ہمارے زمانے کی عورتیں

ہمارے زمانے کی عورتیں

عورتوں کے مسجد جانے کے متعلق ام المومنین، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے جو انھوں نے اب ایجاد کیا ہے تو ان کو (مسجد میں آنے سے) منع فرما دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا-

(بخاری شریف، ج1، ص472، ر869)

علامہ بدرالدین عینی حنفی علیہ الرحمہ (م855ھ) لکھتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتیں جو انھوں نے ہمارے زمانے میں ایجاد کر لیا ہے اور اپنی نمائش میں غیر شرعی طریقے اور مذموم بدعات نکال لی ہیں، خاص طور پر شہر کی عورتوں نے تو وہ (حضرت عائشہ صدیقہ) ان عورتوں کی بہت زیادہ مذمت کرتیں-

(عمدۃ القاری، ج6، ص227)

علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اگر علامہ عینی ہمارے زمانے کی فیشن زدہ عورتوں کو دیکھ لیتے تو حیران رہ جاتے- اب اکثر عورتوں نے برقع لینا چھوڑ دیا ہے، سر کو ڈوپٹے سے نہیں ڈھانپتیں، تنگ اور چست لباس پہنتی ہیں، بیوٹی پارلر میں جا کر جدید طریقوں سے میک اپ کراتی ہیں، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، مراتھن دوڑ میں حصّہ لیتی ہیں، بسنت میں پتنگ اڑاتی ہیں، ویلین ٹائنس ڈے مناتی ہیں، اس قسم کی آزاد روش میں عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو خیر کوئی امکان ہی نہیں ہے-

(نعم الباری فی شرح صحیح البخاری، ج2، ص798)

میں (عبد مصطفی) کہتا ہوں کہ اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سامنے کوئی جناب ہیں یا محترمہ! ایسا فیشن نکلا ہے کہ مرد اور عورت میں تمیز کرنا دشوار ہو گیا ہے-

ایک فکر لوگوں کے ذہنوں میں ڈالی جا رہی ہے کہ "عورتیں مردوں سے کم نہیں” اور اسی مقابلے کے چکر میں عورتوں نے شرم و حیا نام کی چیز کو اپنی لغت (ڈکشنری) سے مٹا (ڈلیٹ کر) دیا ہے!

اب تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے لیے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے-

عبد مصطفی

جگمگاتا خیمہ

حکایت نمبر130: جگمگاتا خیمہ

حضرت سیدنا مسمع بن عاصم علیہ رحمۃ اللہ المُنعم سے مروی ہے کہ حضرت سیدتنا رابعہ عدویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا بہت زیادہ عبادت کیا کرتیں۔ ساری ساری رات قیام فرماتیں، دن کو رو زہ رکھتیں اور تلاوت قرآن پاک کیا کرتیں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کا ہرہر لمحہ یادِ الٰہی عزوجل میں گزرتا ۔

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں بہت زیادہ بیمار ہوگئی جس کی وجہ سے میں تہجد کی دولت سے محروم رہی اور دن کو بھی اپنے پاک پروردگار عزوجل کی عبادت نہ کر سکی،بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ کمزوری آگئی،اسی طرح کئی دن گزرگئے مجھے اپنی عبادت چھوٹ جانے کا بہت افسوس ہو ا لیکن اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ!بیماری کی حالت میں بھی جتنا مجھ سے ہوسکتا میں عبادت کی کوشش کرتی ، کبھی دن میں نوافل کی کثرت کرتی ،کبھی رات کونوافل پڑھتی۔اسی طرح کئی دن گزر گئے ۔

پھر اللہ عزوجل نے کرم فرمایا او رمجھے صحت عطا فرمائی میں نے دو بارہ نئے جذبے کے ساتھ عبادت شروع کردی۔ سارا سارا دن عبادت الٰہی عزوجل میں گزر جاتا اور اسی طر ح رات کو بھی عبادت کرتی ۔

ایک رات مجھے نیند نے آلیا اور میں غافل ہو کر سوگئی۔ میں نے خواب دیکھاکہ میں فضاؤں میں اُڑ رہی ہوں ،پھر میں ایک سر سبز و شاداب با غ میں پہنچ گئی ۔ وہ باغ اتنا حسین تھا کہ میں نے کبھی ایسا با غ نہ دیکھا۔ اس باغ میں بہت خوبصورت محل تھے، ہر طر ف بلند و بالا،سر سبز درخت تھے، جگہ جگہ پھولوں کی کیا ریاں تھیں ، درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے ، میں اس باغ کے حسن وجمال کے نظارو ں میں گم تھی کہ یکایک مجھے ایک سبز پر ندہ نظرآیا، وہ پرند ہ اتنا خوبصورت تھا کہ اس سے پہلے میں نے کبھی ایسا پرندہ نہ دیکھا تھا، ایک لڑکی اسے پکڑنے کے لئے بھا گ ر ہی تھی، میں اس خوبصورت لڑکی اور خوبصورت پرندے کو بغور دیکھنے لگی اتنی دیر میں وہ حسین وجمیل لڑکی میری طرف متوجہ ہوئی۔ میں نے اس سے کہا: ”یہ پرندہ بہت خوبصورت ہے ،تم اسے آزادی کے ساتھ گھومنے دو اور اسے مت پکڑو۔” میری بات سن کر اس لڑکی نے کہا:” کیا تمہیں اس سے بھی زیادہ خوبصورت چیز نہ دکھاؤں؟ ”میں نے کہا: ”ضرور دکھاؤ۔” یہ سن کر اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر مختلف با غات سے ہوتی ہوئی ایک عظیم الشان محل کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔ دروازہ فوراََ کھول دیا گیا،اند ر کا منظر بہت سہانا تھا ، دروازہ کھلتے ہی ایک خوبصورت باغ نظر آیا، وہ لڑکی مجھے لے کر باغ میں آئی اور پھر ایک خیمے کی جانب چل دی۔ میں بھی ساتھ ساتھ تھی ۔ اس نے حکم دیا کہ خیمے کے پر دے ہٹا دیئے جائیں ۔ جیسے ہی خادموں نے پردے ہٹائے تو اندر ایسی نورانی کرنیں تھیں جنہوں نے آس پاس کی تمام چیزوں کو منور کررکھا تھا۔ پورا خیمہ نور سے جگمگا رہا تھا۔ وہ لڑکی اس خیمے میں داخل ہوئی اور پھر مجھے بھی اندر بلالیاوہاں بہت ساری نوجوان کنیزیں موجود تھیں جن کے ہاتھوں میں عود (یعنی خوشبو) سے بھرے ہوئے برتن تھے اور وہ کنیز یں عود کی دھونی دے رہی تھیں۔”یہ دیکھ کر اس لڑکی نے کہا : ”تم سب یہاں کیوں جمع ہو؟ یہ اتنا اِہتمام کیوں کیا جارہاہے؟ اورتم کس لئے خوشبو کی دھونی دے رہی ہو؟” تو ان کنیزوں نے جواب دیا:” آج ایک مجاہد راہِ خدا عزوجل میں شہید ہوگیاہے ، ہم اس کے اِستقبال کے لئے یہاں جمع ہیں او ریہ سارا اِہتمام اسی مرد مجاہد کی خاطر کیا جا رہا ہے ۔”اس لڑکی نے میری جانب اشارہ کیا اور پوچھا:” کیا ان کے لئے بھی کوئی اہتمام کیا گیاہے؟”تو ان کنیز وں نے کہا : ہاں، اس کے لئے بھی اس طر ح کی نعمتوں میں حصہ ہے ۔”پھر اس لڑکی نے اپنا ہاتھ میری طر ف بڑھایا اور کہا:”اے رابعہ عدویہ!جب لوگ نیند کے مزے لے رہے ہوں اس وقت تیرا نماز کے لئے کھڑا ہونا تیرے لئے نور ہے اور نماز سے غافل کردینے والی نیند سر اسر غفلت اور نقصان کا باعث ہے ، تیری زندگی کے لمحات تیرے لئے سواری کی مانند ہیں اور جو شخص دنیاوی زندگی میں مگن رہے اور اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو فضول کاموں میں گزار دے تو وہ بہت بڑے خسارے میں ہے ۔”یہ نصیحت آموز کلمات کہنے کے بعد وہ لڑکی میری آنکھوں سے اوجھل ہوگئی اور میری آنکھ کُھل گئی ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا فرماتی ہیں: ”جب بھی مجھے یہ خواب یاد آتا ہے تومیں بہت زیادہ حیران ہوتی ہوں۔ ”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم) 

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

مولانا غلام مصطفی قادری باسنوی

محبوبۂ محبوب رب العلمین ام السادات ام المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و کمالات سے قرآنی آیات اور احادیث نبوی علیٰ صاحبھا الصلوۃ والسلام بھری ہوئی ہیںان کی عظمت و کرامت کے کس کس پہلو پر خامہ فرسائی کی جائے ؎

کرشمہ دامن دل می کشدکہ جا اینجا است

جو خاتون ہی نہیں خواتین کی ماں ہیں ،عظمت و بلندی کی جس چوٹی پر آپ فائز ہیں دنیا میں کسی عورت کو وہ مقام نہیں مل سکاجو ایک طرف اما م الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہیں تو دوسری جانب افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاڈلی شہزادی ہیں جن کی عصمت اور پاک دامنی کے بارے میں خالق کائنات جل وعلا نے پوری سورئہ نور ناز ل فرمائی اور بہتان باندھنے والوں کا حال بھی بیان کردیا گیا اور یہ عظیم اصول بھی بیان فرمادیا

’’الخبیثت للخبیثین والخبیثون للخبیثت‘‘۔

جس کے بارے میں اگر یہ کہاجائے کہ وہ ملکۂ سلطنت عفت وعصمت ہے تو بے جا نہ ہوگا اس مختصر سے مقالے میں ان کی کن کن خوبیوں کو بیان کیاجائے، زبان اور قلم جواب دے سکتے ہیں مگر اس محترم ہستی کے حالات وکرامات کا بیان کما حقہ نہیں ہو سکتا ۔ سنئے سفیر عشق مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام امام احمد رضاخاں قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ والہانہ عقیدت کے ساتھ یوں نغمہ سرا ہیں ؎

بنت صدیق آرام جان نبی

اس حریم برأت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورئہ نور جس کی گواہ

ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

جن میں روح القدس بے اجاز ت نہ جائیں

اس سرادق کی عصمت پہ لاکھوں سلام

شمع تابان کاشانۂ اجتہاد

مفتیٔ چہار ملت پہ لاکھوں سلام

سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بعد تاجدار دوعالمﷺ نے اس عظیم المرتبت خاتون سے نکاح فرماکر اسے زوجیت کاشرف بخشا یہ بھی آپ کی خصوصیات میں سے ہے کہ رسول گرامی وقارﷺ نے جن گیارہ خواتین سے نکاح فرمایا ان میں آپ ہی کنوارتھیں بقیہ تمام بیویاں بوقت نکاح یا تو مطلقہ تھیں یا پھر بیوہ تھیں ۔ دوسری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی وہ خوش بخت خاتون ہیں جن کا حضور سے نکا ح خود رب العزت نے منتخب فرمایا جب کہ دوسری عورتوں کارشتہ اور نکاح دنیوی اعتبار سے ان کے والدین یا رشتہ دار کرتے ہیںاور رحمت عالمﷺ کے ان سے نکاح کرنے کے دو بڑے سبب تھے ایک تو آپ کی ذہا نت و فطانت اور پاکبازی اور دوسرا آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایثار ،یعنی اپنا گھر بار اور جان و دل سب نچھاور کرنا ۔ نیز رحمت عالم انے جن مقاصد حسنہ کے پیش نظر متعدد خواتین کو شرفِ زوجیت عطا فرمایا، بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ساتھ نکا ح سے وہ مقاصد حاصل ہوگئے ……اس طرح تاجدار کائنات ا نے اپنے مخلص ترین صحابی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی جانثاری کاسب سے بڑا صلہ جو اس دنیا میں ممکن تھا عطا فرمایا ۔( ضیاء النبی)

آپ پیکر شرم و حیا بھی تھیں اورمجسمۂ عفت و عصمت بھی ، مزاج میں نفاست ،طبیعت میں لطافت ،سیرت و خصلت اور ذہانت و فطانت نیز علم و ہنر میں وہ کمال تھا کہ اس وقت سے لے کرتا ایں دم عورتوں میں کوئی آپ کی مثال نہ پیش کرسکا ۔ علم و فضل میں آپ کا مقام نہ صرف دوسری عورتوں میں بلکہ تمام ازواج مطہرات اور اکثر صحابۂ کرام میں بہت اونچا تھا، کئی حضرات صحابہ وہ ہیں جنہوں نے آپ کے بحر علم سے خوب خوب استفادہ کیا ۔

یہ دیکھو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خود بہت بڑے عالم و فاضل اور جلیل القدر صحابی ہونے کا شرف رکھتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی حدیث پاک کو سمجھنے میں میں مشکل پیش آئی اور ہم نے اس کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو ان کے پاس اس حدیث کے متعلق علم پایا ۔

اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں ۔

’’میں نے کسی عورت کو طب ،فقہ اور شعرکے علوم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے بڑھ کرنہیں پایا ‘‘۔ (ضیاء النبی)

حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ بھی آ پ کے علم وہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔فرماتے ہیں :

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے علم کے مقابلے میںتمام امھات المومنین ،بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرت صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا ۔ (فضائل اہلبیت ص؍۲۲۲)

حضرت امام قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کے بعد مدینہ منورہ کے سات مشہور اہل علم تابعین میں سے ہیں،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت ہی میں مستقل طور پر افتاء کا منصب حاصل کرچکی تھیں حضرت عمر ،حضرت عثمان اور ان کے بعد آخر زندگی تک وہ برابر فتویٰ دیتی رہیں‘‘۔ (ابن سعد ۲؍۳۷۵بحوالہ فضائل اہلبیت)

حضرت عطاء بن ابورباح تابعی جن کومتعدد صحابہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہے ،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سب سے زیادہ سمجھنے والی سب سے زیادہ علم والی اور لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی رائے والی تھیں‘‘۔

بلا شبہ علم وفضل ،فہم وفراست میں آپ کے پا یہ کوکوئی خاتون نہیں پہنچ سکی ،کتاب اللہ اور سنت رسول اکے صحیح سمجھنے اور سمجھانے میں آپ کا جو ممتاز مقام تھاوہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور کیوں نہ ہو جس کے شوہر باوقار معلم کائنات اور عالم ماکان ومایکون ہو ں ان کے کاشانۂ اقدس میں رہنے والی خوش قسمت بیوی اور خاتون اسلام کا پھر کیا پوچھنا ۔خود آقائے کائنات ا ارشاد فرماتے ہیں:’’خذوانصف دینکم عن ھذہ الحمیراء‘‘اپنے دین کانصف علم اس حمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے سیکھو‘‘۔

اس مقدس خاتون اسلام کے امت مصطفوی پر بھی کئی احسانات ہیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے توسط سے امت پر کئی رحیمانہ احکام وضوابط کا نزول ہوا ۔کیا یہ معلوم نہیں ہے ہمیں کہ کوئی مرد وعورت وضو اور غسل کے لئے پانی پر قدرت نہ رکھے تو شریعت اسلامی کی طرف سے اسے تیمم کرکے پاکی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ تیمم کی اجازت اسی پاکیزہ بی بی کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ۔

(ضیاء النبی)

اب آیئے آپ کی ان خصوصیات کا بھی تذکرہ ملاحظہ کریں جو دیگر ازواج مطہرات میں سے صرف آپ کو عطا ہوئی ہیں ۔ سیدہ صدیقہ خود فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دس ایسی خوبیوں سے مالامال فرمایا ہے جو صرف میرے حصے میں آئیں ۔

(۱) حضورﷺ نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی

(۲) میرے سوا ازواج مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں ۔

(۳) اللہ تعالیٰ نے میری پاک دامنی کابیان آسمان سے قرآن میں اتارا

(۴) نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لاکر حضور اقدس ﷺ کو دکھلادی تھی اور آپ تین رات مجھے خواب میں دیکھتے رہے ۔

(۵) میں اور حضورﷺ ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیاکرتے تھے یہ شرف میرے سواازواج مطہرات میں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوا۔

( ۶) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نمازپڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المومنین میں سے کوئی بھی حضور اکرم اکی اس کریمانہ محبت سے سرفرازنہیں ہوئی ۔

(۷) میں حضور اقدسﷺکے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خداکی وحی نازل ہواکرتی تھی یہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجۂ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا۔

(۸) وفات اقدس کے وقت میں حضورﷺ کو اپنی گود میں لئے ہوئی تھی اور آپ کاسر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ ا کا وصا ل ہوا۔

(۹) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا

(۱۰) آقائے کا ئنات علیہ التحیۃوالثناء کی قبر انور خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ ) میں بنی ۔ (سیرۃالمصطفیٰ ا)

عبادت و ریاضت :

کاشانۂ نبوت میں اپنی زندگی کے ایام گزارنے والی خاتون کی عبادت کے انداز بھی نرالے ہی ہوں گے اور جو پیغمبر اسلامﷺ کی زوجۂ محترمہ ہو پھر جس کے توسط سے کچھ شرعی احکام کی امت کواجازت ملی ہوخوداس کی عبادت وریاضت کاکیا پوچھنا ، آپ بکثرت فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں ، ہر سال حج کرتیں ،بہت زیادہ سخی اور فیاض تھیں ۔ آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا روزانہ بلاناغہ تہجدکی نمازپڑھنے کی پابندتھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہاکرتیں ۔

خوف خداوندی اور خشیت ربانی کایہ عالم کہ ایک بار دوزخ یادآگئی تورونا شروع کردیا ۔سرکار مدینہﷺنے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیاکہ مجھے دوزخ کاخیال آگیا اس لئے رورہی ہوں ۔

اور سخاوت و فیاضی کایہ حال تھا کہ حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’ لقد رأیت عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقسم سبعین الفا و انھا لترقع جیب درعھا ‘‘

بے شک میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ستر ہزار کی رقم راہ خدائے پاک میں تقسیم کردی حالانکہ وہ خود اپنی قمیص کی جیب میں پیوند لگاتی تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء)

رسول کونینﷺ کی نگاہ میں بھی آپ کا مقام و رتبہ بڑا تھا اور تاجدا کونینﷺ انہیں بہت زیادہ چاہتے تھے آپ کا لقب ہی محبوبۂ محبوب رب العالمین ہے ۔تاجدار کونینﷺکو جو آپ سے محبت تھی وہ ناقابل بیان ہے۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب غزوۂ سلاسل سے واپس آئے تو انہوں نے حضور اقدسﷺ سے پوچھا ،یارسول اللہ ا ! ’’ای الناس احب الیک قال عائشۃ فقلت من الرجال قال ابوھا ‘‘آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ فرمایا عائشہ، انہوں نے عرض کی مردوں میں ؟ فرمایا ان کے والد(سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ )۔ ( بخاری شریف ج۱؍ ۵۱۷)

ّّ اللہ کامحبوب بنے جوتمہیں چاہے

اس کا تو بیان ہی نہیں جس کو تم چاہو

رسول کونینﷺ نے جو بھی تعلیمات امت کو عطا فرمائیں پہلے خود ان پر عمل کیا۔ آپ یقینا بے مثال شوہر تھے حقوق زوجیت کی جو آپ نے مثال پیش فرمائی وہ آج بھی سب کو متاثر کرتی ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک فارسی حضورﷺ کا پڑوسی تھا اس نے آپﷺ کی دعوت کی، فقال ھذہ لعائشۃ تو آپنے فرمایا ساتھ عائشہ کی بھی ؟فقال لا ۔فقال رسول اللہ الا؟اس نے کہا نہیں تو حضور انے فرمایا :پھر میں بھی قبول نہیں کرتا ۔وہ چلا گیا پھر دوبارہ آیا تو یہی سوال وجواب ہوا ۔تیسری مرتبہ پھر آیا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ساتھ عائشہ بھی ہوگی؟اس نے کہا ،جی ہاں ، پھر آپ اور سیدہ عائشہ اس کے گھر گئے ۔ (مسلم شریف جلد اول )

شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ آپ کے تنہا دعوت نہ قبول کرنے کی وجہ یہ تھی کی اس روز گھر میں فاقہ تھا ،آپ کے انس ومحبت اور لطف وکرم سے بعید تھا کہ گھر میں بیوی کو بھوکا چھوڑ کر اکیلے کھانا کھالیں۔ (فضائل اہل بیت ص؍۲۱۲)

جس جگہ سے حضرت عائشہ گوشت کھاتیں اسی جگہ سے سرکار بھی گوشت تناول فرماتے ،جس برتن سے حضرت عائشہ پانی پیتیں اسی برتن سے ان کے منھ لگنے کی جگہ سے آپ بھی پانی نوش فرماتے، حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم نور مجسم انے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عائشہ! جبرئیل تجھے سلام کہتا ہے میں نے کہا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ،

اور فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور اقدسﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب کبھی تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو میں جان لیتا ہوں اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو بھی جان لیتا ہوں ،حضرت عائشہ نے عرض کیا، وہ کس طرح ؟فرمایا :تم جب راضی اور خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے وقت یوں کہتی ہو’’ لاورب محمد‘‘مجھے محمد کے رب کی قسم !اور جب کبھی ناراض ہوتی ہو تو یوں قسم کھاتی ہو ۔لاورب ابراھیم مجھے ابراھیم کے رب کی قسم ،حضرت عائشہ نے عرض کیا بے شک یا رسول اللہ ا !بات ایسے ہی ہے لیکن میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں،آپ کی محبت تو میرے دل میں بدستور رہتی ہے ۔ ؎

اللہ اللہ عائشہ کا اتنا اونچا ہے مقام

حشر تک انہی کے گھر ہے محمد کاقیام

حضرت اُم المومنین کے یہ چند فضائل و کمالات پڑھکر ہماری ماں بہنوں کو ان کی سیرت و کردار کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنانا چاہیئے ورنہ ہمارا دعوئے محبت بیکار اور جھوٹا ہوگا۔کیا محبوب سے محبت کرنے والے محبوب کی سنتوں اور طریقوں سے منھ موڑ تے ہیں ۔ نہیں ہر گز نہیں، بلکہ وہ تو اپنے محبوب کی ایک ایک ادا پر جاں فدا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

آپ کی حیات مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ہماری ماں بہنیں اگر آپ کی سیرت کو اپنی زندگی میں بھی اپنائیں تو یقینا کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومے گی ۔مذکورہ بالا واقعات اورحالات سے ہمیں یہ درس ملتاہے۔

(۱) پہلی چیزجوہمیں سیدہ صدیقہ کی زندگی میں ملتی ہے وہ ہے خدا کا خوف و خشیت اور محبت خدا وعشق والفت مصطفوی ا میں شیفتگی ،کہ وہ ہر کام خدا ورسول جل وعلا اکی رضا و خوشنودی ہی کے لئے کرتی تھیں۔

(۲) حقوق شوہر کی ادائیگی جس اچھوتے انداز میں فرمائی وہ ہماری ماں بہنوں کے لئے مکمل نمونہ ہے اگر موجودہ دور میں زندگی بسر کرنے والی عورتیں اسے مشعل راہ بنالیں تو ضرور معاشر ہ میں نکھار پیدا ہوجائے ۔ کیا قسم کھانے والاواقعہ میں اس دور کی خواتین کے لئے درس نہیں ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کبھی نااتفاقی ہوجائے تو اسے نرمی سے حل کریں اور پیار ومحبت کے جملوں سے ایک دوسرے کادل خوش کردیں۔کیا ایک برتن سے پانی پینا ہماری ماں بہنوں کے لئے شوہر کو راضی کرنے کا ذریعہ نہیں ہے؟

(۳) کیا بی بی عائشہ کے علم وفضل میں کمال اور صحابۂ کرام علیھم الرضوان کا دینی مسائل میں آپ سے رجوع کرنا ہماری ماں بہنوں کے لئے درس نہیں ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی دینی تعلیم حاصل کرکے زندگی کو عمدہ بنانی چاہیئے تاکہ وہ خود نیک اور صالح کردار اپنا کر اپنی نسل کوبھی صحیح راستے پر چلائیں ۔

(۴) کیا آپ کاباریک دو پٹے کو پھاڑ دینا خواتین اسلام کو پردے اور عصمت وعفت کا خاص خیال رکھنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے ۔آپ کی زندگی کا ہر پہلو اسلام کی شہزادیوں کے لئے مکمل نمونۂ عمل اور مشعل راہ ہے ۔

پردہ عورت کامحافظ ہے

پردہ عورت کامحافظ ہے

فاطمہ ذیشان

 لغت میں عورت کامعنی پردہ ہے،لیکن پردے کا نام آتے ہی بعض عورتیں اس طرح بدک جاتی ہیں کہ مانو اس کے ساتھ بڑا ظلم کیا جارہا ہے جبکہ پردہ ان کے لیے نہ صرف عزت وشرافت کی علامت ہے بلکہ بری نگاہوں سے انھیں بچاتابھی ہے۔یوں تو پردے کا تصورہر مذہب میں کسی نہ کسی طورپر مل جاتا ہے مگرمذہب اسلام میں پردے کا جو خیال رکھا گیا ہے وہ سب سے بہترطریقہ ہے،اس تعلق سے قرآن مقدس میں کئی آیتیں نازل ہوئی ہیں جس کے ذریعے معلوم ہوتاہے کہ پردہ ہماری زندگی میں بہت اہمیت رکھتاہے۔

معاشرے میں تمام برائیوں کی جڑ بد نگاہی ہے،کیونکہ بدنگاہی اورادھرادھر تاک جھانک ہی انسان کوبدکاری کی راہ دکھاتی ہے اورآخرکارانسان گمراہی اوربدنامی کے جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔پردے کاحکم آج سے نہیں ہے بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہے،کیوں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کوعلم تھاکہ پردہ نہ ہونے کی وجہ سے دنیامیں ہزاروں فتنے پیداہوں گے،یہی سبب ہے کہ احادیث میں پردے کی سخت تاکید کی گئی ہے،امام ترمذی کی ایک حدیث ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:عورت عورت ہے، یعنی چھپانے کی چیزہے،جب یہ نکلتی ہے تواُسے شیطان جھانک کردیکھتا ہے۔

 گویا اُسے دیکھنا شیطانی کام ہے،لیکن دنیا اس فتنے میں جان بوجھ کرمبتلاہے ،جس فتنے کی وجہ سے بے شرمی اوربے حیائی عام ہوگئی ہے ،جب کہ قرآن مقدس میں آیاہے کہ: مسلمان عورتوں کوحکم دوکہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اوراپنی پارسائی کی حفاظت کریں اوراپنابنائوسنگارنہ دکھائیں مگرجتنا خودہی ظاہر ہوں اوردوپٹے اپنے گریبانوں پرڈالے رہیں اوراپنا سنگار نہ ظاہرکریں مگر اپنے شوہروں پر یااپنے باپ یااپنے شوہروں کے باپ یااپنے بیٹے یااپنے شوہروں کے بیٹے یااپنے بھائی یااپنے بھتیجے یااپنے بھانجے یااپنے دین کی عورتیں یااپنی کنزیں جواپنے ہاتھ کی ملک ہوں یااپنے نوکر، بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یاوہ بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبرنہیں اورزمین پرپاؤں زورسے نہ رکھیں کہ جاناجائے ان کاچھپاہوا سنگار۔

لیکن آج دیکھاجارہاہے کہ عورتوں کاحال ذرہ بھر بھی قرآن وحدیث کے مطابق نہیں ہے، بلکہ وہ مغربی تہذیب کے  سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے اور جہاں دیکھوبے حیائی اوربے شرمی ہے ،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بے حیائی اوربے شرمی میں سب سے بڑا ہاتھ عورتوں کاہی ہاتھ ہے۔معاشرے میں تبدیلی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ہم عورتیں اپنے آپ کونہیں بدلیں گے،کیوںکہ عورت اگرپارسااورنیک ہے توگھر اورمعاشرے کے لیے اچھاشگون ہے اوراگر یہی عورت بے حیا اوربے شرم ہے تودونوں کے لیے وبال ہے۔

 اس کے باوجودآج جدھر بھی نظر اٹھاکردیکھا جارہاہے تو پردے کے بجائے عریانیت کاماحول ہے،لباس کے نام پرایسے ایسے کپڑے استعمال کیے جارہے ہیں کہ جس سے پردے کی تکمیل تو دورخود بدن صحیح سے نہیں ڈھک پاتا ہے۔

 اسلام کویہ بے ہودگی اوریہ بدتہذیبی ایک لمحے کے لیے بھی گوارانہیں ہے، اسی لیے اس نے عورتوں کوایسالباس پہننے  سے منع کیاہے جس سے جسم کی رنگت یابناوٹ ظاہرہوں، کیونکہ عورت، عفت وعصمت اورپارسائی کی چلتی پھرتی تصویر ہوتی ہے اورشرم وحیا کی جیتی جاگتی دیوی بھی۔

 اسلام عورتوں کو پاکیزگی، حرمت اور عزت وشرافت کے ساتھ زندگی گزارنے کاڈھنگ سکھاتاہے اوربنیادی طورپر یہ ہدایتیں دیتاہے کہ:

۱۔عورتیں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

۲۔اپنی پارسائی اورعزت وعظمت کی حفاظت کریں اور اس پرداغ نہ آنے دیں۔

۳۔اپنی زیبائش اورآرائش اوراپنا بنائو سنگار اجنبی کی نگاہوںمیںنہ آنے دیں۔

۴۔اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پرڈالے رکھیں تاکہ ان کاسراورسینہ کھلانہ رہے۔

۵۔زمین پراس طرح اپنے پائوں زورسے نہ رکھیں کہ ان کے زیوروں کی جھنکار غیرمردوں کے کان میں پڑے ۔

ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت ام سلمہ اورحضرت ام میمونہ رضی اللہ عنہما حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضرتھیں کہ عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آگئے ۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں پردہ کرنے کاحکم دیا،انھوں نے عرض کیاکہ وہ تونابیناہیں ،اس پرفرمایا:تم تونابینانہیں ہو۔

اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ برائی کی جڑنگاہیں ہیں اس لیے اس کاخیال رکھناچاہیے، اگر ضرورت پڑنے پرغیرمحرم سے مخاطب ہونا پڑے یاکوئی کام ہوتوبھی نگاہیں نیچی رکھیں۔

پردہ صرف لباس یانگاہ تک نہیں ہے،بلکہ آوازکابھی خیال رکھناچاہیے کہ زیادہ زورزورسے اورچلاکر نہ بولیں، کیوں کہ عورتوںکی آواز میں ایک کشش ہوتی ہے جوانسان کے دلوں میں برے خیالات پیداکرسکتے ہیں اورعورت کویہ بھی چاہیے کہ وہ اپنے بنائوسنگارمیں کسی ایسی خوشبوکا استعمال نہ کریں جومردوں کوان کی جانب متوجہ کردے اورایسے زیوربھی پہننے سے گریز کریں جس میں آواز ہو،کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں مردوں کولبھانے اوراپنی جانب متوجہ رکھنے کے لیے عورتوں میں یہ بات بڑی پسندیدہ مانی جاتی تھی کہ:

 جب اُن کاگزراجنبی مردوں کے سامنے یاکسی مجمع سے ہوتا تووہ اپنے پائوں کوزورسے زمین پررکھتی تھیں تاکہ مرداُن کے زیوروں کی آواز سن کر اُن کی طرف متوجہ ہوں اوراُن کے دل میں اُن کا خیال پیداہو۔آج بھی کچھ عورتیں اپنا سنگار ظاہر کرنے کے لیے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ایسی اوچھی حرکت کرتی ہیں،شریعت مطہرہ نے ایسی ذلیل حرکتوں سے سختی کے ساتھ روکاہے کہ زورسے قدم زمین پرنہ رکھیں کہ ُان کے زیوروں کی جھنکار غیروں کے کانوں تک پہنچے اوروہ ان کی جانب متوجہ ہوں۔

اگرکبھی کسی ضرورت کے تحت عورت کو گھر سے نکلنا بھی پڑے توحکم ہے کہ شرافت اورسنجیدگی سے اپناقدم بڑھائیں اورپردے کاخاص خیال رکھیں، کیوں کہ یہی وہ ساری صفات اور عادات ہیں جنھیں چھوڑدینے سے انسان غلط راستہ اختیار کرلیتاہے اورگناہوں کے دلدل میں پھنستاچلاجاتاہے۔ 

اب جبکہ عورت خود ایک پردہ ہے اورپردے کی چیز پردے میں ہی بھلی معلوم ہوتی ہے تو ہرحال میں عورتوں کو پردے کا خیال رکھنا چاہیے ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اورشریعت مطہرہ پرچلنے کی توفیق عطافرمائے ۔(آمین)

کامیاب زندگی کے چند اصول

کامیاب زندگی کے چند اصول

ام حبیبہ

اللہ رب العزت نے ایمان اور اسلام کی دولت سے نواز کر عورتوں کو وہ مقام عطا کیا ہے جو اِس سے پہلے انھیں نہیں ملا تھا ،وہ آزادی اور وہ حیثیت کسی بھی معاشرے میں انھیں نہیں ملی تھی جو اسلام نے انھیں دیا ہے ۔اُن کی حیثیت محض تکمیل شہوت کی ضرورت سے زیادہ نہ تھی، ان کو نہ سوچنے کی آزادی تھی نہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گذارنے کی ۔غرض کہ ذلت ورسوائی سے اُن کا دامن تار تار تھا،لیکن حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلابی بعثت نے انھیں فرش سے عرش پر لابٹھایا ۔

 اسلامی معاشرے میں ایک خاتون کو کامیاب زندگی گذارنے کے لئے جن اصولوں کی پابندی کرنی پڑتی ہے وہ مردوں کی بہ نسبت ذراالگ ہے ۔آزادی انھیں بھی حاصل ہے مگر جس طرح کی آزادی مردوں کو ہے ویسی نہیں ہے ،مثلا غیر محرم کے سامنے بے پردہ ہو کر جانا ،ان سے با ت کرنا منع ہے ، اس میں اللہ رب العزت کی بے پناہ حکمت ہے جو اُن کے حق میں مفید ہے ۔بظاہر کچھ لو گوں کو اس قانون میں سختی معلوم ہو تی ہے مگر وہ خود مشاہدہ کریںکہ دور حاضر میں اسلامی تہذیب اور غیر اسلامی تہذیب کاکیانفع اور نقصان ہے ۔

 بلاشبہ اسلام دین فطرت ہے اور اس کا کوئی بھی قانون خلاف فطرت نہیں ، بس تھوڑا سا غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ خواتین کے لیے جو دستور اللہ رب العزت نے بنایا ہے اس کو ہم یو ں بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ چند حقوق اور ذمے داریاں ہیں جن کااداکرنا عورتوں کی کامیابی کی دلیل ہے۔اُن میں سب سے پہلا حق اللہ رب العزت کا ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی فرماں برداری کریں، اس کی اطاعت اور بندگی کو حسن وخوبی کے ساتھ انجام دیں ۔ اُن پر جواحکام فرض کئے گئے ہیں انھیں بجالانے میں کوتاہی نہ برتیں، اس کی ناراضگی سے بچتی رہیں، ایمان وعمل کے تقاضوں کا لحاظ رکھیں۔اگر وہ چاہ لیں تو ان معاملات میں وہ مردوں پر سبقت بھی لے جا سکتی ہیں، اس لیے کہ خدا کی قربت اور ا س کی رضا کا دارو مدار( مردوزن کی تفریق کے بغیر)ایمان واعمال اوراخلاق واحوال پر ہے، اس میںنہ مرد کی تخصیص ہے نہ عورت کی،بلکہ اس میں مردو عورت سب برابرکے شریک ہیں، ان میں جن کا ایمان جتنا قوی ہو گا عمل جتنا اخلاص والا ہوگا،اخلاق واحوال جتنے پاکیزہ اور بلند ہوں گے اسی قدر اُن کو رب کی محبوبیت اور قربت ملے گی۔

دوسرا جو اہم حق ہے وہ عام لوگوں سے تعلق رکھتا ہے ۔ خیال رہے کہ ہر عورت سب سے پہلے کسی نہ کسی کی بیٹی ہوتی ہے، کسی کی بہن ہوتی ہے ،پھر کسی کی بیوی بنتی ہے ،اس اعتبار سے اس پر والدین ،بھائی،شوہر، اہل خانہ ، رشتے داروں اور عام مسلمانوں کے کچھ حقوق عائد ہو تے ہیں جن کی پاسداری کرنا نہایت ضروری ہے اور حیثیت ومرتبے کے اعتبار سے سب کا احترا م واجب ہے۔ شادی سے پہلے وہ ماں باپ کی امانت ہو تی ہے چو نکہ تعلیم و تربیت اور کفالت و پرورش کی تمام ترذمے داری انھیں کے کاندھوں پر ہو تی ہے، اس لیے اُن کی اطاعت اور خدمت ہر حال میںضروری ہے۔ بالغ ہو نے کے بعد شادی کا مسئلہ آتا ہے، اس کی ذمے داری بھی والدین کی ہوتی ہے، عورت کی اصل زندگی کا آغاز شادی کے بعد ہی ہو تا ہے،کیونکہ جب وہ شادی کے بعد اپنے سسرال جاتی ہے تو وہاںاس کاسامنا ایک ایسے ماحول سے ہوتا ہے جواس کے لیے اجنبی ہے،لیکن بظاہریہی اجنبی لوگ اورماحول اس کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے، جس کے ساتھ اسے اپنی زندگی کا باقی حصہ بسرکرناہے،گویا عورت کا گھرہی اس کا امتحان گاہ ہو تا ہے۔

   ایسے میں ہرعورت کو وہ جامع اصول ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے جو معلم اخلاق حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کیا ہے کہ: ’’ اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ ۔‘‘(بخاری)

یعنی اصل مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت رہیں۔

ایک دوسری روایت میں ہے:

’’ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللَّہُ عَنْہُ ۔‘‘(نسائی و احمد)

یعنی اصل مسلمان وہی ہے جس کی زبان وہاتھ سے لوگ سلامت رہیں،اور اصل مہاجر وہ ہے جو اس چیز سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے ۔

اور یہ ذمے داری صرف مردوں کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کے لیے ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، کیونکہ یہ ایک ایسا ضابطہ ہے جس پر عمل کرکے ایک مسلمان مرد وعورت کسی بھی ماحول میں اپنے حسن اخلاق کی چھاپ چھوڑ سکتا ہے ۔

بہر حال عورتوں کے لیے اس بات کا اہتمام نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان پرزیادہ نگاہ رکھیں کہ عورتیں زبان چلانے کے معاملے میں ویسے بھی مشہور ہیں، خاص طور سے غیبت اور چغلی جیسی بری عادتیں ان کے اندر عام ہیں الا ماشاء اللہ۔ جہاں بھی دوعورتیں جمع ہوجاتی ہیں تو ان کی زبان کا بازار گرم ہو جا تا  ہے اور ان کی زبان گناہ آلو د ہونے لگتی ہے مگر انھیںاس کا شعور نہیں ہو تا،جبکہ یہ جان لینا چاہیے کہ غیبت سخت حرام ہے، قرآن پاک میںواضح طور پر اس کی مما نعت آئی ہے:

’’وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُم بَعْضاً ۔‘‘ (حجرات:۱۲)

یعنی تم ایک دوسرے کی غیبت مت کرو۔

 غیبت کی سخت مذمت کرتے ہوئے فرمایاگیا:

’’ أَیُحِبُّ أَنْ یَّاکُلَ لَحْمَ أَخِیْہِ مَیْتَا ۔ (حجرات:۱۲)

یعنی غیبت ایسے ہی ہے جیسے مردار بھائی کا گوشت کھانا اس بد ترین چیز کو کوئی بھی انسان پسند نہیں کرتا ۔

 کچھ ماں بہنیں ایسی بھی ہیں جو غیبت کی حقیقت اور اس کا مطلب نہیں سمجھتی ہیں وہ کسی اور چیز کو غیبت سمجھے بیٹھی ہیں، اس لیے اس کی وضاحت کردوں کہ   کسی کے عیب یا کمی جو خود اس نے دیکھی ہو ،اور واقعی میں وہ عیب اس کے اندر موجودہو تو اس کو دوسروں کے پاس جاکر بیان کرنا اورپھیلانا غیبت ہے،لیکن اس کے مرشد، والدین ،استاذ یا جس کی تربیت میں ہو ،اصلاح اور خیر خواہی کی نیت سے بیان کرنا غیبت نہیں۔

  آج کے دور میں عورتیں خاص کر اپنے شریک زندگی شوہر کی عزت اور وقار کی پرواہ کیے بغیر تھوڑی سی تلخی پر غیبت اوربہتان تراشی کی تمام حدیں پار کردیتی ہیں جس کے نتیجے میں ، ان کی دنیابھی بربادہوجاتی ہے ا ورآخرت بھی تباہ ہوجاتی ہے ۔

اسی طرح ایک حساس مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایسے حالات آتے ہیں ایک طرف شوہر کی مرضی کچھ اور ہوتی ہے اور ماں باپ کی کچھ اور تو اس وقت وہ کس کی رضا کا خیا ل کرے سواس صورت میں حق اور جائز معاملہ میں شوہر کی اطاعت واجب ہے ماں باپ کی نہیں ۔

دوسرا اصول جو اپنی افادیت کے اعتبار سے نہایت اہم ہے ،وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے کہ: تم میں سے کو ئی اس وقت تک مو من نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے اندر یہ صفت پیدا نہ ہو جائے کہ وہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جواُسے اپنے لیے پسند ہو ۔

 اس تعلق سے پوری امت مسلمہ نہایت بے راہ روی کی شکار ہے اور بالخصوص عورتوں کے اندر تو دوسروں کے لیے ایسا جذبہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے، وہ اکثر اس تاک میں لگی رہتی ہیں کہ کس طرح دوسری ہم عمر کو ذلیل کیا جائے اور اپنی  پرفریب پاکیزگی و بڑائی کا ڈنکا کس طرح بجایاجائے ۔حالانکہ ان کی یہ عادت اس حدیث کے با لکل مخالف ہے کہ: جب تم اپنی بے عزتی پسند نہیں کرتی تو اسی طرح دوسروں کی بے عزتی بھی پسند نہ کرو ۔ لہذاجب ہماری بہنیں اپنی برائی سننا گوارا نہیں کرتیں تو اسی طرح انھیں نہ دوسروں کی برائی سننا چاہیے اور نہ کرنا چاہیے ۔ اگران اصولوں کی پابندی کیاجائے تویقینا ایک عورت اپنی دنیا و آخرت دونو ں کو سنوار سکتی ہے، اپنے گھر اور معاشرے کوخوش گوار اورپرامن بنا سکتی ہے، جب کہ اس کی خلاف ورزی  انھیں کہیں کا نہ رہنے دے گی۔

تصورمساوات کے مہلک اثرات

تصورمساوات کے مہلک اثرات

شوکت علی سعیدی

 اللہ عزّوجل کی بے شمار مخلوقات میں مرد و عورت ایسی مخلوق ہیں جنھیں اشرف المخلوقات کا تاج عطا کیا گیاہے ۔ کوئی جاندار یا غیرجاندار ایسا نہیں ہے جس میں مکمل موافقت پائی جائے۔ ہر ایک کی طبیعت مختلف ہے۔ ہر ایک کی ذمے داریاں الگ ہیں ۔یہ سارے اختلافات خالق کائنات کی طرف سے ہیں نہ کہ انسانوں نے پیدا کر لیے ہیں۔ چنانچہ قدرت نے جس کا جومقام و مرتبہ عطا کیا اسے اسی کے مطابق رکھا جائے تب ہی جاکرنظام کائنات سے سکون حاصل کیا جا سکتا ہے ورنہ نہیں۔اگرایسانہ ہوتو پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ایک مرد جو توانا اور طاقتور نہ ہو اس کے کندھے پر دس من کا بوجھ نہیں رکھا جا سکتا ،ہا ں! جو اس قابل ہو کہ دس من کا بوجھ اٹھاسکے تو اسے یہ ذمے داری دی جاسکتی ہے۔اس اصول کو نگا ہ میں رکھ کر ہی انسانی زندگی کو بہتر بنایا جاسکتاہے۔ اگرہر چیز اپنے مزاج و فطرت کے اعتبار سے قائم رہے تو مسائل پیدا نہیں ہوتے اور جہاں کہیں اس کے اصل مزاج اورفطرت سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تو فوراً مختلف مسائل پیدا ہو نے لگتے ہیں۔

 جس طرح مرد ایک خاص مزاج کا حامل ہوتا ہے اسی طرح عورت بھی نسل انسانی سے تعلق رکھنے کے باوجوداپنی طبیعت و خصلت کے سبب مردسے مختلف ہوتی ہے ۔مگر اس واضح اختلاف کے بعد بھی چند دانش مند حضرات یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ مرد وعورت کی ذمے داریاں الگ الگ ہیں، بلکہ ان کا کہنا ہے کہ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے۔ ان کا یہ الزام بھی ہے کہ صدیوں سے عورتوں کو تعلیم وثقافت سے دور رکھا گیا جس کی وجہ سے وہ ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں اور قیدی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جیسے ہی انھیں آزادی ملتی ہے، وہ بڑے بڑے مقابلوں میں کامیاب ہوتی نظر آتی ہیں، مثلاًسیاست،کھیل، صحافت، تعلیم اور تجارت میں جو عورتیں کامیاب ہو رہی ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ انھیں آزادی کی زندگی نصیب ہوئی ۔

لیکن دوسری جانب ایک جماعت اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ عورتیں ہر وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں ہر وہ کام کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے جو مرد کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر عورتیں مردوں کی طرح میدان عمل میں آجائیں تو عام سماجی زندگی بہتر نہیں ہوپائے گی، جیسے سماج میں بڑھتے ہوئے جرائم، بدکاریاں، کمپنیوں اور آفسوں میں عورتوں کا استحصال،خانگی زندگی کا درہم برہم ہونا ،بچوں کی غیر ذمہ دارانہ تربیت، ماں باپ کی نافرمانیاں اور دیگر غیر اخلاقی بیماریاں، یہ سب عورتوں کو اُن کا اپنا مقام نہ دینے اور انھیں ان کی اپنی ذمے داریوں سے دور رکھنے کے سبب پیدا ہوتے ہیں ۔

جو لوگ عورتوں کو مردوں کے برابر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مردوں اور عورتوں کی ذیلی صفات کو سامنے رکھتے ہیں مثلا :

مرد: عاقل، سمجھدار، تجربہ کار،جسمانی طور پر مضبوط، مدافعت کی قوت رکھنے والے اور معاف کرنے والی صفات سے متصف ہوتے ہیں۔

عورتیں: نرم و نازک ، جسمانی طور پر کمزوراورصبر و تحمل کی پیکرہوتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ساری صفتیں جو مردوں کے اندر پائی جاتی ہیں کیاان میں سے بعض عورتوں کے اندر نہیں پائی جاتیں اور جو صفات عورتوں کے اندر پائی جاتی ہیں ان میں سے بعض مردوں کے اندر پائی نہیں جاتیں؟تو پھر انھیں برابری کا درجہ دینے میں حرج ہی کیا ہے؟ ہاں! جسمانی اختلاف کی وجہ سے چند جگہوں پر رعایت دی جاسکتی ہے ۔پس نتیجہ یہ نکلا کہ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کا کام کر سکتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے برابر حق رکھتے ہیں۔پھر یہ کہ مرد وعورت کے عمل میں جواختلاف ہے وہ خدائی اختلاف نہیں ہے بلکہ انسانوں کا پیدا کیا ہوا ہے۔یہ ایک سماجی ڈھانچہ( Social Structure) ہے۔ بچوںاور بچیوں کی الگ الگ ڈھنگ سے تربیت ہوتی ہے ، اسی کا اثر ہے کہ مرد یہ سمجھتا ہے کہ عورت کو یہ کام نہیں کرنا چاہیے اور عورت بھی یہ سمجھتی ہے کہ میں عورت ہوں مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے ۔

اس لیے عورتوں کو مردوں کی طرح کام کرنے سے منع کرنا ظلم ہے۔ اس صورت میں عورت گھر کی چہار دیواری میں بند ہوکررہ جاتی ہے۔ تومیں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا مرد ایک مشین پر ڈیوٹی دے کر، ایک کمپنی کے اندر یاایک دوکان پررہ کر اپنی زندگی کونہیں گزاردیتا؟کیا اس پر یہ ظلم نہیں؟جب مردوں کو ایسا کرنا ظلم نہیں تو عورتوں کو امور خانہ داری پر لگانا کیوں کرظلم ہوسکتاہے؟ اور اگر واقعی عورتیں امور خانہ داری سے باہر آکر اپنی زندگی کو پہلے سے بہتر بناسکتیں اور سماج کو پیچیدہ اور پریشان کن مسائل سے روک سکتیں تویہ درست ہوتا،لیکن یہاں تو معاملہ بالکل برعکس ہے ۔آج عورتوں کو گھر سے باہر نکال کر خود عورتوں کے لیے ہزارہا مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔

 اوریہ سارے مسائل صرف اور صرف اسی وجہ سے ہیں کہ انسان خالق کائنات کے پیدا کیے ہوئے وسائل کو صحیح طور پر نہیں برت پارہا ہے۔وہ نہ صرف خدا کے قانون کی خلاف ورزی کررہاہے بلکہ خود بے لگام ہو گیا ہے ۔اپنی مرضی کے مطابق نیاقانون بنانا شروع کر دیا ہے اور خدا کی خدائی میں نقص نکال کر اپنے کمال وہنر کامظاہرہ کرنے لگاہے جبکہ حقیقت میں وہ اپنی اور پوری انسانیت کی تباہی کاسامان فراہم کر رہاہے۔ حالانکہ کلام الٰہی نے واضح طور پریہ اعلان کر دیا ہے:

 ’’اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ۔‘‘(سورہ قمر، آیت:۴۹)

یعنی ہم نے ہر چیز کو ایک خاص انداز پر پیدا کیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ عورتیں جوآغاز آفرینش سے مردوں سے الگ صفات کی حامل ہیں اور ان کی ذمے داریاں بھی مردوں کی بہ نسبت مختلف ہوتی ہیں۔پھراس تصور کو مٹانے کی کوشش کرنے والی جماعت کا آخر مقصد کیا ہے؟ کیاحقیقت میں وہ عورتوں کے مسائل حل کرانا چاہتی ہے؟ کیا وہ سچ مچ عورتوں کو ظلم و جبر سے نکالنا چاہتی ہے؟ ظاہر ہے یہ ان کا مقصد نہیں ہو سکتا ،ورنہ مغربی ممالک میں عورتیںاس قدر استحصال کا شکار نہ ہوتیں ۔

ہاں! ان کا مقصد یہ ضرور ہے کہ ملک کی معاشی حالت بہتر ہو۔مرد بھی کمائے اور عورت بھی،جس سے شرح معاشیات میں اضافہ ہو اور یہ مقصد دیکھنے میں بھی آرہا ہے۔ مغربی ممالک کی معاشی ترقی کا ایک اہم محرک یہ بھی ہے کہ مرد آٹھ گھنٹے کام کرتاہے تو عورت بھی آٹھ گھنٹے کام کرتی ہے۔وہ کام جس سے دنیا کی دولت ایک جگہ سمیٹی جا سکے۔ مشرقی عورتوں کی بات کریں تو وہ بھی گھریلو کام کرتی ہیں اور بعض تو بارہ بارہ گھنٹے گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں جومردوں کے کام سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن ان کاموں سے اس معاشیات کی ترقی نہیں ہوتی جو ترقی یافتہ مغربی ممالک چاہتے ہیں۔

 آج کل معاشیات کی ترقی کا نشہ جو ہر ترقی پذیر ممالک پر چڑھا ہوا ہے اوراس کے حصول کے لیے وہ ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔خواہ اس سے لاکھوں مسائل کیوں نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ انسانیت حیوانیت میں کیوں نہ تبدیل ہو جائے اور انسانیت کی تعریف ہی کیوںنہ بدل جائے،لیکن معاشی ترقی ہونی چاہیے۔ اس کا حل ضرورنکالا جائے گااور نت نئے طریقے ایجاد کیے جائیں گے۔

یہ رجحان ترقی پذیرممالک میں اس قدر پنپنا شروع ہو گیا ہے کہ بڑے شہروں میں لڑکیاں دن تو دن اب راتوں میں بھی کام پر جانے لگی ہیں۔اس میںنہ ہندو معاشرے کی تخصیص ہے اور نہ مسلم معاشرے کی،جس کی وجہ سے آئے دن جرائم کی خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ سنجیدہ اور حساس انسان حیران ہے اور کافی فکر مندبھی کہ اس شیطانی وبا کو کیوں کر روکا جائے اورانسانی اصولوں کو مٹاکر خدائی اصولوں کو جو مخلوقات کی طبیعت اور فطرت کے عین موافق ہیں کیسے عمل میں لایا جائے۔

ایک جانب وہ جماعت ہے جو خدائی اصولوں کی نافرمانی کرکے خود ساختہ اصولوں پر عمل پیرا ہے اور باضابطہ ایک غالب مورچے کی شکل اختیار کر لی ہے اوردوسری طرف وہ جماعت ہے جو انسان کو اس کی فطرت اور مزاج کے مطابق رکھنے پر ُمصر ہونے کے باوجود؛دن بدن کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اس کے باوجودغیر تو غیر اپنے بھی اسے مذہبی، دقیانوسی اور فرسودہ خیال کہہ کر کنارے پہ ڈال رہے ہیںاور سارے اخلاقی اقدار کو توڑتے ہوئے مغربی اذہان و افکار کے ہم نوا بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف خود ان کی تباہی ہورہی ہے بلکہ جو اُن کے ارد گرد ہیں وہ بھی اس چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں۔

اب تو عالم ،پنڈت، فادر اور دیگر مذہبی رہنما ؤںکا اثربھی عوام قبول نہیں کر پارہی ہے۔والدین اپنی اولاد کو قابو میں نہیں رکھ پارہے ہیں اور پورا سماج اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ حتی کہ ملک کی تہذیبی اورثقافتی علامات بھی مٹتی جارہی ہیں۔ خارجی اثرات جنھیں ہم مغربی اثرات کہہ سکتے ہیں بلا روک ٹوک ملک و معاشرے کواپنی چپیٹ میں لے چکے ہیں ، لیکن افسوس کہ ہمارا معاشرہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے چین کی بانسری بجا رہا ہے۔

اب جبکہ عورت کومرد کے برابرقراردینے کا نتیجہ واـضح ہو چکا ہے کہ اس رجحان کو فروغ دینے کا مقصدعورتوں کو ظلم و ستم سے نجات دلانا نہیں،بلکہ اس کامقصد یہ ہے کہ معاشی مضبوطی حاصل ہو۔آمدنی میں اضافہ ہو۔ دنیا میں مال وزر اکٹھا کیا جائے ۔مرد اپنے معاش کا خود ذمہ دار ہو اور عورت اپنی کفالت کاخود، تاکہ دونوں آزاد رہ سکیں۔ ایسی صورت میں اس فانی دنیاکے عیش و آرام کے جال سے باہر لا نے کے لیے ضروری ہے کہ آخرت کی یاد دلائی جائے۔ دلوںمیں ’’  مَتَاعُ اَلدُّ نْیَا قَلِیْلٌ ‘‘(دنیا کی پونجی بہت کم اور حقیر ہے)  کو جاگزیں کیا جائے اور انسان کو اس کا اصلی منصب یاد دلایا جائے۔ عورتیں اپنے فرائض منصبی کو یادرکھیں اور مرد اپنے فرائض منصبی کو۔

 اس حقیقت کے باوجودکہ یہ عمل بڑا مشکل ہے ،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کے بس سے باہر نہیں اور یہ ساری چیزیں بغیر اسلامی تعلیمات کے ممکن نہیں،کیونکہ مخلوق اپنے خالق کے قوانین کو اپنا کر ہی ایک صالح اور خوبصورت معاشرے کا نمونہ پیش کرسکتی ہے۔بالخصوص عورتیں اگر اس ذمے داری کوقبول کر لیں تو یہ نہ صرف ان کے لیے بہتر ہے بلکہ اس طرح وہ پورے معاشرے کو خوبصورت اور صالح بنا سکتی ہیں۔

خواتین کی تعلیم کے اثرات

خواتین کی تعلیم کے اثرات

آفتاب رشک مصباحی

 

علم ایک نور ہے،علم ایک قیمتی موتی ہے، ایک روشن چراغ ہے، ایک سمندر ہے، ایک کھلتا گلاب ہے اور علم ایک گم شدہ حکمت ہے جس سے فکر کو روشنی ملتی ہے۔جو گلے کا ہار بنتا ہے ، تاریکی دور کرتا ہے، جس سے قسم قسم کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، جس کی خوشبو سے ماحول اور معاشرہ خوشبو دار بن جاتا ہے۔جس پر مومن کا فطری حق ہے۔ اس لیے اس کی تلاش مومن کی فطری ذمہ داری ہے۔

علم کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہمارے آخری پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام پر نازل ہونے والی پہلی وحی سے کیا جا سکتا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے نام سے پڑھنے کو کہا گیاہے اور تعلیم کی اہمیت اور اس کی افادیت مسلم ہے جس کے بغیر ہم خدا کو نہیں پہچان سکتے۔اس مقصد کی تکمیل کے لیے تعلیم کاجو سلسلہ روز اول سے شروع ہوا وہ آج بھی بدستور جاری ہے ۔

حالانکہ مسلمان بھی علم کی جانب کافی حد تک توجہ دے رہے ہیں لیکن مسلم بچیوں اور خواتین میں تعلیم وتربیت کی صورت حال اب بھی بہتر نہیں۔ عورتوں کی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس طور پر کیا جا سکتا ہے کہ ماں کی گود کو بچوں کے حق میں ابتدائی مکتب کا درجہ حاصل ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو عورتوں کی تعلیم میں یقینا ملک و ملت اورسماج و معاشرے کی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔

خواتین اگر تعلیم یافتہ ہوں گی تو خود بھی اچھے ماحول میں زندگی بسر کریں گی اوراپنے بچوں کو بھی ابتدا سے ہی دینی باتیں یعنی کلمہ، درود، سلام، بڑوں کا ادب اور ان کی تعظیم کے آداب سکھائیں گی۔ یوں بچوں کی تربیت دینی ماحول میں ہوگی۔ نئی نسلوں میں تعلیم عام ہو گی اورعلمی ماحول پروان چڑھے گا۔

عورتوں کی تعلیم وتربیت کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ عورتوں کے مسائل کو ایک عورت کی نظر سے دیکھے گی اور ان مسائل کے حل کی کوشش بھی کرے گی جو خواتین کی نفسیات کے مطابق اور ہم مزاج ہوگا۔ساتھ ہی تعلیم یافتہ خاتون عورتوں کے ان مسائل کا حل بآسانی تلاش سکے گی جس میں عام طور سے مرد کے لیے رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ عورت کے ذریعے سے معاشرے میں جو اصلاح کا کام ہو سکتا ہے وہ غیر معمولی ہے ۔ اگر ہم اس کے تمام پہلوؤں پر غور کریں اور جائزہ لیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ اگر اس عورت کا شوہر اخلاقی ، دینی اور تعلیمی کمزوریوں میں مبتلا ہے تو ایک تعلیم یافتہ عورت بحسن و خوبی اس کی اصلاح کرسکتی ہے،وہ بھی ایک خوشگوار ماحول میں جو شوہر کی زندگی میں ایک صالح انقلاب پیدا کرے گا۔ اسی طرح وہ عورت اپنے بچوں کی، خواتین رشتہ داروں کی، سہیلیوں کی اور خاندان کی تربیت و اصلاح کے فرائض انجام دے سکتی ہے اور ہر ایک کے نتائج و ثمرات جداگانہ ہوں گے۔ جس سے گھر ،خاندان اور پڑوس کا ماحول، علمی اور دینی ہو جائے گااور یہی چیزیں خاندان اور معاشرے کو خوبصورت اور قابل قدر بنانے کی بنیادیں ہیں ۔ جب بنیاد مضبوط اور مستحکم ہوگی توایسے میں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشرہ نمونہ کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم یافتہ خاتون اپنے ضروری مشغولیات سے فراغت کے بعد بقیہ اوقات کو یونہی دنیا داری اور مافوق الفطرت قصے ، کہانیوں اور دوسروں کی برائی کرنے میں گذارنے کے بجائے اللہ اور رسول کی باتیں کریں گی۔صحابیات کی حالات زندگی اور ان کے روشن و تابناک کارنامے سنائے گی جس کا اثر خود ان کی زندگی پر بھی ہوگا۔پھر دوسروں کی ذات میں کیڑے نکالنے کی بجائے ذاتی خرابیوں کی جانب توجہ کریں گی اور خود کو ان تمام برائیوں سے پاک و صاف کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی جو کار ثواب بھی ہوگا اور دعوت وتبلیغ کا عمل بھی۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا غرض کہ ہر عمل و حرکت میں اسلامی افکار اور دینی نظریات کی چمک دمک صاف دکھائی دے گی۔

نیز پڑھی لکھی خواتین اپنے معاشرے اور سماج کی بزرگ اور عمر رسیدہ خواتین میں تعلیمی بیدار ی کا جو کھم بھرا کام بڑے ہی آسانی سے انجام دے سکتی ہیں۔ جہاں ایک دوسرے سے پردے وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ نماز روزہ، حج اور زکوۃ کے مسائل سمجھانے کے لیے ہفتہ وارانہ نشستیں بھی کر سکتی ہیں جن کے ذریعے خواتین میں اللہ اور رسول کی عبادت اور محبت کا جذبہ پیدا ہوگا اور معاشرے میں اچھی زندگی گذارنے کا سلیقہ اور ہنربھی آئے گا۔

سماج میں تعلیم نسواں کے جو مسائل ہیں یا جن مشکلات کا سامنا بچیوں کے والدین کو آئے دن کرنا پڑتا ہے۔عورتوں کی تعلیم کے فروغ کے ذریعے ان مشکلات تک بآسانی پہنچا جا سکتا ہے اور ان مسائل کو بحسن و خوبی حل کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے بہتر سے بہتر طریقے اپنائے جا سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا خطوط پر اگر طبقہ خواتین میں تعلیم کا آغاز ہو اور اس پر ہمیشگی برتی گئی تو پھر اپنے گھراور پاس پڑوس کے بچوں اور بچیوں میں علمی انقلاب برپا ہو جائے گا، ایک دینی ماحول اور اسلامی فضا بنے گی، صالح معاشرے کا قیام عمل میں آئے گا جس کا فائدہ براہ راست ملک، ریاست، ضلع ، گاؤں اور محلے کو حاصل ہوگا اور بعد وفات خود خاتون کو اس کا اجر و ثواب ملے گا۔ جہالت کی تاریکی دور ہو گی اورچاروںطرف علم کی روشنی پھیلے گی۔ خدا کی معرفت اور اس کا خوف پیدا ہوگا ۔احکام خداوندی کی بجا آوری کا جذبہ پیدا ہوگا، معاشرے کی زبان پر فلمی گانوں کے بجائے حمد و نعت کے نغمے ہوں گے اور اس طرح سے دھیرے دھیرے سماج میں پھیلی ہوئی برائی ، بے حیائی اور بدعملی کا خاتمہ بآسانی ہو جائے گا۔