جو اسلام میں اچھا طریقہ

حدیث نمبر :208

روایت ہے حضرت جریر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم آئی جو ننگی اور کمبل پوش تھی تلواریں گلے میں ڈالے تھے۲؎ ان میں عام بلکہ سارے ہی قبیلہ مضر سے تھے ان کا فاقہ دیکھ کر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا ۳؎ لہذا اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان و تکبیر کہی پھر نماز پڑھی پھرخطبہ فرمایا ۴؎ ارشاد فرمایا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا آخر آیت رقیبًا تک ۵؎ اور وہ آیت تلاوت فرمائی جو سورۂ حشر میں ہے اﷲ سے ڈرو ہر شخص غورکرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ۶؎ انسان اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا کھجور کی کھانپ ہی سہی ۷؎ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائےجس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا ۸؎ پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کپڑے کے ڈھیر دیکھے ۹؎ تاآ نکہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور دیکھا کہ چمک رہا ہے گویا سونے کی ڈلی ہے ۱۰؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کار بند ہوں ۱۱؎ ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں اس کے بغیر ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۱۲؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ کا نام جریر ابن عبداﷲ بَجَلی ہے،مشہورصحابی ہیں،نہایت حسین اور خوش اخلاق تھے،عمر فاروق آپ کو یوسف علیہ السلام سےتشبیہ دیتے تھے،حضور کی وفات کے سال اسلام لائے۔بعض روایات میں ہے کہ وفات شریف سے چالیس دن پہلے ایک زمانہ کوفہ میں رہے(مقام قرقیسیا میں)، ۵۱ ھ؁ میں و فات ہوئی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎ یعنی غربت کی وجہ سے ان کے پاس سوائے ایک کمبل کے تن ڈھکنے کو کوئی کپڑا نہ تھا اس کے باوجود غزوے اور جہاد کے شوقین تھے کہ تلواریں ہر ایک کے پاس تھیں۔

۳؎ یعنی ان کی فقیری سے خاطر اقدس کو بہت ملال پہنچا جس کے آثار چہرۂ انور پر نمودار ہوئے کیوں نہ ہو،بے نواؤں فقیروں کے غم خوار جو ہیں،ہم غریبوں پر وہ رنج نہ کریں تو کون کرے۔شعر

من از بے نوائی نیم روئے زرد غم بے نوایاں رُخم زرد کرد

یہ اس آیت کی تفسیر ہے”عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ”۔

۴؎ یہ وعظ لوگوں کو خیرات پر رغبت دینے کے لئے تھا،اس وقت دولت خانۂ اقدس میں کچھ ہوگا نہیں۔

۵؎ یہ آیت حسب موقعہ تلاوت فرمائی،یعنی سارے امیروفقیر بھائی ہیں کہ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔امیر کو چاہیئے کہ فقیر کی مدد کرے۔مرقاۃ میں اس جگہ ہے کہ حضرت حوّا کے بیس بار میں چالیس بچے ہوئے بیس لڑکے بیس لڑکیاں۔

۶؎ یعنی قیامت کے لئے نیک اعمال خصوصًاصدقہ و خیرات کیا کرو۔

۷؎ کیونکہ رب تعالٰی کی بارگاہ میں خیرات کی مقدار نہیں دیکھی جاتی بلکہ دینے والے کا اخلاص۔اس سے معلوم ہوا کہ غریب آدمی اپنی ضروریات میں سے کچھ خیرات کرے تو ثواب کا مستحق ہے،بشرطیکہ بال بچوں اور اہل حقوق کا حق نہ مارے اور بعد میں خود بھی بھیک نہ مانگے۔

۸؎ یعنی تھیلی میں اتنا غلّہ تھا جو انصاری سے برداشت نہ ہوسکا اور زیادتی بوجھ کے سبب تھیلی ہاتھ سے گر گئی۔ظاہر یہ ہے کہ یہ جَویا گندم وغیرہ کا بڑاتھیلا ہوگاجیساکہ اگلےمضمون سے معلوم ہورہا ہے کہ بارگاہ نبوی میں اس وقت غلّے اور کپڑے کے ڈھیرلگے۔بعض شارحین نےلکھاکہ وہ ہمیانی تھی جس میں درہم و دیناربھرے ہوئے تھے مگر یہ خلاف ظاہر ہے۔خیال رہے کہ یہ انصاری سب سے پہلے یہ خیرات لائے پھر ان کو دیکھ کر دوسرے حضرات اسی لیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وہ تعریف فرمائی جو آگے بیان ہورہی ہے۔

۹؎ جوان فقراء پرتقسیم کے لئے جمع ہوگئے تھے۔ چونکہ ان مساکین کی پوری جماعت تھی اسی لئے اتنا صدقہ کیا گیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بوقت ضرورت چندہ کرنا جائز ہے۔دوسرے کہ مسجد میں دوسروں کے لیئے سوال جائز ہے۔جن احادیث میں مسجد میں مانگنے کی ممانعت ہے وہاں اپنے لیئے مانگنا مراد ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

۱۰؎ فقراء کی حاجت روائی اور صحابہ کی خیرات پر خوشی کی وجہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں او ر جو اﷲ اوررسول کو راضی کرنا چاہے وہ فقیروں کی حاجت پوری کرے۔خیال رہے کہ جس چاندی کے ٹکڑے پر سونے کا ملمع کردیا جائے یا جس چمڑے یا کپڑے پر طلائی کام کردیا جائے اسے عربی میں مذھبّہ کہتے ہیں۔یہاں پہلے معنے مراد ہیں۔

۱۱؎ یعنی موجد خیر تمام عمل کرنے والوں کے برابر اجر پائے گا لہذا جن لوگوں نے علم فقہ،فن حدیث،میلاد شریف،عرس بزرگاں،ذکر خیر کی مجلسیں،اسلامی مدرسے،طریقت کے سلسلے ایجاد کئے انہیں قیامت تک ثواب ملتا رہے گا۔یہاں اسلام میں اچھی بدعتیں ایجاد کرنے کا ذکر ہے نہ کہ چھوڑی ہوئی سنتیں زندہ کرنے کا،جیسا کہ اگلے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے اس حدیث سے بدعت حسنہ کے خیر ہونے کا اعلٰی ثبوت ہوا۔

۱۲؎ یہ حدیث ان تمام احادیث کی شرح ہے جن میں بدعت کی برائیاں آئیں۔صاف معلوم ہوا کہ بدعت سیئہ بری ہے اور ان احادیث میں یہی مراد ہے۔یہ حدیث بدعت کی دو قسمیں فرما رہی ہیں،بدعت حسنہ اور سیئہ،اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی ان لوگوں پر افسوس ہے جو اس حدیث سے آنکھیں بند کرکے ہر بدعت کو برا کہتے ہیں حالانکہ خود ہزاروں بدعتیں کرتے ہیں۔بدعت کی تحقیق اور اس کی تقسیم پچھلے باب میں گزر چکی۔

ہمارے سوالات دیوبندی مکتبہ فکر سے

ہمارے سوالات دیوبندی مکتبہ فکر سے

محترم حضرات! دیوبندی مکتبۂ فکر کے نزدیک جشن عید  منانا اس لئے بدعت ہے کہ یہ آپﷺ کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان نے نہیں منایا۔ ہمارے سوالات ان سے یہ ہیں کہ جو کام دن رات دیوبندی فرقے کے علماء اور عوام کرتے ہیں، وہ کام بھی تو کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے نہیں کئے۔

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے تین دن مقرر کرکے اجتماع کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے تین دن مقرر کرکے تبلیغی دورہ کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے اپنے دارالعلوم کا سوسالہ اور ڈیڑھ سوسالہ جشن منایا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے جشن نزول قرآن کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے شبینے کا اہتمام کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے خلفائے راشدین کے ایام سرکاری سطح پر منانے کا مطالبہ کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے خلفائے راشدین کے ایام پر تعطیلات کا مطالبہ کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے خلفائے راشدین کے ایام پر جلوس نکالے؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے خلفائے راشدین کے ایام پر جھنڈوں سمیت جلوس نکالے؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے سیرت النبیﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے پیغام رحمتہ للعالمین کانفرنس کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے 12 ربیع الاول کی رات محفلِ حسنِ قرأت کا اہتمام کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے خلفائے راشدین کانفرنس کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے یوم ازواج مطہرات کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے یوم بیت المقدس منایا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے یوم محمد بن قاسم منایا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے عظیم الشان ختم بخاری کا اہتمام کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے ختم بخاری کے اختتام پر کھانا کھلایا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے جنازوں کے ساتھ جلوس نکالا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے ذوالنورین کانفرنس کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے محسنِ انسانیت کانفرنس کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے آزادیٔ کشمیر کے موقع پر جلوس نکالا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے توہین رسالت کے خلاف جلوس نکالا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے باطل قوتوں کے خلاف جھنڈوں سمیت جلوس نکالا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے توہین آمیز خاکوں کے خلاف کبھی جلوس نکالا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے مفتی محمود کانفرنس کا کبھی انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے مفتی شامزئی کی یاد منائی اور جلسہ رکھا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے مساجد کے بڑے بڑے بلند مینار بنوائے؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے مساجد کے میناروں میں جگہ جگہ قیمتی لائٹیں لگائیں؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے کبھی تحفظ مدارس کانفرنس کا انعقاد کیا؟

٭ کیا کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین نے شہداء کی برسی منائی؟

اس کے علاوہ بھی کئی ایسے کام ہیں جو کبھی صحابہ کرام علیہم الرضوان اور تابعین کرام نے نہیں کئے، مگر پوری دیوبندیت ان کاموں کو شایان شان طریقے سے سرانجام دیتی ہے اور کروڑوں، اربوں روپے اس پر خرچ کرتی ہے۔ اب ان کے فتوے کے مطابق یہ تمام کام بدعت نہیں ہوئے؟ جواب دو…!!!

اور اپنے کارناموں کو صحابہ کرام علیہم الرضوان اور خیر القرون کے عمل سے ثابت کرو…؟

بدعتی کی تعظیم

حدیث نمبر :187

روایت ہے حضرت ابراہیم ابن میسرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس نے بدعتی کی تعظیم کی یقینًا اس نے اسلام ڈھانے پر مدد دی۲؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں مرسلًا روایت کیا۔

شرح

۱؎ آپ تابعی ہیں،طائف شریف کے رہنے والے ہیں،متقی پرہیزگار ہیں لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔

۲؎ یہاں بدعت سے مراد دینی بدعت ہے اور صاحب بدعت بے دین شخص اور توقیر سے اس کی بلا ضرورت تعظیم مراد ہے۔ضروریات کی معافی ہے یعنی بے دینوں کی تعظیم اسلام کو ویران کرنا ہے کہ ہماری تعظیم سے عوام کے دل میں ان کی عقیدت پیدا ہو گی جس سے وہ ان کا شکار ہوجائیں گے جیسے مسلمانوں کی تعظیم ثواب ہے،ایسے ہی بے دین کی توہین ثواب کہ وہ دشمن ایمان ہے۔”باب القدر”میں گزر چکا کہ سیدنا عبداﷲ ابن عمر نے ایک قدریہ مذہب رکھنے والے کے سلام کا جواب نہ دیا وہ عمل اس حدیث کی تفسیر ہے۔

کوئی قوم اپنے دین میں بدعت نہیں ایجاد کرتی

حدیث نمبر :186

روایت ہے حضرت حسان سے ۱؎ فرمایا کوئی قوم اپنے دین میں بدعت نہیں ایجاد کرتی مگر اﷲ تعالٰی اسی قدر ان کی سنت اٹھا لیتا ہے۲؎پھر اسے تاقیامت ان میں نہیں واپس کرتا۳؎(دارمی)

شرح

۱؎ آپ کا نام شریف حسان ابن ثابت،کنیت ابوالولیدہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،شعرائے عرب کے تاج ہیں،حضور کے محبوب شاعر ہیں اور مدح گو و نعت خوان مصطفے ہیں۔آپ ہی کے لیئے حضور اپنی مسجد میں منبر بچھواتے تھے جس پر کھڑے ہوکر آپ اشارے کرتے ہوئےحضور کے نعتیہ قصیدے پڑھتے تھے،آپ کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی،جن میں سے ساٹھ سال کفر میں گزرے اور پھر ساٹھ سال اسلام میں۔ ۴۰ھ؁ سے کچھ پہلے خلافت حیدری میں وفات ہوئی رضی اللہ عنہ۔ان شاءاﷲ!تاقیامت سارے نعت گو ونعت خواں حضرت حسان کے جھنڈے تلے ہوں گے”یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمٰمِہِمْ "۔

۲؎ اس کی شرح ابھی گزرگئی۔دین کی قید سےمعلوم ہوا کہ بدعت سیئہ ہمیشہ دین ہی میں ہوگی،دنیوی ایجادات کو بدعت سیئہ نہیں کہا جائے گا۔جس قدر برائیاں بدعت کی آئی ہیں وہ سب اس بدعت کی ہیں جو دین میں ہو اور سنت کو مٹانے والی اور اگر دین سے مراد عقائد ہیں جیساکہ ظاہر ہے تو حدیث بالکل صاف ہے۔

۳؎ یعنی جس قوم میں بری بدعتوں کی عادت پڑ گئی تو پھر انہیں سنت کی طرف لوٹنے کی توفیق نہیں ملتی،سنت درخت ہے اور یہ بدعتیں اس کا پھاوڑا جب درخت جڑ سے اکھیڑ لیا جائے پھرنہیں لگتا۔

سنت کو پکڑنا بدعت کی ایجاد سے بہتر ہے

حدیث نمبر :185

روایت حضرت غضیف بن حارث ثمالی ۱؎ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی قوم بدعت نہیں ایجاد کرتی مگر اسی قدر سنت اٹھالی جاتی ہے ۲؎ لہذا سنت کو پکڑنا بدعت کی ایجاد سے بہتر ہے۳؎(احمد)

شرح

۱؎ آپ کی صحابیت میں اختلاف ہے،ابن حبان نے کتاب الثقات میں فرمایا کہ غضیف فرماتے ہیں کہ حضور کے زمانہ میں پیدا ہوا اور لڑکپن میں آپ سے مصافحہ اور بیعت کی اگر یہ روایت صحیح ہے تو آپ صحابی ہیں ثُمالہ قبیلہ بنی ازد کی ایک شاخ ہے جس سے آپ تعلق رکھتے ہیں اس لیئے ثمالی کہے جاتے ہیں۔

۲؎ یہ حدیث ان تمام حدیثوں کی تفسیر ہے جس میں بدعت کی برائیاں آئیں یعنی بری بدعت وہی عمل ہے جو سنت کے خلاف ایجاد کیا جائے جس پر عمل کرنے سے سنت چھوٹ جائے۔مثلًا عربی میں خطبہ نماز و اذان سنت ہے،اب اردو میں ادا کرنا اس سنت کو مٹا دے گا کہ اردو میں اذان دینے والا عربی میں نہ دے سکا۔ایسے ہی سرڈھک کر پاخانے جانا سنت ہے ننگے سر پاخانے جانے والا اس سنت میں عمل نہ کرسکا،ہر بری بدعت کا یہی حال ہے،معمولی بدعت چھوٹی سنت کو مٹا دے گی اور بڑی بدعت بڑی سنت کو۔ "مثلھا”سے یہی مراد ہے بدعت حسنہ سنت کو مٹاتی نہیں بلکہ کبھی سنت کو رائج کرتی ہے۔دیکھوعلم دین سکھاناسنت ہے اب اس کے لیئے کتابیں چھاپنا،مدرسہ بنانا،وہاں تعلیم کے نصاب اورکورس بنانا اگر چہ بدعت ہیں مگر سنت کے معاون نہ کہ مخالف،بزرگوں کی یادگاریں قائم کرنا سنت ہیں،اب اس کے لیئے میلاد شریف کی محفلیں،عرسوں کی مجالس قائم کرنا اس کی معاون ہیں نہ کہ مخالف۔اسی جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ بدعت حسنہ سنت سے ملحق ہے۔

۳؎ یہاں خیرشر کے مقابلے میں ہے،یعنی بری بدعتیں ایجادکرنا بُرا اور اس کے مقابل سنت پر عمل کرنا اچھا کہ سنت پر نور ہے اور بری بدعت میں تاریکی،یہ مطلب نہیں کہ بری بدعتیں بھی ٹھیک ہیں مگر سنتیں اچھی۔

مردہ سنت اور گمراہی کی بدعت

حدیث نمبر :166

روایت ہے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو میری مردہ سنت کو جو میرے بعد فنا کردی گئی زندہ کرے ۲؎ اسے ان تمام کی برابر ثواب ہوگا جو اس پر عمل کریں اس کے بغیر کہ ان عاملوں کے ثواب سے کچھ کم ہو۳؎ اور جو گمراہی کی بدعت ایجاد کرے جس سے اﷲ رسول راضی نہیں ۴؎ اس پر ان سب کی برابر گناہ ہوگا جو اس پر عامل ہوں اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا اسے ترمذی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ آ پ صحابی ہیں، ۵ ھ؁ میں وفد مدینہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے،۸۰سال کی عمر پاکر ۶۰ ھ؁ میں وفات پائی،مدینہ منورہ کے پاس مقام ستغری میں قیام تھا۔

۲؎ یعنی جس سنت کو لوگوں نے چھوڑ دیا ہو اس پر خود بھی عمل کرے اور دوسرے کو بھی عمل کی رغبت دلائے جیسے زمانۂ موجودہ ہیں داڑھی رکھنا۔

۳؎ کیونکہ یہ اﷲ کا بندہ اس سنت کے زندہ کرنے میں لوگوں کے طعنے اور مذاق برداشت کرتا ہے،سنت کی خاطرسب سختیاں جھیلتا ہے،لہذا بڑا غازی ہے۔جو بھلائی کے موجد کو ثواب ملتا ہے وہی بھلائی کے پھیلانے والے کو۔

۴؎ یہاں بدعت موصوف ہے اور ضلالت صفت اور جب نکرہ نکرے کی صفت ہو تو تخصیص کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔یہاں ضلالت کی قید بدعت حسنہ کو نکالنے کے لیئے ہے۔(مرقاۃ)یعنی بری بدعتوں کا موجد مجرم ہے جیسے اردو میں نماز و اذان یا اور تمام خلاف سنت کام۔اور اچھی بدعتوں کا موجد ثواب کا مستحق ہے جیسے علم صرف ونحو کے موجد،اسلامی مدرسے،عرس بزرگان،میلاد شریف اور گیارہویں شریف اور گیارہویں شریف کی مجالس کے موجد،اس کی بحث پہلےگزر چکی یہ حدیث تقسیم بدعت کی اصل ہے اس کا ذکر”کتاب العلم” میں بھی آئے گا۔

حدیث نمبر :167

اور ابن ماجہ نے کثیر ابن عبداللہ ابن عمرو سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ۱؎

شرح

۱؎ کثیر ابن عمرو باتفاق راوی ضعیف ہے،امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ بہت جھوٹا آدمی تھا اس کے دادا عمرو ابن عوف صحابی ہیں،قدیم الاسلام ہیں انہی کے بارے میں یہ آیتِ کریمہ اتری”تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ "آپ مدینہ منورہ میں رہے اورحضرت امیرمعاویہ کے زمانہ میں وفات پائی،جنگ بدر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے۔

ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے

حدیث نمبر :163

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر ہماری طرف چہرہ کیا اورنہایت ہی بلیغ وعظ فرمایا جس سے اشک رواں ہوگئے دل ڈر گئے ۱؎ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ شاید یہ الوداعی وعظ ہے۲؎ لہذا کچھ وصیت فرمادیں حضور نے فرمایا کہ میں تمہیں اﷲ سے ڈرنے،سلطان کی سننے،فرماں برداری کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ حبشی غلام ہی ہو۳؎ کیونکہ میرے بعد تم میں سے جو جیئے گا وہ بڑا اختلاف دیکھے گا۴؎ لہذا تم میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت مضبوط پکڑو۵؎ اسے دانت سے مضبوط پکڑلو نئی باتوں سے دور رہو کہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۶؎ اسے احمد، ابوداؤد اورترمذی وابن ماجہ نے رویات کیا لیکن ان دونوں نے نماز کا واقعہ ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ یوں توحضور کے تمام وعظ ہی مؤثر ہوتے تھے لیکن خصوصیت سے یہ وعظ بہت پرتاثیرتھا۔جس میں عشق خدا،خوف ذات کبریا کا دریا موجیں مار رہا تھا۔عشق سے آنسو بہے اورخوف سے دل ڈرے،بلیغ سے پرتاثیر مراد ہے۔

۲؎ یعنی حضور کی وفات قریب ہے،اور آپ ایسی باتیں فرمارہے ہیں جیسی رخصت ہوتے وقت کی جاتی ہیں گویا آپ اپنی امت کو چھوڑ کر جارہے ہیں اور آخری نصیحتیں کررہے ہیں۔سبحان اﷲ!صحابہ کرام کی ذکاوت کے قربان۔معلوم ہوتا ہے کہ واقعی حضور کی وفات قریب تھی اس لیئے ان کے کلام کی تردید نہ فرمائی گئی بلکہ خواہش پوری کردی گئی،پتہ لگا کہ حضور اپنے وقت وفات کو جانتے ہیں اور یہ ایسا جامع کلام ہے کہ سارے احکام اس میں آگئے۔تَقْوَی اﷲ میں سارے دینی احکام اور سلطان کی اطاعت میں سارے سیاسی احکام شامل ہیں۔

۳؎ یعنی اگر تمہارا امیر کالا حبشی غلام ہو تب بھی اس کی اطاعت کرو اس کا نسب و شکل نہ دیکھو اس کا حکم سنو۔خیال رہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے مگر امارت ہر مسلمان کو مل سکتی ہے،لہذا یہ حدیث کے خلاف نہیں”اَلْخِلَافَۃُ لِلْقُرَیْش”نیز امیر کی اطاعت انہی احکام میں ہوگی جو خلاف شرع نہ ہوں،نیز اس کی اطاعت امیر بن جانے کے بعد ہوگی،یزید امیر بنا ہی نہ تھا،حضرت حسین رضی اﷲ عنہ نے اسے حاکم مانا ہی نہیں۔لہذا آپ کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں،امیر بنانا اور ہے اور امیر بن چکنے کے بعد اطاعت کرنا کچھ اور۔

۴؎ سیاسی اختلاف بھی اور مذہبی بھی۔چنانچہ خلافت عثمانیہ کے آخر میں لوگوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہوگیا اور خلافت حیدری میں سیاسی اختلاف کے ساتھ مذہبی اختلاف بھی رونما ہوگیا کہ جبریہ،قدریہ،رافضی،خارجی پیدا ہوگئے۔خیال رہے کہ خدا کے فضل سے صحا بہ میں دینی اختلاف نہ ہوا،سارے صحابہ حق پر رہے،حضور کا یہ کلمہ بہت جامع ہے اور آپ کی یہ پیشن گوئی ہو بہو صحیح ہوئی۔

۵؎ ہر سنت لائق اتباع ہے مگر ہر حدیث لائق اتباع نہیں،حضور کے خصوصیات،منسوخ احکام اور اعمال حدیث ہیں مگر سنت نہیں اسی لیئے یہاں حدیث کو پکڑ نے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ سنت کو۔الحمدﷲ! ہم اہل سنت ہیں دنیا میں اہل حدیث کوئی نہیں ہوسکتا۔صحابہ کرام کے اعمال و افعال بھی لغوی معنے سے سنت ہیں یعنی دین کا اچھا طریقہ اگرچہ ان کی ایجادات بدعت حسنہ ہیں،عمر فاروق نے جماعت کی باقاعدہ تراویح کو جو آپ نے جاری کی تھی بدعت فرمایا کہ کہا نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ آپ کا وہ کلام اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہ شرعًا بدعت ہے لغۃً سنت اور مسلمانوں کے واسطے لازم العمل۔خیال رہے کہ تمام صحابہ ہدایت کے تارے ہیں،خصوصًاخلفائے راشدین۔لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ "اَصْحَابِی کَالنُّجُوْمِ”تمام صحابہ کی پیروی باعث نجات ہے۔

۶؎ یہاں نئی چیز سے مراد نئے عقیدے ہیں جو اسلام میں حضور کے بعد ایجاد کیئے جائیں،اس لیئے کہ یہاں اسے گمراہی کہا گیا۔گمراہی عقیدہ میں ہوتی ہے نہ کہ اعمال میں لہذا یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔چنانچہ قادیانی،چکرالوی،رفض و خروج یہ تمام بدعات اور گمراہی ہیں اور اگر اس سے نئے اعمال مراد لیئے جائیں تو یہ حدیث عام مخصوص منہ البعض ہے،یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے۔بدعت حسنہ کبھی مباح،کبھی مستحب،کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے۔حدیث کی کتب اور قرآن کے پارے بدعت ہیں مگر اچھے ہیں۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔