سبسڈی والا حج

سؤال:

حکومت کی طرف سے ملنے والی حج سبسڈی پہ جن لوگوں نے حج کیا ہے کیا أنکا حج صحیح ہے ؟ کیونکہ حکومت کی آمدنی میں سود کی رقم بھی شامل ہوتی ہے .

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ،

وبعد:

جب ہم لوگوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں تو وہ تین طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں:

پہلی قسم:

أن لوگوں کی ہے جنکی آمدنی کے سب ذرائع جائز و حلال ہوتے ہیں أنکے ساتھ تعامل کرنے یا أن سے گفٹ وغیرہ وصول کرنے میں کسی کا اختلاف نہیں ، بلکہ أحسن یہی ہے کہ أیسے ہی لوگوں کے ساتھ تعامل کرنے أور کاروبار کرنے کو ترجیح دی جائے ، جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” وتعاونوا على البر والتقوى ” ( مائدہ ، 2 )

ترجمہ: نیکی أور تقوی ( کے معاملات) پر إیک دوسرے کی مدد کیا کرو۔

سب نیک عمل کسب حلال ہے تو جب ہم حلال ذرائع سے کاروبار کرنے والے سے کاروبار کریں گے تو یہ أسکے تعاون میں شامل ہوگا أور ہماری آمدنی کسب حلال سے ہوگی ، أور کسب حلال کی فضیلت میں کثیر أحادیث مبارکہ وارد ہیں جیسے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

” نعم المال الصالح للرجل الصالح "

ترجمہ: نیک شخص کے لیے پاکیزہ مال کتنا ہی أچھا ہے.

( شعب الإيمان للبيهقي ، حديث : 1190 ، 2/446 )

إس حدیث مبارکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال حلال کی تعریف کی أور نیک لوگوں کے لیے یہی حلال مال أچھا ہوتا ہے مطلب أنکو حرام مال قریب نہیں جانا چاہیے.

دوسری قسم:

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں ہوتے ہیں ،

تقوی یہ ہے کہ أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل و لین دین نہیں کرنا چاہیے لیکن أگر کوئی أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل کرلیتا ہے تو شرعا کوئی ممانعت نہیں بشرطیکہ وہ جو معاملہ کررہا ہے وہ شرعی طریقے کے مطابق ہے مثلا اگر کوئی سود والے شخص سے کوئی شئے خریدتا ہے یا أسے بیچتا ہے تو أگر أسکا خریدنا یا بیچنا سود سے خالی ہے تو کوئی حرج نہیں جیسے کہ علامہ عینی حنفی أور ابن بطال مالکی نے أیسے معاملے کے جواز پر درج ذیل دلائل ذکر کیے ہیں:

قال ابن المنذر : احتج من رخص فيه بأن الله تعالى ذكر اليهود فقال ” سماعون للكذب أكالون للسحت "/ مائده ، 24 .

وقد رھن الشارع درعه عند اليهودي ، وقال الطبري : إباحة الله تعالى أخذ الجزية من أهل الكتاب مع علمه بأن أكثر أموالهم أثمان الخمور والخنازير ، وهم يتعاملون بالربا.

ترجمہ:

ابن منذر فرماتے ہیں : جو أیسے لوگوں کے ساتھ معاملے کرنے کی رخصت دیتے ہیں وہ ” سماعون للکذب أکالون للسحت ” آیت سے استدلال کرتے ہیں ، أور جو حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہودیوں کے پاس أپنی درعہ رکھی أس سے بھی ، أور إمام طبری فرماتے ہیں: اللہ رب العزت نے اہل کتاب سے جزیہ لینے کو مباح قرار دیا حالانکہ أنکے مال میں شراب و خنزیر سے حاصل ہونے والے مال کی آمیزش ہوتی تھی أور وہ یہودی سود کا کاروبار بھی کرتے تھے .

( عمدۃ القاری ، 9/55 ، شرح صحیح البخاری لابن بطال مالکی ،3/511 )

حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہودیوں سے معاملہ فرمایا حالانکہ یہودی کی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں تھے تو لہذا إس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسکی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں ہوں تو أس سے بھی تعامل کیا جاسکتا ہے شرعا أس میں کوئی ممانعت نہیں .

اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ جو سود لیتا ہو کیا أسکے ہاں کھانا کھاسکتے ہیں تو آپ نے کھانا کھانے کی إجازت دی.

(شرح صحیح بخاری ابن بطال مالکی ، 3/511 )

تیسری قسم:

تیسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جنکا سارا مال ہی حرام ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہو تو إسکی دو صورتیں ہے ہیں:

پہلی صورت:

وہ مال حرام لعینہ ہو یعنی دوسرے کی مرضی کے بغیر حاصل کیا گیا ہو جیسے ڈاکہ ڈال کر یا چوری کرکے یا قبضہ کرکے تو أیسا مال أس سے نہیں لیا جائے گا أور نہ ہی أس سے لین دین کیا جائے گا کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے جیسے بعض دکاندار چوروں أور ڈاکوؤں سے لین دین دین کرتے ہیں تو یہ حرام ہے

جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب” ( مائده ، 2 )

ترجمہ:

گناہ أور ظلم پر إیک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو أور اللہ سے ڈرو ، بے شک اللہ رب العزت سخت سزا دینے والا ہے.

لہذا چوری و ڈاکہ یا ناجائز قبضے والا مال خریدنا یہ گناہ و ظلم پر چور یا ڈاکو مدد کرنے کے زمرے میں آتا ہے اس لیے أس کے ساتھ لین دین جائز نہیں.

دوسری صورت:

حرام لکسبہ،

أگر أسکا یہ حرام مال کسب حرام سے ہے یعنی سود وغیرہ سے تو آپ تعامل کرسکتے ہیں بشرطیکہ آپ کے أور أسکے درمیان لین دین حرام طریقے سے نہ ہو لیکن علماء کرام نے أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل کو مکروہ کہا ہے یعنی کراہت تحریمی کیونکہ یہ بھی حرام پر مدد کرنے کے زمرے میں ہے.

لہذا حرام لعینہ میں علماء کرام کا اتفاق ہے کہ أس میں لین دین جائز نہیں .

اعتراض :

کیا جسکا مال حلال و حرام ذرائع سے آتا ہو تو کیا لین دین کے وقت أس سے پوچھیں گے کہ کیا جو مال تم مجھے دے رہے ہو وہ حلال ذرائع سے ہے یا حرام سے؟

رد:

نہیں ، أس سے پوچھیں گے نہیں أگر آپکو وہ خود بتائے یا پھر آپکو خود کسی ذریعے سے معلوم ہوجائے تو پھر وہ مال لینا جائز نہیں ہوگا ، أگر نہیں معلوم تو آپ أسکے ساتھ معاملات کرسکتے ہیں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے استفسار کرنے سے منع فرمایا ہے:

” إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فأطعمه طعاما فليأكل من طعامه، ولا يسأله عنه ، وإن سقاه شرابا من شرابه فليشرب من شرابه ، ولا يسأله عنه "

ترجمہ:

جب تم میں سے کوئی أپنے مسلمان بھائی کے پاس حاضر ہو ، پس وہ أسکو کھانا کھلائے تو وہ کھالے أس( کھانے) کے متعلق سؤال نہ کرے ، أور أگر کوئی مشروب پلائے تو پی لے ، أور أس ( مشروب) کے متعلق سؤال نہ کرے ( کہ وہ حلال ذرائع سے ہے یا حرام) .

( مسند أحمد بن حنبل ،حدیث نمبر: 9184 ، 15/99 , حدیث حسن ہے)

إس حدیث میں واضح ہے کہ جو مسلمان بھائی دے وہ لے لے أس سے سؤال نہ کرے کہ یہ حرام ذرائع سے ہے یا حلال

کیونکہ مسلمان اصلا حلال ذرائع سے رزق حاصل کرتا ہے ، أور جب وہ معروف ہوجائے کہ وہ حرام کا کاروبار بھی کرتا ہے تو پھر احتیاطا أس سے سؤال کرسکتا ہے کیونکہ أب وہ وہ خود کو أس أصل سے خارج کرچکا ہے جیسے ملا علی قاری فرماتے ہیں :

” وذلک إذا لم يعلم فسقه "

ترجمہ:

یہ سؤال نہ کرنا أس وقت ہوگا جب أسکا فسق معلوم نہ ہو ( أگر حرام ذرائع سے مال حاصل کرنا أسکی عادت بن گئ ہو تو وہ پھر سؤال کرے گا یہ حلال میں سے ہے یا حرام میں سے ).

( مرقاة المفاتيح للملا علي قاري ، حديث نمبر : 3228 ، 5/211 )

أگر کوئی أپنے حلال مال کو حرام مال سے پاک کرنا چاہے تو أسکا طریقہ کیا ہے ؟

إسکا طریقہ یہ ہے کہ أگر مال حرام لعینہ ہے یعنی وہ مال أس نے چوری یا ڈاکہ یا ناجائز قبضے کرکے کمایا ہے تو پھر جن سے أس نے وہ مال چوری کیا ہے أنکو واپس کردے ، أگر أسکو معلوم نہیں تو پھر ملکی خزانے میں جمع کروادے أگر أسے یقین ہوکہ حاکم وقت کرپٹ نہیں ، أور أگر وہ کرپٹ ہے تو غرباء وغیرہ میں تقسیم کردے جتنی حرام مال کی قدر ہو أسکو تقسیم کردے أپنے مال میں سے نکال کر أگر تمییز ممکن نہ ہو أگر ممکن ہو تو پھر جو مال حرام اس نے الگ رکھا ہوا ہے اسی کو تقسیم کرے

أگر أسکا مال حرام لکسبہ ہے یعنی دوسروں سے أس نے بیع و شراء کرکے کمایا ہے لیکن حرام طریقے سے جیسے سود وغیرہ لے کر تو جو حرام کا مال ہے وہ مکی خزانے میں جمع کردے أگر حاکم وقت کرپٹ نہیں أور أگر کرپٹ ہے تو پھر وہ مال غرباء و مساکین و ضرورت مندوں میں تقسیم کردے .

أور یہ أحکام حدیث ابن اللتبیہ سے مستنبط ہیں کیونکہ انہوں نے بھی ناجائز طریقے سے مال جمع کیا تھا ، یہ متفق علیہ حدیث ہے

( صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 6979 ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 1832 )

حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی پر حج کا حکم کیا ہے؟

حکومت کی آمدنی حلال و حرام دونوں ذرائع سے حاصل ہوتی ہے تو یہ دوسری قسم کے لوگوں کے تحت إسکا حکم آئے گا یعنی حکومت کا مال حلال و حرام دونوں ہوتا ہے تو جو وہ سبسڈی دے رہی تھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ حلال مال سے ہو

أور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرام مال سے لیکن کیونکہ یقینا نہیں معلوم کہ وہ جو سبسڈی دیتی رہی ہے وہ حرام مال سے تھی یا حلال سے تو إس شبہہ کی بنیاد پر وہ سبسڈی پر کیا ہوا حج صحیح ہے لیکن إس حرام کے احتمال کی وجہ سے أن لوگوں کو توبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ أنکا حج مقبول ہو ،

مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ آپ نے فرمایا:

” لا بأس بجوائز السلطان ، فإن ما يعطيكم من الحلال أكثر مما يعطيكم من الحرام، وقال: لا تسأل السلطان شيئاً ، وإن أعطى فخذ ، فإن ما في بيت المال من الحلال أكثر مما فيه من الحرام "

ترجمہ:

بادشاہ ( حاکم وقت) کے تحائف ( لینے میں) کوئی حرج نہیں ، کیونکہ وہ حلال میں سے جو دیتے ہیں وہ أس حرام میں سے جو دیتے ہیں أس سے زیادہ ہوتے ہیں ( یعنی حلال تحائف زیادہ ہوتے ہیں) ، أور فرمایا: بادشاہ سے سوال بھی نہیں کرو گے ( کہ یہ حلال ہے یا حرام) ، أگر وہ تمہیں دیں تو لے لو کیونکہ بیت المال ( ملکی خزانے) میں حلال کا مال حرام سے زیادہ ہوتا ہے.

( مغنی لابن قدامہ ، فصل حکم قبول جوائز السلطان ، 4/202 )

یہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے أپنے دور کے ملکی خزانے کی بات کررہے ہیں کیونکہ أس وقت جو جزیہ وغیرہ ہوتا تھا تو وہ اہل کتاب سے لیا جاتا تھا جنکی آمدنی حرام ذرائع سے بھی ہوتی تھی إس لیے بیت المال ( ملکی خزانے) میں حرام مال کے ہونے کا خدشہ رہتا تھا لیکن مولا علی رضی اللہ عنہ کے قول کا یہ مطلب نہیں أس وقت خلفائے راشدین حرام ذرائع سے مال جمع کرتے تھے لہذا کسی کے ذہن میں کوئی شبہہ پیدا نہ ہو۔

جیسے حضور صلی الله علیہ وسلم أہل کتاب کے تحائف کو قبول فرماتے تھے حالانکہ أنکی آمدنی حلال و حرام سے مختلط ہوتی تھی لیکن کیونکہ بعینہ معلوم نہیں تھی تو إس لیے قبول فرماتے ، أگر معلوم ہوتا کہ یہ حرام ہے تو قبول نہیں فرماتے تھے ،

أیلہ کے بادشاہ نے آپکو إیک سفید سواری گفٹ کی أور چادر پہنائی إسکو إمام بخاری نے أپنی صحیح میں روایت کیا ہے ، حدیث نمبر : 1481 ،

إسی طرح وہ یہودیہ عورت کا جو قصہ معروف ہے جس نے زہر والی بکری کھلائی تو أسکی دعوت بھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے قبول فرمائی تو یہ واقعہ ہوا

أور یہ واقعہ متفق علیہ ہے صحیح بخاری میں باب قبول ہدیۃ المشرکین أور صحیح مسلم باب السم دیکھیں۔

لہذا جب حکومت کی آمدنی حلال و حرام ذرائع دونوں سے ہے أور بعینہ مال حرام ہونا معلوم بھی نہیں ہوتا تو أسکی طرف حج سبسڈی کا گفٹ لینے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں لیکن ورعا و تقوی کے طور پہ جائز نہیں.

اعتراض:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے جو أہل کتاب سے ہدیہ قبول کیا کیا وہ تقوی کے خلاف تھا؟

رد:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے أہل کتاب کے جو ہدیے قبول کیے أسکی دو وجہ تھیں:

پہلی وجہ :

یہ تھی کہ جواز کو ثابت کیا جائے یعنی یہ ظاہر کرنا تھا کہ أہل کتاب سے ہدیہ لینا جائز ہے أگر چہ أنکی آمدنی حلال و حرام مال سے مختلط ہوتی۔

دوسری وجہ:

تالیف قلوب تھا کہ وہ أپکے إس حسن سلوک سے متاثر ہوکر إسلام قبول کرلیں لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم کا أہل کتاب سے ہدیہ لینا تقوی کے خلاف نہ تھا بلکہ شرعی حکم واضح کرنا تھا.

ہمارے دور میں تو حکومت کی آمدنی زیادہ حرام ذرائع سے ہوتی ہے لہذا بچنا چاہیے أور إسی میں تقوی ہے.

کیا حرام مال سے کیا ہوا حج ہوجاتا ہے؟

حج میں أصل یہ ہے کہ إنسان حلال آمدنی سے حج کرے جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” إنما يتقبل الله من المتقين "

( مائده ، 27 )

ترجمہ: بے شک اللہ ( أعمال ) متقین سے قبول فرماتا ہے .

آیت میں صریح ہے کہ عمل وہی قبول ہے جسکی بنیاد تقویٰ پر ہو أور جو حرام مال سے حج کرے أسکی بنیاد تقوی پر نہیں بلکہ گناہ پر ہے لہذا وہ قبول نہیں.

أور

حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :

” إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ حَاجًّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَلالٌ ، وَرَاحِلَتُكَ حَلالٌ ، وَحَجُّكُ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورٍ ، وَإِذَا خَرَجَ بِالنَّفَقَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لا لَبَّيْكَ وَلا سَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَرَامٌ وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ

( المعجم الأوسط للطبرانی ، حدیث نمںر : 5228 ، 5/251 ، حدیث کی سند ضعیف ہے ، جامع العلوم والحکم ، 1/261 )

مفہوم حدیث:

جب شخص حلال مال کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلتا ہے تو جب وہ کہتا ہے لبیک اللہم لبیک تو آسمان سے نداء دینے والا کہتا ہے لبیک و سعدیک تمہارا زاد راہ حلال ، تمہاری سواری ( ٹکٹ) حلال پیسوں کی ، تمہارا حج مقبول ہے ، جب کوئی شخص حرام مال کے ساتھ حج کرتا ہے تو آسمان سے نداء دینے والا فرشتہ کہتا ہے : لا لبیک ولا سعدیک ، تمہارا زاد راہ حرام ہے تمہاری ٹکٹ حرام کی ہے ، تمہارا حج غیر مقبول ہے.

تمام فقہاء کرام کا اتفاق ہے سوائے حنابلہ کے ظاہری قول کے کہ حج أدا ہوجائے گا یعنی فریضہ ساقط ہو جائے گا لیکن قبول نہیں ہوگا مطلب ثواب نہیں ہوگا أور وہ گنہگار بھی شمار ہوگا کیونکہ أس نے حرام مال سے حج کیا ہے ،

أور مذہب حنبلی کے ظاہری قول کے مطابق أسکا حج بھی أدا نہیں ہوگا بلکہ وہ أپنی حلال آمدنی سے دوبارہ حج کرے گا.

( حاشیہ ابن عابدین حنفی ، مطلب فیمن حج بمال حرام ، 2/456 ، مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل المالکی ، وصح بالحرام وعصی ، 2/528 ،المجموع شرح المہذب لنووی شافعی ، فرع: إذا حج بمال حرام ، 7/62 ، الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي الحنبلي ، الحج بمال مغصوب ، 6/205 )

إمام نووی نے المجموع میں اس مسئلہ میں إمام غزالی سے کچھ تنبیہات نقل کی ہیں ، تفصیل کے لیے مجموع کا باب ما نھی عنہ من بیع الغرر أور مواہب الجلیل میں باب تنبیہات خرج لحج واجب بمال فیہ شبھۃ کا مطالعہ فرمائیں وہ مفید ہے.

واللہ أعلم

فلسفہ حج

فلسفہ ٔ حج

امام الدین سعیدی

جس نےاللہ کے لیے حج کیااور فسق وفجور والی کوئی بات نہ کی تو وہ ایسےپاک لو ٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اُسے آج ہی جنا ہو

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :

 وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰی كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(۲۷) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِیْرَ(۲۸) ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ (حج ۲۹)

ترجمہ: اے محبوب! لوگوں میں حج کا ا علان کردیں کہ وہ آپ کے پاس پیدل بھی آئیں گے اور ان اونٹنیوں پر سوار ہوکر بھی جو کمزور اور لاغر ہو گئی ہوں وہ دورودراز کے گہرے پہاڑی راستوں سے چلتی ہو ئی پہنچیں گی تا کہ وہ اپنی منفعت کی جگہوں پر حاضر ہوجائیں اور چند مقرر و معلوم دنوں میں اللہ کے عطاکردہ چوپایوں پر اللہ کا نام لیں،ان میں سے خود کھائیں اور تنگ دست فقیروں کو بھی کھلائیں۔پھر یہ لوگ اپنی گندگی دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم ترین گھر کا طواف کریں ۔

یہ وہ اعلان تھا جو صدیوں پہلے بلند ہو ااور جس کے جواب میں تب سےلےکر آج تک اہل ایمان لبیک لبیک پکارتے ہو ئے اس مقدس گھر کی طرف سفر کرتے ہیں جس گھر کوبیت الحرام کہا جاتا ہے وادی ٔ بطحا میں وہ خدا کا پہلا گھر تھا جو اللہ کو ایک ماننے والوں کے لیے مرکز و معبد بنا ۔حج،دین براہیمی میں عبادت و بندگی کا سب سے اعلی درجہ ہے کہ اپنے رب کے لئے بندہ اپنے جان ومال کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضری دیتا ہے اور والہانہ جذبہ کے ساتھ اپنی بندگی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔
یو ں تو اس حکیم مطلق کا کو ئی بھی حکم غایت وحکمت سے خالی نہیں ہو تا اس کی جانب سے جو بھی احکام آتے ہیں ان میں بے شمار مقاصد و مصالح مو جود ہو تے ہیں خواہ ہماری عقل ان کا ادراک کرے یا نہ کرے ۔
حج اور اس کے ارکان و مناسک میں بھی اللہ تعالیٰ نے بے شمار حکمتیں رکھی ہیں جو مومن کے انفرادی و اجتماعی صلاح و فلا ح پر مبنی ہیں۔
ذیل میں چند فوائد کا بیان کیا جارہا ہے جن میں ایمان و اخلاق ،نفس ووجدان کے لئے تربیتی پہلو موجود ہیں ۔

خود سپردگی 
ہم اپنی طبیعت و مزاج کو اطاعت الٰہی کے لیے آمادہ کرنے میں کس قدر ریاضت وتربیت کے محتاج ہیں یہ ہمیں بخوبی علم ہے ۔ حج اس ریا ضت کی ایک بہترین مثال ہے ۔ حجاج کرام کا طواف کرنا ،حجر اسود کو بوسہ دینا ،رمی جمار وغیرہ جیسے اعمال اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بندہ طمانیت قلب کے ساتھ حکم ا لٰہی کے آگے سر تسلیم خم کیے ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کے لیے پُرمشقت سفر کرکےپُرخلوص انقیاد و اطاعت کا اظہار بلاشبہ کمال بندگی ہے ۔

شعائر اللہ کی تعظیم و حرمت 
مقاصد حج میں ایک یہ بھی ہے کہ شعائر الٰہیہ کو نہایت تقدس و عظمت کی نگاہ سے ملاحظہ کرے اوراس کی جلالت و حرمت کا مکمل پاس ولحاظ رکھے ۔
اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ (سورۂ حج ۳۲)

ترجمہ: جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو گویا کہ وہ اس کے دل کے تقوی کا حصہ ہے ۔

اسی کی طرف یہ حدیث بھی اشارہ کررہی ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

 لَا تَزَالُ هٰذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوْا هٰذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيْمِهَا، فَإِذَا ضَيَّعُوْا ذٰلِكَ، هَلَكُوْا۔ (سنن ابن ماجہ،باب:فضل المدینۃ )
ترجمہ:اس امت سے بھلائی کبھی ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ اس محترم گھر ( کعبہ ) کی حرمت کو برقرار رکھے گی اور جس دن وہ اس کی بے حرمتی کا ارتکاب کرے گی تو ہلاک کردی جائےگی ۔

تصور آخرت میں تازگی اور پختگی 
حاجی جب حج کے سفر پر روانہ ہوتاہے تو اپنے وطن عزیز کو چھوڑتا ہے ، سفر کی مشقت سے دوچار ہو تا ہے ۔یہ اس بات کی علامت ہو تی ہے کہ اسے ایک دن اسی طرح دنیا چھوڑ دینا ہے مو ت جیسی تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہے ،احرام پہننا گویا اسے اپنے کفن کی یاد دلا تا ہے کہ جس طرح آج دو بغیر سلی ہو ئی چادر اس کا لباس ہے مرنے کے بعدبھی اس کو یہی پہننا ہے عرفات میں خلق خدا کا ازدحام قیامت کی بھیڑ والا منظر بیان کرتا ہے ۔اس طرح حج کرنے والا آخرت و قیامت کے تعلق سے بہت حساس اور فکرمند ہو جاتاہے ۔

کثرت میں وحدت اور اخوت ایمانی 
حج کے موقع پر مختلف ممالک اور طبقے کے لو گ جمع ہوتے ہیں ،رنگ و نسل کی تفریق کے باوجود سب ایک مقام پرہو تے ہیں ، ایک لباس میں ہو تے ہیں ،ایک وقت میں ہوتے ہیں ،ایک ہی طرح کے اعمال میں مصروف ہو تے ہیں گو یا حج ساری تفریق و امتیاز کو ختم کرکے امت مسلمہ کو ایک مقام پر جمع کردیتا ہے ،باہمی رابطہ کی راہ ہموار کرتا ہے اور ان کے مابین اخوت ایمانی و صلہ ٔ رحمی کے جذبےکو بیدار کرتا ہے ۔

محبت رسول 
بلاشبہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی اساس اور بنیاد ہے اعمال حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کی سنت کو اپنانا آپ کی محبت میں اضافہ کرتا ہے آپ کی اقتداو پیروی ہی اصل میں آپ سے محبت کی دلیل ہے، دراصل آپ کی متابعت ہی آپ کی محبت کے حصول کا ذریعہ ہے ،نیز اسی کے ذریعہ اللہ کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا :

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ( آل عمران ۳۱ )
ترجمہ:اے محبوب!آپ فرمادیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہوتو میری اتباع کرو،اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہوں کی بخشش فرمادے گااور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

حصول تقوی 
قرآن کریم میں ارشاد ہے :

اَتِمُّواالْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ… وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (سورۂ بقرہ ۱۹۶)
ترجمہ : حج اور عمرہ اللہ کے لیے کرو، تقوی اختیار کرواور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

دوسری آیت کریمہ میں ہے :

 وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی ( بقرہ ۱۹۷)
ترجمہ:توشہ اختیارکرو بے شک تقویٰ بہترین توشہ ہے مذکورہ بالا آیتوں میں حج کے حکم کے ساتھ واضح لفظوں میں تقوی کا بھی ذکر مربوط ہے جو حج کے اغراض ومقاصدکو شامل ہے۔

کثرت ذکر 
حج کے تلبیہ و تہلیل اور دعاؤں میں اگر غور کیا جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ تلبیہ و تسبیح کا بار بار پڑھنا اور دعا و مناجات میں مصروف رہنا ذکر الٰہی کی کثرت پر دلیل ہے اس کا مقصود یہی ہے کہ ایام حج میں کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اپنے اوقات کو غافل ہو کر نہ گذاریں۔چنانچہ قرآن میں مناسک کو بیان کرتے ہو ئے متعدد بار ذکر الٰہی پر زور دیا گیا ہے ۔ ال
لہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے :

فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ( بقرہ ۱۹۸)
ترجمہ:مشعرحرام کے پاس اللہ کو یاد کرواور جس طرح اس نے تمھیں ہدایت دی ہے تم اُسےبھی یاد کرو۔

 اسی طرح جب مناسک حج کی تکمیل ہوجائے تو وہاں ذکر کا حکم دیاگیا جیسا کہ ارشاد قرآنی ہے :

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا( بقرہ ۲۰۰)
ترجمہ:جب تم مناسک پورےکرلوتو اللہ کاذکرکرو جس طرح تم اپنےآباواجدادکاذکر کرتے تھےبلکہ ان سے زیادہ ۔

 بلا شبہ حج وعمرہ کا وہی مقصد ہے جو ان کی حقیقت ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی عطاکی ہو ئی نعمتوں کا اعتراف ،اور اس کی وحدانیت کا اقرار،اس کی نشانیوں کی زیارت اور اس امر کی یاد دہانی کہ ایمان لا نے کے بعد ہم اپنے آپ کو مکمل طور سے خدا کے حوالہ کر چکے ہیں اب ہم اپنے اختیار اور طبیعت سے کچھ نہیں کرسکتے ،وہی کریں گے جو اللہ کا حکم ہو گا ۔یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو حج کے مقاصد و منافع میں شمار کئے گئے ہیں سورۂ حج کی جو ابتدائی آیت ہے اس میں اللہ رب العزت مناسک حج کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے :

 لِیَشْہَدُوْا مَنَافِعَ لَہُمْ  (حج ۲۸)
ترجمہ: تاکہ وہ اپنے لیے نفع بخش مقامات پر حاضر ہوں ۔

 اور احرام باندھ لینے کے بعد یہ الفاظ ہر ایک کی زبان پر تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں :

 لَبَّیْکَ أللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ ،إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ،لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
ترجمہ:یااللہ! میں حاضر ہو ں،میں حاضر ہو ں، تیرا کوئی شریک نہیں ،میں حاضر ہو ں ،ساری حمد تیرے ہی لیے ہے ۔ سب نعمتیں تیری ہیں،ساری بادشاہی تیری ہے ۔تیرا کو ئی شریک نہیں ۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ کس قدر غیر معمولی عبادت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر ایمان اور جہاد کے بعد اسی کی فضیلت بیان فرمائی ۔
حضرت ماعز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھا گیا کہ کو ن سا عمل افضل ہے ؟
تو آپ نے فرما یا کہ اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لانا، پھر جہاد کرنا ،پھر حج ۔اس لئے کہ حج وہ نیکی ہے جسے دوسرے تمام اعمال پر فضیلت ہے۔ ( صحیح بخاری)
نیزیہ بھی فرمایاہے :

 مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهٗ أُمُّهٗ۔(صحیح بخار ی،باب فضل الحج المبرور)
ترجمہ:جو شخص اللہ کے لیے حج کرے پھر کو ئی شہوت اور فسق وفجور والی بات نہ کرے تو وہ ایسے لو ٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :

 وَالْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهٗ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ۔ ( مسلم،باب:فضل الحج المبرور)
ترجمہ:حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے ۔

 ضروری اصلاحا ت 
چند باتیں جو حج کی منفعت اور اس کے مقصد کے لئے نقصان دہ ہیں جن میں بہت سارے حجاج کرام مبتلا نظر آتے ہیں ان سے بچنا نہایت ضروری ہے نیزیہ آداب حج کے خلاف بھی ہیں ۔

۱۔ حج کی نیت میں صرف اللہ کی خوشنودی اور اس کی فریضہ کی ادائیگی مقصود ہو حاجی کے لقب کا اضافہ یا شہرت و ناموری کی ہو س نہ ہو بعض مالدار حضرات حج کے مقصد کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے بار بار حج کرکے تعداد میں ریکارڈ بنانے کے دھن میں رہتے ہیں ایسا حج جو محض تعداد میں اضافہ پیدا کرنے لئے ہو کسی کام کا نہیں۔
۲۔حج کے درمیان مقامات مقدسہ کی زیارت کا مقصد ان سے فیو ض و برکات ،اور درس و عبرت حاصل کرنا ان میں اللہ کی حیرت انگیز نشانیوں کا مشاہدہ کرنامقصود ہےنہ کہ صرف سیر و تفریح اور عمارتوں کی تعمیرو تزئین سے محظوظ ہو نا ۔
۳۔اوقات حج کو فضول کاموں اور لغو باتوں میںصرف نہ کیا جائے بلکہ ذکر وتسبیح اور نوافل و تلاوت میں مشغول رہیں کسی بھی طرح کے فسق وفجور سے گریز کریں ورنہ ساری محنت رائیگاں ہو سکتی ہے ۔

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

  سال مہینہ تاریخ یوم پیدائش 1300 صفر المظفر 21 یوم وصال 1367 ذوالحجہ 18

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب

:آپ کا نام سید نعیم الدین بن معین الدین بن امین الدینبن کریم الدین ہے۔(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم)

تاریخ ومقامِ ولادت

:آپ کی ولادت  بروزپیر،21 صفر المظفر 1300ھ بمطابق جنوری 1883ء مراد آباد (یو.پی)  میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللہ علیہ  جب چار سال کے ہوئے تو آپ کے والد گرامی نے "” بسم اللہ خوانی "” کی پاکیزہ رسم ادا فرمائی۔ ناظرہ قرآنِ پاک  ختم کرنے کے بعد آٹھ سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل فرمائی ، متوسطات تک علوم درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب سے کی، اس کے بعدبقیہ علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت علامہ مولانا سید محمد گل صاحب کابلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کی۔

بیعت وخلافت:

آپ  اپنے ہی استاذ گرامی حضرت مولانا سید محمد گل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔ حضرت نے اپنے لائق وفائق تلمیذِ رشید کو چاروں سلسلوں اور جملہ اوراد ووظائف کی اجازت عطافرماکر ماذون ومجاز بنا دیا۔اس کے بعد غوث ِوقت، قطبِ دوراں، شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی نے بھی خلافت واجازت سے سر فراز فرمایا۔

سیرت وخصائص:

حضور صدر الافاضل اپنی علمی جاہ وحشمت، شرافتِ نفس، اتباعِ شریعت، زہد وتقویٰ، سخن سَنجی،حق گوئی، جرأت وبے باکی اور دین حق کی حفاظت کے معاملے میں فقید المثال تھے۔ آپ اپنی مختلف دینی، علمی، تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی مصروفیات اور مناظرہ ومقابلہ اور فِرَقِ باطلہ کے رد وابطال جیسی سرگرمیوں کے باوجود تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔آپ کا طرزِ تدریس بڑا دلچسپ و منفرد تھاافہام وتفہیم میں آپ یکتائے روزگار تھے جس کی بدولت اسباق طلبا کے دل ودماغ پر پوری طرح نقش ہو جاتے۔ طَلَبَہ کے خورد ونوش اور مدرسین کی تنخواہ آپ اداکرتے تھے۔ حضرت صدر الافاضل کو دیگر علوم وفنون کے علاوہ فنِ تقریرو مناظرہ میں بھی مہارت حاصل تھی۔ آپ اپنے وقت کے تقریباً تمام فِرَقِ باطلہ سے نبرد آزما رہے، ایک سے بڑھ کر ایک مناظر آپ کے مقابل آیا لیکن ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔جو دلائل و حجج قائم فرماتے کسی کو اتنی طاقت نہ ہوتی کہ توڑ سکتا مخالف ایڑی چوٹی کا زور لگاتا لیکن ناممکن تھا کہ جو گرفت فرمائی تھی اس سے گُلُو خلاصی پاسکتایا وہ گرفت نرم پڑ جاتی،مخالف غضب و عناد میں انگلیاں چباتے مگر کچھ نہ کر سکتے۔حضور صدر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجوددار الافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے،ہند وبیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور استفسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے۔ بفضلہ تعالیٰ فقہی جزئیات اس قدر مستحضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فقہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی۔قیامِ پاکستان میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔

وفات:

18 ذوالحجہ 1367ھ مطابق 23اکتوبر1948ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، ۱۲ بجکر ۲۰ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔ اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجدکےبائیں گوشے میں کی گئی۔ ماخذ ومراجع: روشن دریچے بشکریہ ضیائے طیبہ