بڑے پیرصاحب کی تعلیمات اورمعاشرت

بڑے پیرصاحب کی تعلیمات اور معاشرت

جہانگیر حسن مصباحی

 اس میں دورائے نہیں کہ اللہ رب العزت نے انسان کی بہترین صورت میں تخلیق فرمائی اور دنیا کی شکل میں اُسے ایک خوب صورت پناہ گاہ عطا فرمایا، لیکن انسانوں کی نادانی ،حرص وہوس اورخودغرضی نے پوری انسانیت کی مٹی پلیدکرکے رکھ دی ہے۔انسانوں نے خود اپنی شکل وصورت کی نورانیت کو غائب تو کیاہی ہے،اس کے ساتھ اپنے کرداروعمل سے پوری انسانیت کو بھی تباہ وبربادکرکے رکھ دیا ہے۔نتیجے کے طورپر آج انسانیت کا ہرفرد ،خواہ چھوٹاہویابڑا،امیرہویاغریب سب کے سب چین وسکون کی دولت سے محروم نظرآتے ہیں۔ 
اب سوال یہ ہے کہ اس کے پیچھے کیاراز ہے کہ آج کاانسان ہر لحاظ سے ترقی یافتہ ہے،چاند پر کمندیں ڈال رہا ہے،سمندر میں تیررہاہے ،ہواؤں پر حکومت کررہا ہے ،پھر بھی وہ چین وسکون کے لیے ترس رہا ہے؟میرے خیال میں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسانوں نے اپنی فطرت سے بغاوت کرلی ہے،اپنی محبت وعداوت کا معیاربدل لیاہے،حسد وکینہ جیسی مہلک بیماریاں اپنے اندر پیدا کرلی ہے اوردولت کی اندھی محبت نے ان کے شعورواحساس کو چھین لیا ہے،جب کہ کسی بھی قوم وبرادری کااِن تمام چیزوں سے متصف ہونا انتہائی ضروری ہے،تبھی وہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کرسکتاہے اور انسانی معاشرے کی اصلاح وفلاح میں کوئی تعمیری کرداراداکرسکتاہے۔
 موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ہوجو محبت وعداوت کے معیارپر قائم ہو،حسد وکینہ جیسی جان لیوا بیماری سے پاک ہو،یا پھر دولت کی اندھی میں انسانیت کا قتل نہ کررہا ہو،ورنہ پیشترقومیں ان بُرائیوں میں سرسے پاؤں تک ڈوبی ہوئی ہیں،اورمزے کی بات یہ ہے کہ قومیں اسی میں فخر بھی محسوس کررہی ہیں ،جب کہ یہ تمام باتیں جن قوموں کے اندر پائی جائیں اُن کے لیے ڈوب مرنے سے کم نہیں۔ان خرابیوں میں بالعموم ہرمعاشرہ اوربالخصوص پاک و ہند مسلم معاشرہ کچھ زیادہ ہی مبتلاہے۔آئیں ان بیماریوں سے نجات پانے کا حل محبوب سبحانی سیدناشیخ عبدالقادرجیلانی قدس سرہٗ کی تعلیمات کی روشنی میں تلاش کریں جنھیں دنیا ’’بڑے پیرصاحب ‘‘ کے نام سے بھی جانتی اور پہچانتی ہے۔ 
محبت وعداوت کامعیار:
ایک انسان کس بنیادپر دوسرے انسان سے محبت کرے اور کس بنیاد پر دشمنی ، کیوں کہ محبت وعداوت بھی دنیوی اوردینی دونوں معاشرے میں کامیابی کا ایک اہم حصہ ہے،اگر محبت وعداوت رکھنے میں توازن( Balance) نہیں تو ممکن ہے کہ اچھے کاموں کے باجود انسان فوزوفلاح کی خوشبوسے محروم رہ جائے۔چناںچہ محبت وعداوت کی بنیادکی نشاندہی شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں:’’جب تو اپنے دل میں کسی شخص کی محبت یا عداوت پائے تو اس شخص کے اعمال کتاب وسنت کی کسوٹی پر پرکھ،اگر وہ اعمال کے لحاظ سے کتاب وسنت کا مخالف ہے تو تو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی ومحبت پر خوش رہ۔ لیکن اگر اس کے اعمال کتاب وسنت کے مطابق ہیں پھر بھی تو اسے دشمن سمجھتاہے تو تو نفسانی خواہشات میں گرفتار ہے اور اپنے ذاتی اغراض کے لیے دشمنی رکھتا ہے۔اس بغض وعداوت کی وجہ سے تو اس پر ظلم کررہاہے اور اللہ و رسول کے فرمان کی مخالفت کررہا ہے جو ایک جرم ہے،اس لیے اپنے اس بغض وعداوت سے بارگاہ الٰہی میں توبہ کراور اللہ سے خود اس کی اور اس کے نیک بندوں اور صالحین کی محبت کا سوال کر۔اسی طرح جس شخص سے تو محبت رکھتاہے اس کے افعال وکردار کتاب وسنت کی روشنی میںپرکھ،اگراس کے اعمال کتاب وسنت کے مطابق ہیں توبے شک اس سے محبت رکھ اوراگر اس کے اعمال کتاب وسنت کے خلاف ہیں توتو اسے دشمن جان! تاکہ تیری محبت ودشمنی محض خواہشات نفسانی کے تابع ہوکرنہ رہ جائے، کیوںکہ تجھے اس کی مخالفت کا حکم دیاگیاہے:’’نفسانی خواہش کے پیچھے نہ بھاگ،کیوںکہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی۔(سورۂ ص:26،فتوح الغیب،مقالہ:31)
 یہ بالخصوص مسلمانوں سے خطاب ہے، لیکن اس کے پردے میں تمام مذاہب کے ماننے والوں سے یہ خطاب ہے کہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا انسان ہواگروہ محبت وعداوت کے اصول ومعیار کو ملحوظ رکھتاہے تویقیناوہ بہت ساری ملکی اورمعاشرتی آفتوں سے محفوظ رہ سکتاہے۔یعنی محبت ودشمنی کی اچھائی اوربُرائی کی بنیادپر ہونی چاہیے ،نہ کہ ذات پات اور قوم وبرادری کے نام پر،جیساکہ اس کا چلن آج کل ہندوستانی معاشرے میں بڑے پیمانے پر ہے۔ 
حسد وکینہ ایک بیماری :
آج کل انسانوں کے درمیان حسد، کینہ دشمنی اور جلن جیسی بیماریاں عام ہیں،اورنہ چاہتے ہوئے بھی انسان اس بیماری کے شکار ہورہے ہیں،جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نہ انسان ملکی سطح پر مطمئن ہے اور نہ ہی سماجی اعتبار سے پُرسکون ۔ چناںچہ حسد وکینہ سے دوری اختیار کرنے پرزور دیتے ہوئے فرماتے ہیں:’’کیا وجہ ہے کہ میں تجھے اپنے ہمسائے اورپڑوسی سے حسد کرنے والا دیکھتا ہوں؟ تو اس کے خوردونوش،لباس ومکان،زن و مال اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی دوسری نعمتوں سے جلتاہے۔ تجھے علم نہیں کہ حسدایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو ایمان کو کمزور، مولیٰ کی بارگاہ سے دور اوراللہ کی نافرمانی کا باعث بن جاتی ہے ۔کیاتونے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سناکہ حاسدمیری نعمتوںکے دشمن ہیں اورحسد نیکیوںکو اس طرح کھاجاتاہے جیسے آگ لکڑی کو۔اے مسکین !تو اس کی کس چیزپر حسدکرتا ہے؟اس کی قسمت پر یا اپنی قسمت پر؟ اگر تواس کی قسمت پر حسدکرتاہے تو وہ اللہ کی طرف سے عطاکردہ ہے، فرمان باری ہے:ہم نے ان کے درمیان ان کے جینے کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹ دیا۔ (زخرف:32)گویا ایک ایسے شخص پرجو اللہ تعالیٰ کی نعمتوںپر صابر ہے، حسد وکینہ کے ذریعے ظلم کا ارتکاب کررہاہے ۔خود ہی غورکروکہ تجھ سے زیادہ ظالم،بخیل،احمق اورکم عقل کون ہے؟اگرتو اپنے نصیب پر حسدکررہاہے تو یہ اس سے بھی زیادہ جہالت اور نادانی ہے، تیرا حصہ غیر کو کبھی نہیں دیا جائے گا، کیوںکہ اللہ پاک کافرمان ہے:’’میرافیصلہ بدلتا نہیں اور نہ میں بندوںپر ظلم کرتاہوں۔ ((ق:29،ایضاً، مقالہ:37) 
شاید ہی کوئی ملک اور معاشرہ حسد اورکینے کی مار سے بچ گیا ہو،بالعموم پوری انسانیت اور بالخصوص پورا پاک و ہند حسدوکینے کی قہر کا شکارہے۔ ایسے ماحول میں بڑے پیر صاحب کی تعلیمات کی اہمیت وضرورت اور بھی دوچندہوجاتی ہے ،تاکہ مذہبی،ملکی ،معاشرتی اور ذات برادری کے نام پرلوگوں کے دلوں میں جو حسد وکینہ گھرکرچکاہے ،اُس سے ملک ومعاشرے کو نجات ملے اور پوری انسانی برداری حسدوکینے جیسی ناپاک چیزوں سے محفوظ رہے۔ 
مال وزر کی خرابی: 
دولت ایک ایسی چیز ہے جوہر کسی کواچھی اوربھلی معلوم ہوتی ہے، مگر یہ اسی وقت بہترہے جب فرائض اور واجبات(دینی ومعاشرتی ذمہ داری) کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اگریہ دولت عبادت سے روکے اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میںنہ آنے دے توپھریہ کسی مصیبت سے کم نہیں،بلکہ اس بات کاخوف ہے کہ اس کی وجہ سے کہیں کوئی وبال نہ آجائے۔اس تعلق سے تنبیہ کرتے ہوئے شیخ جیلانی قدس سرہٗ فرماتے ہیں:’’گر اللہ تجھے مال ودولت عطافرمائے اور اس کی وجہ سے تواللہ تعالیٰ کی عبادت سے منھ پھیرلے تو دنیاوآخرت میں اللہ اس کو تیرے لیے حجاب بنادے گااورممکن ہے کہ اللہ تجھ سے دولت بھی چھین لے اور تیری حالت بدل ڈالے… اوراگر تو نے مال کو عبادت الٰہی کے فرائض کی بجاآوری میں رکاوٹ نہ بننے دیاتو وہ مال ہمیشہ کے لیے تجھے بخش دیاجائے گا ، اس میں سے ذرہ برابربھی کمی نہ ہوگی اوروہ مال تیرا خادم اورتو اپنے مولیٰ تبارک وتعالیٰ کا خادم ہوگا۔چنانچہ دنیامیں تونازونعم کی زندگی گزارے گا اور آخرت میں بھی ہمیشہ کے لیے جنت اوراعزازی طورپر صدیقین،شہدا اور صالحین کی رفاقت حاصل رہے گی۔ (ایضاً، مقالہ:12)
 مال وزر کی ہوس نے انسان کو اِس قدر اندھابنادیاہے کہ مقدس رشتوں کی پامالی اور انسانیت کاقتل آج عام بات ہوگئی ہے۔ساتھ ہی مال وزر کی چاہت نے لوگوں اس اتنابدحواس کردیاہے کہ لوگ یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ عظیم ترین ایک ہستی ایسی بھی ہے جس نے ہر چیز کو بنایاہے اور اُس کی مرضی کے بغیر ایک پرندہ بھی پر نہیں مارسکتاہے۔لہٰذامال وزر کی ہوس رکھنے والوں کے لیے بڑے پیر صاحب کا یہ فرمان تازیانہ عبرت ہے کہ مال ودولت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مذہبی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی ملحوظ رکھیں۔یہ وہ قیمتی باتیں ہیں جنھیں اپنا کرہر عہداورہرزمانے کا انسان کامیابی حاصل کی جاسکتاہے 

گیارہویں شریف … علماء اسلام کی نظر میں

گیارہویں شریف… علماء اسلام کی نظر میں

 علامہ منظور احمد فیضی

 

حامدا و مصلیا و مسلما اما بعد!

 گیارہویں شریف حضور غوث الثقلین پیرمحبوب سبحانی  قطب ربانی غوث صمدانی شہباز لامکانی سیدی السید محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی ایصال ثواب کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے اور ایصال ثواب کی ایک صورت ہے۔ شریعت محمدیہ میں بدنی اور مالی عبادات کا ثواب دوسرے مسلمان (خواہ وہ زندہ بحیات دنیوی ہو یا وصال یافتہ۔ ردالمختار) کو بخشنا جائز ہے اور وہ ثواب اس مسلمان کو پہنچتا ہے اور اسے نفع دیتا ہے۔ اس کا ثبوت قرآن مجید و حدیث شریف اور اقوال فقہاء کرام سے ہے۔ قرآن کریم نے بہت مقامات پر مسلمانوں کو ایک دوسرے کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور نماز جنازہ میں بھی فوت شدہ مسلمان کے لئے دعا کی جاتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ پہلے مسلمانوں کے لئے دعا کرتے رہیں گے‘ چنانچہ فرمایا

ترجمہ: اور وہ (مسلمان) جو ان کے بعد آئے‘ عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ‘ ہمارے رب! بے شک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (حشر 10)

اگر ایک مسلمان کی دعا دوسرے مسلمان کو نہیں پہنچتی اور اسے فائدہ نہیں دیتی تو یہ حکم دعا اور عمل دعا فضول و لغو ٹھہرے گا۔

عاص بن وائل نے وصیت کی کہ میری طرف سے میرے فوت ہونے کے بعد) سو غلام آزاد کیا جائے۔ حسب وصیت اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کئے اور اس کے بیٹے نے ارادہ کیا کہ میں بھی اپنے باپ کی طرف سے بقیہ پچاس غلام آزاد کروں اور کہا اس وقت تک آزاد نہیں کروں گا جب تک حضورﷺ سے نہ پوچھ لوں۔ پھر وہ حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا قصہ عرض کیا اور پوچھا

’’افا عتق عنہ‘‘

کیا میں اپنے باپ کی طرف سے باقی پچاس غلام آزاد کروں‘‘

فقال رسول اﷲﷺ انہ لو کان مسلما فاعتقم عنہ او تصدقتم عنہ او حججتم عنہ بلغہ ذلک (ابو داؤد شریف)

حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا اگر وہ مسلمان ہوتا تو تم اس کی طرف سے آزاد کرتے یا صدقہ و خیرات کرتے یا اس کی طرف سے حج کرتے تو اسے یہ (یعنی ان چیزوں کا ثواب پہنچتا)

(مشکواۃ شریف باب الوصا یا ج 1 ص 226)

امام المحدثین حضرت شیخ عبدالحق محدث و محقق دہلوی حنفی علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں

’’دل علی ان الصدقتہ لاتنفع الکافر ولاتنجیہ وعلی ان المسلم ینفعہ العبادۃ المالیتہ والبدنیتہ

(لمعات ہامش مشکواۃ ص 226)

مزید فرماتے ہیں

’’ازیں حدیث مفہوم شد کے صدقہ سودندارد کافر اور ستگاری نمے بخشد از عذاب و نیز معلوم شد کہ بمسلمان میر سد ثواب عبادت مالی و بدنی ہردو ‘‘

(اشعتہ اللمعات جلد 3 صفحہ 100)

یعنی اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ مسلمان کو مالی اور بدنی عبادت کا ثواب پہنچتا ہے اور اسے نفع دیتا ہے‘ بخلاف کافر کے کہ ’’مرگیا مردود نہ فاتحہ نہ درود‘‘ ہاں بدنی عبادت میں نیابت جائز نہیں یعنی کوئی شخص کسی کی طرف سے نماز فرض پڑھ دے تو اس کی نماز ادا نہ ہوگی‘ ہاں نماز کا ثواب بخشا جاسکتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا

’’من یضمن لی مفکم ان یصلی لی فی مسجد العشار رکعتین اواربعا ویقول ہذہ لابی ہریرۃ‘‘ (ابوداؤد شریف)

یعنی کون میرے لئے اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ مسجد عشاء میں میرے لئے دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھے اور کہے یہ ابوہریرہ کے لئے ہے‘ یعنی اس نماز کا ثواب ابوہریرہ کے لئے ہے۔

(مشکواۃ شریف کتاب الفتن باب الملاحم ص 468)

اسی طرح ہر عبادت کا ثواب بخشا جاسکتا ہے اور اسے پہنچتا ہے‘ علاوہ ازیں بہت سی حدیثیں اس بارے میں وارد ہیں۔

والاحادیث والآثار فی ہذہ الباب اکثر من ان تحصی

یعنی اس باب میں احادیث و آثار شمار کرنے سے بھی زیادہ ہیں ۔(شرح عقائد ص 123)

دعاء الاحیاء للاموات وصدقتہم ای صدقتہ الاحیاء عنہم ای عن الاموات نفع لہم ای للموات خلافا للمعتزلہ

یعنی زندوں کا وفات یافتہ مسلمانوں کے لئے دعا کرنا اور زندوں کا فوت شدہ مسلمانوں کی طرف سے صدقہ کرنا ان کے لئے نفع ہے بخلاف معتزلہ کے۔ (شرح عقائد ص 122)

خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

خلاصہ: یعنی جو گورستان میں داخل ہوا اور اس نے سورۃ یٰسین پڑھ کر ان کو بخشی تو اس دن گورستان والوں سے اﷲ عذاب میں تخفیف کرے گا اور اس کو اموات کی تعداد کے مطابق نیکیاں ملیں گی اور ایک حدیث میں آیا کہ جس نے گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب اموات کو بخشا‘ اموات کی تعداد کے مطابق اس ثواب بخشنے والوں کو ثواب ملے گا۔ قرآن پاک مختلف مقامات سے تلاوت کرکے اس کا ثواب وصال یافتہ حضرات کو یوں بخشے کہ اے اﷲ جو کچھ ہم نے پڑھا ہے اس کا ثواب فلاں مخصوص شخص کو یا ان سب کو بخش دے۔ تنبیہ ہمارے علماء احناف نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ انسان کو ازروئے شریعت اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنے عمل کا ثواب اپنے غیر کو بخش دے‘ خواہ وہ عمل نماز ہو یا روزہ‘ صدقہ ہو یا غیر صدقہ اور اس شخص کے لئے افضل یہ ہے جو نفلی صدقہ کرنا چاہتا ہے کہ وہ سب مومن مردوں اور عورتوں کی نیت کرے‘ اس لئے کہ اس کا ثواب ان سب کو پہنچے گا اور اس کے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا۔ یہی اہل سنت کا مذہب ہے‘ ثواب بخشنے والا زندہ کو بھی ثواب بخش سکتا ہے اور مردہ کو بھی قبل از عمل بھی نیت کرسکتا ہے اور بعد از عمل بھی فرض بھی اور نفل بھی ایک مرتبہ فاتحہ پڑھ کر اگر اہل مقبرہ کو بخش دے تو ان میں سے ہر ایک کو پوری فاتحہ کا ثواب ملے گا انشاء اﷲ الغفار۔ (رد المحتار ‘جلد اول ‘ ص ۶۶۶)

امام سیدی عبدالوہاب شعرانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں

ومذہب اہل السنۃ ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ

یعنی اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ انسان اپنے ثواب کا عمل غیر کو بخش سکتا ہے

(کتاب المیزان للشعرانی جلد 1 ص 210)

فاتحہ‘ تیجہ (قل خوانی)‘ دسواں‘ چالیسواں‘ شش ماہی‘ سالانہ عرس‘ جمعراتیں‘ گیارہویں شریف‘ نیاز امامین‘ سب اسی ایصال ثواب میں داخل ہیں کہ ان تقریبات میں جو کلام و طعام لوجہ اﷲ ہوتا ہے‘ اس کا ثواب وصال یافتہ حضرات کو بخشا جاتا ہے‘ باقی رہا جانوروں کو بنیت ایصال ثواب ان کی طرف منسوب کرنا یاماکولات اور مشروبات‘ دودھ‘ وشربت و پانی پر ان بزرگوں کا نام آنا بھی موجب حرمت نہیں ہے‘ بلکہ یہ بھی حدیث شریف سے ثابت ہے۔

حضرت سعد بن عبادۃ رضی اﷲ عنہ نے حضورﷺ سے عرض کی یارسول اﷲﷺ میری ماں فوت ہوچکی ہے تو (اس کی طرف سے) کون سا صدقہ افضل ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا ‘ پانی تو حضرت سعد نے کنواں کھدوایا اور کہا ’’ہذہ لام سعد‘‘ یہ سعد کی ماں (متوفیہ کا کنواں ہے)

(ابوداؤد‘ نسائی‘ مشکواۃ ص 169‘ شرح عقائد ص 123)

اگر فوت شدہ کا نام پانی پر آنا اس پانی کے حرام ہونے کا سبب بنتا تو حضرت سعد اس کنویں پر ام سعد کا نام نہ آنے دیتے‘ مااہل بہ لغیر اﷲ کا مطلب یہ ہے کہ بوقت ذبح جانور پر غیر اﷲ کا نام نہ آئے‘ جان کا نکالنا خالق جان ہی کے نام پر ہو ۔(تفسیر خازن ومدارک جلد 1 ص 103)

قبل از ذبح یا بعد از ذبح بغرض ملکیت یا بغرض ایصال ثواب وغیرہ کسی کا نام جانور وغیرہ پر آنا یہ سبب حرمت نہیں مثلا یوں کہا جاتا ہے۔ مولوی صاحب کی گائے‘ خان صاحب کا دنبہ‘ ملک صاحب کی بکری‘ عقیقہ کا جانور‘ قربانی کا بکرا‘ ولیمہ کی بھینس‘ ان جانور پر جو غیر اﷲ کا نام پکارا گیا تو کیا یہ حرام ہوگئے؟ ہرگز نہیں! یہی حکم ہے گیارہویں کے دودھ‘ حضور غوث الثقلین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب بکری اور منت والے جانوروں کا۔ (تفسیرات احمدیہ)

باقی رہا تعیین یوم تو یہ نہ فرض ہے‘ نہ واجب‘ آگے پیچھے بھی ایصال ثواب ہوسکتا ہے۔ ہاں ان کے وصال والے دن کو اور دنوں پر امتیازی شان حاصل ہے‘ بوجہ فرمان خداوندی تعالیٰ’’وذکرہم بایام اﷲ‘‘ کے لہذا اکثر وبیشتر تقریبات ان خاص دنوں میں سرانجام پاتی ہیں۔

باقی رہا جائز اور مستحب کام (ایصال ثواب بصورت گیارہویں وغیرہ) کو اتنا پابندی سے کیوں ادا کیا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی پابندی حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی ثابت ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے نماز فجر کے وقت حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا کہ تو اپنے امید افزاء اسلامی عمل سے مجھے خبر دے کیونکہ میں نے تیرے جوتوں کی آواز اپنے آگے بہشت میں سنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے جوابا عرض کیا کہ دن ہو یا رات‘ جب بھی میں وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے (تحیۃ الوضو کی جو نفلی نماز ہے نہ فرض ہے اور نہ ہی واجب) جتنی رکعتیں میرے مقدر میں لکھی جاتی ہیں پابندی سے پڑھتا ہوں (بخاری و مسلم وترمذی مشکواۃ ص 117-116)

اس نفلی نماز کی پابندی کی وجہ سے حضرت ابوہریرہ بہشت میں غلامانہ طور پر حضورﷺ سے آگے چل رہے تھے۔ معلوم ہوا کسی نفلی یا استحبابی کام پر ہمیشگی کرنا ’’معد عدم الفرضیۃ اعتقاد او مع الترک احیانا‘‘ موجب حرمت نہیں بلکہ موجب سعادت ہے۔

امام المحدثین حضرت شیخ عبدالحق محدث ومحقق دہلوی علیہ الرحمہ گیارہویں شریف کے متعلق فرماتے ہیں

یعنی ہمارے شہروں میں یہ گیارہویں کا دن مشہور ہے اور یہی اہل ہند کے مشائخ کے نزدیک جو حضرت محبوب سبحانی کی اولاد سے ہوں‘ ان کے نزدیک بھی مشہور ہے‘ جیسا کہ سیدی و شیخی سید موسیٰ پاک شہید ملتانی قدس سرہ النورانی نے ذکر فرمایا ہے (ماثبت من السنتہ ص 123)

مزید فرماتے ہیں

یعنی اگر تو کہے کہ کیا اس عرف کے کئے جو ہمارے دیار میں مشہور ہے کہ بزرگان دین کے یوم وفات کی حفاظت بصورت عرس کی جاتی ہے۔ کوئی اصل ہے اگر ہے تو بیان کرو‘ میں جواب دوں گا کہ میں نے اپنے شیخ سیدی امام عبدالوہاب متقی مکی سے یہ پوچھا تھا آپ نے فرمایا تھا کہ یہی مشائخ کرام کا معمول ہے اور اس میں ان کی (بہترین) حیات ہیں… اور بعض متاخرین مشائخ مغرب نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ دن جس دن میں وہ حضرات رب کی بارگاہ میں پہنچے‘ اس دن میں خیروکرامت‘ برکت و نورانیت کی زیادہ امید ہے۔ بہ نسبت اور دنوں کے۔ (ماثبت من السنۃ ص 124)

شیخ المحدثین حضرت شیخ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

واگر مالیدہ وشیر برنج بنا بر فاتحہ بزرگ بقصد ایصال ثواب بروح ایشاں پختہ بخورند مضائقہ نیست جائز است

یعنی اگر مالیدہ اور شیرینی کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے ایصال ثواب کی نیت سے پکا کر کھلا دے تو جائز ہے کوئی مضائقہ نہیں (فتاویٰ عزیزی جلد 1 ص 39)

آگے فرماتے ہیں

’’طعامیکہ ثواب آں نیاز حضرت امامین نمایندو وبرآں فاتحہ و قل ودرود خواندن تبرک میشود خوردن بسیار خوب است‘‘

یعنی جس کھانے پر حضرات امامین حسنین کی نیاز کریں اس پر قل اور فاتحہ اور درود پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے (فتاویٰ عزیزی جلد 1 ص 71)

کتاب ’’وجیز الصراط فی مسائل الصدقات والاسقاط‘‘ میں مصنف علام ابن ملاجیون علیہما الرحمہ نے گیارہویں شریف کا بایں الفاظ مستقل عنوان کی حیثیت سے ثبوت پیش کیا ہے

’’مسئلہ 9 در بیان عرس حضرت غوث الثقلین بتاریخ یازدہم ہرماہ و بیان حکم خوردن نذر و نیاز وغیرہ صدقات مراغیارا‘ حضرت حامد قاری لاہوری در نذریت یازدہم گفتگوی طویل کردہ اندو اور اصدقہ تطوع قراردادہ اند (وصدقہ تطوع اغنیارانیز مباح است ۔ فیضی) (وجیز الصراط ص 80)

وازہمیں جنس است طعام یازدہم کہ عرس حضرت غوث الثقلین‘ کریم الطرفین‘ قرۃ عین الحسنین‘ محبوب سبحانی‘ قلب ربانی سیدنا ومالانا فرد الافرادابی محمد الشیخ محی الدین عبدالقادر الجیلانی ست چوں مشائخ دیگر را عرسی بعد سال معین میکردند آنجناب را درہرماہے قراردادہ اند (وجیز الصراط ص 82)

یعنی حضرت غوث الثقلین کے عرس کے بیان میں جو ہر ماہ کی گیارہویں تاریخ کو ہوتا ہے اور نذر و نیاز وغیرہ صدقات کھانے کے حکم کے بیان میں حضرت حامد قاری لاہوری نے گیارہویں شریف کی نذر کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے اور اس کو صدقہ نفل قرار دیا ہے (اور صدقہ‘ نفل اغنیاء کو بھی مباح ہے ۔ فیضی) اور گیارہویں کا طعام بھی اسی جنس سے ہے کہ حضرت غوث الثقلین‘ کریم الطرفین‘ قرۃ عین الحسنین‘ محبوب سبحانی‘ قطب ربانی‘ سیدنا ومولانا فردالافرادبی محمدن الشیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی کا عرس ہے جیسے دیگر مشائخ کا عرس سال بعد معین کیا گیا ہے‘ حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ کا عرس ہر ماہ مقرر کیا گیا ہے۔

رشید احمد گنگوہی اور اشرف علی تھانوی کے پیرومرشد حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی صاحب ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘ میں فرماتے ہیں

نفس ایصال ثواب ارواح میت میں کسی کو کلام نہیں۔ اس میں بھی تخصیص و تعین کو موقوف علیہ ثواب کا سمجھے یا واجب و فرض اعتقاد کرے تو ممنوع ہے اور اگر یہ اعتقاد نہیں بلکہ کوء مصلحت باعث تقیید ہیئت کذائیہ ہے تو کچھ حرج نہیں‘ جب بمصلحت نماز میں سورہ اخلاص معین کرنے کے فقہاء و محققین نے جائز رکھا ہے اور تہجد میں اکثر مشائخ کا معمول ہے … جیسے نماز میں نیت ہر چند دل سے کافی ہے مگر موافقت قلب ولسان کے لئے عوام کو زبان سے کہنا بھی مستحسن ہے۔ اسی طرح اگر یہاں زبان سے کہہ لیا جائے کہ یا اﷲ اس کھانے کا ثواب فلاں شخص کو پہنچ جائے تو بہتر ہے پھر کس کو خیال ہوا کہ لفظ اس کا مشار الیہ اگر روبرو موجود ہو تو زیادہ استخصار قلب کر کھانا روبرو لانے لگے۔ کسی کو یہ خیال ہوا کہ یہ دعا ہے اس کے ساتھ اگر کچھ کلام الٰہی بھی پڑھا جاوے تو قبولیت دعا کی بھی امید ہے اور اس کلام کا ثواب بھی پہنچ جاوے گا کہ جمع بین العبادتین ہے… اور گیارہویں حضرت غوث پاک سرہ کی دسویں‘ بیسویں‘ چہلم‘ ششماہی‘ سالیانہ وغیرہ اور توشہ حضرت شیخ احمد عبدالحق اردولی رحمتہ اﷲ علیہ اور سہ منی حضرت شاہ بوعلی قلندر رحمتہ اﷲ علیہ وحلوہ‘ شب برات اور دیگر طریق ایصال ثواب کے اسی قاعدے پر مبنی ہیں (فیصلہ ہفت مسئلہ ص 7-6)

پھر فرماتے ہیں

’’پس حق یہ ہے کہ زیارت مقابر انفراداً واجتماعاً دونوں طرح جائز اور ایصال ثواب قرات و طعام بھی جائز اور تعین تاریخ بمصلحت بھی جائز سب مل کر بھی جائز … مشرب فقیر کا اس امر میں یہ کہ ہر سال اپنے مرشد کی روح مبارک کو ایصال ثواب کرتا ہوں‘ اول قرآن خوانی ہوتی ہے‘ اور گاہے گاہے اگر وقت میں وسعت ہوئی تو مولود (میلاد شریف) پڑھا جاتا ہے پھر ماحضر کھانا کھلایا جاتا ہے اور اس کا ثواب بخش دیا جاتا ہے

(فیصلہ ہفت مسئلہ ص 9-8)