گئوماتا”: سمّان سے اپمان تک, ایک جائزہ

*”گئوماتا”: سمّان سے اپمان تک, ایک جائزہ*

گئو بھکتوں کے "گئوپریم” کی نقاب کشائی پر مبنی ایک تحقیقی رپورٹ

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیراعلیٰ سواداعظم دہلی gmnaimi@gmail.com

کس نے سوچاتھا کہ "گئوماتا‘”کے سمّان کے نام پرآسمان سر پراٹھانے والے گئوبھکتوں کے چہرے اتنی جلدی بے نقاب ہوجائیں گے۔جس گائے کو "ماتا”جیسے مقدس لفظ سے یاد کیا جاتاہے اسی ماتاکو”آوارہ جانور”کہہ کر اس کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔بے دردی سے ماراپیٹا جائے گا اوراسے بھوکا پیاسا رکھ کرسرکاری اسکولوں،اسپتالوں میں بند کیا جائے گا؟؟

لیکن !ایسا ہوا !!

گئوماتاکےبھکتوں نے بے حسی اور طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گائے جیسی سیدھی مخلوق پر "آوارہ جانور” کہہ کر لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر”ماتا”کے تقدس کوخوب پامال کیا۔ اورحکومت سے گزارش کی کہ اس گائے سے انہیں نجات دلائی جائے اور اس کو آبادیوں سے نکال کر کہیں اور بند کردیا جائے۔

*گایوں کی بدحالی*

ان دنوں پورے ملک کے کئی حصوں میں سڑکوں پر "آوارہ” گھومنے والے گئو وَنش[گائے واہل خانہ]سے دکان دار،کسان اور راہگیر سخت پریشان ہیں۔جہاں دیکھو گایوں کا جھنڈ کا جھنڈ گھومتا نظر آرہا ہے ۔جو کسی بھی دکان میں گھس جاتے ہیں،کسی کی سبزی کھا جاتے ہیں،کسی کاکھیت چر جاتے ہیں ۔اسی سے پریشان ہوکرگئو بھکت اب اپنی ہی ماتا کے خلاف مورچہ کھول چکے ہیں۔پچھلے دنوں ABP نیوز چینل نے گایوں پر ایک خصوصی پروگرام نشرکیا۔جس میں بتایاگیا کہ ملک کے مختلف شہروں میں "آوارہ جانوروں”

[گائے واہل خانہ]کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔جس سے ناراض ہوکر لوگوں نے انہیں مارپیٹ کرسرکاری اسکولوں میں بندکردیاہے۔چندنمایاں شہروں میں علی گڈھ، فیروزآباد، متھرا،اٹاوہ،کانپور،ہاتھ رس، بلندشہر،آگرہ،فتح پور،لکھنؤ،امیٹھی وغیرہ شامل ہیں۔مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

🔹 علی گڈھ میں ہی محض دودن میں[یکم جنوری 2019 سے دو جنوری تک]78 گائیں مرگئیں۔

علی گڈھ کے گاؤں "جَٹاری” کی شیام پروشوتم(श्याम पुरुषोत्तम) گوشالہ کے سیکریٹری "شِودَتّ شرما” نے بتایا کہ ان گایوں کی موت بیماری کی وجہ سے ہوئی ۔

🔹 متھرا میں کسانوں نے 150 گایوں کو مارپیٹ کر اسکو ل میں بندکردیا ،بھوک پیاس کی وجہ سے 6 گائیں مرگئیں۔

گرام پردھان اور تحصیل افسر نے کنفرم کیا کہ گایوں کی موت بھوک پیاس کی وجہ سے ہوئی لیکن کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

🔹 کانپور ضلع کے بدھونا قصبے کے "نَگوا” میں گاؤں والوں نے 50 گایوں کومار پیٹ کر سرکاری اسکول میں بندکردیا۔اطلاع ملنے پر پولیس نے پہنچ کر تالا کھولنا چاہا تاکہ گایوں کو آزادکیا جاسکے لیکن گاؤں والوں نے گایوں کو آزاد کرنے کی مخالفت کی جس کی وجہ سے انہوں پولیس پر حملہ کردیا۔

چوکی انچارج "اِندر پرکاش” کی بائک توڑ دی،سپاہی کملیش،اوم ویر زخمی ہوگئے۔جان بچانے کے لئے یہ تینوں ہی اسکول میں چھپ گئے اور کنٹرول روم کو خبردی.

بعدہ جب پانچ تھانوں کی پولیس فورس پہنچی تب جاکر ان پولیس والوں کی جان بچی اور گایوں کو آزاد کیاگیا۔

🔹 امیٹھی میں کسانوں کا کہنا ہے کہ گایوں نے ہماری فصلوں کو بربادکردیاہے۔ایک ایک کھیت میں 20/20 جانوروں کاجھنڈ گھستا ہے اور ساری فصل کھاجاتاہے اس لئے ہمیں مجبورہوکر رات رات بھر پہرہ دینا پڑتاہے۔

🔹 الہ آباد کے شنکرگڈھ [بھداوا گائوں] میں لوگوں نے گایوں کو مارپیٹ کر سرکاری اسکول میں بند کردیا جس کی وجہ سے طلبہ کو باہر سڑک پر پڑھنا پڑا۔بعد میں پولیس نے آکر سختی کی اور گایوں کو نکال کر اسکول کی صفائی کرا کر تعلیم شروع کرائی لیکن ٹیچرز اور طلبہ کا کہنا ہے کہ گایوں کی وجہ سے اسکول میں بدبو پھیل گئی ہے اور پڑھنا دشوار ہورہا ہے۔

*گایوں کو جیل*

اب تک تو گوبھکت "گئوماتا”کو اسکولوں میں ہی بندکر رہے تھے لیکن 16 جنوری 2019 کو یوپی حکومت کا ایک نیا فرمان آیا کہ سڑکوں پر گھومنے والی گایوں کو جیل بھیج دیا جائے اور جیل کی زمین پر ہی ان کے کھانے پینے کا بندوبست کیا جائے۔لکھنؤ کمشنر انِل گرگ نے تمام کمشنریوں کو حکم دیا ہے کہ 31 جنوری تک تمام ضلع کی جیلوں میں "گئو سیوا کیندر”(गऊ सेवा केंद्र)قائم کئے جائیں۔اس حکم نامہ کی رو سے گایوں کو جیل میں رکھا جائے گا۔

آج تک نیوز چینل کی خبرکے مطابق "گئو رکھشک”کسانوں کی اس پریشانی کی آڑ میں جم کر منافع بنارہے ہیں۔

18 جنوری کی خبرکے مطابق باغپت میں "گئو رکھشک” ایک گائے کو گوشالہ پہنچانے کے عوض میں کسانوں سے پانچ سے چھ ہزار کی رقم اینٹھ رہے ہیں۔

*گایوں کی داستان غم*

"گوبھکتوں” کی حکومت سازی کے بعد گائے کو لگا ہوگا کہ شاید اب جابجا میری پوجا کی جائے گی،ہر گھر میں میرے لئے عمدہ قسم کے کھانے تیارہوں گے،صبح صبح لوگ میرا آشیرواد لیکر کام پر جائیں گے.اور یہ امیدیں بجا بھی تھیں کہ ہر گلی کوچے میں بھکت یہ شعر پڑھتے گھومتے تھے:

جن کے نہیں ہیں نام, ان کے نام بنیں گے

گھر گاؤں شہر مُرلی دَھر کے دھام بنیں گے

برہمانڈ کے سب دیوتا گئو میں سمائے ہیں

تم گائے پال لینا,تمہارے سب کام بنیں گے

اس عقیدت کو دیکھ کر "گئوماتا” کی امیدیں درجہ یقین میں تھیں مگر افسوس!! "گئوماتا”کی امیدیں پانی کے بلبلے سے بھی زیادہ کمزور نکلیں۔بھکتوں نے "ماتاجی” کے نام پر صرف اپنی تجوریاں بھریں۔

سیاسی بھکتوں نے”گئوشالہ” کے نام پر حکومت سے رقمیں حاصل کیں جبکہ دوسرے نمبر کے بھکتوں نے گایوں کا دودھ نکالا اور انہیں چرنے کے لئے سڑکوں پر چھوڑ دیا۔بھوک سے بے حال "گئوماتا” نے کسی دوکان پر چاول میں منہ ڈال دیا تو گوبھکت دکاندار ڈنڈے سے ماتا کا سواگت کرتا ہے۔سڑکوں اور دکانوں سے مایوس ہو کر ماتاجی کھیتوں کی جانب نکل پڑتی ہیں لیکن جیسے ہی کسی کھیت میں چرنے کے لئے منہ ڈالا فوراً ہی کئی سارے "گئوبھکت” لاٹھی ڈنڈوں سے لیس ہوکر سامنے آتے ہیں اور ماتا جی کی طبیعت سے دھلائی کرتے ہیں۔پورا دن بھوک پیاس کی تکلیف اٹھا کر”گوماتا” رات کے وقت کھیتوں میں پہنچتی ہیں کہ شاید رات کے سناٹے میں کچھ کھانے کومل جائے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

امیدیں پوری نہ ہوئیں بلکہ رات کےا ندھیرے میں بھی دہقانی لوگ پہرا کرتے نظر آئے۔اپنے ہی بیٹوں سے جان بچاکر گائے کئی دن فاقہ کشی کی تکلیفیں اٹھا کر آخر ایک دن دنیا کو خیرآباد کہہ دیتی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ "ماں”کی موت پر رسماً ہی سہی لیکن اولادیں آخری رسومات ضرور ادا کرتی ہیں اور احترام کے ساتھ آخری رسم ادا کی جاتی ہے۔لیکن بد نصیب گائے کو پس مرگ بھی سکون نہ ملا اور بھکتوں نے مرنے کے بعد بھی ماتا کا کوئی احترام نہیں کیا بلکہ لاوارث سمجھ کر کوڑے کی طرح کہیں بھی اٹھاکرڈال دیا۔

یہ بات اپنے آپ میں کتنی مضحکہ خیز ہے کہ جس گائے کو "ماتا”کہا جاتا ہے اس کو چارا کھلانے سے بھی بھکتوں کی جیب تنگ ہوجاتی ہے۔

بھلا کون ایسا بدنصیب بیٹا ہوگا جو خود تو پیٹ بھر کھانا کھائے اور اس کی "ماتا”سڑکوں پر بھوک سے بلبلاتی پھرے۔

شہرکی مارکیٹ میں بیٹھنے والے بھکت ویسے تو احترام گائے کے نام پر دنیا کو پِروَچَن(प्रवचन) دیتے نظر آتے ہیں لیکن انہیں کی دکان میں گائے ایک مٹھی چاول ہی کھالے تو غصے میں لال پیلے ہوکر سیدھی سادی گائے پر بے رحمی سے ڈنڈے برساتے ہیں،کیا یہی گوبھکتی ہے؟

گائوں دیہات میں بسنے والے افراد بھی مذہبی افکار کے حامل ہوتے ہیں لیکن اپنے کھیت میں”گئوماتا” کا منہ ڈالنا انہیں بھی گوارا نہیں ہوتا اور یہ بھی”گئوماتا” کی خاطرداری لاٹھی ڈنڈوں سے کرتے ہیں۔

ان سب معاملات کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں کیسے کیسے بیٹے موجود ہیں جو "گئوماتا”کے نام پر کسی کا قتل تو کرسکتے ہیں لیکن وہی بھکت "ماتا” کا پیٹ نہیں بھرسکتے۔

ان لوگوں کے بالمقابل عام لوگ بڑے حقیقت پسند ہوتے ہیں ۔جو نہ گوبھکتی کا دکھاوا کرتے ہیں اور نہ کسی قسم کی سیاسی نوٹنکی!!

یہی لوگ بے سہارا گھومنے والے جانوروں کو پانی بھی پلاتے ہیں اور بقدر وسعت چارا بھی کھلاتے ہیں ۔ضرورت ہے کہ ایسے لوگ آگے آئیں اور سماج میں امن وامان کا ماحول سازگار کرنے میں پیش قدمی کریں۔

غلام مصطفےٰ نعیمی مؤرخہ 19جمادی الاول 1440ھ

25 جنوری 2019ء بروز جمعہ

امام, مقرر, پیر اور ہم

📌امام, مقرر, پیر اور ہم📌

🖊 محمد شاہد علی مصباحی

آج ہندوستان میں ہماری قوم کو جتنا نقصان ہمارے دشمن اپنی رات دن کی محنت اور کوشش سے نہیں پہنچاتے اس سے کہیں زیادہ ہم اور آپ خود پہنچاتے ہیں ۔اور مذہب اسلام کی روح اور جسم دونوں کو زخمی کرتے ہیں۔جبکہ دوسرے لوگ تو صرف ہمارے مذہب کے جسم کو ہی زخمی کرتے ہیں۔

اب آپ یہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے مذہب کو کیوں اور کیسے زخمی کرتے ہیں ؟ ۔ ہم تو اسلام کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔اور اسکے لئے ہم اپنی پوری توانائی کے ساتھ کوشش کرتے ہیں.

تو آئیے میں آپکو بتا دوں ہم اپنی قوم کو کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ قوم کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت ترقی حاصل کرتی ہے جب اس قوم کے ہادی ،رہبر،مارگ درشک ،پڑھے لکھے اور بلند فکر اور قوم کے لئے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والے ہوں۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری قوم کے رہبر ،ہادی کون ہیں ؟ ۔وہ تیں طرح کے لوگ ہیں ۔ امام ، مقرر اور پیر۔

1⃣امام

امام قوم کا پیشوا اور رہنما ہوتا ہے ۔امام اگر چاہے تو قوم کی کشتی کو ساحل نجات تک پہنچا دے ،یا قوم کو گمنامی کے دلدل میں لے جاکر ڈال دے۔ غور فرمائیں ! امام کب قوم کو صحیح راستہ دکھائے گا ؟ جب وہ پڑھا لکھا اچھی فکر والا حافظ و عالم ہوگا۔

اب ہم اپنے اماموں کے ایجوکیشن انکی تعلیم انکی ڈگری پر غور کریں تو ہمیں نظر آئیگا کہ زیادہ تر امام صرف حافظ ہیں ان میں بھی اکثر تو ایسے ہوتے ہیں جو نماز کے مسائل تک سے واقفیت نہیں ، اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جنکو قرآن تک پڑھنا نہیں آتا کئی مرتبہ تو ایسا لگتا ہے کہ جماعت چھوڑ کر الگ نماز پڑھ لی جائے۔

ایسے لوگ نہ تو نماز کے مسائل سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ قوم کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ لیکن ہم نے انہیں اپنا امام بنا لیا ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں! کہ کیا وہ ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں ؟ جن کو خود راستہ کا علم نہ ہو ۔ مگر افسوس آج کل ہم نے زیادہ تر ایسے ہی افراد کو اپنا امام بنا لیا ہے۔ اب لامحالہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ

؏ مرا راہبر ہے وہ راہبر جسے راستے کی خبر نہیں

اب ظاہر سی بات ہے انسان وہی خرچ کرتا ہے جو اسکے پاس ہو۔اور برتن سے وہی چیز نکلتی ہے جو اس میں رکھی گئی ہو۔

آپ یوں سمجھئے کسی مریض کو ( ۵۰۰ mg )کی دوا کی ضرورت ہے اور آپ اسے صرف (۰۵mg ) کی دوا دیں تو کیا ہوگا؟۔

اسی لئے ہم جب بھی امام چنیں تو ہمیشہ یہ خیال رکھیں کہ وہ قوم کے لئے مخلص اور حافظ و عالم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا مفکر اور قوم کا غمخوار بھی ہو۔ یا کم از کم نماز کے مسائل سے واقفیت رکھتا ہو ،نیز قرآن کو صحیح طریقہ پر پڑھ نے کی صلاحیت کا ما لک ہو۔

جب امام حافظ کے ساتھ ساتھ عالم نھی ہوگا تو وہ اپنے بیانات میں آپ کو مسائل بتائے گا اور وقت و حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے بیانات سے قوم کی صحیح رہنمائی کریگا۔

ایک جگہ اما م کی ضرورت پیش آئی کچھ لوگوں نے کہا ایک بہت ہی اچھے علامہ، مولانا، حافظ وقاری ہیں تو انہیں بلوایا گیا ۔بڑی لمبی اونچی ٹوپی اور جبہ قبہ کے ساتھ عطر بیزیاں فرماتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے ،جمعہ میں تقریر کی تو یہ محسوس ہوا کہ ساری مسجد سر پر اٹھا لیں گے مگر جب ان سے مارک شیٹ مانگی گئی تو صرف حفظ کی نکلی ۔

2⃣مقرر

(تقریر کرنے والا)۔یہ طبقہ بھی قوم کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

لوگ ان لوگوں کے نام سے جمع ہوتے ہیں جب کسی پوسٹر میں اچھے مقرر ( اسپیکر) کا نام دیکھتے ہیں تو دوڑے چلے آتے ہیں۔اگر یہ لوگ اپنا کام پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائیں تو ساری عوام کو نجات کے راستے پر لگا دیں ،اور تمام مسلمانوں کو اللہ کی بارگاہ میں سر و سجود ہونے والا بنا دیں

مگر افسوس کے ساتھ پھر وہی بات کہنا پڑ رہی ہے کہ اس جماعت کی ایک بڑی فہرست ہے جو نہ تو تعلیم سے شغف رکھتی ہے اور نہ قوم کی خیر خواہی ۔ بلکہ یہ جماعت تقریر صرف اور صرف اپنے فائدے ، نزرانے اور عوام کو خوش کرنے کے لئے کرتی ہے۔ وہ قوم مسلم جو عبادت رب کے لئے پیدا کی گئی ہے اسے نماز ،روزہ، زکوۃ اور ضرورت کے مسائل نہ بتا کر ممبرر سول پر بیٹھ کر چٹکلے ، جھوٹھی روایات، من گڑھت واقعات، امیروں کی چاپلوسی میں وہ قیمتی وقت گزار دیتے ہیں جو قوم کی سیاسی، سماجی ،دینی ، فلاح و بہبود اور اس کی اصلاح کے لیئے وقف کیا گیا تھا ۔اور نہ جانے کتنے مسلم بھائیوں اور بہنوں کی خون پسینہ کی کمائی پر شب خون مار جاتے ہیں ۔ اور افسوس! کہ ہم اور آپ ایسے ہی مقرروں کو پسند کرتے ہیں۔

یاد رکھئے ! جلسے جو قوم کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے ہوتے تھے ہم نے انہیں امیروں کی تعریف گاہ ،چٹکلے اور ایکٹنگ کا جوہر دکھانے اسٹیج بنا کر رکھ دیا ہے ۔ اگر یہی حال رہا اور ہم نے ایسے مقرروں (اسپیکرس) کا بائکاٹ نہیں کیا جو ہماری قوم کو تاریکیوں میں ڈال کر اپنی جیبیں بھرنا چاہتے ہیں ۔تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہیں رہے گا۔

؏ تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اگر واعظ قوم کا درد رکھنے والا ہوگا تو وہ قوم کو ابھرتے ہوئے مسائل سے باخبر کریگا ،انہیں صراط مستقیم پر لانے کی خاطر کوشش کریگا ،انہیں مسائل دینیہ سے آگاہ کریگا ،اسلام کی قدر سے آشنا کریگا، سیرت رسولﷺ اور سیرت صحابہ کرام ﷢ کا درس دیگا، بزرگان دین اور اکابرین امت ﷭ کے ارشادات و فرمودات کی تعلیم عام کریگا ۔اور اگر واعظ مخلص اور قوم کا ہمدرد نہیں تو وہ کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔

3⃣پیر

پیر مسلمان کا جسمانی اور روحانی ہادی ہوتا ہے ۔پیر کو دیکھ مرید راہ ہدایت پا جاتے ہیں اگر پیر کامل ہے تو مرید کو شریعت کے علم و عمل کا غازی بنا دے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں حضور شیخ الشیوخ ،قطب الاقطاب ،محبوب سبحانی سیدنا غوث الاعظم عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں چور آیا تو قطب بن کر لوٹا ۔عطائے رسول سلطان الہند خواجۂ خواجگاں فخر ہندوستاں خواجہ معین الدین چشتی حسن سنجری (خواجہ غریب نواز) رضی اللہ تعالی عنہ نے جادوگر جوگی جے پال یا کو مومن(عبداللہ بیابانی) بنا دیا۔

لیکن کوئی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ کبھی حضور غوث اعظم یا خواجہ غریب نواز (رضی اللہ تعالی علیھم اجمعین کو کسی نے نماز چھوڑتے یا شریعت کے خلاف کوئی کام کرتے دیکھا ہو۔

مگر آج کچھ ایسے پیر بھی ہیں جو قوم مسلم کو بیوقوف بناتے ہیں صرف اور صرف پیسے کے لئے عوام کے سامنے شریعت کا جنازہ نکالتے رہتے ہیں

اذان ہوتی رہتی ہے ،نماز ہوتی رہتی ہے نہ تو پیر صاحب خود نمازادا کرتے ہیں اور نہ مریدوں کو نماز کے لئے کہتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نماز نہیں پڑھتے تو کبھی کسی جاہل پیر سے جواب ملتا ہے کہ ہم مدینہ شریف میں نماز پڑھتے ہیں اور کبھی جواب ملتا ہے کہ ہم روحانی نماز پڑھتے ہیں ، کبھی کہاجاتا ہے کہ اب ہم فنا فی اللہ ہو گئے ہیں اب ظاہری عبادات نماز ، روزہ، خاص کر زکوٰۃ تو بالکل ہم سے ساقط ہے ۔ہاں مگر کوئی مرید دس بار بھی حج کرائے تب بھی حج ساقط نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ فری میں ایک فارن ٹرپ شاپنگ کے ساتھ میسر آتی ہے اور جاتے وقت مریدین جو نذرانہ پیش کرتے ہیں وہ بونس ۔

لوگو! ذرا غور کرو ایسے پیر نماز تو مدینے میں ادا کرتے ہیں مگر کھانا مرید کے گھر پر ہی کھاتے ہیں، فنا فی اللہ ہونے کے بعد کھانا ساقط نہیں ہوتا اور وہ بھی عمدہ اور لذیذ ، کیوں کہ اگر کھانا ساقط پوگیا تو جان بھی ساقط ہوجائے گی۔اور پیر صاحب کو جان بڑی پیاری ہے۔ اور پیسے بھی ساقط نہین ہوتے کیوں کہ انہیں سے عیش و عشرت کا سامان مہیا ہونا ہے، حج ساقط نہیں ہوتا کیوں کہ گھومنے کو ملتا ہے نذرانوں کے ساتھ۔

ہاں اگر کوئی چیز فنا فی اللہ ہونے کے بعد ساقط ہوتی ہے تو وہ نماز ہے۔کیوں کہ اس میں ان ڈھونگیوں کو سوائے مشقت کے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔

کیا کبھی ایسا سنا ہے؟ کہ حضور ﷺ کے گھر سے کوئی مہمان آکر بغیر کھانا کھائے واپس گیا ہو ۔مگر یہ پیر کہتے ہیں کہ حضورﷺ نماز کے لئے مدینہ بلاتے ہیں ۔مگر نماز کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ کھانا مریدوں کے گھر کھا لینا ۔اور وہ بھی (چکن،مٹن) سے کم مت کھانا اگر سبزی روٹی ہو تو کسی دوسرے کے گھر کھا لینا۔

اے لوگو! کب تک ان ڈھونگی پیروں کے چنگل میں پھنستے رہو گے ؟

اور وہ پیر جو کہتے ہیں ہماری نماز معاف ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ جب حضورﷺ کی نماز معاف نہ ہوئی ،تو ان جاہل پیروں کی کیا معاف ہوگی؟۔

ایسے پیروں کے لئے حضرت مولانا روم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

کار شیطاں میکند نامش ولی

گر ولی ایں است لعنت بر ولی

ترجمہ۔شیطان کا کام کرتا ہے اور اپنے آپ کو ولی کہتا ہے اگر اسی کو ولی کہتے ہیں تو لعنت ہے ایسے ولی پر

4⃣ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

پیارے اسلامی بھائیو ! یہ تین لوگ اگر سدھر جائیں تو قوم مسلم آج کے اس دور کے پر آشوب ماحول میں بھی اپنا کھویا ہوا وقار پا سکتی ہے۔اگر ہمارے امام پڑھے لکھے حسساس ہونگے تو ہمیں صحیح راہ دکھائیں گے چاپلوسی کر کے وقت برباد نہیں کریں گے اور اگر ہمارے مقرر (اسپیکرس) ہمیں صحیح راستہ دکھائیں گے اور جوکس اور چاپلوسی سے کام نہیں لیں گے تو ہمیں صحیح جانکاری ملے گی اور ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی اجر پائیں گے۔

اور اگر پیر چاہیں تو شریعت پر خود عمل کر کے سارے مریدوں کو بھی نمازی اور شریعت پر عمل کرنے والا بنا سکتے ہیں یہی وہ تین گروپ ہیں جو قوم مسلم کو صرف اپنے فائدے کے لئے نقصان اور پستی کی گہرائیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ہمیں اب انکی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو بچانا ہے

اسدالدین اویسی!زمانہ یادرکھے گا تری جرأت کے افسانے

*اسدالدین اویسی!زمانہ یادرکھے گا تری جرأت کے افسانے*

از: *مولانا حشم الدین رضوی الثقافی*

*نوٹ:جو لوگ اویسی صاحب کو بی جے پی کا ایجنٹ کہنے میں لگے ہیں،انھیں چاہیے کہ یہ مضمون پڑھ کر اپنا محاسبہ کریں۔*

*(سیف اصدق)*

قطع نظراس کے کہ مجلس اتحادالمسلمین کے صدراور حیدرآباد کے ایم پی بیرسٹراسدالدین اویسی سیاست میں کتنے کامیاب ہیں اورسیاست میں وہ کس حد تک آگے جائیں گے لیکن ان کی جرأت ،عزم واستقلال،ان کے انداز تخاطب ،ان کی عالی ہمتی اور بے خوفی کوبے اختیار سلام کرنے کو جی چاہتاہے کہ اللہ تعالی اس گئے گذرے عہدمیں بھی ایسے جواں مردوں کو رکھے ہوئے ہیں جو حق کی بات ظالموں کے سامنے کہنے میں کسی طرح کی جھجھک اور عار محسوس نہیں کرتے اور نبی ﷺ کے قول ’ افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر‘کہ سب سے عظیم جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہہ دیناہے‘کے صحیح مصداق ہیں۔جنھوں نے ہرموقعے اور ہرموڑ پراسلام کا دامن تھام رکھاہے اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کو پس پشت ڈال دیاہے۔

مثال کے طورپر تبدیلی مذہب کے عنوان پر لب کشائی کرتے ہوئےبیرسٹر محترم پارلیمنٹ میں اس طرح گویاہوتے ہیں ‘’یہ بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے لوگ آپ کے لوگ ہیں ہم ان سے ڈرنے والے نہیں۔ہم اپنے مذہب پرچلیں گے۔ ہمیں جتنافخر ہندوستانی ہونے پرہے اتنا فخرمسلمان ہونے پر بھی ہے۔نہ عیسائی ڈریں گے نہ مسلمان ڈریں گے۔آپ لاکھ کوشش کرلیجئے ہم اپنا مذہب تبدیل کرنے والے نہیں ہیں۔ملک کوبچاناہے ملک کومضبوط کرنا ہے تو اپنے جوکروں کو روکو،اپنے چمچوں کو روکو تب ملک بچے گا ۔شکریہ‘۔

پارلیمنٹ کے اند ر موصوف کی حق گوئی و بے باکانہ للکار آئے دن مشاہدہ میں آتی رہتی ہے۔ اور ہندوستان کا ایک بڑا طبقہ آپ کے خیالات وافکار کو اپنی ترجمانی سے تعبیرکرتاہے۔

رجت شرماکے ساتھ انٹرویومیں یوں کہتے ہیں’ملک سے ہمارانہ کوئی جھگڑا ہے اور نہ ہوگا ان شاء اللہ تعالی۔ یہ ملک ہمارا تھاہمارا ہے اور ہمارارہے گا۔اس ملک کیDiversity (تنوع) ہی اس کی طاقت ہے۔ ایک لڑکی کے اس سوال پر کہ سارے دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں کے جواب میں نہایت سادگی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے یوں لب کشاہوتے ہیں’ مہاتما گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟ اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھاکیا؟بابری مسجد کو جس نے شہید کیاوہ مسلمان تھا کیا؟دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کی گردنیں کاٹنے والے مسلمان تھے کیا؟گجرات کے گلی چوں میں لوگوں کو قتل کرنے والے مسلمان تھے کیا؟ میری بہن !میں آپ سے گذارش کررہاہوں کہ آپ ایسامت سوچئے۔برائی برائی ہوتی ہے اس کو آپ مذہب کے نقطہ نظر سے مت دیکھئے۔ماوواد سے ہماراکیاتعلق ہم تو ہر تشد د کی مذمت کرتے ہیں‘ ۔ یا دارالسلام کے جلسے میں یہ کہناکہ’ اصل گھرواپسی تو اسلام کی طرف آنا ہے کیوں کہ ہربچہ فطرت اسلام پرپیداہوتاہے‘۔ جس کی وجہ باطل عناصر میں خوب کھلبلی مچی.

موصوف کے روز مرہ کے ٹی وی ڈبیٹ اور انٹرویو کو دیکھ کر بے اختیار دعانکل جاتی ہے کہ اسد! اللہ تجھے سلامت رکھے۔ تو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کا جانباز اور حقدار ترجمان ہے۔تو نے ہرجگہ اور ہرموقع پر اسلام اور اس ملک کے دستور کی وکالت کی ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر کی ہے۔

تین طلاق کےمخالف 28 دسمبر 2017 کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والےپہلے ٹرپل طلاق بل کا اسدالدین اویسی نے جس ہمت وپامردی اور دلائل وبراہین کے ساتھ رد کیاتھاوہ قابل دید وقابل ملاحظہ ہے۔انھوں نے خوب جم کرمخالفت کی اور دلائل وبراہین سے مدلل گفتگو کی اور بہرحال ان کی آواز آسمان والے کے یہاں سنی گئی اور بل راجیہ سبھا میں پاس نہ ہو پایا۔ موصوف اس دن تن تنہامورچالیے ہوئےتھے۔اور انھوں نے اپنے جلسوں میں اپنے اس اکیلے پن کا باربار اظہار بھی کیاجس نے ہر مرد مومن کے دل پر اثر کیا..

اور پھر آج بتاریخ 27 دسمبر 2018 کو اسدالدین اویسی نے جس طرح سے بل کو مسترد کیا کی اس کی داد دیے بغیر نہیں رہاجاسکتا۔ بیرسٹر نے آئین ہند کا حوالہ دے کر اسے مذہبی آزادی میں مداخلت قرار دیا اور کہا کہ میں ایک باپ، ایک بھائی، ایک چاچا ااور بیٹا ہونے کے ناطے اس ایوان کے ذریعےحکومت کو بتانا چاہتاہوں کہ ہندوستان کی صد فیصد مسلم خواتین اس بل کی پرزور مخالفت کرتی ہیں اور اسے ریجکٹ کرتی ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ آئین ہند کی دفعات 14؍15؍26؍اور 29کے تحت جو مذہبی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے یہ بل ان کے خلاف ہے اس لیے میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔ انھوں نے اپنے نرالے اور پرجوش انداز میں آگے کہاکہ :اس حکومت کی وہ کون سی مجبوری ہے کہ یہ ہم جنسی اور زناکاری کو جرم کی فہرست سے نکال دیاگیاپر آپ اس کی مخالفت نہیں کرتے لیکن آپ ٹرپل طلاق کے خلاف ہیں اور اسے قابل سزاجرم اس لیے سمجھتے ہیں کیو ں کہ یہ مسئلہ ہم سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون آئین کے خلاف ہے اورمختلف قوانین اور نقطہائے نظر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر قانون کو کچھ قانون کی کتابیں پڑھنے کا بھی مشورہ دے ڈالا تاکہ انھیں کچھ مبادیات قانون معلوم ہو جائیں.. سابری مالامندر کا حوالہ دیتے ہوئےجب وہ یہ سوال پوچھ رہے تھے تو منظر دیدنی تھا:کہ کیاآپ کا عقیدہ تو آپ کا ہوگااور میراعقیدہ میرانہیں ہوگا؟ انھوں نے یہ سوال بھی چست کرنے میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھاکہ ہمارے ملک میں طلاق کے قانون میں اگر کوئی ہندو طلاق دیتا ہے تو اسے ایک سال کی سزا کیوں ہے، اور مسلمان کو تین سال کی سزا کیوں؟ کیا یہ آرٹیکل 14 کا غلط استعمال نہیں ہے؟ انہوں نے اس موقع پر ایم جے اکبر کے خلاف گزشتہ دنوں چھڑی می ٹو مہم کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے ان کے ساتھ نرم رویے کا بھی خوب استہزاء کیا اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی پر بھی طنز کسا۔ انہوں نے ببانگ دہل یہ بھی کہاکہ طلاق کے تعلق سے حکومت کے ارادے نیک نہیں ہےاور یہ بھی کہا کہ جب سپریم کورٹ نے کہدیا ہے کہ اس سے شادی نہیں ٹوٹتی تو پھر آپ کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ ٹرپل طلاق بل کامقصد صرف مسلمانوں کو پریشان کرنا ہے اور انہیں جیل بھیجوانا ہے۔ انہوں نے سائرہ بانو کے تعلق سے کہا کہ وہ تو بی جے پی میں چلی گئی آپ کی حکومت نے اس کےلیے کیا کیا؟ شادی ایک معاہدہ ہے کو مبرہن کرتے ہوئے مسٹر اویسی نے نہایت شاندار تجویز پیش کی۔حکومت کے اٹارنی جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے برے عزائم کو بے نقاب کیا۔

موصوف اویسی جی نے اپنی گفتگو میں ایوان زیریں اندر قرآن کے حوالے سے باتیں پیش کرنے والوں اور والیوں کو دعوت توحید وختم نبوت بھی دے ڈالا۔اورپھر اختتام تو اتناشانداررہا کہ بس کیا پوچھنا۔انھوں نے اخیرمیں کہاکہ میڈم! میں آپ کے واسطے سے حکومت کو یہ بتاناچاہتاہوں کہ آپ کے قانون سے ، آپ کے دباؤ سے ، آپ کے زور سے،آپ کے جبر سے ہم اپنے مذہب کو نہیں چھوڑیں گے۔جب تک دنیاباقی رہے گی ہم مسلمان بن کر شریعت پر چلتے رہیں گے ۔ ہم اس بل کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔

واہ اویسی صاحب! آپ نے اس ایوان بھی اسلام کی حقانیت کا ببانگ دہل اعلان کیا اور واقعی حق اداکردیا۔ اور مجھے اور مجھ جیسے کروڑوں لوگوں کا یہ یقین ہے کہ جب تک آپ جیسے باہمت اور سمجھدار اور غیور مسلمان اس ملک میں اور ایوانوں میں موجود رہیں گے اسلام کی آواز کو دبایانہیں جاسکے گا ۔ ان شاء اللہ

دعاگو ہوں کہ اللہ آپ کو قدم بقدم ترقی دے اور ہندوستان کی سیاست کے آسمان کا چمکتاماہتاب اور دمکتاآفتاب بنائے اور ہرطرح دشمنوں کے شرورفتن سے محفوظ رکھے۔اقبال مرحوم نے آپ ہی جیسے لوگوں کے لیے کہا تھا:

آئین جوان ِمرداں حق گوئی وبے باکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

کسی اورشاعر کے یہ اشعاربھی ایسے ہی جانبازوں اور باہمت وباغیرت لوگوں کے لیے کہے گئے ہیں:

سفینہ جو اپنا جلانے چلا ہے

وہ دین نبی کو بچانے چلا ہے

اسے دیکھ کر تو فرشتے ہیں حیران

وہ اپنے لہو میں نہانے چلا ہے

وہ راہ خدا میں پلٹ کے نہ دیکھے

وہ سب کچھ تو اپنا لٹانے چلا ہے

وہ خالد کا وارث وہ طارق کا ثانی

سبق وہ شجاعت کا پڑھانے چلا ہے

بہا کر لہو اپنے قلب و جگر کا

وہ گلشن نبی کا سجانے چلا ہے

بہت ہیں پریشاں یہ ظالم یہ جابر

وہ ظلم و ستم کو مٹانے چلا ہے

عزائم ہیں اس کے پہاڑوں سے اونچے

وہ مغرور سر کو جھکانے چلا ہے

جو بندوں کو رب سے نہ ملنے کبھی دے

وہ دیوار باطل گرانے چلا ہے

وہ قرآن کا داعی وہ دین کا سپاہی

خلافت کا منظر دکھانے چلا ہے

ستارے بھی تکتے ہیں راہیں جو اس کی

حجازیؔ بھی پلکیں بچھانے چلا ہے

علامہ توصیف اور ابوظہبی حکومت

*علامہ توصیف اور ابوظہبی حکومت*

عالم اسلام میں ایسی ہزارہا شخصیات ہیں جن کی استقامت وعزیمت جرآت و حق گوئی تاریخ کےصفحات پرجلی حرفوں میں مرتسم اور منقش ہیں

انہوں نے ظلم واستبداد اور کفروباطل کے اندھیروں میں ایمان ویقین کی شمع فروزاں کیا ہے- جب منکرین زکوةنے ادائیگی زکوة کا انکار کرکے دین میں ارتداد کا راستہ نکالا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کا انتخاب فرمایا

جب قیصر وکسریٰ کے مغرور حکمرانوں نے اسلام کو چیلنج کیا تو رب قدیر نے حضرت عمرفاروق اعظم کا انتخاب کیا

جب خوارج نے آیات قرآنی کے مفاہیم کو بدلنے کی شرمناک کوشش کی اور طاغوتیت کو پھیلایا تو خلاق کائنات مالک شش جہات نے باب العلم علی مرتضی کا انتخاب کیا-

جب یزیدنے سرکشی کا سراٹھایا انسانیت کو رسواکیا چہروں کا وقار لوٹا تو مسبب الاسباب نے امام حسین جیسے مرد آہن کا انتخاب کیا

اور جب خلق قرآن کا فتنہ اٹھا تو اللہ نے امام احمد ابن حنبل کا انتخاب کیا

اور جب اعتزال کے فتنوں کا پانی سرسے اونچاہوا دین اکبری وجود میں آیا تو اس باطل دین کو مٹانے کے لئے اللہ نے مجددالف ثانی کا انتخاب کیا

جب وہابیت قادیانیت نجدیت نے اپنی فتہ سامانیوں کا مظاہرہ کیا تواللہ نے اس کی سرکوبی کے لئے امام احمد رضا کا انتخاب کیا

جب ایمرجنسی کے دور میں ظالم وجابر حکمراں نے اپنی چیرہ دستیوں کی انتہا کردی تو اللہ نے دین مصطفیٰ کو بچانے کے لئے مصطفیٰ رضا کا انتخاب کیا

اور جب مسائل میں اباحت پسندی آنے لگی نظریات میں جدت طرازی کا رنگ ایسا نمایاں نظر آنے لگا جس سے سلف صالحین کا دامن چھوٹنے لگا، نگاہوں کی حیا فروخت کی جانے لگی، ضمیروں کا سودا ہونے لگا تو اللہ نے تاج الشریعہ کا انتخاب کیا-

بریلی شریف جواہلسنت وجماعت کا مرکز ومحور ہے آج سے تقریبا دوسوسال پہلے ہی سے عالم اسلام کے مسلمانوں کواسلامی تعلمیات سے روشناس کراہاہے

جس نے گلستان سنیت کو خون جگر سینچ کر لالہ زار کیا ہے قوم وملت کا سچاوفادار دین ودیانت کا امین و علم بردار رہاہے ظلم واستبداد کفرو باطل کے سامنے جبال شامخہ بن گیا

اسی تقدس مآب عرش نشان شہر کے بطل عظیم حضرت علامہ توصیف رضاخان بریلوی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علمی نسبی حسبی گھرانہ میں جلوہ گرکیا آپ کا سلسلہ نسب صحابئ رسول قیس ملک عبدالرشید تک پہنچتاہے آپ اعلیٰ حضرت کی چوتھی اور صحابئ رسول حضرت قیس ملک عبدالرشید کی انیسویں نسل ہیں

نسب نامہ یہ ہے 👇

خطیب اعظم علامہ توصیف رضاخان بن سیاست صادقہ کے گوہر نایاب حضرت علامہ ریحان رضاخان بن مفسراعظم علامہ ابراہیم رضا خان بن حجة الاسلام مفتی حامد رضا خان بن اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان بن مفتی نقی علی خان بن مفتی رضا علی خان بن مولانا کاظم علی خان بن مولانااعظم خان بن مولانا محمد سعادت یار خاں بن شجاعت جنگ محمد سعیداللہ خان بہادر قندھاری بن عبدالرحمٰن خان قندھاری بن یوسف خان بن دولت خان بن بادل خان بن داؤد خان بن بڑہیج خان بن شرف الدین خان بن ابراہیم خاں بن سیدنا قیس ملک عبدالرشید صحابئ رسول رحھم اللہ اجمین-

تاج السنہ حضرت علامہ توصیف رضا خان اسی عظیم خانوادے کے چشم وچراغ ہیں جہاں اعلیٰ حضرت امام احمدرضا سے نسبت پدری اور نسبت مادری رکھتے ہیں وہیں ایک باکمال خطیب اور باجمال پیر بھی ہیں معزز عالم دین اور روحانی پیشواہیں

اعلیٰ حضرت کی تحریر، حجة الاسلام کی تقریر، مفسراعظم کی تفسیر

مفتئ اعظم کی تنویراورریحان ملت کے خوابوں کی تعبیر کا نام تاج السنہ ہے

تاج السنہ فردواحد کا نام نہیں بلکہ مقتدائے زمانہ کا نام ہے

فیاض ازل کی دی ہوئی نعمت غیر مترقبہ کا نام ہے

آپ نے اپنے زور خطابت سے جہاں زمین محبت کو لالہ زارکیا وہیں مرشد برحق کی حیثیت سے مسند عشق و وفا کو باوقاررکھا- اعلاء کلمة الحق کی راہ میں کبھی بھی کسی مادّی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیاظالم حکمراں کے سامنے احقاق ابطال باطل کے فریضہ کو بحسن وخوبی انجام دیاہےحکومت کے کارندوں کے جبروتشد سے بے خوف ہوکرحق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ کیا مصائب وآلام کی پروانہ کرکے یہ ثابت کردیا-

*آیئنہ جواں مرداں حق گوئی وبے باکی*

*اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی*

۲۰/ اکتوبر ۲۰۱۸ کو ابوظہبی حکومت نے جب آپ کو چند استعمال کرنے والی داوئیوں کو بنیاد پر بناکر گرفتار کیااور عالم اسلام کی نابغئہ روزگار عدیم المثال عبقری ہستی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے پوتا ہونے کی وجہ سے خوب ستایااور بےجا سوالات کئے آپ نے جوابات دینے میں مسلک اسلاف سے سرمو تجاوز نہ فرمایا جب کہ عقل کا تقاضا تو یہ تھا کہ گرفتاری دائی رکھنے کی بنیادپرہوئی تھی تودوائی کے متعلق ہی انکواری ہوتی مگرسوالات جو ہوئے ہیں وہ سب عقائد اھل سنت اور معمولات اہل سنت کے متعلق تھے علامہ موصوف نے بے باکانہ اندازمیں جوابات دے کرعزیمت واستقامت کی تاریخ رقم کردی ہے-

چند سوالات وجوابات سپرد قرطاس ہیں –

👈 کیاحضرت محمد ﷺ غیب جانتے ہیں؟

ہاں اللہ کی عطا سے جانتے ہیں

*عالم الغیب فلایظہر علیٰ غیبہ احد الا من ارتضیٰ من رسولہ*

اور بخاری شریف میں ہے

*قام فینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتیٰ داخل اھل الجنة منازل ھم واھل النار منازلھم حفظہ ذالک من حفظہ و نسیہ من نسیہ*

اس حدیث سے روز اول سے لیکر تاقیام قیامت ہر چیز کا بیان ہے

👈انبیاء اور اولیا تصرف واختیا والے ہیں ؟

بالکل اللہ نے ان کو صاحب اختیار بنایا ہے

👈آپ حضرت محمد ﷺ کو حاضرو ناظر مانتے ہیں؟

جی ہاں مانتاہوں *انا ارسلنٰک شاھدا مبشراو نذیرا*

شاھدا کا معنیٰ حاظر وناظراور گواہ کے ہیں اوردعائے جنازہ میں بھی شاھد کا معنی حاضرکے ہیں اور حدیث میں ہےاناجلیس من ذکرنی نیزحضورﷺ نے یہ بھی فرمایا- اقیموصفوکم فانی ارکم من ورائی اپنی صفیں سیدھی رکھو کیونکہ ہم تم کو اپنے پیچھے بھی دیکھتے ہیں اور شفاء شریف میں ہے

*ان لم یکن فی البیت فقل السلام علیک ایہاالنبی ورحمة اللہ وبرکاتہ شرح شفا میں ہے لان روح النبی علیہ السلام حاضر فی بیوت اھل الاسلام*

👈آپ کیاحضرت محمد ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں؟

جی ہاں میں تعظیم نبی ﷺ کو عبادت سے مقدم مانتاہوں جیساکہ قرآن میں ہے

*لتومنوا باللہ ورسولہ وتعزروہ وتوقرروہ وتسبحوہ بکرة واصیلا*

بغیر تعظیم نبی کے وہ عبدالشیطان تو ہوسکتا ہے عبد اللہ نہیں ہوسکتا عبداللہ وہی ہے جو عبد مصطفیٰ ہے

آپ عید میلاد النبی مناتے ہیں ؟

الحمد للہ بہت ہی تزک اہتمام کے ساتھ مناتاہوں-

اس کا ثبوت کہا ں سے ہے؟

قرآن سے *قد جاءکم من اللہ نور وکتاب مبین*

آپ معراج النبی کے قائل ہیں؟

جی ہاں قائل ہوں

👈آپ انبیاء اور اولیاء کا وسیلہ لیتے ہیں ؟

اللہ کے محبوب بندوں سے توسل کو جائز سمجھتاہوں اور لیتابھی ہوں

👈آپ قبروں کی پوجا کرتے ہیں ؟

نہیں ہر گز نہیں ہم اللہ کے سوا کسی عبادت نہیں کرتے

👈قبروں کے سجدہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟

اگر بہ نیت عبادت ہے تو شرک ہے اور اگر بہ نیت تعظیم ہے تو حرام ہے ہمارے دادا امام اھل سنت نے تو گنبد خضریٰ کے بارے میں تو یہ لکھاہے

*پیش نظر وہ نو بہار سجدکو دل ہے بے قرار*

*روکئے سرکو روکئے ہاں یہی امتحان ہے*

👈آپ قبروں کا طواف کرتے ہیں؟

نہیں ہر گز نہیں

👈آپ جادو کرتے ہیں ؟

نہیں ہم جادو کو حرام جانتے ہیں

👈کیاآپ تقلید کرتے ہیں ؟

ہاں بالکل ہم اعمال میں امام اعظم ابو حنیفہ کے ملقد ہیں

کیا قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت ہے؟

*اطیعواللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم-*

اطاعت کرواللہ کی، اوراطاعت کرو رسول کی، اور حکم والوں کی جو تم میں سے ہوں

اس آیت میں اولی الامر سے مراد علمائے مجتہدین ہیں اور اگر بادشاہ اسلام مردالیتے ہو جب بھی تقلید ثابت ہوگئی

اس پر احادیث کثیرہ موجود ہیں

👈بریلوی ایک نیا مذہب ہے؟

نہیں ہر گز نہیں

👈آپ بریلوی مذ ہب کے مبلغ ہیں ؟

بریلوی کوئی مذہب نہیں ہم سواداعظم اہل سنت کے مبلغ ہیں

👈آپ تعویذ کیوں پہنتے ہیں کیا یہ شرک نہیں ہے؟

نہیں ہرگز نہیں بس اس میں شرک، کفر، جادو کے الفاظ نہ ہوں جیساکہ بخاری شریف کتاب الطب میں ہے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مجھے رسول اللہ صلیٰ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نظر کی وجہ سے جھاڑ پھونک کیا جائے – قرآن شریف، حدیث شریف، دوسرے جائز کلمات کو کاغذ یاچمڑے پر لکھ کر شفاکے لئے پہننا بھی جائز ہے

*حدثناعلی بن حجر حدثنااسمٰعیل بن عیاش عن محمد عن محمدبن اسحٰق عن عمروبن عبداللہ بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم قال اذافرغ احدکم فی النوم فلیقل* *اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ وعقابہ وشرعبادہ ومن ھمزات الشیطان وان یحضرون* *فانھالن تضرہ قال وکان عبداللہ بن عمرو یعلمھامن بلغ من ولدہ ومن لم یبلغ منھم منھم کتبھا فی صک ثم علقھا فی عنقہ ( الترمذی کتاب الدعوات رقم الحدیث ۳۵۲۸*

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈر جاتاہو تو وہ یہ *کہے:اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ وعقابہ وشرعبادہ ومن ھمزات الشیطان وان یحضرون.* حضرت عبداللہ بن عمر اپنے سمجھ داربچوں کویہ کلمات سکھاتےتھے اورناسمجھ بچوں کے گلے میں یہ کلمات لٹکادیتے تھے – اس حدیث کو بہت سارے محدثین نے مختلف سند اورمختلف متن کے ساتھ نقل کیا ہے کیاان تمام فقہا اور محدثین کو شریعت کا علم نہیں تھا-

ایام اسیری کی روداد بہت اذیت ناک ہے یہاں تک کہ اگرآپ قرآن شریف کی تلاوت کرتے اور دعائے حصار پڑھتے تو وہ لوگ کہتے یہ جادو ہے کبھی قرآن شریف چھین کر رکھ دیتے مگر آپ اسلاف کرام کی سنت کو اپناتے ہوئے برملااظہارحق کرتے رہے یہ شیرانہ وصف آپ کو ورثے میں ملی ہے اللہ کا کرم ہوا اور ۲۸/ اکتوبر ۲۰۱۸ کو رہائی مل گئی

مجھے حضرت کی گرفتاری کا بےحد افسوس ہے *ابوظہبی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے وہ جلد از جلد حضرت کی بےجا گرفتاری پر معافی نامہ شائع کرے* –

✍ *عبدالقادرنوری*

*بانی مدرسہ حضرت سلطان الشھداء بہرائچ شریف*

*خطیب وامام سنی رحمانیہ جامع مسجد ممبئی*

*۲۸/ربیع النور ۱۴۴۰*

تعلیم کا اصل مقصد

تعلیم کا اصل مقصد

فخرعالم

 

علم ایک ایسی دولت ہے، جس کو حاصل کر لینے کے بعد انسان خود کو دوسرے ( ناخواندہ) انسان سے قد آور اور برتر محسوس کرتا ہے اور ایک جاہل ،تعلیم یافتہ کے سامنے بونا نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ تعلیم یافتہ انسان کے اندر انسان کی صفت انسانیت موجود ہو۔
مگر افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ جس قوم و ملت کی بنیاد اقرا پر رکھی گئی، علم حاصل کرنا جس قوم کے لیے فرض قرار دیا گیااور جس کو یہ ہدایت دی گئی :
’’علم حاصل کرو ماں کی گود سے لے کر قبر تک۔‘‘
آج وہی قوم سماجی، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے تنزلی کے آخری درجے تک جا پہنچی ہے۔ وہ قوم جس کے علم و دانش کے بیش بہا خزانے سے مغرب مالا مال ہو گیا، آج وہی قوم علم و ہنر کے میدان میں آخری صف میں کھڑی ہے اور یہ کہتی نظر آرہی ہے کہ: ’’پدرم سلطان بود۔‘‘
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ’’بے علمی مفلسی کی ماں ہے، جس قوم میں علم و ہنر نہیں رہتا وہاں مفلسی آتی ہے اور جب مفلسی آتی ہے تو ہزاروں جرموں کے سرزد ہونے کا باعث ہوتی ہے۔‘‘
انسان کے پاس علم کی دولت ہے ، اگر وہ چاہے تو ستاروں پر بھی کمندیں ڈال سکتا ہے ۔خود کو آسمان کے تاروں سے بھی زیادہ اونچا اٹھا سکتا ہے اور سورج کی مانند روشن رہ کر پوری دنیا سے جہالت کے اندھیرے کو علم کی روشنی میں تبدیل کر سکتاہے کیونکہ علم ایک ایسی روشنی ہے جس کے آگے سورج، چاند اور ستارے سبھی ماند اور دھندلے نظر آتے ہیں۔
کسی بھی قوم کو ترقی کے نقطۂ عروج تک پہنچنے کے لیے، علم و ہنر، فنون لطیفہ، نظام تجارت اور انفرادیت کے زینے سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ بہر حال! بات علم کی چل رہی تھی، اس لیے گفتگو بھی اسی موضوع پر ہونی چاہیے۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ تعلیم یافتہ لوگوں کو دن کے اجالے میں چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑتا تھا لیکن آج وقت بدل گیا ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ آزادی کے بعد ہندوستانی معاشرے میں ایک سے بڑھ کر ایک انقلاب رونما ہوچکا ہے۔اس کا نتیجہ آنکھوں کے سامنے ہے کہ آج پرجوش دریا کے ریلے کی مانند ایک جم غفیر کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔اس عام رجحان کے باوجود تعلیم کا معیار گرتاہی جارہا ہے۔ آج ہم تعلیم کو تعلیم نہ سمجھ کر اسے ایک تفریح کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور وقت گزاری کامحض ایک سامان بھی۔ آج ہم تعلیم کے اصلی مقصداور اس کی روحانیت کو بھول چکے ہیں اوراس تعلیم کومحض کتابوںتک محدود کرکے رکھ دیا ہے اوریہ سمجھ لیا ہے کہ اس کا مقصد ڈگریاں حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جیسے جیسے تعلیم کو فروغ ملتا جا رہا ہے ویسے ویسے یہ معاشرہ بدعنوانی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تعلیم کی حقیقتوں سے فرار کا نتیجہ ہے کہ انسانیت مٹتی چلی گئی اور حیوانیت بڑھتی چلی جا رہی ہے اور آج خود انسان ہی انسانیت کا دشمن ہو گیاہے۔ پہلے شرحِ خواندگی کم تھی، لوگ کم پڑھے لکھے ہوتے تھے تو کثرت میں وحدت پیدا کرلیتے تھے۔ لیکن آج خواندگی کی شرح بھی بڑھ گئی ہے اور ہم تعلیم کے نقطۂ عروج پر بھی پہنچ گئے ہیں پھر بھی وحدت میں کثرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس بات کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں تعلیم کا مخالف ہوں بلکہ میں اکبر الٰہ آبادی کے لفظوں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ:؎

کون کہتا ہے کہ تو علم نہ پڑھ عقل نہ سیکھ
کون کہتا ہے نہ کر حسرت لندن پیدا
بس یہ کہتا ہوں کہ ملت کے معانی کو نہ بھول
راہ قومی کا تو خود ہی نہ ہو رہزن پیدا

کیونکہ تعلیم کا مقصد انسان کے اندر بے حیائی اور بے غیرتی پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ تعلیم کا مقصد ہے انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنا، ذہن و شعور میں ایک مثبت تبدیلی لانا، قومی کردار کی روح پھونکنا، انسانی اقدار کے دریچے کھولنا، تعصب اور تنگ نظری کو ختم کر کے اخلاقی قدروں کو برقرار رکھتے ہوئے انسان کو تہذیب و تمدن کے بلند و بالا مقام تک پہنچانا ہے۔
در حقیقت تعلیم انسان کو علم کی ان بلندیوں تک پہنچاتی ہے جہاں سے تخلیق علم و دانش کی منزل کی شروعات ہوتی ہے اور وہ ایسا عالم بناتی ہے جو خود کو علم کے لیے وقف کر دے اور علم کے انوار کو تمام کائنات میں اس طرح بکھیر دے کہ ہر خاص و عام اس سے مستفیض ہو سکیں۔ مجموعی طور پر تعلیم انسان کو مہذب بنا کر ترقی کے نقطۂ عروج تک پہنچاتی ہے۔
لیکن کیا ہماری یہ تعلیم واقعی ہمیں مہذب بنا رہی ہے؟ آج خود کو مہذب ،ماڈرن اور تعلیم یافتہ کہنے والا یہ انسان جو قدیم ترین انسان کو غیر مہذب اورجنگلی کہتا ہے، کیا اس نے خود اپنے گریبان میں جھانک کر کبھی یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ واقعی غیر مہذب ہے کون؟ یا پھر ایک مہذب اور غیر مہذب میں فرق کتنا ہے؟ چوں کہ پرانے زمانے میں انسان، کپڑا بُن کر تیار کرنے کا اہل نہیں تھا، جس کے سبب اسے ننگا رہنا پڑتا تھا۔ یہ اس کی بے بسی تھی۔ وہ بے بس اور مجبور ضرور تھا لیکن بے غیرت نہیں تھا۔چنانچہ جب اس کے ضمیر نے اسے ننگا رہنے کی اجازت نہیں دی تو اس نے اپنے جسم کو ڈھکنے کے لیے پیڑوں کے پتوں اور چھالوں کا استعمال کرنے سے پیچھے نہیں ہٹا اور ایک دن ایسا بھی آیا کہ اس نے اپنی سخت محنت اور مسلسل کاوشوں کے زور پر اپنے جسم کو ڈھکنے کے لیے کپڑا تیار کرنے میں عظیم کامیابی حاصل کر لی۔
اب جبکہ ہم ایک مہذب انسان کہلاتے ہیں۔ ہمارے اندر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہمارا نصب العین کیا ہے؟ پھر بھی اگر ہمارے اعمال سے انسانی معاشرے کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس پر ہمیں غورکرنا ہوگا۔
دوسری جانب تعلیم کی بات ہوتے ہی عورتوںکی تعلیم وتربیت کا مسئلہ سامنے آتا ہے ۔اس تعلق سے آئے دن کہیں نہ کہیں مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔ریڈیوسے لے کر اخبارات تک اور سیمینارسے لے کر ڈسکشن میز تک۔کہ آخر ہندوستانی (خصوصاََ دیہاتی )عورتیںمردوںکے مقابلے میں اتنی کم پڑھی لکھی کیوں ہے؟تعلیم نسواں کو عام کرنے کے لیے کون سے طریقے اپنائے جائیں تاکہ ان کی زندگی کا معیار بلند ہوسکے۔
کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ میں بیٹھاہوا ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھ رہا تھاجس کا موضوع تھا ’’شاکشرتا ابھیان‘‘ یعنی:خواندگی کی مہم۔ اس پروگرام میں ایک محترمہ نے اپنے خیالات کا اظہارکچھ یوں کیاکہ:
’’پردہ پرَتھا،ایک کوُپرتھا اور اس کا انت شکشاسے ہوگا۔جب ہماری بیٹیاں پڑھی لکھی ہوں گی تو اس کا ورودھ کریں گی۔‘‘
مطلب پردے کی رسم ایک بری رسم ہے اور اس کا خاتمہ تعلیم سے ہوگا۔پڑھ لکھ کر عورتیں اس کی مخالفت کریں گی۔
ایک ہندوستانی خاتون کے منھ سے یہ بات سن کر عجیب ناگواری کا احساس ہوا کہ تعلیم تو سماج ومعاشرے سے مناقشت ومخالفت کے خاتمے کا سبب ہے۔ یہ کیسی تعلیم حاصل کریں گی کہ وہ خوداپنی عزت وعفت کے نگہبان پردے کونیلام کردیں گی اور جھٹ زبان پر اکبرالہ آبادی کا یہ شعر جاری ہوگیا کہ:؎

حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی
اب ہے شمع انجمن پہلے چراغ خانہ تھی

کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج ایک عورت نماچراغ اور پردے نمافانوس کو اپنی حفاظت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، جبکہ یہ ایک بجھے ہوئے چراغ کی علامت ہے اور ایک بجھاہوا چراغ نہ تو خود کو روشن رکھ سکتا ہے اور نہ ہی کسی بھی قوم کی فلاح وبہبودکا باعث بن سکتاہے۔
بہر حال ! کچھ بھی ہو۔ ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ عورت نام ہے اس عظیم ہستی کا جو ایک ہی وقت میں ماں بھی ہوتی ہے اور بیٹی بھی۔ بہن بھی ہوتی ہے اور بیوی بھی ۔ ایسی حالت میں وہ تعلیم جو اس عظیم ترین ہستی کو بے پردہ کردے، اس سے کہیں بہتر یہ ہے کہ اسے تعلیم یافتہ بنانے کے بجائے اسے تعلیم سے دور ہی رکھا جائے، کیوں کہ کسی بھی چیز کا وجود اسی وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کہ اس کی صفت اس کے اندر موجود ہو۔ ورنہ اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا۔
عورت کا اصل حسن اور زیور اس کی نسوانیت ہے جو عورت اس حسن وزیورسے محروم ہوجائے،وہ کیسے حسین وجمیل رہ سکتی ہے۔ایک ایسی تعلیم جو عورت کو سماجی برائیوں سے دور نہ رکھ سکے اور اسے بازاروبننے کی دعوت دے،بھلا وہ کیسے نفع بخش ہوسکتی ہے؟ اس لیے ہماری طرز تعلیم اس طرح کی ہونی چاہیے کہ جس سے عورت اپنے وجود کو ہمیشہ برقرار رکھ سکے۔ کیوں کہ تعلیم کا مقصد یہی ہے کہ وہ انسان اور معاشرے کی تحسین و تزئین میں معاون ہونہ کہ اس کے اندر فساد و بگاڑ کا سبب بنے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ جدیدیت اچھی چیز نہیں ہے۔ وہ ایک اچھی چیزہے لیکن مغربیت اچھی چیزنہیں۔ ہمیں جدید ترین بننے کی کوشش تو کرنی ہی چاہیے لیکن مغربیت ترین نہیں،کیوں کہ مغرب کی طرف جانے سے سورج بہت جلد غروب ہو جاتا ہے۔
اس لیے مغرب کی تقلید سے اجتناب بہت ضروری ہے ورنہ ہماری صدیوں پرانی ہندوستانی تہذیب، جس پر ہمیں فخر ہے ،اسے یہ مغربی طرز تعلیم کسی اژدہے کے مانند نگل جائے گی اور تب ہم شاید علامہ اقبال کی طرح چھتیس انچ چوڑا سینہ کرکے یہ کہنے کے قابل نہیں رہیں گے کہ:

 یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

 

آج کے اکثر سادات گدی نشین

مولا علی المرتضیٰ شیر خدا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے لے کر امام حسن عسکری تک اور آپ سے لے کر تاجدار گولڑہ پیر سید مہر علی شاہ صاحب علیہ الرحمہ تک سادات کرام کی حالات زندگی پڑھ لیں کہ اِن مبارک ہستیوں کی ساری زندگیاں بلکہ اِک اِک لمحہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری ، رضا و خوشنودی کی خاطر گزرا ۔ یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن سے اللہ و رسول راضی ہیں ، مُلک و کونین کے خزانوں پر جب چاہیں تصرف فرماسکتے ہیں مگر اس کے باوجود اِن بندگان خدا نے ساری زندگی نہایت سادگی سے بسر کی اور خوف خدا و گریہ و زاری کرتے ہوئے ہمیشہ عاجزی و انکساری کا پیکر بنے رہے ، ان کا غیرت ایمانی سے سرشار حق و باطل میں فرق کرنے کا جرات مندانہ انداز اور عمل ، قیامت تک آنے والے صوفیاء و مشائخ کیلئے مشعل راہ ہے ؛

مگر آج کے اکثر سادات گدی نشینوں کی عیش و عشرت ، رہن سہن ، ٹھاٹھ باٹھ ، انداز گفتگو ، اٹھنا بیٹھنا ، رنگا رنگ محافل میں شرکت کرنا اور ان کا انعقاد کروانا ، انواع اقسام کے کھانے اور کپڑے زیب تن کرنا وغیرہ یہ سب چینخ چینخ کر پیغام دے رہا ہے کہ ہمیں اُن بزرگوں سے نسبت تو ضرور ہے مگر سادگی و عاجزی والی نسبت سے کوئی نسبت نہیں ، ہم خود کو مولا علی شیر خدا کی اولاد تو کہتے ہیں مگر مسئلہ ناموس رسالت میں بزدلی کی اعلی مثال بھی قائم کیے بیٹھے ہیں ، ہماری رگوں میں حُسینی خون تو دوڑ رہا ہے مگر حکمران کے آگے کلمہ حق کہنے سے ڈرتے ہیں ،

ہم اپنے بزرگوں کے فضائل و مناقب سُنا کر لوگوں کو ان کے رستے پر چلنے کا درس تو ضرور دیتے ہیں (تاکہ مریدین کا اضافہ ہو) مگر خود راستہ چھوڑ کر بیٹھے ہیں ، ہم اِس عقیدت مند اُمت کے آگے ہمدردیاں اور پیسے اکٹھے کرنے کیلئے آلِ رسول کا نام تو ضرور لیتے ہیں مگر جب اُنہی بزرگوں کی سیرت پر عمل کرنے کا وقت آتا ہے اور اُن کے نقش قدم پر چلنا ہوتا ہے ، تو پھر ہمیں اپنی عزتیں اور گدیاں پیاری ہوجاتی ہیں اور گویا زبان حال سے کہتے ہیں کہ اس مسئلہ میں ہمارے اور اُن کے راستے جدا جدا ہیں ۔

الغرض باتیں تو بہت ہیں اگر ایسے بے عمل اور سادات کہلانے والے پاکستانی اور انڈین گدی نشینوں کے حالات زندگی پر کچھ لکھوں تو اِن بے عمل گدی نشینوں کی دکانداری چمکانے والے جہلاء ، دشمنِ سادات کا فتوی لگاتے ہوئے ناصبیت اور خارجیت کا لیبل لگانے کی کوشش کریں گے لہذا ۔۔۔چُپ کر مہر علی ایتھے جا نہیں بولن دی 😢

✍ارسلان احمد اصمعی قادری

7/12/2018ء

جمہوری نظام کے دُشمن آزاد ہیں

_*جمہوری نظام کے دُشمن آزاد ہیں*_

آج ہی کے دن 1992ء میں جمہوریت کا گلا گھونٹ کر….. بابری مسجد دن کے اُجالے میں شہید کر دی گئی…… پھر عصبیت کا عریاں رقص ہوا….. مسلم کش فسادات کے ذریعے ہزاروں افراد کو زندگیوں سے محروم کر دیا گیا…… عصمتیں تاراج ہوئیں…… ظلم و ستم کا بازار گرم ہوا…… بھگوا توا دہشت گردوں نے ہندوستان کی شوکت کا پرچم سرنگوں کیا…… اور آج تک جتنی حکومتیں بنیں؛ سبھی مسلم ووٹوں کا استحصال کر کے جھوٹے وعدوں کی خیرات تقسیم کرتی رہیں….. کسی نے بابری مسجد کی بازیابی کیلئے عملی اقدامات نہیں کئے…….کسی نے تشدد کے متوالوں کو پسِ زنداں نہیں بھیجا……کسی نے مسجد کے مدعے کو سلجھایا نہیں…… مسلمانوں کو بہلاتے رہے….. ہندوؤں کے ووٹ بینک بڑھاتے رہے……

ملک کے جمہوری آئین کے لیے 6 دسمبر ایک سیاہ باب ہے….. اس وقت تک جمہوری قدروں کا تحفظ ممکن نہیں؛ جب تک کہ بابری مسجد کی تعمیرِ نو اُسی مقام پر نہیں ہو جاتی…… یہ بھی تاریخِ ہند کا المیہ ہے کہ……. بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ دار کارسیوک/آتنک واد آزاد ہیں…… ان کی قیادت بحال ہے…. اور مظلوم مسلمان اپنے دستوری حق سے محروم……بلکہ طُرفہ یہ کہ اب شریعت کے فیصلوں کے مقابل قانون بنائے جا رہے ہیں….. مذہبی آزادی چھینی جا رہی ہے…..

یاد رکھیں! قیامِ امن کے لیے حقوق کی پاسداری ضروری ہے…… بابری مسجد کی بازیابی مسلمانوں کا حق ہے…… جب تک یہ حق نہیں ملے گا؛ آئین کے دائرے میں ہمارا احتجاج جاری رہے گا…… اور اس سے ہم ہرگز دستبردار نہیں ہو سکتے……. ہماری شریعت کا بھی یہی فیصلہ ہے…….. اور ملکی آئین بھی شواہدات کی روشنی میں اسی کا موئید…… اِس لیے جن افراد نے بھگوا توا قیادت سے مختلف وقتوں میں سودے بازی کی کوششیں کیں؛ ان کی کوئی حیثیت و وقت نہیں…….ایسے بکاو بورڈوں کو قوم نے ٹھکرا دیا ہے……… بحیثیت بندہ مومن ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ…….. مساجد کو سجدوں سے آباد رکھیں……. تا کہ پھر کسی مسجد کی شہادت کا دلدوز سانحہ وقوع پذیر نہ ہو سکے……… اور تشدد کے مکروہ چہرے نامُراد رہیں………

………. غلام مصطفٰی رضوی

نوری مشن مالیگاؤں

06-12-2018