بکری کا زہر آلودہ گوشت

حدیث نمبر :122

روایت ہے حضرت اُم سلمہ سے ۱؎ انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اﷲ آپ کو ہرسال اس زہریلی بکری کی تکلیف ہوتی ہے جو آپ نے(خیبرمیں)کھالی تھی ۲؎ فرمایا مجھے اس کے سوا کچھ نہیں پہنچی جو میرے مقدر میں اس وقت لکھ دی گئی جب حضرت آدم اپنے خمیر میں تھے ۳؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ آپ کا نام ہند بنتِ ابی اُمیہ ہے،پہلے ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں، ۴ھ؁ میں بیوہ ہوئیں اسی ۴ھ ؁ اواخرماہ شوال میں حضور کے نکاح میں آئیں، ۵۹ھ؁ میں مدینہ پاک میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں دفن ہوئیں،۸۴سال عمر ہوئی،بہت صحابہ اور تابعین نے آپ سے احادیث روایت کیں۔

۲؎ کہ ایک یہودیہ نے خیبر میں دھوکہ سے بکری کا زہر آلودہ گوشت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کوکھلادیاتھا بعض صحابہ نے بھی کھالیا جو شہید ہوگئے،خدا کے فضل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ رہے مگر ہرسال زہر کی تکلیف عود کرتی تھی حتّٰی کہ وفات کے وقت بھی اس زہر کا اثر نمودار ہوگیا تھا۔ان شاءاﷲ اس کا مفصل ذکر "باب المعجزات”میں آئے گا۔

۳؎ لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر ہم خیبر نہ جاتے تو زہر نہ کھاتے خیبر جانا وہاں زہر کھالینا سب کچھ لکھا جاچکا تھا۔

جبلی عادت

حدیث نمبر :121

روایت ہے حضرت ابودراء سے فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے اور جو کچھ ہوتا ہے اس کا تذکرہ کررہے تھے ۱؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا تو مان لو اور اگر یہ سنو کہ کوئی آدمی جبلی عادت سے بدل گیا تو نہ مانو وہ پھر اسی طرف لوٹ جائے گا جس پر پیدا ہوا ۲؎ (احمد)

شرح

۱؎ کہ واقعاتِ عالم گذشتہ فیصلے کے مطابق ہورہے ہیں یا اتفاقًا مگر یہ تذکرہ مناظرانہ رنگ میں نہ تھا بلکہ تحقیق کے لیئے اسی لیئے حضور اکرم سنتے رہے منع نہ فرمایا بلکہ ایک مسئلے کی وہ تحقیق فرمادی۔معلوم ہو اکہ علمِ کلام پڑھنا ممنوع نہیں،مسئلۂ تقدیر میں جھگڑنا منع ہے جیساکہ گزشتہ احادیث سےمعلوم ہوا۔

۲؎ خلاصۂ مسئلہ یہ ہوا کہ واقعاتِ عالم گذشتہ فیصلے کے مطابق ہو رہے ہیں،اور وہ فیصلے اٹل ہیں جن کی تبدیلی ناممکن ہے۔خیال رہے کہ انسان کی دو حالتیں ہیں ذاتی اور وصفی،وصفی حالات دن رات دن بدلتے رہتے ہیں۔کافر مؤمن بن جاتے ہیں،فاسق متقی،بخیل سخی ہوجاتے ہیں،بزدل بہادر،کبھی بزرگوں کی صحبت سے،کبھی علم کی برکت سے،کبھی یوں ہی محض رب کی قدرت سے،مگر اصلی حالت کبھی نہیں بدل سکتی اگر کبھی عارضی طور پر بدل بھی گئی تو اسے بقا نہ ہوگا آگ پر پانی گرم ہوجاتا ہے مگر وہاں سے ہٹتے ہی پھر ٹھنڈا ہو جاتا ہے یہاں اصلی حالت کا ذکرہے۔اور جبلّت سے وہ خصلت مراد ہے جو علم الٰہی میں آچکی جس میں تغیروتبدل نا ممکن ہے۔

عہد میثاق

حدیث نمبر :120

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے رب تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق جب آپ کے رب نے آدم کی پشت سے ان کی اولاد نکالی فرمایا انہیں جمع کیا انہیں جوڑے بنایا ۱؎ پھر انہیں صورت وگویائی دی ۲؎ تو وہ وہ بولے پھر ان سے عہد میثاق لیا اور انہیں خود انکی ذات پر گواہ بنایا۳؎ کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں بولے ہاں فرمایا میں تم پر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اور تمہارے والد آدم کو گواہ بناتا ہوں ۴؎ کہیں قیامت میں کہہ دو کہ ہم کو خبر نہ تھی جان لو میرے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا ۵؎ عنقریب تم تک اپنے پیغمبر بھیجوں گا جو تمہیں میرا عہد میثاق یاد دلائیں گے ۶؎ اور تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا ۷؎ بولے ہم اس کے گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہمارا معبود ہے تیرے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے نہ معبود ۸؎ پھر سب نے اس کا اقرار کیا ان پر آدم علیہ السلام کو انہیں دیکھنے کے لیے اٹھایا گیا ۹؎ تو آپ نے امیرفقیرحسین وغیرہ دیکھے ۱۰؎ تو عرض کیا اے رب تو نے اپنے بندوں میں برابری کیوں نہ کی فرمایا میں نے چاہا کہ شکر کیا جاؤں ۱۱؎ ان میں نبیوں کو چراغوں کی طرح دیکھا جن پر نور تھا۲؎۱ ان سے دوسرا خصوصی عہد رسالت اور نبوت کےمتعلق لیا گیا وہ رب تعالٰی کا یہ فرمان ہے اور جب ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا الخ عیسیٰ ابن مریم کےقول تک۱۳؎ حضرت عیسیٰ بھی ان روحوں میں تھے انہیں بی بی مریم کی طرف بھیجا ابی سے خبر ملی کہ آپ حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئے۱۴؎ (احمد)

شرح

۱؎ یعنی نر اور مادہ یا ان کی علیحدہ قسمیں کیں کافر،مؤمن ،منافق سب الگ الگ۔

۲؎ یعنی جس شکل و صورت پر دنیا میں ہوں گے وہی شکل انہیں دی گئی یا کافر کالے مؤمن سفید اور انبیاء نورانی بنائے گئے آدم علیہ السلام کی پہچان کے لیے۔

۳؎ ایک کو دوسرے پر گواہ یا ہر ایک کے اعضا کو اس کے نفس پر گواہ۔

۴؎ یعنی آسمان و زمین کی مخلو ق کو یا خود آسمان و زمین کو دوسرے معنے زیادہ قوی ہیں کیونکہ اُن میں سے ہر چیز میں سمجھ بوجھ ہے۔اب دریاؤں کے قطرے،زمین کے ذرے نیک و بد کو پہچانتے ہیں،قیامت میں زمین لوگوں کے اعمال کی گواہی دے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ سارے انبیاء خصوصًا آدم علیہ السلام اپنی اولاد کے اعمال کی قیامت میں گواہی دیں گے،پتہ لگا کہ وہ حضرات ہماری ہر حرکت پر مطلع ہیں اس حدیث کی تفسیر وہ آیت ہے:”وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا”۔

۵؎ یعنی تمہارے لیے قیامت میں کوئی عذرباقی نہ چھوڑا تمہارے اس اقرار کے بھی صدہا گواہ ہیں اور دنیا کے سارے اعمال کےبھی بہت گواہ ہوں گے اب تم نہ یہ کرسکو گے کہ ہمیں یہ اقرار یاد نہ رہا تھا،نہ یہ کہ ہمیں خبر نہ تھی کہ ہماری ڈائری لکھی جارہی ہے اور انبیائے کرام زمین آسمان ہماے اعمال کو دیکھ کر ہمارے گواہ بن رہے ہیں۔

۶؎ رب نے اپنا وعدہ پورا فرمادیا کہ از آدم علیہ السلام تا روزِقیامت دنیا ایک آن نبوت سے خالی نہ رہی۔خیال رہے کہ زمانۂ نبی اور ہے زمانۂ نبوت کچھ اور پیغمبر کی ظاہری زندگی کا زمانہ،زمانۂ نبی ہے اور ان کے دین کی بقاء کا زمانہ،زمانۂ نبوت ہے چنانچہ قیامت تک ہمارے حضور علیہ السلام کا زمانہ ہے۔

۷؎ انبیائے کرام کے ذریعے سے،یہاں کتب سے مراد کلامِ الٰہی ہے خواہ صحیفے ہوں یا باقاعدہ کتابیں،چنانچہ آسمان سے سو۱۰۰صحیفے آئے اور چار کتابیں اور کوئی زمانہ کلام الٰہی سے بھی خالی نہ رہا،کس نبی پر کتنے صحیفے نازل ہوئے،یہ ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھیئے۔

۸؎ مرقات میں فرمایا کہ یہاں شہادت بمعنے علم ہے یعنی ہم نے مشاہدے سے تیری ربوبیت اور معبودیت جان پہچان لی یا بمعنے گواہی یعنی ہم ایک دوسرے کے اس اقرارِ توحید پر گواہ بن گئے۔

۹؎ اس طرح کی آدم علیہ السلام نے اونچے مقام پر کھڑے ہوکر ان سب کو جھانک کر دیکھا اور ایک ایک کو پہچان لیا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام اپنی ساری اولاد کو جانتے پہچانتے ہیں،پھر ہمارے حضور کے علم کا کیا پوچھنا،حضرت آدم کا علم علمِ مصطفوی کے سمندر کا قطرہ ہے۔

۱۰؎ غنی و فقیر سے مال،اعمال،ایمان سب کے غنی فقیر مراد ہیں یعنی آپ نے دل کے غنی و فقیر، کافر،متقی فاجر اور مال کے غنی و فقیر،مالدار و محتاج،شاہ و گدا،ایسے ہی خوبصورت اور بدصورت دیکھ لیئے۔(مرقاۃ)خیال رہے کہ غنا اور فقر دل کے اوصاف ہیں،حسن و جمال صورت کے حالات،اﷲ تعالٰی نے اس دن تمام کی صورتوں پر ظاہری و باطنی حالات نمودار کردیئے تھے جس سے آدم علیہ السلام بے تکلف ہر شخص کے ہر حال کو ملاحظہ فرمارہے تھے۔خیال رہے کہ حضور اس سے پہلے ہی یہ سب کچھ مشاہدہ فرماچکے تھےجیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے۔کیوں نہ ہوتا کہ حضور علیہ السلام اﷲ تعالٰی کے گواہ اعظم اور ساری مخلوق کے شاہد اکبر ہیں۔

۱۱؎ یعنی لوگوں کے حالات کا اختلاف ان کی شاکریت اور میری شکوریت کا ذریعہ ہے اس طرح کہ ہر شخص کو اپنے سے ادنی کو دیکھ کر میرا شکر کرے کہ خدایا تیرا شکر ہے میں اس سے بہتر ہوں،مثلًا غنی فقیر کی محتاجی کو دیکھ کر سجدہ شکر کرے اور فقیر غنی کے الجھاوے زیادتی حساب میں غور کرے توشکر کرے۔ایسے ہی حسین بدصورت کی قباحت کو دیکھ کر شکرکرے اور بدصورت حسن کی بلاؤں کو دیکھ کر حسن نہ ملنے پر شکر کرے،بادشاہ رعایا کی دست نگری کو دیکھے شکر کرے۔اور رعایا بادشاہ کی فکروں،محنتوں وغیرہ مصائب کو دیکھ کر شکر کرے،شکر اعلٰی درجے کی عبادت بلکہ ساری عبادات کی اصل ہے۔

۱۲؎ نبی رسول سے عام ہے جس پر وحی آئے وہ نبی اور جن کو تبلیغ کا بھی حکم ہو وہ رسول،جو نبی شریعت بھی رکھتے ہوں وہ مرسل،نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں،رسول ۳۱۳،مرسل ۴ ہر رسول نبی ہے اس کا عکس نہیں،آدم علیہ السلام نے تمام انبیاء کو ان کی شانوں اور کمالوں کے ساتھ دیکھا،بعض مثل چراغوں کے،بعض لالٹین،بعض گیس،بعض بجلی،بعض چاند اور ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورج کی طرح تھے،کسی کی روشنی چاند کی طر ح جمالی تھی اور کسی کی دھوپ کی طرح جلالی،سُرُج ان سب کو شامل ہے۔

۱۳؎ انبیائے کرام سے خصوصی عہد دولیے گئے تھے:ایک ادائے رسالت اور تبلیغ نبوت کا عہد،اس عہد میں ہمارے حضور بھی شامل تھے اس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے۔اور دوسرا نبی آخر الزمان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا،اس میں ہمارے حضور شامل نہ تھے سب سے پہلے ہمارے حضور پر ایمان لانے کا معاہدہ لیا گیا اس کا ذکر اس آیت میں ہے "ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ "الایہ۔

۱۴؎ یعنی تمام روحیں اپنے باپوں کی پشتوں میں واپس گئیں مگر عیسیٰ علیہ السلام کی روح حضرت مریم کے شکم میں آپ کی منہ شریف کے راستے داخل ہوئی کیونکہ آپ کی ولادت بغیر والد کے ہونے والی تھی۔

نعمان پہاڑ یعنی عرفات میں عہد لیا

حدیث نمبر :119

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں اﷲ تعالٰی نے پشت آدم سے نعمان یعنی عرفات میں عہد لیا ۱؎ اس طرح کہ ان کی پشت سے ساری اولاد نکالی انہیں حضرت آدم کے ساتھ چیونٹیوں کی طرح بکھیردیا ۲؎ پھر ان کے آمنے سامنے گفتگو فرمائی فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب بولے ہاں ہم گواہ ہیں۳؎ کہ کہیں قیامت کے دن یہ کہہ دو کہ ہم اس سے غافل تھے یا کہہ دو کہ شرک تو صرف ہمارے باپ دادوں نے کیا ہم تو ان کے بعد کی پیداوار تھے تو کیا تو ہم کو جھوٹوں کے جرموں سے ہلاک فرماتا ہے۴؎ (احمد)

شرح

۱؎ نعمان پہاڑ مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان سے شروع ہوکر عرفات تک پہنچتا ہے اس پہاڑ پر یہ واقعہ ہوا لہذا یہ حدیث بھی درست ہے کہ عرفات میں یہ عہد لیا گیا اور یہ بھی کہ طائف کے قریب لیا گیا۔

۲؎ تاکہ آدم علیہ السلام سب کو جان پہچان لیں اور یہ معاہدہ سن لیں اور دیکھ لیں۔

۳؎ رب اور بندوں کی یہ گفتگو بلاواسطہ اس طرح ہوئی کہ بندوں نے رب کو دیکھا جیسا کہ”قُبُلًا "سےمعلوم ہوا،یہ اقرارِ ربوبیت سارے بندوں سے لیا گیا جن میں انبیاء،اولیاء،مؤمن ین،کفار سب شامل تھے۔حضور علیہ السلام کی اتباع کا عہد صرف انبیاء سے لیا گیا اور تبلیغ کا معاہدہ علمائے بنی اسرائیل سے،یہ تینوں عہد قرآن حکیم میں موجود ہیں۔

۴؎ یعنی توحید سے تمہیں یہاں خبردار کردیا گیا تم سے اس کا اقرار لیا گیا،اس کی یاد دہانی کے لئے انبیاء اور کتابیں بھیجی جائیں گی،لہذا اب کوئی بھی معذور نہ ہوگا۔اس سےمعلوم ہوا کہ عقیدۂ توحید ہرشخص پر لازم ہے اور کفّار کے چھوٹے فوت شدہ بچے دوزخی نہیں۔

بیمار پُرسی

حدیث نمبر :118

روایت ہےحضرت ابی نضرہ سے ۱؎ کہ حضور کے صحابہ میں سے ایک صاحب جنہیں ابوعبداﷲ کہا جاتا تھا ان کی بیمار پُرسی کے لیئے ان کے دوست گئے وہ رو رہے تھے۲؎ تو یہ حضرات بولے کیوں روتے ہو؟کیا تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا تھا اپنی مونچھیں کٹواؤ پھر اس کے پابند رہو یہاں تک کہ مجھے ملو۳؎ وہ بولے ہاں لیکن میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اﷲ عزوجل نے اپنے داہنے ہاتھ میں ایک مٹھی لی اور دوسری دوسرے ہاتھ میں۴؎ اور فرمایا کہ یہ اس کے لیئے ہے اور یہ اس کے لیئے۵؎ اور مجھے پروا ہ نہیں اور مجھے خبر نہیں کہ میں کون سی مٹھی میں تھا۶؎(احمد)

شرح

۱؎ آپ نضرہ ابن منذر ابن مالک جوہدی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،خواجہ حسن بصری سے کچھ پہلے بصرہ میں ہوئے، ۱۰۷ھ؁ میں وہیں وفات پائی۔

۲؎ موت کے خوف یا بیماری کی تکلیف سے نہیں بلکہ خوفِ خدا سے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے اس وقت یہ حالت اﷲ کی خاص رحمت ہے ان صحابی کا نام معلوم نہ ہوسکا،ظاہر ہے کہ عیادت کرنے والے حضرات صحابہ کرام بھی تھے اور تابعین بھی۔

۳؎ یعنی اے صحابی رسول تمہیں آیندہ کا کیا کھٹکا ہے،تمہیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے دو خوشخبریاں دے دی ہیں ایک یہ کہ تم جنتی ہو،دوسرے یہ کہ تم جنت میں حضور کے قرب کے مستحق ہو۔خیال رہے کہ داڑھی بڑھانا اور مونچھ کتروانااتنا کہ اوپر کے ہونٹ کا سارا کنارہ کھل جائے سنت مؤکّدہ بلکہ واجب ہے اور اس کی پابندی جنتی ہونے اور حضور کے قرب ملنے کا ذریعہ ہے جیسے کہ ترک سُنت کی عادت حضور علیہ السلام سے دوری کا سبب ہے۔

۴؎ دستِ قدرت کی ان مٹھیوں میں انسانوں کی روحیں تھیں،یہ حدیث متشابہات میں سے ہے،رب تعالٰی مٹھی کے ظاہر معنے سے پاک ہے۔

۵؎ یعنی داہنی مٹھی والے جنت کے لیے ہیں،اور بائیں والے دوزخ کے لیے۔

۶؎ داہنی میں یا بائیں میں لہذا میں جنتی ہوں یا دوزخی،یہاں علم کی نفی نہیں،بلکہ درایت کی نفی ہے۔درایت اٹکل اور قیاس سے جاننے کو کہتے ہیں۔حضور کی بشارت سے ان کو اپنے جنتی ہونے کا علم یقینی حاصل ہوچکا تھا۔آج صدیق اور فاروق کے جنتی ہونے پر ہمارا ایمان ہے،جو ان کے جنتی ہونے میں شک کرے وہ بے ایمان ہے۔آپ کے جواب کا مقصد یہ ہے کہ اس مٹھیوں والی حدیث میرے سامنے ہونے کی وجہ سے میری نظر اس بشارت پر رہی ہی نہ تھی اس لیے میں رو رہا تھا۔خیال رہے کہ ان صحابہ کا یا خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف،خوفِ جلال ہے نہ کہ خوفِ عتاب،انہیں خدا کے وعدوں پر بے اعتباری نہ تھی جیسے وزیر اعظم کو دربارِ شاہی کی ہیبت ہوتی ہے،جو خدا کے وعدوں پر اعتماد نہ کرے وہ کافر ہے خوفِ جلال قوتِ ایمان کی دلیل ہے،موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے ایذاء کا خوف تھا ا گرچہ رب نے اُن کی حفاظت کا وعدہ فرمالیا تھا لہذا اس حدیث سے مسئلۂ امکانِ کذب ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا۔

آدم علیہ السلام کی پشت میں تمام انسانوں کی روحیں

حدیث نمبر :117

روایت ہے حضرت ابودرداء سے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا جب اﷲ نے آدم کو پیدا کیا تو انکے داہنے کندھے پر دستِ قدرت لگایا جس سے سفید رنگ کی اولاد چیونٹیوں کی طرح نکالی اور ان کے بائیں کندھے پر مارا تو کالی اولاد کوئلے کی طرح نکالی ۱؎پھر داہنے والوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جنت کی طرف ہیں مجھے پرواہ نہیں بائیں کندھے والوں کے متعلق فرمایا یہ دوزخ کی طرف ہیں مجھے پرواہ نہیں۔۲؎ (احمد)

شرح

۱؎ یہ واقعہ کئی بار ہوا ایک بار میں ساری ذریت کی پیشانی میں نو ر فطری کی چمک تھی اس بار کفار بالکل سیاہ تھے اورمؤمن سفید،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقاۃ)ان کے دل کا حال چہروں پر نمودار تھا ایسا ہی قیامت میں ہوگا کہ کفار کالے اور مؤمن سفید ہوں گے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ آدم علیہ السلام کی پشت میں تمام انسانوں کی روحیں اور اجزاءاصلیہ موجود تھے۔داہنی طرف مؤمن وں کے اور بائیں طرف کافروں کے۔دوسرے یہ کہ آدم علیہ السلام کو تمام جنتیوں اور دوزخیوں کا علم دیا گیا۔

۲؎ یعنی مخلوق کے جنتی ہونے سے ہمارا کچھ نفع نہیں اور جہنمی ہونے سے کچھ نقصان نہیں خود ان کا ہی نفع نقصان ہے۔نیز اﷲ تعالٰی پر کوئی چیز واجب نہیں نہ اس سے کوئی پوچھ گچھ کرسکتا ہے۔

جب اﷲ نے حضرت آدم کو پیدا کیا

حدیث نمبر :116

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب اﷲ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے تاقیامت ان کی اولاد کی روحیں نکلیں جنہیں اﷲ پیدافرمانے والا ہے اور ان میں سے ہرانسان کی دو آنکھوں کے بیچ نور کی چمک دی ۱؎ پھر انہیں آدم پر پیش فرمایا وہ بولے اے رب یہ کون ہیں فرمایاتمہاری اولاد۲؎ ان میں ایک شخص کو دیکھاتو ان کی آنکھوں کے درمیان کی چمک پسند آئی ۳؎ بولے اے رب یہ کون ہے فرمایا حضرت داؤد بولے اے رب ان کی عمرکتنی مقرر فرمائی ہے فرمایا ساٹھ سال۴؎ عرض کیا مولا میری عمر میں سے چالیس سال انہیں بڑھادے ۵؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب آدم کی عمر ماسوائے چالیس سال پوری ہوئی تو ان کی خدمت میں فرشتہ موت حاضر ہوا ۶؎ آدم بولے کیا ابھی میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں فرمایا کہ وہ تم اپنے فرزند داؤد کو نہ دے چکے ۷؎ حضرت آدم انکاری ہوئے اس لئے انکی اولاد انکار کرنے لگی۸؎ حضرت آدم بھول کر درخت سے کھا گئے لہذا ان کی اولاد بھولنے لگی حضرت آدم نے خطا کی تو انکی اولاد خطائیں کرنے لگی ۹؎(ترمذی)

شرح

۱؎ فطری نوریعنی فطرۃ سلیمہ کا نور چہرے پرنمودار ہوا،خیال رہے کہ سقط یعنی گرا ہوا حمل اس میں داخل نہیں کیونکہ اس میں روح پھونکی ہی نہ گئی،جس بچہ میں روح پھونکی جائے وہ دکھایا گیا،یہ تمام کارروائی حضرت آدم کو مطلع فرمانے کے لئے کی گئی،رب تعالٰی تو ہمیشہ سےعلیم وخبیر ہے۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ ا لسلام نے اپنی ساری اولاد کو دیکھ بھی لیا،پہچان بھی لیا اور ا ن کے انجام سے اطلاع بھی پالی کہ فلاں جنتی ہے فلاں دزوخی ہے۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی چمکیں مختلف تھیں اور حضرت آدم کو داؤد علیہ السلام کی چمک پسند آنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کی چمک ہمارے حضور کی چمک سے زیادہ یا افضل ہو،حسن واقعی اور چیز ہے۔پسند آنا کچھ اور لیلےٰ سے بڑھ کرحسینہ اورعورتیں موجودگی تھیں مگر عاشق کی آنکھ میں وہی مرغوب تھی۔(اشعۃ اللمعات)

۴؎ معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی اپنے مقبولوں کو اپنے خاص علوم عطا فرماتا ہے کیونکہ مقدارعمرعلوم خمسہ میں سے ہے جو رب العالمین نےسیدنا آدم کے پوچھنے پر بتادی۔

۵؎ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزارسال تھی،آپ نے عرض کیا کہ میری عمر نو سو ساٹھ سال کردے اورداؤد علیہ السلام کی عمر پورے سو۱۰۰سال،یہ دعا رب نے قبول فرمالی۔معلوم ہوا کہ نبی کی دعا سے عمریں گھٹ بڑھ جاتی ہیں،ان کی شان تو بہت ارفع ہے شیطان کی دعا سے اس کی عمر بڑھ گئی کہ اُس نے عرض کیا تھا” اَنۡظِرْنِیۡۤ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ "رب تعالٰی نے اس کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا:”فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنۡظَرِیۡنَ "الآیہ”فَاِنَّکَ” کی ف سےمعلوم ہوتاہے کہ یہ زیادتی عمر اس کی دعا سے ہوئی،رہی وہی آیت کریمہ”اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَایَسْتَقْدِمُوۡنَ "وہ اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ آیت میں تقدیر مبرم یعنی علمِ الٰہی کا ذکر ہے،اور یہاں تقدیرمعلق کی تحریر کا ذکر یا آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے اختیار سے اپنی عمر کم و بیش نہیں کرسکتا،اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بندوں کی دعا سے عمریں رب گھٹا بڑھا دیتا ہے۔آخر عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ فرماتے تھے انہیں آپ کی دعا سے نئی عمریں مل جاتی تھیں سچ ہے دعا سے تقدیر پلٹ جاتی ہے۔

۶؎ یعنی جب آپ کے نو سو ساٹھ سال پورے ہوئے تو حضرت عزرائیل نے حاضر ہو کر آپ کو موت کا پیغام سنایا،معلوم ہوا کہ انبیاء کی وفات ہماری طرح جبرًا نہیں ہوتی،بلکہ فرشتۂ موت ظاہر ظہور خدمت میں حاضر ہوتےہیں اور ان کی اجازت سے جان قبض کرتے ہیں ان کی وفات اختیاری ہے۔

۷؎ معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام کو اپنی عمرمعلوم تھی کہ کل اتنی ہوگی یہ علوم خمسہ میں سے ہے یہ بھی معلوم ہوا انبیائے کرام کی وفات ان کی رضا سےسمجھا بجھا کر ہوتی ہے۔ہم سے ملک الموت کبھی حساب کتاب نہیں کرتے۔

۸؎ یعنی آدم علیہ السلام اپنا یہ عطیہ بھول گئے اس بنا پر کہا کہ مجھے اپنا یہ عطیہ دینا یاد نہیں،یاد کا انکار ہے نہ کہ دینے کا،رب کی خبر کا انکار کفر ہوجاتاہے لہذاحدیث پر کوئی اعتراض نہیں،انبیائے کرام کی بھول بھی رب کی طرف سے ہوتی ہے جس میں ہزارہاحکمتیں ہیں۔

۹؎ یعنی آدم علیہ السلام سے درخت کی تعیین میں اجتہادی خطا ہوئیں اورسمجھے کہ رب نے خاص اس درخت کے پھل سے منع فرمایا ہے اور میں دوسرے درخت سے پھل کھارہا ہوں حالانکہ ممانعت جنس درخت سے تھی۔(مرقاۃ)یا وہ سمجھے کہ مجھے کھانے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ قریب جانے سے کچھ بھی ہو،ہوا دھوکہ ہی،وہی خطا اورنسیان آج تک انسانوں میں چلی آرہی ہے۔اس حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پھر فیصلہ کیا ہوا ظاہر یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کو بھی ہزار سال عمر دی گئی اور داؤد علیہ السلام کو بھی سو۱۰۰ برس،آپ کی زبان خالی نہ گئی،اگر آدم علیہ السلام ویسے ہی فرمادیتے کہ مجھے ہزار سال دنیا میں اور رہنا ہے تو آپ کی بات مان لی جاتی،جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعہ سے معلوم ہوگا۔