شیطانی وسوسے اور ان کا علاج وغلط فہمی کا ازالہ

شیطانی وسوسے اور ان کا علاج وغلط فہمی کا ازالہ

وسوسہ نمبر 1:

اسلام میں صرف دو ہی عیدیں ہیں تیسری عید کا تصور نہیں ہونا چاہئے

علاج نمبر 1: اسلام نے ہر جمعہ کو عید کا دن قرار دیا ہے (بخاری شریف)

علاج نمبر 2 امام قسطلانی، شارح بخاری علیہ الرحمہ (متوفی 923ھ) فرماتے ہیں کہ ’’اﷲ تعالیٰ اس شخص کو سلامت رکھے جس نے میلاد کے مہینے کی راتوں کو عید کی طرح منایا‘‘ (المواہب اللدنیہ ج 1، ص 148)

وسوسہ نمبر 2:

ولادت کے خوشی نہیں وفات کا غم منانا چاہئے

علاج: حضور اکرمﷺ نے تین دن سے زیادہ سوگ منانے سے منع فرمایا۔ سوائے اس عورت کے جس کا شوہر انتقال کرجائے (بخاری شریف ، جلد 2ص 804، مسلم شریف ، جلد 1، ص 486)

وسوسہ نمبر 3

اگر چراغاں پر خرچ ہوجائے گا تو غریبوں کی امداد بند ہوجائے گی؟

علاج: جو لوگ غریبوں کی مدد کرتے ہیں وہ میلاد النبیﷺ کی خوشی میں پہلے سے بڑھ کر غریبوں کی امداد کرتے ہیں۔ کوئی شخص آج تک ایسا نہیں پایا گیا جس نے کسی غریب کو یہ کہا ہو کہ میں چراغاں پر پیسے خرچ کررہا ہوں لہذا تمہاری مدد اس ماہ نہیں کروں گا

غلط تاثر

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق 8 ربیع الاول کو میلاد النبیﷺ منانا چاہئے

حقیقت کا اظہار

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ یوم ولادت مصطفیﷺ کے بارے میں 7 اقوال (2,8,10,12,17,18,22) تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ جمہور علماء ومحققین کے نزدیک 12 ربیع الاول ہی ولادت کا دن ہے۔ بلاد اسلامیہ میں 12 ربیع الاول کو ہی میلاد منایا جاتا ہے (فتاویٰ رضویہ)

خدارا امت مسلمہ کے حال پر رحم کیجئے اور شیطانی وسوسوں کو عام کرنے سے گریز کیجئے

غلط فہمی کا ازالہ

ہر سال ربیع الاول شریف میں یہ میسج (messege)کیا جاتا ہے کہ حضورﷺ و صحابہ علیہم الرضوان نے میلاد نہیں منایا ہے وغیرہ

اصلاح کی نیت اور اظہار حقیقت

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند صفحہ 190 (دارالاشاعت کراچی)

مسئلہ: (سوال) بعد نماز عیدین یا بعد خطبہ دعا مانگنا نبیﷺ سے اور ان کے صحابہ و تابعین علیہم الرضوان سے منقول نہیں اور اگر ان حضرات نے کبھی دعا مانگی ہوتی تو ضرور نقل کی جاتی لہذا بالفرض اتباع دعا نہ مانگنا دعا مانگنے سے بہتر ہے ایسی حالت میں ہم لوگوں کے لئے واجب العمل کیاہے۔

پیارے بھائیو!

غور کریں سوال کرنے والا نبی پاکﷺ و صحابہ علیہم الرضوان کے عمل سے دلیل مانگ رہا ہے اور جواب میں یہ کن کے نام تحریر کررہے ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے۔

الجواب: ہمارے حضرات اکابر مثل حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور حضرت مولانا قاسم صاحب نانوتوی اور دیگر حضرات اساتذہ مثل حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب صدر مدرس سابق مدرسہ ہذا دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا محمود حسن صاحب صدر مدرس مدرسہ ہذا (دارالعلوم دیوبند) وغیرہم کا یہی معمول رہا ہے کہ بعد عیدین کے بھی مثل تمام نمازوں کے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے تھے۔

سبحان اﷲ غور فرمائیں

اگر صحابہ و تابعین علیہم الرضوان کے عمل سے دلیل ہوتی تو ضرور پیش کرتے کہ عید کی نماز کے بعد ان حضرات قدسیہ علیہم الرضوان نے دعا مانگی ہے

دعوت فکر غور فرمائیں

حضورﷺ اور صحابہ علیہم الرضوان کے زمانے میں کئی عیدیں آئی ہیں۔ انہوں نے کبھی بعد نماز عید و بعد خطبہ دعا نہیں مانگی۔ انتہائی معذرت کے ساتھ کیا آپ حضرات کو صحابہ علیہم الرضوان سے بڑھ کر دعا کا جذبہ نصیب ہوا، ہرگز ہرگز نہیں۔

اب اس سوال کا جواب کیا ہوگا سوا اس کے جو فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں آگے تحریر ہے۔ احادیث سے بھی نمازوں کے بعد دعا مانگنا ثابت ہے۔ اس میں عیدین کی نماز بھی داخل ہے۔ (محض اس وجہ سے کہ عیدین کے بعد دعا کا ذکر نہیں ہے دعا کا نہ ہونا معلوم نہیں ہوتا)

خوب بہت خوب! جب اکابرین دیوبند کے لئے اصول مان لیا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگی میں ذکر نہیں پھر بھی جائز تو میلاد پاک کے لئے بھی یہی اصول مان لیا جائے کہ تلاوت قرآن اور حضور نبی کریمﷺ کا ذکر چونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت ہے اور محفل میلاد میں بھی یہی ہوتا ہے لہذا آپ کے اصول کے مطابق مستحب اور مستحسن ہے۔

خدارا! لوگوں کو غلط میسج کے ذریعے پریشان کرنے کے بجائے آپ خود بھی تعظیم مصطفےﷺ کے نور سے منور ہوجایئے تاکہ قیامت کے دن کی شرمندگی سے محفوظ رہ سکیں۔

خبردار! خبردار! … بجلی چوری، میوزیکل آلات کا استعمال، دیگر غیر شرعی کام ہر محفل اور ہر موقع پر ناجائز ہیں۔

ماہ ربیع الاول میں ان ہدایات پر عمل ضروری ہے

ماہ ربیع الاول میں ان ہدایات پر عمل ضروری ہے

محافل میلاد اور ماہ ربیع الاول میں ہر اُس چیز سے بچنا چاہئے جو شریعت سے متصادم ہو لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ محافل میلاد ہی کو بند کردیاجائے بلکہ عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ جو باتیں ماہ ربیع الاول اور محافل میلاد میں غیر شرعی نظر آئیں، ان کو ختم کیا جائے اور محافل میلاد کو زیادہ سے زیادہ مقامات پر منعقد کیا جائے جیسا کہ کعبۃ اﷲ میں بتوں کے ہونے کی وجہ سے وہاں پر اﷲ تعالیٰ کی عبادت کو منع نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس برائی (یعنی بتوں) کو دور کردیا گیا لہذا اگر کسی جگہ خلاف شرع بات یا کام نظر آئے تو آپ اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدام کریں مثلا:

1… کسی جگہ میوزک کے ذریعے محفل نعت سجائی گئی ہو تو اس کو منع کیا جائے گا اور اگر ایسا کرنا ناممکن یا مشکل ہو تو وہاں سے جانے سے گریز فرمائیں۔

2… اسی طرح عورتوں کا اتنی آواز سے نعت پڑھنا کہ اجنبی مردوں تک آواز پہنچے، یہ منع ہے۔

3… عورتوں کی محفل میلاد ميں عورتوں کا بلا حجاب بن سنور کر مووی بنوانا پھر اسے میڈیا پر چلوانا جسے ہر شخص دیکھے اور سنے، سخت منع ہے۔

4… محافل میلاد کو اتنا طویل کرنا کہ نماز کا وقت ہی جاتا رہے، ناجائز و حرام ہے، ہاں اگر نماز باجماعت کا اہتمام ہو تو کوئی حرج نہیں۔

5… محافل میلاد میں وقت کی پابندی کا خیال رکھا جائے تاکہ لوگ دل جمعی کے ساتھ محفل میں شامل رہیں۔

6… محافل میلاد میں خطاب کے لئے مستند عالم دین کو بلوائيں تاکہ وہ احادیث اور مستند واقعات عوام تک پہنچائیں، نام نہاد اسکالرز کو ہرگز نہ بلوائیں۔

7… محافل میلاد، چراغاں اور نذر و نیاز كيلئے مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر پرچیوں اور بھتوں کے ذریعے چندہ وصول نہ کریں بلکہ احسن طریقے سے لوگوں کو سمجھا کر فنڈ مانگیں جو فنڈ دیں ان سے لے لیں، جو نہ دیں، ان سے كچھ نہ کہیں، خاموشی سے واپس لوٹ آئیں۔

8… ایسے راستے میں محافل میلاد کا انعقاد کرنا جوکہ عوام الناس کی عام آمدورفت کے لئے استعمال ہوتا ہو، وهاں رکاوٹ کھڑی کرکے محافل میلاد کرنا مکروہ تحریمی ہے کہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔

9… محافل میلاد میں بلند آواز سے بے دریغ مائک اور سائونڈ سسٹم کا استعمال کرنا کہ اطراف کے گھروں میں بیمار، بچے، بوڑھے اور نوکری پیشہ افراد جن کو صبح کام پر جانا ہوتا ہے، ان کے آرام میں خلل پڑے، اس سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں قیامت کے دن پوچھا جائے گا (اگر محفل کرنی ہے تو آواز کم سے کم رکھیں اور رات گئے تک جاری نہ رکھیں، وقت پر ختم کردیں۔)

10… محافل میلاد میں باوضو اور اچھے لباس کے ساتھ شرکت کریں۔ نعت شریف اور ذکر مصطفیﷺ متوجہ ہوکر سنیں، ہماری توجہ نہ ہو اور ہم اپنے عمل سے بے اعتناہی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہوں، یہ مناسب نہیں۔

11… نذرونیاز کا اہتمام کریں مگر آدھی رقم لٹریچر کی تقسیم پرخرچ کریں یعنی بارہویں والے آقاﷺ کی سیرت پر مبنی رسالے، عید میلاد النبیﷺ کی شرعی حیثیت کے پمفلٹ اور کتابچہ خوب تقسیم کریں تاکہ لوگ علم کی دولت سے بہرہ مند ہوں۔

12… اس مبارک و پرمسرت موقع پر غریب و نادار طلبہ کی امداد کریں، کھانے، کپڑے اور ضروریات زندگی کی تقسیم کا اہتمام کریں۔

13… غریب بستیاں جس میں یتیم، مسکین، بیوہ عورتوں اور محتاجوں کی بڑی تعداد رہتی ہے، ان کی بھرپور مدد کی جائے، تاکہ وہ لوگ بھی اس خوشی میں شامل ہوجائیں۔

14… جلوس میلاد میں غیر شرعی امور سے بالکل اجتناب کریں، سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ نیاز یالنگر پھینکنے سے پرہیز کریں، عزت کے ساتھ شرکاء جلوس کے ہاتھوں میں دیں (خواتین کو ہرگز ہرگز جلوس میںنہ لائیں)

15… جلوس کے گشت کے دوران نماز کا وقت ہوجائے تو جلوس روک کر باجماعت نماز ادا کریں، پھر آگے بڑھیں۔

16… اگر رات شب بیداری کی وجہ سے نماز یا جماعت فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو شب بیداری نہ کریں اور نماز باجماعت کا خصوصی خیال رکھیں۔

17… چراغاں دیکھنے کے لئے بھی خواتین کی آمدورفت کو روکا جائے تاکہ تماشا نہ بنے اور لوگ اس کو بنیاد بناکر میلاد منانے والوں پر طعنہ زنی نہ کریں۔

اﷲ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں ادب کے ساتھ میلاد منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی جنہیں سن کے دل شاد ہوتا رہے گا

خدا اہلسنت کو آباد رکھے محمد(ﷺ) کا میلاد ہوتا رہے گا

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان اور میلاد مصطفیﷺ

Resultado de imagen de ‫بوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا‬‎

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان کی کتاب میں ذکر میلاد مصطفیﷺ کرنے کی تاکید

ماہ ربیع الاول میں ذکر

ولادت رسول ضرور کریں

الشمابوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا

الشمامتہ العنبریہ

عید میلاد النبی کے دن مکہ کے لوگ مقامِ ولادت پر جمع ہوکر صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں

Resultado de imagen de handwriting

شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی فرماتے ہیں: عید میلاد النبی کے دن مکہ کے لوگ مقامِ ولادت پر جمع ہوکر صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں

 یہ وہی شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ ہیں جن کو اکابر دیوبند اور غیر مقلد اہلحدیث اپنے اسلاف میں

شمار کرتے ہیں، چنانچہ یہ دونوں فرقوں کے مسلمہ بزرگ ہیں۔ کیا ان کی بات کو بھی نہیں مانو گے؟

شب ولادت شب قدر سے بھی افضل ہے

Resultado de imagen de ‫شب ولادت شب قدر سے بھی افضل ہے‬‎

شاہ عبدالحق دہلوی کی کتاب سے ثبوت:

 شب ولادت شب قدر سے بھی افضل ہے، مسلمان ہمیشہ سے محفل میلاد النبی پر خوشیاں مناتے چلے آرہے ہیں ماثبت بالسنہ

 کیا گیارہویں صدی کے مجدد شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ پر بھی فتویٰ لگائو گے؟

یاد رہے کہ یہ امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ سے بھی پہلے کے بزرگ ہیں

عیدمیلادالنبیﷺ اور غیر مستند روایات

عید میلادالنبیﷺ اور غیرمستند روایات

ماہ ربیع الاول شریف میں دنیا بھر کے مسلمان اپنے آقا و مولیٰ تاجدار دوعالمﷺ کی ولادت باسعادت کے موقع پر حسب استطاعت خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ جلسہ، جلوس، چراغاں، صدقہ و خیرات سب اسی خوشی کے مظاہر ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کے شکریہ کے انداز ہیں۔ کچھ ذوق لطیف بلکہ نورِ ایمان سے محروم ایسے لوگ بھی ہیں جن کے نزدیک ان تمام امور کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اگرچہ ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے تاہم وہ وقت بے وقت اپنے دل کا ابال نکالتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب اہل سنت و جماعت کے چند خطباء اور مقررین ہیں جو تبلیغ دین کو ایک مشن بنانے کی بجائے سنی سنائی باتوں یا غیر مستند کتابوں کے حوالے سے روایات بیان کرکے جوش خطابت کے جوہر دکھانے پر اکتفا کرتے ہیں اور سادہ لوح عوام جذبات کی رو میں بہہ کر نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت لگا کر خوش ہوجاتے ہیں۔

حال ہی میں علامہ ابن حجر مکی ہیتمی قدس سرہ (متوفی ۹۴۷ھ) کے نام سے ایک کتاب ’’النعمۃ الکبریٰ علی العالم فی مولد سید ولد آدم‘‘ دیکھنے میں آئی ہے جس میں حضور سید عالمﷺ کے فضائل و محامد کے ساتھ ساتھ میلاد شریف منانے کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ مقررین حضرات کے لئے یہ کتاب بڑی دلچسپی کی چیز ثابت ہوئی ہے۔ اکثر خطباء اس کے حوالے سے اپنی تقریروں کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ اس کتاب میں خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم کے ارشادات سے میلاد شریف پڑھنے کے فضائل اس طرح بیان کئے گئے ہیں:

1۔ جس شخص نے نبی کریمﷺ کے میلاد شریف کے پڑھنے پر ایک درہم خرچ کیا، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا (حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)

2۔ جس شخص نے حضور اکرمﷺ کے میلاد شریف کی تعظیم کی، اس نے اسلام کو زندہ کیا (حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ)

3۔ جس شخص نے حضور انورﷺ کے میلاد شریف کے پڑھنے پر ایک درہم خرچ کیا، گویا وہ غزوہ بدر و حنین میں حاضر ہوا (حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)

4۔ جس شخص نے حضور اکرمﷺ کے میلاد شریف کی تعظیم کی، میلاد پڑھنے کے سبب وہ دنیا سے ایمان کے ساتھ ہی جائے گا اور جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوگا

(حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ)

اس کے علاوہ حضرت حسن بصری، جنید بغدادی، معروف کرخی، امام رازی، امام شافعی، حضرت سری سقطی وغیرہم رحمتہ اﷲ علیہم کے ارشادات نقل کئے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد چند سوالات پیدا ہوتے ہیں، اکابر علماء اہلسنت سے درخواست ہے کہ وہ ان کا جواب مرحمت فرمائیں۔

1۔ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بھی مقبول ہے۔ علامہ ابن حجر مکی فرماتے ہیں کہ

’’معتبر اور مستند حضرات کا اس پر اتفاق ہے کہ حدیث ضعیف فضائل اعمال میں حجت ہے‘‘

شیخ الشیوخ حضرت عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ رقم طراز ہیں

’’صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے قول، فعل اور تقریر کو بھی حدیث کہا جاتا ہے‘‘

علامہ ابن حجر مکی دسویں صدی ہجری میں ہوئے ہیں، لازمی امر ہے کہ انہوں نے مذکورہ بالا احادیث صحابہ کرام سے نہیں سنیں، لہذا وہ سند معلوم ہونی چاہئے جس کی بناء پر احادیث روایت کی گئی ہیں، خواہ وہ سند ضعیف ہی کیوں نہ ہو یا ان روایات کا کوئی مستند ماخذ ملنا چاہئے۔

حضرت عبداﷲ بن مبارک رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں

’’اسناد دین سے ہے، اگر سند نہ ہوتی و جس کے دل میں جو آتا، کہہ دیتا‘‘

2۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’میری امت کے آخر میں ایسے لوگ ہوں گے جو تم کو ایسی حدیثیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء نے، تم ان سے دور رہنا‘‘

سوال یہ ہے کہ خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اور دیگر بزرگان دین کے یہ ارشادات امام احمد رضا بریلوی، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی، ملا علی قاری، علامہ سیوطی، علامہ نبہانی اور دیگر علماء اسلام کی نگاہوں سے کیوں پوشیدہ رہے؟ جبکہ ان حضرات کی وسعت علمی کے اپنے اور بیگانے سب ہی معترف ہیں۔

3۔ خود ان اقوال کی زبان اور انداز بیان بتا رہا ہے کہ یہ دسویں صدی کے بعد تیار کئے گئے ہیں۔ میلاد شریف کے پڑھنے پر دراہم خرچ کرنے کی بات بھی خوب رہی۔ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے دور میں نہ تو میلاد شریف کی کوئی کتاب تھی جو پڑھی جاتی تھی اور نہ میلاد کے پڑھنے کے لئے انہیں دراہم خرچ کرنے اور فیس ادا کرنے کی ضرورت تھی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ صرف ربیع الاول کے مہینے میں ہی میلاد شریف مناتے تھے بلکہ ان کی ہر محفل اور ہر نشست محفل میلاد ہوتی تھی، جس میں حضورﷺ کے حسن و جمال، فضل وکمال اور آپ کی تعلیمات کا ذکر ہوتا تھا۔ آج یہ تصور قائم ہوگیا ہے کہ ماہ ربیع الاول ورمیلاد شریف میں صرف حضورﷺ کی ولادت باسعادت کا تذکرہ ہونا چاہئے بلکہ بعض اوقات تو موضوع سخن صرف میلاد شریف منانے کا جواز ثابت کرنا ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہر مقرر اپنی تقریر میں میلاد شریف کے جواز پر دلائل پیش کرکے اپنی تقریر ختم کردیتا ہے اور جلسہ برخواست ہوجاتا ہے حالانکہ میلاد منانے کا مقصد تو یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ کی محبت مضبوط سے مضبوط تر ہو اور کتاب و سنت کے مطابق عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔ ہماری بعض محفلیں مستند روایات کے حوالے سے میلاد شریف کے بیان سے بھی خالی ہوتی ہیں اور عمل کی تو بات ہی نہیں کی جاتی۔

4۔ علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی قدس سرہ نے جواہر البحار کی تیسری جلد میں صفحہ 328 تا 337 تک علامہ ابن حجر مکی ہیتمی کے اصل رسالہ ’النعمۃ الکبریٰ علی العالم فی مولد سید ولد آدم‘‘ کی تلخیص نقل کی ہے جو خود علامہ ابن حجر مکی نے تیار کی تھی۔ اصل کتاب میں ہر بات پوری سند کے ساتھ بیان کی گئی تھی، تلخیص میں سندوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ ابن حجر فرماتے ہیں ’’میری کتاب واضعین کی وضع اور ملحد و مفتری لوگوں کے انتساب سے خالی ہے۔ جبکہ لوگوں کے ہاتھوں میں جو میلاد نامے پائے جاتے ہیں، ان میں سے اکثر میں موضوع اور جھوٹی روایات موجود ہیں‘‘ اس کتاب میں خلفائے راشدین اور دیگر بزرگان دین کے مذکورہ بالا اقوال کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ اس سے نتیجہ نکالنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی کہ یہ ایک جعلی کتاب ہے جو علامہ ابن حجر مکی کی طرف منسوب کردی گئی ہے۔

علامہ سید محمد عابدین شامی (صاحب ردالمحتار) کے بھتیجے علامہ سید احمد عابدین شامی نے اصل ’’نعمۃ کبریٰ‘‘ کی شرح ’’نشر الدر علی مولد ابن حجر‘‘ لکھی جس کے متعدد اقتباسات علامہ نبہانی نے ’’جواہر البحار‘‘ جلد 3، صفحہ 337سے 374 تک نقل کئے ہیں۔ اس میں بھی خلفائے راشدین رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے مذکورہ بالا اقوال کاکوئی ذکر نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ محافل میلاد میں حضور سید عالمﷺ کی ولادت باسعادت کے ساتھ ساتھ آپ کی سیرت طیبہ اور آپ کی تعلیمات بھی بیان کی جائیں۔ میلاد شریف کی روایات مستند اور معتبر کتابوں سے لی جائیں مثلا ’’المواہب اللدنیہ، سیرت طیبہ، خصائص کبریٰ، زرقانی علی المواہب، مدارج النبوۃ اور جواہر البحار وغیرہ۔ اگر صحاح ستہ اور حدیث کی دیگر معروف کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان سے بھی خاصا مواد جمع کیا جاسکتا ہے۔ اگر مواد یکجا مطلوب ہو جس سے باآسانی استفادہ کیا جاسکے تو اس کے لئے سیرت رسول عربی از علامہ نور بخش توکلی، میلاد النبی از علامہ احمد سعید کاظمی، الذکر الحسین از مولانا محمد شفیع اوکاڑوی، دین مصطفیﷺ از علامہ سید محمود احمد رضوی، حول الاحتفال بالمولد النبوی شریف از محمد بن علوی المالکی حسنی، مولد العروس از علامہ ابن جوزی اور حسن المقصد فی عمل المولد از امام جلال الدین سیوطی کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے‘‘