سبسڈی والا حج

سؤال:

حکومت کی طرف سے ملنے والی حج سبسڈی پہ جن لوگوں نے حج کیا ہے کیا أنکا حج صحیح ہے ؟ کیونکہ حکومت کی آمدنی میں سود کی رقم بھی شامل ہوتی ہے .

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ،

وبعد:

جب ہم لوگوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں تو وہ تین طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں:

پہلی قسم:

أن لوگوں کی ہے جنکی آمدنی کے سب ذرائع جائز و حلال ہوتے ہیں أنکے ساتھ تعامل کرنے یا أن سے گفٹ وغیرہ وصول کرنے میں کسی کا اختلاف نہیں ، بلکہ أحسن یہی ہے کہ أیسے ہی لوگوں کے ساتھ تعامل کرنے أور کاروبار کرنے کو ترجیح دی جائے ، جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” وتعاونوا على البر والتقوى ” ( مائدہ ، 2 )

ترجمہ: نیکی أور تقوی ( کے معاملات) پر إیک دوسرے کی مدد کیا کرو۔

سب نیک عمل کسب حلال ہے تو جب ہم حلال ذرائع سے کاروبار کرنے والے سے کاروبار کریں گے تو یہ أسکے تعاون میں شامل ہوگا أور ہماری آمدنی کسب حلال سے ہوگی ، أور کسب حلال کی فضیلت میں کثیر أحادیث مبارکہ وارد ہیں جیسے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

” نعم المال الصالح للرجل الصالح "

ترجمہ: نیک شخص کے لیے پاکیزہ مال کتنا ہی أچھا ہے.

( شعب الإيمان للبيهقي ، حديث : 1190 ، 2/446 )

إس حدیث مبارکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال حلال کی تعریف کی أور نیک لوگوں کے لیے یہی حلال مال أچھا ہوتا ہے مطلب أنکو حرام مال قریب نہیں جانا چاہیے.

دوسری قسم:

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں ہوتے ہیں ،

تقوی یہ ہے کہ أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل و لین دین نہیں کرنا چاہیے لیکن أگر کوئی أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل کرلیتا ہے تو شرعا کوئی ممانعت نہیں بشرطیکہ وہ جو معاملہ کررہا ہے وہ شرعی طریقے کے مطابق ہے مثلا اگر کوئی سود والے شخص سے کوئی شئے خریدتا ہے یا أسے بیچتا ہے تو أگر أسکا خریدنا یا بیچنا سود سے خالی ہے تو کوئی حرج نہیں جیسے کہ علامہ عینی حنفی أور ابن بطال مالکی نے أیسے معاملے کے جواز پر درج ذیل دلائل ذکر کیے ہیں:

قال ابن المنذر : احتج من رخص فيه بأن الله تعالى ذكر اليهود فقال ” سماعون للكذب أكالون للسحت "/ مائده ، 24 .

وقد رھن الشارع درعه عند اليهودي ، وقال الطبري : إباحة الله تعالى أخذ الجزية من أهل الكتاب مع علمه بأن أكثر أموالهم أثمان الخمور والخنازير ، وهم يتعاملون بالربا.

ترجمہ:

ابن منذر فرماتے ہیں : جو أیسے لوگوں کے ساتھ معاملے کرنے کی رخصت دیتے ہیں وہ ” سماعون للکذب أکالون للسحت ” آیت سے استدلال کرتے ہیں ، أور جو حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہودیوں کے پاس أپنی درعہ رکھی أس سے بھی ، أور إمام طبری فرماتے ہیں: اللہ رب العزت نے اہل کتاب سے جزیہ لینے کو مباح قرار دیا حالانکہ أنکے مال میں شراب و خنزیر سے حاصل ہونے والے مال کی آمیزش ہوتی تھی أور وہ یہودی سود کا کاروبار بھی کرتے تھے .

( عمدۃ القاری ، 9/55 ، شرح صحیح البخاری لابن بطال مالکی ،3/511 )

حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہودیوں سے معاملہ فرمایا حالانکہ یہودی کی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں تھے تو لہذا إس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسکی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں ہوں تو أس سے بھی تعامل کیا جاسکتا ہے شرعا أس میں کوئی ممانعت نہیں .

اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ جو سود لیتا ہو کیا أسکے ہاں کھانا کھاسکتے ہیں تو آپ نے کھانا کھانے کی إجازت دی.

(شرح صحیح بخاری ابن بطال مالکی ، 3/511 )

تیسری قسم:

تیسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جنکا سارا مال ہی حرام ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہو تو إسکی دو صورتیں ہے ہیں:

پہلی صورت:

وہ مال حرام لعینہ ہو یعنی دوسرے کی مرضی کے بغیر حاصل کیا گیا ہو جیسے ڈاکہ ڈال کر یا چوری کرکے یا قبضہ کرکے تو أیسا مال أس سے نہیں لیا جائے گا أور نہ ہی أس سے لین دین کیا جائے گا کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے جیسے بعض دکاندار چوروں أور ڈاکوؤں سے لین دین دین کرتے ہیں تو یہ حرام ہے

جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب” ( مائده ، 2 )

ترجمہ:

گناہ أور ظلم پر إیک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو أور اللہ سے ڈرو ، بے شک اللہ رب العزت سخت سزا دینے والا ہے.

لہذا چوری و ڈاکہ یا ناجائز قبضے والا مال خریدنا یہ گناہ و ظلم پر چور یا ڈاکو مدد کرنے کے زمرے میں آتا ہے اس لیے أس کے ساتھ لین دین جائز نہیں.

دوسری صورت:

حرام لکسبہ،

أگر أسکا یہ حرام مال کسب حرام سے ہے یعنی سود وغیرہ سے تو آپ تعامل کرسکتے ہیں بشرطیکہ آپ کے أور أسکے درمیان لین دین حرام طریقے سے نہ ہو لیکن علماء کرام نے أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل کو مکروہ کہا ہے یعنی کراہت تحریمی کیونکہ یہ بھی حرام پر مدد کرنے کے زمرے میں ہے.

لہذا حرام لعینہ میں علماء کرام کا اتفاق ہے کہ أس میں لین دین جائز نہیں .

اعتراض :

کیا جسکا مال حلال و حرام ذرائع سے آتا ہو تو کیا لین دین کے وقت أس سے پوچھیں گے کہ کیا جو مال تم مجھے دے رہے ہو وہ حلال ذرائع سے ہے یا حرام سے؟

رد:

نہیں ، أس سے پوچھیں گے نہیں أگر آپکو وہ خود بتائے یا پھر آپکو خود کسی ذریعے سے معلوم ہوجائے تو پھر وہ مال لینا جائز نہیں ہوگا ، أگر نہیں معلوم تو آپ أسکے ساتھ معاملات کرسکتے ہیں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے استفسار کرنے سے منع فرمایا ہے:

” إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فأطعمه طعاما فليأكل من طعامه، ولا يسأله عنه ، وإن سقاه شرابا من شرابه فليشرب من شرابه ، ولا يسأله عنه "

ترجمہ:

جب تم میں سے کوئی أپنے مسلمان بھائی کے پاس حاضر ہو ، پس وہ أسکو کھانا کھلائے تو وہ کھالے أس( کھانے) کے متعلق سؤال نہ کرے ، أور أگر کوئی مشروب پلائے تو پی لے ، أور أس ( مشروب) کے متعلق سؤال نہ کرے ( کہ وہ حلال ذرائع سے ہے یا حرام) .

( مسند أحمد بن حنبل ،حدیث نمبر: 9184 ، 15/99 , حدیث حسن ہے)

إس حدیث میں واضح ہے کہ جو مسلمان بھائی دے وہ لے لے أس سے سؤال نہ کرے کہ یہ حرام ذرائع سے ہے یا حلال

کیونکہ مسلمان اصلا حلال ذرائع سے رزق حاصل کرتا ہے ، أور جب وہ معروف ہوجائے کہ وہ حرام کا کاروبار بھی کرتا ہے تو پھر احتیاطا أس سے سؤال کرسکتا ہے کیونکہ أب وہ وہ خود کو أس أصل سے خارج کرچکا ہے جیسے ملا علی قاری فرماتے ہیں :

” وذلک إذا لم يعلم فسقه "

ترجمہ:

یہ سؤال نہ کرنا أس وقت ہوگا جب أسکا فسق معلوم نہ ہو ( أگر حرام ذرائع سے مال حاصل کرنا أسکی عادت بن گئ ہو تو وہ پھر سؤال کرے گا یہ حلال میں سے ہے یا حرام میں سے ).

( مرقاة المفاتيح للملا علي قاري ، حديث نمبر : 3228 ، 5/211 )

أگر کوئی أپنے حلال مال کو حرام مال سے پاک کرنا چاہے تو أسکا طریقہ کیا ہے ؟

إسکا طریقہ یہ ہے کہ أگر مال حرام لعینہ ہے یعنی وہ مال أس نے چوری یا ڈاکہ یا ناجائز قبضے کرکے کمایا ہے تو پھر جن سے أس نے وہ مال چوری کیا ہے أنکو واپس کردے ، أگر أسکو معلوم نہیں تو پھر ملکی خزانے میں جمع کروادے أگر أسے یقین ہوکہ حاکم وقت کرپٹ نہیں ، أور أگر وہ کرپٹ ہے تو غرباء وغیرہ میں تقسیم کردے جتنی حرام مال کی قدر ہو أسکو تقسیم کردے أپنے مال میں سے نکال کر أگر تمییز ممکن نہ ہو أگر ممکن ہو تو پھر جو مال حرام اس نے الگ رکھا ہوا ہے اسی کو تقسیم کرے

أگر أسکا مال حرام لکسبہ ہے یعنی دوسروں سے أس نے بیع و شراء کرکے کمایا ہے لیکن حرام طریقے سے جیسے سود وغیرہ لے کر تو جو حرام کا مال ہے وہ مکی خزانے میں جمع کردے أگر حاکم وقت کرپٹ نہیں أور أگر کرپٹ ہے تو پھر وہ مال غرباء و مساکین و ضرورت مندوں میں تقسیم کردے .

أور یہ أحکام حدیث ابن اللتبیہ سے مستنبط ہیں کیونکہ انہوں نے بھی ناجائز طریقے سے مال جمع کیا تھا ، یہ متفق علیہ حدیث ہے

( صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 6979 ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 1832 )

حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی پر حج کا حکم کیا ہے؟

حکومت کی آمدنی حلال و حرام دونوں ذرائع سے حاصل ہوتی ہے تو یہ دوسری قسم کے لوگوں کے تحت إسکا حکم آئے گا یعنی حکومت کا مال حلال و حرام دونوں ہوتا ہے تو جو وہ سبسڈی دے رہی تھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ حلال مال سے ہو

أور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرام مال سے لیکن کیونکہ یقینا نہیں معلوم کہ وہ جو سبسڈی دیتی رہی ہے وہ حرام مال سے تھی یا حلال سے تو إس شبہہ کی بنیاد پر وہ سبسڈی پر کیا ہوا حج صحیح ہے لیکن إس حرام کے احتمال کی وجہ سے أن لوگوں کو توبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ أنکا حج مقبول ہو ،

مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ آپ نے فرمایا:

” لا بأس بجوائز السلطان ، فإن ما يعطيكم من الحلال أكثر مما يعطيكم من الحرام، وقال: لا تسأل السلطان شيئاً ، وإن أعطى فخذ ، فإن ما في بيت المال من الحلال أكثر مما فيه من الحرام "

ترجمہ:

بادشاہ ( حاکم وقت) کے تحائف ( لینے میں) کوئی حرج نہیں ، کیونکہ وہ حلال میں سے جو دیتے ہیں وہ أس حرام میں سے جو دیتے ہیں أس سے زیادہ ہوتے ہیں ( یعنی حلال تحائف زیادہ ہوتے ہیں) ، أور فرمایا: بادشاہ سے سوال بھی نہیں کرو گے ( کہ یہ حلال ہے یا حرام) ، أگر وہ تمہیں دیں تو لے لو کیونکہ بیت المال ( ملکی خزانے) میں حلال کا مال حرام سے زیادہ ہوتا ہے.

( مغنی لابن قدامہ ، فصل حکم قبول جوائز السلطان ، 4/202 )

یہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے أپنے دور کے ملکی خزانے کی بات کررہے ہیں کیونکہ أس وقت جو جزیہ وغیرہ ہوتا تھا تو وہ اہل کتاب سے لیا جاتا تھا جنکی آمدنی حرام ذرائع سے بھی ہوتی تھی إس لیے بیت المال ( ملکی خزانے) میں حرام مال کے ہونے کا خدشہ رہتا تھا لیکن مولا علی رضی اللہ عنہ کے قول کا یہ مطلب نہیں أس وقت خلفائے راشدین حرام ذرائع سے مال جمع کرتے تھے لہذا کسی کے ذہن میں کوئی شبہہ پیدا نہ ہو۔

جیسے حضور صلی الله علیہ وسلم أہل کتاب کے تحائف کو قبول فرماتے تھے حالانکہ أنکی آمدنی حلال و حرام سے مختلط ہوتی تھی لیکن کیونکہ بعینہ معلوم نہیں تھی تو إس لیے قبول فرماتے ، أگر معلوم ہوتا کہ یہ حرام ہے تو قبول نہیں فرماتے تھے ،

أیلہ کے بادشاہ نے آپکو إیک سفید سواری گفٹ کی أور چادر پہنائی إسکو إمام بخاری نے أپنی صحیح میں روایت کیا ہے ، حدیث نمبر : 1481 ،

إسی طرح وہ یہودیہ عورت کا جو قصہ معروف ہے جس نے زہر والی بکری کھلائی تو أسکی دعوت بھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے قبول فرمائی تو یہ واقعہ ہوا

أور یہ واقعہ متفق علیہ ہے صحیح بخاری میں باب قبول ہدیۃ المشرکین أور صحیح مسلم باب السم دیکھیں۔

لہذا جب حکومت کی آمدنی حلال و حرام ذرائع دونوں سے ہے أور بعینہ مال حرام ہونا معلوم بھی نہیں ہوتا تو أسکی طرف حج سبسڈی کا گفٹ لینے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں لیکن ورعا و تقوی کے طور پہ جائز نہیں.

اعتراض:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے جو أہل کتاب سے ہدیہ قبول کیا کیا وہ تقوی کے خلاف تھا؟

رد:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے أہل کتاب کے جو ہدیے قبول کیے أسکی دو وجہ تھیں:

پہلی وجہ :

یہ تھی کہ جواز کو ثابت کیا جائے یعنی یہ ظاہر کرنا تھا کہ أہل کتاب سے ہدیہ لینا جائز ہے أگر چہ أنکی آمدنی حلال و حرام مال سے مختلط ہوتی۔

دوسری وجہ:

تالیف قلوب تھا کہ وہ أپکے إس حسن سلوک سے متاثر ہوکر إسلام قبول کرلیں لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم کا أہل کتاب سے ہدیہ لینا تقوی کے خلاف نہ تھا بلکہ شرعی حکم واضح کرنا تھا.

ہمارے دور میں تو حکومت کی آمدنی زیادہ حرام ذرائع سے ہوتی ہے لہذا بچنا چاہیے أور إسی میں تقوی ہے.

کیا حرام مال سے کیا ہوا حج ہوجاتا ہے؟

حج میں أصل یہ ہے کہ إنسان حلال آمدنی سے حج کرے جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” إنما يتقبل الله من المتقين "

( مائده ، 27 )

ترجمہ: بے شک اللہ ( أعمال ) متقین سے قبول فرماتا ہے .

آیت میں صریح ہے کہ عمل وہی قبول ہے جسکی بنیاد تقویٰ پر ہو أور جو حرام مال سے حج کرے أسکی بنیاد تقوی پر نہیں بلکہ گناہ پر ہے لہذا وہ قبول نہیں.

أور

حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :

” إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ حَاجًّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَلالٌ ، وَرَاحِلَتُكَ حَلالٌ ، وَحَجُّكُ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورٍ ، وَإِذَا خَرَجَ بِالنَّفَقَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لا لَبَّيْكَ وَلا سَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَرَامٌ وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ

( المعجم الأوسط للطبرانی ، حدیث نمںر : 5228 ، 5/251 ، حدیث کی سند ضعیف ہے ، جامع العلوم والحکم ، 1/261 )

مفہوم حدیث:

جب شخص حلال مال کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلتا ہے تو جب وہ کہتا ہے لبیک اللہم لبیک تو آسمان سے نداء دینے والا کہتا ہے لبیک و سعدیک تمہارا زاد راہ حلال ، تمہاری سواری ( ٹکٹ) حلال پیسوں کی ، تمہارا حج مقبول ہے ، جب کوئی شخص حرام مال کے ساتھ حج کرتا ہے تو آسمان سے نداء دینے والا فرشتہ کہتا ہے : لا لبیک ولا سعدیک ، تمہارا زاد راہ حرام ہے تمہاری ٹکٹ حرام کی ہے ، تمہارا حج غیر مقبول ہے.

تمام فقہاء کرام کا اتفاق ہے سوائے حنابلہ کے ظاہری قول کے کہ حج أدا ہوجائے گا یعنی فریضہ ساقط ہو جائے گا لیکن قبول نہیں ہوگا مطلب ثواب نہیں ہوگا أور وہ گنہگار بھی شمار ہوگا کیونکہ أس نے حرام مال سے حج کیا ہے ،

أور مذہب حنبلی کے ظاہری قول کے مطابق أسکا حج بھی أدا نہیں ہوگا بلکہ وہ أپنی حلال آمدنی سے دوبارہ حج کرے گا.

( حاشیہ ابن عابدین حنفی ، مطلب فیمن حج بمال حرام ، 2/456 ، مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل المالکی ، وصح بالحرام وعصی ، 2/528 ،المجموع شرح المہذب لنووی شافعی ، فرع: إذا حج بمال حرام ، 7/62 ، الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي الحنبلي ، الحج بمال مغصوب ، 6/205 )

إمام نووی نے المجموع میں اس مسئلہ میں إمام غزالی سے کچھ تنبیہات نقل کی ہیں ، تفصیل کے لیے مجموع کا باب ما نھی عنہ من بیع الغرر أور مواہب الجلیل میں باب تنبیہات خرج لحج واجب بمال فیہ شبھۃ کا مطالعہ فرمائیں وہ مفید ہے.

واللہ أعلم

فِيۡهِ اٰيٰتٌ ۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰهِيۡمَۚ  وَمَنۡ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ‌ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الۡبَيۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَيۡهِ سَبِيۡلًا ‌ؕ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ- سورۃ 3 – آل عمران – آیت 97

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِيۡهِ اٰيٰتٌ ۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبۡرٰهِيۡمَۚ  وَمَنۡ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ‌ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الۡبَيۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَيۡهِ سَبِيۡلًا ‌ؕ وَمَنۡ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ

ترجمہ:

اس میں واضح نشانیاں ہیں مقام ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہوا وہ بےخوف ہوگیا۔ بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو اس کے راستہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور جس نے کفر (انکار) کیا تو بیشک اللہ سارے جہانوں سے بےپروا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ شخص اس میں داخل ہوا وہ بےخوف ہوگیا۔ (آل عمران : ٩٧)

(آیت) ” اولم یروا انا جعلنا حرما امنا ویتخطف الناس من حولھم “۔ (العنکبوت : ٦٧)

ترجمہ : کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنادیا اور حرم والوں کے آس پاس سے لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے۔

(آیت) ” اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرات کل شیء رزقا “۔ (القصص : ٥٧)

ترجمہ : کیا ہم نے انہیں حرم میں نہیں بسایا ؟ جو امن والا ہے ‘ اس کی طرف ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں :

(آیت) ” واذ جعلنا البیت مثابۃ للناس وامنا “۔ (البقرہ : ١٢٥) 

ترجمہ : اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کا مرجع اور مقام امن بنادیا۔

حرم میں داخل ہونے والے مجرم کے مامون ہونے میں مذاہب فقہاء :

علامہ ابوبکر احمد بن علی جصاص رازی حنفی لکھتے ہیں :

یہ آیت صورۃ خبر ہے اور معنی امر ہے ہمیں حرم میں قتل کرنے سے روکا گیا ہے ‘ اب یہ حکم دو حال سے خالی نہیں ہے یا تو ہمیں ظلما قتل کرنے سے روکا گیا ہے یا عدلا قتل کرنے سے روکا گیا ہے یعنی جو شخص قتل کیے جانے کا مستحق ہو اس کو بھی قتل کرنے سے روکا گیا ہے۔ اگر اس آیت میں صرف ظلما قتل کرنے سے روکا گیا ہے تو پھر حرم کی کوئی خصوصیت نہیں ہے کیونکہ ظلما قتل کرنا کسی جگہ بھی جائز نہیں ہے ‘ لہذا اس سے متعین ہوگیا کہ جو شخص اپنے جرم کی وجہ سے قتل کیے جانے کا مستحق ہو حرم میں اس کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔

جو شخص غیر حرم میں کوئی جرم کرے پھر حرم میں آکر پناہ لے اس کے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص غیر حرم میں قتل کرے پھر حرم میں آکر پناہ لے تو جب تک وہ حرم میں رہے گا اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا ‘ البتہ اس کو کوئی چیز فروخت کی جائے گی نہ اس کو کھانے پینے کی کوئی چیز دی جائے گی حتی کہ وہ مجبور ہو کر حرم سے باہر آجائے پھر اس سے قصاص لے لیا جائے گا اور اگر اس نے حرم میں قتل کیا ہے تو پھر اس سے حرم میں ہی قصاص لے لیا جائے گا ‘ اور اگر اس کے جرم کی سزا قتل سے کم ہے تو پھر بھی اس پر حرم میں سزا نافذ کردی جائے گی ‘ امام مالک اور امام شافعی (اور اسی طرح امام احمد) یہ کہتے ہیں کہ تمام صورتوں میں حرم میں قصاص لے لیا جائے گا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٢١‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جب کوئی شخص ایسا جرم کرے جس پر حد لگتی ہو مثلا قتل کرے یا چوری کرے پھر حرم میں داخل ہو تو اس سے بیع کی جائے نہ اس کو پناہ دی جائے حتی کہ وہ زچ ہوجائے اور پھر حرم سے باہر آجائے پھر اس پر حد قائم کی جائے کیونکہ حرم شدت کو زیادہ کرتا ہے۔

عطا بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جس شخص نے حرم کے علاوہ کہیں جرم کیا ‘ پھر اس نے حرم میں آکر پناہ لی ‘ اس کو کوئی چیز پیش کی جائے گی اور نہ اس سے بیع کی جائے گی اور نہ اس سے کلام کیا جائے گا ‘ اور نہ اس کو پناہ دی جائے گی ‘ حتی کہ وہ حرم سے باہر آجائے اور جب وہ حرم سے باہر آجائے گا تو اس کو پکڑ لیا جائے گا اور پھر اس پر حد قائم کی جائے گی۔

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جس شخص نے کوئی جرم کیا پھر بیت اللہ میں آکر پناہ لی ‘ وہ مامون ہے ‘ اور مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اس کو کسی چیز پر سزا دیں کہ وہ حرم سے باہر نکل آئے اور جب وہ باہر آئے تو اس پر حد قائم کردیں۔

عطا بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اگر میں حضرت عمر کے قاتل کو حرم میں دیکھوں تو اس کو کچھ نہیں کہوں گا۔

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جب کوئی شخص کوئی جرم کرے پھر حرم میں داخل ہو تو اس کو پناہ دی جائے نہ بٹھایا جائے ‘ نہ اس کو کوئی چیز فروخت کی جائے نہ کھلایا جائے نہ پلایا جائے حتی کہ وہ حرم سے باہر آجائے ‘ سعید بن جبیر کی روایت میں ہے جب وہ حرم سے باہر آجائے تو اس پر حد قائم کردی جائے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٠۔ ٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

یہ تمام آثار امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کی واضح دلیل ہیں اور یہی آیت کریمہ ” ومن دخلہ کان امنا “ کا صریح مدلول ہے ‘ ائمہ ثلاثہ اس آیت کی یہ تلاویل کرتے ہیں کہ جو شخص حرم میں داخل ہوگیا وہ آخرت میں عذاب ہے مامون ہوجائے گا ‘ امام رازی نے اس آیت کی ایک یہ تاویل بھی کی ہے کہ جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عمرۃ القضاء ادا کرنے کے لیے جائے گا وہ مامون ہوگا ‘ لیکن یہ تمام تاویلات ضعیف ہیں ‘ علامہ ابوبکر جصاص نے اس آیت کی یہ تقریر کی ہے کہ اگر اس آیت کو خبر پر محمول کیا جائے تو اس کو معنی ہوگا جو شخص بھی حرم میں داخل ہوا وہ مامون ہوگیا حالانکہ حس اور مشاہدہ اس کا مکذب ہے کیونکہ کئی لوگ حرم مکہ میں داخل ہوتے ہیں اور مار دیئے جاتے ہیں اس لیے یہ خبر امر کے معنی میں ہے یعنی ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص حرم داخل ہو اس کو مامون رکھو اور اگر وہ جرم کر کے آیا ہو تو اس پر حد جاری نہ کرو اور اس لحاظ سے اس آیت کا واقع کے خلاف ہونا لازم نہیں آتا ‘ اور اگر امام رازی کی تاویل کے مطابق یہ کہا جائے کہ جو شخص حرم میں داخل ہوا وہ آخرت میں عذاب سے مامون ہوگیا تو اس کے معارض یہ ہے کہ بعض گنہ گار مسلمان ‘ یا بعض منافقین حرم میں داخل ہونے کے باوجود عذاب سے مامون نہیں رہیں گے اور جو بدعقیدہ اور گمراہ لوگ حرم میں رہتے ہیں وہ بھی عذاب سے مامون نہیں رہیں گے اور جو حج کرنے کے بعد العیاذ باللہ مرتد ہوگیا وہ بھی مامون نہیں ہوگا اس لیے اس آیت کی تقریر وہی ہے جو علامہ ابوبکر رازی حنفی نے کی ہے کہ یہ آیت بہ ظاہر خبر ہے اور حقیقت میں امر ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص حرم میں آجائے اس کو مامون رکھو اور ہم نے جو آثار ذکر کیے ہیں ان کا ائمہ ثلاثہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

حرم میں قتال کے تکوینا ممنوع ہونے پر بحث و نظر۔ 

حرم مکہ میں تشریعا قتال ممنوع ہے ‘ اور وہاں تکوینا قتال ممنوع نہیں ہے (حرم میں قتال تشریعا ممنوع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ حرم میں قتال نہ کیا جائے اور حرم میں قتال تکوینا ممنوع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ حرم میں قتال نہیں ہوگا) ذوالقعدہ ٧٢ ھ میں حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) پر حجاج بن یوسف نے جو حرم میں حملہ کیا اور جمادی الثانیہ ٧٣ ھ میں حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) کو مکہ میں شہید کیا وہ ناجائز اور گناہ کبیرہ تھا اور اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ حرم شریف شرعا مامون ہے تکوینا مامون نہیں ہے ‘ بعض علماء نے حرم کو تکوینا بھی مامون لکھا ہے اور یہ صحیح نہیں ہے۔

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

دوسرے حرم میں داخل ہونے کا مامون و محفوظ ہونا یوں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر ہر قوم وملت کے دلوں میں بیت اللہ کی تعظیم و تکریم ڈال دی ہے ‘ اور وہ سب عموما ہزاروں اختلافات کے باوجود اس عقیدے پر متفق ہیں کہ اس میں داخل ہونے والا اگرچہ مجرم یا ہمارا دشمن ہی ہو تو حرم کا احترام اس کا مقتضی ہے کہ وہاں اس کو کچھ نہ کہیں حرم کو عام جھگڑوں لڑائیوں سے محفوظ رکھا جائے۔

حجاج بن یوسف نے جو حرم میں قتال کیا اس کے متعلق مفتی صاحب لکھتے ہیں :

اور تکوینی طور بھی اس کو احترام بیت اللہ کے منافی اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ حجاج خود بھی اپنے اس عمل کے حلال ہونے کا معتقد نہ تھا وہ بھی جانتا تھا کہ میں ایک سنگین جرم کر رہا ہوں لیکن سیاست و حکومت کی مصالح نے اس کو اندھا کیا ہوا تھا (معارف القرآن ج ٢ ص ١٢١‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ)

اس توجیہ کے ظاہر البطلان ہونے کے علاوہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ٣١٧ ھ میں قاہر محمد بن المعتضد باللہ کے دور خلافت میں قرامطہ نے حرم مکہ پر حملہ کیا اور بیشمار حجاج کو تہ تیغ کیا کعبہ کی بےحرمتی کی اور حجراسود کو اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور بائیس سال کے بعد اس کو واپس کیا اور انہوں نے حرم میں جو خون ریزی کی تھی وہ جرم سمجھ کر نہیں کی تھی ‘ کہ وہ کوئی جرم کر رہے ہیں اس سے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ حرم میں قتال کرنا تشریعا ممنوع ہے اور تکوینا ممنوع نہیں ہے۔

قرامطہ کا مکہ فتح کرکے حجر اسود کو اکھاڑ کرلے جانا۔ 

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

قرامطہ نے ٨ ذوالحج کو مکہ پر حملہ کیا اور حجاج کے اموال لوٹ لیے اور ان کو تہ تیغ کیا ‘ مکہ کے راستوں ‘ گھاٹیوں ‘ مسجد حرام اور خانہ کعبہ کے اندر بیشمار حجاج کو قتل کیا گیا ‘ اور قرامطہ کا امیر ابوطاہر لعنہ اللہ کعبہ کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا ‘ اور اس کے گرد حجاج کی لاشیں گر رہی تھیں اور حرمت والے مہینہ میں ‘ مسجد حرام میں ٨ ذالحج کے معظم دن مسلمانوں پر تلواریں چل رہی تھیں اور ابو طاہر ملعون کہہ رہا تھا کہ میں اللہ ہوں ‘ میں ہی مخلوق کو پیدا کرتا ہوں اور میں ہی مخلوق کو فنا کرتا ہوں ‘ لوگ اس سے بھاگ کر کعبہ کے پردوں سے لپٹتے تھے اور انہیں اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا تھا ‘ بلکہ وہ اسی حال میں قتل کیے جارہے تھے اور حالت طواف میں قتل کیے جارہے تھے بعض محدثین بھی اس دن طواف کر رہے تھے ان کو بھی طواف کے بعد قتل کردیا گیا۔

جب قرمطی ملعون حجاج کو قتل کرنے سے فارغ ہوگیا تو اس نے حکم دیا کہ مقتولین کو زمزم کے کنویں میں دفن کردیا جائے ‘ اور بہت سے حجاج کو حرم کی جگہوں میں دفن کردیا گیا ‘ اور بہت سوں کو مسجد حرام میں دفن کردیا گیا ‘ ان حجاج کو غسل دیا گیا ‘ نہ کفن دیا گیا ‘ نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ‘ وہ سب حالت احرام میں شہید ہوئے تھے ‘ اس ملعون نے زمزم کا گنبد گرا دیا ‘ اور کعبہ کے دروازہ کو اکھاڑنے کا حکم دیا اور اس کے پردے اتارنے کا حکم دیا ‘ اس نے وہ پردے پھاڑ کر اپنے اصحاب میں تقسیم کردیئے اس نے کعبہ کے میزاب کو بھی اکھاڑنے کا حکم دیا مگر وہ اس پر قادر نہ ہوسکا پھر اس نے ایک بھاری آلہ کے ذریعہ حجر اسود کو اکھاڑ کر کعبہ سے الگ کرلیا ‘ اور وہ چلا کر کہہ رہا تھا کہ وہ ابابیل نامی پرندے کہاں ہیں ؟ اور وہ نشان زدہ کنکریاں کہاں ہیں ؟ پھر وہ حجراسود کو اپنے ساتھ اپنے ملک (الاحساء ‘ خلیج فارس کے مغربی ساحل پر ایک شہر ‘ جو مکہ کی راہ پر ہے) میں لے گئے ‘ بائیس سال تک ان کے پاس حجر اسود رہا ‘ اس کے بعد انہوں نے اس کو واپس کیا جیسا کہ ہم ٣٣٩ ھ کے حالات میں ذکر کریں گے۔ (آیت) ” انا للہ وانا الیہ راجعون “۔ !

جب قرمطی حجراسود لے کر اپنے ملک میں پہنچا تو امیر مکہ اپنے اہل بیت اور لشکر کو لے کر اس کے پیچھے گیا اور اس کی خوشامد کی کہ وہ حجر اسود اس کو واپس کر دے تاکہ وہ حجر اسود کو اس کے مقام پر رکھ دے اور اس کے عوض اس کے پاس جس قدر بھی مال تھا وہ اس کو پیش کردیا ‘ لیکن قرمطی نہیں مانا ‘ پھر امیر مکہ نے اس سے جنگ کی ‘ قرمطی نے اس کو اور اس کے اکثر اہل بیت کو قتل کردیا ‘ اور حجراسود اور حجاج کے دیگر اموال قرمطی کے قبضہ میں رہے ‘ اس ملعون نے مسجد حرام میں اس قدر الحاد کیا جو پہلے کبھی ہوا تھا نہ بعد میں ہوا ‘ اور عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو ایسی سزا دے گا جیسی اس سے پہلے کسی کو نہ دی ہوگی ‘ قرامطہ نے یہ کام اس لیے کیا تھا کہ وہ کفار اور زندیق تھے اور اس صدی میں افریقہ میں زمین کے مغرب میں جو فاطمیین نمودار ہوئے تھے انہوں نے ان کا بھیس بدل لیا تھا ‘ ان کے امیر کا لقب مہدی تھا ‘ اس کا نام ابو عبید اللہ بن میمون القداح تھا ‘ یہ سلیمہ میں رنگریز تھا ‘ یہ اصل میں یہودی تھا ‘ پھر اس نے مسلمان ہونے کا دعوی کیا ‘ پھر یہ افریقی ممالک میں داخل ہوگیا ‘ اس نے یہ دعوی کیا کہ یہ فاطمی سید ہے ‘ بربر کی ایک بڑی جماعت اور دوسرے جاہلوں نے اس کی تصدیق کردی ‘ اور اس نے حکومت قائم کرلی اور یہ بحلماسہ نامی شہر کا بادشاہ بن گیا ‘ پھر اس نے ایک شہر بسایا اور اس کا نام مہدیہ رکھا ‘ اور قرامطہ اس کے ساتھ پیغام رسانی رکھتے تھے۔ یہ سب ان کی سیاست تھی۔ (البدایہ والنہایہ ج ١١ ص ١٦١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

کعبہ کی بےحرمتی کرنے کی وجہ سے اصحاب الفیل کی طرح قرامطہ پر عذاب کیوں نہیں آیا ؟ 

یہاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اصحاب الفیل نصاری تھے اور انہوں نے مکہ مکرمہ میں اس طرح کی خونریزی نہیں کی تھی جیسی قرامطہ نے کی اور یہ بھی معلوم ہے کہ قرامطہ ‘ یہود نصاری ‘ مجوس بلکہ بت پرستوں سے بھی بدتر ہیں اور انہوں نے مکہ مکرمہ کی اور مسجد حرام کی ایسی بےحرمتی کی ہے ہے جو کسی نے بھی نہیں کی تو پھر ان پر اس طرح جلد عذاب کیوں نہیں آیا جس طرح اصحاب الفیل پر آیا تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصحاب الفیل پر فوری گرفت بیت اللہ کے شرف کو ظاہر کرنے کے لیے کی گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عظمت والے شہر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کرنا تھا اور جس زمین کے خطہ مبارکہ میں آپ کی تشریف آوری ہونی تھی۔ اصحاب الفیل اس خطہ زمین کی اہانت کرنا چاہتے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو فورا ہلاک کردیا اور اس سے پہلے کی شریعتوں میں مکہ مکرمہ اور کعبہ کی فضیلت نہیں بیان کی گئی تھی ‘ اگر اصحاب الفیل اس شہر میں داخل ہو کر اس کو تباہ کردیتے تو پھر لوگوں کے لیے اس کی فضیلت کا اعتراف کرنا بہت مشکل ہوتا ‘ اور رہے یہ قرامطہ تو انہوں نے حرم شریف کی بےحرمتی شرعی احکام اور قواعد کے مقرر ہونے کے بعد کی ہے اور جب سب کو بداھۃ معلوم ہوچکا تھا کہ اللہ کے دین میں مکہ اور کعبہ محترم ہیں اور ہر مومن کو یہ یقین ہے کہ انہوں نے حرم میں بڑا الحاد کیا ہے اور یہ بہت بڑے ملحد اور کافر ہیں۔ اس لیے ان کو فورا سزا نہیں دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کو روز قیامت کے لیے موخر کردیا ‘ جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے حتی کہ جب اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے توت پھر اس کو مہلت نہیں دیتا ‘ پھر آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی :

(آیت) ” ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظالمون انما یؤخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار “۔۔ (ابراھیم : ٤٢)

ترجمہ : ظالموں کے کاموں سے اللہ کو ہرگز غافل گمان نہ کرو وہ انہیں صرف اس دن کے لیے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

(آیت) ” لا یغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد۔ متاع قلیل ثم ماواھم جہنم وبئس المھاد۔ (ال عمران : ١٩٧)

ترجمہ : (اے مخاطب) کافروں کا (تکبر کے ساتھ) ملکوں میں پھرنا ‘ تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے ‘ (یہ حیات فانی کا) قلیل فائدہ ہے ‘ پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی بری جگہ ہے !

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم ان کو تھوڑا فائدہ پہنچائیں گے پھر ان کو سخت عذاب کی طرف کھینچ لیں گے۔ (البدایہ والنہایہ ج ١١ ص ١٦٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

قرامطہ کی تاریخ : 

صحیح معنی میں عربوں اور نبطیوں کی باغی جماعتوں کا نام قرامطہ تھا ‘ جو ٢٦٤ ھ سے عراق زیریں میں زنج کی جنگ غلامی کے بعد منظم ہوئیں جس کی بنیاد اشتراکی نظام پر رکھی گئی ‘ پرجوش تبلیغ کے باعث اس خفیہ جماعت کا دائرہ عوام ‘ کسانوں اور اہل حرفت تک وسیع ہوگیا ‘ خلیفہ بغداد سے آزاد ہو کر انہوں نے الاحساء (خلیج فارس کے مغربی ساحل پر ایک شہر جو مکہ مکرمہ کی راہ پر ہے۔ منہ) میں ایک ریاست کی بنیاد رکھ لی ‘ اور خراسان ‘ شام اور یمن میں ان کے ایسے اڈے قائم ہوگئے جہاں سے ہمیشہ شورشیں ہوتی رہتی تھیں۔

نویں صدی عیسوی کے درمیان انہوں نے ساری اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ‘ پھر اسماعیلی خاندان نے اس تحریک پر اپنا قبضہ کرلیا انہوں نے ٢٩٧ ھ میں خلافت فاطمیہ کے نام سے ایک حریف سلطنت قائم کی یہ تحریک ناکام رہی آخرکار دولت فاطمیہ کے ساتھ اس تحریک کا بھی خاتمہ ہوگیا۔

اشتقاقی اعتبار سے اس باغیانہ تحریک کے اولین قائد حمدان قرمط (یہ ایک ملحد شخص تھا) کی طرف یہ نام منسوب ہے ‘ قرامطہ کی تحریک بغاوت کا آغاز حمدان نے واسطہ کے مضافات سے شروع کیا ‘ ٢٧٧ ھ میں اس نے کوفہ کے مشرق میں اپنے رفقاء کے لیے دارالہجرت کی بنیاد ڈالی جن کے متعلق رضاکارانہ چندے (مثلا صدقہ فطر اور خمس وغیرہ) جماعت کے مشترکہ خزانے میں جمع ہوتے تھے ‘ عراق زیریں میں بزور شمشیر قرامطہ کی تحریک ختم کردی گئی اور ٢٩٤ ھ میں اس کی سیاسی اہمیت بھی ختم ہوگئی۔

کچھ عرصہ بعد اس تحریک نے الاحساء میں پھر سراٹھایا ٢٨٢ ھ میں عبدالقیس کے ربیعی قبیلہ کی اعانت سے الجنابی نے الاحساء کے سارے علاقہ پر قبضہ کرلیا اور وہاں ایک آزاد ریاست قائم کرلی جو قراطمہ کی پشت پناہ اور خلافت بغداد کے لیے ایک زبردست خطرہ بن گئی ‘ الجنابی کے بیٹے اور جانشین ابوطاہر سلیمان (٣٠١ ھ تا ٣٣٢ ھ) نے عراق زیریں کی تاخت و تاراج کے ساتھ ساتھ حجاج (حج کرنے والوں) کے راستے بند کردیئے آخر ٨ ذوالحجہ ٣١٧ ھ کو اس نے مکہ فتح کرلیا اور اس کے چھ روز بعد حجراسود کو اٹھا کرلے گیا تاکہ اسے الاحساء میں نصب کرسکے ‘ اپنے باپ کی طرح ابو طاہر بھی ایک خفیہ انجمن کا داعی اور الاحساء میں اس کا ناظم امور خارجہ تھا۔

اس نے یہاں بزرگان قبیلہ (السادۃ) کی ایک نمائندہ مجلس قائم کی اور امور داخلہ کا نظم ونسق اس کے سپرد کردیا۔ یہ تنظیم قرامطہ کی عسکری قوت کے زوال کے بعد ٤٢٢ ھ تک باقی تھی ‘ تاآنکہ اسماعیلی دعوت کے احیاء نے ایک نئے خاندان مکرمیہ کی شکل اختیار کی جس کا مرکز المومنیہ تھا۔

قرامطہ کے عقائد : 

قرمطی عقائد میں عام رجحان یہ ہے کہ حضرت علی کے حق خلافت کے نظریہ کو ایک مقصد کے بجائے ایک ذریعہ سمجھا جائے ‘ ان کے نزدیک امامت کوئی موروثی اجارہ نہیں جو ایک ہی خاندان میں منتقل ہوتا رہے ‘ ٢٨٧ ھ میں عبیداللہ نے فاطمی خاندانی لقب اختیار کیا تو ان میں سے کسی ایک نے بھی واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ نسلی اعتبار سے ان کا سلسلہ نسب حضرت علی کی اسماعیلی شاخ سے ملتا ہے۔

جب المغرب (تونس) میں خلافت فاطمیہ قائم ہوگئی تو خراسان اور یمن کی طرح الاحساء میں بھی قرامطہ نے عام طور پر ان سے بہت سی توقعات وابستہ کرلیں ‘ ابوسعید ابتداء ہی سے صاحب الناقہ کو خمس ادا کرتا تھا ‘ پھر حیلے بہانے کے بعد ابوطاہر نے یہ رقم القائم کو بھیجنا شروع کردی ‘ لیکن وہ اس کے جائز استحقاق کے متعلق اس قدر بدگمان تھا کہ ٣١٩ ھ میں اس نے ایک دیوانے ابوالفضل الزکری التمامی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے امام منتظر کی حیثیت سے تخت نشین کردیا ‘ ٣٤٠ ھ میں فاطمی خلیفہ المنصور کے حکم سے حجراسود اہل مکہ کو واپس کردیا گیا۔

قرامطہ کے عقائد میں الوہیت محض ایک تصور واحد ہے جو تمام صفات سے مبرا اور منزہ ہے ‘ حقیقی عبادت کا تعلق اس علم کے حصول پر ہے کہ ذات الہیہ سے باہر کائنات کا تخلیقی ارتقاء کن کن مدارج سے گزرا ہے ‘ ہر مرید کو بتدریج اس علم سے آشنا کیا جاتا ہے حتی کہ اس میں یہ استعداد پیدا ہوجائے کہ وہ معکوس عمل معرفت سے ان مدارج ارتقاء کو فراموش کر کے ذات الہی میں جذب ہوجائے۔

اگر قرامطہ کے اصول و عقائد کا مقابلہ ان کے پیش روامامیہ عقائد سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ فرقہ امامیہ کے تجسیمی اور تشخصی تصورات اور حضرت علی اور ان کے اخلاف کی پرستش کی بجائے قرامطہ کے ہاں ان عقائد کو محض عقلیت کے رنگ میں اور مجرد تصورات کی شکل میں پیش کیا ہے۔ فلسفہ میں الفارابی اور ابن سینا کے مثالی امامت کے سیاسی نظریہ اور عقول عشریہ کا نظریہ صدور ‘ ان کے زیر اثر تسلیم کئے گئے ‘ ایسے ہی اصول و عقائد میں بھی قرمطی اثرات سرایت کر گئے مثلا قرامطہ وحدۃ الوجود کو مانتے تھے ‘ ان کا کہنا یہ تھا کہ حروف ابجد محض عقلی علامات ہیں نام کسی شے کا حجاب ہے اس کا شہود نہیں۔ انبیاء ائمہ اور ان کے مریدان خاص کی عقول اشعئہ نورانیہ کے شرارے ہیں جو ابتدائی انوار و تجلیات کے وقفوں کے مطابق نور ظلامی یعنی غیر حقیقی اور اندھے مادے میں گھری ہوئی ہوتی ہیں اور یک بیک یوں منور ہوجاتی ہیں جیسے آئینہ میں عکس۔ (اردودائرہ معارف اسلامیہ ج ٢۔ ٣٢۔ ٢١ ملخصا مطبوعہ دانش گاہ پنجاب لاہور ‘ ١٣٩٧ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو اس کے راستہ کی استطاعت رکھتا ہو۔

پہلے اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے فضائل اور مناقب بیان فرمائے اس کے بعد حج بیت اللہ کی فرضیت بیان فرمائی نیز اس آیت میں لوگوں پر حج کا فرض ہونا بیان فرمایا ہے اور اس کو مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں کیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ کفار بھی حج اور دیگر اسلامی احکام کے مخاطب ہیں۔

حج کی تعریف : شرائط فرائض ‘ واجبات ‘ سنن اور آداب ‘ ممنوعات اور مکروہات : 

حج کا لغوی معنی ہے کسی عظیم شے کا قصد کرنا اور اس کا شرعی معنی حسب ذیل ہے :

نو ذوالحجہ کو زوال آفتاب کے بعد سے دس ذوالحجہ کی فجر تک حج کی نیت سے احرام باندھے ہوئے میدان عرفات میں وقوف کرنا اور دس ذوالحجہ سے آخر عمر تک کسی وقت بھی کعبہ کا طواف زیارت کرنا حج ہے ‘ حج کی تعریف یہ بھی کی گی ہے کہ وقوف عرفات اور کعبہ کے طواف زیارت کا قصد کرنا حج ہے۔

حج کی شرائط یہ ہیں : حج اسلام کرنے والا مسلمان ہو ‘ آزاد ہو ‘ مکلف ہو ‘ صحیح البدن ہو ‘ بصیر ہو ‘ اس کے پاس حج کے لیے جانے ‘ سفر حج تک کے قیام حج سے واپس آنے اور اس دوران جن کے خرچ کا وہ ذمہ دار ہے ان سب کا خرچ ہو ‘ نیز اس کے پاس سواری ہو یا سواری کا خرچ ہو ‘ اور راستہ مامون ہو ‘ اور اگر عورت حج کرنے والی ہے تو اس کے ساتھ اس کا خاوند ہو یا عاقل بالغ محرم ہو۔

حج کے فرائض : 

حج میں تین امور فرض ہیں۔ احرام ٩ ذوالحجہ کو زوال آفتاب سے دسویں کی فجر تک کسی بھی وقت میدان عرفات میں وقوف کرنا اور دس ذوالحجہ سے اخیر عمر تک کسی بھی وقت کعبہ کا طواف کرنا ‘ موخر الذکر دونوں رکن ہیں ‘ ان میں ترتیب بھی فرض ہے یعنی پہلے حج کی نیت سے احرام باندھنا ‘ پھر وقوف عرفات کرنا ‘ اور اس کے بعد طواف زیارت کرنا ‘ حج کی سعی کو طواف زیارت سے پہلے کرنا بھی جائز ہے۔

حج کے واجبات : 

مزدلفہ میں وقوف کرنا ‘ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا) ‘ جمرات کو رمی کرنا ‘ طواف وداع کرنا ‘ (مکہ میں رہنے والا حائضہ عورت طواف وداع سے مستثنی ہے) سرمنڈانا بال کٹوانا ‘ میقات سے احرام باندھنا ‘ غروب آفتاب تک میدان عرفات میں وقوف کرنا ‘ طواف کی ابتداء حجر اسود سے کرنا ‘ اپنی دائیں جانب سے طواف کرنا ‘ اگر عذر نہ ہو تو خود چل کر طواف کرنا ‘ باوضو طواف کرنا (ایک قول یہ ہے کہ سنت ہے) پاک کپڑوں کے ساتھ طواف کرنا ‘ شرم گاہ کو ڈھانپ کر رکھنا ‘ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ابتداء صفا سے کرنا ‘ اگر عذر نہ ہو تو خود چل کر سعی کرنا ‘ قرآن اور تمتع کرنے والے کے لیے ایک بکری ذبح کرنا ‘ سات چکر پورے ہونے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا ‘ قربانی کے دن رمی کرنا حطیم کے باہر سے طواف کرنا ‘ طواف کے بعد سعی کرنا ‘ قربانی کے ایام میں اور حرم کے اندر حلق کرانا۔

حج کے سنن اور آداب :

خرچ میں وسعت اختیار کرنا ‘ ہمیشہ باوضو رہنا ‘ فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنا (گالی وغیرہ سے حفاظت کرنا واجب ہے) اگر ماں باپ کو اس کی ضرورت ہو تو ان سے اجازت لے کر حج کے لیے جانا ‘ قرض خواہ اور کفیل سے بھی اجازت طلب کرنا ‘ اپنی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ کر نکلنا ‘ لوگوں سے کہا سنا معاف کرانا ‘ ان سے دعا کی درخواست کرنا ‘

نکلتے وقت کچھ صدقہ و خیرات کرنا ‘ اپنے گناہوں پرسچی توبہ کرے ‘ جن لوگوں کے حقوق چھین لیے تھے وہ واپس کردے ‘ اپنے دشمنوں سے معافی مانگ کر ان کو راضی کرے ‘ جو عبادات فوت ہوگئیں (مثلا جو نمازیں اور روزے رہ گئے ہیں) ان کی قضا کرے ‘ اور اس کوتاہی پر نادم ہو اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم کرے ‘ اپنی نیت کو ریاکاری اور فخر سے مبرا کرے ‘ حلال اور پاکیزہ سفر خرچ کو حاصل کرے کیونکہ حرام مال سے کیا ہوا حج مقبول نہیں ہوتا ‘ اگرچہ فرض ساقط ہوجاتا ہے ‘ اگر اس کا مال مشتبہ ہو تو کسی سے قرض لے کر حج کرے اور اپنے مال سے وہ قرض ادا کردے ‘ راستہ میں گناہوں سے بچتا رہے اور بہ کثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ‘ سفر حج میں تجارت کرنے سے اجتناب کرے ہرچند کہ اس سے ثواب کم نہیں ہوتا۔

حج کے ممنوعات : 

جماع نہ کرے ‘ احرام کی حالت میں سر نہ منڈائے ناخن نہ کاٹے ‘ خوشبو نہ لگائے ‘ سر اور چہرہ نہ ڈھانپے ‘ سلا ہوا کپڑا نہ پہنے ‘ حرم اور غیر حرم میں شکار کے درپے نہ ہو ‘ حرم کے درخت نہ کاٹے۔

حج کے مکروہات :

اگر ماں پاب کو اس کی خدمت کی ضرورت ہے اور اس کے حج پر جانے کو ناپسند کرتے ہوں تو اس کا حج کے لیے جانا مکروہ ہے ‘ اور اگر ان کو اس کی خدمت کی ضرورت نہیں ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ‘ اگر ماں باپ نہ ہوں اور دادا ‘ دادی ہوں تو وہ ان کے قائم مقام ہیں ‘ اس کے اہل و عیال جن کا خرچ اسکے ذمہ ہے اگر وہ اس کے حج پر جانے کو ناپسند کرتے ہوں اور اسے ان کے ضائع ہونے کا خدشہ نہ ہو تو پھر اس کے جانے میں کوئی حرج نہیں اور اگر اس کو یہ خدشہ ہو کہ اس کی غیر موجودگی میں وہ ضائع ہوجائیں گے تو پھر اس کا حج پر جانا مکروہ ہے ‘ اگر کسی شخص کا بیٹا بےریش ہو وہ داڑھی آنے تک اس کو حج کرنے سے منع کرے ‘ اگر حج فرض ہو تو وہ ماں باپ کی اطاعت سے اولی ہے اور اگر حج نفل ہو تو ماں باپ کی اطاعت اولی ہے ‘ جس شخص کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو قرض ادا کرنے سے پہلے اس کا حج یا جہاد کے لیے جانا مکروہ ہے ‘ ہاں اگر قرض خواہ اجازت دے دے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (یہ تمام احکام اور مسائل درمختار ‘ ردالمختار اور عالم گیری سے ماخوذ ہیں)

حج کے فضائل : 

امام زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری المتوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے حج کیا اور (اس میں) جماع یا اس کے متعلق باتیں نہیں کیں اور کوئی گناہ نہیں کیا وہ گناہوں سے اس طرح (پاک) لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ (صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم ‘ سنن نسائی ‘ سنن ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک عمرہ سے لے کر دوسرا عمرہ اس کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہے ‘ اور حج مبرور کی جزا صرف جنت ہے (موطا امام مالک ‘ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم ‘ جامع ترمذی ‘ سنن نسائی ‘ سنن ابن ماجہ ‘ حلیۃ الاولیاء)

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام ڈالا ‘ تو میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں ‘ آپ نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ‘ آپ نے فرمایا اے عمرو کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا جو چاہو شرط لگاؤ میں نے عرض کیا میری مغفرت کردی جائے ‘ آپ نے فرمایا اے عمرو ! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ‘ اور ہجرت اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور حج اس سے پہلے کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم و صحیح ابن خزیمہ)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارے رائے میں جہاد افضل ہے کیا ہم جہاد نہ کریں ؟ آپ نے فرمایا لیکن افضل حج مبرور ہے۔ امام نسائی نے اس حدیث کو سند حسن سے روایت کیا ہے۔

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر کمزور آدمی کا جہاد حج ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حج مبرور کی جزا صرف جنت ہے ‘ پوچھا گیا بر کیا ہے ؟ فرمایا : کھانا کھلانا اور اچھی باتیں کرنا ‘ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ‘ امام طبرانی نے المعجم الاوسط روایت کیا ہے۔

حضرت ابوموسی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حج کرنے والا اپنے خاندان کے چار سو آدمیوں کے لیے شفاعت کرتا ہے اور اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آتا ہے جس دن اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص مسجد حرام کے قصد سے روانہ ہوا ‘ اور اپنے اونٹ پر سوار ہوا اس کے اونٹ کے ہر قدم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ ایک نیکی لکھ دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا ‘ اور اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا ‘ حتی کہ جب وہ بیت اللہ پہنچ کر طواف کرے گا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے گا پھر سر منڈوائے یا بال کٹوائے گا تو وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوجائے گا جس دن اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ (سنن بیہقی)

حضرت زاذان (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سخت بیمار ہوگئے انہوں نے اپنے تمام بٹیوں کو بلا کر فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مکہ سے پیدل حج کے لیے روانہ ہوا حتی کہ واپس مکہ پہنچ گیا ‘ اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلہ سات سو نیکیاں لکھ دے گا ‘ اور ہر نیکی حرم کی نیکیوں کی طرح ہوگی ‘ ان سے پوچھا گیا اور حرم کی نیکیاں کتنی ہیں انہوں نے فرمایا ہر نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور حاکم نے ‘ دونوں نے عیسیٰ بن سوارہ سے روایت کیا ہے ‘ حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ‘ امام ابن خزیمہ نے کہا اگر حدیث صحیح ہو تب بھی عیسیٰ بن سوارہ کے متعلق دل میں تشویش ہے ‘ امام بخاری نے کہا وہ منکر الحدیث ہے۔ (حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام بزار اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے ‘ امام بزار نے اس حدیث کو دو سندوں سے روایت کیا ہے کہ ایک سند میں کذاب راوی ہے اور دوسری سند میں اسماعیل بن ابراہیم کی سعید بن جبیر سے روایت ہے اور اس کو میں نہیں پہچانتا اور اس کے بقیہ راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٣ ص ٢٠٩) میں کہتا ہوں کہ امام ابو یعلی کی سند میں سعید بن جبیر سے روایت کرنے والا مجہول ہے اور یہ سند منقطع ہے۔ )

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ‘ حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے ‘ اللہ کے وفد ہیں ‘ اللہ نے ان کو بلایا تو انہوں نے لبیک کہا ‘ یہ اللہ سے سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتا ہے ‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور امام ابن حبان نے اپنی سنن اور صحیح میں روایت کیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حج کرنے والے کی مغفرت کی جائے گی اور جس کے لیے حج کرنے والا استغفار کرے گا اس کی مغفرت کی جائے گی۔ (الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٦٧‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد خیف میں بیٹھا ہوا تھا ‘ کہ ایک انصاری اور ایک ثقفی آئے ‘ انہوں نے آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام عرض کیا اور کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم آپ سے ایک سوال کرنے آئے ہیں ‘ آپ نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں خود تمہارا سوال بیان کروں ‘ اور اگر تم چاہو تو تم سوال کرو ‘ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! آپ بیان فرمائیں ہمارا ایمان اور زیادہ ہوگیا ! انصاری نے ثقفی سے کہا تم سوال کرو ‘ اس نے کہا بلکہ تم سوال کرو ‘ انصاری نے کہا یارسول اللہ ! ہمیں بتائیے ! آپ نے فرمایا تم یہ سوال کرنے آئے ہو کہ جب تم اپنے گھر سے بیت اللہ کے لیے روانہ ہو اور بیت اللہ کا طواف کرو تو اس میں تمہارے لیے کیا اجر ہے ؟ اور رمی جمار کا کیا اجر ہے اور نحر (قربانی) کا کیا اجر ہے ؟ اور سرمنڈانے کا کیا اجر ہے ؟ اور اس کے بعد طواف (زیارت) کا کیا اجر ہے ؟ انصاری نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ ہم آپ سے یہی سوال کرنے آئے تھے ‘ آپ نے فرمایا : جب تم اپنے گھر سے بیت اللہ کے لیے روانہ ہوتے ہو تو تمہاری سواری کے ہر قدم رکھنے اور اٹھانے کے بدلہ میں اللہ تمہاری ایک نیکی لکھتا ہے ‘ ایک گناہ مٹاتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور جب تم طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے ہو تو تمہاری ایک نیکی لکھتا ہے ‘ ایک گناہ مٹاتا ہے اور ایک درجہ بلند کرتا ہے اور جب تم طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے ہو تو تمہیں اولاد اسماعیل سے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے ‘ اور جب تم صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہو تو تمہیں ستر غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے ‘ اور جب تم زوال آفتاب کے بعد میدان عرفات میں وقوف کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے یہ میرے وہ بندے ہیں جو دور دراز کے علاقوں سے بکھرے ہوئے غبار آلود بالوں کے ساتھ آئے ہیں یہ میری رحمت اور میری مغفرت کی امید رکھتے ہیں سو اگر تمہارے گناہ ریت کے ذروں اور سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں تو اللہ ان کو معاف کردے گا ‘ میرے بندو ! عرفات سے مزدلفہ کی طرف جاؤ‘ تمہاری بھی مغفرت ہوگی اور جن کی تم شفاعت کرو گے اس کی بھی مغفرت ہوگی ‘ اور جب تم رمی جمار (کنکری پھینکتے ہو) کرتے ہو تو ہر کنکری کے بدلہ میں تمہارا ایک کبیرہ گناہ معاف کردیا جاتا ہے ‘ اور تمہاری قربانی تمہارے رب کے پاس ذخیرہ کی جائے گی اور جب تم سرمنڈاتے ہو تو ہر بال کے بدلہ میں ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے اور ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ‘ انصاری نے کہا : یارسول اللہ ! اگر اس کے گناہ کم ہوں ؟ آپ نے فرمایا تو پھر اس کی نیکیاں ذخیرہ کی جائیں گی اور جب تم اس کے بعد طواف (زیارت) کرو گے تو تم اس حال میں طواف کرو گے کہ تمہارا کوئی گناہ نہیں ہوگا ‘ پھر ایک فرشتہ تمہارے دو کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر کہے گا جاؤ از سرنو عمل کرو تمہار پچھلے گناہ معاف کردیئے گئے ہیں (المطالب العالیہ ج ١ ص ٣١٤۔ ٣١٢‘ تو زیع عباس احمد الباز مکہ مکرمہ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں اسماعیل بن رافع نام کا ایک ضعیف راوی۔ (مجمع الزوائد ج ٣ ص ٢٧٦)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے حج کی عبادات انجام دیں اور مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ کے شر سے محفوظ رہے ‘ اس کے اگلے اور پچھلے گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی ایک ضعیف راوی ہے۔

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بیت اسلام کا ستون ہے ‘ جو شخص حج ‘ عمرہ ‘ یا زیارت کے قصد سے اس بیت کے لیے روانہ ہو ‘ تو اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ اگر وہ اس دوران فوت ہوگیا تو اس کو جنت میں داخل کر دے اور اگر اس کو لوٹائے تو اجر اور غنیمت کے ساتھ لوٹائے۔

اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ایک متروک راوی ہے (مجمع الزوائد ج ١ ص ٢٠٩)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوا اور راستہ میں مرگیا ‘ اس سے حساب نہیں لیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجا۔ اس حدیث کو امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث میں ایک راوی عائذبن بشیر ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٣ ص ٢٠٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص حج کے لیے روانہ ہوا اور مرگیا اس کے لیے قیامت تک حج کا اجر لکھا جاتا رہے گا ‘ اور جو شخص عمرہ کے لیے روانہ ہوا اور مرگیا اس کے لیے قیامت تک عمرہ کا اجر لکھا جاتا رہے گا ‘ اور جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے روانہ ہوا اور مرگیا ‘ اس کے لیے قیامت تک غازی کا اجر لکھا جاتا رہے گا۔ اس حدیث کو بھی امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ (المطالب العالیہ ج ١ ص ٣٢٦۔ ٣٢٤‘ توزیع عباس احمد الباز ‘ مکہ مکرمہ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کو سند میں جمیل بن ابی میمونہ ہے ‘ امام ابن حبان نے اس کا ثقات میں ذکر کیا ہے اس حدیث کو امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٣ ص ٢٠٩)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اس کے راستہ کی استطاعت رکھتا ہو۔

حج کی استطاعت کی تفصیل : 

علامہ ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

استطاعت میں تین قول ہیں : امام شافعی کے نزدیک استطاعت مال سے ہوتی ہے اور یہ سفر خرچ اور سواری ہے ‘ امام مالک کے نزدیک استطاعت بدن کے ساتھ ہوتی ہے یعنی وہ شخص صحت مند اور تندرست ہو ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک استطاعت مال اور بدن دونوں کے ساتھ مشروط ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤١١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

علامہ ابن جوزی حنبلی نے بھی استطاعت کی تفسیر مال اور بدن دونوں کے ساتھ کی ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٤٢٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

فتاوی عالم گیری میں استطاعت کی تفصیل میں حسب ذیل امور مذکور ہیں :

(١) حج کرنے والے کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی رہائش ‘ کپڑوں ‘ نوکروں ‘ گھر کے سامان اور دیگر ضروریات سے اس قدر زائد ہو کہ مکہ مکرمہ تک جانے کے دوران حج تک وہاں رہنے اور پھر واپس آنے کے لیے اور سواری کے خرچ کے لیے کافی ہو اور اس کے پاس اس کے علاوہ اتنا مال ہو جس سے وہ اپنے قرضہ جات ادا کرسکے اور اس عرصہ کے لیے اس کے اہل و عیال کا خرچ پورا ہو سکے اور گھر کی مرمت اور دیگر مصارف ادا ہوسکیں۔

(٢) اس کو یہ علم ہو کہ اس پر حج کرنا فرض ہے ‘ جو شخص دارالاسلام میں رہتا ہے اس کے لیے دارالاسلام میں رہنا اس علم کے قائم مقام ہے ‘ اور جو شخص دارالحرب میں ہو اس کو دو مسلمان خبر دیں یا ایک عادل مسلمان خبر دے کہ اس پر حج فرض ہے تو یہ اس کے علم کے لیے کافی ہے۔

(٣) وہ شخص سالم الاعضاء اور تندرست ہو ‘ حتی کہ لولے ‘ لنگڑے ‘ مفلوج ‘ ہاتھ پیر بریدہ ‘ بیمار اور بہت بوڑھے شخص پر حج فرض نہیں ہے ‘ اگر وہ سفر خرچ اور سواری کے مالک ہوں تب بھی ان پر حج کرنا فرض نہیں ہے اور نہ بیمار شخص پر حج کی وصیت کرنا فرض ہے۔ (فتح القدیر والبحر الرائق) اسی طرح جو شخص قیدی ہو یا جو شخص سلطان سے خائف ہو جس نے اس کو حج کرنے سے منع کیا ہو اس پر بھی حج کرنا فرض نہیں ہے ‘ (النہر الفائق) اور جو شخص نابینا ہو اس پر بھی حج کرنا فرض نہیں ہے اور نہ اپنے مال سے حج کرانا فرض ہے ‘ اگر اس کو قائد میسر ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر پھر بھی حج فرض نہیں ہے اور امام ابو یوسف اور محمد کے نزدیک اس میں دو روایتیں ہیں۔ (قاضی خاں)

(٤) اگر راستہ میں سلامتی غالب ہو تو اس پر حج فرض ہے اور اگر سلامتی غالب نہ ہو تو پھر حج فرض نہیں ہے۔

(٥) اگر اس کے شہر اور مکہ کے درمیان تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت ہو تو عورت کے لیے ضرورت ہے کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند ہو یا اس کا محرم ہو اور محرم کے لیے ضروری ہے کہ وہ مامون ‘ آزاد اور عاقل اور بالغ ہو ‘ محرم کا خرچ حج کرنے والے کے ذمہ ہے۔

(٦) عورت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس وقت میں عدت وفات یا عدت طلاق نہ گزار رہی ہو۔ (فتاوی عالمگیرج ١ ص ٢١٩۔ ٢١٧‘ مطبوعہ مطبعہ امیریہ بولاق مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

آج کل استطاعت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ حج کرنے والے کو حج پاسپورٹ اور حج ویزا مل جائے اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ شوال میں عمرہ کرنے والے پر حج فرض ہوجاتا ہے ان کا قول باطل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس نے کفر (انکار) کیا تو بیشک اللہ سارے جہانوں سے بےپرواہ ہے۔

قدرت کے باوجود حج نہ کرنے والے پر وعید : 

حافظ زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری المتوفی ٦٥٦ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص سفر خرچ اور سواری کا مالک ہو جس کے ذریعہ وہ بیت اللہ تک پہنچ سکے اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس کوئی افسوس نہیں خواہ وہ یہودی ہو کر مرے خواہ نصرانی ہو کر مرے۔ اس حدیث کو بھی امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

ان حدیثوں میں حج نہ کرنے والے پر تغلیظا وعید کی گئی ہے۔

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام کے آٹھ حصے ہیں ‘ ایک حصہ اسلام ہے ‘ ایک حصہ نماز ہے ‘ ایک حصہ زکوۃ ہے ‘ ایک حصہ حج بیت اللہ ہے ‘ ایک حصہ نیکی کا حکم دینا ہے ‘ ایک حصہ برائی سے روکنا ہے ‘ ایک حصہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے ‘ وہ شخص نامراد ہے جس کا کوئی حصہ نہیں ہے ‘ اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے۔ (غالبا راوی ایک حصہ کا ذکر کرنا بھول گیا)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : جس بندہ کا جسم تندرست ہو اور وہ مالی اعتبار سے خوشحال ہو اور وہ پانچ سال تک میرے پاس نہ آئے وہ ضرور محروم ہے۔ (صحیح ابن حبان وسنن بیہقی) (الترغیب والترہیب ج ٢ ص ٢١٢۔ ٢١١‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ۔ ٤٠٧ ھ)

حلال مال سے حج کرنے کی فضیلت اور حرام مال سے حج کرنے کی مذمت : 

حافظ منذری بیان کرتے ہیں : حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حج میں خرچ کرنا اللہ کی راہ میں سات سو گنا زیادہ خرچ کرنے کی مثل ہے۔ اس حدیث کو امام احمد نے ‘ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بیہقی نے روایت کیا ہے امام احمد کی اسناد حسن ہے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا حج میں خرچ کرنا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی مثل ہے ایک درہم سات سو گنا زیادہ ہے ‘ اس حدیث کو بھی امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب حج کرنے والا پاکیزہ کمائی لے کر نکلتا ہے اور اپنا پیر رکاب میں ڈالتا ہے اور اللہم لبیک اللہم لبیک سے ندا کرتا ہے تو آسمان سے ایک منادی کہتا ہے لبیک وسعدیک ‘ تمہارا سفر خرچ حلال ہے ‘ تمہاری سواری حلال ہے ‘ تمہارا حج مبرور (مقبول) ہے ‘ اس میں گناہ نہیں ہے ‘ اور جب وہ حرام مال سے حج کے لیے روانہ ہوتا ہے اور اپنا پاؤں رکاب میں ڈالتا ہے اور لبیک کہتا ہے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے تمہارا لبیک کہنا مقبول نہیں ‘ تمہارا زاد راہ حرام ہے ‘ تمہارا خرچ حرام ہے تمہارا حج گناہ ہے ‘ مقبول نہیں منادی ندا کرتا ہے تمہارا لبیک کہنا مقبول نہیں ‘ تمہارا زاد راہ حرام ہے ‘ خرچ حرام ہے تمہارا حج گناہ ہے ‘ مقبول نہیں ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں اوسط میں روایت کیا ہے اور امام اصبہانی نے بھی روایت کیا ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٢ ص ١٨١۔ ١٧٩‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 97

فلسفہ حج

فلسفہ ٔ حج

امام الدین سعیدی

جس نےاللہ کے لیے حج کیااور فسق وفجور والی کوئی بات نہ کی تو وہ ایسےپاک لو ٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اُسے آج ہی جنا ہو

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

 وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰی كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(۲۷) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِیْرَ(۲۸) ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ (حج ۲۹)

ترجمہ: اے محبوب! لوگوں میں حج کا ا علان کردیں کہ وہ آپ کے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ان اونٹنیوں پر سوار ہوکر بھی جو کمزور اور لاغر ہو گئی ہوں وہ دورودراز کے گہرے پہاڑی راستوں سے چلتی ہو ئی پہنچیں گی تا کہ وہ اپنی منفعت کی جگہوں پر حاضر ہوجائیں اور چند مقرر و معلوم دنوں میں اللہ کے عطاکردہ چوپایوں پر اللہ کا نام لیں،ان میں سے خود کھائیں اور تنگ دست فقیروں کو بھی کھلائیں۔پھر یہ لوگ اپنی گندگی دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم ترین گھر کا طواف کریں ۔

یہ وہ اعلان تھا جو صدیوں پہلے بلند ہو ااور جس کے جواب میں تب سےلےکر آج تک اہل ایمان لبیک لبیک پکارتے ہو ئے اس مقدس گھر کی طرف سفر کرتے ہیں جس گھر کوبیت الحرام کہا جاتا ہے وادی ٔ بطحا میں وہ خدا کا پہلا گھر تھا جو اللہ کو ایک ماننے والوں کے لیے مرکز و معبد بنا ۔حج،دین براہیمی میں عبادت و بندگی کا سب سے اعلی درجہ ہے کہ اپنے رب کے لئے بندہ اپنے جان ومال کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضری دیتا ہے اور والہانہ جذبہ کے ساتھ اپنی بندگی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔
یو ں تو اس حکیم مطلق کا کو ئی بھی حکم غایت وحکمت سے خالی نہیں ہو تا اس کی جانب سے جو بھی احکام آتے ہیں ان میں بے شمار مقاصد و مصالح مو جود ہو تے ہیں خواہ ہماری عقل ان کا ادراک کرے یا نہ کرے ۔
حج اور اس کے ارکان و مناسک میں بھی اللہ تعالیٰ نے بے شمار حکمتیں رکھی ہیں جو مومن کے انفرادی و اجتماعی صلاح و فلا ح پر مبنی ہیں۔
ذیل میں چند فوائد کا بیان کیا جارہا ہے جن میں ایمان و اخلاق ،نفس ووجدان کے لئے تربیتی پہلو موجود ہیں ۔

خود سپردگی 
ہم اپنی طبیعت و مزاج کو اطاعت الٰہی کے لیے آمادہ کرنے میں کس قدر ریاضت وتربیت کے محتاج ہیں یہ ہمیں بخوبی علم ہے ۔ حج اس ریا ضت کی ایک بہترین مثال ہے ۔ حجاج کرام کا طواف کرنا ،حجر اسود کو بوسہ دینا ،رمی جمار وغیرہ جیسے اعمال اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بندہ طمانیت قلب کے ساتھ حکم ا لٰہی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کے لیے پُرمشقت سفر کرکےپُرخلوص انقیاد و اطاعت کا اظہار بلاشبہ کمال بندگی ہے ۔

شعائر اللہ کی تعظیم و حرمت 
مقاصد حج میں ایک یہ بھی ہے کہ شعائر الٰہیہ کو نہایت تقدس و عظمت کی نگاہ سے ملاحظہ کرے اوراس کی جلالت و حرمت کا مکمل پاس ولحاظ رکھے ۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ (سورۂ حج ۳۲)

ترجمہ: جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو گویا کہ وہ اس کے دل کے تقوی کا حصہ ہے ۔

اسی کی طرف یہ حدیث بھی اشارہ کررہی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

 لَا تَزَالُ هٰذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوْا هٰذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيْمِهَا، فَإِذَا ضَيَّعُوْا ذٰلِكَ، هَلَكُوْا۔ (سنن ابن ماجہ،باب:فضل المدینۃ )
ترجمہ:اس امت سے بھلائی کبھی ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ اس محترم گھر ( کعبہ ) کی حرمت کو برقرار رکھے گی اور جس دن وہ اس کی بے حرمتی کا ارتکاب کرے گی تو ہلاک کردی جائےگی ۔

تصور آخرت میں تازگی اور پختگی 
حاجی جب حج کے سفر پر روانہ ہوتاہے تو اپنے وطن عزیز کو چھوڑتا ہے ، سفر کی مشقت سے دوچار ہو تا ہے ۔یہ اس بات کی علامت ہو تی ہے کہ اسے ایک دن اسی طرح دنیا چھوڑ دینا ہے مو ت جیسی تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہے ،احرام پہننا گویا اسے اپنے کفن کی یاد دلا تا ہے کہ جس طرح آج دو بغیر سلی ہو ئی چادر اس کا لباس ہے مرنے کے بعدبھی اس کو یہی پہننا ہے عرفات میں خلق خدا کا ازدحام قیامت کی بھیڑ والا منظر بیان کرتا ہے ۔اس طرح حج کرنے والا آخرت و قیامت کے تعلق سے بہت حساس اور فکرمند ہو جاتاہے ۔

کثرت میں وحدت اور اخوت ایمانی 
حج کے موقع پر مختلف ممالک اور طبقے کے لو گ جمع ہوتے ہیں ،رنگ و نسل کی تفریق کے باوجود سب ایک مقام پرہو تے ہیں ، ایک لباس میں ہو تے ہیں ،ایک وقت میں ہوتے ہیں ،ایک ہی طرح کے اعمال میں مصروف ہو تے ہیں گو یا حج ساری تفریق و امتیاز کو ختم کرکے امت مسلمہ کو ایک مقام پر جمع کردیتا ہے ،باہمی رابطہ کی راہ ہموار کرتا ہے اور ان کے مابین اخوت ایمانی و صلہ ٔ رحمی کے جذبےکو بیدار کرتا ہے ۔

محبت رسول 
بلاشبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی اساس اور بنیاد ہے اعمال حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کی سنت کو اپنانا آپ کی محبت میں اضافہ کرتا ہے آپ کی اقتداو پیروی ہی اصل میں آپ سے محبت کی دلیل ہے، دراصل آپ کی متابعت ہی آپ کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے ،نیز اسی کے ذریعہ اللہ کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ( آل عمران ۳۱ )
ترجمہ:اے محبوب!آپ فرمادیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہوتو میری اتباع کرو،اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہوں کی بخشش فرمادے گااور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

حصول تقوی 
قرآن کریم میں ارشاد ہے :

اَتِمُّواالْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ… وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (سورۂ بقرہ ۱۹۶)
ترجمہ : حج اور عمرہ اللہ کے لیے کرو، تقوی اختیار کرواور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

دوسری آیت کریمہ میں ہے :

 وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی ( بقرہ ۱۹۷)
ترجمہ:توشہ اختیارکرو بے شک تقویٰ بہترین توشہ ہے مذکورہ بالا آیتوں میں حج کے حکم کے ساتھ واضح لفظوں میں تقوی کا بھی ذکر مربوط ہے جو حج کے اغراض ومقاصدکو شامل ہے۔

کثرت ذکر 
حج کے تلبیہ و تہلیل اور دعاؤں میں اگر غور کیا جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ تلبیہ و تسبیح کا بار بار پڑھنا اور دعا و مناجات میں مصروف رہنا ذکر الٰہی کی کثرت پر دلیل ہے اس کا مقصود یہی ہے کہ ایام حج میں کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اپنے اوقات کو غافل ہو کر نہ گذاریں۔چنانچہ قرآن میں مناسک کو بیان کرتے ہو ئے متعدد بار ذکر الٰہی پر زور دیا گیا ہے ۔ ال
لہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے :

فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ( بقرہ ۱۹۸)
ترجمہ:مشعرحرام کے پاس اللہ کو یاد کرواور جس طرح اس نے تمھیں ہدایت دی ہے تم اُسےبھی یاد کرو۔

 اسی طرح جب مناسک حج کی تکمیل ہوجائے تو وہاں ذکر کا حکم دیاگیا جیسا کہ ارشاد قرآنی ہے :

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا( بقرہ ۲۰۰)
ترجمہ:جب تم مناسک پورےکرلوتو اللہ کاذکرکرو جس طرح تم اپنےآباواجدادکاذکر کرتے تھےبلکہ ان سے زیادہ ۔

 بلا شبہ حج وعمرہ کا وہی مقصد ہے جو ان کی حقیقت ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطاکی ہو ئی نعمتوں کا اعتراف ،اور اس کی وحدانیت کا اقرار،اس کی نشانیوں کی زیارت اور اس امر کی یاد دہانی کہ ایمان لا نے کے بعد ہم اپنے آپ کو مکمل طور سے خدا کے حوالہ کر چکے ہیں اب ہم اپنے اختیار اور طبیعت سے کچھ نہیں کرسکتے ،وہی کریں گے جو اللہ کا حکم ہو گا ۔یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو حج کے مقاصد و منافع میں شمار کئے گئے ہیں سورۂ حج کی جو ابتدائی آیت ہے اس میں اللہ رب العزت مناسک حج کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے :

 لِیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ  (حج ۲۸)
ترجمہ: تاکہ وہ اپنے لیے نفع بخش مقامات پر حاضر ہوں ۔

 اور احرام باندھ لینے کے بعد یہ الفاظ ہر ایک کی زبان پر تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں :

 لَبَّیْکَ أللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ،إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ،لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
ترجمہ:یااللہ! میں حاضر ہو ں،میں حاضر ہو ں، تیرا کوئی شریک نہیں ،میں حاضر ہو ں ،ساری حمد تیرے ہی لیے ہے ۔ سب نعمتیں تیری ہیں،ساری بادشاہی تیری ہے ۔تیرا کو ئی شریک نہیں ۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کس قدر غیر معمولی عبادت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر ایمان اور جہاد کے بعد اسی کی فضیلت بیان فرمائی ۔
حضرت ماعز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا کہ کو ن سا عمل افضل ہے ؟
تو آپ نے فرما یا کہ اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لانا، پھر جہاد کرنا ،پھر حج ۔اس لئے کہ حج وہ نیکی ہے جسے دوسرے تمام اعمال پر فضیلت ہے۔ ( صحیح بخاری)
نیزیہ بھی فرمایاہے :

 مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهٗ أُمُّهٗ۔(صحیح بخار ی،باب فضل الحج المبرور)
ترجمہ:جو شخص اللہ کے لیے حج کرے پھر کو ئی شہوت اور فسق وفجور والی بات نہ کرے تو وہ ایسے لو ٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :

 وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهٗ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ۔ ( مسلم،باب:فضل الحج المبرور)
ترجمہ:حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے ۔

 ضروری اصلاحا ت 
چند باتیں جو حج کی منفعت اور اس کے مقصد کے لئے نقصان دہ ہیں جن میں بہت سارے حجاج کرام مبتلا نظر آتے ہیں ان سے بچنا نہایت ضروری ہے نیزیہ آداب حج کے خلاف بھی ہیں ۔

۱۔ حج کی نیت میں صرف اللہ کی خوشنودی اور اس کی فریضہ کی ادائیگی مقصود ہو حاجی کے لقب کا اضافہ یا شہرت و ناموری کی ہو س نہ ہو بعض مالدار حضرات حج کے مقصد کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے بار بار حج کرکے تعداد میں ریکارڈ بنانے کے دھن میں رہتے ہیں ایسا حج جو محض تعداد میں اضافہ پیدا کرنے لئے ہو کسی کام کا نہیں۔
۲۔حج کے درمیان مقامات مقدسہ کی زیارت کا مقصد ان سے فیو ض و برکات ،اور درس و عبرت حاصل کرنا ان میں اللہ کی حیرت انگیز نشانیوں کا مشاہدہ کرنامقصود ہےنہ کہ صرف سیر و تفریح اور عمارتوں کی تعمیرو تزئین سے محظوظ ہو نا ۔
۳۔اوقات حج کو فضول کاموں اور لغو باتوں میںصرف نہ کیا جائے بلکہ ذکر وتسبیح اور نوافل و تلاوت میں مشغول رہیں کسی بھی طرح کے فسق وفجور سے گریز کریں ورنہ ساری محنت رائیگاں ہو سکتی ہے ۔

وَاَتِمُّوا الۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَةَ لِلّٰهِؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ وَلَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَكُمۡ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡهَدۡىُ مَحِلَّهٗ ؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ بِهٖۤ اَذًى مِّنۡ رَّاۡسِهٖ فَفِدۡيَةٌ مِّنۡ صِيَامٍ اَوۡ صَدَقَةٍ اَوۡ نُسُكٍۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَةِ اِلَى الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِى الۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡؕ تِلۡكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ  ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ لَّمۡ يَكُنۡ اَهۡلُهٗ حَاضِرِىۡ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 196

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَتِمُّوا الۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَةَ لِلّٰهِؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ وَلَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَكُمۡ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡهَدۡىُ مَحِلَّهٗ ؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ بِهٖۤ اَذًى مِّنۡ رَّاۡسِهٖ فَفِدۡيَةٌ مِّنۡ صِيَامٍ اَوۡ صَدَقَةٍ اَوۡ نُسُكٍۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَةِ اِلَى الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِى الۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡؕ تِلۡكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ  ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ لَّمۡ يَكُنۡ اَهۡلُهٗ حَاضِرِىۡ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ

اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو ‘ سو اگر تم کو (حج یا عمرہ سے) روک دیا جائے تو جو قربانی تم کو آسانی سے حاصل ہو ‘ وہ بھیج دو ‘ اور جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے اس وقت تک اپنے سروں کو نہ منڈاؤ ‘ پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو تو وہ اس کہ بدلہ میں روزے رکھے یا کچھ صدقہ دے کر یا قربانی کرے ‘ سو جب تم حالت امن میں ہو تو جو شخص حج کے ساتھ عمرہ ملائے تو وہ ایک قربانی کرے تو جس کو وہ آسانی کے ساتھ کرسکے اور جو قربانی نہ کرے سکے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے جب تم لوٹ آؤ ‘ یہ کامل دس (روزے) ہیں ‘ یہ (حج تمتع کا) حکم اس شخص کے لیے ہے جس کے اہل و عیال مسجد حرام (مکہ مکرمہ) کے رہنے والے نہ ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ‘ اور جان لو کہ بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

فرضت حج کی تاریخ اور حج کی اقسام :

علامہ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ یہ آیت ٦ ہجری میں نازل ہوئی۔ (علامہ کمال الدین بن ھمام متوفی ٥٦١ ھ ‘ فتح القدیر ج ٢ ص ٢٢٥‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر) ملاعلی قاری نے لکھا ہے کہ فرضیت حج کی تاریخ میں اختلاف ہے ‘ ٥ ہجری ‘ ٦ ہجری اور ٩ ہجری۔ ٨ ہجری فتح مکہ کے سال میں حضرت عتاب بن اسید نے مسلمانوں کو حج کرایا ‘ ٩ ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دس ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کرایا۔ (مرقات ج ٥ ص ٢٦٣‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)

حج کا لغوی اور شرعی معنی ‘ حج کے فرائض ‘ واجبات ‘ سنن اور موانع ہم البقرہ : ١٥٨ میں بیان کرچکے ہیں ‘ اسی طرح عمرہ کے واجبات اور شرائط بھی ہم وہاں بیان کرچکے ہیں۔ حج کی تین قسمیں ہیں : (١) حج افراد : جس میں صرف مناسک حج ادا کیے جائیں اور اس سے پہلے عمرہ نہ کیا جائے ‘ یہ صرف مکہ مکرمہ میں رہنے والوں کے لیے ہے (٢) حج تمتع : میقات سے عمرہ کا احرام باندھ لیا جائے اور عمرہ کرنے کے بعد سر کے بال کٹوا کر یا منڈوا کر حلال ہوجائے اور پھر آٹھ تاریخ کو حج کا احرام باندھ لے ‘ اور مناسک حج ادا کرنے کے بعد حلال ہوجائے (٣) حج قران : میقات سے احرام باندھ لیا جائے اور عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کو برقرار رکھا جائے ‘ پھر اسی احرام کے ساتھ حج کرے اور مناسک حج ادا کرنے کے بعد سر کے بال کٹوا کر یا منڈوا کر احرام کھول دے ‘ حج قران میں زیادہ مشقت ہے اور اس کا اجر بھی بہت زیادہ ہے ‘ اکثر روایات کے مطابق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو حج کیا تھا اور حج قران تھا ‘ حج تمتع یہ دونوں مکہ مکرمہ سے باہر کے رہنے کے لیے ہیں۔

احرام میں ممنوع کام :

مرد کے احرام کے لیے دو پاک صاف ‘ نئی دھلی ہوئی چادریں ہوں ‘ ایک چادر ‘ تہبند کی طرح باندھ لے اور دوسری چادر اوپر اوڑھ لے ‘ سرکھلارکھے اور عورت سلے ہوئے کپڑے پہنے ‘ سر اور پورا جسم ڈھانپ کر رکھے صرف چہرہ کھلا رکے ‘ احرام میں حسب ذیل پابندیاں ہیں۔

(١) محرم جماع کرنے سے یا اپنی بیوی سے جماع کا ذکر کرنے سے احتراز کرے گا ‘ اپن بیوی کو شہوت سے نہیں چھوئے گا نہ بوسہ دے گا۔

(٢) کسی قسم کا کوئی گناہ کرے گا۔

(٣) کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرے گا۔

(٤) خشکی کے جانوروں کو شکار نہیں کرے گا ‘ نہ ان کی طرف اشارہ کرے گا ‘ نہ ان کی طرف رہنمائی کرے گا (٥) قصدا یا بلاقصد خوشبو نہیں لگائے گا (خوشبو کا سونگھنا مکروہ ہے ‘ خوشبودار صابن سے نہانا یا شیمپو استعمال کرنا جائز نہیں) اگر خوشبودار چیز پکی ہوئی تھی تو حرج نہیں ‘ اگر کچھی ہو اور دوسری چیز سے مخلوط ہو اور خوشبو مغلوب ہو تو جائز ہے اگر غالب ہو تو جائز نہیں ‘ اگر بعینہ خوشبو دار چیز کھائی تو اس پر دم ہے۔

(٦) ناخن نہ کاٹے۔

(٧) چہرے کو نہیں ڈھانپے گا ‘ چہرہ کا بعض حصہ مثلا منہ یاٹھوڑی کو ہتھیلی سے نہیں ڈھانپے گا۔

(٨) سر کو نہیں ڈھانپے گا۔

(٩) ڈاڑھی نہیں کاٹے گا ‘ سر میں تیل نہیں ڈالے گا نہ بالوں میں خضاب لگائے گا ‘ نہ ہاتھوں پر مہندی لگائے گا۔

(١٠) سر کے بال یابدن کے بال نہیں منڈائے گا۔

(١١) سلے ہوئے کپڑے نہیں پہنے گا۔

(١٢) عمامہ یاٹوپی نہیں پہنے گا۔

(١٣) چمڑے کے موزے نہیں پہنے گا البتہ اگر انکو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دیا جائے کہ پنڈلیاں اور ٹخنے کھلے رہیں تو جائز ہے (ایسی چپل پہن سکتا ہے جس سے وسط قدم چھپا ہوا ہو اور ٹخنے کھلے ہوئے ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ موزوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن سکتا ہے) جرابیں پہننا جائز نہیں کیونکہ ان سے ٹخنے چھپ جاتے ہیں۔

(١٤) جس کپڑے کو ایسی چیز سے رنگا گیا ہو جس سے رنگنا کے بعد خوشبو آئے مثلا زعفران اور ورس وغیرہ اس کو نہ پہنے۔

(١٥) مکہ مکرمہ کے کسی درخت کو نہ کاٹے۔

احرام میں جائز کام :

محرم حمام میں داخل ہوسکتا ہے ‘ کسی مکان اور محمل کے سائے کو حاصل کرسکتا ہے۔ (مثلا چھتری استعمال کرسکتا ہے) لیکن کوئی چیز اس کے چہرہ یا سر کو مس نہ کرے ‘ پیسے رکھنے کے لیے ھمیان کمر میں باندھ سکتا ہے (احرام کی چادر پر چمڑے کی پٹی باندھ لی جاتی ہے جس میں پیسے رکھنے کے لیے بٹوہ ہوتا ہے وہ بھی اسی حکم میں ہے) منطقہ (کمر باندھنے کی پیٹی) بھی باندھ سکتا ہے ‘ بغیر خوشبو کا سرمہ لگا سکتا ہے ‘ ختنہ کرا سکتا ہے ‘ فصد لگوا سکتا ہے ‘ ڈاڑھ نکلوا سکتا ہے ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑوا سکتا ہے ‘ سر یا کمر کو کھجا سکتا ہے لیکن اس احتیاط سے کہ بال نہ اکھڑیں ‘ اگر تین بال اکھڑ جائیں تو ایک مٹھی طعام صدقہ کردے۔ احرام باندھنے سے پہلے غسل کرنا اور بدن پر خوشبو لگانا جائز ہے خواہ بعد میں خوشبو آتی رہے۔

احرام میں مستحب کام :

محرم بہ کثرت تلبیہ پڑھے : ” لبیک اللہم لبیک ‘ لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک “۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٠) جب نماز پڑھے یا جب کسی بلندی پر چڑھے یا کسی وادی سے اترے ‘ یا سواروں سے ملے ‘ یا سحری کا وقت ہو تو تلبیہ پڑھے۔ جب مکہ میں داخل ہو تو پہلے مسجد حرام میں باب السلام سے داخل ہو اور جب کعبہ کو دیکھے تو تین بار تکبیر اور کلمہ طیبہ پڑھے ‘ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی دعا کرے ‘ اس وقت کی دعا مقبول ہوتی ہے اور یہ دعا بھی کرے : اے اللہ ! ہمارے دلوں میں کعبہ کی محبت ‘ اس کی تعظیم اور اس کی ہیبت کو زیادہ کر۔

عمرہ کرنے کا طریقہ :

غیر مکی میقات سے عمرہ کا احرام باندھ لے ‘ پاکستان کے رہنے والے ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں اس لیے وہ اپنے گھر میں غسل کرکے احرام باندھ لیں ‘ اور ایئرپورٹ کے لاؤنج میں دو رکعت نماز پڑھ کر عمرہ کرلیں : اے اللہ ! میں عمرہ کے لیے حاضر ہوں ‘ اس کو میرے لیے آسان کردے اور میری طرف سے قبول فرما ‘ پھر راستہ میں بہ کثرت تلبیہ پڑھے : ” لبیک اللہم لبیک ‘ لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک “۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ ادا کرے یعنی بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کرے ‘ اس طواف میں اضطباع کرے (احرام کی اوپر والی چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے کئے اوپر ڈال دے) پہلے تین چکروں میں رمل کرے (کندھے ہلاہلا کر دوڑتے ہوئے طواف کرے) جب بھی حجر اسود کے سامنے سے گزرے تو اگر ممکن ہو تو اس کو بوسہ دے ‘ جب رکن یمانی کے پاس سے گزرے تو اس کو بھی چھو کر اس کی تعظیم کرے ‘ اس کو بوسہ دینے میں فقہاء احناف کے دو قول ہیں ‘ ایک قول منع کا ہے اور ایک جواز کا ‘ اگر اس کی تعظیم نہ کرسکے تو پھر اس کے قائم مقام ہاتھ سے اشارہ کرنا مشروع نہیں ہے۔ حجر اسود کی تعظیم کے ساتھ طواف کو ختم کرے ‘ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت طواف پڑھے۔ اس کے بعدسعی کے ساتھ چکر لگائے سعی صفا سے شروع کرے اور مروہ پر ختم کرے ‘ صفا پر چڑھ کر کعبہ کی طرف منہ کرکے ”۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر واللہ الحمد “۔ پڑھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ پڑھے ‘ پھر دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کرے ‘ پھر مروہ کی طرف رواہ ہو ‘ راستہ میں دو سبز نشانوں کے درمیان سے دوڑتا ہوا گزرے ‘ طواف اور سعی کے دوران اس کو جو دعائیں اور اذکاریاد ہوں ان کو خضوع اور خشوع کے ساتھ پڑھتا رہے۔

صفا اور مروہ میں طواف مکمل کرنے کے بعد محرم سر کے بال کٹوالے یا منڈوالے ‘ اب اس کو عمرہ مکمل ہوگیا اور وہ احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوگیا لیکن پھر بھی کوئی گناہ نہ کرے ‘ فحش باتیں نہ کرے اور کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے ‘ آٹھ ذوالحجہ تک حسب استطاعت عمرے کرتا رہے اور مسجد حرام میں زیادہ سے زیادہ طواف کرتا رہے ‘ عمرہ اور طواف میں طواف کی زیادہ فضیلت ہے ‘ مسجد حرام میں کم از کم ایک بار قرآن مجید ختم کرنا چاہیے۔

حج کرنے کا طریقہ :

حج کرنے والا آٹھ ذوالحجہ کو صبح کی نماز مسجد حرام میں ادا کرے ‘ حج کی نیت سے غسل کرکے احرام باندھے ‘ دو رکعت نماز پڑھے اور یہ دعا کرے : اے اللہ ! میں حج کا ارادہ کرتا ہوں تو اس کو میرے لیے آسان کردے اور قبول فرما ‘ اور فجر کی نماز کے بعد مکہ سے منی کے لیے روانہ ہوجائے اور ظہر کی نماز وہاں پہنچ کر پڑھے ‘ حج کی سعی کو طواف پر مقدم کرنا جائز ہے ‘ اس لیے آسانی اس میں ہے کہ سات ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ لے اور حج کی سعی کرلے اور آٹھ تاریخ کی فجر کی نماز کے بعد منی روانہ ہوجائے ‘ اور بقیہ نمازیں منی میں ادا کرے اور طلوع فجر کے بعد منی سے عرفات کے لیے روانہ ہو ‘ اگر امام کے ساتھ نماز پڑھے تو ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر دونوں نمازوں کو جمع کرکے پڑھے ‘ ورنہ ہر نماز اپنے وقت میں پڑھے ‘ اس کے بعد جبل رحمت کے قریب جا کر قبلہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو اور بلند آواز سے گڑ گڑا کر دعا مانگے اور زندگی کے تمام گناہوں سے توبہ کرے ‘ تاہم کھڑا ہونا شرط یا واجب نہیں ہے ‘ اگر بیٹھ کر دعا کی پھر بھی جائز ہے۔ اس جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وقوف فرمایا تھا ‘ یہ جگہ میدان عرفات کے وسط میں ہے ‘ اگر یہاں موقع نہ ملے تو وادی عرنہ کے سوا تمام میدان عرفات موقف ہے ‘ میدان عرفات میں جس جگہ بھی کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر دعا کرلی ‘ حج ہوجائے گا ‘ غروب آفتاب تک میدان عرفات میں رہنا واجب ہے ‘ غروب آفتاب کے بعد میدان عرفات سے مزدلفہ کے لیے روانہ ہو ‘ راستہ میں ”۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد “۔ پڑھتا رہے۔ پیدل جانا مستحب ہے ‘ مزدلفہ میں مغرب کی نماز عشاء کے وقت میں پڑھے ‘ مغرب میں ادا کی نیت کرے اور اس کی سنتوں کو ترک کردے ‘ اس رات کو جاگ کر عبادت کرنا لیلۃ القدر میں جاگنے سے افضل ہے ‘ اسی رات میں رمی کے لیے ستر اسی کنکریاں چن لے ‘ طلوع فجر کے بعد صبح کی نماز منہ اندھیرے پڑھے ‘ اس کے بعد وقوف کرے (کھڑے ہو کر دعا کرے) وقوف کا وقت طلوع فجر سے لے کر طلوع شمس تک ہے ‘ خواہ اس وقت چل رہا ہو وقوف ہوجائے گا ( ”۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد “۔ ) پڑھے ‘ تلبیہ پڑھے ‘ درود شریف پڑھے اور دعا کرے ‘ اور جب خوب روشنی پھیل جائے تو منی کے لیے منی کے لیے روانہ ہو اور جمرہ عقبہ کو رمی کرے ‘ پانچ ہاتھ کے فاصلہ سے سات کنکریاں مارے ‘ ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہے ‘ رمی کے بعد قربانی کرے ‘ پھر سر کے بال منڈوالے یا کٹوالے ‘ منڈوانا افضل ہے ‘ اگر بال کٹوائے تو ایک پور کے برابر کٹوائے ‘ چوتھائی سر کے بال کٹوانا واجب ہے اور پورے سر کے بالوں کو کٹوانا مستحب ہے ‘ سر منڈوانے کے بعد وہ حلال ہوگیا اور بیوی سے جماع کے علاوہ اس پر ہر چیز حلال ہوگئی ‘ پھر ایام نحر کے تین دنوں میں سے کسی ایک دن مکہ جا کر طواف زیارت کرلے اگر پہلے سعی کرچکا ہے تو اس طواف میں رمل نہیں کرے گا ‘ اور اگر پہلے سعی نہیں کی تو پہلے تین چکروں میں رمل کرے گا اور سات چکر پورے کرے ‘ دو رکعت نماز طواف پڑھے گا اور اس کے بعد سعی کرے گا ‘ طواف زیارت کے بعد اس پر بیوی بھی حلال ہوجائے گی۔ اگر اس نے طواف زیارت کو قربانی کے تین دنوں کے بعد کیا تو یہ فعل مکروہ تحریمی ہے اور اس پر دم لازم آئے گا (طواف زیارت کا وقت ساری عمر ہے) وقوف عرفات اور طواف زیارت کرنے کے بعد حج کے فرائض ادا ہوگئے ‘ وقوف مزدلفہ حج کی سعی اور رمی جمرات واجب ہیں ‘ ان میں سے کسی ایک کے بھی ترک سے دم لازم آئے گا ‘ دس ذوالجہ کو طواف زیارت کرنے کے بعد منی لوٹ آئے اور رات وہاں گزارے ‘ اور گیارہ تاریخ کو زوال کے بعد تینوں جمرات پر رمی کرے اور ہر جمرہ پر سات سات کنکریاں مارے ‘ پھر بارہ تاریخ کو اسی طرح کنکریاں مارے۔ دس تاریخ کو رمی کا وقت فجر سے غروب تک ہے اور گیارہ اور بارہ تاریخ کو زوال سے لے کر غروب تک ہے ‘ تیرہ تاریخ کو طلوع فجر سے پہلے منی سے مکہ روانہ ہوسکتا ہے اور اگر تیرہ تاریخ کی فجر کو پالیا تو پھر اس دن کی رمی کرنی ہوگی۔ جب مکہ مکرمہ سے روانہ ہونے کا ارادہ کرے تو الوداعی طواف کرے ‘ اس کو طواف صدر کہتے ہیں ‘ یہ طواف واجب ہے ‘ افتتاحی طواف کو طواف قدوم کہتے ہیں ‘ یہ مستحب ہے ‘ طواف زیارت فرض ہے اور طواف صدر یا طواف وداع واجب ہے۔ طواف وداع کرنے کے بعد حج کے تمام ارکان اور واجبات ادا ہوگئے اور حج مکمل ہوگیا ‘ اس کے بعد مدینہ منورہ کا سفر کرے اور وہاں آٹھ یا نو دن کے قیام میں کوشش کرے کہ مسجد نبوی میں نمازوں کا اجر وثواب :

امام احمد روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری مسجد میں چالیس نمازیں پڑھیں اور اس کی کوئی نماز قضا نہیں ہوئی اس کے لیے جہنم سے برأت اور عذاب سے نجات لکھ دی جائے گی اور وہ نفاق سے بری ہوجائے گا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ‘ ١٨٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح ہیں اور اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی صحیح ہیں اور اس حدیث کو امام طبرانی نے ” اوسط “ میں روایت کیا ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٢ ص ٢١٥‘ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام احمد اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی روای ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ایک لاکھ نمازوں کا اجر ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ایک ہزار نمازوں کا اجر ہے اور مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کا پانچ سو نمازوں کا اجر ہے۔ اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم کبیر “ میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حافظ المنذری لکھتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ایک شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ لے تو اس کو ایک نماز کا اجر ملتا ہے اور اگر محلہ کی مسجد میں نماز پڑھے تو پچیس نمازوں کا اجر ملتا ہے اور اگر جامع مسجد میں نماز پڑھے تو پانچ سو نمازوں کا اجر ملتا ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنے سے پچاس ہزار نمازوں کا اجر ملتا ہے اور مسجد اقصی میں نماز پڑھنے سے پچاس ہزار نمازوں کا اجر ملتا ہے ‘ اور مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے ایک لاکھ نمازوں کا اجر ملتا ہے ‘ اس حدیث کو ائمہ ستہ میں صرف امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (الترغیب والترہیب ج ٢ ص ٢١٥‘ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ)

علامہ شامی نے لکھا ہے کہ ہمارے اصحاب کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ ثواب میں اضافہ مسجد حرام کے ساتھ نہیں ہے بلکہ پورے حرم مکہ میں کسی جگہ بھی نماز پڑھی جائے تو اتنا ہی ثواب ہوگا۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ١٨٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا طریقہ :

علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں :

جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کا قصد رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آپ پر درود شریف پڑھے ‘ کیونکہ آپ خود بھی درود شریف کو سنتے ہیں اور فرشتے بھی آپ کے پاس درود شریف پہنچاتے ہیں ‘ جب زائر مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھے تو درود شریف پڑھ کر یہ کہے :

اے اللہ ! یہ تیرے نبی کا حرم ہے اور تیری وحی کے نازل ہونے کی جگہ ہے ‘ تو مجھے یہاں حاضر ہونے کی نعمت عطا فرما اور یہاں کی حاضری کو میرے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ بنا دے اور مجھے قیامت کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے پہلے غسل کرے ‘ اچھا لباس زیب تن کرے ‘ خوشبو لگائے ‘ پھر انتہائی تواضع اور انکسار کے ساتھ آپ کے روضہ کی طرف روانہ ہو اور درود شریف پڑھتا ہو اور اپنی مغفرت کی دعائیں مانگتا ہوا چلتا رہے اور یہ پڑھے : ” بسم اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابواب رحمتک “ پھر مسجد شریف میں داخل ہو ‘ اور دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے ‘ آپ کی قبر شریف اور منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ‘ اس جگہ دو رکعت بہ طور شکر پڑھے ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قبر شریف سے چار ہاتھ کے فاصلہ پر ادب سے کھڑا ہو ‘ آپ کے مواجہ شریف (شر اور چہرہ) کی طرف منہ اور کعبہ کی طرف پیٹھ کرے اور یوں سلام عرض کرے : ” السلام علیک یا سیدی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ السلام علیک یا نبی اللہ ‘ السلام علیک یا حبیب اللہ ‘ السلام علیک یا نبی الرحمۃ ‘ السلام علیک یا شفیع الامۃ ‘ السلام علیک یا سید المرسلین ‘ السلام علیک یا خاتم النبیین ‘ السلام علیک یا مزمل ‘ السلام علیک یا مدثر ‘ السلام علیک وعلی اصولک الطیبین ‘ واھل بیتک الطاھرین “ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ آپ نے فریضہ رسالت کو ادا کردیا اور امانت کو پہنچا دیا اور امت کی خیرخواہی کی اور واضح دلائل بیان کیے ‘ اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا ‘ اور دین کو قائم کیا حتی کہ آپ رفیق اعلی سے واصل کی خیر خواہی کی اور واضح دلائل بیان کیے ‘ اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا ‘ اور دین کو قائم کیا حتی کہ آپ رفیق اعلی سے واصل ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر صلوۃ وسلام نازل فرمائے ‘ جس جگہ آپ اپنے جسد اطہر کے ساتھ تشریف فرما ہیں وہ جگہ تمام جگہوں سے افضل جگہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ آپ پر اور اس جگہ پر ہمیشہ اتنی بار صلوۃ وسلام نازل فرمائے جس کا عدد اللہ ہی کے علم میں ہے ‘ یا رسول اللہ ! یا رسول اللہ ! ہم آپ کے حرم مقدس اور آپ کی عظیم بارگاہ میں حاضر ہیں ‘ ہم دور دراز کے علاقوں سے آپ کے حضور میں آپ کی شفاعت کی امید سے آئے ہیں ‘ آپ ہمارے رب کے حضور ہماری شفاعت فرمائیں ‘ گناہوں کے بوجھ سے ہماری کمر ٹوٹ رہی ہے ‘ آپ ہی ایسے شفاعت کرنے والے جن سے شفاعت کبری ‘ مقام محمود اور وسیلہ کا وعدہ کیا گیا ہے اور اللہ نے فرمایا :

(آیت) ” ولو انہم اذ ظلموا انفسھم جآءوک فاستغفروا اللہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما “۔۔ (النساء : ٦٤)

ترجمہ : اور اگر یہ اپنی جانوں پر ظلم کر گزریں ‘ تو آپ کے پاس آئیں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں اور رسول بھی ان کی شفاعت کریں ‘ تو یہ بیشک اللہ تعالیٰ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا پائیں گے۔۔

اور بیشک ہم اپنی جانوں پر ظلم کرکے آپ کے پاس آئے ہیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں ‘ سو آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجئے اور اللہ سے دعا کیجئے کہ آپ کی سنت پر خاتمہ فرمائے اور آپ کے دین میں ہمیں قیامت کے دن اٹھائے اور ہمیں آپ کے حوض کوثر پروارد کرے اور بغیر کسی شرمندگی اور رسوائی کے ہمیں آب کوثر پلائے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفاعت فرمائیے یا رسول اللہ ! شفاعت فرمائیے ‘ یا رسول اللہ، شفاعت فرمائیے (تین بارک ہے) اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما ‘ اور جو ہم سے پہلے فوت ہوگئے ہیں ان کی مغفرت فرما اور مسلمانوں کے خلاف ہمارے دلوں میں کینہ نہ رکھ ‘ اے رب ! تو رؤف رحیم ہے ‘ پھر جن لوگوں نے آپ کو سلام پہنچانے کی درخواست کی تھی ‘ ان کا سلام پیش کرے اور کہے : یا رسول اللہ ! فلاں فلاں کی طرف سے آپ کو سلام ہو ‘ یا رسول اللہ ! وہ آپ سے شفاعت کے طلب گار ہیں ‘ ان کی شفاعت فرمائیے پھر درود شریف پڑھ کر جو چاہے دعا کرے۔

اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے سر کے بالمقابل کھڑا ہو اور کہے : السلام علیک یا خلیفۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ السلام علیک یا صاحب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انیسہ فی الغار ورفیقہ فی الاسفار وامینہ فی الاسرار “ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے ‘ آپ نے بہترین نیابت کی ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ پر قائم رہے ‘ اور آپ کے طریقہ کے مطابق کار خلافت انجام دیئے ‘ آپ نے مرتدین اور مبتدعین سے قتال کیا اور اسلام کے قلعہ کو مضبوط کیا ‘ آپ بہترین امام تھے ‘ آپ تادم حیات دین کی خدمت کرتے رہے ‘ آپ اللہ سبحانہ ‘ سے دعا کریں کہ کہ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ آپ کی محبت رکھے اور قیامت کے دن ہمیں آپ کی جماعت میں اٹھائے اور ہماری زیارت کو قبول فرمائے ‘ السلام علیک ورحمۃ اللہ۔

اس کے بعد حضرت عمر فاروق (رض) کے سر کے بالمقابل کھڑا ہو اور یوں سلام عرض کرے۔ ” السلام علیک یا امیر المومنین ‘ السلام علیک یا مظہر الاسلام ‘ السلام علیک یا مکسر الاصنام “ اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے ‘ آپ نے اسلام اور مسلمانوں کی نصرت فرمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بڑے بڑے شہروں کو فتح کیا۔ یتیموں کی کفالت کی اور صلہ رحمی کی ‘ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وزیرو ! رفیقو ! مشیرو ! اور دین قائم کرنے میں آپ کی معاونت کرنے والو ! اور آپ کے بعد مسلمانوں کی بہتری کیلیے کارہائے نمایاں کرنے والو ! آپ دونوں پر سلام ہو ‘ اللہ آپ کو ہماری طرف سے تمام مسلمانوں کی طرف بہترین جزا عطا فرمائے ‘ ہم آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کریں کہ حضور ہماری شفاعت فرمائیں اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا فرمائیں کہ وہ ہماری اس حج اور زیارت کو قبول فرمائے ‘ ہمیں آپ کے دین پر زندہ رکھے اور اسی پر ہمارا خاتمہ فرمائے اور آپ کی جماعت میں ہمارا حشر فرمائے ‘ پھر اپنے لیے دعا کرے ‘ اپنے والدین کے لیے دعا کرے اور جنہوں نے دعا کی درخواست کی تھی ان کے لیے دعا کرے ‘ پھر تمام مسلمانوں کے لیے دعا کرے ‘ پھر دوبارہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مواجہہ شریف میں جا کر کھڑا ہو ‘ اس طرح سلام پیش کرے اور آپ سے شفاعت کی درخواست کرے اور اسی طرح دعا کرے۔

حضرت ابولبابہ (رض) کے ستون کے پاس نماز پڑھے ‘ اور دیگر متبرک مقامات پر نمازیں پڑھے ‘ بقیع شریف میں جائے شہداء احد کی قبروں پر جائے حضرت سیدنا امیر حمزہ (رض) کی قبر پر فاتحہ پڑھے ‘ حضرت عثمان (رض) حضور کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم (رض) ‘ ازواج مطہرات اور دیگر شہداء کی قبروں پر حاضر ہو اور تمام مزارات پر آیۃ الکرسی پڑھے ‘ گیارہ بار سورة اخلاص پڑھے اور اگر یاد ہو تو سورة یسین پڑھے۔ وہاں دور رکعت نماز پڑھنے کا اجر عمرہ کے برابر ہے۔ (سنن کبری ج ٥ ص ٢٤٨) مسجد قبلتین ‘ مساجد سبع اور تمام مشاہد کی زیارت کرے۔ (مراقی الفلاح ص ٤٥١۔ ٤٤٨‘ مخلصا ‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ مصر ‘ ١٣٥٦ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ (البقرہ : ١٩٦)

اس کا معنی یہ ہے کہ حج اور عمرہ کے تمام شرائط ‘ فرائض اور واجبات کو ادا کرو ‘ کہ یہ کامل ہوں ناقص نہ رہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اگر تم کو (حج یا عمرہ سے) روک دیا جائے تو جو قربانی تم کو آسانی سے حاصل ہو وہ بھیج دو اور جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے اس وقت تک اپنے سروں کو نہ منڈواؤ۔ (البقرہ : ١٩٦)

یعنی اپنے احرام پر برقرار رہو اور حلالی نہ ہو۔

احصار (حج یا عمرہ کے سفر میں پیش آنے والی رکاوٹ) کی تعریف میں مذاہب ائمہ :

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اگر دشمن سفر حج پر نہ جانے دے اور راستہ میں کسی جگہ روک لے تو یہ احصار ہے ‘ اب محرم حرم میں قربانی بھیج دے اور جب قربانی ذبح ہوجائے گی تو وہ حلالی ہوجائے گا ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک راستہ میں دشمن کے روکنے کے علاوہ راستہ میں بیمار ہوجانا اور سفر کے قابل نہ رہنا بھی احصار ہے اور لغت میں احصار اسی کو کہتے ہیں اور احادیث بھی اس کی مؤید ہیں ‘ علماء مذاہب کی تصریحات حسب ذیل ہیں :

اگر دشمن حج یا عمرہ کے لیے جانے نہ دے تو یہ احصار (روک دینا) حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ ‘ حضرت ابن عمر ‘ اور حضرت انس بن مالک کا یہی قول ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے (النکت والعیون ج ١ ص ٢٥٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ ابن عربی مالکی لکھتے ہیں :

احصار دشمن کو منع کرنے اور روکنے کے ساتھ خاص ہے ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن عمر اور حضرت انس بن مالک کا یہی قول ہے اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے ‘ لیکن اکثر علماء لغت کی رائے یہ ہے کہ ” احصر “ کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی شخص کو مرض عارض ہو اور وہ اس کو کسی جگہ جانے سے روک دے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ١٧٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

احصار صرف دشمن کے روکنے سے ہوتا ہے مریض کو محصر نہیں کہتے حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت انس کا یہی قول ہے ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کا یہی مذہب ہے ‘ لیکن ابن قتیبہ نے یہ کہا ہے کہ جب مرض یا دشمن سفر کرنے سے روک دیں تو یہ احصار ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ٢٠٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں :

کسائی ‘ ابوعبیدہ اور اکثر اہل لغت نے یہ کہا ہے کہ مرض اور زاد راہ گم ہوجانے کی وجہ سے جو سفر جاری نہ رہ سکے اس کو احصار کہتے ہیں ‘ اور اگر دشمن سفر نہ کرنے دے تو اس کو حصر کہتے ہیں ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اس میں دشمن اور مرض برابر ہیں۔ ایک دم (ھدی کے قربانی کا جانور) بھیج کر محرم حلالی ہوجائے گا جب کہ اس جانور کو حرم میں ذبح کردیا جائے ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ امام زفر اور ثوری کا یہی مذہب ‘ علامہ جصاص کہتے ہیں کہ جب لغت سے ثابت ہوگیا کہ احصار کا معنی مرض کا روکنا ہے تو اس آیت کا حقیقی معنی یہی ہے کہ جب کوئی مرض تم کو حج یا عمرہ سے روک دے اور دشمن کا روکنا اس میں حکما داخل ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٢٦٨‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

امام ابوحنیفہ کے مؤقف پرائمہ لغت کی تصریحات :

یہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ ائمہ لغت میں سے ابن قتبیہ ‘ ابو عبیدہ اور کسائی نے یہ کہا ہے کہ سفر میں مرض کا لاحق ہونا احصار ہے ‘ اسی سلسلہ میں مشہور امام لغت فراء لکھتے ہیں :

جو شخص سفر میں خوف یا مرض کے لاحق ہونے کی وجہ سے حج یا عمرہ کو پورا نہ کرسکے اس کے لیے عرب احصار کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ (معانی القرآن ج ١ ص ١١٧‘ مطبوعہ بیروت)

علامہ حماد جوہری لکھتے ہیں :

ابن السکیت نے کہا : جب کسی شخص کو مرض سفر سے روک دے تو کہتے ہیں ” حصرہ المرض “ اخفش نے کہا : جب کسی شخص کو مرض روک دے تو کہتے ہیں : ” احصرنی مرضی “۔ (الصحاح ج ٢ ص ٦٣٢‘ مطبوعہ دارالعلم بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

امام ابوحنیفہ کے مؤقف پر احادیث سے استدلال :

احادیث میں تصریح ہے کہ جب کوئی شخص مرض لاحق ہونے کی وجہ سے حج یا عمرہ کا سفر جاری نہ رکھ سکے تو اگلے سال اس کی قضاء کرے۔ امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت حجاج بن عمرو انصاری کہتے ہیں کہ جس شخص کی ہڈی ٹوٹ گئی یا ٹانگ ٹوٹ گئی تو وہ حلال ہوگیا اور اس پر اگلے سال حج ہے ایک اور سند سے روایت ہے : یا وہ بیمار ہوگیا۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٥٧‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کو امام ترمذی۔ ١ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ١٥٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابن ماجہ۔ ٢ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ٢٢٢ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)

اور امام ابن ابی شیبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ ٣ (امام ابوبکر احمد بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ ‘ المصنف ج ١۔ ٤ ص ١٣٩۔ ١٣٨‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)

امام بخاری لکھتے ہیں :

عطاء نے کہا : ہر وہ چیز جو حج کرنے سے روک دے وہ احصار ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٤٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) عنہنے فرمایا : جس شخص کوئی عذر حج کرنے سے روک دے یا اس کے سوا اور کوئی چیز مانع ہو تو وہ حلال ہوجائے اور رجوع نہ کرے اور جس وقت وہ محصر ہو تو اگر اس کے پاس قربانی ہو اور وہ اس کو حرم میں بھیجنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہی ذبح کردے ‘ اور اگر وہ اس کو حرم میں بھیجنے کی استطاعت رکھتا ہو تو جب تک وہ قربانی حرم میں ذبح نہیں ہوگی وہ حلال نہیں ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٤٤۔ ٢٤٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث میں عذر کے لفظ سے استدلال ہے جو عام ہے اور دشمن کے منع کرنے اور بیمار پڑنے دونوں کو شامل ہے۔

امام ابوحنیفہ کے مؤقف پر آثار صحابہ سے استدلال :

امام ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) فرماتے ہیں : جس شخص نے حج کا احرام باندھا ‘ پھر وہ بیمار ہوگیا یا کوئی اور رکاوٹ پیش آگئی تو وہ وہاں ٹھہرا رہے حتی کہ ایام حج گزر جائیں ‘ پھر عمرہ عمرہ کرکے لوٹ آئے اور اگلے سال حج کرے۔ (المصنف ج ١۔ ٤ ص ١٤١‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)

عبدالرحمان بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرہ کرنے گئے جب ہم ذات السقوف میں پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کو (سانپ یا) بچھو نے ڈس لیا ‘ ہم راستہ میں بیٹھ گئے تاکہ اس کا شرعی حکم معلوم کریں ‘ ناگاہ ایک قافلہ میں حضرت ابن مسعود آپہنچے ہم نے بتایا کہ ہمارا ساتھی ڈسا گیا ہے ‘ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اس کی طرف سے ایک قربانی حرم میں بھیجو اور ایک دن مقرر کرلو ‘ جب وہ ھدی حرم میں ذبح کردی جائے تو یہ حلال ہوجائے گا۔ (المصنف ج ١۔ ٤ ص ١٤١‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)

امام ابوحنیفہ کے مؤقف پر اقوال تابعین سے استدلال :

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

مجاہد بیان کرتے ہیں : جس شخص کو حج یا عمرہ کے سفر میں کوئی رکاوٹ درپیش ہو خواہ مرض ہو یا دشمن وہ احصار ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ١٢٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

عطاء نے کہا : ہر وہ چیز جو سفر سے روک دے وہ احصار ہے۔ (جامع البیان ج ٢ ص ١٢٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

قتادہ نے کہا : جب کوئی شخص مرض یا دشمن کی وجہ سے سفر جاری نہ رکھ سکے تو وہ حرم میں ایک قربانی بھیج دے اور جب وہ قربانی ذبح ہوجائے گی تو وہ حلال ہوجائے گا، (جامع البیان ج ٢ ص ١٢٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

ابراہیم نخعی نے کہا : مرض ہو یا ہڈی ٹوٹ جائے یا دشمن نہ جانے دے ‘ یہ سب احصار ہیں۔ (جامع البیان ج ٢ ص ١٢٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابوحنیفہ حنیفہ کے مؤقف کی ہمہ گیری اور معقولیت :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد آثار صحابہ اور اقوال تابعین ‘ ائمہ لغت کی تصریحات ان سب سے امام ابوحنیفہ کا مسلک ثابت ہے کہ احصار دشمن کے روکنے اور مرض کے خارج ہونے دونوں کو شامل ہے اور اس میں یسر اور سہولت ہے ‘ اسلام ہر مسئلہ کا حکم پیش کرتا ہے ائمہ ثلاثہ کے مؤقف پر یہ اشکال ہوگا کہ جو شخص حج یا عمرہ کے سفر میں کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے جس کی وجہ سے وہ اپنا سفر جاری نہ رکھ سکے تو اس کے لیے اسلام میں کیا حل ہے ؟ ہرچند کہ اب ہوئی جہاز کے ذریعہ بیشتر حجاج کرام حج اور عمرہ کا سفر کرتے ہیں لیکن پھر بھی بہت سے علاقوں سے لوگ سڑک کے ذریعہ سفر کرتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٦ ہجری میں اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ منورہ سے سے مکہ مکرمہ عمرہ کے لیے روانہ ہوئے تھے جب آپ مقام حدیبیہ پر پہنچے تو کفار نے آپ کو مکہ جانے سے روک دیا۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر کے دو بیٹے سالم اور عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں حجاج نے حضرت ابن الزبیر پر مکہ میں حملہ کیا ہوا تھا ‘ ان دنوں میں حضرت ابن عمر نے حج کا ارادہ کیا ‘ ان کے بیٹوں نے منع کیا کہ اس سال آپ حج نہ کریں ‘ ہمیں خدشہ ہے کہ آپ کو بیت اللہ جانے سے روک دیا جائے گا ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کفار حائل ہوگئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قربانی کی اونٹنی کو نحر کیا اور اپنا سرمونڈ لیا اور میں تم کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ لازم کرلیا ہے ‘ میں انشاء اللہ روانہ ہوں گا ‘ اگر کوئی رکاوٹ نہ ہوئی تو میں عمرہ کروں گا اور اگر کوئی رکاوٹ پیش آئی تو میں طرح کروں گا جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا پھر انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا ‘ پھر کچھ دور چل کر کہا : احصار میں عمرہ اور حج دونوں برابر ہیں ‘ میں عمرہ کے ساتھ حج کی نیت کرتا ہوں ‘ پھر یوم نحر کو قربانی کر کے وہ حلال ہوگئے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٤٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

ہر چند کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو احصار پیش آیا تھا ‘ وہ دشمن کی وجہ سے تھا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض کی وجہ سے رکاوٹ کو بھی یہ حل بیان فرمایا ہے اس لیے دلائل شرعیہ کی قوت ‘ یسر ‘ ہمہ گیری اور معقولیت کے اعتبار سے ائمہ ثلاثہ کے مؤقف کی بہ نسبت امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک راجح ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اگر تم کو (حج یا عمرہ سے) روک دیا جائے تو جو قربانی تم کو آسانی سے حاصل ہو وہ بھیج دو ‘ اور جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے اس وقت تک اپنے سروں کو نہ منڈواؤ۔ (البقرہ : ١٩٦)

محصر کے لیے قربانی کی جگہ کے تعین میں امام ابوحنیفہ کا مسلک :

امام ابوحنیفہ کے جو شخص راستہ میں مرض یا دشمن کی وجہ سے رک جائے وہ کسی اور شخص کے ہاتھ قربانی (اونٹ ‘ گائے یا بکری) یا اس کی قیمت بھی دے اور ایک دن مقرر کرلے کہ فلاں دن اس قربانی کو حرم میں ذبح کیا جائے گا اور اس دن وہ اپنا احرام کھول دے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس وقت تک سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے اور قربانی کی جگہ حرم ہے۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک جس جگہ کسی شخص کو رک جانا پڑے وہی قربانی کر کے احرام کھول دے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حدیبیہ میں رک جانا پڑا تھا اور آپ نے حدیبیہ میں ہی قربانی کی ‘ اور امام بخاری نے لکھا ہے کہ حدیبیہ حرم سے خارج ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٤٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ بدر الدین عینی اس دلیل کے جواب میں فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کا بعض حصہ حرم سے خارج ہے اور بعض حصہ حرم میں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے جس حصہ میں رکے تھے وہ حرم میں تھا ‘ اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابن ابی شیبہ نے ابو عمیس سے روایت کیا ہے کہ عطاء نے کہا ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیام حرم میں تھا۔ (عمدۃ القاری ج ١٠ ص ‘ ١٤٩ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ ابوحیان اندلسی لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس جگہ روک دیا گیا تھا آپ نے وہیں قربانی کی تھی وہ جگہ حدیبیہ کی ایک طرف تھی جس کا نام الربی ہے اور یہ اسفل مکہ میں ہے اور وہ حرم ہے ‘ زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اونٹ کو حرم میں نحر کیا تھا ‘ واقدی نے کہا : حدیبیہ مکہ سے نومیل کے فاصلہ پر طرف حرم میں ہے۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ‘ ٢٥٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی کہ قربانی اپنے محل میں پہنچ جائے۔ (البقرہ : ١٩٦)

محصر کے لیے قربانی کی جگہ کے تعین میں ائمہ ثلاثہ کا مذہب :

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

محل کے متعلق دو قول ہیں ‘ ایک یہ کہ اس سے مراد حرم ہے ‘ حضرت ابن مسعود ‘ حسن بصری ‘ عطاء ‘ طاؤس ‘ مجاہد ‘ ابن سیرین ‘ ثوری اور امام ابوحنیفہ کا یہی مذہب ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ جگہ ہے جد جگہ محرم کو رکاوٹ پیش آئی وہ اس جگہ قربانی کا جانور ذبح کرکے احرام کھول دے ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کا یہی مذہب ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢٠٥ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ ماوردی شافعی۔ ١ (علامہ ابوالحسن علی بن حبیب شافعی مادردی بصری متوفی ٤٥٠ ھ ‘ النکت والعیون ج ١ ص ٢٥٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

اور علامہ ابن العربی۔ ٢ (علامہ ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ ‘ (احکام القرآن ج ١ ص ١٧٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) مالکی نے بھی یہی لکھا ہے۔

قوت دلائل کے اعتبار سے ابوحنیفہ کا مسلک راجح ہے اور یسر اور سہولت کے اعتبار سے ائمہ ثلاثہ کا مسلک راجح ہے کیونکہ بیمار یا دشمن میں گھرے ہوئے آدمی کے لیے اس وقت تک انتظار کرنا جب تک قربانی حرم میں ذبح ہو بہت مشکل اور دشوار ہوگا اس کے برعکس موضع احصار میں قربانی کر کے احرام کھول دینے میں اس کے لیے بہت آسانی ہے جب کہ اس طریقہ کو محصر کی آسانی ہی کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو تو وہ اس کے بدلہ میں روزے رکھے یا کچھ صدقہ دے یا قربانی کرے۔ (البقرہ : ١٩٦)

ضرورت کی وجہ سے منی میں پہنچنے سے پہلے سر منڈانے کی رخصت :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت کعب بن عجرہ (رض) کے پاس مسجد کوفہ میں بیٹھا ہوا تھا ‘ میں نے ان سے روزہ کے فدیہ کے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا : مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جایا گیا درآں حالیکہ میرے منہ پر جوئیں ٹپک رہی تھیں آپ نے فرمایا : میں تم پر کیسی مصیبت دیکھ رہا ہوں ‘ کیا تمہارے پاس (قربانی کیلیے) ایک بکری نہیں ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ‘ آپ نے فرمایا : تین دن کے روزے رکھو ‘ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ‘ ہر مسکین کو نصف صاع (دو کلو گرام) طعام (گندم) دو ‘ اور اپنا سرمنڈا دو یہ آیت خاص میرے متعلق نازل ہوئی ہے لیکن تمہارے لیے بھی عام ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٦٤٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

ملا جیون حنفی لکھتے ہیں :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص مریض ہو اور اس کو فورا سرمنڈانے کی حاجت ہو ‘ یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو مثلا کوئی زخم ہو یا جوئیں ہوں ‘ تو پھر اس کے لیے منی پہنچنے اور قربانی کرنے تک سر منڈانے کو موقوف کرنا ضروری نہیں ہے ‘ البتہ سر منڈانے کے بعد اس پر فدیہ دینا واجب ہوگا ‘ قربانی کرے ‘ تین دین کے روزے رکھے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے قربانی کو حرم میں ذبح کرنا ضروری ہے اور روزہ رکھنا یا مسکینوں کو کھانا کھلانا حرم میں ضروری نہیں ہے۔ (تفسیرات احمدیہ ص ٨٨‘ مطبوعہ مطبع کریمی ‘ بمبئی)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جب تم حالت امن میں ہو تو جو شخص حج کے ساتھ عمرہ ملائے تو وہ ایک قربانی کرے جس کو وہ آسانی کے ساتھ کرسکے ‘ اور جو قربانی نہ کرسکے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے جب تم لوٹ آؤ ‘ یہ کامل دس (روزے) ہیں یہ (حج تمتع کا) حکم اس شخص کے لیے جس کے اہل و عیال مسجد حرام (مکہ مکرمہ) کے رہنے والے نہ ہوں۔ (البقرہ : ١٩٦)

حج تمتع کا بیان :

اس آیت کی ایک تفسیر تو یہ ہے کہ اس آیت میں زمانہ امن میں حج تمتع کا بیان فرمایا ہے ‘ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو ! اگر تم سفر حج میں روک دیئے جاؤ تو تم کو جو قربانی سہولت سے حاصل ہو وہ قربانی کرکے احرام کھول دو ‘ اور جب تم سے دشمن کا خوف جاتا رہے یا مرض دور ہوجائے اور تم حج کے ساتھ عمرہ ملاؤ تو ایک قربانی کرو جس کو آسانی کے ساتھ کرسکو۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن (اس کے موافق) نازل ہوچکا تھا ‘ پھر ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس قول میں حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) کی طرف تعریض ہے جو تمتع کرنے سے تنزیہا منع کرتے تھے اکابر علماء صحابہ نے ان کی مخالفت کی اور اس کا انکار کیا اور حق ان ہی کے ساتھ ہے۔

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے حج تمتع کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے فرمایا : مہاجرین اور انصار اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج اور ہم نے حجۃ الوداع میں احرام باندھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جن لوگوں نے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ہار ڈال دیا ہے۔ ١ (کیونکہ قربانی کے گلے میں ہار ڈالنے سے حج کی نیت ہوگئی اور جنہوں نے ہار نہیں ڈالا تھا ان کی نیت نہیں ہوئی تھی ‘ ان کو آپ نے عمرہ کرنے کی نیت کا حکم دیا) ان کے سوا باقی لوگ حج کے احرام میں عمرہ کی نیت کرلیں ‘ سو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا ‘ صفا اور مروہ میں سعی کی ‘ اور (احرام کھول کر) اپنی اپنی ازواج سے مقاربت کی اور سلے ہوئے کپڑے پہن لیے ‘ اور جن لوگوں نے اپنی قربانی کے جانوروں میں قلادہ (ہار) ڈال دیا تھا وہ (عمرہ کرنے کے بعد بھی) بہ دستور اپنے احرام پر برقرار رہے ‘ کیونکہ جب تک ان کی قربانی اپنی جگہ پر ذبح نہ ہوجاتی وہ احرام نہیں کھول سکتے تھے ‘ پھر آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ لیں ‘ سو جب ہم عرفات اور مزدلفہ کے وقوف سے فارغ ہوگئے تو ہم نے بیت اللہ میں آ کر طواف (زیارت) کیا ‘ اور صفا اور مروہ میں سعی کی تو ہمارا حج مکمل ہوگیا اور ہم پر ایک قربانی لازم تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” فما استیسرمن الھدی “۔ (البقرہ : ١٩٦) اور ایک بکری کی قربانی کافی ہے “ سو ان لوگوں نے ایک سال میں حج اور عمرہ کی دو عبادتیں جمع کرلیں ‘ اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے اور یہ اس کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے اور اس تمتع کو مکہ والوں کے سوا باقی تمام مسلمانوں کے لیے مشروع فرمایا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ذلک لمن لم یکن اھلہ حاضری المسجدالحرام “۔ (البقرہ : ١٩٦) اور حج کے جن مہینوں کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے وہ شوال ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں ‘ سو جو شخص ان مہینوں میں تمتع کرے اس پر قربانی لازم ہے یا روزے (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٤۔ ٢١٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو حج کیا وہ حج قران تھا اور یہی سب سے افضل حج ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 196

سیلفی و تصویر کشی کے رجحان نے طواف و زیارت حرمین متاثر کر دیا

*سیلفی و تصویر کشی کے بڑھتے رجحان نے طواف و زیارت حرمین جیسی عظیم نعمت کی روح کو متاثر کر دیا*

غلام مصطفی رضوی

(نوری مشن مالیگاؤں)

مسلمان! حرمین مقدس کا احترام کرتے ہیں۔ حرمین سے محبت رکھتے ہیں۔ وہاں کی زیارت سعادت جانتے ہیں۔ اسی تمنا میں جیتے ہیں۔ بلاشبہہ کعبے کا دیدار عبادت۔ روضۂ رسول ﷺ کی حاضری سعادت و خوش نصیبی کی بات ہے۔ لوگ اسی آرزو میں عمریں گزار دیتے ہیں۔ پھر جب یہ انعام ملتا ہے تو مسرتوں کا عجب عالَم ہوتا ہے۔زہے نصیب یہ سعادت کم عمری میں مل جائے۔ عقیدتوں کے قافلے سوئے حرم رواں دواں ہوتے ہیں۔ کتنے ارمان سے سفرِ حرمین کی تیاری کی جاتی ہے۔ جذبات کا عالم بھی ایسا کہ محسوس قلب سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ایک طلاطم بپا ہوتا ہے۔ دل و جاں وجد کناں جھک گئے بہر تعظیم۔

ایسے مبارک سفر، ایسے تقدس مآب سفر جس کی آرزو میں لمحہ لمحہ انتظار میں گزرتاہے۔ خانۂ خدا کی حاضری؛ درِ محبوب رب العالمین ﷺ کی حضوری۔ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ لیکن بعض ایسے عوامل ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ زیارت حرمین سعادت مندی لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ اِس مبارک سفر کے آداب ملحوظ رہیں؛ ورنہ سعادتوں کے لمحے کہیں گناہوں کے ابتلا سے اعمال کو ضائع نہ کردیں۔ اِس ضمن میں راقم ایک اہم پہلو اپنے حالیہ سفرِ حجاز کے مشاہدے سے ذکر کرتا ہے؛ جو گزشتہ دنوں [6فروری تا 21فروری2018ء] درپیش ہوا۔

آج کل سیلفی و تصویر کشی و کیمرے کے بے جا استعمال نے انسانی اقدار؛ اخلاقی اطوار اور اعمال کی چاندنی کو گہنا دیا ہے۔ اِس کے بڑھتے رجحان نے کئی نازک لمحات میں خدمت انسانی کو فروگذاشت کردیا۔ مثلاً کوئی حادثہ ہوا تو فوقیت انسانی جان بچانے کو ہونی چاہیے؛ لیکن تصویر کشی کے رجحان نے فرض شناسی کو نظر انداز کر کے رکھ دیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہے سفرِ حرمین میں اِس رجحان کی تباہ کاریوں کا۔ جس کے زیرِ اثر اعمال کا توشہ گناہوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ مکۃ المکرمہ میں ایک نیکی کے بدل میں لاکھ نیکی کی بشارت ہے تو ایک گناہ بھی نامۂ اعمال میں کثیر گناہ کے اندراج کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس لیے ایسے کاموں سے بچنے کے جتن کیے جانے چاہئیں کہ گناہوں کا دفتر پُر نہ ہونے پائے۔

راقم نے دیکھا کہ بندگانِ خدا محوِ طواف ہوتے ہیں۔ سیلفی کے شائق دورانِ طواف سیلفی لیتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ طواف محویت کے ساتھ کیا جائے۔ رب کی رحمتیں ہماری سمت متوجہ ہیں۔ مطاف کی مقدس زمیں ہمارے اعمال کی گواہی دے رہی ہے۔ میزابِ رحمت، حطیم، حجر اسود، مقام ابراہیم سبھی ہمارے طواف کے گواہ بن رہے ہیں، یہ لمحات بڑے اَنمول ہیں۔ یہ بڑی قبولیت کی گھڑی ہے، ایسے قیمتی وقت میں عبادتوں سے نگاہیں موند کر سیلفی نکالنا؛ محض چند احباب کو دکھانے کے لیے ایسے گناہوں کا حرم محترم میں ارتکاب بڑی محرومی ہے۔ یہ رجحان گناہ در گناہ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ طبقۂ نسواں بھی محوِ طواف ہوتا ہے، سیلفی لینے والے یہ بھول جاتے ہیں؛ وہ تقدس فراموش کر کے نامعلوم کیسی کیسی تصویر نکال لیتے ہیں۔ایک گناہ کو کئی گناہ سے اور یوں کثیر گناہ سے بدل لیتے ہیں۔ راقم نے دیکھا کہ اس مرض میں ایک دو اورتین نہیں کثیر نوجوان حتیٰ کہ بعض بوڑھے بھی مبتلا ہیں۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پورا کنبہ کعبہ شریف کی جانب پیٹھ کیے کھڑے ہو کر تصویر بنوا رہا ہے۔ کبھی دورانِ سعی سیلفی لی جا رہی ہے۔ کبھی مروہ کی مقدس وادی میں سیلفی، کبھی صفا کے جلو میں سیلفی۔ جن نشانیوں کے سائے میں دعاؤں کی سوغات پیش کرنی تھی؛اعمالِ سیاہ کے دھبے دھونے تھے؛ تا کہ یہ دعائیں آخرت کا سرمایہ بنتیں وہاں ایسے اعمال جو شریعت نے ممنوع قرار دیے؛ کی انجام دہی کیا توشۂ آخرت بنے گی؟ یہ سوال بہت اہم ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

عبادت میں حضوریِ قلب درکار ہے۔ تصویر کشی کی فکر نے ریا و دکھاوے کوبڑھاوہ دیا؛ اخلاص کو رُخصت کردیا؛ یکسوئی میسر نہیں؛ موبائلوں کا بے محابا استعمال۔ بے جا استعمال نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ عبادت ہے؛ روحِ عبادت رُخصت ہوگئی۔ رسم باقی ہے خشیت رُخصت ہوگئی۔ خوفِ خدا معاذاللہ ایسا نکلا کہ حرم میں بھی دُنیا داری! اللہ اکبر! کاش میری قوم اس کا تصفیہ کرتی اور تصویر کشی کے مرض سے بچتی۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اِس میں کم علم و دنیا دار افراد تو الگ رہے؛ دین دار حتیٰ کہ بہت سے علماو مصلحین بھی مبتلا ہیں جس سے گفتار میں تاثیر نہیں رہی اور دل دنیا دار ہو کر رہ گئے۔ ایسوں کی قیادت فتنۂ ملت بیضا بن گئی ہے۔

روضۂ رسول ﷺ پر حاضری حیات کا غازہ ہے۔ زندگی کا حاصل ہے۔ سعادتوں کی اِس مسافرت میں جب ہم نے دیکھا کہ مواجہ شریف جہاں آواز بلند کرنا اعمال کے ضائع ہونے کا سبب ہے۔ جس کے احترام میں نص قطعی وارد۔ جس بارگاہ میں جبریل بھی مؤدب آتے۔ جہاں جنبش لب کشائی کی جرأت کسی کو نہ ہوئی۔ جہاں اسلاف نے سانسوں کو بھی تھامے رکھا۔ جہاں دلوں کی دھڑکنوں کو بھی ادب کا پیرہن دیا۔ جہاں خیالات بھی طہارت مآب رکھے جاتے؛ وہاں دھڑا دھڑ تصویریں کھینچی جا رہی ہیں؛ سلیفیاں لی جا رہی ہیں؛ کیمروں کی کھچاک سے مقدس بارگاہ کے سکوت کو توڑا اور ادب کا رُخ موڑا جا رہا ہے! اللہ اکبر! ہم کہاں آگئے۔ آقا ﷺ نے بلایا؛ اِس احسان کو لمحے میں بھلا دیا؛ کیسا کرم کیا کہ ہم تو طیبہ کے لائق نہ تھے؛ حاضری کا پروانہ دیا اور محبوب ﷺ کے در کا آداب بھی بجا نہ لائے؛ بلکہ غافل ہو کر سیلفیوں میں پاکیزہ لمحات آلودہ کر بیٹھے۔ کاش ہم اپنی اصلاح کرتے اور اِس خطرنات رجحان سے بچ کر قوم کو ادب کا شعور دیتے تو مبارک سفر توشۂ نجات بن جاتا۔ محبوب پاک ﷺ کی شفاعت کا مژدہ سنتے اور ادب کے طفیل ہر منزل پر با مُراد ہوتے۔ یہ مصائب کی بجلیاں خرمن پر نہ گرتیں؛ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کر لیں؛ خواص بھی دامنِ تقویٰ کو دھبوں سے بچائیں۔ احترام کی فضا آراستہ کریں۔ رب العالمین کی رحمتوں اور محبوب پاک ﷺ کی نوازشوں پر تشکر کے موتی لٹائیں۔ تصویر کشی سے حرمین کے تقدس کو بچائیں۔ بے شک ادب حیات ہے۔ ادب عبادت کی روح ہے۔ ادب ایمان کا زیور ہے۔ جو ادب و احترام بجا لایا اس کا سفر بھی سعادتوں کی صبح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ! محبوب پاک ﷺ کے درِ پاک کی حاضری احترام کے سائے میں نصیب کرے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا

ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

٭٭٭

جنتی ہونے کے لیئے عمل

حدیث نمبر :12

روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا اﷲ کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو ۱؎ وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں۲؎ پھرجب وہ چل دیئے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۳؎

شرح

۱؎ یہ جملہ عبادت کی تفسیر ہے،چونکہ اس وقت تک جہاد وغیرہ احکام آئے نہ تھے یا اس پر جہاد فرض نہ تھا اس لیے جہاد کا ذکر نہ فرمایا۔

۲؎ یعنی ان فرائض میں اپنی طرف سے زیادتی کمی نہ کروں گا کہ فجر چار یا چھ پڑھوں اور ظہردویاتین یا روزے چالیس رکھ لوں،یا اپنی قوم تک بعینہ یہ ہی احکام پہنچا دوں گا،تبلیغ میں زیادتی کمی نہ کروں گا یا اب سوال میں زیادتی کمی نہ کروں گا،لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ فطرہ،قربانی،نماز عیدین،روزہ،نذر،وتر ضروری نہ ہوں۔احکام اسو قت تک آئے ہی نہ تھے بعد میں خود حضور نے احکام میں زیادتی فرمائی لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔

۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنتی آدمی کو دیکھنا بھی ثواب،بزرگوں کے دیدار سے گناہ بخشے جاتے ہیں ؎

اُٹھ جاگ فریدا ستیادل مسجددے جا مت کوئی بخشیا مل پوے تو بھی بخشیا جا

دوسرے یہ کہ حضورکو لوگوں کے انجام نیک بختی،بدبختی کا علم ہے،جانتے ہیں کہ جنتی کون ہے دوزخی کون،حضور کو خبر تھی کہ یہ بندۂ مؤمن تقویٰ پر قائم رہے گا،ایمان پر مرے گا،جنت میں جائے گا۔

خطبۂ حج1439ہجری

خطبۂ حج1439ہجری

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان

20اگست 2018ء کو میدانِ عرفات میں حج کا رُکن ِ اعظم ”وُقوفِ عرفہ‘‘ ادا کیا گیا اور امام الحج ‘جو مسجدنبوی کے امام اور مدینہ منورہ کے قاضی بھی بتائے جاتے ہیں ‘ نے مسجد نمرہ میں خطبۂ حج دیا۔یہ خطبۂ حج ایک ایسے وقت میں جاری ہوا جب امتِ مسلمہ ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور قابلِ ذکر مسلم ممالک میں سے کوئی بھی ایسا نہیں‘ جو داخلی یا خارجی اعتبار سے کسی نہ کسی مشکل اور ابتلا سے دوچار نہ ہو۔ترکی کی معیشت مستحکم ہورہی تھی ‘وہ دنیا کی سولہویں بڑی معیشت قرار دیا جارہا تھا ‘پاکستان اور ترکی دو ایسے مسلم ممالک ہیں جو جدید تربیت یافتہ اور منظّم فوج اور دفاعی نظام رکھتے ہیں ‘ اچانک امریکی صدر ٹرمپ نے ترکی کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ‘ اس کے خلاف اقتصادی اقدامات شروع کردیے ‘اس کی امریکہ میں درآمدات پر بھاری ڈیوٹی لگادی اور ترکی کی کرنسی لیرا کی ڈالر سے مبادلاتی صلاحیت تیزی سے گرنے لگی ۔ترکی کے صدر طیب اردوان نے جوابی اقدام کے طور پرامریکہ کی الیکٹرانک مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی لگانے کا اعلان کیا ہے ‘لیکن دونوں ملکوں کی مزاحمتی طاقت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس تنازعے کا سبب یہ ہے کہ باغیوں کے ساتھ روابط اوربغاوت کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزام میں امریکی پاسٹر ‘مسیحی چرچ میں ریلیجیس منسٹر ‘اینڈریو برنسن کو ترکی کی عدالت نے جیل میں ڈالا ‘اس کے بعد امریکہ کی پوری انتقامی کارروائی اسی کا شاخسانہ ہے ۔ طیب اردوان ہماری طرح فرمانبرداراورمصلحت پسند ہوتے توامریکی پاسٹرکوباعزت رہا کر کے وطن واپس بھیج دیتے اور چَین کی بانسری بجاتے‘جیساکہ ہم نے ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جُوزِف ایمانیوہال کے سلسلے میں کیا تھا‘لیکن قومی حمیت ان کے پائوں کی بیڑیاں بن گئیں ۔ترکی لیرا کو سہارا دینے کے لیے قطر نے پندرہ ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ‘اس پر 24اگست کو ٹرمپ کے سیکورٹی ایڈوائزر جون بولٹن نے کہا: ”جب تک پاسٹر کو چھوڑا نہیں جاتا‘ ہم مزید اقدامات کریں گے اور قطر کے پندرہ ارب ڈالر بھی ترکی لیرا کو سہارا نہیں دے سکیں گے ‘‘۔ اس کے علاوہ یمن ‘شام ‘قطر‘ایران اور پورا مشرقِ وسطیٰ کسی نہ کسی طور سے متاثر ہے ۔سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے پاکستان کی مسلّح افواج پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے ‘لیکن پاکستان بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے ‘پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالاجاچکا ہے اورایف اے ٹی ایف کا وفد اگلے اقدامات سے پہلے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کرچکا ہے ۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کی وزیر اعظم عمران خان سے گفتگو کے حوالے سے ہماری بریفنگ اور وائٹ ہائوس کی بریفنگ میں فرق سامنے آچکا ہے اور اب ممکنہ طور پروہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں ‘اُن کا لب ولہجہ اور مطالبات وخواہشات یقینا ہماری توقعات کے برعکس ہوں گے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ عرفات میں جاری کیا جانے والا خطبۂ حج‘ سید المرسلین ﷺ کے دس ہجری کے خطبۂ حجۃ الوداع کا تسلسل‘ توارُث اور تتابُع ہے ۔آپ ﷺ نے آج سے 1429سال قبل اپنے اُس خطبے میں عالمِ انسانیت کے تمام طبقات ‘جن میں خواتین اور زیریں طبقات بھی شامل ہیں ‘کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی تھی ‘قبیلے اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفاخر کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا تھا ‘تقوے کو انسانی شرف کا معیار قرار دیا تھا اور سینتالیس دفعات پر مشتمل ایک جامع ‘مبسوط اور مفصل منشور جاری فرمایا تھا۔ 1439ہجری کے خطبۂ حج میں اسلامی عقائد ‘عبادات ‘اخلاقیات اور مناسکِ حج کا یقینا ذکر تھا اور ہم اس کی تحسین وتائید کرتے ہیں ‘ لیکن اس وقت عالمی سطح پر امت کو جو مسائل در پیش ہیں ‘اُن کے بارے میں مسجد نمرہ کا منبر لاتعلق اور خاموش نظر آیا ۔ہم کتابی معیار پر حج کے جو فضائل بیان کرتے ہیں ‘وہ ایک تقریری مقابلہ بن کر رہ جاتے ہیں ‘حج کے عملی مناظر اور مظاہر میں ہمیں اُن کی جھلک نظر نہیں آتی ۔کاش کہ خطبۂ حج میں امت کے ان مسائل کی نشاندہی کی جاتی ‘ ان کا کوئی حل پیش کیا جاتا ‘بے حس مسلم حکمرانوں کو ‘ جواُمت کی فلاح سے زیادہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے سرگرداں رہتے ہیں ‘جھنجھوڑا جاتا ‘اُن کی دینی اور ملّی حمیت کو للکارا جاتا ‘عملاً اُمت کو کچھ ریلیف ملتا یا نہ ملتا‘ کم از کم انہیں یہ تسکین ہوتی کہ مسجد نمرہ کا منبر اُن کے کرب ‘ درد اور دکھ کو سمجھ رہا ہے اور اُسے زبان دے رہا ہے ۔ سعودی عرب میں روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں مقیم بہت سے غیر ملکی بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو مسائل درپیش ہیں ‘ لیکن اُن کے دکھوں کو زبان دینے اور اُن کے درد کا ازالہ کرنے کی کوئی تدبیر نہ ہماری حکومت اختیار کر رہی ہے ‘نہ ہمارے سفارت خانے اس سلسلے میں متحرک ہیں اور حقوقِ انسانی کے فعال کارکنوں کے خلاف تو حال ہی میں کریک ڈائون کیا گیا ہے ‘جن کے حق میں آواز بلند کرنے پر سعودی عرب اور کینیڈا کے تعلقات میں دراڑیں پڑ چکی ہیں ‘سعودی ائیر لائن کی فضائی پروازیں معطل ہوچکی ہیں اور اس سال کینیڈا کے عازمینِ حج کو اچانک پروازیں موقوف ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ہوسکتا ہے کہ بعض حج سے محروم رہ گئے ہوں ‘حالانکہ حکومتِ سعودی عرب کو تعلقات کی خرابی کے باوجود حجاج کرام کے لیے خصوصی پروازوں کا بندوبست کرنا چاہیے تھا ‘کیونکہ اکثر حجاج کے پاس سعودی ائیر لائن کے ریزرو ٹکٹ موجود تھے ۔امام الحج نے توحید ‘تقوے‘توکل اور دینی عبادات کی تعمیل کی تاکید کے ساتھ تلقین کی ‘ ہم اس کی تائید کرتے ہیں ۔اسی طرح انہوں نے قرابت کے رشتوں کو جوڑنے ‘یعنی صلۂ رحمی کے بارے میں قرآن وسنت کے احکام بیان کیے جودرست اور بروقت ہیں ۔انہوں نے خطبۂ حجۃ الوداع کے حوالے سے خواتین اور بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کے احکام بیان کیے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ ماں باپ کی طرف سے ہبہ کی صورت میں اولاد کے درمیان مساوات اور اسلام کے قانونِ وراثت کو اجباری طور پر نافذ کرنے کے بارے میں مسلم حکمرانوں کو قانون سازی کا مشورہ دیتے‘ یہ قوانین قرآن وسنت اور فقہ کے ذخیرے میں تو موجود ہیں ‘لیکن عملاً ان کا نفاذ بہت کم ہے ۔ اگران دو شعبوں میں قرآن وسنت اور فقہِ اسلام کے احکام کو نافذ کردیا جائے تو خواتین کے اسّی فیصد مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے ‘اسی طرح نکاح کے موقع پر بالغہ عورت کی رضامندی کو لازمی قرار دیا جائے تو اُن کے لیے کافی آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔ امام الحج نے تکبر واستکبار ‘سرقہ‘ غیبت‘ دوسروں کے پوشیدہ احوال کے تجسّس اور کھوج لگانے کی ممانعت اورتمسخر واستہزاء ایسے اخلاقی مفاسد سے بچنے کی تلقین کی ‘ ہم وقتاً فوقتاً اپنے کالم میں اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور خاص طور پر سیاسی قائدین اور میڈیا کے لوگوں کو اس کی تلقین کرتے ہیں ‘لیکن شاید امام الحج کی زبان میں تاثیر زیادہ ہو اور لوگ اس کی اتباع کرلیں ‘تو یہ ایک پرامن اور تعمیری معاشرے کی تشکیل کے بنیادی اجزائے ترکیبی ہیں ۔ میری حرمین طیبین کے ائمہ ٔ کرام اور امام الحج سے اپیل ہے کہ وہ سعودی عرب کے تھانوں اور جیلوں کا دورہ کریں ‘کیونکہ اُن کے پاس افتاء وقضا کے شعبے بھی ہیں ‘وہاں جو غیر ملکی بے سہارا مظلومین ہیں ‘اُن کی رہائی کے لیے سعودی حکومت کو سفارش کریں ۔اسی طرح حقائق پر مبنی بکثرت ایسی اطلاعات اور شکایات موجود ہیں کہ سعودی عرب میں کفیل کا ادارہ کافی حد تک اجانب‘ یعنی غیر ملکیوں کا استحصال کرتا ہے ‘میری تجویز والتجا ہے کہ حرمین طیبین کے ائمۂ کرام اور قُضاۃ اُن کی داد رسی کے لیے اپنی نگرانی میں کوئی شعبہ مقرر کریں اور مظلومین کے لیے فوری انصاف کی فراہمی کا کوئی طریقۂ کار وضع کریں‘ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اگر شکایات غلط ہیں یا جھوٹ پر مبنی ہیں تو وہ منظر عام پر آجائیں گی اور اس سے سعودی حکومت کے اداروں کا مثبت رُخ سامنے آئے گا۔ کسی کو اپنے ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزا دینا یا نہ دینا یا روزگار کے مواقع دینا یا نہ دینا ‘یہ ہر حکومت کی اپنی صوابدید ہوتی ہے ‘ ہر حکومت اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد ہوتی ہے ‘ہر حکومت اپنے شہریوں کے حقِ روزگار کے تحفظ کا بھی حق رکھتی ہے ‘لیکن جو لوگ قانونی دستاویز اور اجازت نامے کے ساتھ کسی ملک میں آئے ہوں ‘ تو وہاں کی حکومت پر لازم ہے کہ اُن کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں جائز حقوق سے محروم نہ کرے ۔سعودی عرب حرمین طیبین کی وجہ سے امتِ مسلمہ کا مرکز ہے ‘وہاں کے لوگوں اور حکومت کو عام مسلمان حرمین طیبین کی نسبت کے سبب احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ احترام قائم رہنا چاہیے ۔کیا حرمین طیبین کی تولیت اور خدمت وحفاظت کے شرف کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک میں اجانب کے لیے ملازمتوں کی پیشکش کرتے وقت مسلمانوں اور مسلم ممالک کے شہریوں کو ترجیح دیں ۔ خطبۂ حج میں ناموسِ رسالت ﷺ وناموسِ مقدّساتِ دین کے تحفظ کی طرف مسلم حکمرانوں کو متوجہ کرنا چاہیے تھا ‘لیکن ایسا نہیں ہوسکا ‘ اس وقت اس کی ضرورت اس لیے شدید تھی کہ ہالینڈ میں توہین ِ رسالت پر مبنی کارٹونوں کے مقابلے کا المیہ درپیش ہے اور ہالینڈ کی حکومت اُن پر پابندی لگانے سے دست کَش ہوگئی ہے ‘اگر سعودی حکومت حقوقِ انسانی کے حوالے سے کینیڈین سفیر اور وزیر کے بیانات کے ردِ عمل میں اقتصادی اقدامات کا اعلان کر کے اُن پر عمل درآمد کرسکتی ہے ‘تو اُن کی حکمرانی تو بیت اللہ اور تاجدارِ ختم ِ نبوت ﷺ کی نسبت سے قائم ہے۔امام الحج کو متوجہ کرنا چاہیے تھا کہ سعودی حکومت اس حوالے سے سفارتی ‘ انضباطی اور اقتصادی اقدامات کا اعلان کرے اور دیگر مسلم ممالک کو بھی اس پر آمادہ کرے۔خطبۂ حج1439ہجری 20اگست 2018ء کو میدانِ عرفات میں حج کا رُکن ِ اعظم ”وُقوفِ عرفہ‘‘ ادا کیا گیا اور امام الحج ‘جو مسجدنبوی کے امام اور مدینہ منورہ کے قاضی بھی بتائے جاتے ہیں ‘ نے مسجد نمرہ میں خطبۂ حج دیا۔یہ خطبۂ حج ایک ایسے وقت میں جاری ہوا جب امتِ مسلمہ ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور قابلِ ذکر مسلم ممالک میں سے کوئی بھی ایسا نہیں‘ جو داخلی یا خارجی اعتبار سے کسی نہ کسی مشکل اور ابتلا سے دوچار نہ ہو۔ترکی کی معیشت مستحکم ہورہی تھی ‘وہ دنیا کی سولہویں بڑی معیشت قرار دیا جارہا تھا ‘پاکستان اور ترکی دو ایسے مسلم ممالک ہیں جو جدید تربیت یافتہ اور منظّم فوج اور دفاعی نظام رکھتے ہیں ‘ اچانک امریکی صدر ٹرمپ نے ترکی کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ‘ اس کے خلاف اقتصادی اقدامات شروع کردیے ‘اس کی امریکہ میں درآمدات پر بھاری ڈیوٹی لگادی اور ترکی کی کرنسی لیرا کی ڈالر سے مبادلاتی صلاحیت تیزی سے گرنے لگی ۔ترکی کے صدر طیب اردوان نے جوابی اقدام کے طور پرامریکہ کی الیکٹرانک مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی لگانے کا اعلان کیا ہے ‘لیکن دونوں ملکوں کی مزاحمتی طاقت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اس تنازعے کا سبب یہ ہے کہ باغیوں کے ساتھ روابط اوربغاوت کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزام میں امریکی پاسٹر ‘مسیحی چرچ میں ریلیجیس منسٹر ‘اینڈریو برنسن کو ترکی کی عدالت نے جیل میں ڈالا ‘اس کے بعد امریکہ کی پوری انتقامی کارروائی اسی کا شاخسانہ ہے ۔ طیب اردوان ہماری طرح فرمانبرداراورمصلحت پسند ہوتے توامریکی پاسٹرکوباعزت رہا کر کے وطن واپس بھیج دیتے اور چَین کی بانسری بجاتے‘جیساکہ ہم نے ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جُوزِف ایمانیوہال کے سلسلے میں کیا تھا‘لیکن قومی حمیت ان کے پائوں کی بیڑیاں بن گئیں ۔ترکی لیرا کو سہارا دینے کے لیے قطر نے پندرہ ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ‘اس پر 24اگست کو ٹرمپ کے سیکورٹی ایڈوائزر جون بولٹن نے کہا: ”جب تک پاسٹر کو چھوڑا نہیں جاتا‘ ہم مزید اقدامات کریں گے اور قطر کے پندرہ ارب ڈالر بھی ترکی لیرا کو سہارا نہیں دے سکیں گے ‘‘۔ اس کے علاوہ یمن ‘شام ‘قطر‘ایران اور پورا مشرقِ وسطیٰ کسی نہ کسی طور سے متاثر ہے ۔سعودی عرب اپنے دفاع کے لیے پاکستان کی مسلّح افواج پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے ‘لیکن پاکستان بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے ‘پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالاجاچکا ہے اورایف اے ٹی ایف کا وفد اگلے اقدامات سے پہلے پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے دورہ کرچکا ہے ۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کی وزیر اعظم عمران خان سے گفتگو کے حوالے سے ہماری بریفنگ اور وائٹ ہائوس کی بریفنگ میں فرق سامنے آچکا ہے اور اب ممکنہ طور پروہ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں ‘اُن کا لب ولہجہ اور مطالبات وخواہشات یقینا ہماری توقعات کے برعکس ہوں گے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ عرفات میں جاری کیا جانے والا خطبۂ حج‘ سید المرسلین ﷺ کے دس ہجری کے خطبۂ حجۃ الوداع کا تسلسل‘ توارُث اور تتابُع ہے ۔آپ ﷺ نے آج سے 1429سال قبل اپنے اُس خطبے میں عالمِ انسانیت کے تمام طبقات ‘جن میں خواتین اور زیریں طبقات بھی شامل ہیں ‘کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی تھی ‘قبیلے اور رنگ ونسل کی بنیاد پر تفاخر کو اپنے قدموں تلے روند ڈالا تھا ‘تقوے کو انسانی شرف کا معیار قرار دیا تھا اور سینتالیس دفعات پر مشتمل ایک جامع ‘مبسوط اور مفصل منشور جاری فرمایا تھا۔ 1439ہجری کے خطبۂ حج میں اسلامی عقائد ‘عبادات ‘اخلاقیات اور مناسکِ حج کا یقینا ذکر تھا اور ہم اس کی تحسین وتائید کرتے ہیں ‘ لیکن اس وقت عالمی سطح پر امت کو جو مسائل در پیش ہیں ‘اُن کے بارے میں مسجد نمرہ کا منبر لاتعلق اور خاموش نظر آیا ۔ہم کتابی معیار پر حج کے جو فضائل بیان کرتے ہیں ‘وہ ایک تقریری مقابلہ بن کر رہ جاتے ہیں ‘حج کے عملی مناظر اور مظاہر میں ہمیں اُن کی جھلک نظر نہیں آتی ۔کاش کہ خطبۂ حج میں امت کے ان مسائل کی نشاندہی کی جاتی ‘ ان کا کوئی حل پیش کیا جاتا ‘بے حس مسلم حکمرانوں کو ‘ جواُمت کی فلاح سے زیادہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے سرگرداں رہتے ہیں ‘جھنجھوڑا جاتا ‘اُن کی دینی اور ملّی حمیت کو للکارا جاتا ‘عملاً اُمت کو کچھ ریلیف ملتا یا نہ ملتا‘ کم از کم انہیں یہ تسکین ہوتی کہ مسجد نمرہ کا منبر اُن کے کرب ‘ درد اور دکھ کو سمجھ رہا ہے اور اُسے زبان دے رہا ہے ۔ سعودی عرب میں روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں مقیم بہت سے غیر ملکی بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو مسائل درپیش ہیں ‘ لیکن اُن کے دکھوں کو زبان دینے اور اُن کے درد کا ازالہ کرنے کی کوئی تدبیر نہ ہماری حکومت اختیار کر رہی ہے ‘نہ ہمارے سفارت خانے اس سلسلے میں متحرک ہیں اور حقوقِ انسانی کے فعال کارکنوں کے خلاف تو حال ہی میں کریک ڈائون کیا گیا ہے ‘جن کے حق میں آواز بلند کرنے پر سعودی عرب اور کینیڈا کے تعلقات میں دراڑیں پڑ چکی ہیں ‘سعودی ائیر لائن کی فضائی پروازیں معطل ہوچکی ہیں اور اس سال کینیڈا کے عازمینِ حج کو اچانک پروازیں موقوف ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ہوسکتا ہے کہ بعض حج سے محروم رہ گئے ہوں ‘حالانکہ حکومتِ سعودی عرب کو تعلقات کی خرابی کے باوجود حجاج کرام کے لیے خصوصی پروازوں کا بندوبست کرنا چاہیے تھا ‘کیونکہ اکثر حجاج کے پاس سعودی ائیر لائن کے ریزرو ٹکٹ موجود تھے ۔امام الحج نے توحید ‘تقوے‘توکل اور دینی عبادات کی تعمیل کی تاکید کے ساتھ تلقین کی ‘ ہم اس کی تائید کرتے ہیں ۔اسی طرح انہوں نے قرابت کے رشتوں کو جوڑنے ‘یعنی صلۂ رحمی کے بارے میں قرآن وسنت کے احکام بیان کیے جودرست اور بروقت ہیں ۔انہوں نے خطبۂ حجۃ الوداع کے حوالے سے خواتین اور بیویوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کے احکام بیان کیے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ ماں باپ کی طرف سے ہبہ کی صورت میں اولاد کے درمیان مساوات اور اسلام کے قانونِ وراثت کو اجباری طور پر نافذ کرنے کے بارے میں مسلم حکمرانوں کو قانون سازی کا مشورہ دیتے‘ یہ قوانین قرآن وسنت اور فقہ کے ذخیرے میں تو موجود ہیں ‘لیکن عملاً ان کا نفاذ بہت کم ہے ۔ اگران دو شعبوں میں قرآن وسنت اور فقہِ اسلام کے احکام کو نافذ کردیا جائے تو خواتین کے اسّی فیصد مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے ‘اسی طرح نکاح کے موقع پر بالغہ عورت کی رضامندی کو لازمی قرار دیا جائے تو اُن کے لیے کافی آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔ امام الحج نے تکبر واستکبار ‘سرقہ‘ غیبت‘ دوسروں کے پوشیدہ احوال کے تجسّس اور کھوج لگانے کی ممانعت اورتمسخر واستہزاء ایسے اخلاقی مفاسد سے بچنے کی تلقین کی ‘ ہم وقتاً فوقتاً اپنے کالم میں اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور خاص طور پر سیاسی قائدین اور میڈیا کے لوگوں کو اس کی تلقین کرتے ہیں ‘لیکن شاید امام الحج کی زبان میں تاثیر زیادہ ہو اور لوگ اس کی اتباع کرلیں ‘تو یہ ایک پرامن اور تعمیری معاشرے کی تشکیل کے بنیادی اجزائے ترکیبی ہیں ۔ میری حرمین طیبین کے ائمہ ٔ کرام اور امام الحج سے اپیل ہے کہ وہ سعودی عرب کے تھانوں اور جیلوں کا دورہ کریں ‘کیونکہ اُن کے پاس افتاء وقضا کے شعبے بھی ہیں ‘وہاں جو غیر ملکی بے سہارا مظلومین ہیں ‘اُن کی رہائی کے لیے سعودی حکومت کو سفارش کریں ۔اسی طرح حقائق پر مبنی بکثرت ایسی اطلاعات اور شکایات موجود ہیں کہ سعودی عرب میں کفیل کا ادارہ کافی حد تک اجانب‘ یعنی غیر ملکیوں کا استحصال کرتا ہے ‘میری تجویز والتجا ہے کہ حرمین طیبین کے ائمۂ کرام اور قُضاۃ اُن کی داد رسی کے لیے اپنی نگرانی میں کوئی شعبہ مقرر کریں اور مظلومین کے لیے فوری انصاف کی فراہمی کا کوئی طریقۂ کار وضع کریں‘ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اگر شکایات غلط ہیں یا جھوٹ پر مبنی ہیں تو وہ منظر عام پر آجائیں گی اور اس سے سعودی حکومت کے اداروں کا مثبت رُخ سامنے آئے گا۔ کسی کو اپنے ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزا دینا یا نہ دینا یا روزگار کے مواقع دینا یا نہ دینا ‘یہ ہر حکومت کی اپنی صوابدید ہوتی ہے ‘ ہر حکومت اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد ہوتی ہے ‘ہر حکومت اپنے شہریوں کے حقِ روزگار کے تحفظ کا بھی حق رکھتی ہے ‘لیکن جو لوگ قانونی دستاویز اور اجازت نامے کے ساتھ کسی ملک میں آئے ہوں ‘ تو وہاں کی حکومت پر لازم ہے کہ اُن کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرے اور انہیں جائز حقوق سے محروم نہ کرے ۔سعودی عرب حرمین طیبین کی وجہ سے امتِ مسلمہ کا مرکز ہے ‘وہاں کے لوگوں اور حکومت کو عام مسلمان حرمین طیبین کی نسبت کے سبب احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ احترام قائم رہنا چاہیے ۔کیا حرمین طیبین کی تولیت اور خدمت وحفاظت کے شرف کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک میں اجانب کے لیے ملازمتوں کی پیشکش کرتے وقت مسلمانوں اور مسلم ممالک کے شہریوں کو ترجیح دیں ۔ خطبۂ حج میں ناموسِ رسالت ﷺ وناموسِ مقدّساتِ دین کے تحفظ کی طرف مسلم حکمرانوں کو متوجہ کرنا چاہیے تھا ‘لیکن ایسا نہیں ہوسکا ‘ اس وقت اس کی ضرورت اس لیے شدید تھی کہ ہالینڈ میں توہین ِ رسالت پر مبنی کارٹونوں کے مقابلے کا المیہ درپیش ہے اور ہالینڈ کی حکومت اُن پر پابندی لگانے سے دست کَش ہوگئی ہے ‘اگر سعودی حکومت حقوقِ انسانی کے حوالے سے کینیڈین سفیر اور وزیر کے بیانات کے ردِ عمل میں اقتصادی اقدامات کا اعلان کر کے اُن پر عمل درآمد کرسکتی ہے ‘تو اُن کی حکمرانی تو بیت اللہ اور تاجدارِ ختم ِ نبوت ﷺ کی نسبت سے قائم ہے۔امام الحج کو متوجہ کرنا چاہیے تھا کہ سعودی حکومت اس حوالے سے سفارتی ‘ انضباطی اور اقتصادی اقدامات کا اعلان کرے اور دیگر مسلم ممالک کو بھی اس پر آمادہ کرے۔