زکوٰۃ کی ادائیگی اہل ثروت کے نزدیک

اللہ رب العزت نے کائنات کی ہر شئے میں تاثیر بخشی ہے۔ خواہ وہ شئے کیسی ہی کیوں نہ ہو، لہٰذا شئے کا جو اثر مرتب ہونا چاہئے اگر وہ اثر ظاہر نہ ہو تو اس بات کی فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ آخر یہ شئے مؤثر کیوں نہیں؟ کیا اس شئے میں کوئی کمی یا خامی ہے جس پر اثر مرتب ہونا چاہئے؟ اس میں اثر قبول کرنے کی صلاحیت کا فقدار ہے۔ ایک دوا کے استعمال سے اگر مرض میں افاقہ نہ ہو تو دوا کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے اور مرض کی بھی تشخیص کی جاتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ فائدہ ہو یا نہ ہو ایک ہی دوا مسلسل دی جائے۔ اسی طرح عبادات کے بھی اثرات ہوتے ہیں، جو عبادت گزار پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگر عبادت گزار پر عبادت کا اثر ظاہر نہ ہو تو اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ عبادت صحیح طریقہ پر ادا ہو رہی ہے یا نہیں۔ اس میں وہ کون سی خامی و کمی ہے جس کی وجہ سے اس کا اثر ظاہر نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

مثال کے طور پر نماز کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ان الصلوٰۃ تنہیٰ عن الفحشاء و المنکر‘‘ یعنی بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ (عنکبوت:آیت:۴۵)

روزہ کے بارے میں ارشاد ہوا ’’یٰایہا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون‘‘ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے ان لوگوں پر فرض تھا جو تم سے پہلے ہوئے تاکہ تم گناہوں سے بچو۔ (البقرہ:آیت:۱۸۳)

اب اگر کوئی برسہا برس کا نمازی، ہر سال رمضان المبارک کے روزے رکھنے والا بے حیائی اور برائی میں مبتلا ہو، گناہوں سے بچتا نہ ہو تو اسے ان اسباب و علل کا تلاش کرنا ہوگا اور ان کے وجوہات پر غور کرنا لازم و ضروری ہے جن کی وجہ سے نماز و روزہ کا اثر اس پر ظاہر نہیں ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس امر پر ہمارا عقیدہ ہے کہ نماز بے حیائی اور بُرائی سے روکتی ہے، روزہ سےتقویٰ و پرہیزگاری حاصل ہوتی ہے۔ پھر بھی وہ برائیوں سے نہیں بچ پاتا۔ تو ضرور اس کی نماز اور روزے میں نقص و فساد ہے یا اس کے دل ہی میں کوئی کجی ہے ورنہ نماز و روزہ کا اثر ضرور ظاہر ہوتا۔

اسی طرح قرآنِ حکیم میں صدقات سے متعلق ارشاد ہوا ’’یمحق اللہ الربوٰا و یربی الصدقات‘‘ یعنی اللہ سود کو ہلاک فرماتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے۔

یعنی صدقہ و زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’من ادی زکوٰۃ مالہ فقد اذہب اللہ شرہ‘‘ جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مال کا شر اس سے دور فرمادیا۔

(ابن خزیمہ و طبرانی)

نیز ارشاد ہوا ’’ما تلف مال فی بر و لا بحر الا بحبس الزکوٰۃ‘‘ خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے ہی سے تلف ہوتا ہے۔ (طبرانی)

حضور اقدس ﷺ زکوٰۃ کے ذریعہ مال کی حفاظت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ’’حصنوا اموالکم بالزکوٰۃ و داووا مرضاکم بالصدقۃ‘‘ زکوٰۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبوط کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج خیرات سے کرو۔ (ابودائود، طبرانی، بیہقی)

ان نصوص سے بالکل ظاہر و واضح ہے کہ زکوٰۃ دینے سے مال زیادہ ہوتا ہے، اس میں برکت ہوتی ہے، ہلاک و تلف ہونے سے محفوظ ہوجاتا ہے، مال کا شر دور ہو جاتا ہے اور امراض و اسقام سے نجات ملتی ہے۔

اب اگر زکوٰۃ و صدقات کے یہ اثر ظاہر و مرتب نہ ہوں، زکوٰۃ کی ادائیگی کی ادائیگی کے باوجود مال میں برکت نہ ہو، کاروبار میں نقصان ہوتا ہو، مال ہلاک و برباد ہوتے ہوں، بیماریوں سے نجات نہ حاصل ہوتی ہو تو یہ فکر ضروری ہے کہ آخر زکوٰۃ و صدقہ کا اثر کیوں نہیں ظاہر ہوتا؟ وہ کون سے اسباب و عوارض ہیں جن کی بنا پر زکوٰۃ کے اثرات مرتب نہیں ہوتے؟ اور زکوٰۃ دینے والا ان فوائد سے محروم نظر آتا ہے جن کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ہم یہاں زکوٰۃ کے مؤثر نہ ہونے کے بنیادی اسباب و علل کا ذکر کرتے ہیں تاکہ اہل ثروت حضرات زکوٰۃ کی ادائیگی میں ان امور سے احتیاط و احتراز کر سکیں۔

(۱) خلوص و للّٰہیت کا فقدان: کسی بھی عبادت کی مقبولیت کے لئے اولین شرط خلوص نیت ہے۔ چنانچہ رب العزت جل جلالہ و عم نوالہ کا ارشادِ عالی ہے ’’و ما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین‘‘ انہیں تو یہی حکم ہوا کہ اللہ ہی کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔ (البینہ آیت:۵)

اور حدیث شریف میں ہے ’’انما الاعمال بالنیات و لکل امریٔ ما نویٰ‘‘ اعمال کا کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔ (بخاری و مسلم)

لہٰذا کوئی عبادت بغیر اخلاص کے مقبول نہیں۔ اگر خلوص و رضائے الٰہی سے عبادت خالی ہو تو وہ بے فائدہ اور غیر مؤثر ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نہ قبول فرماتا ہے اور نہ ہی دنیا و آخرت میں اس کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔ رسولِ کریم ا ارشاد فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا وہ تمہارے دل اور تمہارے اعمال کی طرف نظر کرتا ہے‘‘ (بخاری و مسلم)

بلکہ اگر عبادت محض دکھانے اور سُنانے کے لئے کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی جزا دینے کے بجائے سزا دے گا۔ حدیث شریف میں ہے ’’جو سُنانے کے لئے کام کرے گا اللہ اس کو سُنائے گا، یعنی سزا دے گا اور جو ریا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ریا کی سزا دے گا‘‘ (بخاری و مسلم)

دیگر عبادات کی طرح زکوٰۃ و صدقہ کی ادائیگی میں بھی خلوص نیت ضروری ہے، بغیر اخلاص کے نہ تو زکوٰۃ قبول ہوگی اور نہ ہی زکوٰۃ دینے والے پر اس کا اثر ظاہر ہوگا۔ اس لئے کہ ارشادِ ربانی ہے ’’کالذی نفق مالہ ریاء الناس‘‘ یعنی (اپنے صدقے) اس شخص کی طرح باطل مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے۔ اس سے بالکل یہ امر واضح ہے کہ جو زکوٰۃ و صدقہ رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو بلکہ وہ محض دکھاوے کے لئے ہو وہ باطل ہے۔ حتی کہ حدیث شریف میں اسے شرکِ (خفی) فرمایا ہے۔ چنانچہ حضور اقدس ا ارشاد فرماتے ہیں ’’جس نے ریا کے ساتھ نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کے ساتھ روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کے ساتھ صدقہ دیا اس نے شرک کیا‘‘ (امام احمد)

دکھاوے کے لئے صدقہ و دیگر عبادات کا وبال صرف دنیا ہی میں نہیں آخرت میں بھی اس کا سخت خسران ہے۔ یہاں ایک حدیث ہدیۂ قارئین ہے تاکہ ناظرین غور کریں کہ اخلاصِ نیت کے فقدان اور ریا و دکھاوے کی وجہ سے بڑے بڑا عمل کس طرح رائیگاں ہو جاتا ہے اور آخرت میں کتان عظیم خسران ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے قیامت کے دن ایک شخص کا فیصلہ ہوگا جو شہید ہوا ہے وہ حاضر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں دریافت کرے گا وہ نعمتوں کو پہچانے گا یعنی اقرار کرے گا۔ ارشاد فرمائے گا کہ ان نعمتوں کے مقابل تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا میں نے تیری راہ میں جہاد کیا ہے یہاں تک کہ شہید ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے۔ تو نے اس لئے قتال کیا تھا کہ لوگ تجھے بہادر کہیں۔ لہٰذا تو بہادر کہلایا گیا۔ حکم ہو گا اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

اور ایک وہ شخص جس نے علم پڑھا اور پڑھایا اور قرآن پڑھا وہ حاضر کیا جائے گا، اس سے نعمتوں کو دریافت کیا جائے گا، وہ نعمتوں کو پہچانے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ان نعمتوں کے مقابل تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا میں تیرے لئے علم سیکھا اور قرآن پڑھا۔ فرمائے گا تو جھوٹا ہے۔ تونے علم اس لئے پڑھا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے۔ لہٰذا تجھے قاری کہہ لیا گیا۔ حکم ہوگا منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک تیسرا شخص بلایا جائے گا جس کو خدا نے وسعت دی ہے اور ہر قسم کا مال دیا ہے، اس سے اپنی نعمتیں دریافت کرے گا وہ نعمتوں کو پہچانے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تونے اس کے مقابل میں کیا کیا؟ عرض کرے گا میں نے کوئی راستہ ایسا نہیں چھوڑا جس میں خرچ کرنا تجھے محبوب ہے مگر میں نے اس میں تیرے لئے خرچ کیا۔ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے اس لئے خرچ کیا کہ تجھے سخی کہا جائے لہٰذا تو سخی کہہ لیا گیا۔ اس کے متعلق بھی حکم ہوگا۔ منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (احمد، مسلم، نسائی)

بڑے غور و فکر کا مقام ہے کہ شہید جس کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے بخش دیا جاتا ہے اور روح نکلتے وقت ہی اس کو جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، شہید عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔ اسے جہنم کے عذاب کا خوف نہیں رہتا۔ اس کے سر پر عزت و وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا بیش بہایا قوت دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔ اس کے نکاح میں بڑی بڑی آنکھوں والی بہتر حوریں دی جائیں گی، اس کے عزیزوں میں سے ستر آدمیوں کے لئے اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (ترمذی شریف)

مگر نام و نمود کے لئے جہاد کرنے والا شہید ہونے کے باوجود ان فضائل و مراتب سے محروم ہے۔ اور جہنم اس کا ٹھکانہ ہے، اسی طرح عالم دین جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کے اور انبیائے کرام کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگا۔ (دارمی)

مزید ارشادِ گرامی ہوا کہ علما کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر غالب ہو جائے گی۔ عالم کے اور بھی بہت سارے فضائل و مناقب ہیں، قرآنِ حکیم کی تلاوت میں ہر ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں ہیں مگر وہی عالم دین اور قرآن حکیم کی تلاوت کرنے والا اخلاص کے خالی ہو کر محض ریا و سمعہ کے لئے علم دین سیکھتا اور سکھاتا ہے، دکھاوے کے لئے قرآن پڑھتا ہے تو بجائے جنت میں اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ یوں ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عظیم عبادت ہے، سات سو گنا زیادہ ثواب ہے، صدقہ دینے والا پاک و صاف ہو جاتا ہے۔ مگر وہی خرچ کرنا اگر اخلاص کے ساتھ نہ ہو بلکہ نام و نمود کے لئے ہو تو ایسا صدقہ کرنے والا ثوابِ عظیم پانے کے بجائے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اسی لئے علمائے کرام فرماتے ہیں ’’عبادت کوئی بھی ہو اس میں اخلاص نہایت ضروری چیز ہے۔ یعنی محض رضائے الٰہی کے لئے عمل کرنا ضروری ہے، دکھاوے کے طور پر عمل کرنا بالاجماع حرام ہے۔ لہٰذا صدقہ و زکوٰۃ دینے والے اخلاص و رضائے الٰہی کے لئے مال خرچ کریں تاکہ آخرت میں اجرِ عظیم کے مستحق ہوں اور دنیا میں بھی ان پر اس کا اثر مرتب ہو۔

(۲) طعنہ و ایذا رسانی: بہت سے زکوٰۃ و صدقات ہیں، ذہنی یا جسمانی طور پر انہیں ٹارچر کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان دونوں باتوں سے صدقہ باطل ہو جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں ہے ’’یٰایہا الذین آمنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن و الاذیٰ کالذی ینفق مالہ ریاء الناس و لا یومن باللہ و الیوم الآخر‘‘ اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کرو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کو دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے۔ (بقرہ:۲۶۴)

یعنی جس طرح منافق دکھاوے کے لئے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس کا یہ عمل باطل ہے۔ اسی طرح اگر ایمان والا بھی صدقہ دے کر احسان جتائے یا تکلیف پہنچائے تو اس کا بھی یہ عمل باطل ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں ہے کہ چند اشخاص جنت میں نہ جائیں گے۔ احسان جتانے والا، والدین کا نافرمان، شرابی، جادوگر، کاہن اور دیوث۔

اسی طرح مومن کی ایذا رسانی بھی حرام ہے۔ حضور اکرم ا فرماتے ہیں ’’من اذیٰ مسلما فقد اذٓنی و من اذانی فقد اذی اللہ‘‘ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی۔

صدقہ و زکوٰۃ و خیرات دے کر مسلمان کو ایذا پہنچانا اپنے صدقہ و خیرات کو تباہ و برباد اور رائیگاں کرنا اور خود کو حق العبد میں گرفتار کرنا ہے۔ لہٰذا جو لوگ زکوٰۃ و خیرات دے کر احسان رکھتے ہیں، طعنہ و تشنیع کرتے یا ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے صدقے کا اجر ان کے لئے آخرت میں کچھ بھی نہیں اور نہ انہیں دنیا میں اس کا کوئی فائدہ ہوگا۔ اسی لئے ایسے لوگوں پر زکوٰۃ کا اثر مرتب نہیں ہوتا۔ لہٰذا زکوٰۃ دہندگان کو چاہئے کہ وہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں ، نرم خوئی سے پیش آئیں، احسان نہ جتائیں، طعنہ و تشنیع نہ کریں، اپنے اقوال و افعال نیز کردار سے ایذا نہ پہنچائیں تاکہ زکوٰۃ و صدقات کے فوائد انہیں حاصل ہو سکیں۔

(۳) پورے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرنا: جن چیزوں میں جتنی زکوٰۃ فرض ہے اس کا صحیح حساب کر کے ہر سال بہ تمام و کمال زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے۔ کچھ لوگ زکوٰۃ تو دیتے ہیں مگر صحیح حساب کر کے زکوٰۃ نہیں نکالتے، بس جتنا جی میں آیا نکال دیا۔ کبھی کوئی زکوٰۃ و غیرہ کی وصولی کے لئے آگیا تو کچھ دے دیا ورنہ یوں ہی زکوٰۃ کی ادائیگی سے بے توجہی برتتے رہتے ہیں۔ حولانِ حول ہوتا رہتا ہے، اموالِ زکوٰۃ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر صحیح حساب کر کے ہر سال زکوٰۃ نکالنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ بھی مال کی ہلاکت کا ایک سبب ہے۔

حضور پُر نور سید عالمﷺ فرماتے ہیں ’’ما خالطت الصدقۃ او مال الزکوٰۃ مالا الا فسدتہ‘‘ یعنی صدقہ اور زکوٰۃ کا مال جس مال میں بھی ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کر دے گا۔ (بیہقی)

بعض ائمۂ کرام نے اس حدیث کا یہ معنی بیان فرمایا ہے کہ زکوٰۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اس حلال کو بھی ہلاک کر دے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کچھ مال کی زکوٰۃ ادا کی اور کچھ مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی اور اس کا مال ہلاک ہوا یا تجارت وغیرہ میں نقصان تو اسی بعض کی وجہ سے ایسا ہوا ہے جس کی زکوٰۃ اس نے نہیں نکالی تھی۔ اسی طرح سال تمام وہنے کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر بھی نہ کرے کہ یہ بھی گناہ ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے ’’یجب علی الفور عن تمام الحول حتی یاثم بتاخیرہا من غیر عذر‘‘ یعنی سال پورا ہوتے ہی فوراً زکوٰۃ دینا واجب ہے یہاں تک کہ بلا عذر تاخیر سے گنہ گار ہوگا۔

(۴) غیر مستحق کو زکوٰۃ دینا: زکوٰۃ و دیگر صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی کے لئے تملیک فقیر شرط ہے، جسے زکوٰۃ دی جائے شرعاً اس کا فقیر ہونا ضروری ہے۔

فقیر: وہ شخص ہے جس کے پاس حاجت اصلیہ کے سوا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت یا اس قیمت کے برابر سامان نہ ہو۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ یونی چھ سو بارہ(۶۱۲) گرام چاندی یا اس کی قیمت یا اس قیمت کے برابر حاجتِ اصلیہ کے علاوہ سامان ہو وہ فقیر نہیں بلکہ غنی ہے۔ آج کل جس کے پاس پانچ ہزار ایک سو روپئے ہوں یا اتنے کا سامان موجود ہو اور حاجتِ اصلیہ اور دین وغیرہ سے فارغ ہوتو وہ فقیر نہیں، اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ اگر ایسے کو دی جائے تو ادا نہ ہوگی۔

آج کل دس گرام سونے کی قیمت ساڑھے پانچ ہزار روپئے سے زائد ہے اس حساب سے جس کے پاس دس گرام یا اس سے زیادہ سونا، زیور یا کسی بھی شکل میں ہو وہ غنی ہے فقیر نہیں۔ اسی طرح ٹی وی، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، کیمرہ، وغیرہ کا شمار حاجت اصلیہ میں نہیں ہے اگر یہ سب یا ان میں سے بعض کسی کے پاس ہو اور اس کی قیمت پانچ ہزار ایک روپئے یا اس سے زائد ہو اور اس پر دین وغیرہ نہ ہو تو وہ زکوٰۃ وغیرہ صدقاتِ واجبہ کا مستحق نہیں۔

کتنے اہلِ ثروت جو زکوٰۃ تو نکالتے ہیں لیکن دیتے وقت اس امر کا لحاظ نہیں رکھتے کہ شرعاً کون مستحق ہے اور کون نہیں ہے، انہیں صرف زکوٰۃ دینے سے غرض ہوتی ہے، بسا اوقات صرف اس بات کا خیال کر لیتے ہیں کہ یہ بیوہ ہے اور یتیم ہے، یہ نابینا ہے اور یہ اپاہج ہے، شرعی اعتبار سے غنی ہی کیوں نہ ہو پھر بھی بیوگی، یتیمی یا معذوری دیکھ کر زکوٰۃ کی رقم دیتے ہیں اس صورت میں نہ تو زکوٰۃ ادا ہوتی ہے اور نہ ہی دینے والا اپنے فرض سے سبکدوش ہوپاتا ہے۔

اسی طرح بہت سے زکوٰۃ دینے والے مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کا مالک نہیں بناتے بلکہ اسے بطور خود مستحقین کو ضرورت کے لئے خرچ کر دیتے ہیں۔ مثلاً کسی مستحق کے علاج میں زکوٰۃ کی رقم سے ہاسپیٹل کا بِل، ڈاکٹر کی فیس، گاڑی وغیرہ کا کرایہ ادا کرتے ہیں، مدرسہ وغیرہا کے لئے زمین کی خریداری، اس کی عمارت کی تعمیر، مدرسین و ملازمین وغیرہ کی تنخواہ میں زکوٰۃ کی رقم خرچ ہیں، ان صورتوں میںچوں کہ تملیک فقیر پانی نہ گئی تو پھر زکوٰۃ کس طرح ادا ہوگی؟ لہٰذا مذکورہ بالا امور میں اگر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا ہو تو ان کے لئے حیلہ شرعی ضروری ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا کر اسے اس پر قبضہ دے دیا جائے پھر وہ تعمیر مدرسہ، خرادیِ زمین، اجرت ملازمین یا علاج و معالجہ میں صرف کرنے کے لئے اپنی طرف سے ہبہ کرے تو اس صورت میں اس کا خرچ کرنا درست و صحیح ہوگا اور زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی۔ غیر مسلم، بد عقیدہ، بدمذہب خصوصاً وہابی، رافضی، دیوبندی، ملحد وغیرہ کو زکوٰہ دینا حرام اور اگر دے دی تو ہرگز ادا نہ ہوگی۔

(۵) مستحق اعزہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دینا: جن کے اعزہ و رشتہ دار زکوٰۃ و غیرہ کے شرعاً مستحق ہوں وہ انہیں نہ دے اور دوسروں کو دیتا پھرے تو اس کا صدقہ قبول نہیں۔ حضور اقدس ا فرماتے ہیں ’’یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لا یقبل اللہ صدقۃ من رجل و لہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ و یصرفہا الی غیرہم والذی نفسی بیدہ لا ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ‘‘

یعنی اے امت محمد (ﷺ) قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اللہ تعالیٰ اس کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کے محتاج ہوں اور وہ انہیں چھوڑ کر اوروں پر تصدق کرے۔ قسم اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ بروزِ قیامت ا س پر نظر نہ فرمائے گا۔

اپنے رشتہ داروں کو دینا باعثِ انگشت نمائی نہیں بلکہ اس میں دونا ثواب ہے۔ خود سرورِ کائنات ا رشتہ داروں کو صدقہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں ’’لہما اجران اجر القرابۃ و اجر الصدقۃ‘‘ ان کے لئے دو ثواب ہوں گے، ایک ثواب قرابت دوسرا تصدق کا ثواب۔ (بخاری و مسلم)

نیز حضور اقدس ا فرماتے ہیں ’’الصدقۃ علی المسکین صدقۃ و علی ذی الرحم ثنتان صدقۃ و صلۃ‘‘

مسکین کو دینا اکہرا صدقہ ہے اور رشتہ دار کو دینا دوہرا۔ ایک تصدق اور ایک صلہ رحم۔ (نسائی و ترمذی)

لہٰذا وہ رشتہ دار جنہیں صدقات واجبہ زکوٰۃ و غیرہ دینا جائز ہے، اگر وہ واقعی مستحق ہوں تو پہلے انہیں زکوٰۃ دی جائے بعد میں دوسروں کو۔

اپنی اصل یعنی ماں، باپ، دادی، دادا، نانی، نانا وغیرہم اور اپنی اولاد یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ نواسی وغیرہم کو زکوٰۃ و غیرہ صدقاتِ واجبہ نہیں دے سکتے۔ یوں ہی عورت اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ ان کے علاوہ رشتہ دار مثلاً بھائی، بہن، بھتیجہ، بھانجہ، خالہ، ماموں، چچا، پھوپھی، چچی، خالہ زاد، ماموں زاد بھائی بہن وغیرہ اگر مستحق زکوٰۃ ہیں تو انہیں دینا افضل ہے۔ ان کو اگر نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ صدقہ قبول نہ فرمائے گا۔

اہلِ ثروت حضرات اگر مذکورہ بالا امور پر توجہ دیں، محض اللہ و رسول کی رضا کے لئے صدقہ و خیرات کریں، احسان جتانے اور ایذا پہنچانے سے باز رہیں، صحیح حساب کر کے زکوٰۃ نکالیں، مستحقین ہی کو زکوٰۃ وغیرہ دیں اور صلہ رحمہ کا خیال رکھیں تو زکوٰۃ کی ادائیگی ان کے حق میں انشاء اللہ المولیٰ تعالیٰ ضرور مؤثر ہوگی۔ ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔ رب کریم ہم سب کو اخلاص کی توفیق سے نوازے۔

آمین بجاہ سید المرسلین و صلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا محمد و آلہ و صحبہ اجمعین و بارک و سلم

مفتی محمود اختر قادری

کامیاب شخص

حدیث نمبر :14

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبداﷲسے ۱؎کہ ایک نجدی شخص۲؎حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بال بکھیرے حاضرہوا جس کی گنگناہٹ توہم سنتے تھےمگرسمجھتے نہ تھے کہ کیاکہتاہےیہاںتک کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تو اسلام کے بارے میں پوچھنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں ہیں بولا ان کے سواء میرے ذمہ اور نماز بھی ہے فرمایا نہیں ۳؎ ہاں چاہو تو نفل پڑھو۴؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے روزے بولا کیا مجھ پر اس کے سوا ءاور بھی ہیں فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے فرمایا اُس سےحضور علیہ الصلوۃ والسلام نےزکوۃ کا ذکر فرمایا بولا کیا میرے ذمہ کچھ اور بھی ہے فرمایا نہیں مگرنفل ادا کرے ۵؎فرمایا اس نے پیٹھ پھیرلی یہ کہتا جاتا تھا کہ مَیں اِس سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ شخص سچا ہے تو کامیاب ہوگا ۶؎

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابومحمدہے،قرشی ہیں،ابوبکرکےبھتیجے،قدیم الاسلام ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،جنگ احدمیں حضور کے لیے ڈھال بنے اور چوبیس زخم کھائے،آپ کےجسم پرکل ۷۵ زخم تھے جو غزوات میں کھائے تھے،جنگ جمل ۳۶ھ؁ میں بصرہ میں شہید ہوئے،وہاں ہی آپ کا مزار پر انوار ہے،فقیر نے مزارپاک کی زیارت کی ہے،حضور کی دعوت اور دعوت کے معجزات آپ کے ہاں ظاہر ہوئے جو مشہور ہیں۔

۲؎نجدعرب کا ایک صوبہ ہے جو مکہ معظمہ اور عراق کے درمیان واقع ہے۔اس صوبہ کے متعلق حضور نے دعاء خیر نہ فرمائی اوروہاں سے وہابی فرقے کے نکلنے کی خبر دی جو آخر کتاب میں ان شاءاﷲ ذکر ہوگا۔

۳؎یعنی ان پانچ نمازوں کے سوا اور نماز اسلام کا فرض نہیں،عیدین اور وتر واجب ہے،نماز جمعہ ظہر کی قائم مقام ہے لہذا یہ ان ہی پانچ میں شامل ہے۔

۴؎نفل سے لغوی معنی مراد ہیں فرض پر زائد،رب فرماتا ہے:”فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ”لہذا اس میں وتر وعیدین داخل ہیں۔یا اس وقت تک یہ نماز اسلام میں آئی نہ تھیں،بہرحال یہ حدیث وتر وعیدین کے وجوب کے خلاف نہیں احناف کے مخالف نہیں۔

۵؎یہ جملہ بھی فطرے اور قربانی کے وجوب کے خلاف نہیں جیسا کہ؀ ۴ کی تقریر سے واضح ہے۔

۶؎ یعنی اگرصدق دل سے وعدہ کیا ہے تو کامیاب ہوگا یا اگر اس وعدے کو پوراکر دکھائے تو کامیاب ہوگا۔معلوم ہوتاہے کہ نجدیوں کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اس سے پہلے ایک سائل کے ان ہی الفاظ پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فلاح و کامیابی کا قطعی حکم دے دیا،اس نجدی کے ان ہی الفاظ پر مشکوک طریقہ سے کامیابی بیان فرمائی۔

جنتی ہونے کے لیئے عمل

حدیث نمبر :12

روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا اﷲ کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو ۱؎ وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں۲؎ پھرجب وہ چل دیئے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۳؎

شرح

۱؎ یہ جملہ عبادت کی تفسیر ہے،چونکہ اس وقت تک جہاد وغیرہ احکام آئے نہ تھے یا اس پر جہاد فرض نہ تھا اس لیے جہاد کا ذکر نہ فرمایا۔

۲؎ یعنی ان فرائض میں اپنی طرف سے زیادتی کمی نہ کروں گا کہ فجر چار یا چھ پڑھوں اور ظہردویاتین یا روزے چالیس رکھ لوں،یا اپنی قوم تک بعینہ یہ ہی احکام پہنچا دوں گا،تبلیغ میں زیادتی کمی نہ کروں گا یا اب سوال میں زیادتی کمی نہ کروں گا،لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ فطرہ،قربانی،نماز عیدین،روزہ،نذر،وتر ضروری نہ ہوں۔احکام اسو قت تک آئے ہی نہ تھے بعد میں خود حضور نے احکام میں زیادتی فرمائی لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں۔

۳؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جنتی آدمی کو دیکھنا بھی ثواب،بزرگوں کے دیدار سے گناہ بخشے جاتے ہیں ؎

اُٹھ جاگ فریدا ستیادل مسجددے جا مت کوئی بخشیا مل پوے تو بھی بخشیا جا

دوسرے یہ کہ حضورکو لوگوں کے انجام نیک بختی،بدبختی کا علم ہے،جانتے ہیں کہ جنتی کون ہے دوزخی کون،حضور کو خبر تھی کہ یہ بندۂ مؤمن تقویٰ پر قائم رہے گا،ایمان پر مرے گا،جنت میں جائے گا۔

ارکان اسلام

حدیث نمبر : 2

روایت ہے حضرت ابن عمرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا۲؎ اس کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کےبندےاور رسول ہیں۳؎ اورنمازقائم کرنا۴؎ زکوۃ دینا اور حج کرنا۵؎ اور رمضان کے روزے۔(بخاری و مسلم)

شرح

۱؎

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ بن عمر ہے،ظہور نبوت سے ایک سال پہلے پیداہوئے، ۷۳ ؁ھ میں شہادت ابن زبیر سے تین ماہ بعد وفات پائی، ذی طویٰ کے مقبرہ مہاجرین میں دفن ہوئے،چوراسی سال عمر شریف پائی،بڑے متقی اور اعمل بالسنۃ تھے۔رضی اللہ عنہ۔(مرقاۃ وغیرہ)

۲؎

۲؎ یعنی اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارج ہوگا،اور اس کا اسلام منہدم ہوجاویگا۔خیال رہے کہ ان اعمال پر کمال ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفس ایمان موقوف،لہذا جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز روزہ کا پابند نہ ہو،وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں،اور جو ان میں سےکسی کا انکارکرے وہ کافر ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،نہ اعمال ایمان کے اجزاء ہیں۔

۳؎

۳؎ اس سےسارےعقائد اسلامیہ مرادہیں جوکسی عقیدے کامنکرہے وہ حضورکی رسالت ہی کا منکرہے۔حضور کو رسول ماننے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی ہر بات کو مانا جاوے۔
۴؎ ہمیشہ پڑھنا،صحیح پڑھنا،دل لگا کر پڑھنا،نماز قائم کرنا۔

۴؎

۵؎ اگر مال ہو تو زکوۃ و حج ادا کرنا فرض ہے ورنہ نہیں مگر انکا ماننا بہرحال لازم ہے۔نماز ہجرت سے پہلے معراج میں فرض ہوئی،زکوۃ وروزہ ۲ھ ؁ میں،اور حج ۹ ھ ؁ میں فرض ہوئے۔