چند مفید دعائیں

۱) صَلَّی اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰ لِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃً وَّسَلَاماً عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‘‘

اس درود شریف کو بعد نماز جمعہ مدینہ منورہ کی طرف رخ کرکے اور ادب کے ساتھ ہاتھ باندھ کر ایک سو مرتبہ پڑھیں تو دین و دنیا کی بے شمار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔

۲) مسجد میں پہلے داہنا قدم رکھ کر داخل ہوں اور یہ دعا پڑھیں ۔

َ’’ اللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘َ۔

۳) مسجد سے نکلتے وقت پہلے بایاں قدم نکالو اور یہ دعا پڑھو۔

’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِک‘‘َ ۔

۴) چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھو ۔

’’ اَللّٰھُمَّ اَہِلَّہٗ بِالْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِوَالْاِسْلَامِ ،رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللّٰہُ یَا ھِلَالُ‘‘ ۔

۵) کشتی اور جہاز پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں ،امن وامان سے سفر تمام ہو گا ۔’’ بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَحِیْمٌ‘‘

۶) موٹر ،ٹرین ،رکشا،ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھو ، سلامتی سے رہو گے ۔سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَo

۷) جب سونے لگے تو یہ دعا پڑھ لو ۔

’’ اَللّٰہُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی۔‘‘

۸) جب سو کر اٹھو تو یہ دعا پڑھ لیاکرو ۔

’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ‘‘ ۔

۹) جب کوئی ڈراؤنا یا برا خواب دیکھے اور آنکھ کھل جائے تو تین مرتبہ یہ پڑھے۔ اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیِمِ ‘‘ پھر تین مرتبہ بائیں طرف تھوکے پھر اگر سونا چاہے تو کروٹ بدل کر سو جائے ،انشاء اللہ برے خواب سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

۱۰) جب آسمان سے کوئی تارا ٹوٹتا ہوانظر آئے تونگاہ نیچی کر لے اور یہ دعا پڑھے ’’ مَا شَآئَ اللّٰہُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۔‘‘

۱۱) کوڑھی ،اندھے ،لنگڑے وغیرہ مریض یا مصیبت زدہ کو دیکھے تو یہ دعا پڑھے ،انشاء اللہ تعالیٰ اس مرض اور مصیبت سے دور رہے گا ، مگر زکام و آشوبِ چشم اور خارش کے مریض کو دیکھ کر یہ دعا نہ پڑھے ، کیونکہ ان بیماریوں سے بدن کی اصلاح ہوتی ہے ،وہ دعا یہ ہے ۔

’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفََضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مْ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلًا ۔‘‘

۱۲) زہریلے جانوروں سے حفاظت کیلئے یہ دعا صبح و شام پڑھ لیا کرو ۔’’ اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ۔‘‘

اس دعا کوجو شخص صبح کے وقت پڑھ لے وہ دن بھر زہریلے جانوروں سے محفوظ رہے گا ،اور جو شام کو پڑھ لے وہ رات بھر ان جانوروں سے محفوظ رہے گا۔

۱۳) قرض ادا ہونے کی دعا ’’ اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ‘‘۔

ہر نماز کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ اور صبح وشام سو سو بار روزانہ پڑھے اور اول و آخر تین تین بار درود شریف بھی پڑھ لے ۔

۱۴)بازار میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھ لیں ۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَ یُمِیْتُ وَہُوَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ بِیَدِہٖ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ‘‘ ۔

۱۵)جب نیا لباس پہنے تو یہ دعا پڑھے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِی مَا اُوَارِیُ بِہٖ عَوْرَتِی وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِی حَیَاتِیْ۔

۱۶) جب آئینہ دیکھے تو یہ دعا پڑھے ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اَللّٰھُمَّ کَمَا حَسَّنْتَ خَلْقِیْ فَحَسِّنْ خُلْقِیْ۔

۱۷)جب کسی کو رخصت کرے تو یہ دعا پڑھے ۔اَسْتَوْدَعُ اللّٰہَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ ۔

۱۸) سفر کے لئے روانہ ہوتے وقت یہ دعا پڑھ لے، تو امن و امان کے ساتھ سفر تمام ہو گا ۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ فِی سَفَرِنَا ہٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْویٰ وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی ۔اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلَیْنَا ہٰذَا السَفَرَ وَاطْوِ عَنَّا بَعْدَہٗ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَر وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الَاھْلِ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَّعَثَائِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْئِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْاَھْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ ۔

۱۹) جب سفر سے واپس ہو تو یہ دعا پڑھے ۔

اٰئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ ۔

۲۰)جب کسی منزل یااسٹیشن پر اترے تو یہ دعا پڑھ لے،انشاء اللہ تعالیٰ ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہے گا۔

رَبِّ اَنْزِلْنِیْ مُبٰرَکاً وَّاَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ ۔

۲۱) آنکھوں میں سرمہ لگاتے وقت یہ دعا پڑھے ۔

اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِی بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ ۔

۲۲)کھانا کھانے کے بعد اس دعا کو پڑھے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَاوَسَقَانَا وَھَدٰنَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔

۲۳) جب کوئی نعمت ملے تو یہ دعا پڑھے ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ بِنِعْمَتِہٖ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ ۔

۲۴)ہر بلا ہر نقصان سے امان ملنے کے لئے صبح کو شام کو تین تین مرتبہ اس دعا کو پڑھے انشاء اللہ تعالیٰ ہر بلا ہر نقصان سے محفوظ رہے گا ۔ بِاسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَائِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔

۲۵)جب آندھی چلے تو یہ دعا پڑھے ۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِھَا وَخَیْرِ مَا فِیْھَا وَخَیْرِ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ ھَا وَمِنْ شَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ ۔

۲۶)بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک کے وقت یہ دعا پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ ۔

۲۷) اگر کسی قوم یا کسی گروہ سے جان و مال کا خوف ہو تو یہ دعا پڑھے ۔اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِی نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِ ھِمْ ۔

۲۸) مرغ کی آواز سن کر یہ پڑھے ۔

اَسْئَلُ اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ الْعَظِیْمِ ۔

۲۹)گدھا بولے تو یہ دعا پڑھے ۔

لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ۔

٭٭٭٭٭

٭٭٭

پاکیزہ سوچ

پاکیزہ سوچ

غزالی  شاداب

ایک مرتبہ حضرت ابو عثمان نیشاپوری اپنے استاذ حضرت ابوحفص نیشاپوری اورچند احباب کے ہمراہ ایک سفر پر تھے،ایک منزل پر قیام کے درمیان اُن کے استاذ ابو حفص نیشاپوری انھیں نصیحت کرنے لگے۔ اپنے استاذ کی پرخلوص اور حکمت آمیز باتیں سن کرانھیں بڑا سکون حاصل ہوا،اوران کے دل میں نیک کاموں کی رغبت بڑھ گئی۔ابھی حضرت ابوحفص وعظ فرما رہے تھے کہ سامنے کی پہاڑی سے ایک موٹی ہرنی اتر کرآپ کے سامنے کھڑی ہو گئی،ہرنی کو دیکھ کر آپ زاروقطاررونے لگے، یہاں تک کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ کچھ دیر بعدجب آپ پرسکون ہوئے تو حضرت ابوعثمان نیشا پوری نے بڑے ادب سے عرض کیا: حضور !آپ ہمیں بڑا پیارا درس دے رہے تھے جس سے ہمارے دلوں میں رقت اور سوز و گداز پیدا ہو رہا تھا، پھر اچانک اس ہرنی کو دیکھ کررونے کیوں لگے، آخر اس میں کیا حکمت ہے؟

حضرت ابوحفص نے ارشاد فرمایا: ہم سب حالت سفر میں ہیں اور سامان سفر بھی کم ہے۔ جب میں وعظ کہہ رہا تھا تواچانک میرے دل میں یہ خیال آیاکہ کاش! میرے پاس کوئی بکری ہوتی جسے ذبح کر کے میں تم لوگوں کی مہمان نوازی کرتا، ابھی میرے دل میں یہ خیال آیا ہی تھا کہ فوراً میرے سامنے یہ بکری آ گئی ، اب مجھے یہ خوف ستانے لگا ہے کہ کہیں مجھ سے میرا رب ناراض تو نہیں ہو گیا ہے جو میرے نیک اعمال کا بدلہ مجھے دنیا ہی میں دے رہا ہے ،کیونکہ اللہ جس سے ناراض ہوتا ہے اُ سے اس کے اچھے عمل کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔ جس طرح فرعون جو اللہ کا دشمن تھا مگر اس نے اللہ سے دریائے نیل کے جاری ہونے کی دعا کی ،اللہ نے دنیا میں اس کی خواہش پوری کر دی اور دریائے نیل کو جاری کر دیا۔ آخرت میں ایسے لوگوں کا کچھ بھی حصہ نہیں،چنانچہ مجھے یہ خوف ہونے لگا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مجھے میرے نیک عمل کا بدلہ دنیا ہی میں دیا جا رہا ہواور آخرت میں میرے لیے کچھ باقی نہ رہے اور وہاں میں مفلس و کنگال رہ جاؤں ، بس اسی خیال نے مجھے رلا دیا۔(عیون الحکایات، اول،از عبدالرحمن ابن جوزی)

بچو! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سوچ وفکر کتنی پاکیزہ اور اچھی رہی ہے ۔ سامان دنیا اور دنیا اُن کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی، ان کے دل و دماغ میں ہمیشہ یادِ الٰہی رچی بسی رہی اور اس نعمت کے طلب گار رہے جو ہمیشہ کے لیے ہے یعنی آخرت کی نعمت۔اس لیے ہمیں دنیا کے بجائے آخرت سنوارنے کی زیادہ فکر ہونی چاہیے۔

حسن اخلاق

حسن اخلاق

غزالی  شاداب

جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے عہد خلافت میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مصر پر فوج کشی کی اجازت حاصل کر لی اور چار ہزار اسلامی لشکر لے کر مصر کی جانب بڑھے اور مقام ’’عین شمس‘‘ اور مصر کی فوجی چھاؤنی ’’فرما‘‘ پر اسلام کاپرچم لہرادیا مگر اسکندریہ جہاں شاہ مصر مقوقس مقیم تھا اسلامی لشکر کو اس کی فتح یابی کے لیے شدید انتظار کرنا پڑا۔ بالآخر اللہ جل مجدہ نے تین مہینے کے محاصرے کے بعد اسکندریہ کا دروازہ بھی مسلمانوں کے لیے کھول دیا اور فتح نصیب ہوئی۔

حضرت عمرو بن عاص کو جب اسکندریہ کی فتح یابی کی خوش خبری ملی تو اللہ کا شکر بجا لائے اور جلد از جل اسکندریہ پہنچنے کی تیاری شروع کر دی، لشکر کو کوچ کا حکم دے دیا گیا،تمام لشکری اپنے اپنے ساز و سامان سمیٹنے اور کوچ کی تیاری میں مشغول ہو گئے، طنابیں کھلنے لگیں، خیمے اکھاڑے جانے لگے، جانوروں کی پیٹھ پر سامان لد گئے ۔ حضرت عمروبن عاص نے بھی اپنا خیمہ اکھاڑنے کا حکم دے دیاکہ اچانک حضرت عمرو بن عاص کی نظر خیمے کے اندر موجود ایک گھونسلے پر پڑی جس میں کبوتر نے انڈا دے رکھا تھا، حضرت عمرو بن عاص سوچ میں پڑ گئے کہ اگر یہ خیمہ کھول دیا گیا تو کبوتر کا گھر اجڑ جائے گا اور ایک مسلمان کے ہاتھ سے ایک بے زبان پرندے کو تکلیف پہنچے گی ۔ فوراً سپاہیوں کو خیمہ اکھاڑنے سے روک دیا اور فرمایا کہ اس خیمہ کو نہ اکھاڑو، اسے یوں ہی چھوڑ دو ،تاکہ ہمارے مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے

اور اس طرح صرف ایک کبوتر کے آرام و آسائش کی خاطر اس خیمہ کو وہیں چھوڑ دیا گیا جو میدان جنگ میں سپاہی کے لیے نہ صرف سردی اور گرمی سے بچنے کا ٹھکانہ ہوتا ،بلکہ بسا اوقات قلعہ کا کام بھی کرتاہے۔ اسکندریہ سے واپسی پر حضرت عمروبن عاص نے اسی مقام پرایک شہر کی تعمیر کا حکم دیا۔

 عربی زبان میں خیمہ کو ’’فسطاط‘‘ کہتے ہیں اس لیے وہ مقام کبوتر کے اسی خیمے کی نسبت سے ’’فسطاط‘‘ کے نام سے مشہور ہو اجو آج تک مسلمانوں کے حسن اخلاق کا گواہ ہے۔

(معجم البلدان،از یاقوت الحموی،جلد:۴، ص:۲۶۳)

بچو! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا حسن اخلاق اتنا عظیم رہا ہے کہ ان کے ہاتھوں پرندے تک محفوظ ا ور مامون تھے مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج کامسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں پر یشان ہے ۔اس لیے ہمیں اس سے یہ نصیحت لینی چاہیے کہ ہمارے ہاتھوں کسی بھی مخلوق کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

چھوٹی چھوٹی باتیں

چھوٹی چھوٹی باتیں
مدثر رضا مصباحی

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا(مائدہ۶)

ترجمہ: اور اگر تم ناپاک ہو تو خوب خوب پاک ہو جاؤ۔

 ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ (بقرہ۲۲۲)

ترجمہ: واقعی اللہ توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے اور خوب خوب پاکی حاصل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

 جو شخص غسل جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی دھوئے بغیرچھوڑ دے گا تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا ایسا کیا جائے ، یعنی عذاب دیا جائے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر کے ساتھ دشمنی کر لی،یعنی حلق کروالیا۔ ( ابو داؤد ،کتاب الطہارۃ)

مذکورہ بالا آیات کریمہ اور حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص ناپاک ہو جائے تو اس پر غسل فرض ہے اور ان ہی آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی توبہ کرنے والے اور خوب خوب پاکی حاصل کرنے والوں سے محبت فرماتاہے ۔ چنانچہ یہ واضح رہے کہ کوئی بھی شخص اچھی طرح اس وقت تک پاک نہیں ہو سکتاہے جب تک کہ وہ غسل کے فرائض و سنن کی صحیح ادائیگی کاخیال نہ رکھے ،لہٰذا غسل کے فرائض و سنن کا علم حاصل کرنا ہرعاقل وبالغ شخص کے لیے ضروری ہے ۔

غسل کے فرائض

غسل کے فرائض تین ہیں:

۱۔ کلی کرنا یعنی منھ کے اندرونی ہر حصے پر پانی پہنچانا ۔

۲۔ ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا۔

۳۔ پورے بدن پر پانی اس طرح بہانا کہ بدن کا کوئی حصہ بھیگنے سے باقی نہ رہ پائے۔

چنانچہ اگراِن تینوں فرائض کی صحیح صحیح ادائیگی جب تک نہ ہوگی اس وقت تک پاکی حاصل نہ ہوگی۔اس کے باوجود زیادہ ترلوگ غسل کے فرائض سے واقفیت حاصل نہیں کرتے ، جس کا نتیجہ یہ نکلتاہےکہ غسل کرنے کے بعد بھی ان کوپاکی حاصل نہیں ہوپاتی ،اور بہت سی عبادتیں جنھیں وہ باقاعدہ اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں وہ بھی ادانہیں ہوپاتیں۔

 اس طرح انھیں کئی طرح کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

۱۔ عبادتیں ضائع اوربیکار ہوجاتی ہیں۔

۲۔ گھروں میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔

۳۔ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں حاصل ہونے کے بجائے محرومی حاصل ہوتی ہے۔

 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا بیان ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اس گھر میں فرشتےنہیں جاتے جس گھرمیں تصویر، کتا اور ناپاک انسان ہو۔ (سنن ابی داؤد،ج:۱ ،ص ۱: ۰۹)

اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ انسان اِسی ناپاکی کی حالت میں مر جائےجو اُس کے لیےسخت گھاٹے کا سواد ہے۔ مزید یہ کہ ناپاکی سے مختلف بیماریاں بھی پیداہوتی ہیں  اورقلبی اطمینان و سکون بھی حاصل نہیں ہوتا۔

غسل کامسنون طریقہ 

 حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہانے کے لیے میں نے پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کردیا،توآپ نے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور ران کو دھویا ،پھر پانی ڈال کر ہاتھوں کو دھویا ،پھر داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا ،گندگی کو صاف کیا، پھر ہاتھ زمین پر مار کر اور رگڑکردھویا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور منھ ہاتھ دھویا ، پھر سر پر پانی ڈالا اور تمام بدن پر پانی بہایا ، پھر اس جگہ سے الگ ہو کر پائے مبارک دھوئے،اس کے بعد میں نے ایک کپڑا دیا توآپ نے نہ لیا اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے ۔ (صحیح بخاری، کتاب الغسل)

لہٰذا جب بھی ہم آپ میں سے کسی کو ناپاکی لاحق ہو تو فوراً پاکی حاصل کریں اور ہر گز ہرگزغسل کے فرائض و سنن کو ترک نہ کریں،ورنہ دین ودنیامیں بھی سخت خسارےاور نقصان کے مستحق ہوں گے ۔

 و ضو کے فرائض

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَی الْكَعْبَیْنِ(مائدہ ۶)

ترجمہ:اے مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کر و تو اپنے منھ ، کہنیوں سمیت دونوںہاتھوں کو دھوؤ ، سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوؤ۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وضوکے فرائض چار ہیں:

۱۔ دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔

 ۲۔ ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اور پیشانی کے بال اُگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اس طرح چہرہ دھونا کہ ایک بال بھی نہ چھوٹنے پائے ۔

۳۔ سرکا مسح کرنا۔

۴۔دونوںپاؤں ٹخنوں سمیت دھونا ۔

 وضو کی سنتیں 

وضوکی سنتیں درج ذیل ہیں:

۱۔نیت کر نا،

۲۔ بسم اللہ کرنا،

۳۔دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا،

۴۔مسواک کرنا،

۵۔ کلی کرنا،

۶۔ناک میں پانی چڑھانا ،

 ۷۔بالترتیب وضو کرنا،

۸۔ ہاتھ پاؤں میں پہلے داہنے کو دھونا،

ان کے علاوہ وضو کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کابھی خیال رکھناضروری ہے،مثلاً:

اگر انگلیوں میں انگوٹھی ہوتو اُس کے نیچے پانی ضرور پہنچائے ۔

اگرپاؤں اور ہاتھ کی انگلیوںمیں پھٹن ہو تو اس میں پانی پہنچائے۔

پیروں کی انگلیوں کے درمیان اچھی طرح پانی پہنچائے خصوصاً جاڑے کے موسم میں۔

اگرناخن میں آٹا، مٹی وغیرہ ہوتو اُن کو ہٹا کر پانی بہائے۔ث وضو کے درمیان فضول بات چیت نہ کریں۔

زیادہ پانی خرچ نہ کریں، یعنی ایسا نہ ہو کہ نل کھول دیا جائے اور کئی منٹوں تک وضو کیا جائے ۔

 مذکورہ بالا چیزوں کا بھر پور خیال رکھیں ،ورنہ وضو نہ ہونے کا اندیشہ ہے او راگر وضو نہ ہواتونماز بھی نہ ہوگی ۔

حقیقت وضو 

لیکن وضوکی حقیقت کیاہے،اس تعلق سے مشائخ کرام فرماتے ہیں:

۱۔ ہاتھ کا وضو یہ ہے کہ اس سے کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے ۔

۲۔ پیرکا وضو یہ ہے کہ وہ کسی حرام، یامکروہ تحریمی عمل کی جانب نہ اُٹھے۔

 ۳۔سر کا مسح یہ ہے کہ وہ اللہ رب العزت کے سوا کسی کے سامنے عبادت کے لیے نہ جھکے۔

 ۴۔ کلی کی حقیقت یہ ہے کہ زبان پرجھوٹ، غیبت ،گالی گلوج اور دیگر بری باتیں نہ آئیں۔

ان باتوں کو معمولی سمجھ کرانسان اس کی طرف توجہ نہیں دیتا یا اُنھیں چھوڑدیتا ہے جب کہ یہی باتیں قیامت میں نجات کا سامان فراہم کریں گی ۔

اذان کا جواب دینا 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

 مؤذن سےجو کچھ کہتے سنوتم بھی وہی کہو۔ ( سنن ابن ماجہ ، ابو اب الاذان )

 حضرت جابر رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ جو اذان سن کر اَللّٰہُمَّ رَبَّ ہٰذِہِ الدَّ عْوَۃِ الخ پڑھ لے،تو اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔ (صحیح بخاری ،کتاب التفسیر)

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

 عورتوں کے لیے ہر کام کے مقابل دس لاکھ درجے بلند کیے جائیں گے ،حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض  کیاکہ یہ عورتوں کے لیے ہےتو مردوں کے لیے کیا ہے ؟

 آپ نے فرمایا :مردوں کے لیے اس کادوگناہے۔

اذان سننے اوراس کا جواب دینے کے فوائد

 

 ۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر عمل ہوتا ہے۔

۲۔اذان کو غورسے سننے اور جواب دینے میں قلب کو اطمینان حاصل ہوتاہے ۔

۳۔قیامت کے دن نبی کریم صلی ا للہ علیہ و سلم کی شفاعت نصیب ہوگی ۔

۴۔بے حساب اجر و ثواب حاصل ہوتاہے۔

۵۔ نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے اور نماز کو غیر اللہ کے خیالات سے پاک کرنے میں یہ اہم وسیلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشائخ مسجد میں بیٹھ کر اذان کا جواب دیا کرتے ہیں۔

 لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماراعمل اس کے برعکس ہے ،کیوںکہ اذان ہوتی رہتی ہے اور ہم دکانوں،ہوٹلوں ، بازاروں اور چوراہوں پر آپسی گفتگواور غیر ضروری کاموں  میں مشغول رہتے ہیں،نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ہم نہ اذان سنتے اور نہ اس کا جواب دیتے ہیں،جب کہ اذان کاجواب نہ دیناحضور کےحکم سے منھ موڑناہے ۔خبردار !اس کو ہلکے میں نہ لیاجائے ورنہ ہلاکت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔(العیاذباللہ )

نمازمیں تکمیل ارکان نہ کرنا 

 مسجدوں میں عام طورپریہ دیکھا جاتاہے کہ بہت سے نمازی جلدی جلدی نمازاداکرنے کی وجہ سے صحیح طورسے نماز کے ارکان ادانہیں کرپاتے اورجانے انجانے میں ترکِ واجب کے مجرم بن جاتےہیں،مثلاًقیام،رکوع ،سجود کے درمیان توازن واعتدال نہیں رکھ پاتے جس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نماز ادا کرنے کے باوجود نمازیں ناقص رہ جاتی ہیں،اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کامل نمازیں ادا کرلیں،چنانچہ دوران نماز اِن تمام باتوں پر دھیان دیناانتہائی ضروری ہے۔

اس تعلق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجودتھے کہ ایک شخص آیا اور نماز اداکی،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پیش کیا،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا:

ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ۔

ترجمہ:جاؤ پھرسے نماز پڑھو،کیوں کہ تیری نماز نہیں ہوئی۔

یہ سن کروہ شخص واپس گیا اور نماز اداکی ،اس طرح تین مرتبہ ہواکہ وہ باربارواپس جاتا اورنماز اداکرتا،اخیر میں اس نےعرض کیاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا،میں اس سے بہتر نہیں کرسکتا ،آپ مجھے اس کی تعلیم فرمائیں،اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذٰلِكَ فِى صَلاَتِكَ كُلِّهَا۔ (سنن ترمذی،باب ماجاء فی وصف الصلاۃ)

ترجمہ:جب نماز میں کھڑے ہوتو تکبیر (اللہ اکبر) کہو، پھر قرآن کریم کی کچھ آیتیں تلاوت کرو،پھر اطمینان سے رکوع کرو،اس کے بعد سیدھے کھڑے ہو،پھر اطمینان سے سجدہ کرو،اس کے بعد اطمینان سے بیٹھو،اور اسی طرح پوری نماز مکمل کرو۔

 معلوم ہواکہ صحیح صحیح قیام، قرأت، رکوع، سجود اور قعدہ ضروری ہے،تاکہ نماز کا ہررکن مکمل طورپر اداہو،ورنہ نمازنہیں ہوگی ، لہٰذا نما زمیں تعدیل ارکا ن کا خیال رکھنا لازمی ہے۔

تلاوت وقرأت میں جلد بازی

 اسی طرح کبھی بھی تلاوت وقرأت میں جلدبازی کرنا اچھی بات نہیں،کیوںکہ عین ممکن ہے کہ جلدی جلدی تلاوت اور قرأت کرنےکی وجہ سے اصل الفاظ میں تبدیلی آجائے اور اُن کے معانی کچھ سے کچھ ہوجائیں۔ خاص کر نماز میں اس کا خاص خیال رکھنا چاہیےکہ معانی میں تبدیلی کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی ہے ۔

مذکورہ بالا تمام چیزیں دیکھنے میں چھوٹی لگتی ہے اور چھوٹی سمجھ کر بہت سے لوگ ترک بھی کر دیتے ہیں، حالاں کہ ان باتوں کا خیال نہ رکھناعبادت کے لیےسخت نقصان دہ ہے۔

اچھا اخلاق

اچھااخلاق

رکن دین سعیدی

اخلاق ،خلق کی جمع ہے جس کا معنی ہے عادت وخصلت۔عرف عام میں بھی اخلاق ،خصلت،عادت اور چال چلن کوکہتے ہیں۔اسلام نے اچھے اخلاق پر کافی زور دیاہے،نیزقرآن کریم میں بھی اچھی عادتوں اور خصلتوں کے بارے میں بہت سی آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ اچھا اخلاق ایک طرف ہماری زندگی کو قابل رشک بناتاہے تو دوسری طرف اللہ ورسول کے نزدیک سرخرو بھی کرتا ہے۔ یہ اچھے اخلاق ہی کااثر تھا کہ کفارومشرکین جوپیارے نبی جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین جانی دشمن تھے اس کے باوجود آپ کو نہ صرف ’’صادق وامین‘‘کہتے تھےبلکہ اپنی اپنی قیمتی چیزیں بھی آپ صلی للہ علیہ وسلم کے پاس ہی رکھتے تھے۔اچھےاخلاق کی تعلیم دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سب سے بہتر اور افضل وہ شخص ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔اور ایسااس لیےکہاگیاہے کہ جس شخص کوتیروتلوار اور اسلحہ وہتھیار سے جیتانہیں جاسکتا اس کواچھےاخلاق سے جیتا جاسکتا ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےجو دشمنوں پر اپنی جیت درج فرمائی ہے اس میںاچھے اخلاق کا بڑا عمل دخل رہا ہے۔مثال کے طورپرایک بارجب مکہ شریف سے کچھ دوردین کی دعوت کے لیےطائف پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے نہ صرف آپ کا مذاق اڑایا بلکہ پتھروں سےمارمارکر لہولہان بھی کردیا،پھربھی آپ نےطائف والوں کے لیے ہدایت وخیر کی دعائیں کی،جنگ بدرمیں گرفتار کیے گئے قیدیوں سے بدلہ لینے کے بجائےمعمولی فدیہ لےکر آزاد کردیا،یہاں تک کہ فتح مکہ کے دن اُن لوگوں کو بھی معاف فرمادیاجو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کےدشمن رہے، بلکہ کئی بارجان سے مارنے کی کوششیں بھی کیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اچھے اخلاق ہی کانتیجہ تھا کہ جو لوگ کبھی آپ کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے وہی لوگ آپ پر جان دینے کے لیے تیار ہوگئے ،اور جولوگ اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے وہی لوگ اسلام کی ترقی کے لیے راہیں ہموار کرنے لگے۔

 بچو! اس سے تین باتیں معلوم ہوتی ہیں:ایک یہ کہ اچھا اخلاق انسان کو زندگی میں ہمیشہ محترم اورمقبول بناتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اچھے اخلاق سےاللہ ورسول کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اورتیسرے یہ کہ اچھے اخلاق میں بڑی طاقت ہوتی ہےجسے اختیار کرکے ایک انسان بڑے سے بڑے دشمن پر بھی فتح حاصل کرسکتا ہے،اس لیے ہم سب کے اوپر لازم ہے کہ دوست ودشمن سب کےساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں اور اپنے کرداروگفتارسے اچھےاخلاق کی تعلیم عام کریں ۔