کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ

کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ علما کے جذبات ٹھنڈے کردیے اور عوام کو نرم کردیا ۔

بہ قول سیداکبرالٰہ آبادی ؎

سر تراشا اُن کا ، کاٹا اِن کا پاؤں

وہ ہوئے ٹھنڈے ، گئے یہ بھی پگَھل

شیخ کو یَخ کردیا ، مومن کو موم۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں کی حالت گئی آخر بدَل !!

لفظِ شیخ تین حروف کا مجموعہ تھا ، اس کا سر کاٹا ( یعنی پہلا حرف شین مٹایا ) تو یہ یخ ہو گیا ۔

مطلب: موجودہ شیخ ، شیخ نہ رہا ، اس کی قائدانہ صلاحتیں ختم ہوگئیں ، مجاہدانہ جذبات یخ ٹھنڈے ہوگئے ، یہ بزدل بن گیا ۔

اور مومن چار حروف کامجموعہ تھا ، اس کا پاؤں کاٹا

( یعنی آخری حرف نون کاٹا ) تو پیچھے موم رہ گیا ۔

مطلب: بندۀ مومن کے دینی جذبات کو ” امن “ وغیرہ کے نام پر نرم کیا ، پھر انھیں پگھلا کر اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال دیا —

لقمان شاہد

20/2/2019 ء

سائنس و ٹیکنالوجی کا دوسرا رخ

*سائنس و ٹیکنالوجی کا دوسرا رخ*

*سید خالد جامعی صاحب*

عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی اور سائنس کی ایجادات نے دین پر عمل کو آسان کر دیا ہے حج کرنا عمرہ کرنا زیارتیں کرنا ایک دوسرے سے میل جول، عبادات میں سہولت سب کچھ ممکن ہوگیا ہے…

یہ تصویر کا صرف ایک رُخ ہے جس پر عالم اسلام کی اکثریت کو شدت سے اصرار ہے مگر اس تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے وہ یہ کہ

♥ آج سے چالیس سال پہلے کیا نیک سادہ زندگی بسر کرنا آسان تھا یا آج آسان ہے.

♥ کیا سائنس و ٹیکنالوجی کی بے تحاشہ ترقی کے باعث گناہ گار زندگی بسر کرنے کے مواقع ہر شخص کو ہر وقت میسر ہوگئے ہیں یا نیک زندگی کی خواہش نے ہر دل میں جگہ بنا لی ہے

♥ کیا آج گناہ سے بچنا ممکن ہے؟ بچنے کی شدید کوشش کے باوجود آپ کو گناہ سے گزرنا لازمی ہے ٹی وی انٹرنیٹ استعمال کرنے والے گناہگار نیکیوں کی فصلِ بہار سے خوب واقف ہوں گے. ایک ایسا نظام زندگی ترتیب دے دیا گیا ہے کہ ارتکاب گناہ کے بغیر نیک کام کرنا ممکن نہیں رہ گیا ہے.جب تک کاریں، اے سی، کولر، فریج، بوتلیں، فریزر نہیں تھے تو اکثر دین دار لوگ سنت پر عمل کرتے ہوئے پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے لیکن اب گھر میں کار میں دفتر میں اے سی ہے لیکن دیندار لوگ روزے نہیں رکھتے حالانکہ اب تو زیادہ روزے رکھنے چاہیں جب لوگوں کے پاس فون کار موٹر سائیکل نہیں تھی تو لوگ سال میں کئی بار قبرستان بھی جاتے تھے اور اپنے عزیزوں کے پاس بھی لیکن جب سے یہ سہولتیں حاصل ہوئی ہیں لوگ رشتہ داروں سے سالانہ ملاقات کرتے ہیں سال میں ایک بار قبرستان جاتے ہیں.جب تیز رفتار سواریاں نہیں تھیں تو لوگوں کے پاس وقت تھا لیکن جب یہ سواریاں آگئیں تو نہ رشتہ داروں کے لیے وقت ہے نہ قبرستان کے لیے.

نہ ماں باپ کی خدمت کے لیے آخر یہ وقت جو گاڑیوں نے بچایا کہاں چلا گیا؟

ظاہر ہے گاڑی کو رکھنے کے لیے سرمایہ چاہیے جو وقت بچ گیا وہ سرمایہ کمانے کی نظر ہوگیا عصرِ حاضر میں بارہ گھنٹے کام کیے بغیر ضروریات زندگی کا حصول ممکن نہیں لہذا وقت اب مارکیٹ کی نذر ہوگیا ہے.اشیاء ٹیکنالوجی نے مہیا کردی ہیں مگر وقت چھین لیا ہے دیہاتوں میں وقت اسلیے ہوتا ہے کہ زندگی سادہ، روزگار گھر کی چوکھٹ پر میسر اور خاندانی زندگی کے ساتھ منسلک ہے مارکیٹ میں جاکر وقت خاندان کہاں.

جب تک گھروں میں قرآن کے قلمی نسخے تھے ہر گھر سے تلاوت کی صدا گونجتی تھی جب سے طبع شُدہ لاکھوں قرآنی نسخے آگئے ہر گھر میں چار چار پانچ مصحف جمع ہیں تو کسی گھر سے تلاوت کی آواز نہیں آتی حتی کہ گھروں میں ٹیپ ریکارڈ بھی نہیں چلائے جاتے کہ قرآن کی آواز تو سُنائی دے لیکن کاروباری لوگ صبح دوکان کھولتے ہی یہ کام کاروبار میں برکت کے لیے نہایت خشوع و خضوع سے پابندی کے ساتھ انجام دیتے دیتے ہیں حتی کہ عورتوں کے جسم بیچنے والا سی ڈی کا کاروباری بھی یہ کارِ خیر انجام دیتا ہے.ہر گھر اور گاڑی میں ٹیپ ریکارڈر ہے لیکن گھروں اور گاڑیوں میں ٹیپ پر قرآن چلانے کی روایت نہیں ہے انسان کی آواز نہ سہی ٹیکنیکل آواز ہی سہی.

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں اندر کا انسان ہی مرگیا ہے تو تلاوت کی آواز کیسی…..

انسان زندہ ہے پر اس کا قلب بے نور ہے وہ دنیا میں مبتلا ہے اور ٹیکنالوجی اسے آخرت سے کاٹ کر دنیا سے جوڑنے کا فریضہ تن دہی سے انجام دے رہی ہے.انبیاء ع سب سے پہلے انسان کو زندہ کرتے اور اسے نئی روح عطا کرتے ہیں جو بظاہر زندہ اور فی الحقیقت مردہ ہے.کیا وجہ ہے کہ جدید ایجادات انسان کو اپنے دین مذہب روایت تاریخ رشتوں سے دور کر رہی ہے بیٹی ماں کو روزانہ چھ مرتبہ فون کرے گی لیکن ہفتے میں ایک دن بھی ماں کے گھر جانا پسند نہیں کرے گی فون نے رشتے بھی کاٹ دیے ہیں ہم اسے رشتے جوڑنا سمجھتے ہیں.بیٹی پہلے ہر ہفتے ماں کے گھر رہنے جاتی تھی اب سسرال ہی رہتی ہے کیوں کہ ماں کے گھر میں اے سی نہیں ہے نہ بیٹی کے پاس وقت.

یہ تبدیلیاں کس انقلاب کی طرف راہنمائی کر رہی ہیں تاریخ میں آتا ہے کہ مسلمان ہر سال ایک ریاست کے بادشاہ سے خراج لینے جاتے تھے ایک سال گئے تو اس نے خراج دینے سے انکار کردیا انہوں نے پوچھا کہ تم نے پہلے تو کبھی انکار کی جرات نہیں کی اب کیوں؟ اس نے کہا پہلے جو لوگ خراج لینے آتے تھے مجھے انکے چہروں سے خوف آتا تھا ان کو دیکھ کر میرے دل پر ہیبت طاری ہوجاتی تھی میں خراج ادا کرنے سے انکار کی جرات نہیں کرسکتا تھا ان کے چہرے خشک سوکھے ہوئے گال پچکے ہوئے پیٹ اندر دبے ہوئے آنکھیں دھنسی ہوئیں کپڑے پیوند زدہ،مگر انکے چہروں پر ایک نور اور جلال ہوتا تھا تم ان تمام صفات سے خالی نظر آتے ہو وہ لوگ کہاں چلے گئے تم ان کو لے آؤ میں ان کو خراج دے دوں گا تم کو ایک پائی نہ دوں گا.

کیا یہ سب تاریخ کے افسانے ہیں یا حقیقت بھی ہیں؟ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ کفار کے دلوں پر اہل ایمان کا رعب دبدبہ قائم کردیں گے یہ وعدہ قرآن میں بار بار بیان ہوا ہے.عصر حاضر کہ مسلمان خوشحال ہیں انکے گال پچکے ہوئے نہیں انکے کپڑے شاندار ہیں گھر عالیشان مگر دنیا پر انکی کوئی ہیبت نہیں فارغ البالی،مرفع الحالی،عیش میں اضافہ خوشحالی،ترقی کی آرزو وہی ان کے دینی فہم کا حاصل ہے.عصر حاضر میں نیک کام بھی بدراہ سے ہوتا ہے؟ دینی پروگرام ٹی وی پر دیکھنے کیلیے آپ کو طوائفوں کے اشتہارات کے جھرمٹ سے گزرنا ہوتا ہے بد راہ سے گزر کر دین کا علم ملتا ہے آپ جدید ٹیکنالوجی کا کوئی بھی طریقہ اختیار کریں خیر کے حصول کیلیے آغاز یا انجام شر سے لازماً گزرنا پڑتا ہے کیا ایسا خیر خالص رہ سکتا ہے؟ کیا ایسے غیر خالص خیر سے ایمان کا نور پھوٹ سکتا ہے؟

مولانے

مولانے

نام لکھنے کی ضرورت نہیں ‘ آپ خود سمجھ جائیں گے کہ اتنا ”شیریں دہن‘‘ معروف دانشورکون ہے‘ ان سے کسی مولانا کے حوالے سے سوال ہواتو وہ بھرے بیٹھے تھے ‘ چھلک پڑے۔ کافی عرصے سے ٹیلی ویژن کے پروگرام نہیں دیکھ رہا ‘ بس صرف ہیڈ لائنز اورٹِکرزپر اکتفا کرتاہوں۔موصوف اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں ‘ اپنی دانش پر افتخاراوردوسروں کی توہین اُن کا پسندیدہ شیوہ ہے۔اس سے شاید انہیں قلبی سکون ملتا ہے ۔بعض لوگ فطرتاً مردم آزاروآدم بیزار ہوتے ہیں‘ جنابِ شاہنواز فاروقی کے کالم میں درج ذیل اقتباسات پڑھے ‘ آپ بھی ان کے افکار سے لطف اندوز ہوں:

”یار خدا کا واسطہ! یہ” مولانے‘‘ مسلمانوں کو جینے دیں‘ انہیں زندہ رہنے دیں‘ یہ ہمارے بچوں کو مغرب سے مقابلہ کرنے دیں‘ احسان کریں‘ کس بات کا انتقام لے رہے ہیں یہ ہم سے۔ بیڑہ غرق ستیاناس مسلمانوں کا تب سے شروع ہوا جب مولانا اسلام نے کہا پرنٹنگ پریس نہیں چاہیے‘ہم صدیوں پیچھے چلے گئے‘ پہلا میڈیکل کالج‘ مولانا نے کہا: نہیں یہ غیر اسلامی ہے۔ صبح کرتے ہیں‘ یہ فلش سسٹم‘ٹوتھ پیسٹ‘یہ سب اہلِ مغرب لائے‘سمجھ آئی بات۔ کوئی کنویں کھودنے والے( یعنی مسلمان)نہیں‘ یہ ہینڈ پمپ گورا لایا تھا‘ یہ رحم کریں ہم لوگوں پہ‘ بیمار ہوتے ہیں پہنچ جاتے ہیں ہسپتال‘ کوئی ایک دوائی‘ کوئی وہ جسے سرجیکل کہتے ہیں‘آلات‘ مشین‘ وہ تمہاری میری بنائی ہوئی ہیں‘شرم نہیں آتی‘ اس سے تو بہتر ہے مر جائیں۔ہسپتال جانے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود کو مغرب کے رحم و کرم پہ ڈال دیا‘ سارے ٹیسٹ وغیرہ یہ وہ۔جہاز پر بیٹھتے ہیں حج اور عمرہ کا ثواب کمانے‘ تو یار کوئی توپانچ فیصد ثواب اُس (کافر)کو بھی دے دو جس نے تمہیں Facilitateکیا۔ عمریں بیت جاتی تھیں حج اور عمرہ پہ جاتے ہوئے‘ واپس آتے ہوئے اور پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ واپس لوٹے گا کہ نہیں‘اب ہماری زیادہ تر مسجدیں ماشا اللہ ائرکنڈیشنڈہیں‘ وہاں بیٹھ کے پرسکون طریقے سے اب آپ نماز ادا فرماتے ہیں۔ بجلی انہوں نے دی جس کے صدقے یہ گفتگو ہورہی ہے اور کروڑوں لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ ریل اور کار‘ اس پہ تشریف رکھ لیتے ہیں اور کروزوں پہ ہاں‘ سائیکل سے لے کرسیٹلائٹ تک اہلِ مغرب نے‘پولٹری سے لے کر ہائی برِڈ سیڈ تک‘ ٹی وی سے لے کرسپر کمپیوٹرتک‘سمارٹ فون سے لے کر خون کی تبدیلی تک انہوں نے دی‘ کوئی شرم حیا ہمیں نہیں آتی۔انجکشن جس کا مذاق اڑایا تھا ”ملا حضرات‘‘ نے‘لائوڈ سپیکر کا مذاق اڑایا‘ اسے شیطانی آلہ قرار دیا۔ڈسپرین سے لے کرلیور ٹرانسپلانٹ تک۔ میں دعاگو ہوں اللہ ان کی صحت درست رکھے‘ چلتے پھرتے جائیں‘ لیور ٹرانسپلانٹ کی نوبت نہ آئے۔ خدا کا خوف کرو‘ روبوٹ سے لے کر مریخ تک جانا ہے‘ یہ ہمارے پلے کیا ہے‘ یہ جو عہدِ حاضر ہے اس میں مسلمانوں کی بنی نوع انسانی کے لیے ایک کنٹری بیوشن بتائو او زندگیاں تم ان کے صدقے گزار رہے ہو۔ترکی سے انہوں نے برباد‘ سلطنت عثمانیہ‘ خلافت عثمانیہ‘ تین کانٹی نینٹ پہ حکومت‘ انہوں نے مسلمانوں کو ایسا ریورس پر ڈالا‘ ان کے نزدیک پتا ہے کیا ہے مغرب۔ننگی ٹانگیں اور حجاب نہ ہونا یا الکوحل اور نہیں ہے۔ ایڈیسن نے اپنی زندگی دے دی‘ ہمیں ایک ہزار سے زیادہ ایجادات دینے کے لیے‘ ان کو یہ کیوں نہیں لگتا‘ ان کے دماغوں میں اہلِ مغرب بھی مخلوق ہے میرے رب کی مخلوق ہے۔ قرآن ایک وزڈم بتاتا ہے‘ لکھا ہے:بے شک تم غالب آئوگے اگر تم مومن ہو‘غالب ہمیشہ وہ ہوتا ہے جو مومن کے قریب تر ہواور ہم جھوٹے لوگ ہیں۔ ہمارے یہاں خالص چیز کوئی نہیں ملتی‘ وہاں ملاوٹ کا تصور ہی نہیں ہے‘ دو نمبر فیکٹریاں ہیں‘ ملک لوٹ کر باہر جاتے ہیں‘ او تم کرتے کیا ہو؟ اور گالیاں اہلِ مغرب کو‘او کس بات پہ ہم ایٹمی طاقت ہیں‘ تم ایٹمی طاقت کہاں سے ہو‘ یہ تو سیکنڈورلڈ وار میں ایک پرزہ‘ ایک آلہ‘ یہ اسلحہ‘ یہ تواستعمال ہوچکا‘ اس سے پہلے اسے Conceiveکیا گیا تھا‘بنالیا گیا‘پھر یہ ہیروشیما‘ ناگاساکی یہ تو پھر۔ تو ہم ایٹمی طاقت‘ ٹینک‘ یہ جتنا ماڈرن ہتھیارہے‘ کدھر ہے‘ یہ کون لوگ ہیں‘ اہلِ مغرب‘ اوئے اہل مغرب سے مقابلہ کرنے کے لیے بچے تیار کرو اپنے‘ اپنے بچے تیار کرو ورنہ ہمارے بچے ان کے قدموں تلے روند دیے جائیں گے‘ جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ او اعلیٰ تعلیم کے لیے جاتے کہاں ہو تم‘ تمہارے تو پورے ملک میں اعلیٰ تعلیمی ادارہ ڈھنگ کا نہیں ہے‘یہ میرا بلڈ پریشر تباہ کرنے کے لیے تم نے یہ سوال کیا ہے‘ مولانا خدا کا خوف کرو‘ ڈرو اس طرح کی باتیں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری نظر میں روزِ محشر نہیں ہے‘ انصاف نہیں ہونا‘ اس کا مطلب یہ ہے‘ اہلِ مغرب موریلٹی میں‘ اخلاقیات میں بلند ترین مقام پر فائز ہیں‘ میں کہہ رہا ہوں‘ دو فتویٰ میرے خلاف اور ہمارے قدم قدم پر تمہارے الیکشن جھوٹے‘ خود کہہ رہے ہو‘ تمہاری اسمبلیاں جھوٹی‘ ہمارے الیکشن فراڈ‘تمہارا وزیراعظم‘ تمہارا سب کچھ غلط‘ ان کا سب کچھ صحیح‘ پھر اہلِ مغرب او ان کی نقل کرلو‘ زندہ رہ لو‘ کیوں ہم کو برباد کررہے ہو‘‘ ۔

اس عہدِ تنزُّل میں بھی ہمارے لبرل سیکولر اسلام بیزار دانشور اپنی شدید خواہش کے باوجود اسلام پر براہِ راست حملہ کرنے کی جسارت نہیں کرپاتے ‘تو علامت کے طور پر کسی مولانا کا ہیولیٰ ذہن میں تشکیل دے کر سنگ باری فرماتے ہیں ۔اگر نشانے پر کسی دوسرے مسلک کا عالم ہے ‘تو مخالف مسلک کے لوگ خوش ہوتے ہیں ‘ یہ نہیں سوچتے کہ ہدف شخص نہیں ہے ‘اس کا نام توعلامت کے طور پر لیاجارہا ہے ‘اصل ہدف دین اور اسلام ہے ‘ پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کا سیلابِ بلا خیز آنے کے بعد مُصلحِ اعظم بن کرسٹوڈیوز میں یہی اینکر پرسنزبراجمان ہیں ‘ لیکن پھر بھی قصور وار ”مولانے ‘‘ ہیں۔ 

آپ اس کالم کو بار بار پڑھیے ‘اس کاTheme یا مرکزی خیال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ یا پاکستان کے زوال کا سبب دینی طبقات ہیں ۔ پاکستان کی حد تک ستر سال میں دینی طبقات تختِ اقتدار پر کب فائز ہوئے ہیں‘ نظامِ حکومت کی ڈرائیونگ سیٹ پر کب بیٹھے ہیں ‘ کیا ریاست کے زیرِ انتظام یا پرائیویٹ سیکٹر میں یونیورسٹیوں کے ریکٹر یا وائس چانسلر ”مولانے‘‘ ہیں تاکہ انہیں کوس کر تسکین حاصل کی جائے۔ نظام تو روزِ اول سے سیکولر لبرل طبقات کے پاس ہے ‘ اسٹیبلشمنٹ پر انہی طبقات کو غلبہ حاصل ہے ‘وہی الیکشن کراتے ہیں‘ تخت پر بٹھاتے اور اتارتے ہیں‘ کیا ملک کی پالیسیاں ”مولانے‘‘بناتے ہیں‘ کیا ملک کے زوال کا سبب ”مولانے‘‘ ہیں‘ کیا ہمارے ہاں سائنسی ایجادات ‘ فنی ترقی ‘ معاشی استحکام کے نہ ہونے اور سیاسی انتشار کا سبب فقط دینی طبقات اور”مولانے ‘‘ہیں ۔ کیا ملک کو مذہبی طبقات نے لوٹا ہے ‘کیا قومی خزانوں کی کنجیاں ہمیشہ ان کے پاس رہی ہیں۔ کیا کسی ایک قومی انتخاب میں بھی قوم نے کلی اقتدار دینی طبقات کو سونپا ہے تاکہ انہیں کوسنے کا جواز مل جائے۔ باستثنائے انقلابِ ایران‘ جو داستان پاکستان کی ہے وہی تمام مسلم ممالک کی ہے ‘ کیا ستاون مسلم ممالک کے صدور ‘وزرائے اعظم‘ آمرین اور ملوک وسلاطین ”مولانے‘‘ ہیں۔ کیا کسی ”مولانا ‘‘کے ٹرین یالائوڈ سپیکر کی مخالفت کرنے سے ان دونوں چیزوں کا برصغیر میں چلن موقوف ہوگیا تھا۔ کیا ملک کو غریبوں‘ مفلسوں اور ناداروں نے لوٹا ہے یا انہوں نے جن کے پاس حدیث پاک کے مطابق سونے کی ایک وادی ہے تو دوسری کی تمنا ‘دو ہیں تو تیسری کی تمنا انہیں بے چین کیے رہتی ہے ‘ کوئی بتائے کہ ان بالادست طبقات میں ”مولانے‘‘کتنے ہیں ۔ نفرت کرنا آپ کا اختیارہے ‘ لیکن خدارا! انصاف پر مبنی بات کیجیے‘ دینی مدارس نے ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جن پر مغرب کی یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی ہورہا ہے۔ دین سے آپ کو نفرت ہے تو براہِ راست اپنا مؤقف بیان کیجیے‘ ہاتھ گھماکر کان پکڑنے کا تکلف کیوں ‘ کیا ملک کے بڑے سرمایہ دار ‘ جاگیر دار وزمیندار‘ سیاسی مقتدرین اور اسٹیبلشمنٹ کے ستون ”مولانے‘‘ ہیں ‘اہلِ دین کی اکبر الٰہ آبادی کی زبان میں ایک عاجزانہ سی التجا ہوتی ہے :

جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو

اللہ کو اور اس کی حقیقت کو نہ بھولو

کیا ایسا ہوا ہے کہ آپ مریخ کی طرف پرواز کررہے تھے اور کوئی مولانا آپ کے راستے میں رکاوٹ بن گیا‘آپ نے سائنسی ایجادات اور فنی کمالات کا ہمالیہ کھڑا کردیا اور کسی مولانا نے انہیں آگ لگادی‘ اُن پر پردہ ڈال دیا ‘ انہیں چرا لیا اوراُن کی نفی کردی ۔ مولانا ئوںکے بھی قصور یقینا ہوں گے‘ لیکن جو سوال یونیورسٹیوں سے کرنا چاہیے ‘وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ جو وقت کے اہلِ اقتدار اورعدالت سے کرنا چاہیے ‘ وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ جو خود سے کرنا چاہیے وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ علامہ اقبال نے کہا ہے: 

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے‘ وہ خطا کیا ہے!

موصوف کو علامہ اقبال سے بھی بہت نفرت ہے ‘لیکن ہر خطیب اور لکھاری کی مجبوری ہے کہ عنوان کوئی بھی ہو‘ مشکل میں اقبال کام آتے ہیں ‘ موصوف نے اُن پر بھی چاند ماری فرمائی ہے۔

اہلِ دانش سے گزارش ہے کہ ”مولانوں‘‘ کے جرائم کی فہرست ایک ہی بار اور ایک ہی جگہ مرتب کر دیجیے تاکہ ان کواپنا جائزہ لینے اور اصلاح کرنے کا موقع مل سکے ‘ وہ بھی اپنے اندر جھانک سکیں اور اپنی کوتاہیوںکا ازالہ کرسکیں ‘ لیکن زندگی کو جرم بنادیا جائے اور ”بے خطائی‘‘کو خطا قرار دے کر سزا دے دی جائے ‘ تو اس کا حل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ جب تحریکِ پاکستان چل رہی تھی ‘ تو یہی ”مولانے‘‘ صفِ اول میں تھے ‘ استاد قمر جلالوی نے کہا تھا:

اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں

اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں

سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی

یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

آپ کی وفا کا تقاضا یہ ہے کہ جن کے آپ قصیدے پڑھ رہے ہیں‘وہ آپ کو اپنے دیس اوراس دنیا کی جنت میں لے جائیں تاکہ ”مولانوں‘‘ سے آپ کی جان چھوٹے ‘ہمہ وقت کڑھنے سے آپ کو راحت ملے ‘وہاں لذتوں کے بڑے سامان ہیں ‘ الکوحل بھی پانی کی طرح دستیاب ہے ‘ عریاں نظارے ‘ رقص وسرود‘عَشوَہ وطرَب ‘ رنگ ونور ‘الغرض !کیا ہے جو وہاں نہیں ہے ‘سونے پر سہاگہ یہ کہ وہاں ”مولانے‘‘ بھی نہیں ہیں۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ

در عدالت عظمٰی پاکستان

(عدالتی کاروائی)

جج صاحبان:

1. جسٹس مشیرعالم

2. جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

سوموٹو کیس نمبر:7/2017

(اسلام آباد- راولپنڈی دھرنا پر ازخود نوٹس کی کاروائی)

حاضرین:

اٹارنی جنرلز آف پاکستان، جناب اشتراوصاف علی اور جناب انور منصور خان۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل جناب سہیل محمود۔

ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جناب عبدالرؤف۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرلز،پنجاب، جناب رزّاق مرزاور بیرسٹر قاسم چوہان بالترتیب۔

سیکریٹری، ڈی جی لاء اور ایڈیشنل ڈی جی لاء آف الیکشن کمیشن آف پاکستان،جناب بابر یعقوب فتح، جناب ایم ارشد اور ملک مجتبٰی۔

چیٸرمین،ہیڈ لیگل، ڈی جی (آپریشن اینڈ بروڈکاسٹ میڈیا) اور ڈی جی (آپریشن ڈسٹریبیوشن آف پیمرا)، جناب سلیم بیگ، جناب علی ذیشان گوندل، جناب سہیل آصف اور جناب محمد فاروق بالترتیب۔

ڈاٸریکٹر اور جواٸنٹ ڈاٸریکٹرآف I.B،جناب مالک عزیزالرحمن اور جناب انوارالحق خاور بالترتیب۔

ڈاٸریکٹر (لیگل) اور ڈپٹی ڈاٸریکٹر (لیگل)،وزارت دفاع، بریگیڈیر فلک ناز اور لیفٹینٹ کمانڈر شفیق الرحمن بالترتیب۔

ڈپٹی سیکریٹری داخلہ جناب نثار خان۔

اسٹنٹ ڈاٸریکٹر(لیگل) جناب شفیق الرحمن۔

آئی جی پولیس اور SP، اسلام آباد، جناب خالد خالد خٹک اور جناب لیاقت حیات نیازی بالترتیب۔

سنوائی کی تاریخیں:

21 نومبر 2017، 23 نومبر 2017، 30 نومبر 2017، 03 جنوری 2018، 16 فروری 2018، 19 مارچ 2018، 15 اپریل 2018، 11 اکتوبر 2018، 16 نومبر 2018، اور 22 نومبر 2018.

فیصلہ

جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ

پس منظر

● الیکشن میں حصہ لینے والے مسلمان امیدواروں کے لیئے لازمی ہے کہ وہ تحریری حلف نامہ جمع کروائیں کہ محمد ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے گئے آخری نبی ہیں۔ ماضی میں اس حلف نامے کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا تھا ” میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں۔۔۔۔۔“ لیکن الیکشن ایکٹ 2017 میں ان الفاظ کو تبدیل کرکے ”میں ایمان رکھتا/رکھتی ہوں۔۔۔۔“ کردیا گیا۔ حلف نامے میں الفاظ کی تبدیلی پر بڑے پیمانے پرکی گئی مخالفت کی وجہ سے حکومت نے فیصلہ کیا کہ ردوبدل کیئے گئے الفاظ واپس لے کر پرانے الفاظ کو حلف نامے میں برقرار رکھا جائے گا۔

● 5 اکتوبر 2017 کو منسٹرآف لاء،جسٹس اینڈ پارلیمنٹری افئیرز نے تبدیل شدہ پرانے الفاظ کو دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے بل پیش کیا۔ اس بل کے ” اسٹیمنٹ آف آبجیکٹ اینڈ ریزنس“ کے مندرجات درج ذیل ہیں:

1. الیکشن ایکٹ 2017 (XXXIII of 2017) کے نفاذ کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں شک و شبہات کا اظہار کیا گیا اسکے علاوہ میڈیا نے بھی الیکشن امیدوار کی جانب سے جمع کرائے جانے والے فارم A میں موجود حلف نامہ میں کی گئی تبدیل کے حوالے سے انہی شکوک و شبہات کو رپورٹ کیا۔

2. مزید کسی تنازعہ سے بچنے کے لیئے تمام سیاسی پارٹیوں نے اتفاقِ رائے سے یہ طے کیا کہ فارم IA میں موجود حلف نامے کے اصل الفاظ کو واپس بحال کردیا جانا چاہیے۔

3. آرٹیکل 7B اور 7C کے کنڈکٹ آف الیکشن جنرل الیکش آرڈر 2002 (چیف ایکزیگٹو آرڈر نمبر7، 2012) میں سے حذف کیئے جانے کے نتیجے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ یہاں بھی مزید کسی تنازعے سے بچنے کے لیئے تمام سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 241 میں ترمیم کے ذریعے 7B اور 7C کو برقرار رکھا جائے۔

پارلیمنٹ نے مذکورہ ترامیم کو منظور کرلیا اور الیکشن ایکٹ 2017 (ترامیم) کو 19 اکتوبر کو نافذ کرکے حلف نامے کے الفاظ ”میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں“ کو بحال کردیا گیا۔ اس حلف نامے کے بقیہ مندرجات درج ذیل ہیں:

میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں کہ:

1. میں محمد ﷺ کے خاتم النبین ہونے پر مکمل ایمان رکھتا ہوں۔ میں کسی ایسے شخص کا پیروکار نہیں ہوں جو کسی بھی طریقے سے محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویدار ہے۔ میرا ایسے کسی نبوت کے دعوے دار سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ میں قادیانی گروپ سے تعلق رکھتا ہوں، نہ میرا تعلق لاہوری گروپ سے ہے اور نہ میں خود کو احمدی قرار دیتا ہوں۔

2. میں بانی پاکستان قاٸداعظم محمد علی جناح کی اس قرارداد کے ساتھ بھی ایماندار رہونگا جس میں انہوں نے فرمایا کہ پاکستان معاشرتی عدل کے اسلامی اصولوں کے مطابق ایک جمہوری ریاست ہوگی۔ میں آئین کی بالادستی اور پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی پاسداری کرونگا اور یہ کہ میں ان اسلامی نظریات کے تحفظ کی جدوجہد کرونگا جو تشکیلِ پاکستان کی بنیاد ہیں۔

ٹی ایل پی کا دھرنا

● 19 اکتوبر 2017 کو پارلیمنٹ نے حلف نامے کے الفاظ کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کے معاملے کو حل کرلیا تھا۔ تاہم اسکے باوجود بھی ایک نوزائیدہ سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) نے مظاہرہ جاری رکھا۔ 5 نومبر 2017 کے روز تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان اور سپورٹرز نے فیض آباد انٹرچینج پر قبضہ جما کر اسے بلاک کردیا، یہ دارالحکومت اسلام آباد میں داخلے اور واپسی کا عین مقام اور چوتھا بڑا شہر ہے۔ سینکڑوں گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر اس راستہ پر سے گزرتی ہیں۔ TLP نے منسٹرآف لاء،جسٹس اینڈ پارلیمنٹری افئیرز کی برطرفی کا مطالبہ کیا، بعدازاں انہوں نے حکومت کے استعفی کی مانگ کی۔ فیض آباد انٹرچینج پر موجود دھرنے نے پوری کامیابی کے ساتھ دو جڑواں شہروں اسلام آباد راولپنڈی کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ کورٹ بشمول سپریم کورٹ کی کاروائیوں میں خلل واقع ہوا اور بہت سے درخواست گزار اور انکے وکلاء اپنے کیسوں کی کاروائی میں شامل نہیں ہوپائے۔ دھمکیوں اور بدسلوکی کا سلسلہ جاری رہا اوران حالات میں شدت آتی گئی۔ 21 نومبر 2017 کے روز دھرنے کی وجہ سے کئی ایڈوکیٹ کورٹ کی کاروائی میں شامل نہ ہوسکے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے شکایت کی کہ وہ انتہائی مشکلات کے بعد متبادل راستہ استعمال کرکے سپریم کورٹ پہنچ پائے ہیں، جسکی وجہ سے انکے سفر کی طوالت عمومی راستے کے مقابلے میں تین گھنٹے زاٸد تھی۔ عوامی نقل و حمل انتہائی محدود یا مکمل بند ہوچکی تھی۔ وہ روزمرہ کے سفری معمولات، عدالت، اسکول، کالج، یونیورسٹیز اور کام کی جگہ تک پہنچنے سے قاصر تھے۔ مریض معالج یا ہسپتال تک نہیں پہنچ پائے حتٰی کے ایمبولنسس بھی شدید علیل مریض تک رسائی میں ناکام رہیں۔

● دھرنے کے قاٸدین نے دھونس و دھمکی،گالی گلوچ اور نفرت کا پرچار کرکے مظاہرین کو مشتعل کیا۔ میڈیا نے TLP کو بناء تعطل کوریج فراہم کی۔ حکومت مخالف افراد بھی ان لوگوں میں شامل ہوگئے۔ انٹر سروسز انٹیلیجنس ISI نے ان ان مندرجات پر مبنی Public Support and Political Parties/Personalities رپورٹ جمع کروائی اور ان شخصیات کی فہرست جاری کی کہ : ” چئیرمین AML شیخ رشید احمد ، PMZ-Z کے اعجازالحق، PPP کے شیخ حمید اور PTI علماء ونگ اسلام آباد نے آڈیو پیغامات جاری کیئے تھے۔ غیرذمہ دار سیاستدانوں نے فسادانگیزتقریریں کیں اور غیر ذمہ دار ٹاک شوز میزبانوں نے عوام کو مشتعل کیا۔ TLP کو مفت کی شہرت ملی اور ایک غیرمقبول سیاسی پارٹی نے انتہائی مقبولیت حاصل کرلی۔ لاٸم لاٸٹ میں آنے کے بعد TLP کی لیڈرشپ مزید جارح، بدزبان اور سخت ہوگئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ انکی طاقت بڑھی اور انہوں نے لوگوں کو ناراضگیِ الہی کے فریب میں مبتلا کردیا (جوکہ قانونی طور پر مجرمانہ فعل ہے) جو TLP کا طے شدہ منصوبہ تھا۔ پرتشدد مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے۔

● مندرجہ بالا پس منظر میں یہ مذکور ہے کہ 21 نومبر 2017 کو ایک آرڈر پاس کیا گیا تھا کہ :

1. مودجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ معاملہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مطابق پبلک انٹرسٹ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا ہے، بشمول زندگی کا حق آرٹیکل 9 ، آرٹیکل 15 نقل و حرکت کی آزادی، آرٹیکل 25A تعلیم کا حق، کی پامالی کا ہے جس نے کورٹ کو آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت نوٹس لینے پر مجبور کیا۔

2. لہذا اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع اور ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کئیے گئے۔ فاضل اٹارنی جنرل پاکستان کو ہدایت کی گٸ کہ وزارت داخلہ اور دفاع کی رائے جمع کروائیں۔ متعلقہ وزارتوں کے ماتحت انٹیلیجنس ایجنسیز، بشمول انٹیلیجنس بیورو IB ، انٹرسروسز انٹیلیجنس ISI کو ہدایت کی گئی کہ آئین پاکستان کے تحت شہری حقوق کی حفاظت کے لیئے جو قانونی اقدامات کیئے گئے انکی رپورٹ جمع کروائیں۔

آئین کا آرٹیکل 184 (3) اور سپریم کورٹ کی کاروائی

● یہ عدالت آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت طلب کی گئی ہے، اسے آئین کے تحت عدالتی کاروائی کا اختیار حاصل ہے:

1. آرٹیکل 199 کے احکام پر اثرانداز ہوئے بغیر عدالت عظمی کو اگر وہ یہ سمجھے کہ حصہ دوم کے باب 1 کے ذریعے تفویض شدہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے، مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اختیار ہوگا۔ (آرٹیکل(3) 184)

آئین کے بابِ اول کے دوسرے حصے میں آرٹیکل(3) 184 کو ”بنیادی حقوق“ کے طور پر تفویض کیا گیا ہے اور آئین کی آرٹیکل 9 سے 28 کو بطور خاص بنیادی حقوق سے مزئین کیا گیا ہے۔ یہی بنیادی حقوق کئی ممالک اور عالمی معاہدوں میں بطورانسانی حقوق شامل کیے گئے ہیں۔

1. اس عدالتی کاروائی کو نہ تو چیلنج کیا گیا اور نہ اس پر کوئی اعتراض جمع کروایا گیا۔ تاہم ہمیں یہ یقین دہانی کروانی چاہیے کہ یہ کاروائی آئین کے عین مطابق کی گٸ ہے۔ آئین کا حصہ ہفتم ”نظام عدالت“ مختلف ابواب پر مشتمل ہے: باب ١۔ عدالتیں، باب ٢۔ پاکستان کی عدالت عظمی، باب ٣۔ عدالتِ ہائے عالیہ، باب ٣۔الف۔ وفاقی شرعی عدالت۔ آئین ضمانت دیتا ہے،” کسی عدالت کو کوئی اختیارِ سماعت حاصل نہیں ہوگا ماسوائے اسکے جو دستور کی رو سے، یا کسی قانون کی رو سے، یا اس کے تحت، اسے تفویض کیا گیا ہے یا کیا جائے“ ( آرٹیکل (2) 175). آئین سپریم کورٹ کو کٸ اختیارات عطا کرتا ہے جیسے کہ عدالت عظمٰی کو کسی عدالت عالیہ کہ صادر کردہ فیصلوں،ڈگریوں،حتمی احکام یا سزاٶں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے اور ان پر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار ہوگا (آرٹیکل 185)۔ آرٹیکل (1) 186، کے مطابق اگر کسی وقت صدر مناسب خیال کرے کہ کسی قانونی مسٸلہ کے بارے میں جسکو وہ عوامی اہمیت کا حامل خیال کرتا ہو،عدالت عظمٰی کی رائے حاصل کی جائے تو وہ اس مسٸلے کو عدالت عظمٰی میں غور کے لیئے بھیج سکے گا۔ آرٹیکل 186 الف، کے مطابق عدالت عظمٰی، اگر وہ انصاف کے مفاد میں ایسا کرنا قرین مصلحت خیال کرے،کسی مقدمے،اپیل یا دیگر کاروائی کو کسی عدالت عالیہ کے سامنے زیر سماعت ہو،کسی دیگر عدالتِ عالیہ کو منتقل کرسکے گی۔ آرٹیکل 184 کے مطابق سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ عدالت عظمٰی کو بہ اخراجِ ہر دیگر عدالت کے،کسی دو یا دو سے زاٸد حکومتوں کے درمیان کسی تنازعے کے سلسلے میں ابتدائی اختیارِ سماعت حاصل ہوگا۔ آرٹیکل 188، کے تحت عدالت عظمٰی کو اپنے صادر کردہ کسی فیصلے یا دئیے ہوئے کسی حکم پر نظرثانی کا اختیار ہوگا۔ آرٹیکل (1) 187، کے مطابق (آرٹیکل 175،2 کے تابع) عدالت عظمٰی کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ ایسی،ہدایات احکام، یا ڈگریاں جاری کرے جو کسی ایسے مقدمہ میں معاملہ میں جو اسکے سامنے زیرسماعت ہو،مکمل انصاف کے لیئے ضروری ہو۔

2. آرٹیکل (3) 184، سپریم کورٹ کا داٸرہ کار دو شراٸط سے مشروط ہے، پہلا عوامی اہمیت کا اور دوسرا بنیادی حقوق کی فراہمی کا۔ تاہم عوامی اہمیت کی اصطلاح کی وضاحت آئین میں موجود نہیں ہے۔ اسے مروجہ مفاہیم کے مطابق سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی حوالے سے یہ اصطلاح ”عوامی اہمیت“ آئین میں کئی جگہ استعمال کی گئی ہے۔ اس لیئے حوالوں کے ذریعے اسکا تعین کیا جاسکتا ہے۔ آرٹیکل 19 الف، کے مطابق ہر شہری کو عوامی اہمیت کی حامل تمام معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہوگا۔ آرٹیکل (1) 186، کے مطابق اگر کسی وقت صدر مناسب خیال کرے کہ کسی قانونی مسٸلہ کے بارے میں جسکو وہ عوامی اہمیت کا حامل خیال کرتا ہو،عدالت عظمٰی کی رائے حاصل کی جائے تو وہ اس مسٸلے کو عدالت عظمٰی میں غور کے لیئے بھیج سکے گا۔ آرٹیکل(3)212، کے مطابق صرف اس صورت میں کوئی اپیل قابلِ سماعت ہوگی جبکہ عدالت عظمٰی اس بات کا اطمینان کرلینے کے بعد کہ مقدمے میں عوامی اہمیت کا حامل کوئی اہم امرِقانونی شامل ہے، اپیل داٸر کرنے کی اجازت دے ۔ عدالتی کاروائی کے جواز کے لئے آئین کے آرٹیکل (3) 184 میں موجود لفظ ”عوامی“ کو لفظ ”اہمیت“ کی ساتھ منسلک کرکے استعمال کرنا ہی کافی ہے۔ یعنی معاملہ لازمی طور پر عوامی اہمیت اور عوامی حقوق کا ہو۔

3. بے نظیر بھٹو بمقابلہ پاکستانی فیڈریشن کیس میں کورٹ نے کہا ” سپریم کورٹ صرف اسی صورت میں مداخلت کرکے رٹ جاری کرنے کے لیئے اپنا اختیار استعمال کرسکتی ہے جب معاملہ ”عوامی اہمیت“ کا ہو“۔ منظور الہٰی بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان کیس میں کورٹ نے ”عوامی اہمیت“ کے معنی و مفہوم کا تعین یوں کیا تھا:

”عوامی اہمیت کے سوال“ سے کیا مراد ہے۔ لفظ ”عوامی“ کی اصطلاح ”نجی“ یا ”انفرادی“ کے متضاد ہے۔ یہ کسی ایسی شئے کی صفت ہے جو افراد،قوم، ریاست یا برادری سے نسبت رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی ایسی شئے یا موقع جسمیں عوام کی بڑی تعداد شراکت رکھتی ہو اور کسی گروہ یا برادری کو اس سے استثنی حاصل نہ ہو ”عوامی“ کہلاتی ہے۔ India-in-Council ILR 39 Bomb.279 جوڈیشل کمیٹی نے ان الفاظوں ”عوامی مقاصد“ کو یوں تعبیر کیا ہے ” ان الفاظ سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ کوئی ایسا ہدف یا مقصد جس میں کسی برادری کی عمومی دلچسپی پائی جاتی ہو اور وہ کسی مخصوص فرد کے نجی مفاد یا تعلق سے متعلق نہ ہو“۔ میرے خیال سے عین یہی مراد ”عوامی اہمیت“ کے الفاظ سے لی جاسکتی ہے“

عدالت کی جانب سے مذکورہ بالا تعریف کو ”عوامی اہمیت“ سے مراد لیا جاتا رہا ہے۔ سوموٹو کیس نمبر(13) 2007، میں یہ تعریف یوں بیان کی گئی، بے نظیر بھٹو اور منظور الہی کیسز میں بھی اسی کا اعادہ کیا گیا:

” کیس کی عوامی اہمیت کا مشاہدہ کورٹ کی جانب سے منظور الہی کیس میں کیا گیا جس میں بڑے پیمانے پر عوامی حقوق اور مفاد کے متاثر ہونے کا سوال سامنے آیا اور بے نظیربھٹو کیس میں بھی اس پر غور کیا گیا کہ عوام کی آئینی آزادی اور خود مختاری پر مبینہ طور پر کوئی فرد یا گروہ قابض ہوسکتا ہے۔

سہیل بٹ Vs ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کیس میں کورٹ نے پایا کہ:

”عوامی اہمیت کو کمیونٹی کی عمومی دلچسپی کے مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔ جسے کسی فرد کے براہ راست مفاد کے عین مخالف ہونا چاہیے“

وطن پارٹی Vs فیڈریشن آف پاکستان کیس میں کہا گیا کہ عوامی اہمیت کی تعریف کے داٸرے کو طے کرلیا گیا ہے اور یہ کسی کمیونٹی کے عمومی مفاد سے متعلق ہے۔

” یہ طے کرلیا گیا ہے کہ عوامی اہمیت کو کمیونٹی کی عمومی دلچسپی کے مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔ جسے کسی فرد کے براہ راست مفاد کے عین مخالف ہونا چاہیے“

تو یہ طے ہے کہ کورٹ اپنے اختیار کو آرٹیکل (3) 184 کے تحت بروئے کار لاسکتی ہے جہاں معاملہ عوامی اہمیت اور بنیادی حقوق کے نفاذ کا ہو۔

● آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ عوام کو انکے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ اس قبل کے آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت کورٹ کوئی بھی حکم جاری کرے بنیادی حقوق کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اس آرٹیکل کے تحت جاری کردہ حکم پر اپیل کا کوئی حق موجود نہیں ہے۔

آئین کے آرٹیکل (3) 184، کا اس کیس پر اطلاق

● مظاہرین اہم شاہراٶں اور سڑکوں پر اکٹھا ہوچکے تھے، انہوں نے املاق کو نقصان پہنچایا، گاڑیوں کو آگ لگائی اور پتھراٶ کیا۔ ایمبیولینسز، ڈاکٹرز، پیرامیڈک اسٹاف اور ایمرجنسی سروسز مہیا کرنے والا عملہ جیسے فاٸرفاٸٹرز، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ریسکیو کے عملے کو مدد پہنچانے کے لیئے مطلوبہ مقام تک پہنچنے سے روکا گیا یا پھر انہیں متبادل راستہ تلاش کرنے میں بلاجواز غیرمعمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹرز اور طبّی سہولیات تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ کی وجہ سے ان گنت لوگوں کو اذیت اٹھانی پڑی۔ ایک آٹھ سال کا بچہ اپنی زندگی ہار بیٹھا کیونکہ جس ایمبیولینس پر اسے ہسپتال لے جایا جارہا تھا اسے دھرنے نے روک لیا۔ اس نوعیت کے مزید کیسز بھی ہوسکتے ہیں جنہیں رپورٹ نہ کیا گیا ہو۔

● مریض کو ڈاکٹر یا ہسپتال تک پہنچنے سے روکنا اسکے جینے کے حق کی پامالی ہے (جسکی آئین کے آرٹیکل 9 میں ضمانت دی گئی ہے )۔ سڑکوں کو زیادہ دیر تک بلاک کرکے شہریوں کو معمولات سے بعض رکھنا انکے حقِ آزادیِ نقل و حرکت کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل 15 میں دی گئی ہے) اور انکے یہ حقوق نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب طالب علموں کو اسکول اور دیگر درسگاہوں تک پہنچنے سے روکا جائے تو یہ انکے تعلیم کا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کا آرٹیکل 25 الف، دیتا ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ جب درخواست گزار کی کورٹ تک رسائی کے راستے کو بلاک کردیا جائے تو یہ اسکی دورانِ کاروائی فیٸر ٹراٸل کے حق کی پامالی ہے (جسکی آرٹیکل 10 الف، میں ضمانت دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ لوگوں کے ساتھ گالی گلوچ،انہیں دھمکانا اور انہیں زدکوب کرنا انکے عزت کے ساتھ جینے کا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل (1)14 کے تحت دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ جب دکانوں اور کاروبار کوزبردستی بند کروادیا جائے، لوگ اپنا معاش جاری نہ رکھ پائیں، اور یومیہ آمدنی والا مزدور طبقہ اپنی زندگی گزارنے کے لیئے کمائی سے محروم کردیا جائے تو یہ انکے روزگارکا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل 18 میں دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ جب لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے یا انہیں برباد کردیا جائے تو یہ انکے املاک رکھنے کا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل 23 میں دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔

● راولپنڈی اور اسلام آباد کو چکی کے دوپاٹوں جیسا بنادیا گیا۔ مظاہرے دیگر شہروں تک پھیل گئے۔ پورے ملک کو کامیابی سے لاک ڈاٶن کردیا گیا۔ معاملہ بلاشبہ عوامی اہمیت کا تھا اور ہر شہری کے لیئے بنیادی حقوق کے نفاذ کو یقینی بنانا ضروری تھا۔ اس لیئے کورٹ نے آرٹیکل (3) 184، کے تحت دئیے گئے اختیارات کو عمل میں لانے کا قدم اٹھایا۔

رپورٹس اور کاروائیاں

● 23 نومبر2017، کو فاضل اٹارنی جنرل فار پاکستان ”AGP“ نے انٹیلیجنس بیورو ”IB“ کی رپورٹ جمع کروائی جس کے مطابق ” دھرنا مظاہرین کو حاضر اور مشتعل رکھنے کے لیئے TLP کے قاٸدین نے اشتعال انگیز تقریریں کیں“۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ،” TLP کے عزاٸم صورتحال کو بگاڑ کر اس سے آنے والے جنرل الیکشن میں سیاسی فاٸدہ حاصل کرنے کے تھے“۔ IB کی رپورٹ کے مطابق ”راولپنڈی اسلام آباد کے عام شہریوں، خاص طور پر جڑواں شہروں کے درمیان یومیہ اجرت پر کام کے لیئے سفرکرنے والوں کی زندگی کو مفلوج کردیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ نے بھی IB رپورٹ کی تصدیق کی۔ اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا کہ دھرنے یا ریلی کے لیئے مخصوص مقامات کے حوالے سے حاصل کردہ اجازت نامے کی شراٸط کا لحاظ نہیں رکھا گیا اور TLP اور اسکے قاٸدین وعدے کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے دھرنے کے مقررشدہ مقام ڈیموکریسی پارک اور اسپیچ کارنر سے ہٹ کر جگہ تبدیل کرتے رہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد کی رپورٹ، IB اور وزارت داخلہ کی رپورٹ سے مطابقت رکھتی ہے اورمظاہرین کے غیرقانونی اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے،بشمول آٹھ سال کے شدید علیل بچے کی موت پر۔ ISI کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ بھی IB، وزارتِ داخلہ اور IGP اسلام آباد کی رپورٹس کی نفی نہیں کرتی۔

● 25 نومبر 2017 کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا لیکن ناکام رہے اور ان میں سے 173 شدید زخمی ہونے کے بعد ہار مان بیٹھے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو آتشی اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور انہیں صرف اینٹی روٸٹ ایکوپمنٹ مہیا کی گئی تھیں۔ ” ہجوم/مظاہرین پہلے سے تیار تھے، انہوں نے اسلام آباد راولپنڈی کے اطراف نصب کیمروں کے تار کاٹ ڈالے تھے۔ انکی منصوبہ بندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں علم تھا کہ یہ CCTV کیمرے ہیں اور انکے ذریعے انکی نقل وحرکت کی نگرانی کی جارہی تھی“۔ بعد ازیں حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کو بروئے کار لاکر آرمی سے تعاون طلب کیا۔ تاہم اس سے پہلے کہ آرمی تعینات کی جاتی، 26 نومبر 2017 کی رات کو حکومت اور مظاہرین کے درمیان تنازعے کا تصفیہ ہوگیا اور TLP اور اسکے حامی وردی میں ملبوس شخص سے پیسے وصول کرکے منتشر ہوگئے۔

● ہم نے پیمرا، وزارتِ دفاع اور ISI سے (19 مارچ 2018، 24 اکتوبر 2018 بالترتیب) اضافی معلومات حاصل کرلی تھیں۔ نا معلوم وجوہات کی بناء پر یہ کیس اگلے پانچ مہینوں تک مکمل نہیں کیا گیا۔ 11 اکتوبر 2018 کو ہم نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت دی کہ TLP کی بہ حیثیت سیاسی جماعت رجسٹریشن کے حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں کہ انہیں کن کواٸف کی بنیاد پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ معلومات جیسے کہ، آیا TLP نے سیاسی جماعتوں کے حوالے سے مرتب کیئے گئے کوڈ آف کنڈکٹ کی پاسداری کی ہے، یا اسے بیرونی امداد حاصل ہے یا اس میں غیر ملکی ممبران کی موجودگی پائی گئی ہے۔ 16 نومبر 2018 کو جب یہ معاملہ دوبارہ سنوائی کے لیئے آیا تو (مندرجہ ذیل پیراگراف میں) یہ نوٹ کیا گیا کہ بہت سی معلومات ابھی مہیا نہیں کی گئیں ہیں:

1. پچھلی سنوائی کے دن ISI نے اپنی رپورٹ CMA NO. 8712/2018 جس پر آج غور کیا گیا۔ فاضل DAG کی مدد سے ہم نے اس رپورٹ کا جاٸزہ لیا،جو یہ بتاتی ہے کہ ISI اس بات کی تفتیش نہیں کرسکتی کہ آیا کوئی شخص بینک اکاٶنٹ کا حامل ہے اور نا یہ کہ آیا وہ ٹیکس دہندہ ہے کہ نہیں۔ اس قسم کی معلومات صرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بیورو آف ریوینیو حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ڈاٸریکٹر (لیگل) بریگیڈیر فلک ناز سے ISI کے قوانین/ریگولیشنز/انسٹرکشن کے بارے میں انکواٸری کی جو کہ ISI کے مینڈیٹ کا تعین کرتے ہیں۔ انہوں نے عرض کی کہ ISI کو ”ملکی قوانین“ کے تحت چلایا جاتا ہے، لیکن کسی وضع کردہ مخصوص قانون کے بغیر۔ اس حوالے سے ہم نے سیکریٹری وزاتِ دفاع کو ہدایت کی کہ بتائیں کہ ISI کس وزارت کے ماتحت ہے، اور فاضل AGP کو ISI کے قوانین/ریگولیشنز/انسٹرکشن اور اسکا مینڈیٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

2. ہم یہ امید کرتے ہیں کہ فاضل AGP ان معاملات پر جو آج نوٹ کیئے گئے یا اس پہلے کے آرڈرز کے حوالے تیاری کرکے شرکت کریں۔ ہمیں مظاہرے کے پیرامیٹرز کے تعین کی ضرورت ہے اور یہ کہ حکومت کو ان سے کیسا برتاٶ کرے۔ اس حوالے سے کہ آیا اس مظاہرے اور پچھلے مظاہروں میں کوئی مماثلت ہے، اور پچھلے مظاہروں سے کیسے نمٹا گیا۔ بشمول 12 مئی 2007 کا کراچی کا مظاہرہ اور PTI و PAT کا اسلام آباد ڈی چوک کا دھرنا۔

3. سنوائی کی کاروائی آنے والے 22 دسمبر 2018 کو جاری رکھی جائے گی۔

● اس کیس کی ساری سنوائیاں کھلی عدالت میں کروائی گئیں۔ ہم نے متاثرہ افراد یا وہ لوگ جنکے مفاد پر اسکے اثرات مرتب ہوئے ہوں، دستاویزات اور تحریری بیان جمع کروانے کی اجازت دی۔ دو درخواستیں جمع کروائی گئیں۔ پہلی درخواست اس عدالت کے سینئیر ایڈوکیٹ سید افتخار حسین گیلانی کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ عام حالات میں انکی رہاٸشگاہ سے سپریم کورٹ تک کا سفر پینتیس منٹس کا ہے، جودھرنے کی وجہ سے تین گھنٹے کا ہوگیا تھا۔ انہوں نے شکایت کی کہ انتظامیہ نے محاصرانہ ذہنیت اختیار کرکے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیئے سڑکوں کے اطراف بڑے بڑے شپنگ کنٹینرز لگا دئیے۔ انہوں نے اسکی نشاندہی بھی کی کہ مظاہروں کے پورے ملک میں پھیلنے کی وجہ سے معیشت کا بھاری نقصان ہوا۔ دوسری درخواست اسلام آباد کے مقامی ایڈوکیٹ جناب سراج احمد کی جانب سے داٸر کی گئی، انہوں نے توجہ دلائی کہ حکومت کے متضاد رویہ کی وجہ سے مظاہرین کے ساتھ مختلف رویہ رکھا گیا۔ انہوں نے حوالہ دیا کہ 2014 میں دو پارٹی PTI اور PAT کے دھرنے کے دوران حکومت نے مظاہرین کو نہیں ہٹایا تھا، جو پریزیڈینسی، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، وزیراعظم ہاٶس اور کیبنٹ سیکریٹیریٹ کے آگے جمع تھے، تمام کے تمام اس علاقے میں اکھٹے تھے جسے ‘ریڈ زون’ قرار دیا گیا ہے۔ PTI-PAT دھرنے کے دوران مظاہرین تین ماہ سے زاٸد عرصے تک کے لیئے ڈی چوک اور کانسٹیٹیوشن ایوینیو پر خیمہ زن ہوگئے تھے۔ وہ کورٹ سے یہ بھی چاہتے ہیں کہ انکی تفتیش بھی کرے جنہوں نے ” قانونِ الہی میں چھیڑ چھاڑ کی اور آئینِ پاکستان کو توڑنے کے ذمہ دار ہیں۔

● اس کیس کی آخری سنوائی 22 نومبر 2018 کو کی جائے گی، جب ہم دوبارہ فاضل AGP اور دیگر لوگوں کو سنیں گے۔ تمام لوگوں کو سننے کے بعد ہم نے دستاویزات، رپورٹس، اور تحریری دلاٸل جمع کروانے کے لیئے چار ہفتے کی اضافی مہلت دی گئی۔ تاہم چار ہفتے ختم ہونے کے بعد کوئی درخواست داٸر نہیں کی جاسکے گی اور یہ مہلت 22 دسمبر 2018 کو ختم ہوئی تھی۔

● جس وقت یہ کیس شروع ہوا تھا تو وفاق اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ(نواز) PML-N کی حکومت تھی. اس وقت کے وزیراعظم جناب محمد نواز شریف تھے اور AGP کا عہدہ اشتر اوصاف علی نے سنبھالا ہوا تھا۔ 25 جولائی کے جنرل الیکشن کے بعد دونوں جگہوں پر PTI کی حکومت نے چارج سنبھالا۔ جناب عمران خان وزیراعظم بن گئے اور جناب انور منصور خان نے AGP کا عہدہ سنبھالا۔ جناب انور منصور خان، پنجاب اور دارالحکومت کے لاء آفیسرز ان رپورٹس کے حق میں تھے جو PML-N کی حکومت میں جمع کروائی گئی تھیں۔

گزشتہ مظاہرے اور TLP کا دھرنا

● جناب سراج احمد نے اپنی درخواست میں شکایت کی تھی کہ PTI-PAT کے 2014 کے دھرنا مظاہرین کے ساتھ وہ برتاٶ نہیں کیا گیا جو TLP کے ساتھ روا رکھا گیا۔ ہم 12 مئی 2007 کراچی خونریزی (جسکا حوالہ ہم دے چکے ہیں)، 2014 اسلام آباد میں PTI-PAT کے دھرنے اور TLP فیض آباد دھرنے کے حوالے سے حکومتی برتاٶ کے اس فرق کو سمجھنا چاہتے تھے، کیا حکومت کی جانب سے پچھلے اجتماعات سے مختلف طریقے سے نمٹا گیا تھا؟

● 12 مئی 2007 کراچی خونریزی: جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2007 کو برطرف کردیا۔ جوڈیشری کے نفاذ اور خودمختاری کی حفاظت کے لیئے ” دی لاٸرز موومنٹ“ نامی ایک پرامن تحریک سامنے آئی۔ 12 مئی 2007 کو چیف جسٹس نے کراچی کی پرواز لی۔ وکلاء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد چیف جسٹس کا ائیرپورٹ پر استقبال اور ان سے مل کر عدلیہ کی خودمختاری کی حمایت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ تاہم جنرل پرویز مشرف یہ نہیں چاہتے تھے کہ چیف جسٹس کا استقبال کیا جائے۔ ٹرک کے ذریعے بڑے بڑے شپنگ کنٹینرز لاکر موباٸل کرینز کی مدد سے ائیرپورٹ جانے والے راستوں پر رکھ دئیے گئے لیکن ان اقدامات سے لوگوں کو روکا نا جاسکا اور لوگوں نے اپنی سواریاں راستے میں ہی چھوڑ دیں اور پرامن طریقے سے ائیرپورٹ کی طرف پیدل روانہ ہوگئے اور یہی وہ وقت تھا جب انہیں اسلحہ برداروں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا۔ 12 مئی 2007 کے دن 55 افراد کو قتل کردیا گیا اور سینکڑوں گولیوں سے زخمی ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ MQM اور اسکے قاٸد الطاف حسین نے جنرل مشرف کی حمایت کی۔ اتفاق سے، جو شپنگ کنٹینرز روڈ بلاک کرنے کے لیئے پورٹ سے لائے گئے تھے وہ پورٹ، پورٹس کے وفاقی وزیر کے داٸرہ کار میں تھا اور وہ وزیر MQM کا نماٸندہ تھا۔

● 2014 میں PTI-PAT کا اسلام آباد دھرنا: PTI اور PAT کے حامیوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ 11 مئی 2013 کے جنرل الیکشن کا نتیجہ دھاندلی کی بنیاد پر سامنے آیا تھا۔ مظاہرین قومی اسمبلی کے باہر خیمہ زن ہوگئے تھے، اور دیر رات تک اونچی آواز میں میوزک چلا تے تھے، جس سے اطراف کے علاقوں کے لوگوں کا سکون اور نیند برباد ہوگیا تھا۔ درخواست گزار حتی کے جج صاحبان سپریم کورٹ تک پہنچنے کے لیئے متبادل راستے ڈھونڈنے پر مجبور تھے۔ PTI-PAT دھرنا کانسٹیٹیوشن ایوینیو پر موجود تھا لیکن اسنے پورے دارالحکومت کو مفلوج نہیں کیا تھا۔ مستقل دباٶ کے نتیجے میں PML-N کی حکومت PTI کے صدارتی آرڈیننس کے تحت جوڈیشل کمیٹی کے قیام اور اسکے ذریعے جنرل الیکشن 2013 کی انکواٸری کے مطالبے پر راضی ہوگئی۔ ” اسٹیٹمنٹ آف آبجیکٹس اینڈ ریزنس آف دی آرڈیننس“ معاملے کی وضاحت کرتا ہے:

ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جنرل الیکشن 2013 دھاندلی کے الزامات لگائے گئے، جسکا اقتدار پر براجمان دوسری سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے انکار کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے مابین یہ طے پایا ہے کہ جنرل الیکشن 2013 دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے حوالے سے ایک انکواٸری کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جنرل الیکشن 2013 انکواٸری کمیشن سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل ہوگا جو وفاقی حکومت کی درخواست پر چیف جسٹس کی جانب سے تعینات کیئے جائیں گے۔ یہ کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کرے گا کہ جنرل الیکشن 2013 کا انعقاد غیرجانبدارانہ، ایماندارانہ، شفاف اور آئینی طریقے سے کرایا گیا تھا، یا جنرل الیکشن 2013 میں منظم طریقے سے سازباز کی گئی، یا اسے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، اور ان بنیادوں پر کامیاب امیدوار کو ملنے والا مینڈیٹ شفافیت کا عکاس ہے کہ نہیں۔

یہ آئینی جوڈیشل کمیشن جناب ناصرالملک کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا، جو بعد میں پاکستان کے چیف جسٹس بھی رہے۔ آپ اور دو سینئیر جج صاحبان اس انکواٸری کمیشن کے ممبران تھے۔ کمیشن اس نتیجے پر پہنچی کہ ” جنرل الیکشن 2013 کا انعقاد بڑے پیمانے پر شفاف اور قانون کے عین مطابق کرایا گیا“۔ کمیشن کی تحقیقاتی نتاٸج پر PTI نے کسی قسم کا اعتراض ظاہر نہیں کیا۔

● ہم نے تین مختلف مظاہروں میں ریاست کے برتاٶ پر غور کیا۔ 12 مئی 2017 کو غیر مسلح شہری چیف جسٹس آف پاکستان کے استقبال کے لیئے ائیرپورٹ جانا چاہتے تھے۔ آئین انکی نقل وحرکت کی آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم شہریوں کو ائیرپورٹ جانے سے روکا گیا۔ ریاست جو عوام کے خرچ پر چلائی جاتی ہے، اسکی جانب سے سڑکوں پر کنٹینر لگائے گئے۔ اس سے بھی شہری باز نہ آئے اور پیدل آگے بڑھنے لگے تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ جس کے نتیجے میں ایک دن کے اندر پچپن افراد جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ سات سال کے بعد PTI-PAT دھرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین ارکان پر مشتمل انکواٸری کمیشن نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جنرل الیکشن 2013 کے نتاٸج مکمل طور پرعوامی مینڈیٹ کی عکاسی کرتے تھے۔ البتہ تین سال کے بعد ملک کو ایک اور دھرنے کا سامنا کرنا پڑا جو TLP کی جانب سے دیا گیا تھا۔

تحریک لبیک پاکستان کا طریقہ کار

● یقیناً یہ بات تحریک لبیک پاکستان کی لیڈر شپ کے علم میں ہوگی کہ 12 مئی 2007 کے روز کراچی میں دن دھاڑے معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس سازش کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور اسکا فاٸدہ اٹھانے والوں کو اب تک کوئی سزا نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا ہوگا کہ جب PTI-PAT کئی مہینوں تک احتجاجاً ریڈ زون میں خیمہ زن رہی تو اس نے جوڈیشل انکواٸری کمیشن کے قیام کے ہدف کو حاصل کرلیا۔ تاہم انکواٸری کمیشن کی تفتیش کے نتاٸج کے مطابق PTI کے الزامات غلط ثابت ہوئے لیکن PTI نے اس سلسلے میں کسی قسم کی معذرت پیش نہیں کی اور نا دھرنے کے مقام کی صاف ستھرائی اور تعمیرنو کے سلسلے میں کوئی ادائیگی کی۔ اسکے برعکس PTI نے دھرنے سے مفت میں بے پناہ عوامی شہرت حاصل کرلی۔ TLP مسلمان امیدواروں کے لیئے الیکشن فارم میں موجود مخصوص حلف نامے کے اصل الفاظ ”میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں“ کی بحالی کا مطالبہ کرچکی تھی۔ حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیا اور فارم کی درستی کردی گئی۔ IB، وزارتِ داخلہ ، ISI اور IGP اسلام آباد کی رپورٹس کے مطابق TLP اس معاملے سے زیادہ سے زیادہ سیاسی فاٸدہ اٹھانا چاہتی تھی۔ اس سرگرم نوزائیدہ سیاسی پارٹی نے خود کو اسلامی عقاٸد کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور نفرت کو ہوا دی، مغلظات اور تشدد کا راستہ اپنایا، اور 163،952،000 روپے کی مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ TLP نے ملکی معیشت کو قریب قریب عملی طور پر روک کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان کی 2017 کی GDP کی مالیت 32،406،956،000،000 روپے تھی۔ اس لحاظ سے ایک دن کے شٹ ڈاٶن پر 88،786،180،821 روپے کی مالیت کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ انٹیلیجنس ایجنسیز نے رپورٹ دی کے فیض آباد انٹرچینج پر موجود دھرنے میں TLP کے قاٸدین کے پاس سیاستدان آتے جاتے رہے۔ TLP کو میڈیا پر پراٸم ٹاٸم کے اوقات میں مفت کی کوریج اور شہرت ملی، راتوں رات اسکی مقبولیت گھر گھر پہنچ گئی۔ نتیجتاً اس جماعت کے دو ارکان نے الیکشن میں سندھ اسمبلی کی دو سیٹ پر کامیابی حاصل کرلی اور TLP نے 25 جولائی 2018 کے الیکشن میں بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کیئے۔

احتجاج کا حق

● آئین بطور خاص احتجاج کے حق کو بیان نہیں کرتا۔ تاہم جمہوریت اس نوعیت کے حق کو تسلیم کرتی ہے، یہ جمہوری طریقہ ہی تھا جس کے ذریعے پاکستان حاصل کیا گیا۔ برصغیر کی عوام نے آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کی کوششوں کے نتیجے میں Britsh-Colonial rule سے آزادی حاصل کی; انہوں نے پرامن مظاہرے اور احتجاج کیئے، جلسوں کا انعقاد کرایا اور الیکشن کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا، نتیجے کے طور پر دو آزاد ریاستیں، پاکستان اور ہندوستان وجود میں آئے۔ ہمارے آئین کو جمہوریت نے تھاما ہوا ہے۔ پاکستانی عوام نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 2A میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ ”پاکستان ایک جمہوری ریاست ہوگی“ اور اسکے شہری ”جمہوریت کے تحفظ کے لیئے خود کو وقف کریں گے“۔ شہریوں کوحکومت یا اتھارٹی کے کسی فیصلے یا حکم کے خلاف پرامن احتجاج اور مظاہروں کا حق حاصل ہے۔ احتجاج کا حق ” پر امن طریقے سے اکٹھا ہونے کا حق“ ، ” یونین یا ایسوسی ایشن بنانے کا حق“،”سیاسی جماعت کے قیام یا سیاسی جماعت میں شمولیت کا حق“ اور ”آزادیِ اظہارِرائے کا حق“ پر دلالت کرتا ہے۔

ریاست کی ناکامی

تحریک لبیک پاکستان اور اسکے حامی شہری زندگی کو مفلوج بنانے کے لیئے مکمل طور پر پرعزم تھے۔ تاہم اس صورت حال سے نمٹنے کے لیئے حکومت کی طرف سے ناکافی انتظامات کئے گئے تھے۔ اس حوالے سے کوئی قبل ازوقت منصوبہ بندی بھی نہیں کی گئی تھی کہ مختلف اقسام کے واقعات کو رونما ہونے سے کیسے بچایا جائے گا۔ اس وقت بھی ماضی جیسے واقعات سے نمٹنے کا کوئی قبل از وقت منصوبہ موجود نہیں ہے۔ ابھی تک یہ واضح بھی نہیں ہے کہ مختلف اداروں کے درمیان مطلوبہ ہم آہنگی موجود ہے بھی یا نہیں۔ بصیرت و صراحت کا فقدان ہے اور تذبذب کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آف اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری نے TLP لیڈرشپ کو خط میں لکھ دیا تھا کہ ایک آرڈر کریمینل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 144 کے تحت جاری کیا جاچکا ہے، جو عوامی اجتماعات کی ممانعت کرتا ہے اور اسکی پاسداری کے لیئے خبردار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان کو اس بات سے بھی آگاہ کردیا تھا کہ اگر وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو یہ سب انہیں ڈیموکریسی پارک اور اسپیچ کارنر پر کرنا چاہیے اور اگر وہ لانگ مارچ یا ریلی نکالنا چاہتے ہیں تو اسکی اجازت انہیں پہلے سے لینی ہوگی۔ TLP لیڈرشپ نے ڈپٹی مجسٹریٹ کے خط پر کوئی توجہ نہیں دی، پھر بھی اس حوالے سے انکے خلاف کوئی اپیل داٸر نہیں کی گئی۔ جب قانون شکنی کرنے والوں کو معلوم ہو کہ اسکی کوئی سزا نہیں ہوگی تو دوسروں کو شہہ ملتی ہے۔ پاکستان کے شہری اپنے بنیادی حقوق کو برقرار رکھے جانے کے حوالے سے ریاست پر بھروسہ کرتے ہیں۔ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، انکی املاک کی حفاظت کی جانی چاہیے اور انہیں آزادنہ نقل و حرکت کی اجازت ہونی چاہیے۔ تاہم ریاست نے انہیں مایوس کیا۔

پر امن طریقے سے اکٹھا ہونے کا حق

● آئین کے آرٹیکل 16 کے مطابق دی گٸ آزادی، ” امن وعامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عاٸد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو پرامن طور پر اور اسلحہ کے بغیر جمع ہونے کا حق ہوگا“، اس بات سے مشروط ہے کہ ” امن وعامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عاٸد کردہ پابندی“۔ اکٹھا ہونے کے حق کو جمہوریت بچانے کے حق کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، مگر اسے کسی قانونی حکومت کو معزول کرنے کے لیئے استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نا تو اکٹھا ہونے کے حق کو انقلاب لانے یا بغاوت کے لیئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان اصولوں کو اسلامک ریپبلک آف پاکستان v عبدالولی خان کیس میں بیان کیا گیا تھا:

یہ کہے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ اکٹھا ہونے کا حق کسی جمہوری سیاسی نظام کی حفاظت کے لیئے انتہائی اہم حق ہے لیکن اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کوئی بھی ریاست ایسی کوئی بات یا عمل برداشت نہیں کرسکتی جو کسی ایسی حکومت کو گرانے کی دھمکی کے طور پر کی یا کہی جائے، جو قانونی اور آئینی طور پر وجود میں آئی ہو۔ ایسی صورتحال میں ایسے اجتماع کو غیرقانونی اور غیرآئینی تصور کیا جائے گا۔ جیسا کہ امریکن سپریم کورٹ کے کیس American Communications V. Douds میں دیکھا گیا تھا کہ ” آزادیِ اظہاررائے، پریس اور اسمبلی کی بقا کا انحصار آئینی حکومت کی طاقت پرہوتا ہے۔ اسکے پاس یہ طاقت لازمی ہونی چاہیے کہ وہ غیرقانونی اقدامات سے خود کو محفوظ رکھ سکے، مخصوص حالات میں، ایسی ترغیبوں سے جو غیرقانونی اقدامات پر اکساتے ہیں“

پبلک آرڈر کو قاٸم رکھنا کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کوئی وفاقی یا صوبائی حکومت کے خلاف نفرت یا توہین پر مبنی خیالات و نظریات کا پرچار کرے تو یہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 124A کے تحت قابلِ سزا جرم ہے، ایسے کسی اقدام پر قید یا عمر قید کی سزا ہے۔ TLP نے لڑائی جھگڑے اور فساد کا بیج بویا، اس نے ہجوم کی حکمرانی، فسادات اور املاک کو نقصان پہنچانے کی روایت قاٸم کی۔

● یونائیٹڈ کنگڈم کا ہاٶس آف لارڈ یہ تعین کرچکا ہے کہ،” اکٹھا ہونے کا حق، مظاہرے کا حق، اہم ترین حق ہے لیکن انگلش لاء میں یہ حق غیرمشروط/مطلق نہیں ہے، اسے ان حدود کی کی پاسداری کی ضرورت ہے جہاں کسی اور کے حقوق نظرانداز نہ کیئے جائیں۔ عوامی مقامات اور عوامی شاہراٶں پر اجتماعات کے حوالے سے یہ دیکھا جائے گا کہ:

یہ معقول ہوں، کسی عوامی یا نجی تکلیف کی وجہ کے مرتکب نہ ہوں، بغیر کسی معقول وجہ کہ ہائی وے پر رکاوٹ کا باعث نا ہوں کیونکہ اس پر سے بغیر کسی رکاوٹ کا آنا جانا عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہیں کسی متعین بات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ان معیارات پر پورا اترتے ہوں تو یہ انکا عوامی حق ہوگا کہ وہ پرامن طریقے سے عوامی مقامات اور شاہراہوں پر جمع ہوسکیں۔

● آزادانہ نقل و حرکت کا حق، پرامن اجتماع کا حق اور آزادی اظہاررائے (آئین کے آرٹیکل 15، 16 اور 19 بالترتیب ) انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 19 میں دئیے گئے ہیں لیکن انڈیا میں بھی یہ حقوق مطلق نہیں ہیں۔ انڈین سپریم کورٹ بیمل گرون V یونین آف انڈیا کیس میں اسکی وضاحت کی گئی ہے کہ:

مظاہرے چاہے سیاسی، مذہبی، سماجی یا کسی اور قسم کےمظاہرے، جو عوامی زحمت کا باعث ہوں یا کسی اور قسم کی پریشانی کی وجہ ہوں،کسی قسم کے عوامی یا نجی پریشانی کی وجہ بنے، وہ آئین کے آرٹیکل (1) 19 کے تحفظ کے داٸرے میں نہیں آتے۔ کوئی مظاہرہ اجتماع میں بدل سکتا ہے۔ مظاہرے اجتماع کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ نیّت کسی شخص یا اتھارٹی تک مجتمع لوگوں کا پیغام پہنچانا ہو۔ حالات کے زیرِاثر یہ اجتماعات پرشور اور بدنظمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہجوم کی طرف سے پتھراٶ کو بدنظمی پر مبنی پرتشدد احتجاج کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ حقوق آئین کے آرٹیکل 19 کے شق( 1) (a) یا (b) میں درج نہیں کیئے گئے ہیں۔

”ری رام لیلا میدان کیس“ میں انڈین سپریم کورٹ نے غور کیا کہ:

اجتماع کا/اکٹھا ہونے کا حق، ایسوسی ایشن کی آزادی اور آزادی اظہار رائے جیسے حقوق کو دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرکے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ پیشگی اجازت کے بغیر سڑکوں پرکسی قسم کی پبلک میٹنگ کا انعقاد نہیں کرایا جاسکتا ہے، اور نہ تو سڑکوں کو اجتماعات کے لیئے میدان سمجھا جاسکتا ہے۔ سڑکیں سواریوں کے استعمال کے لیئے اور فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیئے موجود ہیں تاکہ عوام ان پر آزادی سے سفر اور نقل حرکت کرسکیں، جو انکا بنیادی حق ہے۔

تحریک لبیک پاکستان اور الیکشن کمیشن

● آئین پاکستان کے آرٹیکل 17 کے مطابق ”ہر وہ شخص جو پاکستان کا سرکاری ملازم نہیں ہے، اسے یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی سیاسی جماعت تشکیل دے سکے یا کسی سیاسی جماعت کی رکنیت اختیار کرسکے“ ، البتہ یہ بنیادی حق بذاتِ خود ایک شرط پر دلالت کرتا ہے کہ ”ہر ”پاکستانی شہری “ کو یہ حق حاصل ہوگا“۔ سیاسی جماعتوں کو اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے،جیسے ”پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر معتصب ہونا“(آرٹیکل (2) 17) اور آئین پاکستان کے آرٹیکل (3) 17 کے مطابق ” ہرسیاسی جماعت قانون کے مطابق اپنے مالی ذراٸع کے ماخذ کے لیئے جواب دہ ہوگی“ ۔ TLP کو پولیٹیکل پارٹیزآرڈر 2002 کے تحت 25 مارچ 2017 کو انکی درخواست پر بہ حیثیت سیاسی جماعت رجسٹر کیا گیا تھا۔ یہی پولیٹیکل پارٹیزآرڈر 2002، الیکشن ایکٹ 2017 کا متبادل/قاٸم مقام تھا، 2 اکتوبر 2017 کے روز۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے داخل کرائے گئے دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا ایک رہاٸشی، جو اوورسیزپاکستانیوں کے لیئے مخصوص شناختی کارڈ ” NICOP “ کا حامل ہے، جسکے مطابق وہ پاکستان میں ویزا فری داخلہ کا حقدار ہے، الیکشن کمیشن میں درخواست گزاری سے پہلے TLP کی نماٸندگی کرتا تھا نیز تمام پارٹی معاملات بھی طے کرتا تھا، اسی نے TLP کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کروایا تھا۔ پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002، کے ذیلی دفعہ (3) اور (4) (پرانا قانون) اور 2017 کے الیکشن ایکٹ (نیا قانون) کی دفعہ 200 کی ذیلی دفعہ (4) سیاسی جماعتوں پر پابندی لگاتی ہے کہ:

1. کسی ایسے عمل یا نظریے کی مخالفت کے پرچار پرجسے آئین کے بنیادی اصولوں میں شامل کیا گیا ہو۔

2. پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کو یا پبلک آرڈر کو سبوتاژ کرنے، یا دہشت گردی میں ملوث ہونے پر۔

3. فرقہ وارانہ، علاقائی اور صوبائی نفرت وعداوت کے فروغ پر۔

4. عسکریت پسند گروہ کے نام کا سہارا لینے یا استعمال پر، یا سیاسی جماعت کے اراکین کا کسی عسکریت پسند گروہ کی رکنیت پر۔

5. اپنے کارکنان کو کسی قسم کی ملٹری یا پیرا ملٹری تربیت دلوانے پر۔

6. بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی تنظیم کی تشکیل یا قیام پر۔

یہ جملہ ”بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی تنظیم“ کے مفہوم میں یہ معنی بھی شامل ہے کہ ”اپنے کل فنڈز کا کچھ حصہ غیر ملکیوں سے حاصل کرنے والی پارٹی“۔ (الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 212 کے تحت )۔

● اگر کوئی سیاسی جماعت ” بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی جماعت ہے یا پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف کام کررہی ہے یا دہشت گردی میں ملوث ہے“ تو الیکشن کمیشن وفاقی حکومت کو الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 212 کے تحت ریفرنس بھجواسکتی ہے۔ درخواست داٸر کرنے کے بعد وفاقی حکومت نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے کہ یہ بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی جماعت ہے، پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف کام کررہی ہے یا دہشت گردی میں ملوث ہے۔ حکومت کو پچاس دن کے اندر اس نوٹیفیکیشن کو کاروائی کے لیئے سپریم کورٹ بھجوانا ہوتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ وفاقی حکومت کے نوٹیفیکیشن کو برقرار رکھتی ہے تو پھر وہ سیاسی پارٹی تحلیل کردی جاتی ہے۔

● الیکشن کمیشن کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ TLP نے اپنی فنڈنگ کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی تھی جبکہ انہیں بار بار اسکی ہدایت کی جاتی رہی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے TLP کو الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 211 ،اور الیکشن رولز 2017 کے رول (2) 161 کے تحت نوٹس بھیجا گیا، جسکے مطابق سیاسی جماعتوں سے درج ذیل مالیاتی تفصیلات طلب کی گٸ:

الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 211

1. سیاسی پارٹی کمیشن کو ان افراد کی فہرست فراہم کرے گی جو پارٹی کو ایک لاکھ یا اس سے زاٸد مالیت کا چندہ دیتے ہیں یا الیکشن مہم کے اخراجات کی مد میں خرچ کرتے ہیں۔

2. سیاسی پارٹی کمیشن کو الیکشن مہم پر آنے والے اخراجات کی مالیت کی تفصیلات فراہم کرے گی۔

الیکشن رولز 2017 کا رول (2) 161

اس قانون کے تحت الیکشن کے اخراجات کی تفصیلات جس دن سے نوٹیفیکشن جاری ہوا اس دن سے لے کر ساٹھ دن کے اندر اندر اس امیدوار کو جمع کروانی ہوگی جسکے نام پر سرکاری گزٹ جاری ہوا ہے۔

ڈاٸریکٹر جنرل (لاء) اور سیکریٹری الیکشن کمیشن نے تصدیق کی کہ TLP نے مذکورہ مالیاتی معلومات فراہم نہیں کی، ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ قوانین صرف دکھاوے کے لیئے ہیں اس لیئے الیکشن کمیشن TLP کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر رہا۔

● الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ آئین کی شرط ہے کہ الیکشن کمیشن اس بات کی ضمانت دے گا کہ ” الیکشن کا انعقاد قانون کے مطابق ایماندارنہ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے کرایا جائے گا اور اسے غیرآئینی اقدامات سے محفوظ رکھا جائے گا“ ۔ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل (219e) کے مطابق یہ ذمہ داری لینے کی بھی ضرورت ہے کہ ” ایسے دوسرے کارہائے منصبی انجام دے جنکی صراحت مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے کردی گئی ہو“۔ آئین کا آرٹیکل (3) 17، سیاسی جماعتوں سے مانگ کرتا ہے کہ وہ اپنی فنڈنگ کے ذراٸع کی تفصیلات فراہم کریں اور الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 211 ، الیکشن اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ TLP سے انکے الیکشن اخراجات اور فنڈ سے متعلق جواب طلبی نہیں کی گئی تھی، بلکہ انہوں نے حیرت انگیز طور پر اپنی بے چارگی کا اقرار کیا کہ اس حوالے سے متعلقہ قوانین بس دکھاوا ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اپنے تئیں یہ خام خیالی دور کرلینی چاہیے کے یہ آئینی اور قانونی شراٸط بس ایک دکھاوا ہیں۔ الیکشن کمیشن پر یہ ذمہ داری عاٸد ہوتی تھی کہ وہ ان قانونی تقاضوں کو پورا کریں، جو اختیاری نہیں لازمی ہیں۔ آئین الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ان معلومات کے حصول کے لیئے کسی بھی اعلی اتھارٹی سے مدد طلب کرسکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 220 کے مطابق ” وفاق اور صوبوں کے تمام حکام عاملہ کا فرض ہوگا کہ وہ کمشنر اور الیکشن کمیشن کو اسکے یا انکے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں مدد دیں“۔

آزادی اظہار رائے، تقریر، پریس اور PEMRA

● آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق اظہارِرائے، تقریر اور پریس کی آزادی بنیادی حقوق میں شامل ہیں:

” اسلام کی عظمت، پاکستان یا اسکے کسی حصے کی سالمیت،سلامتی یا دفاع، غیرممالک سے دوستانہ تعلقات، امن وعامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظریا توہینِ عدالت، کسی جرم کے ارتکاب یا اسکی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عاٸد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ہر شہری کو تقریر اور اظہارِ خیال کا حق حاصل ہوگا، اور پریس کی آزادی ہوگی“۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی PEMRA آرڈینس 2002، مندرجہ بالا آئین کے آرٹیکل 19 کے شراٸط کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی بروڈکاسٹ پر پابندی عاٸد کرتا ہے جس ” جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرے، قانون کے نفاذ کے حوالے سے معتصب ہو یا عوامی امن کو برباد کرے“۔ پیمرا اسی شرط پر لاٸسنس جاری کرتا ہے کہ براڈکاسٹ ”تشدد کی حوصلہ افزائی،دہشت گردی، نسل پرستی، مذہبی یا قومی تعصب،فرقہ واریت، انتہا پسندی، نفرت اور شدت پسندی“ پر مبنی نہ ہو۔

● تحریک لبیک پاکستان نے لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کی۔ انہوں نے دھمکی، تشدد اور گالی گلوچ کا راستہ اپنایا اور کچھ پرائیوٹ چینلز نے یہ سب کچھ براڈکاسٹ کیا۔ ISI کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ “Channel 92” نے بطور ٹی وی چینل TLP کو سپورٹ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسکے مالکان نے فیض آباد انٹرچینج بلاک کرنے والے مظاہرین کو خوراک بھی فراہم کی۔ تاہم پیمرا آرڈینس کے تحت پیمرا نے لاٸسنس شدگان کے خلاف کوئی لاروائی نہیں کی، جب وہ ان شراٸط کی خلاف ورزی کررہے تھے جن کی بنیاد پر انہیں لاٸسنس دیا گیا تھا۔ پیمرا نے اپنی آئینی ذمہ داری کو فراموش کردیا تھا، ایسا فرض جس کو ادا کرنا ان پر لازم تھا۔

● پیمرا اپنے لاٸسنس یافتہ براڈکاسٹرز کے قانونی حقوق ادا کرنے میں بھی ناکام رہا۔ ڈان اور جیو ٹی وی کی نشریات منقطع کردی گئیں۔ پیمرا کی جانب سے ان شکایات کو تسلیم کیا گیا۔ ڈان اور جیو کو پورے ملک میں ڈیفینس ہاٶسنگ اتھارٹی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، پیمرا نے اسکی بھی تصدیق کی۔ لیکن افسوس کے پیمرا منہ پھیر کر کھڑا رہا اور اسنے اپنے لاٸسنس یافتگان کے مفادات کی حفاظت کے لیئے ان کیبل آپریٹرز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جو اس میں ملوث تھے۔ 19 مارچ 2018 اور 24 اپریل 2018 کو پیمرا سے معلومات طلب کی گئی کی اس میں کون لوگ ملوث تھے لیکن پیمرا نے اس حوالے سے اپنی بے خبری کا اقرار کرلیا۔

● ہمارے حکم کی تعمیل پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ڈپٹی اتھارٹی جنرل فار پاکستان کے ذریعے رپورٹ جمع کروائی، اس میں نشاندہی کی گئی پریوینشن آف الیکٹرانک کراٸم ایکٹ 2016 کے تحت الیکٹرانک کے ذریعے نفرت آمیز تقریر یا دہشت گردی کا پرچار یا اسکی مدد ایک سنگین جرم ہے۔ اس ایکٹ کے سیکشن 11 اور12 کے مطابق:

(11) نفرت آمیز تقریر

اگر کوئی انفارمیشن سسٹم یا کسی ڈیواٸس کی مدد سے ایسا مواد تیار کرے یا پھیلائے جو بین المذاہب فرقہ واریت یا نسلی تعصب کو بڑھاوا دیتا ہو، تو اسے جرمانہ یا قید کی سزا دی جائے گی، دونوں سزائیں ساتھ بھی دی جاسکتی ہیں، اور قید کی مدت میں سات سال کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

(12) دہشت گردی کی فنڈنگ، تربیت اور منصوبہ بندی

اگر کوئی انفارمیشن سسٹم یا کسی ڈیواٸس کی مدد سے ایسا مواد تیار کرے یا پھیلائے جو لوگوں کو دہشت گردی کی فنڈنگ تربیت یا منصوبہ بندی کی دعوت و ترغیب دے، تو اسے جرمانہ یا قید کی سزا دی جائے گی، دونوں سزائیں ساتھ بھی دی جاسکتی ہیں، اور قید کی مدت میں سات سال کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

اگر الیکٹرانک کے ذریعے پھیلائے گئے نفرت اور تشدد کی تفتیش نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار کو سزا نہیں دی جائے گی، اگر قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظرانداز کیا جائے گا تو قوانین اپنی افادیت اور وقار کھو بیٹھیں گے۔

سینسرشپ

● ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات اپنی براڈکاسٹ اور پبلیکیشن کی ترسیل میں مداخلت کی شکایت درج کراچکے ہیں۔ اس لیئے ہم اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان شکایات کی حقیقت کیا ہے۔ جرنلسٹ آرگنائیزیشن، براڈکاسٹرز، اخبارات اور ایڈیٹرز نے شکایت کی تھی کہ میڈیا کو دبایا جارہا ہے بلکہ کچھ مواقعوں پر تو چپ کروادیا گیا۔ فیڈرل ایگزیکٹو کاٶنسل آف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ” PFUG“ کی قرارداد میں پریشان کن الزامات لگائے گئے ہیں:

پاکستان میں پریس کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پورے پاکستان میں ریاستی اداروں کی جانب سے غیراعلانیہ سینسرشپ لاگو کردی گئی ہے، جبر اور اشتہارات کی بندش، ہراسانی، حتٰی کہ صحافیوں پر حملے کے ذریعے۔ خاص طور پر جرنلسٹس اور مجموعی طور پر پورا معاشرہ مسلح افراد اور نام نہاد مذہب کے ٹھیکے داروں سے خوفزدہ ہے۔

کاؤنسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز ”CPNE“ ، ”میڈیا پر جبر“ کا الزام لگا چکی ہے کہ مخصوص حلقوں کی جانب سے جرنلسٹس اور ایڈیٹرز پر اپنے کام پر سیلف سینسر لگانے کا دباٶ ڈالا جاتا ہے۔ ایسے میں ریاستی اور غیرریاستی عوامل کو غیرآئینی اقدامات کی ترغیب ملتی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کا سب سے پرانے نیوزپیپر ”ڈان“ جسکی بنیاد قاٸداعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں ڈالی گئی، اسے سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے۔

● ظاہر اور پوشیدہ سینسرشپ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔ مبہم چالیں جیسے سلف سینسرشپ کا مشورہ، آزاد نقطہ نگاہ کی حوصلہ شکنی کرنا، مخصوص و معین خیالات کو پھیلانا اور یہ ہدایت دینا کہ کسے ادارے میں رکھنا ہے اور کسے نکالنا ہے، یہ سب غیرقانونی ہے۔ یہ عدالت ان عناصر کو تنبیہ کرچکی ہے جو ماضی میں ایسی شاطرانہ حرکتوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ یہ ہدایات دی جاچکی ہے کہ ٹیلی ویژن نشریات میں کوئی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے(یہاں ڈاکٹر شاہد مسعود V فیڈریشن آف پاکستان کیس کے تناظر میں بات کی گئی ہے)۔ صوبائی پولیس آفیسرز کو ہدایات دے دی گئی ہے کہ وہ قصورواروں کے خلاف کاروائی کریں۔ کوئی شخص، حکومت،محکمہ یا انٹیلیجنس ایجنسی آئین کے آرٹیکل 19 سے باہر جاکر آزادی اظہار رائے اور تقریر کے بنیادی حقوق میں تخفیف نہیں کرسکتی/کرسکتا۔ ایسے لوگ جو گمراہ کن نظریات کے زیر اثر یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی شاطرانہ چالوں سے مخصوص فواٸد حاصل کر سکتے ہیں، خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ پاکستان کا نظام آئین کے تحت چلایا جاتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق ” دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو واجب التعمیل ذمہ داری ہے“۔

● نصف صدی قبل سپریم کورٹ آف یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ کے جسٹس برینڈیز نے وضاحت کی تھی کہ کیوں امریکہ کے آئین میں تقریر اور اجتماع کی آزادی دی گئی ہے:

جن لوگوں نے ہماری آزادی حاصل کی تھی وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ یہ ریاست کی انتہائی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی استعداد میں اضافہ کرنے کی آزادی دے، اور یہ کہ انہیں چلانے کے لیئے دانشوروں اور مفکروں کو ان پرقاٸم رہنا چاہیے۔ وہ آزادی کو اسکے اصل معنوں میں اہمیت دیتے تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسرت کا راز آزادی میں پوشیدہ ہے اور آزادی کا راز جرأت میں ہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ خواہش کے مطابق سوچنے کی آزادی اور بولنے کی جو آپ سوچتے ہوں، سیاسی سچائیوں کی دریافت اور پرچار کے لیئے ناگزیر ہے; اسکے بغیر تقریر کی آزادی اور اجتماعی مکالمت لاحاصل ہوگی; مکالمت مہلک نظریات کے پھیلاٶسے تحفظ فراہم کرتی ہے; آزادی پر سب سے بڑی لعنت جامد سوچ رکھنے والے افراد ہیں; اور یہ کہ عوامی مکالمت سیاسی فرض ہے; اور یہ سب امریکی حکومت کا بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ وہ اس خطرے کا ادراک رکھتے تھے کہ تمام ادارے مشروط ہوں، لیکن وہ جانتے تھے کہ قوانین کی خلاف ورزی کو سزا کا خوف دلا کر روکا نہیں جاسکتا; خیالات،امید اور تخیلات کی حوصلہ شکنی کرنا مضر ہے; خوف جبر کی افزاٸش کرتا ہے; اور جبر نفرت کی افزاٸش کرتا ہے; نفرت مستحکم حکومت کے لیئے خطرہ ہے; سلامتی آزادانہ مکالمت میں ہے کہ اپنی تکلیف کا اظہار کیا جائے اور اسکا حل تلاش کیا جائے; اور یہ کہ برائی سے بچنے کا طریقہ اچھوں سے مشورت میں ہے۔۔۔۔۔لوگ چڑیلوں اور جلی ہوئی عورتوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ تقریر کا کام ہے کہ لوگوں کو غیرمنطقی خوف کے بندھنوں سے آزاد کرے۔

● پریس،تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت آئین میں بطور بنیادی حقوق دی گئی ہے۔ اس لیئے جسٹس برینڈیز کے اعلٰی ترین الفاظوں کا اطلاق ان آئینی حقوق پر بھی ہوتا ہے جو اِس مملکتِ عظیم کے شہریوں کو آئین کے ذریعے مہیا کیئے گئے ہیں۔ قاٸداعظم محمد علی جناح تنقید قبول کرتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ جرنلسٹس ذمہ دار، آزاد اور بے باک ہوں۔ انہوں نے فرمایا:

پریس کی طاقت بہت بڑی ہے، لیکن آپ کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ یہ طاقت جو آپ ک قبضے میں ہے وہ ایک بھروسہ ہے۔ اسے ایک بہت گہرے یقین کے طور پر دیکھیے، اور یاد رکھیے کہ آپ ایمانداری اور خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی رہنمائی ترقی اور فلاح و بہبود کی طرف کررہے ہیں. عین اس وقت پر، میں آپ سے توقع کرتا ہوں کہ مکمل طور پر بے خوف رہیں۔۔۔۔اگر میں غلطی کرتا ہوں یا اگر لیگ اپنی پالیسی اورپروگرام کے حوالے سے غلط سمت میں جاتی ہے، تو میں آپ سے توقع کرتا ہوں کہ آپ اس پر ایمانداری سے تنقید کریں۔

انٹیلیجنس ایجنسیز

● ISI کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی وہ TLP کے قاٸدین کی آمدنی کے ذراٸع ،کام کی جگہ، پتا، ادارے کی فنڈنگ وغیرہ کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کرسکتی۔ اسی سلسلے میں ہم نے یہ چھان بین بھی کی کہ آیا یہ بینک اکاٶنٹ ہولڈر ہیں اور انکم ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں۔ ISI نے بتایا کہ ہمارے پاس اس قسم کی معلومات جمع کرنے کا اختیار نہیں ہے تو اس لیئے ہم اس حوالے سے آپکے سوالات کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ فاضل AGP سے دریافت کیا گیا کہ ہمیں ان قاعدے قوانین اور ریگولیشنز اور اختیار کے بارے میں بتایا جائے جس کے تحت ISI کو چلایا جاتا ہے۔ فاضل AGP نے اس حوالے سے ایک مہربند دستاویز فراہم کی لیکن اس درخواست کے ساتھ کہ ISI کے مینڈیٹ کو افشا نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسکی رازداری کی کوئی توجیح پیش نہیں کی، بس یہ کہا کہ دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے لیکن اسکی کوئی مثال پیش نہیں کی۔ اس لیئے ہم نے یہ معلوم کیا کہ آیا دوسرے ممالک میں انٹیلیجنس ایجنسیز کے اختیارات کے حوالے سے اسی قسم کی رازداری برتی جاتی ہے۔

● یونائیٹڈ کنگڈم، یونائیٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے میں انٹیلیجنس ایجنسیز کو چلانے کے لیئے قوانین موجود ہیں اور یہ تمام قوانین افشا ہیں:

ممالک اور ان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں قوانین جن کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسیوں کو چلایا جاتا ہے

یونائیٹیڈ کنگڈم:

سیکرٹ انٹیلیجنس سروس (MI6)، سیکیورٹی سروس (MI5) اور گورنمنٹ کمیونیکیشنز ہیڈکواٹرز (GCHQ) سیکیورٹی سروس ایکٹ 1989، انٹیلیجنس سروس ایکٹ 1994، ریگولیشن آف انویسٹیگیٹری پاورز ایکٹ 2000، جسٹس اینڈ سیکیورٹی ایکٹ 2013 اور دی انویسٹیگیٹری پاورز ایکٹ 2016.

یونائیٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ:

سینٹرل انٹیلیجنس اتھارٹی (CIA) اور فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (FBI) دی نیشنل سیکیورٹی ایکٹ آف 1947، سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ایکٹ آف 1949، اور انٹیلیجنس ریفارم اینڈ ٹیررازم پریوینشن ایکٹ آف 2004.

نیوزی لینڈ:

نیوزی لینڈ سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس (NZSIS) انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی ایکٹ 2017.

آسٹریلیا:

آسٹریلین سیکیورٹی انٹیلیجنس آرگنائیزیشن (ASIO) اور آسٹریلین سیکرٹ انٹیلیجنس سروس (ASIS) آسٹریلین سیکیورٹی انٹیلیجنس آرگنائیزیشن ایکٹ 1979، اورانٹیلیجنس سروسز ایکٹ 2001.

کینیڈا:

کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس (CSIS) دی کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس ایکٹ 1984.

ناروے:

نارویجن انٹیلیجنس سروس (NIS)، نیشنل سیکیورٹی اتھارٹی (NSM) اور نارویجن ڈیفینس سیکیورٹی ایجنسی (FSA) دی اوور ساٸٹ آف انٹیلیجنس، سرویلینس اینڈ سیکیورٹی سروسز ایکٹ آف 1995.

گورنمنٹ نے کیس کے اس پہلو کو جس طرح نظر انداز کیا ہمیں اس سے مایوسی ہوئی; کسی مسٸلے کو نظرانداز کردینے سے وہ مسٸلہ ختم نہیں ہوتا۔ تاثر یہ ہے کہ ISI ان معاملات میں مداخلت کرتی ہے یا ملوث ہوتی ہے، جن سے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے بشمول سیاست، اس لیئے اس معاملے کو پسِ پشت نہیں ڈالا گیا۔

● پاکستان ائیرفورس کے کم عمر ترین سربراہ مرحوم ائیرمارشل اصغر خان اس بات پر فکر مند تھے کہ کچھ ISI اور آرمی آفیسرز سیاسی ایجنڈا پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے اس فکر کا اظہار سپریم کورٹ کے سامنے کیا تھا اور کورٹ نے اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت توجہ دی تھی کیونکہ یہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے عوامی اہمیت کا معاملہ تھا۔ اس کورٹ کا فیصلہ ”مسلح افواج“ کے حلف کا حوالہ دیتا ہے کہ مسلح افواج کے تمام اراکین ”پاکستان کی وفاداری اور آئین کی بالادستی“ کا حلف اٹھائیں گے، اور یہ کہ ”میں خود کو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کرونگا/کرونگی“ ۔ ائیرمارشل اصغرخان کیس کا فیصلہ بیان کرتا ہے کہ :

سیکرٹ ایجنسیاں جیسے ISI، MI، IB وغیرہ کے آفیسرز یا اراکین کے انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی غیر قانونی اقدام میں ملوث پائے جانے پر سخت کاروائی کی جائے گی، حلف شکنی کرنے یا غیرقانونی فعل میں ملوث ہونے پر ان کے ساتھ آئین کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔

● ائیرمارشل اصغرخان کیس کے فیصلے کے مطابق ISI یا مسلح افواج کے آفیسرز یا اراکین کی سیاست اور میڈیا میں مداخلت یا کسی اور ”غیرقانونی“ اقدام میں شمولیت یا مداخلت کو روکا جانا چاہیے۔ اسکے برعکس جب TLP دھرنے کے مظاہرین وردی والے سے نقد رقم وصول کررہے تھے تو یوں اس معاملے میں انکی شمولیت کا تاثر ملا۔ ڈی جی ISPR بھی سیاسی معاملے میں بیان دے چکے ہیں: ” تاریخ ثابت کرے گی کہ 2018 کے جنرل الیکشنز شفاف تھے“۔ مسلح افواج اور ایجنسیاں مسلح افواج کے اہلکاروں کے ذریعے چلائی جاتیں ہیں بشمول ISI، ملٹری انٹیلیجنس MI اور ISPR پاکستان کی خدمت کرتے ہیں، سب پاکستان کے شہری ہیں۔ انہیں کسی مخصوص سیاسی جماعت یا اسکے کسی دھڑے کی ہرگز حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر مسلح افواج کا کوئی رکن میڈیا کے خلاف/یا اسکے ذریعے جوڑتوڑ کرتا ہے یا اسکے ساتھ سیاست بازی کرتا ہے تو وہ مسلح افواج کی دیانت اور پیشہ وارانہ مہارت کو مجروح کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 245 میں مسلح افواج کی ذمہ داری کو واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے ”مسلح افوج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت، بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی،اور; قانون کے تابع،شہری حکام کی امداد میں،جب ایسا کرنے کے لیئے طلب کی جائیں،کام کریں گی“۔ ہمیں ایسے افراد کو ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنے غیرقانونی اقدامات کی وجہ سے ان اہلکاروں کی عزت اور وقار کو مجروح کریں جو بے لوث دوسروں کے لیئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہیں۔

● آئی ایس آئی نے بتایا کہ تشدد میں ملوث رہنے والے افراد یا جماعت کے مالیاتی معاملات پر نظر رکھنا انکے اختیارات کے داٸرے سے باہر ہے۔ البتہ دہشت گردی کے تناظر میں، اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 کی شق 19، ”انٹیلیجنس ایجنسیز، مسلح افواج ، سول مسلح افواج“ کو ایک اختیار تفویض کرتی ہے۔ انٹیلیجنس ایجنسیز کو نفرت اور تشدد کا پرچار کرنے والے عناصر کو ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر پرتشدد نظریات اور اقدامات کا پرچار کرنے والوں پر نگاہ نہ رکھی جائے تو وہ اکثر ریاست مخالف عناصر کی شکل اختیار کرجاتے ہیں اور لوگوں کو دہشت میں مبتلا کردیتے ہیں۔ گالی گلوچ،تشدد اور نفرت کا مظاہرہ کرنے والوں ناز ہرگز نہیں اٹھانے چاہیے بلکہ انہیں ریاست، اسکی پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیز کا خوف ہونا چاہیے۔

● ڈائریکٹریٹ آف انٹر سروس انٹیلیجنس کو لیاقت علی خان کی وزارتِ عظمی کے دور میں قاٸم کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹریٹ کا پہلا سربراہ بریگیڈیر ایس شاہد حامد کو مقرر کیا گیا تھا۔ نہایت محدود ذراٸع کے ساتھ ڈائریکٹریٹ کو دی گئی ذمہ داریاں پوری کرنی تھیں، تفویض کردہ اختیارات کے مطابق (وہ سب کو معلوم ہیں)،جس میں سیاست اور میڈیا شامل نہیں تھا۔ نوزائیدہ ریاست پاکستان جسمیں اس وقت مشرقی پاکستان شامل تھا، جلد ہی قدآوار ہوکر اقوام عالم میں وقار حاصل کرچکی تھی۔ جب ادارے تفویض کردہ آئینی حدود کے اندر رہیں اور چیک اینڈ بیلنس کا کا نظام مٶثر ہو، تو ریاست محفوظ ہوتی ہے اور عوام شاد وآباد۔ پریشانی کا آغاز خودساختہ نجات دہندگان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انہیں علم ہونا چاہیے جیسا کہ آئین پاکستان کے آغاز میں درج ہے کہ ”چونکہ اللہ تبارک و تعالی پوری کاٸنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کوجو اختیار اور اقتدار اسکی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے“۔ قاٸداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا جو خاکہ پیش کیا تھا وہ ”جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر قاٸم تھا ناکہ بیوروکریسی، آٹوکریسی یا آمریت پر“ ۔ ہمیں اپنے قاٸد کے نظریات اور آئین کو ثابت قدمی سے تھامے رکھنا ہے۔

آزادی کی تحریکیں اور پاکستان

● پاکستان جمہوری اور آئینی طریقے سے حاصل کیا گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ اور اسکے صدر مسٹر جناح نے اپنے مطالبات پرامن طریقے سے پیش کیئے اور انہیں منوانے کی جدوجہد کی۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو تشدد پر نہیں اکسایا۔ انہوں نے برٹش حکومت کو دھمکی اور گالیاں نہیں دی، جن سے انہیں آزادی چاہیے تھی، نہ اپنے سیاسی مخالفین کو دی، نہ انڈین نیشنل کانگریس کو دی اور نا تو کسی مذہبی برادری کو دی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے قاٸدین نے رسالتِ مأب محمد ﷺ کے عظیم اخلاقِ حسنہ سے رہنمائی حاصل کی تھی۔ آپ ﷺ اخلاق و آداب کے عظیم اسلامی تمدن کے بانی تھے۔ آپﷺ نے کبھی گالی نہیں دی اور نہ کوٸ ایسا لفظ ادا کیا جسے گالی سے تعبیر کیا جاسکتا ہو۔ اخلاق حسنہ اور ثابت قدمی کے حاملین مرد وخواتین نے پاکستان حاصل کیا تھا۔

اسلام

● رسالتِ مأب محمد ﷺ کو رحمت العالمین (دنیا کے لیئے رحمت) بنا کر بھیجا گیا۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ آپکے اخلاق انتہائی اعلیٰ ہیں، ” وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ‏ (68:4)“۔ رسالتِ مأب محمد ﷺ نے فرمایا ”میں صرف اخلاق کےاعلیٰ اصاف کو مکمل کرنے کے لیئے بھیجا گیا ہوں،(ترمذی)“، یعنی کردارسازی کے لیئے۔ آپ ﷺ کی ذات حیا، ایثار،اخلاقیات اور ضبط نفس کا کامل نمونہ ہے۔ قانون شکنی کرنا، لوگوں کو دھمکانا، عوامی مقامات پر قابض ہونا، املاک جو نقصان پہنچانا، لوگوں کی اموات اور انکے زخمی ہونے کی وجہ بننا، رسالتِ مأب محمد ﷺ کے اخلاق و آداب کی مثالیں نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جو ان گھٹیا ہتھکنڈوں کو اپناتے ہیں وہ اسلامی اخلاقیات کےاعلیٰ پیمانوں پر پورے نہیں اترتے۔ رسالتِ مأب محمد ﷺ نے اپنے پیروکاروں کو امن کا درس دیا اور انہیں ان الفاظ میں سلام ”اسلام وعلیکم“ (تم پر سلامتی ہو) کرنے کی تعلیم دی اور ان الفاظ میں جواب دینے کی تلقین کی ”وعلیکم السلام“ یا مزید بہتر لفظوں میں ”وعلیکم السلام ورحمة اللہ برکاتہ“ ، تم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو۔ مسلمانوں کو لازماً ایسے متکبر اور خودساختہ صالحین سے ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ ”خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں(ترجمہ)“، ”وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِيۡنَ يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا‏ (25:63)”۔ اللہ ﷻ تکبر اور خود پرستی کو ناپسند فرماتا ہے جیسے کہ ارشاد ہے: ”وَاقۡصِدۡ فِىۡ مَشۡيِكَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ‌ؕ اِنَّ اَنۡكَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ“ (31:19)،” اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے (ترجمہ)“۔ جو لوگ اونچی آواز میں بدزبانی اور گالی گلوچ کرتے ہیں انہیں قرآن کے مطالعے کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن میں ایسے لوگوں کی آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیح دی گئی ہے۔

● آئین پاکستان میں درج شدہ ابتدائی الفاظ یہ ہیں ”اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ،نہایت رحم والا ہے“ ۔ تو یہ تمہید اس بیان کی توثیق کرتی ہے جو آئین پاکستان کے آغاز پر ہی درج ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیارواقتدار اس کی مقررکردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے“۔ آئین کا آرٹیکل 19 اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ”اسلام کے تقدس“ کو پامال کیا جائے، اور اگر کوئی ہجوم تشدد،دھونس دھمکی اور گالی گلوچ اسلام کے نام پر کرتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ اسلام کے تقدس کو پامال کررہا ہے۔ حقیقی ایمان والے ایسے اعمال سے نفرت کرتے ہیں۔ ایسی حرکتوں سے آہستہ آہستہ اسلام کا اصل چہرہ اور ان حقیقی ایمان والوں کی آواز مٹ جائے گی جو اخلاق کو آداب پر عمل کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جارحانہ تقاریر اور پرتشدد برتاٶ کو بطور اسلام اور مسلمان کا ترجمان بنا کرپیش کیا جارہا ہے، یہ اسلام اوررسالتِ مأب محمد ﷺ کی سنت کے برخلاف ہے۔ آئین اپنے آرٹیکل (1) 31، میں یہ عہد باندھتا ہے کہ ”پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پراپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کو مطابق مرتّب کرنے کے قابل بنانے کے لیئے اور انہیں ایسی سہولیات مہیا کرنے کے لیئے اقدامات کیئے جائیں گے جنکی مدد سے وہ قرآن اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں“ اور آرٹیکل (2،ب)31 کے مطابق ریاست کی کوشش ہوگی کہ ”اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کوفروغ دیا جائے“۔ تشدد، گالی اور دھمکی اسلام کے اخلاقی معیار کے خلاف ہے۔

● یہ کیس کئی انتہائی اہم معاملات کو سامنے لایا ہے جیسے آئین کے مطابق عوامی اہمیت کا تعین، بنیادی حقوق کی تشریح، اداروں کے اختیارات سے تجاوز کے نتاٸج پر غور ، سیاسی مفادات کے حصول کے لیئے استعمال کیئے جانے والے ہتھکنڈے، ریاست کو کیسے شہریوں اور انکے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے، مقامات پر سیکیورٹی کے طریقہ کار، انٹیلیجنس ایجنسیز کا کردار اور اختیارات، میڈیا کی آزادی اور پابندیاں، پیمرا کی ذمہ داریاں، الیکشن کمیشن کا کردار اور اسلامی تعلیمات، ہم نے آئین کی روشنی میں ان کا جاٸزہ لیا۔

● ہم جانتے ہیں کہ کئی معاملات جنکا ہم نے جاٸزہ لیا وہ اخلاقی، سیاسی اور مذہبی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لوگ جو 12 مئی 2007 کو (جب غیرمسلح شہریوں کا قتلِ عام کیا گیا)اقتدار پر تھے یا وہ لوگ جنہوں نے فیض آباد انٹرچیج دھرنا کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی (جس نے شہری زندگی کو مفلوج کردیا اور املاک تباہ کیں) آج حکومت میں پسندیدہ اعلی عہدے پر ہیں۔ جبکہ عمومی اخلاقیات زوال پذیر ہوئیں، سیاسی اور مذہبی اقدارتنزلی کا شکار ہوئے جن پر صرف تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے ماتحت عدالتی اختیار کے داٸرے میں ہم نے اپنی بصارت اس معاملے میں نہیں کھوئی۔

نتیجہ Conclusion

● مندرجہ بالا بیان کردہ وجوہات کی بنیاد پر یہ کیس مندرجہ ذیل بیانات اور ہدایات کے ساتھ نمٹایا جارہا ہے:

1. قانونی طور پرعاٸد معقول پابندیوں سے مشروط، ہرشہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرے یا اس کی تشکیل کرے۔

2. ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے اس طور پر کہ پبلک آرڈر کے مفاد کے تحت لگائی گٸ پابندیوں اور قوانین کی پابندی کی جائے۔ اجتماع اور احتجاج کے حق کا داٸرہ اس پر محیط ہے کہ دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو بشمول ان کے آزادانہ نقل و حرکت اور جائیداد و املاک رکھنے کا حق متاثر نہ ہو۔

3. وہ مظاہرین جو لوگوں کو سڑکوں کے استعمال کے حق سے باز رکھیں یا املاک کو نقصان پہنچائیں انکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جانی چاہیے اور انہیں جوابدہ ٹہرانا چاہیے۔

4. آئین نے جو ذمہ داریاں الیکشن کمیشن کے لیئے مخصوص کی ہیں انہیں ہرحال میں پورا کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت ان قوانین کی پاسداری نہیں کرتی جن کے تحت انہیں چلایا جانا چاہیے تو ایسی صورت میں الیکشن کمیشن کو اس جماعت کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیے۔ قانون ہرگز دکھاوے کے لیئے نہیں ہیں جیسا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا۔

5. قانون کے تحت تمام سیاسی جماعتیں اپنی فنڈنگ کے ذراٸع کے حوالے سے جوابدہ ہیں۔

6. ریاست کو ہمیشہ غیرجانبدارانہ اور شفافانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ قانون کا نفاذ سب پر ہے ان پر بھی جو حکومت میں ہیں۔ اداروں کو ان سے آزاد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جو حکومت میں ہیں۔

7. جب ریاست ایسے عناصر کو سزا دینے میں ناکام رہی جو اعلیٰ حکومتی سطح پر موجود ہیں اور جو 12 مئی 2007 کے روز کراچی کی سڑکوں پر موجود شہریوں کے قتل اور اقدامِ قتل میں ملوث تھے تو اس سے بری مثال قاٸم ہوئی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیئے تشدد کا راستہ اپنانے والوں کو شہہ ملی ۔

8. ایسا شخص جو کسی کو نقصان پہنچانے یا کسی کا نقصان کروانے کے لیئے فتویٰ جاری کرے اسے پاکستان پینل کوڈ، اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997، اور/یا، پریوینشن آف الیکٹرانک کراٸمز ایکٹ 2016 کے تحت مجرموں کی طرح سزا دینی چاہیے۔

9. ایسے براڈکاسٹرز جو کسی جرم کو براڈکاسٹ کریں یا ان ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی کریں جنکے تحت انہیں لاٸسنس دیا گیا تھا تو پیمرا کو انکے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کرنی چاہیے۔

10. ایسے کیبل آپریٹرز جو لاٸسنس یافتہ براڈکاسٹرز کی نشریات منقطع کریں یا رکاوٹ ڈالیں تو پیمرا کو انکے خلاف پیمرا آرڈینس کے تحت کاروائی کرنی چاہیے۔ اور اگر کیبل آپریٹرز نے ایسا کسی اور کی ہدایت پر کیا ہے تو پھر پیمرا کو اس حوالے سے متعلقہ اتھارٹی کا آگاہ کرنا چاہیے۔

11. الیکٹرانک کے ذریعے جرم کا پرچار کرنے یا اسکی ترغیب دینے والوں کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کراٸمز ایکٹ 2016، کے تحت کاروائی کرنی چاہیے اور انہیں سزا دینی چاہیے۔

12. تمام انٹیلیجنس ایجنسیز (بشمول ISI،IB اور MI) اور ISPR کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادارے آزادی اظہار اور تقریر کی آزادی کے حق میں تخفیف نہیں کرسکتے اور انہیں اس بات کا کوئی اختیار نہیں کہ یہ نشرواشاعت، نشرواشاعت کے اداروں کے انتظامی معاملات اور اخبارات کی تقیسم میں مداخلت کریں۔

13. انٹیلیجنس ایجنسیز کو ان کاروائیوں پر نظر رکھنی چاہیے جو پاکستان کی علاقائی سالمیت کے لیئے خطرہ ہیں اور ان عناصر پر جو عوام یا ریاست کے تحفظ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

14. شفافیت اور نفاذِ قانون کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یہ مناسب ہوگا کہ انٹیلیجنس ایجنسیز کو انکے وضع کردہ اختیارات سے مشروط کردیا جائے۔

15. آئین مسلح افواج کے اراکین کی کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصّہ لینے،کسی سیاسی جماعت یا اسکے مخصوص دھڑے کی حمایت کرنے پر سخت پابندی عاٸد کرتا ہے۔ حکومتِ پاکستان بذریعہ وزارتِ دفاع اور متعلقہ آرمی، نیوی اور ائیرفورس سربراہان کو ہدایت جاری کرے گی کہ ایسے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کریں جوحلف شکنی میں ملوث پائے گئے ہیں۔

16. پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ریلی، احتجاج اور دھرنے کے حوالے سے انتظامات اور ان پر بہتر گرفت کے حوالے سے طریقہ کار کی بہترین حکمت عملی تیار کریں اور اس پہلو پر دھیان دیں کے انکے پلان میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ وہ مختلف اور غیرمتوقع صورتحال میں بھی مٶثر ہوں۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ طریقہ کار اورحکمت عملی مرتب کروانا کورٹ کے داٸرہ کار سے باہر ہے البتہ یہ امید کی جاتی ہے کہ نفاذ قانون کے سلسلے میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ کوئی جانی نقصان یا عوام کے شدید زخمی ہونے کا امکان نہ ہو۔

17. وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ترغیب دینے والے عناصر پر نگاہ رکھیں اور ایسے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیں۔

● یہ انتہائی مناسب ہوگا کہ اس فیصلہ کو قاٸداعظم محمد علی جناح کے اقوال پر ختم کیا جائے:

میں اسے اپنا فرض سمجھتا ہوں کے مسلمانوں کو اس کی دعوت دی جائے کہ اپنے غصے کو اپنے قابو میں رکھیں اور خطرات سے آگاہ رہیں یہ اپنی ہی ریاست کو بے بس کرسکتا ہے۔ کیا انہیں اجازت دینی چاہیے کہ یہ انکے وقتی جذبات سے انکے افعال پرقبضہ حاصل کرلیں۔

یہ بے حد ضروری ہے کہ پاکستان کو بد نظمی سے بچایا جائے کیونکہ قانون شکنی کی وباء اسکی بنیادوں کو ہلا دے گی اور مستقبل میں ناقابلِ تلافی نقصانات کی وجہ بنے گی۔

میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ جس نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں یہ آزاد ملک عطا فرمایا۔۔۔اب سے ہمارے لوگوں کو اتنی توفیق عطا فرمائے کہ یہ پاکستان کی خاطر اسکے امن کو بحال رکھیں۔

● دفتر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس فیصلے کی نقول کو اطلاع اور تعمیل کے لیئے حکومت پاکستان کو بھجوائے، بذریعہ کیبنٹ سیکریٹری، سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری انسانی حقوق، سیکریٹری مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، سیکریٹری انفارمیشن، چیف سیکریٹریز آف پرووینسیز، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور چیف کمشنر اسلام آباد۔ سیکریٹری دفاع کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو مسلح افواج کے سربراہان،ڈاٸریکٹر جنرل آف انٹر سروسز انٹیلیجنس، ڈاٸریکٹرجنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز اور ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کو بھجوائے۔ سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ یہ فیصلہ ڈاٸریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو، ڈاٸریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی، صوبوں اور دارالحکومت اسلام آباد کے انسپیکٹر جنرلز کو بھجوائے۔ سیکریٹری انفارمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ یہ فیصلہ ڈاٸریکٹرز آف آل پریس اینڈ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹس کو بھجوائے اور وہاں سے یہ تمام نیوز پیپرز کو انکے حدود میں اشاعت کے لیئے بھجوایا جائے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس فیصلے کو تمام ٹی وی چینلز،لاٸسنز یافتہ براڈ کاسٹرز اور کیبل آپریٹرز کو بھجوایا جائے۔

● یہ کیس اور اس سے متعلق تمام زیرالتوا درخواستوں کو مندرجہ بالا شراٸط پر نمٹادیا گیا ہے۔

بینچ-III

اسلام آباد

6.2.2019

6 فروری 2019 کو اسلام آباد کے اوپن کورٹ میں سنایاگیا۔

(یہ فیصلہ انگریزی زبان میں تھا، جسے متبادل لکھاری مہناز اختر نے اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے میں تمام ممکنہ کوشش کی گئی ہے کہ کسی طرح کا کوئی سہو نہ رہا ہو مگر اگر کہیں کوئی غلطی دکھائی دے، تو براہ مہربانی متبادل کو آگاہ کیجیے۔ اس فیصلے کو من و عن اس لیے آپ تک پہنچایا جا رہا ہے اور نہایت انہماک سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے، کیوں کہ بہت سے افراد کی جانب سے متبادل سے درخواست کی گئی تھی کہ فیصلہ انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھنے یا پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ متبادل مہناز اختر کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہے، جنہوں نے کئی روز تک اس فیصلے کو ترجمہ کرنے میں صرف کیے۔)

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ

در عدالت عظمٰی پاکستان

(عدالتی کاروائی)

جج صاحبان:

1. جسٹس مشیرعالم

2. جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

سوموٹو کیس نمبر:7/2017

(اسلام آباد- راولپنڈی دھرنا پر ازخود نوٹس کی کاروائی)

حاضرین:

اٹارنی جنرلز آف پاکستان، جناب اشتراوصاف علی اور جناب انور منصور خان۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل جناب سہیل محمود۔

ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جناب عبدالرؤف۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرلز،پنجاب، جناب رزّاق مرزاور بیرسٹر قاسم چوہان بالترتیب۔

سیکریٹری، ڈی جی لاء اور ایڈیشنل ڈی جی لاء آف الیکشن کمیشن آف پاکستان،جناب بابر یعقوب فتح، جناب ایم ارشد اور ملک مجتبٰی۔

چیٸرمین،ہیڈ لیگل، ڈی جی (آپریشن اینڈ بروڈکاسٹ میڈیا) اور ڈی جی (آپریشن ڈسٹریبیوشن آف پیمرا)، جناب سلیم بیگ، جناب علی ذیشان گوندل، جناب سہیل آصف اور جناب محمد فاروق بالترتیب۔

ڈاٸریکٹر اور جواٸنٹ ڈاٸریکٹرآف I.B،جناب مالک عزیزالرحمن اور جناب انوارالحق خاور بالترتیب۔

ڈاٸریکٹر (لیگل) اور ڈپٹی ڈاٸریکٹر (لیگل)،وزارت دفاع، بریگیڈیر فلک ناز اور لیفٹینٹ کمانڈر شفیق الرحمن بالترتیب۔

ڈپٹی سیکریٹری داخلہ جناب نثار خان۔

اسٹنٹ ڈاٸریکٹر(لیگل) جناب شفیق الرحمن۔

آئی جی پولیس اور SP، اسلام آباد، جناب خالد خالد خٹک اور جناب لیاقت حیات نیازی بالترتیب۔

سنوائی کی تاریخیں:

21 نومبر 2017، 23 نومبر 2017، 30 نومبر 2017، 03 جنوری 2018، 16 فروری 2018، 19 مارچ 2018، 15 اپریل 2018، 11 اکتوبر 2018، 16 نومبر 2018، اور 22 نومبر 2018.

فیصلہ

جسٹس قاضی فاٸز عیسیٰ

پس منظر

● الیکشن میں حصہ لینے والے مسلمان امیدواروں کے لیئے لازمی ہے کہ وہ تحریری حلف نامہ جمع کروائیں کہ محمد ﷺ اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے گئے آخری نبی ہیں۔ ماضی میں اس حلف نامے کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا تھا ” میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں۔۔۔۔۔“ لیکن الیکشن ایکٹ 2017 میں ان الفاظ کو تبدیل کرکے ”میں ایمان رکھتا/رکھتی ہوں۔۔۔۔“ کردیا گیا۔ حلف نامے میں الفاظ کی تبدیلی پر بڑے پیمانے پرکی گئی مخالفت کی وجہ سے حکومت نے فیصلہ کیا کہ ردوبدل کیئے گئے الفاظ واپس لے کر پرانے الفاظ کو حلف نامے میں برقرار رکھا جائے گا۔

● 5 اکتوبر 2017 کو منسٹرآف لاء،جسٹس اینڈ پارلیمنٹری افئیرز نے تبدیل شدہ پرانے الفاظ کو دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے بل پیش کیا۔ اس بل کے ” اسٹیمنٹ آف آبجیکٹ اینڈ ریزنس“ کے مندرجات درج ذیل ہیں:

1. الیکشن ایکٹ 2017 (XXXIII of 2017) کے نفاذ کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں شک و شبہات کا اظہار کیا گیا اسکے علاوہ میڈیا نے بھی الیکشن امیدوار کی جانب سے جمع کرائے جانے والے فارم A میں موجود حلف نامہ میں کی گئی تبدیل کے حوالے سے انہی شکوک و شبہات کو رپورٹ کیا۔

2. مزید کسی تنازعہ سے بچنے کے لیئے تمام سیاسی پارٹیوں نے اتفاقِ رائے سے یہ طے کیا کہ فارم IA میں موجود حلف نامے کے اصل الفاظ کو واپس بحال کردیا جانا چاہیے۔

3. آرٹیکل 7B اور 7C کے کنڈکٹ آف الیکشن جنرل الیکش آرڈر 2002 (چیف ایکزیگٹو آرڈر نمبر7، 2012) میں سے حذف کیئے جانے کے نتیجے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ یہاں بھی مزید کسی تنازعے سے بچنے کے لیئے تمام سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 241 میں ترمیم کے ذریعے 7B اور 7C کو برقرار رکھا جائے۔

پارلیمنٹ نے مذکورہ ترامیم کو منظور کرلیا اور الیکشن ایکٹ 2017 (ترامیم) کو 19 اکتوبر کو نافذ کرکے حلف نامے کے الفاظ ”میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں“ کو بحال کردیا گیا۔ اس حلف نامے کے بقیہ مندرجات درج ذیل ہیں:

میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں کہ:

1. میں محمد ﷺ کے خاتم النبین ہونے پر مکمل ایمان رکھتا ہوں۔ میں کسی ایسے شخص کا پیروکار نہیں ہوں جو کسی بھی طریقے سے محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویدار ہے۔ میرا ایسے کسی نبوت کے دعوے دار سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ میں قادیانی گروپ سے تعلق رکھتا ہوں، نہ میرا تعلق لاہوری گروپ سے ہے اور نہ میں خود کو احمدی قرار دیتا ہوں۔

2. میں بانی پاکستان قاٸداعظم محمد علی جناح کی اس قرارداد کے ساتھ بھی ایماندار رہونگا جس میں انہوں نے فرمایا کہ پاکستان معاشرتی عدل کے اسلامی اصولوں کے مطابق ایک جمہوری ریاست ہوگی۔ میں آئین کی بالادستی اور پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی پاسداری کرونگا اور یہ کہ میں ان اسلامی نظریات کے تحفظ کی جدوجہد کرونگا جو تشکیلِ پاکستان کی بنیاد ہیں۔

ٹی ایل پی کا دھرنا

● 19 اکتوبر 2017 کو پارلیمنٹ نے حلف نامے کے الفاظ کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات کے معاملے کو حل کرلیا تھا۔ تاہم اسکے باوجود بھی ایک نوزائیدہ سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) نے مظاہرہ جاری رکھا۔ 5 نومبر 2017 کے روز تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان اور سپورٹرز نے فیض آباد انٹرچینج پر قبضہ جما کر اسے بلاک کردیا، یہ دارالحکومت اسلام آباد میں داخلے اور واپسی کا عین مقام اور چوتھا بڑا شہر ہے۔ سینکڑوں گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر اس راستہ پر سے گزرتی ہیں۔ TLP نے منسٹرآف لاء،جسٹس اینڈ پارلیمنٹری افئیرز کی برطرفی کا مطالبہ کیا، بعدازاں انہوں نے حکومت کے استعفی کی مانگ کی۔ فیض آباد انٹرچینج پر موجود دھرنے نے پوری کامیابی کے ساتھ دو جڑواں شہروں اسلام آباد راولپنڈی کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔ کورٹ بشمول سپریم کورٹ کی کاروائیوں میں خلل واقع ہوا اور بہت سے درخواست گزار اور انکے وکلاء اپنے کیسوں کی کاروائی میں شامل نہیں ہوپائے۔ دھمکیوں اور بدسلوکی کا سلسلہ جاری رہا اوران حالات میں شدت آتی گئی۔ 21 نومبر 2017 کے روز دھرنے کی وجہ سے کئی ایڈوکیٹ کورٹ کی کاروائی میں شامل نہ ہوسکے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے شکایت کی کہ وہ انتہائی مشکلات کے بعد متبادل راستہ استعمال کرکے سپریم کورٹ پہنچ پائے ہیں، جسکی وجہ سے انکے سفر کی طوالت عمومی راستے کے مقابلے میں تین گھنٹے زاٸد تھی۔ عوامی نقل و حمل انتہائی محدود یا مکمل بند ہوچکی تھی۔ وہ روزمرہ کے سفری معمولات، عدالت، اسکول، کالج، یونیورسٹیز اور کام کی جگہ تک پہنچنے سے قاصر تھے۔ مریض معالج یا ہسپتال تک نہیں پہنچ پائے حتٰی کے ایمبولنسس بھی شدید علیل مریض تک رسائی میں ناکام رہیں۔

● دھرنے کے قاٸدین نے دھونس و دھمکی،گالی گلوچ اور نفرت کا پرچار کرکے مظاہرین کو مشتعل کیا۔ میڈیا نے TLP کو بناء تعطل کوریج فراہم کی۔ حکومت مخالف افراد بھی ان لوگوں میں شامل ہوگئے۔ انٹر سروسز انٹیلیجنس ISI نے ان ان مندرجات پر مبنی Public Support and Political Parties/Personalities رپورٹ جمع کروائی اور ان شخصیات کی فہرست جاری کی کہ : ” چئیرمین AML شیخ رشید احمد ، PMZ-Z کے اعجازالحق، PPP کے شیخ حمید اور PTI علماء ونگ اسلام آباد نے آڈیو پیغامات جاری کیئے تھے۔ غیرذمہ دار سیاستدانوں نے فسادانگیزتقریریں کیں اور غیر ذمہ دار ٹاک شوز میزبانوں نے عوام کو مشتعل کیا۔ TLP کو مفت کی شہرت ملی اور ایک غیرمقبول سیاسی پارٹی نے انتہائی مقبولیت حاصل کرلی۔ لاٸم لاٸٹ میں آنے کے بعد TLP کی لیڈرشپ مزید جارح، بدزبان اور سخت ہوگئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ انکی طاقت بڑھی اور انہوں نے لوگوں کو ناراضگیِ الہی کے فریب میں مبتلا کردیا (جوکہ قانونی طور پر مجرمانہ فعل ہے) جو TLP کا طے شدہ منصوبہ تھا۔ پرتشدد مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے۔

● مندرجہ بالا پس منظر میں یہ مذکور ہے کہ 21 نومبر 2017 کو ایک آرڈر پاس کیا گیا تھا کہ :

1. مودجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ معاملہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مطابق پبلک انٹرسٹ اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا ہے، بشمول زندگی کا حق آرٹیکل 9 ، آرٹیکل 15 نقل و حرکت کی آزادی، آرٹیکل 25A تعلیم کا حق، کی پامالی کا ہے جس نے کورٹ کو آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت نوٹس لینے پر مجبور کیا۔

2. لہذا اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع اور ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کئیے گئے۔ فاضل اٹارنی جنرل پاکستان کو ہدایت کی گٸ کہ وزارت داخلہ اور دفاع کی رائے جمع کروائیں۔ متعلقہ وزارتوں کے ماتحت انٹیلیجنس ایجنسیز، بشمول انٹیلیجنس بیورو IB ، انٹرسروسز انٹیلیجنس ISI کو ہدایت کی گئی کہ آئین پاکستان کے تحت شہری حقوق کی حفاظت کے لیئے جو قانونی اقدامات کیئے گئے انکی رپورٹ جمع کروائیں۔

آئین کا آرٹیکل 184 (3) اور سپریم کورٹ کی کاروائی

● یہ عدالت آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت طلب کی گئی ہے، اسے آئین کے تحت عدالتی کاروائی کا اختیار حاصل ہے:

1. آرٹیکل 199 کے احکام پر اثرانداز ہوئے بغیر عدالت عظمی کو اگر وہ یہ سمجھے کہ حصہ دوم کے باب 1 کے ذریعے تفویض شدہ بنیادی حقوق میں سے کسی حق کے نفاذ کے سلسلے میں عوامی اہمیت کا کوئی سوال درپیش ہے، مذکورہ آرٹیکل میں بیان کردہ نوعیت کا کوئی حکم صادر کرنے کا اختیار ہوگا۔ (آرٹیکل(3) 184)

آئین کے بابِ اول کے دوسرے حصے میں آرٹیکل(3) 184 کو ”بنیادی حقوق“ کے طور پر تفویض کیا گیا ہے اور آئین کی آرٹیکل 9 سے 28 کو بطور خاص بنیادی حقوق سے مزئین کیا گیا ہے۔ یہی بنیادی حقوق کئی ممالک اور عالمی معاہدوں میں بطورانسانی حقوق شامل کیے گئے ہیں۔

1. اس عدالتی کاروائی کو نہ تو چیلنج کیا گیا اور نہ اس پر کوئی اعتراض جمع کروایا گیا۔ تاہم ہمیں یہ یقین دہانی کروانی چاہیے کہ یہ کاروائی آئین کے عین مطابق کی گٸ ہے۔ آئین کا حصہ ہفتم ”نظام عدالت“ مختلف ابواب پر مشتمل ہے: باب ١۔ عدالتیں، باب ٢۔ پاکستان کی عدالت عظمی، باب ٣۔ عدالتِ ہائے عالیہ، باب ٣۔الف۔ وفاقی شرعی عدالت۔ آئین ضمانت دیتا ہے،” کسی عدالت کو کوئی اختیارِ سماعت حاصل نہیں ہوگا ماسوائے اسکے جو دستور کی رو سے، یا کسی قانون کی رو سے، یا اس کے تحت، اسے تفویض کیا گیا ہے یا کیا جائے“ ( آرٹیکل (2) 175). آئین سپریم کورٹ کو کٸ اختیارات عطا کرتا ہے جیسے کہ عدالت عظمٰی کو کسی عدالت عالیہ کہ صادر کردہ فیصلوں،ڈگریوں،حتمی احکام یا سزاٶں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرنے اور ان پر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار ہوگا (آرٹیکل 185)۔ آرٹیکل (1) 186، کے مطابق اگر کسی وقت صدر مناسب خیال کرے کہ کسی قانونی مسٸلہ کے بارے میں جسکو وہ عوامی اہمیت کا حامل خیال کرتا ہو،عدالت عظمٰی کی رائے حاصل کی جائے تو وہ اس مسٸلے کو عدالت عظمٰی میں غور کے لیئے بھیج سکے گا۔ آرٹیکل 186 الف، کے مطابق عدالت عظمٰی، اگر وہ انصاف کے مفاد میں ایسا کرنا قرین مصلحت خیال کرے،کسی مقدمے،اپیل یا دیگر کاروائی کو کسی عدالت عالیہ کے سامنے زیر سماعت ہو،کسی دیگر عدالتِ عالیہ کو منتقل کرسکے گی۔ آرٹیکل 184 کے مطابق سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ عدالت عظمٰی کو بہ اخراجِ ہر دیگر عدالت کے،کسی دو یا دو سے زاٸد حکومتوں کے درمیان کسی تنازعے کے سلسلے میں ابتدائی اختیارِ سماعت حاصل ہوگا۔ آرٹیکل 188، کے تحت عدالت عظمٰی کو اپنے صادر کردہ کسی فیصلے یا دئیے ہوئے کسی حکم پر نظرثانی کا اختیار ہوگا۔ آرٹیکل (1) 187، کے مطابق (آرٹیکل 175،2 کے تابع) عدالت عظمٰی کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ ایسی،ہدایات احکام، یا ڈگریاں جاری کرے جو کسی ایسے مقدمہ میں معاملہ میں جو اسکے سامنے زیرسماعت ہو،مکمل انصاف کے لیئے ضروری ہو۔

2. آرٹیکل (3) 184، سپریم کورٹ کا داٸرہ کار دو شراٸط سے مشروط ہے، پہلا عوامی اہمیت کا اور دوسرا بنیادی حقوق کی فراہمی کا۔ تاہم عوامی اہمیت کی اصطلاح کی وضاحت آئین میں موجود نہیں ہے۔ اسے مروجہ مفاہیم کے مطابق سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی حوالے سے یہ اصطلاح ”عوامی اہمیت“ آئین میں کئی جگہ استعمال کی گئی ہے۔ اس لیئے حوالوں کے ذریعے اسکا تعین کیا جاسکتا ہے۔ آرٹیکل 19 الف، کے مطابق ہر شہری کو عوامی اہمیت کی حامل تمام معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہوگا۔ آرٹیکل (1) 186، کے مطابق اگر کسی وقت صدر مناسب خیال کرے کہ کسی قانونی مسٸلہ کے بارے میں جسکو وہ عوامی اہمیت کا حامل خیال کرتا ہو،عدالت عظمٰی کی رائے حاصل کی جائے تو وہ اس مسٸلے کو عدالت عظمٰی میں غور کے لیئے بھیج سکے گا۔ آرٹیکل(3)212، کے مطابق صرف اس صورت میں کوئی اپیل قابلِ سماعت ہوگی جبکہ عدالت عظمٰی اس بات کا اطمینان کرلینے کے بعد کہ مقدمے میں عوامی اہمیت کا حامل کوئی اہم امرِقانونی شامل ہے، اپیل داٸر کرنے کی اجازت دے ۔ عدالتی کاروائی کے جواز کے لئے آئین کے آرٹیکل (3) 184 میں موجود لفظ ”عوامی“ کو لفظ ”اہمیت“ کی ساتھ منسلک کرکے استعمال کرنا ہی کافی ہے۔ یعنی معاملہ لازمی طور پر عوامی اہمیت اور عوامی حقوق کا ہو۔

3. بے نظیر بھٹو بمقابلہ پاکستانی فیڈریشن کیس میں کورٹ نے کہا ” سپریم کورٹ صرف اسی صورت میں مداخلت کرکے رٹ جاری کرنے کے لیئے اپنا اختیار استعمال کرسکتی ہے جب معاملہ ”عوامی اہمیت“ کا ہو“۔ منظور الہٰی بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان کیس میں کورٹ نے ”عوامی اہمیت“ کے معنی و مفہوم کا تعین یوں کیا تھا:

”عوامی اہمیت کے سوال“ سے کیا مراد ہے۔ لفظ ”عوامی“ کی اصطلاح ”نجی“ یا ”انفرادی“ کے متضاد ہے۔ یہ کسی ایسی شئے کی صفت ہے جو افراد،قوم، ریاست یا برادری سے نسبت رکھتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی ایسی شئے یا موقع جسمیں عوام کی بڑی تعداد شراکت رکھتی ہو اور کسی گروہ یا برادری کو اس سے استثنی حاصل نہ ہو ”عوامی“ کہلاتی ہے۔ India-in-Council ILR 39 Bomb.279 جوڈیشل کمیٹی نے ان الفاظوں ”عوامی مقاصد“ کو یوں تعبیر کیا ہے ” ان الفاظ سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ کوئی ایسا ہدف یا مقصد جس میں کسی برادری کی عمومی دلچسپی پائی جاتی ہو اور وہ کسی مخصوص فرد کے نجی مفاد یا تعلق سے متعلق نہ ہو“۔ میرے خیال سے عین یہی مراد ”عوامی اہمیت“ کے الفاظ سے لی جاسکتی ہے“

عدالت کی جانب سے مذکورہ بالا تعریف کو ”عوامی اہمیت“ سے مراد لیا جاتا رہا ہے۔ سوموٹو کیس نمبر(13) 2007، میں یہ تعریف یوں بیان کی گئی، بے نظیر بھٹو اور منظور الہی کیسز میں بھی اسی کا اعادہ کیا گیا:

” کیس کی عوامی اہمیت کا مشاہدہ کورٹ کی جانب سے منظور الہی کیس میں کیا گیا جس میں بڑے پیمانے پر عوامی حقوق اور مفاد کے متاثر ہونے کا سوال سامنے آیا اور بے نظیربھٹو کیس میں بھی اس پر غور کیا گیا کہ عوام کی آئینی آزادی اور خود مختاری پر مبینہ طور پر کوئی فرد یا گروہ قابض ہوسکتا ہے۔

سہیل بٹ Vs ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کیس میں کورٹ نے پایا کہ:

”عوامی اہمیت کو کمیونٹی کی عمومی دلچسپی کے مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔ جسے کسی فرد کے براہ راست مفاد کے عین مخالف ہونا چاہیے“

وطن پارٹی Vs فیڈریشن آف پاکستان کیس میں کہا گیا کہ عوامی اہمیت کی تعریف کے داٸرے کو طے کرلیا گیا ہے اور یہ کسی کمیونٹی کے عمومی مفاد سے متعلق ہے۔

” یہ طے کرلیا گیا ہے کہ عوامی اہمیت کو کمیونٹی کی عمومی دلچسپی کے مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔ جسے کسی فرد کے براہ راست مفاد کے عین مخالف ہونا چاہیے“

تو یہ طے ہے کہ کورٹ اپنے اختیار کو آرٹیکل (3) 184 کے تحت بروئے کار لاسکتی ہے جہاں معاملہ عوامی اہمیت اور بنیادی حقوق کے نفاذ کا ہو۔

● آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ عوام کو انکے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ اس قبل کے آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت کورٹ کوئی بھی حکم جاری کرے بنیادی حقوق کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اس آرٹیکل کے تحت جاری کردہ حکم پر اپیل کا کوئی حق موجود نہیں ہے۔

آئین کے آرٹیکل (3) 184، کا اس کیس پر اطلاق

● مظاہرین اہم شاہراٶں اور سڑکوں پر اکٹھا ہوچکے تھے، انہوں نے املاق کو نقصان پہنچایا، گاڑیوں کو آگ لگائی اور پتھراٶ کیا۔ ایمبیولینسز، ڈاکٹرز، پیرامیڈک اسٹاف اور ایمرجنسی سروسز مہیا کرنے والا عملہ جیسے فاٸرفاٸٹرز، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ریسکیو کے عملے کو مدد پہنچانے کے لیئے مطلوبہ مقام تک پہنچنے سے روکا گیا یا پھر انہیں متبادل راستہ تلاش کرنے میں بلاجواز غیرمعمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈاکٹرز اور طبّی سہولیات تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ کی وجہ سے ان گنت لوگوں کو اذیت اٹھانی پڑی۔ ایک آٹھ سال کا بچہ اپنی زندگی ہار بیٹھا کیونکہ جس ایمبیولینس پر اسے ہسپتال لے جایا جارہا تھا اسے دھرنے نے روک لیا۔ اس نوعیت کے مزید کیسز بھی ہوسکتے ہیں جنہیں رپورٹ نہ کیا گیا ہو۔

● مریض کو ڈاکٹر یا ہسپتال تک پہنچنے سے روکنا اسکے جینے کے حق کی پامالی ہے (جسکی آئین کے آرٹیکل 9 میں ضمانت دی گئی ہے )۔ سڑکوں کو زیادہ دیر تک بلاک کرکے شہریوں کو معمولات سے بعض رکھنا انکے حقِ آزادیِ نقل و حرکت کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل 15 میں دی گئی ہے) اور انکے یہ حقوق نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب طالب علموں کو اسکول اور دیگر درسگاہوں تک پہنچنے سے روکا جائے تو یہ انکے تعلیم کا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کا آرٹیکل 25 الف، دیتا ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ جب درخواست گزار کی کورٹ تک رسائی کے راستے کو بلاک کردیا جائے تو یہ اسکی دورانِ کاروائی فیٸر ٹراٸل کے حق کی پامالی ہے (جسکی آرٹیکل 10 الف، میں ضمانت دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ لوگوں کے ساتھ گالی گلوچ،انہیں دھمکانا اور انہیں زدکوب کرنا انکے عزت کے ساتھ جینے کا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل (1)14 کے تحت دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ جب دکانوں اور کاروبار کوزبردستی بند کروادیا جائے، لوگ اپنا معاش جاری نہ رکھ پائیں، اور یومیہ آمدنی والا مزدور طبقہ اپنی زندگی گزارنے کے لیئے کمائی سے محروم کردیا جائے تو یہ انکے روزگارکا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل 18 میں دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔ جب لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے یا انہیں برباد کردیا جائے تو یہ انکے املاک رکھنے کا حق کی پامالی ہے (جسکی ضمانت آئین کے آرٹیکل 23 میں دی گئی ہے) جسکا نفاذ مطلوب ہے۔

● راولپنڈی اور اسلام آباد کو چکی کے دوپاٹوں جیسا بنادیا گیا۔ مظاہرے دیگر شہروں تک پھیل گئے۔ پورے ملک کو کامیابی سے لاک ڈاٶن کردیا گیا۔ معاملہ بلاشبہ عوامی اہمیت کا تھا اور ہر شہری کے لیئے بنیادی حقوق کے نفاذ کو یقینی بنانا ضروری تھا۔ اس لیئے کورٹ نے آرٹیکل (3) 184، کے تحت دئیے گئے اختیارات کو عمل میں لانے کا قدم اٹھایا۔

رپورٹس اور کاروائیاں

● 23 نومبر2017، کو فاضل اٹارنی جنرل فار پاکستان ”AGP“ نے انٹیلیجنس بیورو ”IB“ کی رپورٹ جمع کروائی جس کے مطابق ” دھرنا مظاہرین کو حاضر اور مشتعل رکھنے کے لیئے TLP کے قاٸدین نے اشتعال انگیز تقریریں کیں“۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ،” TLP کے عزاٸم صورتحال کو بگاڑ کر اس سے آنے والے جنرل الیکشن میں سیاسی فاٸدہ حاصل کرنے کے تھے“۔ IB کی رپورٹ کے مطابق ”راولپنڈی اسلام آباد کے عام شہریوں، خاص طور پر جڑواں شہروں کے درمیان یومیہ اجرت پر کام کے لیئے سفرکرنے والوں کی زندگی کو مفلوج کردیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ نے بھی IB رپورٹ کی تصدیق کی۔ اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا کہ دھرنے یا ریلی کے لیئے مخصوص مقامات کے حوالے سے حاصل کردہ اجازت نامے کی شراٸط کا لحاظ نہیں رکھا گیا اور TLP اور اسکے قاٸدین وعدے کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے دھرنے کے مقررشدہ مقام ڈیموکریسی پارک اور اسپیچ کارنر سے ہٹ کر جگہ تبدیل کرتے رہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد کی رپورٹ، IB اور وزارت داخلہ کی رپورٹ سے مطابقت رکھتی ہے اورمظاہرین کے غیرقانونی اقدامات پر روشنی ڈالتی ہے،بشمول آٹھ سال کے شدید علیل بچے کی موت پر۔ ISI کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ بھی IB، وزارتِ داخلہ اور IGP اسلام آباد کی رپورٹس کی نفی نہیں کرتی۔

● 25 نومبر 2017 کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا لیکن ناکام رہے اور ان میں سے 173 شدید زخمی ہونے کے بعد ہار مان بیٹھے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو آتشی اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور انہیں صرف اینٹی روٸٹ ایکوپمنٹ مہیا کی گئی تھیں۔ ” ہجوم/مظاہرین پہلے سے تیار تھے، انہوں نے اسلام آباد راولپنڈی کے اطراف نصب کیمروں کے تار کاٹ ڈالے تھے۔ انکی منصوبہ بندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں علم تھا کہ یہ CCTV کیمرے ہیں اور انکے ذریعے انکی نقل وحرکت کی نگرانی کی جارہی تھی“۔ بعد ازیں حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کو بروئے کار لاکر آرمی سے تعاون طلب کیا۔ تاہم اس سے پہلے کہ آرمی تعینات کی جاتی، 26 نومبر 2017 کی رات کو حکومت اور مظاہرین کے درمیان تنازعے کا تصفیہ ہوگیا اور TLP اور اسکے حامی وردی میں ملبوس شخص سے پیسے وصول کرکے منتشر ہوگئے۔

● ہم نے پیمرا، وزارتِ دفاع اور ISI سے (19 مارچ 2018، 24 اکتوبر 2018 بالترتیب) اضافی معلومات حاصل کرلی تھیں۔ نا معلوم وجوہات کی بناء پر یہ کیس اگلے پانچ مہینوں تک مکمل نہیں کیا گیا۔ 11 اکتوبر 2018 کو ہم نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت دی کہ TLP کی بہ حیثیت سیاسی جماعت رجسٹریشن کے حوالے سے رپورٹ جمع کروائیں کہ انہیں کن کواٸف کی بنیاد پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ معلومات جیسے کہ، آیا TLP نے سیاسی جماعتوں کے حوالے سے مرتب کیئے گئے کوڈ آف کنڈکٹ کی پاسداری کی ہے، یا اسے بیرونی امداد حاصل ہے یا اس میں غیر ملکی ممبران کی موجودگی پائی گئی ہے۔ 16 نومبر 2018 کو جب یہ معاملہ دوبارہ سنوائی کے لیئے آیا تو (مندرجہ ذیل پیراگراف میں) یہ نوٹ کیا گیا کہ بہت سی معلومات ابھی مہیا نہیں کی گئیں ہیں:

1. پچھلی سنوائی کے دن ISI نے اپنی رپورٹ CMA NO. 8712/2018 جس پر آج غور کیا گیا۔ فاضل DAG کی مدد سے ہم نے اس رپورٹ کا جاٸزہ لیا،جو یہ بتاتی ہے کہ ISI اس بات کی تفتیش نہیں کرسکتی کہ آیا کوئی شخص بینک اکاٶنٹ کا حامل ہے اور نا یہ کہ آیا وہ ٹیکس دہندہ ہے کہ نہیں۔ اس قسم کی معلومات صرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بیورو آف ریوینیو حاصل کرسکتے ہیں۔ ہم نے ڈاٸریکٹر (لیگل) بریگیڈیر فلک ناز سے ISI کے قوانین/ریگولیشنز/انسٹرکشن کے بارے میں انکواٸری کی جو کہ ISI کے مینڈیٹ کا تعین کرتے ہیں۔ انہوں نے عرض کی کہ ISI کو ”ملکی قوانین“ کے تحت چلایا جاتا ہے، لیکن کسی وضع کردہ مخصوص قانون کے بغیر۔ اس حوالے سے ہم نے سیکریٹری وزاتِ دفاع کو ہدایت کی کہ بتائیں کہ ISI کس وزارت کے ماتحت ہے، اور فاضل AGP کو ISI کے قوانین/ریگولیشنز/انسٹرکشن اور اسکا مینڈیٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

2. ہم یہ امید کرتے ہیں کہ فاضل AGP ان معاملات پر جو آج نوٹ کیئے گئے یا اس پہلے کے آرڈرز کے حوالے تیاری کرکے شرکت کریں۔ ہمیں مظاہرے کے پیرامیٹرز کے تعین کی ضرورت ہے اور یہ کہ حکومت کو ان سے کیسا برتاٶ کرے۔ اس حوالے سے کہ آیا اس مظاہرے اور پچھلے مظاہروں میں کوئی مماثلت ہے، اور پچھلے مظاہروں سے کیسے نمٹا گیا۔ بشمول 12 مئی 2007 کا کراچی کا مظاہرہ اور PTI و PAT کا اسلام آباد ڈی چوک کا دھرنا۔

3. سنوائی کی کاروائی آنے والے 22 دسمبر 2018 کو جاری رکھی جائے گی۔

● اس کیس کی ساری سنوائیاں کھلی عدالت میں کروائی گئیں۔ ہم نے متاثرہ افراد یا وہ لوگ جنکے مفاد پر اسکے اثرات مرتب ہوئے ہوں، دستاویزات اور تحریری بیان جمع کروانے کی اجازت دی۔ دو درخواستیں جمع کروائی گئیں۔ پہلی درخواست اس عدالت کے سینئیر ایڈوکیٹ سید افتخار حسین گیلانی کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ عام حالات میں انکی رہاٸشگاہ سے سپریم کورٹ تک کا سفر پینتیس منٹس کا ہے، جودھرنے کی وجہ سے تین گھنٹے کا ہوگیا تھا۔ انہوں نے شکایت کی کہ انتظامیہ نے محاصرانہ ذہنیت اختیار کرکے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیئے سڑکوں کے اطراف بڑے بڑے شپنگ کنٹینرز لگا دئیے۔ انہوں نے اسکی نشاندہی بھی کی کہ مظاہروں کے پورے ملک میں پھیلنے کی وجہ سے معیشت کا بھاری نقصان ہوا۔ دوسری درخواست اسلام آباد کے مقامی ایڈوکیٹ جناب سراج احمد کی جانب سے داٸر کی گئی، انہوں نے توجہ دلائی کہ حکومت کے متضاد رویہ کی وجہ سے مظاہرین کے ساتھ مختلف رویہ رکھا گیا۔ انہوں نے حوالہ دیا کہ 2014 میں دو پارٹی PTI اور PAT کے دھرنے کے دوران حکومت نے مظاہرین کو نہیں ہٹایا تھا، جو پریزیڈینسی، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، وزیراعظم ہاٶس اور کیبنٹ سیکریٹیریٹ کے آگے جمع تھے، تمام کے تمام اس علاقے میں اکھٹے تھے جسے ‘ریڈ زون’ قرار دیا گیا ہے۔ PTI-PAT دھرنے کے دوران مظاہرین تین ماہ سے زاٸد عرصے تک کے لیئے ڈی چوک اور کانسٹیٹیوشن ایوینیو پر خیمہ زن ہوگئے تھے۔ وہ کورٹ سے یہ بھی چاہتے ہیں کہ انکی تفتیش بھی کرے جنہوں نے ” قانونِ الہی میں چھیڑ چھاڑ کی اور آئینِ پاکستان کو توڑنے کے ذمہ دار ہیں۔

● اس کیس کی آخری سنوائی 22 نومبر 2018 کو کی جائے گی، جب ہم دوبارہ فاضل AGP اور دیگر لوگوں کو سنیں گے۔ تمام لوگوں کو سننے کے بعد ہم نے دستاویزات، رپورٹس، اور تحریری دلاٸل جمع کروانے کے لیئے چار ہفتے کی اضافی مہلت دی گئی۔ تاہم چار ہفتے ختم ہونے کے بعد کوئی درخواست داٸر نہیں کی جاسکے گی اور یہ مہلت 22 دسمبر 2018 کو ختم ہوئی تھی۔

● جس وقت یہ کیس شروع ہوا تھا تو وفاق اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ(نواز) PML-N کی حکومت تھی. اس وقت کے وزیراعظم جناب محمد نواز شریف تھے اور AGP کا عہدہ اشتر اوصاف علی نے سنبھالا ہوا تھا۔ 25 جولائی کے جنرل الیکشن کے بعد دونوں جگہوں پر PTI کی حکومت نے چارج سنبھالا۔ جناب عمران خان وزیراعظم بن گئے اور جناب انور منصور خان نے AGP کا عہدہ سنبھالا۔ جناب انور منصور خان، پنجاب اور دارالحکومت کے لاء آفیسرز ان رپورٹس کے حق میں تھے جو PML-N کی حکومت میں جمع کروائی گئی تھیں۔

گزشتہ مظاہرے اور TLP کا دھرنا

● جناب سراج احمد نے اپنی درخواست میں شکایت کی تھی کہ PTI-PAT کے 2014 کے دھرنا مظاہرین کے ساتھ وہ برتاٶ نہیں کیا گیا جو TLP کے ساتھ روا رکھا گیا۔ ہم 12 مئی 2007 کراچی خونریزی (جسکا حوالہ ہم دے چکے ہیں)، 2014 اسلام آباد میں PTI-PAT کے دھرنے اور TLP فیض آباد دھرنے کے حوالے سے حکومتی برتاٶ کے اس فرق کو سمجھنا چاہتے تھے، کیا حکومت کی جانب سے پچھلے اجتماعات سے مختلف طریقے سے نمٹا گیا تھا؟

● 12 مئی 2007 کراچی خونریزی: جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو 9 مارچ 2007 کو برطرف کردیا۔ جوڈیشری کے نفاذ اور خودمختاری کی حفاظت کے لیئے ” دی لاٸرز موومنٹ“ نامی ایک پرامن تحریک سامنے آئی۔ 12 مئی 2007 کو چیف جسٹس نے کراچی کی پرواز لی۔ وکلاء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد چیف جسٹس کا ائیرپورٹ پر استقبال اور ان سے مل کر عدلیہ کی خودمختاری کی حمایت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ تاہم جنرل پرویز مشرف یہ نہیں چاہتے تھے کہ چیف جسٹس کا استقبال کیا جائے۔ ٹرک کے ذریعے بڑے بڑے شپنگ کنٹینرز لاکر موباٸل کرینز کی مدد سے ائیرپورٹ جانے والے راستوں پر رکھ دئیے گئے لیکن ان اقدامات سے لوگوں کو روکا نا جاسکا اور لوگوں نے اپنی سواریاں راستے میں ہی چھوڑ دیں اور پرامن طریقے سے ائیرپورٹ کی طرف پیدل روانہ ہوگئے اور یہی وہ وقت تھا جب انہیں اسلحہ برداروں کی طرف سے نشانہ بنایا گیا۔ 12 مئی 2007 کے دن 55 افراد کو قتل کردیا گیا اور سینکڑوں گولیوں سے زخمی ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ MQM اور اسکے قاٸد الطاف حسین نے جنرل مشرف کی حمایت کی۔ اتفاق سے، جو شپنگ کنٹینرز روڈ بلاک کرنے کے لیئے پورٹ سے لائے گئے تھے وہ پورٹ، پورٹس کے وفاقی وزیر کے داٸرہ کار میں تھا اور وہ وزیر MQM کا نماٸندہ تھا۔

● 2014 میں PTI-PAT کا اسلام آباد دھرنا: PTI اور PAT کے حامیوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ 11 مئی 2013 کے جنرل الیکشن کا نتیجہ دھاندلی کی بنیاد پر سامنے آیا تھا۔ مظاہرین قومی اسمبلی کے باہر خیمہ زن ہوگئے تھے، اور دیر رات تک اونچی آواز میں میوزک چلا تے تھے، جس سے اطراف کے علاقوں کے لوگوں کا سکون اور نیند برباد ہوگیا تھا۔ درخواست گزار حتی کے جج صاحبان سپریم کورٹ تک پہنچنے کے لیئے متبادل راستے ڈھونڈنے پر مجبور تھے۔ PTI-PAT دھرنا کانسٹیٹیوشن ایوینیو پر موجود تھا لیکن اسنے پورے دارالحکومت کو مفلوج نہیں کیا تھا۔ مستقل دباٶ کے نتیجے میں PML-N کی حکومت PTI کے صدارتی آرڈیننس کے تحت جوڈیشل کمیٹی کے قیام اور اسکے ذریعے جنرل الیکشن 2013 کی انکواٸری کے مطالبے پر راضی ہوگئی۔ ” اسٹیٹمنٹ آف آبجیکٹس اینڈ ریزنس آف دی آرڈیننس“ معاملے کی وضاحت کرتا ہے:

ایک سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جنرل الیکشن 2013 دھاندلی کے الزامات لگائے گئے، جسکا اقتدار پر براجمان دوسری سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے انکار کیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے مابین یہ طے پایا ہے کہ جنرل الیکشن 2013 دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے حوالے سے ایک انکواٸری کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جنرل الیکشن 2013 انکواٸری کمیشن سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل ہوگا جو وفاقی حکومت کی درخواست پر چیف جسٹس کی جانب سے تعینات کیئے جائیں گے۔ یہ کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کرے گا کہ جنرل الیکشن 2013 کا انعقاد غیرجانبدارانہ، ایماندارانہ، شفاف اور آئینی طریقے سے کرایا گیا تھا، یا جنرل الیکشن 2013 میں منظم طریقے سے سازباز کی گئی، یا اسے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، اور ان بنیادوں پر کامیاب امیدوار کو ملنے والا مینڈیٹ شفافیت کا عکاس ہے کہ نہیں۔

یہ آئینی جوڈیشل کمیشن جناب ناصرالملک کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا، جو بعد میں پاکستان کے چیف جسٹس بھی رہے۔ آپ اور دو سینئیر جج صاحبان اس انکواٸری کمیشن کے ممبران تھے۔ کمیشن اس نتیجے پر پہنچی کہ ” جنرل الیکشن 2013 کا انعقاد بڑے پیمانے پر شفاف اور قانون کے عین مطابق کرایا گیا“۔ کمیشن کی تحقیقاتی نتاٸج پر PTI نے کسی قسم کا اعتراض ظاہر نہیں کیا۔

● ہم نے تین مختلف مظاہروں میں ریاست کے برتاٶ پر غور کیا۔ 12 مئی 2017 کو غیر مسلح شہری چیف جسٹس آف پاکستان کے استقبال کے لیئے ائیرپورٹ جانا چاہتے تھے۔ آئین انکی نقل وحرکت کی آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم شہریوں کو ائیرپورٹ جانے سے روکا گیا۔ ریاست جو عوام کے خرچ پر چلائی جاتی ہے، اسکی جانب سے سڑکوں پر کنٹینر لگائے گئے۔ اس سے بھی شہری باز نہ آئے اور پیدل آگے بڑھنے لگے تو ان پر گولیاں چلائی گئیں۔ جس کے نتیجے میں ایک دن کے اندر پچپن افراد جاں بحق ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ سات سال کے بعد PTI-PAT دھرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین ارکان پر مشتمل انکواٸری کمیشن نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جنرل الیکشن 2013 کے نتاٸج مکمل طور پرعوامی مینڈیٹ کی عکاسی کرتے تھے۔ البتہ تین سال کے بعد ملک کو ایک اور دھرنے کا سامنا کرنا پڑا جو TLP کی جانب سے دیا گیا تھا۔

تحریک لبیک پاکستان کا طریقہ کار

● یقیناً یہ بات تحریک لبیک پاکستان کی لیڈر شپ کے علم میں ہوگی کہ 12 مئی 2007 کے روز کراچی میں دن دھاڑے معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ اس سازش کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور اسکا فاٸدہ اٹھانے والوں کو اب تک کوئی سزا نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا ہوگا کہ جب PTI-PAT کئی مہینوں تک احتجاجاً ریڈ زون میں خیمہ زن رہی تو اس نے جوڈیشل انکواٸری کمیشن کے قیام کے ہدف کو حاصل کرلیا۔ تاہم انکواٸری کمیشن کی تفتیش کے نتاٸج کے مطابق PTI کے الزامات غلط ثابت ہوئے لیکن PTI نے اس سلسلے میں کسی قسم کی معذرت پیش نہیں کی اور نا دھرنے کے مقام کی صاف ستھرائی اور تعمیرنو کے سلسلے میں کوئی ادائیگی کی۔ اسکے برعکس PTI نے دھرنے سے مفت میں بے پناہ عوامی شہرت حاصل کرلی۔ TLP مسلمان امیدواروں کے لیئے الیکشن فارم میں موجود مخصوص حلف نامے کے اصل الفاظ ”میں حلفیہ اقرارکرتا/کرتی ہوں“ کی بحالی کا مطالبہ کرچکی تھی۔ حکومت نے ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیا اور فارم کی درستی کردی گئی۔ IB، وزارتِ داخلہ ، ISI اور IGP اسلام آباد کی رپورٹس کے مطابق TLP اس معاملے سے زیادہ سے زیادہ سیاسی فاٸدہ اٹھانا چاہتی تھی۔ اس سرگرم نوزائیدہ سیاسی پارٹی نے خود کو اسلامی عقاٸد کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور نفرت کو ہوا دی، مغلظات اور تشدد کا راستہ اپنایا، اور 163،952،000 روپے کی مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ TLP نے ملکی معیشت کو قریب قریب عملی طور پر روک کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان کی 2017 کی GDP کی مالیت 32،406،956،000،000 روپے تھی۔ اس لحاظ سے ایک دن کے شٹ ڈاٶن پر 88،786،180،821 روپے کی مالیت کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ انٹیلیجنس ایجنسیز نے رپورٹ دی کے فیض آباد انٹرچینج پر موجود دھرنے میں TLP کے قاٸدین کے پاس سیاستدان آتے جاتے رہے۔ TLP کو میڈیا پر پراٸم ٹاٸم کے اوقات میں مفت کی کوریج اور شہرت ملی، راتوں رات اسکی مقبولیت گھر گھر پہنچ گئی۔ نتیجتاً اس جماعت کے دو ارکان نے الیکشن میں سندھ اسمبلی کی دو سیٹ پر کامیابی حاصل کرلی اور TLP نے 25 جولائی 2018 کے الیکشن میں بھاری تعداد میں ووٹ حاصل کیئے۔

احتجاج کا حق

● آئین بطور خاص احتجاج کے حق کو بیان نہیں کرتا۔ تاہم جمہوریت اس نوعیت کے حق کو تسلیم کرتی ہے، یہ جمہوری طریقہ ہی تھا جس کے ذریعے پاکستان حاصل کیا گیا۔ برصغیر کی عوام نے آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کی کوششوں کے نتیجے میں Britsh-Colonial rule سے آزادی حاصل کی; انہوں نے پرامن مظاہرے اور احتجاج کیئے، جلسوں کا انعقاد کرایا اور الیکشن کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا، نتیجے کے طور پر دو آزاد ریاستیں، پاکستان اور ہندوستان وجود میں آئے۔ ہمارے آئین کو جمہوریت نے تھاما ہوا ہے۔ پاکستانی عوام نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 2A میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ ”پاکستان ایک جمہوری ریاست ہوگی“ اور اسکے شہری ”جمہوریت کے تحفظ کے لیئے خود کو وقف کریں گے“۔ شہریوں کوحکومت یا اتھارٹی کے کسی فیصلے یا حکم کے خلاف پرامن احتجاج اور مظاہروں کا حق حاصل ہے۔ احتجاج کا حق ” پر امن طریقے سے اکٹھا ہونے کا حق“ ، ” یونین یا ایسوسی ایشن بنانے کا حق“،”سیاسی جماعت کے قیام یا سیاسی جماعت میں شمولیت کا حق“ اور ”آزادیِ اظہارِرائے کا حق“ پر دلالت کرتا ہے۔

ریاست کی ناکامی

تحریک لبیک پاکستان اور اسکے حامی شہری زندگی کو مفلوج بنانے کے لیئے مکمل طور پر پرعزم تھے۔ تاہم اس صورت حال سے نمٹنے کے لیئے حکومت کی طرف سے ناکافی انتظامات کئے گئے تھے۔ اس حوالے سے کوئی قبل ازوقت منصوبہ بندی بھی نہیں کی گئی تھی کہ مختلف اقسام کے واقعات کو رونما ہونے سے کیسے بچایا جائے گا۔ اس وقت بھی ماضی جیسے واقعات سے نمٹنے کا کوئی قبل از وقت منصوبہ موجود نہیں ہے۔ ابھی تک یہ واضح بھی نہیں ہے کہ مختلف اداروں کے درمیان مطلوبہ ہم آہنگی موجود ہے بھی یا نہیں۔ بصیرت و صراحت کا فقدان ہے اور تذبذب کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آف اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری نے TLP لیڈرشپ کو خط میں لکھ دیا تھا کہ ایک آرڈر کریمینل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 144 کے تحت جاری کیا جاچکا ہے، جو عوامی اجتماعات کی ممانعت کرتا ہے اور اسکی پاسداری کے لیئے خبردار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ان کو اس بات سے بھی آگاہ کردیا تھا کہ اگر وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو یہ سب انہیں ڈیموکریسی پارک اور اسپیچ کارنر پر کرنا چاہیے اور اگر وہ لانگ مارچ یا ریلی نکالنا چاہتے ہیں تو اسکی اجازت انہیں پہلے سے لینی ہوگی۔ TLP لیڈرشپ نے ڈپٹی مجسٹریٹ کے خط پر کوئی توجہ نہیں دی، پھر بھی اس حوالے سے انکے خلاف کوئی اپیل داٸر نہیں کی گئی۔ جب قانون شکنی کرنے والوں کو معلوم ہو کہ اسکی کوئی سزا نہیں ہوگی تو دوسروں کو شہہ ملتی ہے۔ پاکستان کے شہری اپنے بنیادی حقوق کو برقرار رکھے جانے کے حوالے سے ریاست پر بھروسہ کرتے ہیں۔ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، انکی املاک کی حفاظت کی جانی چاہیے اور انہیں آزادنہ نقل و حرکت کی اجازت ہونی چاہیے۔ تاہم ریاست نے انہیں مایوس کیا۔

پر امن طریقے سے اکٹھا ہونے کا حق

● آئین کے آرٹیکل 16 کے مطابق دی گٸ آزادی، ” امن وعامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عاٸد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو پرامن طور پر اور اسلحہ کے بغیر جمع ہونے کا حق ہوگا“، اس بات سے مشروط ہے کہ ” امن وعامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عاٸد کردہ پابندی“۔ اکٹھا ہونے کے حق کو جمہوریت بچانے کے حق کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، مگر اسے کسی قانونی حکومت کو معزول کرنے کے لیئے استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نا تو اکٹھا ہونے کے حق کو انقلاب لانے یا بغاوت کے لیئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان اصولوں کو اسلامک ریپبلک آف پاکستان v عبدالولی خان کیس میں بیان کیا گیا تھا:

یہ کہے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کہ اکٹھا ہونے کا حق کسی جمہوری سیاسی نظام کی حفاظت کے لیئے انتہائی اہم حق ہے لیکن اس امر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کوئی بھی ریاست ایسی کوئی بات یا عمل برداشت نہیں کرسکتی جو کسی ایسی حکومت کو گرانے کی دھمکی کے طور پر کی یا کہی جائے، جو قانونی اور آئینی طور پر وجود میں آئی ہو۔ ایسی صورتحال میں ایسے اجتماع کو غیرقانونی اور غیرآئینی تصور کیا جائے گا۔ جیسا کہ امریکن سپریم کورٹ کے کیس American Communications V. Douds میں دیکھا گیا تھا کہ ” آزادیِ اظہاررائے، پریس اور اسمبلی کی بقا کا انحصار آئینی حکومت کی طاقت پرہوتا ہے۔ اسکے پاس یہ طاقت لازمی ہونی چاہیے کہ وہ غیرقانونی اقدامات سے خود کو محفوظ رکھ سکے، مخصوص حالات میں، ایسی ترغیبوں سے جو غیرقانونی اقدامات پر اکساتے ہیں“

پبلک آرڈر کو قاٸم رکھنا کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کوئی وفاقی یا صوبائی حکومت کے خلاف نفرت یا توہین پر مبنی خیالات و نظریات کا پرچار کرے تو یہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 124A کے تحت قابلِ سزا جرم ہے، ایسے کسی اقدام پر قید یا عمر قید کی سزا ہے۔ TLP نے لڑائی جھگڑے اور فساد کا بیج بویا، اس نے ہجوم کی حکمرانی، فسادات اور املاک کو نقصان پہنچانے کی روایت قاٸم کی۔

● یونائیٹڈ کنگڈم کا ہاٶس آف لارڈ یہ تعین کرچکا ہے کہ،” اکٹھا ہونے کا حق، مظاہرے کا حق، اہم ترین حق ہے لیکن انگلش لاء میں یہ حق غیرمشروط/مطلق نہیں ہے، اسے ان حدود کی کی پاسداری کی ضرورت ہے جہاں کسی اور کے حقوق نظرانداز نہ کیئے جائیں۔ عوامی مقامات اور عوامی شاہراٶں پر اجتماعات کے حوالے سے یہ دیکھا جائے گا کہ:

یہ معقول ہوں، کسی عوامی یا نجی تکلیف کی وجہ کے مرتکب نہ ہوں، بغیر کسی معقول وجہ کہ ہائی وے پر رکاوٹ کا باعث نا ہوں کیونکہ اس پر سے بغیر کسی رکاوٹ کا آنا جانا عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہیں کسی متعین بات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ان معیارات پر پورا اترتے ہوں تو یہ انکا عوامی حق ہوگا کہ وہ پرامن طریقے سے عوامی مقامات اور شاہراہوں پر جمع ہوسکیں۔

● آزادانہ نقل و حرکت کا حق، پرامن اجتماع کا حق اور آزادی اظہاررائے (آئین کے آرٹیکل 15، 16 اور 19 بالترتیب ) انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 19 میں دئیے گئے ہیں لیکن انڈیا میں بھی یہ حقوق مطلق نہیں ہیں۔ انڈین سپریم کورٹ بیمل گرون V یونین آف انڈیا کیس میں اسکی وضاحت کی گئی ہے کہ:

مظاہرے چاہے سیاسی، مذہبی، سماجی یا کسی اور قسم کےمظاہرے، جو عوامی زحمت کا باعث ہوں یا کسی اور قسم کی پریشانی کی وجہ ہوں،کسی قسم کے عوامی یا نجی پریشانی کی وجہ بنے، وہ آئین کے آرٹیکل (1) 19 کے تحفظ کے داٸرے میں نہیں آتے۔ کوئی مظاہرہ اجتماع میں بدل سکتا ہے۔ مظاہرے اجتماع کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ نیّت کسی شخص یا اتھارٹی تک مجتمع لوگوں کا پیغام پہنچانا ہو۔ حالات کے زیرِاثر یہ اجتماعات پرشور اور بدنظمی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہجوم کی طرف سے پتھراٶ کو بدنظمی پر مبنی پرتشدد احتجاج کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ حقوق آئین کے آرٹیکل 19 کے شق( 1) (a) یا (b) میں درج نہیں کیئے گئے ہیں۔

”ری رام لیلا میدان کیس“ میں انڈین سپریم کورٹ نے غور کیا کہ:

اجتماع کا/اکٹھا ہونے کا حق، ایسوسی ایشن کی آزادی اور آزادی اظہار رائے جیسے حقوق کو دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرکے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ پیشگی اجازت کے بغیر سڑکوں پرکسی قسم کی پبلک میٹنگ کا انعقاد نہیں کرایا جاسکتا ہے، اور نہ تو سڑکوں کو اجتماعات کے لیئے میدان سمجھا جاسکتا ہے۔ سڑکیں سواریوں کے استعمال کے لیئے اور فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیئے موجود ہیں تاکہ عوام ان پر آزادی سے سفر اور نقل حرکت کرسکیں، جو انکا بنیادی حق ہے۔

تحریک لبیک پاکستان اور الیکشن کمیشن

● آئین پاکستان کے آرٹیکل 17 کے مطابق ”ہر وہ شخص جو پاکستان کا سرکاری ملازم نہیں ہے، اسے یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کوئی سیاسی جماعت تشکیل دے سکے یا کسی سیاسی جماعت کی رکنیت اختیار کرسکے“ ، البتہ یہ بنیادی حق بذاتِ خود ایک شرط پر دلالت کرتا ہے کہ ”ہر ”پاکستانی شہری “ کو یہ حق حاصل ہوگا“۔ سیاسی جماعتوں کو اس طرح کا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے،جیسے ”پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر معتصب ہونا“(آرٹیکل (2) 17) اور آئین پاکستان کے آرٹیکل (3) 17 کے مطابق ” ہرسیاسی جماعت قانون کے مطابق اپنے مالی ذراٸع کے ماخذ کے لیئے جواب دہ ہوگی“ ۔ TLP کو پولیٹیکل پارٹیزآرڈر 2002 کے تحت 25 مارچ 2017 کو انکی درخواست پر بہ حیثیت سیاسی جماعت رجسٹر کیا گیا تھا۔ یہی پولیٹیکل پارٹیزآرڈر 2002، الیکشن ایکٹ 2017 کا متبادل/قاٸم مقام تھا، 2 اکتوبر 2017 کے روز۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے داخل کرائے گئے دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا ایک رہاٸشی، جو اوورسیزپاکستانیوں کے لیئے مخصوص شناختی کارڈ ” NICOP “ کا حامل ہے، جسکے مطابق وہ پاکستان میں ویزا فری داخلہ کا حقدار ہے، الیکشن کمیشن میں درخواست گزاری سے پہلے TLP کی نماٸندگی کرتا تھا نیز تمام پارٹی معاملات بھی طے کرتا تھا، اسی نے TLP کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر کروایا تھا۔ پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002، کے ذیلی دفعہ (3) اور (4) (پرانا قانون) اور 2017 کے الیکشن ایکٹ (نیا قانون) کی دفعہ 200 کی ذیلی دفعہ (4) سیاسی جماعتوں پر پابندی لگاتی ہے کہ:

1. کسی ایسے عمل یا نظریے کی مخالفت کے پرچار پرجسے آئین کے بنیادی اصولوں میں شامل کیا گیا ہو۔

2. پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کو یا پبلک آرڈر کو سبوتاژ کرنے، یا دہشت گردی میں ملوث ہونے پر۔

3. فرقہ وارانہ، علاقائی اور صوبائی نفرت وعداوت کے فروغ پر۔

4. عسکریت پسند گروہ کے نام کا سہارا لینے یا استعمال پر، یا سیاسی جماعت کے اراکین کا کسی عسکریت پسند گروہ کی رکنیت پر۔

5. اپنے کارکنان کو کسی قسم کی ملٹری یا پیرا ملٹری تربیت دلوانے پر۔

6. بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی تنظیم کی تشکیل یا قیام پر۔

یہ جملہ ”بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی تنظیم“ کے مفہوم میں یہ معنی بھی شامل ہے کہ ”اپنے کل فنڈز کا کچھ حصہ غیر ملکیوں سے حاصل کرنے والی پارٹی“۔ (الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 212 کے تحت )۔

● اگر کوئی سیاسی جماعت ” بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی جماعت ہے یا پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف کام کررہی ہے یا دہشت گردی میں ملوث ہے“ تو الیکشن کمیشن وفاقی حکومت کو الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 212 کے تحت ریفرنس بھجواسکتی ہے۔ درخواست داٸر کرنے کے بعد وفاقی حکومت نوٹیفیکیشن جاری کرتی ہے کہ یہ بیرونی امداد پر چلنے والی سیاسی جماعت ہے، پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف کام کررہی ہے یا دہشت گردی میں ملوث ہے۔ حکومت کو پچاس دن کے اندر اس نوٹیفیکیشن کو کاروائی کے لیئے سپریم کورٹ بھجوانا ہوتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ وفاقی حکومت کے نوٹیفیکیشن کو برقرار رکھتی ہے تو پھر وہ سیاسی پارٹی تحلیل کردی جاتی ہے۔

● الیکشن کمیشن کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ TLP نے اپنی فنڈنگ کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی تھی جبکہ انہیں بار بار اسکی ہدایت کی جاتی رہی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے TLP کو الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 211 ،اور الیکشن رولز 2017 کے رول (2) 161 کے تحت نوٹس بھیجا گیا، جسکے مطابق سیاسی جماعتوں سے درج ذیل مالیاتی تفصیلات طلب کی گٸ:

الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 211

1. سیاسی پارٹی کمیشن کو ان افراد کی فہرست فراہم کرے گی جو پارٹی کو ایک لاکھ یا اس سے زاٸد مالیت کا چندہ دیتے ہیں یا الیکشن مہم کے اخراجات کی مد میں خرچ کرتے ہیں۔

2. سیاسی پارٹی کمیشن کو الیکشن مہم پر آنے والے اخراجات کی مالیت کی تفصیلات فراہم کرے گی۔

الیکشن رولز 2017 کا رول (2) 161

اس قانون کے تحت الیکشن کے اخراجات کی تفصیلات جس دن سے نوٹیفیکشن جاری ہوا اس دن سے لے کر ساٹھ دن کے اندر اندر اس امیدوار کو جمع کروانی ہوگی جسکے نام پر سرکاری گزٹ جاری ہوا ہے۔

ڈاٸریکٹر جنرل (لاء) اور سیکریٹری الیکشن کمیشن نے تصدیق کی کہ TLP نے مذکورہ مالیاتی معلومات فراہم نہیں کی، ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ قوانین صرف دکھاوے کے لیئے ہیں اس لیئے الیکشن کمیشن TLP کے خلاف کاروائی کرنے سے قاصر رہا۔

● الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ آئین کی شرط ہے کہ الیکشن کمیشن اس بات کی ضمانت دے گا کہ ” الیکشن کا انعقاد قانون کے مطابق ایماندارنہ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے کرایا جائے گا اور اسے غیرآئینی اقدامات سے محفوظ رکھا جائے گا“ ۔ الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل (219e) کے مطابق یہ ذمہ داری لینے کی بھی ضرورت ہے کہ ” ایسے دوسرے کارہائے منصبی انجام دے جنکی صراحت مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے کردی گئی ہو“۔ آئین کا آرٹیکل (3) 17، سیاسی جماعتوں سے مانگ کرتا ہے کہ وہ اپنی فنڈنگ کے ذراٸع کی تفصیلات فراہم کریں اور الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 211 ، الیکشن اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ TLP سے انکے الیکشن اخراجات اور فنڈ سے متعلق جواب طلبی نہیں کی گئی تھی، بلکہ انہوں نے حیرت انگیز طور پر اپنی بے چارگی کا اقرار کیا کہ اس حوالے سے متعلقہ قوانین بس دکھاوا ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اپنے تئیں یہ خام خیالی دور کرلینی چاہیے کے یہ آئینی اور قانونی شراٸط بس ایک دکھاوا ہیں۔ الیکشن کمیشن پر یہ ذمہ داری عاٸد ہوتی تھی کہ وہ ان قانونی تقاضوں کو پورا کریں، جو اختیاری نہیں لازمی ہیں۔ آئین الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ان معلومات کے حصول کے لیئے کسی بھی اعلی اتھارٹی سے مدد طلب کرسکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 220 کے مطابق ” وفاق اور صوبوں کے تمام حکام عاملہ کا فرض ہوگا کہ وہ کمشنر اور الیکشن کمیشن کو اسکے یا انکے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں مدد دیں“۔

آزادی اظہار رائے، تقریر، پریس اور PEMRA

● آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق اظہارِرائے، تقریر اور پریس کی آزادی بنیادی حقوق میں شامل ہیں:

” اسلام کی عظمت، پاکستان یا اسکے کسی حصے کی سالمیت،سلامتی یا دفاع، غیرممالک سے دوستانہ تعلقات، امن وعامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظریا توہینِ عدالت، کسی جرم کے ارتکاب یا اسکی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عاٸد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ہر شہری کو تقریر اور اظہارِ خیال کا حق حاصل ہوگا، اور پریس کی آزادی ہوگی“۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی PEMRA آرڈینس 2002، مندرجہ بالا آئین کے آرٹیکل 19 کے شراٸط کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی بروڈکاسٹ پر پابندی عاٸد کرتا ہے جس ” جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرے، قانون کے نفاذ کے حوالے سے معتصب ہو یا عوامی امن کو برباد کرے“۔ پیمرا اسی شرط پر لاٸسنس جاری کرتا ہے کہ براڈکاسٹ ”تشدد کی حوصلہ افزائی،دہشت گردی، نسل پرستی، مذہبی یا قومی تعصب،فرقہ واریت، انتہا پسندی، نفرت اور شدت پسندی“ پر مبنی نہ ہو۔

● تحریک لبیک پاکستان نے لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کی۔ انہوں نے دھمکی، تشدد اور گالی گلوچ کا راستہ اپنایا اور کچھ پرائیوٹ چینلز نے یہ سب کچھ براڈکاسٹ کیا۔ ISI کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ “Channel 92” نے بطور ٹی وی چینل TLP کو سپورٹ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسکے مالکان نے فیض آباد انٹرچینج بلاک کرنے والے مظاہرین کو خوراک بھی فراہم کی۔ تاہم پیمرا آرڈینس کے تحت پیمرا نے لاٸسنس شدگان کے خلاف کوئی لاروائی نہیں کی، جب وہ ان شراٸط کی خلاف ورزی کررہے تھے جن کی بنیاد پر انہیں لاٸسنس دیا گیا تھا۔ پیمرا نے اپنی آئینی ذمہ داری کو فراموش کردیا تھا، ایسا فرض جس کو ادا کرنا ان پر لازم تھا۔

● پیمرا اپنے لاٸسنس یافتہ براڈکاسٹرز کے قانونی حقوق ادا کرنے میں بھی ناکام رہا۔ ڈان اور جیو ٹی وی کی نشریات منقطع کردی گئیں۔ پیمرا کی جانب سے ان شکایات کو تسلیم کیا گیا۔ ڈان اور جیو کو پورے ملک میں ڈیفینس ہاٶسنگ اتھارٹی اور کنٹونمنٹ کے علاقوں میں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، پیمرا نے اسکی بھی تصدیق کی۔ لیکن افسوس کے پیمرا منہ پھیر کر کھڑا رہا اور اسنے اپنے لاٸسنس یافتگان کے مفادات کی حفاظت کے لیئے ان کیبل آپریٹرز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جو اس میں ملوث تھے۔ 19 مارچ 2018 اور 24 اپریل 2018 کو پیمرا سے معلومات طلب کی گئی کی اس میں کون لوگ ملوث تھے لیکن پیمرا نے اس حوالے سے اپنی بے خبری کا اقرار کرلیا۔

● ہمارے حکم کی تعمیل پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ڈپٹی اتھارٹی جنرل فار پاکستان کے ذریعے رپورٹ جمع کروائی، اس میں نشاندہی کی گئی پریوینشن آف الیکٹرانک کراٸم ایکٹ 2016 کے تحت الیکٹرانک کے ذریعے نفرت آمیز تقریر یا دہشت گردی کا پرچار یا اسکی مدد ایک سنگین جرم ہے۔ اس ایکٹ کے سیکشن 11 اور12 کے مطابق:

(11) نفرت آمیز تقریر

اگر کوئی انفارمیشن سسٹم یا کسی ڈیواٸس کی مدد سے ایسا مواد تیار کرے یا پھیلائے جو بین المذاہب فرقہ واریت یا نسلی تعصب کو بڑھاوا دیتا ہو، تو اسے جرمانہ یا قید کی سزا دی جائے گی، دونوں سزائیں ساتھ بھی دی جاسکتی ہیں، اور قید کی مدت میں سات سال کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

(12) دہشت گردی کی فنڈنگ، تربیت اور منصوبہ بندی

اگر کوئی انفارمیشن سسٹم یا کسی ڈیواٸس کی مدد سے ایسا مواد تیار کرے یا پھیلائے جو لوگوں کو دہشت گردی کی فنڈنگ تربیت یا منصوبہ بندی کی دعوت و ترغیب دے، تو اسے جرمانہ یا قید کی سزا دی جائے گی، دونوں سزائیں ساتھ بھی دی جاسکتی ہیں، اور قید کی مدت میں سات سال کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔

اگر الیکٹرانک کے ذریعے پھیلائے گئے نفرت اور تشدد کی تفتیش نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار کو سزا نہیں دی جائے گی، اگر قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظرانداز کیا جائے گا تو قوانین اپنی افادیت اور وقار کھو بیٹھیں گے۔

سینسرشپ

● ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات اپنی براڈکاسٹ اور پبلیکیشن کی ترسیل میں مداخلت کی شکایت درج کراچکے ہیں۔ اس لیئے ہم اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان شکایات کی حقیقت کیا ہے۔ جرنلسٹ آرگنائیزیشن، براڈکاسٹرز، اخبارات اور ایڈیٹرز نے شکایت کی تھی کہ میڈیا کو دبایا جارہا ہے بلکہ کچھ مواقعوں پر تو چپ کروادیا گیا۔ فیڈرل ایگزیکٹو کاٶنسل آف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ” PFUG“ کی قرارداد میں پریشان کن الزامات لگائے گئے ہیں:

پاکستان میں پریس کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پورے پاکستان میں ریاستی اداروں کی جانب سے غیراعلانیہ سینسرشپ لاگو کردی گئی ہے، جبر اور اشتہارات کی بندش، ہراسانی، حتٰی کہ صحافیوں پر حملے کے ذریعے۔ خاص طور پر جرنلسٹس اور مجموعی طور پر پورا معاشرہ مسلح افراد اور نام نہاد مذہب کے ٹھیکے داروں سے خوفزدہ ہے۔

کاؤنسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز ”CPNE“ ، ”میڈیا پر جبر“ کا الزام لگا چکی ہے کہ مخصوص حلقوں کی جانب سے جرنلسٹس اور ایڈیٹرز پر اپنے کام پر سیلف سینسر لگانے کا دباٶ ڈالا جاتا ہے۔ ایسے میں ریاستی اور غیرریاستی عوامل کو غیرآئینی اقدامات کی ترغیب ملتی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کا سب سے پرانے نیوزپیپر ”ڈان“ جسکی بنیاد قاٸداعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں ڈالی گئی، اسے سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے۔

● ظاہر اور پوشیدہ سینسرشپ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔ مبہم چالیں جیسے سلف سینسرشپ کا مشورہ، آزاد نقطہ نگاہ کی حوصلہ شکنی کرنا، مخصوص و معین خیالات کو پھیلانا اور یہ ہدایت دینا کہ کسے ادارے میں رکھنا ہے اور کسے نکالنا ہے، یہ سب غیرقانونی ہے۔ یہ عدالت ان عناصر کو تنبیہ کرچکی ہے جو ماضی میں ایسی شاطرانہ حرکتوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ یہ ہدایات دی جاچکی ہے کہ ٹیلی ویژن نشریات میں کوئی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے(یہاں ڈاکٹر شاہد مسعود V فیڈریشن آف پاکستان کیس کے تناظر میں بات کی گئی ہے)۔ صوبائی پولیس آفیسرز کو ہدایات دے دی گئی ہے کہ وہ قصورواروں کے خلاف کاروائی کریں۔ کوئی شخص، حکومت،محکمہ یا انٹیلیجنس ایجنسی آئین کے آرٹیکل 19 سے باہر جاکر آزادی اظہار رائے اور تقریر کے بنیادی حقوق میں تخفیف نہیں کرسکتی/کرسکتا۔ ایسے لوگ جو گمراہ کن نظریات کے زیر اثر یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی شاطرانہ چالوں سے مخصوص فواٸد حاصل کر سکتے ہیں، خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ پاکستان کا نظام آئین کے تحت چلایا جاتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق ” دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو واجب التعمیل ذمہ داری ہے“۔

● نصف صدی قبل سپریم کورٹ آف یونائیٹڈ اسٹیٹ آف امریکہ کے جسٹس برینڈیز نے وضاحت کی تھی کہ کیوں امریکہ کے آئین میں تقریر اور اجتماع کی آزادی دی گئی ہے:

جن لوگوں نے ہماری آزادی حاصل کی تھی وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ یہ ریاست کی انتہائی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی استعداد میں اضافہ کرنے کی آزادی دے، اور یہ کہ انہیں چلانے کے لیئے دانشوروں اور مفکروں کو ان پرقاٸم رہنا چاہیے۔ وہ آزادی کو اسکے اصل معنوں میں اہمیت دیتے تھے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسرت کا راز آزادی میں پوشیدہ ہے اور آزادی کا راز جرأت میں ہے۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ خواہش کے مطابق سوچنے کی آزادی اور بولنے کی جو آپ سوچتے ہوں، سیاسی سچائیوں کی دریافت اور پرچار کے لیئے ناگزیر ہے; اسکے بغیر تقریر کی آزادی اور اجتماعی مکالمت لاحاصل ہوگی; مکالمت مہلک نظریات کے پھیلاٶسے تحفظ فراہم کرتی ہے; آزادی پر سب سے بڑی لعنت جامد سوچ رکھنے والے افراد ہیں; اور یہ کہ عوامی مکالمت سیاسی فرض ہے; اور یہ سب امریکی حکومت کا بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ وہ اس خطرے کا ادراک رکھتے تھے کہ تمام ادارے مشروط ہوں، لیکن وہ جانتے تھے کہ قوانین کی خلاف ورزی کو سزا کا خوف دلا کر روکا نہیں جاسکتا; خیالات،امید اور تخیلات کی حوصلہ شکنی کرنا مضر ہے; خوف جبر کی افزاٸش کرتا ہے; اور جبر نفرت کی افزاٸش کرتا ہے; نفرت مستحکم حکومت کے لیئے خطرہ ہے; سلامتی آزادانہ مکالمت میں ہے کہ اپنی تکلیف کا اظہار کیا جائے اور اسکا حل تلاش کیا جائے; اور یہ کہ برائی سے بچنے کا طریقہ اچھوں سے مشورت میں ہے۔۔۔۔۔لوگ چڑیلوں اور جلی ہوئی عورتوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ تقریر کا کام ہے کہ لوگوں کو غیرمنطقی خوف کے بندھنوں سے آزاد کرے۔

● پریس،تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت آئین میں بطور بنیادی حقوق دی گئی ہے۔ اس لیئے جسٹس برینڈیز کے اعلٰی ترین الفاظوں کا اطلاق ان آئینی حقوق پر بھی ہوتا ہے جو اِس مملکتِ عظیم کے شہریوں کو آئین کے ذریعے مہیا کیئے گئے ہیں۔ قاٸداعظم محمد علی جناح تنقید قبول کرتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ جرنلسٹس ذمہ دار، آزاد اور بے باک ہوں۔ انہوں نے فرمایا:

پریس کی طاقت بہت بڑی ہے، لیکن آپ کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ یہ طاقت جو آپ ک قبضے میں ہے وہ ایک بھروسہ ہے۔ اسے ایک بہت گہرے یقین کے طور پر دیکھیے، اور یاد رکھیے کہ آپ ایمانداری اور خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی رہنمائی ترقی اور فلاح و بہبود کی طرف کررہے ہیں. عین اس وقت پر، میں آپ سے توقع کرتا ہوں کہ مکمل طور پر بے خوف رہیں۔۔۔۔اگر میں غلطی کرتا ہوں یا اگر لیگ اپنی پالیسی اورپروگرام کے حوالے سے غلط سمت میں جاتی ہے، تو میں آپ سے توقع کرتا ہوں کہ آپ اس پر ایمانداری سے تنقید کریں۔

انٹیلیجنس ایجنسیز

● ISI کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی وہ TLP کے قاٸدین کی آمدنی کے ذراٸع ،کام کی جگہ، پتا، ادارے کی فنڈنگ وغیرہ کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کرسکتی۔ اسی سلسلے میں ہم نے یہ چھان بین بھی کی کہ آیا یہ بینک اکاٶنٹ ہولڈر ہیں اور انکم ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں۔ ISI نے بتایا کہ ہمارے پاس اس قسم کی معلومات جمع کرنے کا اختیار نہیں ہے تو اس لیئے ہم اس حوالے سے آپکے سوالات کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ فاضل AGP سے دریافت کیا گیا کہ ہمیں ان قاعدے قوانین اور ریگولیشنز اور اختیار کے بارے میں بتایا جائے جس کے تحت ISI کو چلایا جاتا ہے۔ فاضل AGP نے اس حوالے سے ایک مہربند دستاویز فراہم کی لیکن اس درخواست کے ساتھ کہ ISI کے مینڈیٹ کو افشا نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسکی رازداری کی کوئی توجیح پیش نہیں کی، بس یہ کہا کہ دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے لیکن اسکی کوئی مثال پیش نہیں کی۔ اس لیئے ہم نے یہ معلوم کیا کہ آیا دوسرے ممالک میں انٹیلیجنس ایجنسیز کے اختیارات کے حوالے سے اسی قسم کی رازداری برتی جاتی ہے۔

● یونائیٹڈ کنگڈم، یونائیٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے میں انٹیلیجنس ایجنسیز کو چلانے کے لیئے قوانین موجود ہیں اور یہ تمام قوانین افشا ہیں:

ممالک اور ان کی انٹیلیجنس ایجنسیاں قوانین جن کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسیوں کو چلایا جاتا ہے

یونائیٹیڈ کنگڈم:

سیکرٹ انٹیلیجنس سروس (MI6)، سیکیورٹی سروس (MI5) اور گورنمنٹ کمیونیکیشنز ہیڈکواٹرز (GCHQ) سیکیورٹی سروس ایکٹ 1989، انٹیلیجنس سروس ایکٹ 1994، ریگولیشن آف انویسٹیگیٹری پاورز ایکٹ 2000، جسٹس اینڈ سیکیورٹی ایکٹ 2013 اور دی انویسٹیگیٹری پاورز ایکٹ 2016.

یونائیٹیڈ اسٹیٹ آف امریکہ:

سینٹرل انٹیلیجنس اتھارٹی (CIA) اور فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (FBI) دی نیشنل سیکیورٹی ایکٹ آف 1947، سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی ایکٹ آف 1949، اور انٹیلیجنس ریفارم اینڈ ٹیررازم پریوینشن ایکٹ آف 2004.

نیوزی لینڈ:

نیوزی لینڈ سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس (NZSIS) انٹیلیجنس اینڈ سیکیورٹی ایکٹ 2017.

آسٹریلیا:

آسٹریلین سیکیورٹی انٹیلیجنس آرگنائیزیشن (ASIO) اور آسٹریلین سیکرٹ انٹیلیجنس سروس (ASIS) آسٹریلین سیکیورٹی انٹیلیجنس آرگنائیزیشن ایکٹ 1979، اورانٹیلیجنس سروسز ایکٹ 2001.

کینیڈا:

کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس (CSIS) دی کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس ایکٹ 1984.

ناروے:

نارویجن انٹیلیجنس سروس (NIS)، نیشنل سیکیورٹی اتھارٹی (NSM) اور نارویجن ڈیفینس سیکیورٹی ایجنسی (FSA) دی اوور ساٸٹ آف انٹیلیجنس، سرویلینس اینڈ سیکیورٹی سروسز ایکٹ آف 1995.

گورنمنٹ نے کیس کے اس پہلو کو جس طرح نظر انداز کیا ہمیں اس سے مایوسی ہوئی; کسی مسٸلے کو نظرانداز کردینے سے وہ مسٸلہ ختم نہیں ہوتا۔ تاثر یہ ہے کہ ISI ان معاملات میں مداخلت کرتی ہے یا ملوث ہوتی ہے، جن سے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے بشمول سیاست، اس لیئے اس معاملے کو پسِ پشت نہیں ڈالا گیا۔

● پاکستان ائیرفورس کے کم عمر ترین سربراہ مرحوم ائیرمارشل اصغر خان اس بات پر فکر مند تھے کہ کچھ ISI اور آرمی آفیسرز سیاسی ایجنڈا پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے اس فکر کا اظہار سپریم کورٹ کے سامنے کیا تھا اور کورٹ نے اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے تحت توجہ دی تھی کیونکہ یہ بنیادی حقوق کے نفاذ کے حوالے سے عوامی اہمیت کا معاملہ تھا۔ اس کورٹ کا فیصلہ ”مسلح افواج“ کے حلف کا حوالہ دیتا ہے کہ مسلح افواج کے تمام اراکین ”پاکستان کی وفاداری اور آئین کی بالادستی“ کا حلف اٹھائیں گے، اور یہ کہ ”میں خود کو کسی بھی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کرونگا/کرونگی“ ۔ ائیرمارشل اصغرخان کیس کا فیصلہ بیان کرتا ہے کہ :

سیکرٹ ایجنسیاں جیسے ISI، MI، IB وغیرہ کے آفیسرز یا اراکین کے انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی غیر قانونی اقدام میں ملوث پائے جانے پر سخت کاروائی کی جائے گی، حلف شکنی کرنے یا غیرقانونی فعل میں ملوث ہونے پر ان کے ساتھ آئین کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔

● ائیرمارشل اصغرخان کیس کے فیصلے کے مطابق ISI یا مسلح افواج کے آفیسرز یا اراکین کی سیاست اور میڈیا میں مداخلت یا کسی اور ”غیرقانونی“ اقدام میں شمولیت یا مداخلت کو روکا جانا چاہیے۔ اسکے برعکس جب TLP دھرنے کے مظاہرین وردی والے سے نقد رقم وصول کررہے تھے تو یوں اس معاملے میں انکی شمولیت کا تاثر ملا۔ ڈی جی ISPR بھی سیاسی معاملے میں بیان دے چکے ہیں: ” تاریخ ثابت کرے گی کہ 2018 کے جنرل الیکشنز شفاف تھے“۔ مسلح افواج اور ایجنسیاں مسلح افواج کے اہلکاروں کے ذریعے چلائی جاتیں ہیں بشمول ISI، ملٹری انٹیلیجنس MI اور ISPR پاکستان کی خدمت کرتے ہیں، سب پاکستان کے شہری ہیں۔ انہیں کسی مخصوص سیاسی جماعت یا اسکے کسی دھڑے کی ہرگز حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر مسلح افواج کا کوئی رکن میڈیا کے خلاف/یا اسکے ذریعے جوڑتوڑ کرتا ہے یا اسکے ساتھ سیاست بازی کرتا ہے تو وہ مسلح افواج کی دیانت اور پیشہ وارانہ مہارت کو مجروح کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 245 میں مسلح افواج کی ذمہ داری کو واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے ”مسلح افوج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت، بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی،اور; قانون کے تابع،شہری حکام کی امداد میں،جب ایسا کرنے کے لیئے طلب کی جائیں،کام کریں گی“۔ ہمیں ایسے افراد کو ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ اپنے غیرقانونی اقدامات کی وجہ سے ان اہلکاروں کی عزت اور وقار کو مجروح کریں جو بے لوث دوسروں کے لیئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے ہیں۔

● آئی ایس آئی نے بتایا کہ تشدد میں ملوث رہنے والے افراد یا جماعت کے مالیاتی معاملات پر نظر رکھنا انکے اختیارات کے داٸرے سے باہر ہے۔ البتہ دہشت گردی کے تناظر میں، اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997 کی شق 19، ”انٹیلیجنس ایجنسیز، مسلح افواج ، سول مسلح افواج“ کو ایک اختیار تفویض کرتی ہے۔ انٹیلیجنس ایجنسیز کو نفرت اور تشدد کا پرچار کرنے والے عناصر کو ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر پرتشدد نظریات اور اقدامات کا پرچار کرنے والوں پر نگاہ نہ رکھی جائے تو وہ اکثر ریاست مخالف عناصر کی شکل اختیار کرجاتے ہیں اور لوگوں کو دہشت میں مبتلا کردیتے ہیں۔ گالی گلوچ،تشدد اور نفرت کا مظاہرہ کرنے والوں ناز ہرگز نہیں اٹھانے چاہیے بلکہ انہیں ریاست، اسکی پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیز کا خوف ہونا چاہیے۔

● ڈائریکٹریٹ آف انٹر سروس انٹیلیجنس کو لیاقت علی خان کی وزارتِ عظمی کے دور میں قاٸم کیا گیا تھا۔ ڈائریکٹریٹ کا پہلا سربراہ بریگیڈیر ایس شاہد حامد کو مقرر کیا گیا تھا۔ نہایت محدود ذراٸع کے ساتھ ڈائریکٹریٹ کو دی گئی ذمہ داریاں پوری کرنی تھیں، تفویض کردہ اختیارات کے مطابق (وہ سب کو معلوم ہیں)،جس میں سیاست اور میڈیا شامل نہیں تھا۔ نوزائیدہ ریاست پاکستان جسمیں اس وقت مشرقی پاکستان شامل تھا، جلد ہی قدآوار ہوکر اقوام عالم میں وقار حاصل کرچکی تھی۔ جب ادارے تفویض کردہ آئینی حدود کے اندر رہیں اور چیک اینڈ بیلنس کا کا نظام مٶثر ہو، تو ریاست محفوظ ہوتی ہے اور عوام شاد وآباد۔ پریشانی کا آغاز خودساختہ نجات دہندگان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انہیں علم ہونا چاہیے جیسا کہ آئین پاکستان کے آغاز میں درج ہے کہ ”چونکہ اللہ تبارک و تعالی پوری کاٸنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کوجو اختیار اور اقتدار اسکی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے“۔ قاٸداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا جو خاکہ پیش کیا تھا وہ ”جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر قاٸم تھا ناکہ بیوروکریسی، آٹوکریسی یا آمریت پر“ ۔ ہمیں اپنے قاٸد کے نظریات اور آئین کو ثابت قدمی سے تھامے رکھنا ہے۔

آزادی کی تحریکیں اور پاکستان

● پاکستان جمہوری اور آئینی طریقے سے حاصل کیا گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ اور اسکے صدر مسٹر جناح نے اپنے مطالبات پرامن طریقے سے پیش کیئے اور انہیں منوانے کی جدوجہد کی۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو تشدد پر نہیں اکسایا۔ انہوں نے برٹش حکومت کو دھمکی اور گالیاں نہیں دی، جن سے انہیں آزادی چاہیے تھی، نہ اپنے سیاسی مخالفین کو دی، نہ انڈین نیشنل کانگریس کو دی اور نا تو کسی مذہبی برادری کو دی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے قاٸدین نے رسالتِ مأب محمد ﷺ کے عظیم اخلاقِ حسنہ سے رہنمائی حاصل کی تھی۔ آپ ﷺ اخلاق و آداب کے عظیم اسلامی تمدن کے بانی تھے۔ آپﷺ نے کبھی گالی نہیں دی اور نہ کوٸ ایسا لفظ ادا کیا جسے گالی سے تعبیر کیا جاسکتا ہو۔ اخلاق حسنہ اور ثابت قدمی کے حاملین مرد وخواتین نے پاکستان حاصل کیا تھا۔

اسلام

● رسالتِ مأب محمد ﷺ کو رحمت العالمین (دنیا کے لیئے رحمت) بنا کر بھیجا گیا۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ آپکے اخلاق انتہائی اعلیٰ ہیں، ” وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ‏ (68:4)“۔ رسالتِ مأب محمد ﷺ نے فرمایا ”میں صرف اخلاق کےاعلیٰ اصاف کو مکمل کرنے کے لیئے بھیجا گیا ہوں،(ترمذی)“، یعنی کردارسازی کے لیئے۔ آپ ﷺ کی ذات حیا، ایثار،اخلاقیات اور ضبط نفس کا کامل نمونہ ہے۔ قانون شکنی کرنا، لوگوں کو دھمکانا، عوامی مقامات پر قابض ہونا، املاک جو نقصان پہنچانا، لوگوں کی اموات اور انکے زخمی ہونے کی وجہ بننا، رسالتِ مأب محمد ﷺ کے اخلاق و آداب کی مثالیں نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جو ان گھٹیا ہتھکنڈوں کو اپناتے ہیں وہ اسلامی اخلاقیات کےاعلیٰ پیمانوں پر پورے نہیں اترتے۔ رسالتِ مأب محمد ﷺ نے اپنے پیروکاروں کو امن کا درس دیا اور انہیں ان الفاظ میں سلام ”اسلام وعلیکم“ (تم پر سلامتی ہو) کرنے کی تعلیم دی اور ان الفاظ میں جواب دینے کی تلقین کی ”وعلیکم السلام“ یا مزید بہتر لفظوں میں ”وعلیکم السلام ورحمة اللہ برکاتہ“ ، تم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو۔ مسلمانوں کو لازماً ایسے متکبر اور خودساختہ صالحین سے ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ ”خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں(ترجمہ)“، ”وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِيۡنَ يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا‏ (25:63)”۔ اللہ ﷻ تکبر اور خود پرستی کو ناپسند فرماتا ہے جیسے کہ ارشاد ہے: ”وَاقۡصِدۡ فِىۡ مَشۡيِكَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ‌ؕ اِنَّ اَنۡكَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ“ (31:19)،” اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے (ترجمہ)“۔ جو لوگ اونچی آواز میں بدزبانی اور گالی گلوچ کرتے ہیں انہیں قرآن کے مطالعے کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن میں ایسے لوگوں کی آواز کو گدھے کی آواز سے تشبیح دی گئی ہے۔

● آئین پاکستان میں درج شدہ ابتدائی الفاظ یہ ہیں ”اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ،نہایت رحم والا ہے“ ۔ تو یہ تمہید اس بیان کی توثیق کرتی ہے جو آئین پاکستان کے آغاز پر ہی درج ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیارواقتدار اس کی مقررکردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے“۔ آئین کا آرٹیکل 19 اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ”اسلام کے تقدس“ کو پامال کیا جائے، اور اگر کوئی ہجوم تشدد،دھونس دھمکی اور گالی گلوچ اسلام کے نام پر کرتا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ وہ اسلام کے تقدس کو پامال کررہا ہے۔ حقیقی ایمان والے ایسے اعمال سے نفرت کرتے ہیں۔ ایسی حرکتوں سے آہستہ آہستہ اسلام کا اصل چہرہ اور ان حقیقی ایمان والوں کی آواز مٹ جائے گی جو اخلاق کو آداب پر عمل کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جارحانہ تقاریر اور پرتشدد برتاٶ کو بطور اسلام اور مسلمان کا ترجمان بنا کرپیش کیا جارہا ہے، یہ اسلام اوررسالتِ مأب محمد ﷺ کی سنت کے برخلاف ہے۔ آئین اپنے آرٹیکل (1) 31، میں یہ عہد باندھتا ہے کہ ”پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پراپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کو مطابق مرتّب کرنے کے قابل بنانے کے لیئے اور انہیں ایسی سہولیات مہیا کرنے کے لیئے اقدامات کیئے جائیں گے جنکی مدد سے وہ قرآن اور سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں“ اور آرٹیکل (2،ب)31 کے مطابق ریاست کی کوشش ہوگی کہ ”اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کوفروغ دیا جائے“۔ تشدد، گالی اور دھمکی اسلام کے اخلاقی معیار کے خلاف ہے۔

● یہ کیس کئی انتہائی اہم معاملات کو سامنے لایا ہے جیسے آئین کے مطابق عوامی اہمیت کا تعین، بنیادی حقوق کی تشریح، اداروں کے اختیارات سے تجاوز کے نتاٸج پر غور ، سیاسی مفادات کے حصول کے لیئے استعمال کیئے جانے والے ہتھکنڈے، ریاست کو کیسے شہریوں اور انکے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے، مقامات پر سیکیورٹی کے طریقہ کار، انٹیلیجنس ایجنسیز کا کردار اور اختیارات، میڈیا کی آزادی اور پابندیاں، پیمرا کی ذمہ داریاں، الیکشن کمیشن کا کردار اور اسلامی تعلیمات، ہم نے آئین کی روشنی میں ان کا جاٸزہ لیا۔

● ہم جانتے ہیں کہ کئی معاملات جنکا ہم نے جاٸزہ لیا وہ اخلاقی، سیاسی اور مذہبی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ لوگ جو 12 مئی 2007 کو (جب غیرمسلح شہریوں کا قتلِ عام کیا گیا)اقتدار پر تھے یا وہ لوگ جنہوں نے فیض آباد انٹرچیج دھرنا کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی (جس نے شہری زندگی کو مفلوج کردیا اور املاک تباہ کیں) آج حکومت میں پسندیدہ اعلی عہدے پر ہیں۔ جبکہ عمومی اخلاقیات زوال پذیر ہوئیں، سیاسی اور مذہبی اقدارتنزلی کا شکار ہوئے جن پر صرف تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔ تاہم آئین کے آرٹیکل (3) 184 کے ماتحت عدالتی اختیار کے داٸرے میں ہم نے اپنی بصارت اس معاملے میں نہیں کھوئی۔

نتیجہ Conclusion

● مندرجہ بالا بیان کردہ وجوہات کی بنیاد پر یہ کیس مندرجہ ذیل بیانات اور ہدایات کے ساتھ نمٹایا جارہا ہے:

1. قانونی طور پرعاٸد معقول پابندیوں سے مشروط، ہرشہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرے یا اس کی تشکیل کرے۔

2. ہر شہری اور سیاسی جماعت کو پرامن اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے اس طور پر کہ پبلک آرڈر کے مفاد کے تحت لگائی گٸ پابندیوں اور قوانین کی پابندی کی جائے۔ اجتماع اور احتجاج کے حق کا داٸرہ اس پر محیط ہے کہ دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو بشمول ان کے آزادانہ نقل و حرکت اور جائیداد و املاک رکھنے کا حق متاثر نہ ہو۔

3. وہ مظاہرین جو لوگوں کو سڑکوں کے استعمال کے حق سے باز رکھیں یا املاک کو نقصان پہنچائیں انکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جانی چاہیے اور انہیں جوابدہ ٹہرانا چاہیے۔

4. آئین نے جو ذمہ داریاں الیکشن کمیشن کے لیئے مخصوص کی ہیں انہیں ہرحال میں پورا کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت ان قوانین کی پاسداری نہیں کرتی جن کے تحت انہیں چلایا جانا چاہیے تو ایسی صورت میں الیکشن کمیشن کو اس جماعت کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیے۔ قانون ہرگز دکھاوے کے لیئے نہیں ہیں جیسا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا۔

5. قانون کے تحت تمام سیاسی جماعتیں اپنی فنڈنگ کے ذراٸع کے حوالے سے جوابدہ ہیں۔

6. ریاست کو ہمیشہ غیرجانبدارانہ اور شفافانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ قانون کا نفاذ سب پر ہے ان پر بھی جو حکومت میں ہیں۔ اداروں کو ان سے آزاد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جو حکومت میں ہیں۔

7. جب ریاست ایسے عناصر کو سزا دینے میں ناکام رہی جو اعلیٰ حکومتی سطح پر موجود ہیں اور جو 12 مئی 2007 کے روز کراچی کی سڑکوں پر موجود شہریوں کے قتل اور اقدامِ قتل میں ملوث تھے تو اس سے بری مثال قاٸم ہوئی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیئے تشدد کا راستہ اپنانے والوں کو شہہ ملی ۔

8. ایسا شخص جو کسی کو نقصان پہنچانے یا کسی کا نقصان کروانے کے لیئے فتویٰ جاری کرے اسے پاکستان پینل کوڈ، اینٹی ٹیررازم ایکٹ 1997، اور/یا، پریوینشن آف الیکٹرانک کراٸمز ایکٹ 2016 کے تحت مجرموں کی طرح سزا دینی چاہیے۔

9. ایسے براڈکاسٹرز جو کسی جرم کو براڈکاسٹ کریں یا ان ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی کریں جنکے تحت انہیں لاٸسنس دیا گیا تھا تو پیمرا کو انکے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کرنی چاہیے۔

10. ایسے کیبل آپریٹرز جو لاٸسنس یافتہ براڈکاسٹرز کی نشریات منقطع کریں یا رکاوٹ ڈالیں تو پیمرا کو انکے خلاف پیمرا آرڈینس کے تحت کاروائی کرنی چاہیے۔ اور اگر کیبل آپریٹرز نے ایسا کسی اور کی ہدایت پر کیا ہے تو پھر پیمرا کو اس حوالے سے متعلقہ اتھارٹی کا آگاہ کرنا چاہیے۔

11. الیکٹرانک کے ذریعے جرم کا پرچار کرنے یا اسکی ترغیب دینے والوں کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کراٸمز ایکٹ 2016، کے تحت کاروائی کرنی چاہیے اور انہیں سزا دینی چاہیے۔

12. تمام انٹیلیجنس ایجنسیز (بشمول ISI،IB اور MI) اور ISPR کو اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ادارے آزادی اظہار اور تقریر کی آزادی کے حق میں تخفیف نہیں کرسکتے اور انہیں اس بات کا کوئی اختیار نہیں کہ یہ نشرواشاعت، نشرواشاعت کے اداروں کے انتظامی معاملات اور اخبارات کی تقیسم میں مداخلت کریں۔

13. انٹیلیجنس ایجنسیز کو ان کاروائیوں پر نظر رکھنی چاہیے جو پاکستان کی علاقائی سالمیت کے لیئے خطرہ ہیں اور ان عناصر پر جو عوام یا ریاست کے تحفظ کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

14. شفافیت اور نفاذِ قانون کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یہ مناسب ہوگا کہ انٹیلیجنس ایجنسیز کو انکے وضع کردہ اختیارات سے مشروط کردیا جائے۔

15. آئین مسلح افواج کے اراکین کی کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصّہ لینے،کسی سیاسی جماعت یا اسکے مخصوص دھڑے کی حمایت کرنے پر سخت پابندی عاٸد کرتا ہے۔ حکومتِ پاکستان بذریعہ وزارتِ دفاع اور متعلقہ آرمی، نیوی اور ائیرفورس سربراہان کو ہدایت جاری کرے گی کہ ایسے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کریں جوحلف شکنی میں ملوث پائے گئے ہیں۔

16. پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ریلی، احتجاج اور دھرنے کے حوالے سے انتظامات اور ان پر بہتر گرفت کے حوالے سے طریقہ کار کی بہترین حکمت عملی تیار کریں اور اس پہلو پر دھیان دیں کے انکے پلان میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ وہ مختلف اور غیرمتوقع صورتحال میں بھی مٶثر ہوں۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ طریقہ کار اورحکمت عملی مرتب کروانا کورٹ کے داٸرہ کار سے باہر ہے البتہ یہ امید کی جاتی ہے کہ نفاذ قانون کے سلسلے میں اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ کوئی جانی نقصان یا عوام کے شدید زخمی ہونے کا امکان نہ ہو۔

17. وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی ترغیب دینے والے عناصر پر نگاہ رکھیں اور ایسے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دیں۔

● یہ انتہائی مناسب ہوگا کہ اس فیصلہ کو قاٸداعظم محمد علی جناح کے اقوال پر ختم کیا جائے:

میں اسے اپنا فرض سمجھتا ہوں کے مسلمانوں کو اس کی دعوت دی جائے کہ اپنے غصے کو اپنے قابو میں رکھیں اور خطرات سے آگاہ رہیں یہ اپنی ہی ریاست کو بے بس کرسکتا ہے۔ کیا انہیں اجازت دینی چاہیے کہ یہ انکے وقتی جذبات سے انکے افعال پرقبضہ حاصل کرلیں۔

یہ بے حد ضروری ہے کہ پاکستان کو بد نظمی سے بچایا جائے کیونکہ قانون شکنی کی وباء اسکی بنیادوں کو ہلا دے گی اور مستقبل میں ناقابلِ تلافی نقصانات کی وجہ بنے گی۔

میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ جس نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں یہ آزاد ملک عطا فرمایا۔۔۔اب سے ہمارے لوگوں کو اتنی توفیق عطا فرمائے کہ یہ پاکستان کی خاطر اسکے امن کو بحال رکھیں۔

● دفتر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس فیصلے کی نقول کو اطلاع اور تعمیل کے لیئے حکومت پاکستان کو بھجوائے، بذریعہ کیبنٹ سیکریٹری، سیکریٹری دفاع، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری انسانی حقوق، سیکریٹری مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، سیکریٹری انفارمیشن، چیف سیکریٹریز آف پرووینسیز، الیکشن کمیشن آف پاکستان، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور چیف کمشنر اسلام آباد۔ سیکریٹری دفاع کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو مسلح افواج کے سربراہان،ڈاٸریکٹر جنرل آف انٹر سروسز انٹیلیجنس، ڈاٸریکٹرجنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز اور ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کو بھجوائے۔ سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ یہ فیصلہ ڈاٸریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو، ڈاٸریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی، صوبوں اور دارالحکومت اسلام آباد کے انسپیکٹر جنرلز کو بھجوائے۔ سیکریٹری انفارمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ یہ فیصلہ ڈاٸریکٹرز آف آل پریس اینڈ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹس کو بھجوائے اور وہاں سے یہ تمام نیوز پیپرز کو انکے حدود میں اشاعت کے لیئے بھجوایا جائے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس فیصلے کو تمام ٹی وی چینلز،لاٸسنز یافتہ براڈ کاسٹرز اور کیبل آپریٹرز کو بھجوایا جائے۔

● یہ کیس اور اس سے متعلق تمام زیرالتوا درخواستوں کو مندرجہ بالا شراٸط پر نمٹادیا گیا ہے۔

بینچ-III

اسلام آباد

6.2.2019

6 فروری 2019 کو اسلام آباد کے اوپن کورٹ میں سنایاگیا۔

(یہ فیصلہ انگریزی زبان میں تھا، جسے متبادل لکھاری مہناز اختر نے اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے میں تمام ممکنہ کوشش کی گئی ہے کہ کسی طرح کا کوئی سہو نہ رہا ہو مگر اگر کہیں کوئی غلطی دکھائی دے، تو براہ مہربانی متبادل کو آگاہ کیجیے۔ اس فیصلے کو من و عن اس لیے آپ تک پہنچایا جا رہا ہے اور نہایت انہماک سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے، کیوں کہ بہت سے افراد کی جانب سے متبادل سے درخواست کی گئی تھی کہ فیصلہ انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھنے یا پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ متبادل مہناز اختر کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہے، جنہوں نے کئی روز تک اس فیصلے کو ترجمہ کرنے میں صرف کیے۔)

ویل ڈن وزیر مذہبی امور

حکومت کا اچھا اقدام

ویل ڈن وزیر مذہبی امور

اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے سیاسی جماعتوں اور کاسہ لیس نام نہاد رہنماوں کے ایم بی ایس کے لیے لگائے گئے خیر مقدمی بینرز اتار دیئے ہیں.یہ اچھا اقدام ہے.ایم بی ایس ریاست پاکستان کے مہمان ہیں کسی شخصیت یا جماعت کے نہیں ہیں.جو خیرات شخصیات یا جماعتوں کو برادر اسلامی ملک سے ملتی ہے وہ.اس کے بغیر بھی ملتی رہے گی.یہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کا قابل تعریف اقدام ہے.انکا کہنا بجا ہے کہ ایم بی ایس یہاں کسی مسلک کے مہمان نہیں ہیں بلکہ وہ ریاست پاکستان کے مہمان ہیں.

میں ذاتی طور یہ سمجھتا ہوں کہ ایم بی ایس کےدورے سے پورا پاکستان اور تمام مسالک کے لوگ خوش ہیں.کیونکہ سب کے سب وطن عزیز کو معاشی طور پر ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں.اگر امریکہ کو اب بھی پاکستان کی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے تو یہ اچھی بات ہے.اس میں کوئی ذرا بھی شک نہیں کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے اہم ملک ہےاور دفاعی اعتبار سے مضبوط ترین ہے.روس کی شکست ہو یا امریکہ کی افغانستان کو گود میں لینی کی حسرت اس کے سامنے جس ریاست نے بند باندھا ہے وہ یہی ریاست ہے.یہ وہ ریاست ہے جس کو پتھروں کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی گئی اور اسکی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کی گئی لیکن اس ریاست کےجوشیلے اور قوت ایمان سے لبریز مجاھدوں نے ہر خواب کو خاک میں ملا دیا.آج جنرل باجوہ اور عمران خان کی قیادت میں یہ ملک جنوبی ایشیا کی ایک مستحکم اقتصادی قوت بننے جارہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ولی عہد کا دورہ سنگ میل ثابت ہوگا اس لیے ہم سب اس دورہ کی حمایت کرتے ہیں.

البتہ کچھ تحفظات ہیں جن کی وجہ سے ہم پریشان ہیں کہ ڈالروں کے عوض ہمیں یمن کی جنگ میں نہ جھونک دیا جائے, ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ڈالرز ایک ٹول کے طور پر استعمال نہ کیے جائیں اور ہمیں کہیں اپنے برادر اسلامی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نہ الجھا دیا جائے.یمن کی جنگ کے حوالے سے پاکستان نے ماضی میں ایک اعلی موقف اپنایا ہے امید ہے اسی موقف پر قائم رہے گا.ہم اسرائیل کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے اور ایران کے ساتھ جنگ کو ہم یہ سمجھیں گے کہ پاکستان اپنے خلاف جنگ کر رہا ہے.اس لیے یہ بڑے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ہماری قیادت کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرے گی جو عوام کے جذبات کا خون کرے.ہم ایسے کسی غلط فیصلے کی اپنی قیادت سے توقع نہیں کرسکتے.

جہاں تک اقتصادی امداد کا تعلق ہے وہ.سعودی عرب کو ہر اسلامی ملک کی کرنی چاہیے.خون مسلم کو بہنے سے بچانے کے لیے سعودی عرب کو اہم اقدامات اٹھانے چاہییں.خطے میں اسلامی ممالک کی اسے نمائیندگی کرنی چاہیے.اگر سعودی عرب اسلام مخالف قوتوں کے مقابلہ میں کھڑا ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر اسلامی ملک اسکی قیادت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگا.ہم سب کو اپنا قبلہ درست رکھنا چاہیے.

طالب دعاء.

گلزار احمد نعیمی

بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی