جنت میں لے جانے والے کام

الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :27

روایت ہے حضرت معاذ(ابن جبل)سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ مجھے ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں داخل اور دوزخ سے دور کردے ۲؎ فرمایا تم نے بڑی چیز پوچھی۳؎ ہاں جس پر اﷲ آسان کرے اُسے آسان ہے ۴؎ اﷲ کو پوجو ۵؎ اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانو نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو ۶؎ پھر فرمایا کیا میں تم کو بھلائی کے دروازے نہ بتادوں ۷؎ روزہ ڈھال ہے ۸؎ خیرات گناہوں کو ایسا بجھاتی ہے جیسے پانی آگ کو ۹؎ اور درمیانی رات میں انسان کا نماز پڑھنا ۱۰؎ پھر یہ تلاوت کی کہ ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں۱۱؎ (یعلمون تک)پھر فرمایا کہ میں تمہیں ساری چیزوں کا سر،ستون،کوہان کی بلندی نہ بتادوں ۱۲؎ میں نے کہا ہاں یارسول اﷲ۱۳؎ فرمایا تمام چیزوں کا سراسلام ہے اور اس کا ستون ۱۴؎ نماز اور کوہان کی بلندی جہاد ہے ۱۵؎ پھر فرمایا کہ کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں ۱۶؎ میں نے عرض کیا ہاں یا نبی اﷲ پس حضور نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا کہ اسے روکو ۱۷؎)میں نے عرض کیا کہ یا نبی اﷲ کیا زبانی گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی ۱۸؎ فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے اے معاذ ۱۹؎لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں نہیں گراتی مگر زبانوں کی کٹوتی ۲۰؎ یہ حدیث احمد ترمذی ابن ماجہ نے روایت کی۔

شرح

۱؎ غزوۂ تبوک میں دوپہر کے وقت جب سخت گرمی تھی،جب تمام صحابہ الگ الگ درختوں کے نیچے ٹھہرے اور میں نے حضور کے ساتھ آرام کیا۔(مرقاۃ)

۲؎ یہ اسناد مجازی ہے جنت،دنیا،دوزخ سے بچانا رب کا کام ہے۔چونکہ عمل اس کا ذریعہ ہے اس لیے اسے فاعل قرار دیا گیا لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور جنت دیتے ہیں،دوزخ سے بچاتے ہیں،ہمارے اعمال سے حضور کا توسل زیادہ قوی ذریعہ ہے۔

۳؎ کیونکہ آگ سے بچنا جنت میں پہنچنا بڑی نعمتیں ہیں تو ان کا ذریعہ بھی بڑا ہی ہوگا۔

۴؎ یعنی یہ ذریعہ بتانا مجھ کو آسان ہے کہ رب نے مجھ کو ہر شے پر مطلع کیا ہے یا وہ اعمال اسی پر آسان ہوں گے جس پر اﷲ کرم کرے،ڈھیلا خود نیچے گرتا ہے کسی کے اٹھائے سے اوپر ہوتا ہے،ہماری پیدائش مٹی سے ہے ہمارا بھی یہی حال ہے۔

۵؎ یعنی اسلام لاؤ جو ساری عبادتوں کی جڑ ہے کیونکہ عبادات کا ذکر تو آگے آرہا ہے یہاں مضارع بمعنی امر ہے نہ کہ بمعنی خبر۔

۶؎ اس طرح کہ نماز روزانہ پانچ وقت،روزہ ہرسال رمضان میں،زکوۃ ہر سال،اگر مال ہو حج عمر میں ایک مرتبہ۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں صرف فرائض مراد ہیں جن پر جنتی ہونا موقوف ہے۔

۷؎ یعنی وہ نیک اعمال جو بہت سی نیکیوں کا ذریعہ ہیں جیسے روزہ نفس توڑنے کا ذریعہ ہے نفس ٹوٹ جانے پر انسان بہت سی نیکیاں کرسکتا ہے۔کیونکہ روکنے والا نفس ہی ہے۔

۸؎ جس کی برکت سے روزہ دار تک گناہوں کا تیر نہیں پہنچتا اور شیطان کا راستہ بند ہوجاتا ہے۔

۹؎ چونکہ خیرات میں اﷲ کی عبادت بھی ہے اور بندوں کا نفع بھی،غریبوں کی حاجت روائی بھی،اس لئے کہ یہ گناہوں کو مٹانے میں اکسیر ہے،جو بندوں پر مہربان ہو رب اس پر مہربان ہوتا ہے۔

۱۰؎ یعنی نماز تہجد،نمازپنجگانہ کے بعد یہ نماز بہت اعلٰی ہے اور نمازوں میں اطاعت غالب ہے اس نماز میں عشق،نیز یہ نماز رب نے خاص حضور کے لیے بھیجی،حضور کے طفیل سے ہمیں ملی،فرماتا ہے:”فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ”۔

۱۱؎ یعنی عشاء کے بعد کچھ سولیتے ہیں،پھر اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں،تہجد کے لیے پہلے سولینا شرط ہے ورنہ بستروں کا ذکر نہ ہوتا،بعد تہجد بھی سونا سنت ہے،یہ بھی اسی آیت سے ثابت ہے یعنی بستر بچھے ہوتے ہیں مگر وہ مصلے پر ہوتے ہیں۔

۱۲؎ یہاں دین کو اونٹ سے تشبیہ دی گئی،پھر اس کے لیے سر پاؤں اور کوہان ثابت کیا گیا جیسا استعارہ بالکنایہ اور تخلیل میں ہوتا ہے۔

۱۳؎ یہ سوال جواب سائل کو شوق دلانے کے لئے ہیں کیونکہ انتظار کے بعد جو شے حاصل ہو خوب یاد رہتی ہے۔

۱۴؎ چیز سے مراد دین ہے۔دینداری اسلام کے بغیر نہیں قائم رہ سکتی،جیسے سر کے بغیر زندگی اور نماز سے دین کو قوت و بلندی ہے،جیسے ستون سے چھت کی۔

۱۵؎ جہاد چونکہ دشوار ہے اور جہاد ہی سے دین کی زینت و رونق ہے،جیسے کوہان سے اونٹ کی زینت اور کوہان تک پہنچنا کچھ مشکل بھی ہوتا ہے۔جہاد بمعنی مشقت ہے یہ لِسان،سنان،اقلام سبھی سے ہوتا ہے،کافروں پر جہا د سہل ہے مگر اپنے نفس پر مشکل یہ کلمہ سب جہادوں کو شامل ہے۔

۱۶؎ ملاک وہ ہے جس سے کسی چیز کا نظام اور قوام قائم ہو،یعنی اصل اصول۔

۱۷؎ کہ پہلے تو لو بعد میں بولو،زبان کو لگام دو،رب نے چھونے کے لیے دو ہاتھ،چلنے کے لیے دو پاؤں،دیکھنے کے لیے دو آنکھیں،سننے کے لیے دو کان دیئے،مگر بولنے کے لیے زبان صرف ایک ہی دی کہ کلام کم کرو کام زیادہ۔

۱۸؎یعنی بات تو معمولی چیز ہے۔اس پر کیا پکڑ چوری،زنا،قتل وغیرہ جرم قابل گرفت ہیں مگر وہ زبان سے نہیں ہوتے۔

۱۹؎ عرب میں یہ لفظ(ماں روئے)محبت و پیار میں بھی کہا جاتا ہے۔جیسے بچوں سے مائیں پیار میں کہتی ہیں۔اے رُڑجانئیں،اڈپڈ جانئیں اردو میں مارے ہتیارے،ارے مٹ گئے وغیرہ یعنی توگم جائے یا مرجائے اور ماں تجھے رو رو کر ڈھونڈ ے یا یاد کرے۔

۲۰؎ کیونکہ ہاتھ پاؤں سے اکثر گناہ ہی ہوتے ہیں۔مگر زبان سے کفر،شرک،غیبت،چغلی،بہتان سب کچھ ہوتے ہیں جو دوزخ میں ذلت و خواری کے ساتھ پھیلنگے جانے کا ذریعہ ہیں۔حصائد وہ جگہ ہے جہاں کھیت کا ٹ کر رکھا جاتا ہے یعنی کھلیان یا کٹوتی انسان کا ہر لفظ نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔وہ دفتر گویا اس کا کھلیان ہے۔

قبیلہ عبدالقیس کا وفد

حدیث نمبر :15

روایت ہے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا نمایندہ وفد ۲؎جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم کون قوم یا کون وفد ہو عرض کیا ہم ربیعہ ہیں۳؎فرمایا یہ وفد یا قوم خوب اچھے آگئے کہ نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ ۴؎عرض کیا یارسول اﷲ ہم آپ تک صرف محترم مہینہ میں آسکتے ہیں۵؎ کیونکہ ہمارے آپ کے درمیان کفار مضر کا قبیلہ حائل ہے۶؎ لہذا ہمیں فیصلہ کُن خبر فرمادیں جس کی خبر ہم اپنے پیچھے والوں کوبھی دے دیں اور ہم جنت میں بھی پہنچ جائیں۷؎ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شرابوں کے متعلق پوچھا تو حضور نے انہیں چارچیزوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع فرمایا۔ا ﷲ پر ایمان لانے کا حکم فرمایا کیا جانتے ہوصرف اﷲ پر ایمان لانا کیا ہے وہ بولے اﷲ اور رسول جانیں۸؎ فرمایا یہ گواہی دینا کہ اﷲ کے سواء کوئی لائق عبادت نہیں اورمحمد اﷲ کے رسول ہیں۹؎ اور نماز قائم رکھنے زکوۃ دینے رمضان کے روزے کا۱۰؎ اور فرمایا کہ غنیمت میں سے پانچواں حصہ حاضرکرو ۱۱؎ اور چار چیزوں سے منع فرمایا ٹھلیا سے،تونبی سے،لکڑی کی دوری سے اور تارکول والے پیالے سے۱۲؎ فرمایا یہ خود بھی یاد کرلو دوسروں کو اس کی خبر دے دو۱۳؎ (مسلم و بخاری)لفظ بخاری کے ہیں۔

شرح

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ ابن عباس ابن عبدالمطلب ہے،حضور کے چچازادہیں،آپ کی والدہ لبابہ بنت حارث یعنی امیرالمؤمنین میمونہ کی ہمشیرہ ہیں،آپ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے،جب تیرہ سالہ تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی،آپ کا لقب حبرامت ہے یعنی امت اسلامیہ کے بڑے عالم،تفسیر قرآن کے امام ہیں،آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے، ۶۸ھ؁میں بمقام طائف ۷۱ برس عمر شریف میں وصال ہوا،طائف میں مزار شریف ہے فقیر نے زیارت کی ہے۔

۲؎ وفدقوم کے وہ نمائندے کہلاتے ہیں جو اپنی قوم کی طرف سے سلطان یا امیر کی خدمت میں کچھ پیام سلام لے کر حاضر ہوں یا ان کی طرف سے عہد وفاداری کریں۔یہ چودہ حضرات تھے جو قبیلہ عبدالقیس کی طرف سے ایمان لائے اورحضورسے احکام اسلام معلوم کرنےحاضرہوئے تھے یہ قبیلہ بحرین،قطیف،ہجروغیرہ بستیوں میں آباد تھا،عبدالقیس ان کے جد کا نام تھا۔جن کا سلسلہ نسب ربیعہ ابن نزار ابن معدابن عدنان تک پہنچتا ہے،اس لیے اس قبیلہ کو عبدالقیس بھی کہتے ہیں اور ربیعہ بھی۔

۳؎ یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لئے ہے حضور تو واقف تھے۔مرقات میں اسی جگہ ہے کہ یہ وفد جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو حضور نے حاضرین کو خبر دی کہ وفد عبدالقیس آرہا ہے جو مشرق کے بہترین لوگوں میں سے ہے،ان میں اشج بھی ہے جس کا نام منذر ہے۔پوچھنا بے علمی سے ہی نہیں ہوتا رب نے پوچھا تھا:”وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی”۔

۴؎ یہ کلمات یا دعائیہ ہیں یعنی خدا کرے تمہیں کبھی رسوائی و شرمندگی نہ ہو یا خبر ہے یعنی اچھا ہوا تم خوشی سے اسلام لاکر حاضر ہوگئے،ورنہ کچھ عرصہ بعدلشکر اسلام تمہارا ملک فتح کرتا پھر تمہیں شرمندگی اور رسوائی ہوتی،اب عزت سے ایمان لے آئے۔

۵؎ یہاں جنسی مہینہ مراد ہے یعنی ہم سال میں صرف ۴ محترم مہینوں میں ہی سفر کرکے آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔ماہ حرام۴تھےرجب، ذیقعدہ،ذی الحجہ،محرم۔ان مہینوں میں کفاربھی قتل و غارت نہیں کرتے تھے،راستوں میں امن رہتی تھی،سفر بآسانی ہوتے تھے،اس لیے یہ عرض کررہے ہیں۔

۶؎ جو باقی مہینوں میں لوٹ مار کرتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے سفر بند رہتے ہیں۔

۷؎ یعنی ان عقائد و اعمال کی وجہ سے ہم پر اﷲ فضل کرے،جنت بخشے۔خیال رہے کہ جنت اﷲ کے فضل سے ملے گی،یہ اعمال اسی فضل کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔

۸؎ یہ ادبًا عرض کیا ورنہ یہ لوگ ایمان لاچکے تھے،مؤمن ایمان سے بے خبر نہیں ہوتا۔(مرقات)صحابہ کا یہ ادب تھا کہ ان کو علم بھی ہوتا مگر حضور پر پیش قدمی نہ کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو اﷲ نے بہت علم بخشا۔

۹؎ اس سے معلوم ہوا کہ حضور پر ایمان لائے بغیر اﷲ تعالٰی پر ایمان غیرممکن ہیں،ایمان باﷲکی تفسیر میں رسالت کا ذکر بھی ہوا۔شہادۃسے مراد دل کی گواہی ہے،یعنی ماننا و قبول کرنا ورنہ زبانی اقرار ایمان کا جزو نہیں،بلکہ احکام اسلامی جاری ہونے کی شرط ہے۔

۱۰؎ نماز،روزہ وغیرہ ایمان کی تفسیر نہیں بلکہ ایمان پرمعطوف ہے،یعنی انہیں ایمان کا بھی حکم دیا اور نماز روزے وغیرہ کا بھی۔لہذا اقام وغیرہ جر سے پڑھنا چاہیئے،چونکہ ایمان اعمال پر مقدم ہے،اس لئے ایمان کے بعد ان کا ذکر ہوا،چونکہ ابھی حج نہ ہوا تھا اس لئے اس کا ذکر نہیں،حج ۹ھ؁ میں فرض ہوا ہے۔

۱۱؎ چونکہ اس وقت جہاد فرض ہوچکا تھا اور یہ لوگ اہل جہاد سے تھے،اسی لئے انہیں جہاد کے احکام ارشاد فرمائے کہ اگر تم کفار مضر سے جہاد کرو تو جو غنیمت کامال حاصل ہوا اس کا پانچواں حصہ یہاں بھیج دیا کرو،چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیا کرو،رب فرماتاہے:”وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمۡ "الخ۔

۱۲؎ یہ شراب کے چاربرتن ہیں:حِنتُم،شراب کی چھوٹی گھڑی،رُبّا کھکل کیا ہوا پکا کدُو جو جگ کی طرح استعمال کیا جاتاتھا،نقیر درخت کی جڑجسے کھکل کرکے اس میں شراب رکھتے تھے،مزفت شراب پینے کا پیالہ۔چونکہ اس وقت شراب نئی نئی حرام ہوئی تھی،اگر یہ برتن استعمال ہوتے رہتے توممکن تھا کہ انہیں چھوٹی ہوئی شراب پھر یاد آجاتی،اس لئے ان کا استعمال بھی حرام کردیا گیا،پھر کچھ عرصہ بعد یہ حرمت منسوخ ہوگئی جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔

۱۳؎ یعنی تم عالم و عامل بھی بنو اور مبلغ بھی،تبلیغ کے لیے کامل عالم ہونا شرط نہیں،جو صحیح مسئلہ ہو اس کی تبلیغ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام سے بچانے کے لیے اسباب حرام روکنا ضروری ہیں،نزلہ روکو تاکہ بخار سے بچو،چوہے فناکرو تاکہ طاعون نہ پھیلے،گانا اور بیہودگی روکو تاکہ زنا بند ہو۔

کامیاب شخص

حدیث نمبر :14

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبداﷲسے ۱؎کہ ایک نجدی شخص۲؎حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بال بکھیرے حاضرہوا جس کی گنگناہٹ توہم سنتے تھےمگرسمجھتے نہ تھے کہ کیاکہتاہےیہاںتک کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تو اسلام کے بارے میں پوچھنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں ہیں بولا ان کے سواء میرے ذمہ اور نماز بھی ہے فرمایا نہیں ۳؎ ہاں چاہو تو نفل پڑھو۴؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے روزے بولا کیا مجھ پر اس کے سوا ءاور بھی ہیں فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے فرمایا اُس سےحضور علیہ الصلوۃ والسلام نےزکوۃ کا ذکر فرمایا بولا کیا میرے ذمہ کچھ اور بھی ہے فرمایا نہیں مگرنفل ادا کرے ۵؎فرمایا اس نے پیٹھ پھیرلی یہ کہتا جاتا تھا کہ مَیں اِس سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ شخص سچا ہے تو کامیاب ہوگا ۶؎

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابومحمدہے،قرشی ہیں،ابوبکرکےبھتیجے،قدیم الاسلام ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،جنگ احدمیں حضور کے لیے ڈھال بنے اور چوبیس زخم کھائے،آپ کےجسم پرکل ۷۵ زخم تھے جو غزوات میں کھائے تھے،جنگ جمل ۳۶ھ؁ میں بصرہ میں شہید ہوئے،وہاں ہی آپ کا مزار پر انوار ہے،فقیر نے مزارپاک کی زیارت کی ہے،حضور کی دعوت اور دعوت کے معجزات آپ کے ہاں ظاہر ہوئے جو مشہور ہیں۔

۲؎نجدعرب کا ایک صوبہ ہے جو مکہ معظمہ اور عراق کے درمیان واقع ہے۔اس صوبہ کے متعلق حضور نے دعاء خیر نہ فرمائی اوروہاں سے وہابی فرقے کے نکلنے کی خبر دی جو آخر کتاب میں ان شاءاﷲ ذکر ہوگا۔

۳؎یعنی ان پانچ نمازوں کے سوا اور نماز اسلام کا فرض نہیں،عیدین اور وتر واجب ہے،نماز جمعہ ظہر کی قائم مقام ہے لہذا یہ ان ہی پانچ میں شامل ہے۔

۴؎نفل سے لغوی معنی مراد ہیں فرض پر زائد،رب فرماتا ہے:”فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ”لہذا اس میں وتر وعیدین داخل ہیں۔یا اس وقت تک یہ نماز اسلام میں آئی نہ تھیں،بہرحال یہ حدیث وتر وعیدین کے وجوب کے خلاف نہیں احناف کے مخالف نہیں۔

۵؎یہ جملہ بھی فطرے اور قربانی کے وجوب کے خلاف نہیں جیسا کہ؀ ۴ کی تقریر سے واضح ہے۔

۶؎ یعنی اگرصدق دل سے وعدہ کیا ہے تو کامیاب ہوگا یا اگر اس وعدے کو پوراکر دکھائے تو کامیاب ہوگا۔معلوم ہوتاہے کہ نجدیوں کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اس سے پہلے ایک سائل کے ان ہی الفاظ پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فلاح و کامیابی کا قطعی حکم دے دیا،اس نجدی کے ان ہی الفاظ پر مشکوک طریقہ سے کامیابی بیان فرمائی۔

جنتی ہونے کے لیئے عمل

حدیث نمبر :12

روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا اﷲ کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو ۱؎ وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں۲؎ پھرجب وہ چل دیئے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۳؎

شرح

۱؎ یہ جملہ عبادت کی تفسیر ہے،چونکہ اس وقت تک جہاد وغیرہ احکام آئے نہ تھے یا اس پر جہاد فرض نہ تھا اس لیے جہاد کا ذکر نہ فرمایا۔

۲؎ یعنی ان فرائض میں اپنی طرف سے زیادتی کمی نہ کروں گا کہ فجر چار یا چھ پڑھوں اور ظہردویاتین یا روزے چالیس رکھ لوں،یا اپنی قوم تک بعینہ یہ ہی احکام پہنچا دوں گا،تبلیغ میں زیادتی کمی نہ کروں گا یا اب سوال میں زیادتی کمی نہ کروں گا،لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ فطرہ،قربانی،نماز عیدین،روزہ،نذر،وتر ضروری نہ ہوں۔احکام اسو قت تک آئے ہی نہ تھے بعد میں خود حضور نے احکام میں زیادتی فرمائی لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔

۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنتی آدمی کو دیکھنا بھی ثواب،بزرگوں کے دیدار سے گناہ بخشے جاتے ہیں ؎

اُٹھ جاگ فریدا ستیادل مسجددے جا مت کوئی بخشیا مل پوے تو بھی بخشیا جا

دوسرے یہ کہ حضورکو لوگوں کے انجام نیک بختی،بدبختی کا علم ہے،جانتے ہیں کہ جنتی کون ہے دوزخی کون،حضور کو خبر تھی کہ یہ بندۂ مؤمن تقویٰ پر قائم رہے گا،ایمان پر مرے گا،جنت میں جائے گا۔

ارکان اسلام

حدیث نمبر : 2

روایت ہے حضرت ابن عمرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا۲؎ اس کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کےبندےاور رسول ہیں۳؎ اورنمازقائم کرنا۴؎ زکوۃ دینا اور حج کرنا۵؎ اور رمضان کے روزے۔(بخاری و مسلم)

شرح

۱؎

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ بن عمر ہے،ظہور نبوت سے ایک سال پہلے پیداہوئے، ۷۳ ؁ھ میں شہادت ابن زبیر سے تین ماہ بعد وفات پائی، ذی طویٰ کے مقبرہ مہاجرین میں دفن ہوئے،چوراسی سال عمر شریف پائی،بڑے متقی اور اعمل بالسنۃ تھے۔رضی اللہ عنہ۔(مرقاۃ وغیرہ)

۲؎

۲؎ یعنی اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارج ہوگا،اور اس کا اسلام منہدم ہوجاویگا۔خیال رہے کہ ان اعمال پر کمال ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفس ایمان موقوف،لہذا جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز روزہ کا پابند نہ ہو،وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں،اور جو ان میں سےکسی کا انکارکرے وہ کافر ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،نہ اعمال ایمان کے اجزاء ہیں۔

۳؎

۳؎ اس سےسارےعقائد اسلامیہ مرادہیں جوکسی عقیدے کامنکرہے وہ حضورکی رسالت ہی کا منکرہے۔حضور کو رسول ماننے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی ہر بات کو مانا جاوے۔
۴؎ ہمیشہ پڑھنا،صحیح پڑھنا،دل لگا کر پڑھنا،نماز قائم کرنا۔

۴؎

۵؎ اگر مال ہو تو زکوۃ و حج ادا کرنا فرض ہے ورنہ نہیں مگر انکا ماننا بہرحال لازم ہے۔نماز ہجرت سے پہلے معراج میں فرض ہوئی،زکوۃ وروزہ ۲ھ ؁ میں،اور حج ۹ ھ ؁ میں فرض ہوئے۔

روزے کے اسرار اور باطنی شرائط

روزے کے اسرار اور باطنی شرائط


روزے کے تین درجات ہیں:۔
(1) عام لوگوں کا روزہ ۔
(2) خاص لوگوں کا روزہ ۔
(3) خاص الخاص لوگوں کا روزہ۔
عام لوگوں کا روزہ دل کو تمام بڑے خیالات اور دنیوی افکار بلکہ اللہ تعالٰی کے سوا ہر چیز سے کلیتاً خالی کر دینا ہے، اس صورت میں جب اللہ تعالٰی اور قیامت کے سوا کوئی دوسری فکر آئے گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ دنیوی فکر سے اگر دین کا قصد نہ ہو تو بھی یہی حکم ہے، کیونکہ دین کی فکر زار آخرت سے ہے دنیا سے نہیں، حتٰی کہ اہل دل حضرات نے کہا ہے کہ جو شخص دن کے وقت یہ بات سوچے کہ رات کو کس چیز کے ساتھ افطار کرے گا اس کے ذمہ گناہ لکھ دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالٰی پر کامل اعتماد اور اس کے رزق موعود پر مکمل یقین نہ ہونے کی علامت ہے۔ یہ درجہ انبیاء کرام، صدیقین اور مقربین کا ہے۔ اس کی تفصیل میں زیادہ گفتگو نہیں کی جائے گی، البتہ اس کی عملی تحقیق بیان کریں گے یعنی یہ روزہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ آدمی اپنی مکمل توجہ اللہ تعالٰی کی طرف کر دے اور غیر خدا سے پھیر دے، اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کو لباس بنانے لے “قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون“ آپ فرما دیجئے اللہ تعالٰی ہے، پھر انہیں چھوڑ دیں اپنی بیہودگیوں میں کھیلتے رہیں۔

خاص لوگوں کا روزہ اولیاء کرام کا روزہ ہے، اور یہ اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچانا ہے، یہ روزہ چھ باتوں سے مکمل ہوتا ہے۔

(1) ان چیزوں کو دیکھنے سے نظر کو روکنا جو بُری اور مکروہ ہیں۔ نیز وہ چیزیں جو دل کو اللہ تعالٰی کے ذکر سے روکتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ۔ النطرۃ سھم مسموم من سھام ابلیس لعنۃ اللہ فمن ترکھا خوفا من اللہ نظر زہر میں بجھا ہوا ایک شیطانی تیر ہے اللہ اس پر لعنت بھیجے، پس جس شخص نے اسے (غیر محرم کو دیکھنا) چھوڑ دیا اسے اللہ تعالٰی ایسا ایمان عطا فرماتا ہے جس کی شیرنی وہ اپنے دل میں پاتا ہے۔

حضرت جابر، حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے اور وہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا خمس یفطر ان الصائم الکذب والغیبۃ والنمیمۃ والیمین الکاذبۃ والنظر بشھودۃ پانچ چیزیں روزہ دار کے روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، چغلی کھانا، جھوٹی قسم کھانا اور شہوت کے ساتھ کسی کو دیکھنا۔

(2) زبان کو بیہودہ گفتگو، جھوٹ، غیبت، چغلی، فحش کلامی، ظلم و زیادتی، جھگڑے، دکھاوے اور خاموشی خاموشی اختیار کرنے سے محفوظ رکھنا اور اسے اللہ تعالٰی کے ذکر اور تلاوتِ قرآن مجید میں مشغول رکھنا، یہ زبان کا روزہ ہے۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا غیبت روزے کو توڑ دیتی ہے، یہ بات ان سے حضرت بشیر بن حارث نے نقل کی ہے۔ حضرت لیث، حضرت مجاہد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ دو باتیں روزے کو توڑ دیتی ہیں۔ (1) غیبت اور (2) چغلی۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انما الصوم جنۃ فاذا کان احدکم صائما فلا یرفث ولا یجھل وان امروء قاتلہ او شاتما فلیقل انی صائم انی صائم بیشک روزہ ڈھال ہے، پس جب م میں سے کوئی روزہ دار ہو تو نہ وہ بے حیائی کی بات کرے اور نہ جہالت کی اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔

ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا، تو ان کے آخر میں انہیں بھوک اور پیاس نے ستایا حتٰی کہ قریب تھا وہ اپنے روزے کو ضائع کر دیں، انہوں نے کسی کو رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج کر روزہ توڑنے کی اجازت طلب کی آپ نے ان کی طرف ایک پیالہ بھیجا اور فرمایا کہ ان سے کہو جو کچھ کھایا تھا اس میں قے کر دیں، تو ان میں سے ایک نے تازہ خون اور تازہ گوشت کی قے کی اور دوسرے نے بھی اس جیسی قے کی، حتٰی کہ دونوں نے پیالہ بھر دیا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں نے اس چیز سے روزہ رکھا جسے اللہ تعالٰی نے حلال کیا اور جسے اللہ تعالٰی نے حرام کیا اس سے روزہ توڑ دیا، ان دونوں نے ایک دوسرے کے پاس بیٹھ کر لوگوں کی غیبت کی تو یہ لوگوں کا گوشت ہے جو انہوں نے (غیبت کی صورت میں) کھایا۔

(3) ہر مکروہ بات کو سننے سے کانوں کو روکنا، کیونکہ جو بات کہنا حرام ہے، اس کی طرف کان لگانا بھی حرام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالٰی نے غور سے سننے والے اور حرام مال کھانے والے کو برابر قرار دیا، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، سماعن للکذب اکالون للسحت وہ جھوٹ کو سننے والے اور خوب حرام کھانے والے ہیں۔
اور ارشاد خداوندی ہے ولا ینھاھم الرابنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ان کے علماء اور درویش ان کو گناہ کی بات اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے۔
تو غیبت سن کو خاموشی اختیار کرنا حرام ہے، اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا، انکم اذا مثلھم بیشک تم اس وقت ان کی مثل ہوگے۔
اسی لئے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، المعتاب والمستمع شریکان فی الاثم غیبت کرنے والا اور اسے قصداً سننے والا دونوں گناہوں میں شریک ہیں۔

(4) باقی اعضاء یعنی ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کو بھی گناہوں سے نیز مکروہ امور سے بچانا اور افطار کے وقت پیٹ کو شبہے والے اشیاء سے بچانا اگر وہ حلال چیز سے روزہ رکھے اور حرام سے افطار کرے تو روزے کا کیا مطلب ہوگا ؟؟
ایسے روزے دار کی مثال اس شخص جیسی ہے جو محل بناتا ہے اور شہر کو گرا دیتا ہے کیونکہ حلال کھانا زیادہ ہونے کی وجہ سے نقصان دیتا ہے، اپنی کسی نوع کی وجہ سے نہیں اور روزے کا مقصد کھانے کو کم کرنا ہے اور زیادہ دوائی کو اس کے نقصان کے باعث چھوڑ کر زہر کھانے والا بیوقوف ہوتا ہے اور حرام بھی ایک زہر ہے جو دین کو ہلاک کرتا ہے اور حلال چیز دوا ہے جو تھوڑی ہو تو نافع ہے اور زیادہ ہو تو نقصان دیتی ہے، اور روزے کا مقصد اس حلال غذا کو کم کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، کم من صائم لیس لہ من صومہ الا الجوع والعطش کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
کہا گیا ہے کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حرام کی طرف نظر کرتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مُراد وہ شخص ہے جو حلال کھانے سے رکتا ہے اور غیبت کے ذریعے لوگوں کے گوشت سے روزہ توڑ دیتا ہے۔ کیونکہ غیبت حرام ہے اور یہ قول بھی ہے کہ وہ شخص مراد ہے جو اپنے اعضاء کو گناہوں سے محفوظ نہیں رکھتا۔

(6) افطار کے وقت حلال کھانا بھی زیادہ نہ کھائے اس طرح کہ پیٹ بھر لے اللہ تعالٰی کے ہاں اس پیٹ سے بُرا برتن کوئی نہیں جو حلال رزق سے بھر جائے روزے سے اللہ تعالٰی کے دشمن پر غلبہ پانے اور شہوت کو توڑنے کا فائدہ کیسے حاصل ہوگا جب وہ دن کے وقت کچھ رہ گیا اس کی کسر افطاری کے وقت نکالے۔
اور بعض اوقات اس کے پاس طرح طرح کے کھانے جمع ہو جاتے ہیں حتٰی کہ یہ عادت بن گئی ہے کہ رمضان المبارک کیلئے کھانے جمع کئے جاتے ہیں اور اس وقت وہ کھانے کھائے جاتے ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں کھائے جاتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ روزے کا مقصد پیٹ کو خالی رکھنا اور خواہش کو توڑنا ہے، تا کہ نفس کو تقوٰی پر قوّت حاصل ہو، اور جب صبح سے شام تک معدے کو ٹالتا رہا حتٰی کہ خواہش جوش میں آئی اور رغبت مضبوط ہو گئی، پھر اسے لذیذ کھانے دے کر سیر کیا گیا اور اس کی قوّت زیادہ ہوگی اور وہ خواہشات ابھریں جو عام عادت پر رہنے کی صورت میں پیدا نہ ہوتی پس روزہ کی روح اور رام تو یہ ہے کہ ان قوتوں کو کمزور کیا جائے جو بُرائیوں کی طرف لوٹنے کو کم کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے یعنی ہر رات اتنا کھانا ہی کھائے جو روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کھاتا ہے، اور اگر دن اور رات کا کھانا جمع کرکے کھائے تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ مستحب یہ ہے کہ دن کے وقت زیادہ نہ سوئے تاکہ اسے بھوک اور پیاس کا احساس ہو، اور اعضاء کی کمزوری محسوس ہو اس وقت اس کا دل صاف ہو جائے گا اور ہر رات اسی قدر کمزوری پیدا ہوگی تو اس پر تہجد اور وظائف پڑھنا آسان ہو جائے گا اور ممکن ہے شیطان اس کے دل کے قریب تر آئے اور وہ آسمانی بادشاہت کا نظارہ کرے اور لیلۃ القدر اسی رات کو کہتے ہیں جس میں ملکوت سے کئی چیز اس پر منکشف ہو، اور اللہ تعالٰی کے اس ارشاد گرامی کا یہی مطلب ہے فرمایا، انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس (قرآن پاک) کو لیلۃ القدر میں اتارا، اور جو آدمی اپنے دل اور اپنے سینے کے درمیان کھانے کی رکاوٹ ڈال دے، وہ اس سے پردے میں رہتا ہے اور جس نے اپنے معدے کو خالی رکھا تو صرف یہ بات بھی پردہ اٹھنے کیلئے کافی نہیں جب تک وہ اپنی توجہ غیر خدا سے ہٹا نہ دے یہی سارا معاملہ ہے اور اس تمام معاملے کی بنیاد کم کھانا ہے۔

(6) افطار کے بعد اس کا دل خوف اور امید کے درمیان معلق اور مترددر ہے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کا روزہ قبول ہوا، اور وہ مقربین میں سے ہے یا رَد کر دیا گیا اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جن پر اللہ تعالٰی ناراض ہے اسے ہر عبادت سے فراغت کے بعد اسی طرح ہونا چاہئیے۔ حضرت حسن بن ابو الحسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے آپ ایک جماعت کے اس سے گزرے اور وہ لوگ ہنس رہے تھے، انہوں نے فرمایا اللہ تعالٰی نے رمضان المبارک کے مہینے کو لوگوں کیلئے مقابلے کا میدان بنایا ہے، وہ اس کی عبادت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں، ایک جماعت آگے بڑھ گئی اور کامیاب ہوئی اور دوسرا گروہ پیھے رہ گیا، اور اس نے نقصان اٹھایا تو اس شخص پربہت زیادہ تعجب ہے جو اس دن ہنستا اور کھیلتا ہے، جس میں سبقت کرنے والے کامیاب اور پیچھے رہنے والے ناکام ہوئے۔
سنو !!! اللہ تعالٰی کی قسم ! اگر پردہ اٹھ جائے تو نیکی کرنے والے اپنی نیکی میں اور بُرائی کرنے والے اپنی بُرائی میں مشغول ہوں یعنی مقبول کی خوشی اسے کھیل سے روک دے اور مردود کا افسوس اس پر ہنسی کا دروازہ بند کردے، حضرت احنف بن قیس رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے ان سے کہا گیا کہ آپ بہت بوڑھے ہیں اور روزہ آپ کو کمزور کر دے گا، انہوں نے فرمایا میں اسے ایک طویل سفر کا سامان بناتا ہوں اور اللہ تعالٰی کی اطاعت پر صبر کرنا، اس کے عذاب پر صبر کرنے سے زیادہ آسان ہے، تو روزے میں باطنی امور یہ ہیں۔

سوال :۔ جو شخص پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت سے رکنے پر اکتفا کرے اور ان امور کو نظر انداز کردے تو فقہاء فرماتے ہیں اس کا روزہ صحیح ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟
جان لوکہ ظاہری فقہائے کرام ظاہری شروط کو نہایت کمزور دلائل سے ثابت کرتے ہیں یعنی وہ دلائل ہماری ذکر کردہ باطنی شرائط کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ خصوصاً غیبت اور اس جیسی دوسری باتیں فقہاء نے ظاہر ان تکلیفات کا ذکر کرتے ہیں جو عام غافل اور دنیا کی طرف متوجہ ہونے والے لوگوں کیلئے آسان بات کو سمجھتے ہیں کہ روزے کا مقصد اللہ کے اخلاق سے متصف ہونا ہے اور وہ بے نیازی ہے اور جس قدر ممکن ہو شہوات سے ب کر فرشتوں کی اقتدا کرے کیونکہ وہ شہوات سے پاک ہیں اور انسان کا رتبہ جانوروں کے رتبہ سے بلند ہے کیونکہ وہ نور عقل کے ذریعے شہوات کو ختم کر سکتا ہے اور فرشتوں کے رتبہ سے (عام انسانوں کا رتبہ) کم ہے کیونکہ اس پر شہوت کا غلبہ ہے اور اسے مجاہدے میں مبتلا کیا گیا۔ لٰہذا جب وہ شہوات میں بڑھتا ہے تو سب سے نچلے گڑھے میں گرتا ہے اور جانوروں کی درجے میں چلا جاتا ہے اور جب شہوات کا قلع قمع ہوتا ہے تو وہ اعلٰی علیین میں چلا جاتا ہے اور ملائکہ کی دنیا سے جا ملتا ہے اور فرشتے اللہ تعالٰی کے مقرب ہیں اور جو شخص فرشتوں کی اقتدا کرتا اور ان کے اخلاق سے مشابہت رکھتا ہے وہ بھی ان کی طرف اللہ تعالٰی کا مقرب بن جاتا ہے۔ کیونکہ قریب کی مشابہت اختیار کرنے والا بھی قریب ہوتا ہے اور وہاں مکان کا قرب نہیں بلکہ صفات کا قرب ہوتا ہے۔
جب عقلمندوں کے اور اہل دل کے نزدیک روزے کا مقصد اور راز یہ ہے تو ایک کھانے کو موخر کرکے دونوں کو شام کے وقت اکٹھا کرلے۔ نیز دن بھر شہوات میں غرق رہنے کا کیا فائدہ ہے، اگر اسی کا کوئی فائدہ ہے تو نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا کیا مطلب ہوگا آپ نے فرمایا:۔
کم من صائم لیسلہ من صومہ الا الجوع والعطش
کتنے ہی روزے دار ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اس لئے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ دانا آدمی کا سونا اور افطار کرنا کیسا اچھا ہے وہ کیسے بیوقوف آدمی کے روضے اور بیداری کو بُرا نہ جانے، البتہ یقین اور تقوٰی والوں کا ایک ذرہ دھوکے میں مبتلا لوگوں کی پہاڑوں کے برابر عبادت سے افضل اور راجح ہے۔ اسی لئے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ کتنے ہی روزے دار روزے کے بغیر اور کتنے ہی بے روزہ، روزہ دار ہوتے ہیں، روزہ نہ رکھنے کے باوجود روزہ دار وہ شخص ہے جو اپنے اعضاء کو کھلی چھٹی دیتا ہے۔
روزے کے مفہوم اور اس کی حکمت کو سمجھنے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جو شخص کھانے اور جماع سے رکے اور گناہوں میں ملوث ہونے کے باعث روزہ توڑ دے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو وضو میں اپنے کسی عضو پر تین بار مسح کرے، اس نے ظاہر میں تعداد کو پورا کیا لیکن مقصود یعنی اعضاء کو دھونا جو کھانے کے ذریعہ روزہ دار نہیں لیکن ناپسندیدہ افعال سے اعضاء کو روکنے کی وجہ سے روزہ دار ہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جو اپنے اعضاء کو ایک ایک بار دھوتا ہے تو اس کی نماز انشاءاللہ قبول ہوگی کیونکہ اس نے اصل کو پکا کیا اگرچہ زائد کو چھوڑ دیا اور جو آدمی دونوں کو جمع کرے وہ اس آدمی جیسا ہے جو ہر عضو کو تین تین بار دھوتا ہے، اس نے اصل اور زائد دونوں کو جمع کیا اور یہی کمال ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ان الصوم امائۃ فلیحفظ احدکم امانتہ بیشک روزہ امانت ہے تو تم میں سے ایک کو چاہئے کہ وہ اپنی امانت کی حفاظت کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت فرمائی ان اللہ یامرکم ان ودوا الامانات الی اھلھا بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کی طرف لوٹا دو۔
تلاوت کے بعد آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اپنے کان اور آنکھ پر رکھ کر فرمایا، سماعت و بصارت بھی امانت ہے اور اگر یہ روزے کی امانتوں میں سے نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یہ بات نہ فرماتے کہ اسے کہنا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔ (بخاری)
دوسری حدیث میں گزر چکا ہے یعنی میرے پاس میری زبان امانت ہے تاکہ میں اس کی حفاظت کروں تو میں کس طرح تجھے جواب دینے کے لئے اسے کھلا چھوڑ دوں۔
اب یہ بات ظاہر ہو گئی کہ ہر عبادت کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، چھلکا بھی ہے اور مغز بھی اور اس کے چھلکوں کے کئی درجات ہیں اور ہردرجے کے کئی طبقے ہیں اب تجھے اختیار ہے کہ تو مغز کو چھوڑ کر چھلکے پر قناعت کرے یا عقلمندوں کی جماعت میں شامل ہو۔

نوٹ :۔ اس مضمون کی تفصیل اور اس کے تمام حوالے، علامہ غزالی کی تصنیف “احیاء العلوم“ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ میں نے یہاں بقدر ضرورت ایک خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ نثار احمد مصباح

:::: کِتَا بُ الصَّوم ::: روزہ ::::

:::: کِتَا بُ الصَّوم ::: روزہ ::::

بہتر رزلٹ میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

1

ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب ماہ ِ رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیںاور ایک اور روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیںاور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔(بخاری و مسلم )
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ::
کشادہ شدن درہائے آسمان کنایت ست از پیاپے فرستادن رحمت و صعود اعمال بے مائع واجابت دعا۔ وکشادہ شدن درہائے بہشت از بذل توفیق و حسن قبول ۔ و بستہ شدن درہائے دوزخ از تنزیہہ نفوس روزہ داران از آلودگی فواحش و تخلص از بوا عث معاصی و قمع شہوات و درزنجیر کردن شیاطین از بستہ شدن طرف معاصی وو سادس ( اشعہ اللمعات جلد دوم صفحہ 72 )
یعنی :: آسمان کے دروازے کھول دیے جانے کا مطلب ہے پے در پے رحمت کا بھیجا جانا اور بغیر کسی رکاوٹ کے بارگاہ ِا لہٰی میں اعمال کا پہنچنا اور دعا کا قبول ہونا اور جنت کے دروازے کھول دیے جانے کا معنی ہے نیک اعمال کی توفیق اور حسن ِ قبول عطا فرمانا ۔اور دوزخ کے دروازے بند کیے جانے کا مطلب ہے روزہ داروں کے نفوس کو ممنوعات شرعیہ کی آلودگی سے پاک کرنا اور گناہوں پر ابھارنے والی چیزوں سے نجات پانا اور دل سے لذتوں کے حصول کی خواہشات کا توڑنا اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیے جانے کا معنی ہی ہے بُرے خیالات کے راستوں کا بند ہوجانا۔
2
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے روزے رکھے گا تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں قیام یعنی عبادت کرے گا و اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور ایمان کے ساتھ ثواب حاصل کرنے کی غرض سے شب قدر میں قیام کرے گا و اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے ( بخاری ۔ مسلم )
3
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ماہ ِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین و سرکش جن قید کرلیے جاتے ہیںاور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں(پھر رمضان بھر)ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتااور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بن نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے کہ اے خیر کے طلب کرنے متوجہ ہوجا اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے ! برائی سے باز رہ ،اور اللہ بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے اور ہر رات ایسا ہی ہوتا ہے ۔
( ترمذی ۔ ابن ماجہ )
4
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان آیا یہ برکت کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں ،اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیںاور سرکش شیاطین کو طوق پہنائے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کی برکتوں سے محروم رہا وہ بے شک محروم رہا ۔( احمد ۔نسائی ۔مشکوٰۃ)
5
۰ ترجمہ ::حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر میں و عظ فرمایا ۔اے لوگو ! تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آنے والا ہے ، وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس کے روزے اللہ تعالیٰ فرض کیے اور اس کی رات میں قیام کرنا (نماز پڑھنا )قطوع یعنی نفل قراردیا ہے جو اس میں نیکی کا کوئی کام یعنی نفل عبادت کرے تو ایسا ہے جیسے اور مہینوں میں فرض ادا کیا اور جس نے ایک فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستر فرض ادا کیے یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ، اور یہ غم خوری کا مہینہ ہے ،اور اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا یا جاتا ہے جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن دوزخ سے آزاد کردی جائے گی اور اس میں افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اُس کے ثواب میں کچھ کمی واقع ہو ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا ا س کو اللہ تعالیٰ میرے حوض کوثر سے سیراب کریگا کبھی پیا سا نہ ہوگا ،یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے گا یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے اورا س کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے ۔اور جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام لینے میں کمی کردے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا (بیہقی )
6
۰ ترجمہ:: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کی اخیر رات میں اس امت کی مغفرت ہوتی ہے ، عرض کیا گیا کیا وہ شب قدر ہے ؟ فرمایا نہیں ، لیکن کام کرنے والوں کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے ، جب وہ کام پورا کرلے ۔(احمد )
7
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو روزہ کی حالت میں قے آجائے اس پر قضا واجب نہیں ۔ اور جو قصدََا قے کرے اس پر قضا واجب ہے ۰ ( ترمذی ۔ ابودائود )
8
۰ ترجمہ :: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص (روزہ رکھ کر ) بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو خدائے تعالیٰ کو اس کی پرواہ نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے ۔ (بخاری )
اس حدیث کے تحت حضر ت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ::
ایں کنایت از عدم یعنی مقصود از ایجاب صوم و شرعیت آں ہمیں گرسنگی و تشنگی نیست بلکہ کسر شہوت و اطفائے نائرہ نفسانیت است تا نفس ازا مارگی بر آید و مطمئنہ کردد۔
یعنی مطلب یہ کہ روزہ قبول نہ ہوگا اس لیے کہ روزہ کے مشروع اور واجب کرنے کا مقصد یہی ہے بھوک اور پیاس نہیں بلکہ لذتوں کی خواہشات کا توڑنا اور خود غرضی کی آگ کو بجھانا مقصود ہے تاکہ نفس خواہشات کی جانب راغب ہونے کے بجائے حکم الہٰی پر چلنے والا ہوجائے ۔( اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 85 )
9
۰ ترجمہ :: حضرت سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نے کہا حضور ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس ایسی سواری ہے جو آرام سے منزل تک پہنچادے تو اس کو چاہیے کہ روزہ رکھے جہاں بھی رمضان آجائے ۔ (ابودائود )
10
۰ ترجمہ :: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے (شرعی )مسافرسے آدھی نماز معاف فرمادی (یعنی مسافر چار رکعت والی فرض نماز دو پڑھے ) اور مسافر ،دودھ پلانے والی ، اور حاملہ عورت سے روزہ معاف کردیا ( یعنی لوگوں کو اجازت ہے کہ اس وقت روزہ نہ رکھیں بعد میں قضا کرلیں ۔(ابودائود ۔ترمذی )
حضر ت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ ::
افطار مرمرضع و حبلی را بر تقدیر ے است کہ اگر زیاں کند بچہ را یا نفس ایشاں را ۔
(اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 94 )
یعنی دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت صرف اس صورت میں ہے کہ بچہ کو یا خود اس کو روزہ سے نقصان پہنچے ورنہ رخصت نہیں ہے۔
11
۰ ترجمہ :: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا پھرا س کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو اس نے گویا ہمیشہ روزہ رکھا ۔ (مسلم )
12
۰ ترجمہ :: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول ِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کو روزہ ایک سال اگلے اور ایک سال پچھلے کا گناہ دور کردے گا ۔ (مسلم )
واضح ہو کہ عرفہ کا روزہ میدان عرفات میں منع ہے (بہار شریعت )
13
۰ ترجمہ :: حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرما یا کہ چار چیزیں ہیں جنہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے ، عاشوہ کا روزہ ، ذی الحجہ کے روزے (ایک سے نو تک )، ہر مہینے کے تین روزے ، دو رکعتیں فجرکے فرض سے پہلے ۔ (نسائی )
14
۰ ترجمہ ::حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو ذر ! جب (کسی ) مہینہ میں تین دن رکھتا ہو تو تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو (روزہ ) رکھو۔(ترمذی ۔ نسائی )
انتباہ ::
1 یکم شوال اور 10,11,12 ذی الحجہ کو روزہ رکھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے ۔
(طحطاوی صفحہ 387 ، درمختار ، ردالمحتاج جلد 2 صفحہ 86 )
2احتلام ہوجانے یا ہمبستری کرنے کے بعد غسل نہ کیا اور اسی حالت میں پورا دن گزاردیا تو وہ نمازوں کے چھوڑ دینے کے سبب سخت گناہگار ہوگا مگر روزہ ادا ہوجائے گا ۔ بحرالرائق جلد دوم صفحہ 273 میں ہے :: لواصبح جنبا لا یضرہ کذانی فی المحیط اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 187 میں ہے :: من اصبح جنبا اوا حتلم فی النھار لم یضرہ کذانی محیط السوخسی
3 مریض کو مرض بڑھ جانے یا دیر سے اچھا ہونے یا تندرست کو بیمار ہوجانے کا گمان غالب ہو تو روزہ توڑنے کی اجازت ہے غالب گمان کی تین صورتیں ہیں ۔ اس کی ظاہر نشانی پائی جاتی ہے، یا اس شخص کا ذاتی تجربہ ہے یا کسی سنی مسلمان طبیب حاذق مستور الحال یعنی غیر فاسق نے اس کی خبر دی ہو ۔ اگر نہ کوئی علامت ہو، نہ تجربہ ، نہ اس قسم کے طبیب نے اسے بتایا بلکہ کسی کافر یا فاسق یا بد مذہب ڈاکٹر یا طبیب کے کہنے سے روزہ توڑ دیا تو کفارہ لازم آئے گا ۔ ( ردالمختار جلد دوم صفحہ 120 ۔بہار شریعت )
4 جو شخص رمضان میں بلا عذر اعلانیہ قصدََا کھائے تو سلطان اسلام اسے قتل کردے (شامی ۔بہار شریعت )
5معتکف کے سوا دوسروں کو مسجدوں میں روزہ افطار کرنا کھانا پینا جائز نہیں ۔(درالمختار ۔فتاویٰ رضویہ ) لہذا دوسرے لوگ اگر مسجد میں افطار کرنا چاہتے ہیں تو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائیں کچھ ذکر یا درود شریف پڑھنے کے بعد کھا پی سکتے ہیں مگر اس صورت میں بھی مسجد کا احترام ضروری ہے ۔ آج کل اکثر مقامات پر افطار کے وقت مسجدوں کی بڑی بے حرمتی کی جاتی ہے ، جو ناجائز اور حرام ہے امام اور متولیان مسجد کو اس امر پر توجہ دینا ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن ان سے سخت باز پرس ہوگی۔

بہتر رزلٹ میں دیکھنے کے لیے یہاں کلک کیجئے

از افادات :: مولانا جلال الدین امجدی

والسلام :: سلیمان سبحانی نور مدینہ نیٹ ورک ٹیم