تصورمساوات کے مہلک اثرات

تصورمساوات کے مہلک اثرات

شوکت علی سعیدی

 اللہ عزّوجل کی بے شمار مخلوقات میں مرد و عورت ایسی مخلوق ہیں جنھیں اشرف المخلوقات کا تاج عطا کیا گیاہے ۔ کوئی جاندار یا غیرجاندار ایسا نہیں ہے جس میں مکمل موافقت پائی جائے۔ ہر ایک کی طبیعت مختلف ہے۔ ہر ایک کی ذمے داریاں الگ ہیں ۔یہ سارے اختلافات خالق کائنات کی طرف سے ہیں نہ کہ انسانوں نے پیدا کر لیے ہیں۔ چنانچہ قدرت نے جس کا جومقام و مرتبہ عطا کیا اسے اسی کے مطابق رکھا جائے تب ہی جاکرنظام کائنات سے سکون حاصل کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔اگرایسانہ ہوتو پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ایک مرد جو توانا اور طاقتور نہ ہو اس کے کندھے پر دس من کا بوجھ نہیں رکھا جا سکتا ،ہا ں! جو اس قابل ہو کہ دس من کا بوجھ اٹھاسکے تو اسے یہ ذمے داری دی جاسکتی ہے۔اس اصول کو نگا ہ میں رکھ کر ہی انسانی زندگی کو بہتر بنایا جاسکتاہے۔ اگرہر چیز اپنے مزاج و فطرت کے اعتبار سے قائم رہے تو مسائل پیدا نہیں ہوتے اور جہاں کہیں اس کے اصل مزاج اورفطرت سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو فوراً مختلف مسائل پیدا ہو نے لگتے ہیں۔

 جس طرح مرد ایک خاص مزاج کا حامل ہوتا ہے اسی طرح عورت بھی نسل انسانی سے تعلق رکھنے کے باوجوداپنی طبیعت و خصلت کے سبب مردسے مختلف ہوتی ہے ۔مگر اس واضح اختلاف کے بعد بھی چند دانش مند حضرات یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ مرد وعورت کی ذمے داریاں الگ الگ ہیں، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے۔ ان کا یہ الزام بھی ہے کہ صدیوں سے عورتوں کو تعلیم وثقافت سے دور رکھا گیا جس کی وجہ سے وہ ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں اور قیدی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جیسے ہی انھیں آزادی ملتی ہے، وہ بڑے بڑے مقابلوں میں کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں، مثلاًسیاست،کھیل، صحافت، تعلیم اور تجارت میں جو عورتیں کامیاب ہو رہی ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ انھیں آزادی کی زندگی نصیب ہوئی ۔

لیکن دوسری جانب ایک جماعت اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ عورتیں ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں ہر وہ کام کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے جو مرد کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر عورتیں مردوں کی طرح میدان عمل میں آجائیں تو عام سماجی زندگی بہتر نہیں ہوپائے گی، جیسے سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم، بدکاریاں، کمپنیوں اور آفسوں میں عورتوں کا استحصال،خانگی زندگی کا درہم برہم ہونا ،بچوں کی غیر ذمہ دارانہ تربیت، ماں باپ کی نافرمانیاں اور دیگر غیر اخلاقی بیماریاں، یہ سب عورتوں کو اُن کا اپنا مقام نہ دینے اور انھیں ان کی اپنی ذمے داریوں سے دور رکھنے کے سبب پیدا ہوتے ہیں ۔

جو لوگ عورتوں کو مردوں کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مردوں اور عورتوں کی ذیلی صفات کو سامنے رکھتے ہیں مثلا :

مرد: عاقل، سمجھدار، تجربہ کار،جسمانی طور پر مضبوط، مدافعت کی قوت رکھنے والے اور معاف کرنے والی صفات سے متصف ہوتے ہیں۔

عورتیں: نرم و نازک ، جسمانی طور پر کمزوراورصبر و تحمل کی پیکرہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ساری صفتیں جو مردوں کے اندر پائی جاتی ہیں کیاان میں سے بعض عورتوں کے اندر نہیں پائی جاتیں اور جو صفات عورتوں کے اندر پائی جاتی ہیں ان میں سے بعض مردوں کے اندر پائی نہیں جاتیں؟تو پھر انھیں برابری کا درجہ دینے میں حرج ہی کیا ہے؟ ہاں! جسمانی اختلاف کی وجہ سے چند جگہوں پر رعایت دی جاسکتی ہے ۔پس نتیجہ یہ نکلا کہ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کا کام کر سکتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے برابر حق رکھتے ہیں۔پھر یہ کہ مرد وعورت کے عمل میں جواختلاف ہے وہ خدائی اختلاف نہیں ہے بلکہ انسانوں کا پیدا کیا ہوا ہے۔یہ ایک سماجی ڈھانچہ( Social Structure) ہے۔ بچوںاور بچیوں کی الگ الگ ڈھنگ سے تربیت ہوتی ہے ، اسی کا اثر ہے کہ مرد یہ سمجھتا ہے کہ عورت کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور عورت بھی یہ سمجھتی ہے کہ میں عورت ہوں مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے ۔

اس لیے عورتوں کو مردوں کی طرح کام کرنے سے منع کرنا ظلم ہے۔ اس صورت میں عورت گھر کی چہار دیواری میں بند ہوکررہ جاتی ہے۔ تومیں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مرد ایک مشین پر ڈیوٹی دے کر، ایک کمپنی کے اندر یاایک دوکان پررہ کر اپنی زندگی کونہیں گزاردیتا؟کیا اس پر یہ ظلم نہیں؟جب مردوں کو ایسا کرنا ظلم نہیں تو عورتوں کو امور خانہ داری پر لگانا کیوں کرظلم ہوسکتاہے؟ اور اگر واقعی عورتیں امور خانہ داری سے باہر آکر اپنی زندگی کو پہلے سے بہتر بناسکتیں اور سماج کو پیچیدہ اور پریشان کن مسائل سے روک سکتیں تویہ درست ہوتا،لیکن یہاں تو معاملہ بالکل برعکس ہے ۔آج عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر خود عورتوں کے لیے ہزارہا مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔

 اوریہ سارے مسائل صرف اور صرف اسی وجہ سے ہیں کہ انسان خالق کائنات کے پیدا کیے ہوئے وسائل کو صحیح طور پر نہیں برت پارہا ہے۔وہ نہ صرف خدا کے قانون کی خلاف ورزی کررہاہے بلکہ خود بے لگام ہو گیا ہے ۔اپنی مرضی کے مطابق نیاقانون بنانا شروع کر دیا ہے اور خدا کی خدائی میں نقص نکال کر اپنے کمال وہنر کامظاہرہ کرنے لگاہے جبکہ حقیقت میں وہ اپنی اور پوری انسانیت کی تباہی کاسامان فراہم کر رہاہے۔ حالانکہ کلام الٰہی نے واضح طور پریہ اعلان کر دیا ہے:

 ’’اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ۔‘‘(سورہ قمر، آیت:۴۹)

یعنی ہم نے ہر چیز کو ایک خاص انداز پر پیدا کیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ عورتیں جوآغاز آفرینش سے مردوں سے الگ صفات کی حامل ہیں اور ان کی ذمے داریاں بھی مردوں کی بہ نسبت مختلف ہوتی ہیں۔پھراس تصور کو مٹانے کی کوشش کرنے والی جماعت کا آخر مقصد کیا ہے؟ کیاحقیقت میں وہ عورتوں کے مسائل حل کرانا چاہتی ہے؟ کیا وہ سچ مچ عورتوں کو ظلم و جبر سے نکالنا چاہتی ہے؟ ظاہر ہے یہ ان کا مقصد نہیں ہو سکتا ،ورنہ مغربی ممالک میں عورتیںاس قدر استحصال کا شکار نہ ہوتیں ۔

ہاں! ان کا مقصد یہ ضرور ہے کہ ملک کی معاشی حالت بہتر ہو۔مرد بھی کمائے اور عورت بھی،جس سے شرح معاشیات میں اضافہ ہو اور یہ مقصد دیکھنے میں بھی آرہا ہے۔ مغربی ممالک کی معاشی ترقی کا ایک اہم محرک یہ بھی ہے کہ مرد آٹھ گھنٹے کام کرتاہے تو عورت بھی آٹھ گھنٹے کام کرتی ہے۔وہ کام جس سے دنیا کی دولت ایک جگہ سمیٹی جا سکے۔ مشرقی عورتوں کی بات کریں تو وہ بھی گھریلو کام کرتی ہیں اور بعض تو بارہ بارہ گھنٹے گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں جومردوں کے کام سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن ان کاموں سے اس معاشیات کی ترقی نہیں ہوتی جو ترقی یافتہ مغربی ممالک چاہتے ہیں۔

 آج کل معاشیات کی ترقی کا نشہ جو ہر ترقی پذیر ممالک پر چڑھا ہوا ہے اوراس کے حصول کے لیے وہ ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔خواہ اس سے لاکھوں مسائل کیوں نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ انسانیت حیوانیت میں کیوں نہ تبدیل ہو جائے اور انسانیت کی تعریف ہی کیوںنہ بدل جائے،لیکن معاشی ترقی ہونی چاہیے۔ اس کا حل ضرورنکالا جائے گااور نت نئے طریقے ایجاد کیے جائیں گے۔

یہ رجحان ترقی پذیرممالک میں اس قدر پنپنا شروع ہو گیا ہے کہ بڑے شہروں میں لڑکیاں دن تو دن اب راتوں میں بھی کام پر جانے لگی ہیں۔اس میںنہ ہندو معاشرے کی تخصیص ہے اور نہ مسلم معاشرے کی،جس کی وجہ سے آئے دن جرائم کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ سنجیدہ اور حساس انسان حیران ہے اور کافی فکر مندبھی کہ اس شیطانی وبا کو کیوں کر روکا جائے اورانسانی اصولوں کو مٹاکر خدائی اصولوں کو جو مخلوقات کی طبیعت اور فطرت کے عین موافق ہیں کیسے عمل میں لایا جائے۔

ایک جانب وہ جماعت ہے جو خدائی اصولوں کی نافرمانی کرکے خود ساختہ اصولوں پر عمل پیرا ہے اور باضابطہ ایک غالب مورچے کی شکل اختیار کر لی ہے اوردوسری طرف وہ جماعت ہے جو انسان کو اس کی فطرت اور مزاج کے مطابق رکھنے پر ُمصر ہونے کے باوجود؛دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اس کے باوجودغیر تو غیر اپنے بھی اسے مذہبی، دقیانوسی اور فرسودہ خیال کہہ کر کنارے پہ ڈال رہے ہیںاور سارے اخلاقی اقدار کو توڑتے ہوئے مغربی اذہان و افکار کے ہم نوا بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف خود ان کی تباہی ہورہی ہے بلکہ جو اُن کے ارد گرد ہیں وہ بھی اس چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں۔

اب تو عالم ،پنڈت، فادر اور دیگر مذہبی رہنما ؤںکا اثربھی عوام قبول نہیں کر پارہی ہے۔والدین اپنی اولاد کو قابو میں نہیں رکھ پارہے ہیں اور پورا سماج اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ حتی کہ ملک کی تہذیبی اورثقافتی علامات بھی مٹتی جارہی ہیں۔ خارجی اثرات جنھیں ہم مغربی اثرات کہہ سکتے ہیں بلا روک ٹوک ملک و معاشرے کواپنی چپیٹ میں لے چکے ہیں ، لیکن افسوس کہ ہمارا معاشرہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے چین کی بانسری بجا رہا ہے۔

اب جبکہ عورت کومرد کے برابرقراردینے کا نتیجہ واـضح ہو چکا ہے کہ اس رجحان کو فروغ دینے کا مقصدعورتوں کو ظلم و ستم سے نجات دلانا نہیں،بلکہ اس کامقصد یہ ہے کہ معاشی مضبوطی حاصل ہو۔آمدنی میں اضافہ ہو۔ دنیا میں مال وزر اکٹھا کیا جائے ۔مرد اپنے معاش کا خود ذمہ دار ہو اور عورت اپنی کفالت کاخود، تاکہ دونوں آزاد رہ سکیں۔ ایسی صورت میں اس فانی دنیاکے عیش و آرام کے جال سے باہر لا نے کے لیے ضروری ہے کہ آخرت کی یاد دلائی جائے۔ دلوںمیں ’’  مَتَاعُ اَلدُّ نْیَا قَلِیْلٌ ‘‘(دنیا کی پونجی بہت کم اور حقیر ہے)  کو جاگزیں کیا جائے اور انسان کو اس کا اصلی منصب یاد دلایا جائے۔ عورتیں اپنے فرائض منصبی کو یادرکھیں اور مرد اپنے فرائض منصبی کو۔

 اس حقیقت کے باوجودکہ یہ عمل بڑا مشکل ہے ،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کے بس سے باہر نہیں اور یہ ساری چیزیں بغیر اسلامی تعلیمات کے ممکن نہیں،کیونکہ مخلوق اپنے خالق کے قوانین کو اپنا کر ہی ایک صالح اور خوبصورت معاشرے کا نمونہ پیش کرسکتی ہے۔بالخصوص عورتیں اگر اس ذمے داری کوقبول کر لیں تو یہ نہ صرف ان کے لیے بہتر ہے بلکہ اس طرح وہ پورے معاشرے کو خوبصورت اور صالح بنا سکتی ہیں۔

نوجوانوں کو کیسا ہونا چاہے

حکایت نمبر102: نو جوانوں کو کیسا ہونا چاہے

حضرت سیدنا سعیدحربی علیہ رحمۃاللہ القوی فرمایا کرتے تھے:”کچھ نوجوان ایسے ہیں کہ اپنی نوجوانی اور کم عمری کے باوجود اُڈھیر عمر کے دکھائی دیتے ہیں ، ان کی نظریں کبھی بھی حرام چیز کی طرف نہیں اٹھتیں ، ان کے کان ہمیشہ حرام اورلہو ولعب کی باتیں سننے سے محفو ظ رہتے ہیں ، ان کے قدم حرام وباطل اشیاء کی طر ف نہیں اٹھتے بلکہ بہت زیادہ بوجھل ہوجاتے ہیں ، ان کے پیٹ میں کبھی بھی حرام اشیاء داخل نہیں ہوتیں۔ ایسے لوگ اللہ عزوجل کو محبوب ہیں۔
آدھی رات کو وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں اور رکوع وسجود کرتے ہیں تو اللہ رب العزت عزوجل ان پررحمت بھری نظرفرماتاہے، ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ قرآن پاک پڑھتے وقت ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ جب کبھی وہ ایسی آیت کی تلاوت کرتے ہیں جس میں جنت کا تذکرہ ہوتا ہے تو ا س جنت کی محبت میں رونے لگتے ہیں اور جب ایسی آیت تلاوت کرتے ہیں جس میں جہنم کا تذکر ہ ہو تو جہنم کے خوف سے چیخنے لگتے ہیں ۔ایسا لگتا ہے جیسے وہ جہنم کی چنگھاڑ کو سن رہے ہیں اور آخرت بالکل ان کی نظرو ں کے سامنے ہے ۔
یہ پاکیزہ نوجوان اتنی کثرت سے نماز پڑھتے ہیں کہ زمین ان کی پیشانیوں اور گھٹنوں کو کھا گئی ہے (یعنی کثرتِ سجود کی وجہ سے ان کی نورانی پیشانیوں او رگھٹنوں پر داغ پڑگئے ہیں او رگو شت خشک ہوچکاہے )
شب بھر قیام کرنے او ر د ن بھر رو زہ رکھنے کی وجہ سے ان کے رنگ متغیر ہوگئے ہیں ،یہ لوگ موت کی تیاری میں مشغول ہیں اور ان کی یہ تیاری کتنی عظیم ہے او ران کی کوششیں کتنی عمدہ ہیں،ساری ساری رات رو کر گزار دیتے ہیں او راپنی آنکھوں سے نیند کو دو ر رکھتے ہیں ،ان کا دن اس حالت میں گزرتا ہے کہ یہ رو زہ رکھتے ہیں اورآخرت کی فکر میں غمگین رہتے ہیں، انہیں ہر وقت غمِ آخرت لاحق رہتا ہے ۔جب کبھی ان کے سامنے دنیا کا تذکرہ ہوتا ہے تو ان کی دنیا سے بے رغبتی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کی حقیقت کو جانتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے ۔ پھر جب کبھی ان کے سامنے آخرت کا تذکرہ ہوتا ہے تو آخرت کی طر ف انہیں مزید رغبت پیدا ہوتی ہے کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ دنیا ان کی نظروں میں بہت حقیر ہے اوریہ اس سے شدید نفرت کرتے ہیں ۔
ان کے نزدیک دُنیوی زندگی مصیبت ہے کیونکہ اس میں فتنے ہی فتنے ہیں اور راہِ خد ا عزوجل میں شہید ہونا انہیں بہت زیادہ محبوب ہے کیونکہ انہیں اللہ عزوجل کی ذات سے اُمید ہے کہ شہادت کے بعد راحت وآرام اور عیش و عشرت کی زندگی ہے۔ یہ کبھی بھی نہیں ہنستے ،یہ ا پنے لئے نیک اعمال کا ذخیرہ اکٹھا کررہے ہیں کیونکہ انہیں آخرت کی ہولنا کیوں کا اندازہ ہے ۔
جہاد کااعلان سن کریہ فورا ًاپنی سواریوں پر بیٹھتے ہیں ، اور میدان کا رزار کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں گویا پہلے ہی سے انہوں نے اپنے آپ کو جہاد کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ پھر جب صف بندی ہوتی ہے اور لشکر آپس میں ملتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ دشمنوں کی طر ف سے نیز ہ بازی شرو ع ہوگئی ہے، تیر برسنے لگے ہیں، تلواریں آپس میں ٹکرانے لگی ہیں ، ہر طرف موت کی گرج سنائی دے رہی ہے اور لاشیں گر رہی ہیں تو یہ لوگ موت کی گر جتی ہوئی آواز سے نہیں ڈرتے بلکہ میدانِ کا ر زار میں بے دھڑک مردانہ وار کو د پڑتے ہیں اور انہیں موت سے بالکل ڈر نہیں لگتا بلکہ انہیں تو اللہ عزوجل کے عذاب کا خوف دامن گیر رہتا ہے۔
یہ بے خوف وخطر دشمن پر جھپٹ پڑتے ہیں اور لڑتے لڑتے ان میں سے بعض کے سر تَن سے جدا ہوجاتے ہیں اور ان کے گھوڑے لشکروں میں گم ہوجاتے ہیں ان کی لاشوں کو گھوڑوں کے سُموں سے روند ھ دیا جاتا ہے پھر جب جنگ ختم ہوجاتی ہے اور لشکر واپس چلے جاتے ہیں تو ان میں سے جن کی لاشیں میدانِ جنگ میں باقی رہ جاتی ہیں ان پردرندے اور آسمانی پرندے ٹوٹ پڑتے ہیں او رانہیں کھاجاتے ہیں یہ عظیم لوگ بالآخراپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں۔
یہ لوگ خوش بخت اور کامیاب ہیں کیونکہ انہوں نے عظیم سعادت حاصل کرلی ہے او رجیسے ہی ان کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتا ہے فوراً ان کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں او ران کے جسم قبر میں پھٹنے اور گل سڑنے سے محفوظ ہیں پھر جب بر وزِ قیامت یہ اپنی قبر و ں سے نکلیں گے تو بہت زیادہ مسرو ر ہوں گے اور اپنی تلواروں کو لہراتے ہوئے میدان حشر کی طرف جائیں گے او ر یہ اس حال میں وہاں پہنچیں گے کہ عذاب سے نجات پاچکے ہوں گے۔ انہیں حساب وکتاب کے سخت مرحلے سے بھی نہیں گزرنا پڑے گا اور بغیر حسا ب وکتاب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔
وہ جنت کتنی عظیم ہے جہاں ان عظیم لوگو ں کی مہمان نوازی ہوگی اورو ہ نعمتیں کیسی دائمی اور عظیم ہیں جن کی طرف انہوں نے سبقت کی ۔
اب جنت میں ان پر نہ تو کوئی مصیبت نازل ہوگی، نہ ہی انہیں آفات وبلیّات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ جنت میں اَمن وسکون کے ساتھ رہیں گے پھر ان کا نکاح حور عین سے کیا جائے گا(جو جنت کی سب سے حسین حوریں ہیں )، ان کی خدمت کے لئے ہر وقت خُدام حاضر ہوں گے جو ان کے بلانے سے پہلے ہی ان کے پاس پہنچ جائیں گے ، وہاں کی نعمتیں ایسی دائمی نعمتیں ہیں کہ جو شخص ان کی معرفت حاصل کرلے وہ ہر وقت ان کی طلب میں لگا رہے ۔
اے لوگو!اگر تم موت کو ہر وقت پیش نظر رکھو گے او راپنی اَصلی منزل (جنت)کو یاد رکھوگے تو پھر کبھی بھی تمہیں نیک اعمال میں سستی نہ ہوگی اور نہ ہی تم دنیا کے دھوکے میں پڑوگے۔”
؎ کچھ نیکیاں کما لے جلدآخرت بنالے کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا
(اے میرے اللہ عزوجل ! ہمیں بھی ان عظیم نوجوانوں جیسی صفات سے متصف فرمااور ان کے جذبہ عبادت و ریاضت میں سے ہمیں بھی کچھ حصہ عطا فرما،جس طرح ان کی نظروں میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں اسی طر ح ہمیں بھی دنیا سے بے رغبتی عطا فرما اور ہر وقت ہمیں اپنی یاداو راپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جلوؤں میں گم رکھ۔
اے اللہ عزوجل !ہمیں ایسا جذبہ عطا فرما دے کہ ہم ہر وقت اپنا مال اپنی جان او راپنی تمام چیزیں تیرے نام پر قربان کرنے کے لئے تیار رہیں، ہمیں شہادت کی دولت عطا فرما اور کثرت عبادت کی تو فیق دے۔ ہمارے تمام اعضاء کو گناہوں سے محفو ظ رکھ اور ہمیں جنت الفردوس میں ہمارے پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے پڑوس میں جگہ عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
؎ جنت میں آقا کا پڑو سی بن جائے عطّار،ؔ الٰہی (عزوجل ) بہرِ رضا اور قطبِ مدینہ یا اللہ میری جھولی بھردے (عزوجل )

مردہ سنت اور گمراہی کی بدعت

حدیث نمبر :166

روایت ہے حضرت بلال ابن حارث مزنی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو میری مردہ سنت کو جو میرے بعد فنا کردی گئی زندہ کرے ۲؎ اسے ان تمام کی برابر ثواب ہوگا جو اس پر عمل کریں اس کے بغیر کہ ان عاملوں کے ثواب سے کچھ کم ہو۳؎ اور جو گمراہی کی بدعت ایجاد کرے جس سے اﷲ رسول راضی نہیں ۴؎ اس پر ان سب کی برابر گناہ ہوگا جو اس پر عامل ہوں اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا اسے ترمذی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ آ پ صحابی ہیں، ۵ ھ؁ میں وفد مدینہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے،۸۰سال کی عمر پاکر ۶۰ ھ؁ میں وفات پائی،مدینہ منورہ کے پاس مقام ستغری میں قیام تھا۔

۲؎ یعنی جس سنت کو لوگوں نے چھوڑ دیا ہو اس پر خود بھی عمل کرے اور دوسرے کو بھی عمل کی رغبت دلائے جیسے زمانۂ موجودہ ہیں داڑھی رکھنا۔

۳؎ کیونکہ یہ اﷲ کا بندہ اس سنت کے زندہ کرنے میں لوگوں کے طعنے اور مذاق برداشت کرتا ہے،سنت کی خاطرسب سختیاں جھیلتا ہے،لہذا بڑا غازی ہے۔جو بھلائی کے موجد کو ثواب ملتا ہے وہی بھلائی کے پھیلانے والے کو۔

۴؎ یہاں بدعت موصوف ہے اور ضلالت صفت اور جب نکرہ نکرے کی صفت ہو تو تخصیص کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔یہاں ضلالت کی قید بدعت حسنہ کو نکالنے کے لیئے ہے۔(مرقاۃ)یعنی بری بدعتوں کا موجد مجرم ہے جیسے اردو میں نماز و اذان یا اور تمام خلاف سنت کام۔اور اچھی بدعتوں کا موجد ثواب کا مستحق ہے جیسے علم صرف ونحو کے موجد،اسلامی مدرسے،عرس بزرگان،میلاد شریف اور گیارہویں شریف اور گیارہویں شریف کی مجالس کے موجد،اس کی بحث پہلےگزر چکی یہ حدیث تقسیم بدعت کی اصل ہے اس کا ذکر”کتاب العلم” میں بھی آئے گا۔

حدیث نمبر :167

اور ابن ماجہ نے کثیر ابن عبداللہ ابن عمرو سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ۱؎

شرح

۱؎ کثیر ابن عمرو باتفاق راوی ضعیف ہے،امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ بہت جھوٹا آدمی تھا اس کے دادا عمرو ابن عوف صحابی ہیں،قدیم الاسلام ہیں انہی کے بارے میں یہ آیتِ کریمہ اتری”تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ "آپ مدینہ منورہ میں رہے اورحضرت امیرمعاویہ کے زمانہ میں وفات پائی،جنگ بدر میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے۔

میت کو دھوکا

میت کو دھوکا !!

ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔

ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﭽﮯ، ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮧ، ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ دیکھ رہے ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ کر امام صاحب سمجھ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﮬﮯ۔

تو امام صاحب فرمانے لگے کہ "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ؟”

ﺳﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﮧ ﭼﻮﻧﮏ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ.

ﺳﺐ ﮐﻮ ﭼﭗ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﻠﺐ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻓﻮﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ۔

ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﻥ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻏﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ؟”

ﺍﻧﮑﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﮩﺬﺍ ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ..

ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔” ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ،

ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮬﮯ؟

ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ؟

ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ،

"ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮬﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﻼ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﮧ ﮬﻮﮞ؟

ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺳﮕﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟

ﮐﺰﻥ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻃﻨﺰ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ۔ ﺟﺲ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﺁﮐﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﮬﻢ ﺁ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﮐﮧ ﮬﻢ ﮬﯿﮟ ﻧﺎﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺸﻦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ۔

ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﻨﮕﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﺩﻭﮬﮍﮮ ﻣﺎﮨﯿﮯ، ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻏﺰﻟﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﭼﻨﺪ ﺁﯾﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ۔

ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮬﻢ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺗﮯ، ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﺮﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔”

ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺷﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﮭﮑﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ، "ﺧﺪﺍﺭﺍ۔۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﮬﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﮟ ﺳﮑﯿﮟ.. ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕِ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻓﻘﻂ ﺁﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔۔

” ﺩﺭﺱ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﺐ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﮬﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔۔ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ!

ﮬﺎﮞ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ ……💞

مرد اور انگوٹھی

فہم الحدیث

 صدر الشریعہ علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ

1۔ حدیث شریف: صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی تھا۔

2۔ حدیث شریف: صحیح مسلم میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے اس میں یا اس میں بعض بیچ والی میں یا کلمہ کی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے مجھے منع فرمایا۔

3۔ حدیث شریف: ابو دائود و نسائی نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے دائیں ہاتھ میں ریشم لیا اور بائیں ہاتھ میں سونا۔ پھر یہ فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔

4۔ حدیث شریف: صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس کو اتار کر پھینک دیا اور یہ فرمایا کہ کیا کوئی اپنے ہاتھ میں انگارہ رکھتا ہے۔ جب حضورﷺ تشریف لے گئے ‘ کسی نے ان سے کہا کہ اپنی انگوٹھی اٹھالو اور کسی کام میں لانا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم میں اسے کبھی نہ لوں گا جب رسول اﷲﷺ نے اسے پھینک دیا۔

مسئلہ: مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے۔ صرف چاندی کی ایک انگوٹھی کا پہننا جائز ہے جس کا وزن ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو (درمختار‘ ردالمحتار‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)

فائدہ: جو لوگ بھاری وزن والی بڑی بڑی چاندی کی انگوٹھی پہنتے ہیں جس کا وزن ساڑھے چار ماشہ سے زیادہ ہوتا ہے وہ ایسی انگوٹھی پہننا ترک کردیں کیونکہ یہ جائز نہیں ہے۔

مسئلہ: سونے کی انگوٹھی پہنا حرام ہے (درمختار‘ ردالمحتار‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)

فائدہ: آج کل نوجوانوں کو دیکھا گیا ہے کہ منگنی‘ شادی اور دیگر مواقع پر سونے کی انگوٹھی بطور فیشن پہنتے ہیں۔ انکو سونے کی انگوٹھی پہننے سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ مرد کے لئے سونے کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔

مسئلہ: انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے۔ دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔ مثلا لوہا‘ پیتل‘ تانبا‘ جست وغیرہ ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مرد عورت دونوں کے لئے ناجائزہیں۔ فرق اتنا ہے کہ عورت سونا پہن سکتی ہے اور مرد نہیں پہن سکتا۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص کو حضورﷺ کی خدمت میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے فرمایا کیا بات ہے تم سے بت کی بوآتی ہے۔ انہوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی پھر دوسرے دن لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے۔ فرمایا کیا بات ہے کہ تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھتا ہوں۔ انہوں نے اس کو بھی اتار دیا اور عرض کی یارسول اﷲﷺ کس چیز کی انگوٹھی بنائوں۔ فرمایا کہ چاندی کی اور اس کو ایک مثقال پورا نہ کرنا (یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو) (درمختار‘ ردالمحتار‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)

مسئلہ: انگوٹھی انہی کے لئے مسنون ہے جن کو مہر لگانے کی حاجت ہوتی ہے جیسے سلطان و قاضی اور علماء جو فتوے پر مہر لگاتے ہیں ان کے سوا دوسروں کے لئے جن کو مہر لگانے کی حاجت نہ ہو‘ مسنون نہیں مگر پہننا جائز ہے ۔(عالمگیری‘ بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 732‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)

مسئلہ: مرد کو چاہئے کہ اگر انگوٹھی پہنے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھے اور عورتیں نگینہ ہاتھ کی پشت کی طرف رکھیں کہ عورت کا پہننا تو زینت کے لئے ہے اور زینت اسی صورت میں زیادہ ہے کہ نگینہ باہر کی جانب رہے (ہدایہ‘ بہار شریعت جلد شانزدھم جلد دوم ص 732‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)

مسئلہ: انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو۔ ایک سے زائد نگینے ہوں اگرچہ چاندی کی انگوٹھی ہو‘ ناجائز ہے (ردالمحتار‘بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم ص 731‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)

مسئلہ: مردوں کے لئے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہیں۔ عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں (بہار شریعت حصہ شانزدھم جلد دوم صفحہ نمبر 732 مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور)

فائدہ: بعض حضرات مزارات پر حاضری کے موقع پر وہاں پر موجود اسٹالوں سے چھلے اور پیتل اور لوہے کے کڑے خرید کر پہنتے ہیں پھر اس کو صاحب مزار کی جانب منسوب کرکے کہتے ہیں کہ یہ بغداد کا چھلا ہے۔ یہ اجمیر شریف کا چھلا اور کڑا ہے۔ یہ بری امام کا چھلا اور کڑاہے۔ یاد رکھئے چھلا اور کڑا کسی بھی جگہ کا ہو چاہے مکہ اور مدینہ کا ہی کیوں نہ ہونا جائز ہے اسے پہن کر نماز بھی نہ پڑھی جائے۔