ دنیا میں لوگ کسی خدا کو نہ مانیں ۔ یہی سمجھیں کہ سب کچھ خود بخود اور اتفاقیہ ہو رہا ہے۔ چناچہ سائنسدانوں نے چٹانیں کھودنا شروع کر دیں۔ کہیں سے مرے ہوئے بندر کا دانت ملا۔ کہیں سے جبڑے کا ٹکڑا ملا۔ کہیں سے پنڈلی کی ہڈی ملی۔ بس ان کو جوڑ کر ایک کہانی بنا دی کہ انسان بندر کی ترقیاتی شکل ہے۔

چارلس ڈارون کے نظریہ پہ میں کیا تبصرہ کروں انکے اپنے ہی قبیلے کے لوگوں سے سنیئے اور دھنیے۔

(The Encyclopaedia Of lgnorance P-234-(1978
اس میں ” THE FALLACIES OF EVOLUTION” کے عنوان کے تحت صاحب مضمون Tomlin لکھتے ہیں۔

1 The present im passe in evolutionary thinking Productive of so many afllacies , is due chiefly to the intervention of bilogical fact in terms out of date physical theory.
2. A Biologist lhardin says in his book ” THE PHENOMENON OF MAN” ……….. No amount of historical research will ever reveal the dateils of this story unless the science of the tomorrow is able to reconstruct the process in the labortory we shall probablly never find any material westage of its emergence of the microscopic from the molecular, of the organic from to the chemical of the living from the preliving.
اس کہانی ( نظریہ ارتقاء) کی تفصیلات ہمیں کبھی حاصل نہیں ہو سکتیں ۔ خواہ اس باب میں تاریخی نوعیت کی تحقیقات کتنی ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ جب تک کہ مستقبل کی کی سائنس لیبارٹی اس عمل کو دھرانے کے قابل نہ بن جائے۔ ہم شاید اس سلسلے میں کوئی ادنی مادی دلیل بھی نہ پاسکیں کہ ایک دوربینی جرثومہ ایک سالمے سے کس طرح وجود میں آیا۔ ایک مخصوص شے سے کس طرح ایک غیر عضوی شے نمودار ہو گئی اور ایک جاندار ما قبل جاندار سے کس طرح ظہور پذیر ہوا۔

3
۔ فرانس کے مشہور محقق دونوائے DU-NOUY اپنی کتاب HUMAN DESTINY میں فرماتے ہیں۔

کسی پعجزہ کا وجود تسلیم کئے بغیر آغاز زندگی کی توجیہہ نا ممکن ہے کیونکہ اتفاقیہ طور پر مختلف عناصر کا ایک کاص ترتیب کے ساتھ اکٹھا ہو کر محض ایک ہو کر محض ایک سالمے کو تشکیل دینے کے لئے زمین کی موجودہ پوری عمر ناکافی ہے۔

4
۔ ایک مشہور محقق ڈاکٹر اسمود Dr. Asimov فرماتے ہیں۔

Without DNA> Living organlisms could not reproduce and life as we know it could not have started. All the substances of living matter enzymes and all the others, whose prodction is catalysed by enzymes depend in the last analysis on DNA. How thendid D.N.A an d life start? This is a question that science has always hesitated to ask, Because the origin of life has been bound up with religious belief ever more strongly than has the origin of the earth and the universe, it is still dealt with only hesitantly and apologetically.
بغیر ڈی این اے کے سندہ وجود جسم میں دوبارہ نہیں آ سکتے اور زندگی جیسا کہ ہم جانتے ہیں شروع نہیں ہو سکتی۔ زندہ مادہ کے تماما مرکبات یعنی انزائم اور دوسرے اجزاء جن کی تیاری میں انزائم جے ذریعے کیمیادی تغیر پیدا کیا جاتا ہے۔ آپنے آخری تجزیہ میں ڈی این اے پر انحصار رکھتے ہیں۔ کہذا اب سوال یہ ہے کہ D.N.A کس طرح بنا؟ اور اندگی کیسے وجود میں آئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کے پوچھے جانے پر سائنس ہمیشہ ہچکچاتی ہے۔ کیونکہ زندگی کا رشتہ مذہبی عقائد کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ مضبوط بندھا ہوا ہے۔ جتنا کہ اصل ارض یا اصل کائنات کے رشتہ لہذا ان مسائل پر اب تک جھجھک امیز اور معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا جاتا ہے۔

THE ENCYCLOPAEDIA OF IGNORANCE . P 236 (1978)
MYNARO SMITH
اپنے مضمون

The Limitation of Evolution theosy
میں فرماتے ہیں ۔

There are a lot of things we do not know about evolution ………. Evolution theory is in adequate.
ترجمہ:۔ ایسی بے شمار اشیاء ہیں جن کے ارتقاء کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔۔ نظریہ ارتقاء بالکل ناقص و ناکافی نظریہ ہے۔

ڈارون کے نظریہ ارتقاء کی تحقیق وریسرچ اور ملنے والے جبڑے، دانت اور چند ہڈیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی۔سی جوہانسن اپنے مقالہ ” RETHINKING THE ORIGINS OF GENUS HUMAN” ًٰ میں لکھتے ہیں ۔

” Investigations related to unravelling untricacies of mankinds earliest stages of evolution have proliferated during approximately the last 15 years . It has becoma Increasingly clear that although the store house of human paleontology is considerably fuller now than in the past, we still must an wait additional evidence before final decisions can be made concerning human evolution and jaxonomy ………… It is a difficult task for the anthropologists to ascertain relationship between such foosils ……….. A human jaw fragment and an ram bone fragment do not give us much insight into the probelems of human origin because these specimens are so fragmentary.
ترجمہ: ۔

نوع انسان کے اولین ارتقائی مرحلوں کی عقدہ کشائی کے سلسلے میں پیچیدہ گیاں حائل ہیں ان سے متعلق تحقیقات پچھلے پندرہ سال کے دوران بار آور ہو چکی ہیں۔ یہ بات بتدریجواضح ہو چکی ہے۔ اگر انسانی علم اخفوریات اب ماضٰ کی بانسبت زیادہ لبریز ہو چکا ہے تا ہم اب بھی ہم کو آخری فیصلہ کرنے سے پہلے اس ضمنی شہادت کا انتظار کر لینا چاہیئے جو انسانی ارتقاء اور درجہ بندی تعلق رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ماہرین کیلئے مختلف اخفوریات کے درمیان رشتہ و تعلق دکھانا ایک مشکل ترین مرحلہ ہے۔۔۔۔ کسی قدیم انسانی جبڑے کے محض‌ایک جزو یا ٹکڑے کی بدولت ہم کو کوئی ایسی بصیرت حاصل نہیں ہو سکتی جو اصل انسان کے مسائل کو حل کرنے میں معاون بن سکے کیونکہ یہ آثار بالکل جزوی ہیں۔

ایک عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اب ارتقاء کا عمل کیوں رک گیا ہے؟ آجکل بندروں کی ڈھیروں اقسام Gibbon , چیمنیزی، بن مانس وغیرہ اب کیوں نہیں کوئی بندر انسان بن رہا ہے؟ تو ارتقاء کے حامی یہ جواب دیتے ہیں کہ ارتقاء کا عمل لاکھوں کروڑوں سالوں میں عمل پذیر ہوتا ہے اس کی رفتار بہت سست ہوتی ہے ا سلئے آپ لوگوں‌کو نظر نہیں آتا تو میں ان سے یہ سوال کرتا ہوں کہ 1965 ء میں آئیس لینڈ کے نزدیک سمندر کے اندر زلزلے اور لاوے کے عمل سے ایک نیا جزیرہ نمودار ہوا جسے سرٹسی Surtsey کہتے ہیں ۔ اس پہ ایک سال کے اندر اندر ہزاروں اقسام کے کیڑے مکوڑ حشرات اور پودے پیدا ہو گئے۔ یہ ایک سال میں ارتقاء کس طرح ہو گیا؟ یہاں پھر وہ لاجواب ہو جاتے ہیں ۔ انسانی ارتقاء میں جو کڑیاں سائنسدان ملاتے ہیں وہ آج کیوں نہیں پائی جاتیں؟ ھومینڈ، نیندرتھل، ھومویرکٹس، کرومیگنن کدھر گئے؟ امیبا موجود ہے اور اس سے آگے کی تمام کڑیاں ( چند چھوڑ کر) موجود ہیں صرف انسان سے تعلق رکھنے والی قریبی کڑیاں یکدم غائب ہو گئیں؟ حالانکہ ترقی یافتہ کو موجود ہانا چاہئیے تھا اور کمزور انواع کو مٹنا چاہیئے تھا اور ہوا الٹ۔ Philosophy of struggle for existance کے تحت تو کمزور کو ختم ہونا چاہیے۔ ارتقاء کے حامیوں کا خیال ہے کہ چمنیزی ۔ انسان کے زیادہ قریب ہے۔ Biologists کے نزدیک چمنیزی کو تربیت دی جائے ۔ تو وہ انسان جیسی آوازیں نکال سکتا ہے۔ 1947 ء میں فلوریڈ کی ایک تجربی گاہ میں ایک چمینیزی کو رکھا گیا سالہا سال کی کاوشوں سے وہ صرف چار لفظ سیکھ سکا۔ 1967ء میں اوکلاھاما یونیورسٹی میں کثیر رقم خرچ کر کے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا۔ سات چمینیزی کو انسانی ماحول میں تربیت دی گئی وہ کچھ وقت پروفیسرز کیساتھ Laboratory میں گزارتے باقی اوقات وہ پروفیسرز کے گھروں میں افرادخانہ کی طرح رہتے۔ انسانوں کی طرح کمڑے پہنائے جاتے۔ میز کرسی پہ کھانا کھلایا جاتا۔ رات کو Bed پہ سلایا جات۔ یعنی ایک بچے کی طرح تمام آداب زندگی سیکھلائے گئے۔ مگر تربیتی کورس کے بعد بھی بندر کے بندر ہی رہے۔

سوال یہ پیدا ہوتاہے جو بندر خودبخود ایک ان دیکھے اور ان سیکھلائے تمدن کی طرف ترقی کرتا گیا اور مہذب بنتا گیا۔ کیا وجہ ہے وہی بندر بلکہ انسان کی قریب ترین نسل سکھلانے کے باوجود مہذب اوت تعلیم ہاتفہ نہیں بن رہے؟ یہ کائنات حیرت انگیز نظام ناگاہ اتفاق اور تصادم کی پیداوار نہیں ہے۔ فزکس کے استاد جارج ہربرٹ ( GEORGE HERBERT BIURT) فرماتے ہیں کہ

بالفرض مان لیا جائے کہ کائنات کا نظام خودبخود یا اتفاقات کے نتیجے میں وجود میں آ گیا ہے تو یہ انسانی عقل و شعور کی توہین ہو گی اس طرح ہر سوچنے والا شخص اس نتیجے پر پہنچے گا کہ کائنات کے لئے ایسے خالق کو تسلیم کرنا چاہئیے کہ جو ناظم بھی ہو ۔ اس طرح سے وہ اپنی زندگی کے تمام مسلمات اور بدیہی امور میں خدا شناسی کو اہمیت دے گا۔

ایک جدید سائنسدان دواں گش ( Duane gish ) فرماتے ہیں کہ

” Evolution Theory ”
ایک فلسفیانہ خیال ہے اور در‌حقیقت اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ “ حتٰی کہ نظری ارتقاء کا پر جوش حامی علم حیاتیات کا

پروفیسر R.B. Gold Schmidt فرماتے ہیں

نظریہ ارتقاء کے حق میں اب تک کوئی شک و شبہ سے بالاتر سائنسی شہادت نہیں مل سکی اور یہ کہ یہ محض سوچ کا ایک انداز ہے۔

پروفیسر گولڈ سمڈتھ اور پروفیسر میکبتھ فرماتے ہیں کہ

:
نظریہ ارتقاء کا سائنسی ثبوت نہیں ہے چناچہ ارتقاء کے حامیوں نے کتابوں میں جو تصویریں چھپوئی ہیں وہ سب بھی من گھڑت ہیں۔

پروفیسر میکس ویسٹن ھوفر Westen Hofer نے تمام زمانوں کے حشارت، حیوانات یعنی درندوں ، پرندوں ، خزندوں، چرندوں کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ یہ ہمیشہ سے ساتھ ساتھ موجود رہے ہیں اور فرماتے ہیں پروفیسر ویزامین Weis Man کا نظریہ Java Man سائنس کے ساتھ مذاق ہے۔

پروفیسر گش نے کہا انسان کا ڈھانچہ جسے Nebraska Man کہتے ہیں مکمل طور پر بناوٹی ہے صرف ایک دانت پر پورے ڈھانچے کی تشکیل دی گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ Evolution theory ایک سوچا سمجھا ڈھونگ ہے جو معاشروں کی تباہی کا موجب ہے ۔ حقیقت میں یہ یہودیوں کی چالاکی ہے وہ انسانوں کو ایک ایسا تصور دینا چاہتے تھے جس میں اللہ نہ آئے تاکہ تمام لوگ ہر طرح کی اخلاقی و مذہبی قیود سے آزاد ہو جائیں اور ہر وہ کام کریں جس میں یہودیوں کو فائدہ ہو

باپوں کا باپ

باپوں  کا  باپ 
 
 مسلمانوں کے  نزديک  تمام  انسانوں  کا  باپ  انسان  ہي  ہے  ،  ساري  نسل  انساني  اُسي  سے  چلي  ،  اس  کا  نام  حضرت آدم  عليہ السلام  ہے  اور  اُسے  رب  نے  اپنے ہاتھوں  سے بنايا  اِس  پہلے  انسان  کو  بغير ماں  باپ  کے مٹي  سے  بنايا  اللہ تعالٰي نے  فرمايا
 وبدء خلق الانسان من طين
 تخليق انساني  کي ابتداء  مٹي  سے  ہوئي  ، مٹي  سے  شے  بناني  ہوتو  چار  مدارج  ہونگيں‌ ،
سوکھی مٹی
گیلی مٹی
گوندھی ہوئی چکنی مٹی
بن جانے کے بعد کھنکھناتی ہوئی بجھنگ مٹی
پہلے باپ کی تخلیق میں چاروں مدارج کا ذکر کیا۔
صرف مٹی کا ذکر سورۃ آل عمران آیۃ 59 میں ان مثل عیسی عند اللہ کمثل آدم خلقہ من یعنی آدم کو تراب سے پیدا کیا ۔
گیلی مٹی کا ذکر :: طین پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں (‌المفردات )  اذ قال ربک للمئکۃ انی خالق بشر من طین یعنی تمہارے رب نے کہا فرشتوں سے میں ایک بشر کو گارے سے پیدا کرنے والا ہوں ۔
گوندھی ہوئی چکنی مٹی  انا خلقنا ھم من طین لازب ( صافات) یعنی ہم نے ان کو چپکتے گارے سے پیدا کیا
چکنی مٹی سے تم ہر طرح کی شے بنا سکتے ہو بن جانے کے بعد وہ سوکھنے پہ کھنکھناتی مٹی کی طرح ہوجاتی ہے اس حالت کا یوں ذکر کیا ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون (حجر 26) یعنی ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے ۔
اب آپ کو  آیات میں  پہلے باپ کی تخلیق کے ذکر مختلف الفاظ آنے پر پریشانی نہیں ہوگی کہ کبھی کہا تراب سے پیدا کیا کبھی طین کہا کبھی طین لازب کہا اور کبھی صلصال کہا ۔ سب سے پہلے عزائیل علیہ السلام کے ہاتھوں مٹی منگوائی اس پر پانی ڈالا پھر اسے گوندھ کر لیس دار بنایا پھر اللہ تعالٰی نے کالب بنایا اور یہ کام جنت میں ہوا مسند امام احمد جلد سوئم صفحہ 229 پہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لما صور اللہ فی الجنۃ ترکہ ماشاءاللہ ترجمہ ::  جب اللہ تعالٰی نے آدم علیہ السلام کا لبد جنت میں بنایا تو کچھ عرصہ چھوڑے رکھا پھر اپنی روح پھونکی تو اس میں حرکت پیدا ہوگئی اس کا نام آدم رکھا ، لفظ آدم قرآ ن مجید میں 25 مرتبہ آیا ہے ، پھر اللہ تعالٰی نے پہلے باپ کو خود علم سیکھایا ، اشیاء کے نام سیکھائے ، پہلا انسان ہی مہذب اور تعلیم یافتہ تھا ، اللہ تعالٰی نے اسے اپنا نائب بنایا اور فرشتوں سے سجدہ کروایا ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے انسان کی شکل و صورت کیسی تھی ؟  ہمارے پاس فرمان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہے آپ اس سے اندازہ لگالیں تہذیب الاسماء واللغات کی جلد اول صفحہ 96 پہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آنا اشبہ الناس بابی آدم ترجمہ میں تمام لوگوں میں اپنے باپ آدم علیہ السلام سے زیادہ مشابہ ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک تاریخ کی مستند کتابوں میں موجود ہے آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارکہ میں آدم علیہ السلام کی جھلک دیکھ سکتے ہیں ، نہ معلوم کتنا عرصہ یہ باپوں کا باپ جنت میں سیر کرتا رہا پھر ان کی تنہائی دور کرنے کے لیے اللہ تعالٰی نے اس اکیلی جان سے ایک اور ہستی کو پیدا کیا ۔

باپ

باپ
 يہ تين حرفي لفظ ہے ، يہ تين حرف نہ ہوں تو بچے کے ليے ايک حرف سيکھنا مشکل ہوجاتا ہے ، يہي ہستي اُسے حرف سے آشنا کرتي ہے تاکہ اس کي زندگي پر حرف نہ آئے ، پھر وہ حرف شناس بن جاتا ہے ، باپ نہ ہو وہ حرف ناشنوا بن جائے، حرف گيري اور حرف اندازي سے يہي بچاتا ہے ، يہ تين حرف نہ ہوں تو تم سے حرف نہ اٹھ سکے اور حرف و حکايت خوبصورت نہ ہو تو حرف آتا ہے ، ان تين حرفوں کي عزت کرو ، ورنہ تم حرف نِدبہ بن جائوگے ، لفظ ماں اور باپ کے تين تين حرف ہيں مگر بچہ ايک حرف آگے ہي ہوتا ہے ،
 ب + چ+چ+ہ –بچہ
باپ گھر کی عمارت کا دروازہ ہے ،
 باپ گھر کی عمارت کا ستون ہے ،
 باپ گھر کی عمارت کا چھت ہے ،
 دروازہ نہ تو گھر میں کتے اور چور داخل ہوجاتے ہیں ،
 چھت نہ ہو تو گھر بدلتے موسم کا مقابلہ نہیں کرسکتا ،
 ستون نہ ہوتو چھت گرنے کا خطرہ ہوتا ہے ،
 ہر زندہ شے کا باپ ہوتا ہے ، اللہ تعالٰی فرماتا ہے خَلَقَ کُل شیئ زَوجَین یعنی ہر شے کا ( نر ومادہ ) جوڑا بنایا ۔ یعنی پودوں‌کے بھی نرومادہ ہوتے ہیں‌اور پھل پھول ان کے ملاپ سے ہی لگتے ہیں‌اور جانوروں‌کے تو ماں باپ ہوتے ہی ہیں ،
 میں‌کہنا یہ چاہتا ہوں کہ پرندوں‌، درندوں ، خزندوں ، چرندوں اور انسانوں میں سے ہر ایک بچے کا باپ ہوتا ہے ، لیکن واحد انسان کا باپ ہے جو ان سب میں سے زیادہ عرصہ تک اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مرتے دم تک ۔ انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق میں سے کچھ تو پیدائش سے پہلے ہی دور ہوجاتے ہیں ، کچھ ، کچھ عرصہ ساتھ رہتے ہیں جونہی وہ اڑنے یا چلنے کے قابل ہوئے تو یہ چھوڑ دیتے ہیں‌، اب ان کا اولاد سے کوئی سروکار نہیں ، لیکن انسان کا باپ جب تک مر نہیں جاتا ، اولاد ہی کا خیال رکھتا ہے جب تک باپ زندہ ہے اولاد کا سکھ سہتا ہے ، باپ ہوم اسٹیٹ کا صدر بھی ہوتا ہے اور وزیرخزانہ بھی ،  جس کی جیپ سے بیوی اور بچوں کا خرچہ چلتا ہے اس لئے فرانسیسی کہاوت ہے ۔
 A father is a banker provided by nature
باپ سورج کی مانند ہے ، سورج گرم تو ہوتا ہے مگر نہ یو تو اندھیرا چھا جاتا ہے ، فصلیں‌کچی رہ جاتی ہیں ، باپ کےمر جانے سے بھی گھر مشکلات کے اندھیرے میں گھر جاتا ہے ، باپ کی سختی صرف بچوں کو پختہ کرنے کے لیے ہوتی ہے ، یہ اللہ تعالٰی کا بڑا شکر ہے کہ اس نے ماں باپ میں سے اکثر باپ کو سخت طبیعت کا بنایا اگر ایسا نہ ہوتا تو بچے بے خوف و خطر شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ، ماں کو چاند کی طرح ٹھنڈا اور باپ کو سورج کی طرح گرم ۔ جس طرح ہماری زمین کا ایک ہی سورج ایک ہی چاند ہے اسی طرح‌ہم سے ہر بچے کا ایک ہی حقیقی باپ ہے اور ایک ہی حقیقی ماں ہے ، ماں چاند ہے تو باپ سورج ، یہ بات تو آپ جانتے ہی ہیں چاند سورج سے ہی روشنی لیتا ہے ، ماں جنت ہے تو باپ دروازہ ، ماں‌جنم دیتی ہے تو باپ زندگی دیتا ہے ، ماں چلنا سیکھاتی ہے تو باپ دوڑنا سیکھاتا ہے ، ماں کھڑا ہونا سیکھاتی ہے تو باپ کھڑا رہنا سیکھاتا ہے ، ماں بچے کی حفاظت کرتی ہے تو باپ دونوں کی حفاظت کرتا ہے ، ماں گھر سجاتی ہے تو باپ بناتا ہے ، ماں کی گود مدرسہ ہے تو باپ عمارت ہے ، ماں استاد ہے تو باپ ہیڈ ماسٹر ہے ، ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو باپ ہی اسے جنت دیتا ہے ۔

لفظ باپ اور لغت

لفظ باپ اور لغت
 باپ کو عربی زبان میں اب کہتے ہیں‌، یہ لفظ قرآن مجید میں مختلف اعراب کے ساتھ 119 مرتبہ آیا ہے ، اب کی جمع آباء‌ہے اور یہ قرآن مجید میں‌64 مرتبہ آئی ہے ، اب کے حقیقی معنی والد ہے لیکن مجازی طور پر اسے بھی اب کہہ دیتے ہیں‌جو
 کسی شے کی ایجاد ، ظہور ، اصلاح‌کا سبب بنے (‌المفردات )
 مصلح‌
 (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوہ کہتے ہیں )
 ظہور
 ‌ابوالحرب (جنگ بھڑکانے والا )
موجد
ابوان (ماں باپ )
 مزید مثالیں ملاحظہ ہوں‌۔
 ابو مثوی   ( میزان )
 ابو البشر  ( حضرت آدم علیہ السلام )
 ابو عذر المراۃ  (‌ شوہر )
 ابو یحیٰ‌   ( ملک الموت )
ابو مرینا  (‌مچھلی )
 ابو جامع  (‌دستر خوان )
 ابو عون ( نمک )
 ابو الیقظان (‌مرغا )
 ابومرۃ ( شیطان )
 
(‌المنجد صفحہ 46 )‌

نعت

نعت
 صلوۃ و سلام اُس ذات بابرکات پر جنہوں نے اپنی اُمت کی باپ سے بڑھ کے تربیت کی ، جنہوں نے اپنی امت کو باپ کے درجات سے آگاہ کیا جنہوں نے بچیوں کے باپوں کے درجات بلند فرمائے ، جن کی وجہ سے باپ بچیوں‌کے قتل جیسے گھنائونے جرم سے رک گئے ۔ صلوۃ و سلام اُس ذات پر جن کو رب نے بچیوں‌کا حقیقی باپ بنایا۔