مزرات پر ڈھول اور بھنگڑے اور چادریں اور الٹی سیدھی حرکتیں

مزرات پر ڈھول اور بھنگڑے اور چادریں اور الٹی سیدھی حرکتیں جو ہوتی ہیں ان کا کیا حل ہے 

اور کون ان کو درست کرے گا ؟ کیا یہ ذمہ داری حکومت کی ہے یا علما کرام کی ہے ؟ 

جواب : 

اہلسنت کی پہچان حضور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب

مزارات اولیا پر ضرور جانا چاہیے لیکن شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے

آج صبح اپنے چچا جی کے ساتھ حضرت شاہ دولہ رحمہ اللہ کے مزار شریف پر حاضر ہوا ۔

جب ہم دروزاے سے داخل ہونے لگے تو چچا جان نے قریبی دُکان سے کچھ چڑھاوا خریدنا چاہا ، جس پر میں نے انھیں منع کیا اور عرض کی:

یہ جو چاندی کے مجسمے ، ہاتھ ، گھٹنے کان وغیرہ پڑھے ہیں ان کا دربار شریف پر چڑھاوا چڑھانا سخت گناہ ہے ۔

کیا ہم کسی ولی اللہ کے مزار پر ہندووں کی طرح رسومات ادا کر کے اللہ کا قرب حاصل کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبہ توبہ ، ہر گز نہیں !!

چچا جی میری بات سمجھ گئے اور اپنے ارادے سے باز آگئے ، اللہ انھیں جزاے خیر دے ۔

پھر میں نے انھیں مسئلہ بتایا کہ ہماری فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار میں لکھاہے:

جونذر اولیاے کرام کا قرب حاصل کرنے کے لیے ان کی قبروں پر لےجاتے ہیں ” فَھُوَ بِالِْاجْمَاعِ بَاطِلٌ وَّحَرَامٌ ، وہ بالاجماع باطل اور حرام ہے ۔ “

ہونا یہ چاہیے کہ جب مزارات اولیا پر لنگر وغیرہ لے کر جائیں تو اسے صاحب مزار کا قرب حاصل کرنے کے لیے نہیں ، بلکہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ، فقرا و مساکین پر صدقہ کرنے کی نیت سے لے کرجائیں !

مزارات اولیا پر ضرور جانا چاہیے لیکن شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ۔

مزارات کا طواف کرنا ، انھیں سجدے کرنا ، وہاں گھڑولیاں بھرنا ، عورتوں مردوں کا جمع ہونا ، غلط قسم کے چڑھاوے چڑھانا سب ناجائز کام ہیں ۔

بلکہ سیدی اعلی حضرت رحمہ اللہ کے نزدیک تو مزار کو بوسہ دینا اور چھونا بھی مناسب نہیں ۔

جائزیہ ہے کہ:

مزار شریف کے پاس تلاوت قرآن پاک کی جائے ، درود و سلام پڑھا جائے اور اللہ کے حضور دعا کی جائے ۔

لقمان شاہد

4/12/2018 ء

صالحین کی قبروں سے تبرک :احادیث کی روشنی میں

صالحین کی قبروں سے تبرک :احادیث کی روشنی میں

ضیاء الرحمان علیمی

اگرقبر پر چہرہ رکھ کر برکت حاصل کرنا شرک ہوتا تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کبھی بھی ایسا عمل نہ کرتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگوں کے آثار میں جس طرح ان کے کپڑے شامل ہیں اسی طرح وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن سے ان کا کسی بھی طرح تعلق ہو، اور قبروں کا بھی قبروالوں سے تعلق ہوتا ہے،اس لیے ان کی قبریں بھی ان کے آثار میں شامل ہیں ،اس کی دووجہیں ہیں:

ایک یہ ہے کہ آثار کے معنی نشانی کے ہوتے ہیں اور یہ قبریں صاحب قبر کی نشانیاں ہیں،ان کے ذریعے ہم قبر والوں کو پہچانتے ہیں اورہم کہتے ہیں کہ یہ فلاں کی قبر ہے۔

دوسری یہ ہے کہ یہ قبریں ان کے مقدس جسموں کو اپنے اندرسمیٹے ہوئےہیں،اس لیےمعلوم ہواکہ قبریں بھی آثار میں سے اور بالعموم آثار سے برکت حاصل کرنے کے جوازپر ہم دلائل ذکرکرچکے ہیں،لہٰذااِنہی دلائل سے قبروں سے برکت حاصل کرنے کا جواز بھی ثابت ہوجاتا ہے۔

لیکن آئندہ سطورمیں ہم بالخصوص قبروں سے تبرک کے جواز پرمعتبر احادیث سےدلائل ذکرکریں گے تاکہ مسئلہ بالکل واضح ہوجائے ۔

جو شخص قبروں سے برکت حاصل کرتاہے وہ کبھی کبھی غلبۂ حال میں قبروں سے لپٹ جاتا ہے اور وہاں لوٹنے لگتاہے، اس لیے پہلےہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اضطراب وپریشانی کی حالت میں قبروں سے لپٹ جائے تو کیا یہ شرکیہ عمل ہے؟

اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتّٰى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هٰذَا الْقَبْرِ۔ (مسلم،باب لاتقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر)

 ترجمہ:اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ نہیں ہوگا کہ انسان قبر کے پاس سے گزرے گا،اور وہ قبر سے لپٹ کر اور خاک آلود ہوکر یہ کہے گا کہ کاش! میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا۔

اس حدیث کو اَلبانی نے بھی صحیح قراردیاہے ۔ (صحیح ابن ماجہ:۵۷۸)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوتاہے کہ قبرسے لپٹنا،اس کی خاک میں اپنےآپ کو آلودہ کرنا ،یہ کوئی شرکیہ عمل نہیں ورنہ فتنوں کے ظہور کے وقت اپنے دین کی فکر جو پسندیدہ عمل ہے اس کے ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس عمل کاتذکرہ نہ فرماتےتھے۔

اب صحابہ کرام کےعمل سے قبروں سے برکت کے جوازپر دلائل پیش کیے جاتے ہیں:

۱۔حضرت عمررضی اللہ عنہ کے خزانچی حضرت مالک الدار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کےز مانے میں قحط پڑا تو ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور پر حاضر ہوااور عرض کیا:

یَارَسُوْ لَ اللہِ!اِسْتَسْقِ لِأمَّتِکَ، فَإنَّہُمْ قَدْ ہَلَکُوْا، فَأُتِیَ الرَّجُلُ فِی الْمَنَامِ،فَقِیْلَ اِئْتِ عُمَرَ،فَاقْرَئْہُ السَّلَامَ وَأخْبِرْہُ إنَّکُمْ مُسْقُوْنَ۔ (مصنف بن ابی شیبہ،باب:ماذکر فی فضل عمربن خطاب)

ترجمہ:یارسول اللہ!اپنی امت کو سیراب فرمائیں، کیوںکہ وہ ہلاکت کے دہانے پر ہے،چنانچہ اس شخص کو نیند آگئی اوراُسے خواب میں کہاگیا کہ تم عمر کے پاس جاؤ،ان کو میرا سلام پیش کرو اور ان کو خبر کردوکہ بارش ہوگی۔

اس حدیث کی سند کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں صحیح قرار دیاہے۔ (کتاب الاستسقاء،باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا)

اس حدیث میں اس بات کا ذکرہے کہ بارش کی دعاکے لیے ایک شخص قبر انور پر حاضر ہوا ،پھراس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوندادی۔حاضر ہونے والے شخص حضرت بلال بن حارث مزنی صحابی تھے۔اس حدیث سے جہاں استغاثے کے جواز کا ثبوت ملا وہیں قبروں سے برکت حاصل کرنے کے جواز کا بھی،وہ اس طرح کہ استغاثے کے لیے قبرانورپر حاضری ضروری نہیں تھی لیکن آنے والے شخص نے قبر انور پر حاضر ہوکر پہلے گویا قبرسے تبرک کیا،اس محترم قبرکے وسیلے سے رب تعالیٰ کے خیرکثیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ کیا۔

ایک اور حدیث میں داؤد بن ابوصالح سے مروی ہے کہ ایک دن مروان نے دیکھاکہ ایک شخص اپنا چہرہ قبرانورپر رکھے ہوئے ہے،یہ دیکھ کراُس نے کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ تم کیا کررہے ہو؟جب وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہواتو معلوم ہواکہ وہ حضرت ابویوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ چنانچہ مروان کی یہ بات سن کر اُنھوں نے فرمایا:

نَعْمْ جِئْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَ لَمْ آتِ الْحَجَرَ۔(مستدرک للحاکم،کتاب الفتن والملاحم)

ترجمہ:ہاں! مجھے معلوم ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ہوں،کسی پتھر کے پاس نہیں۔

امام حاکم نے اس حدیث کو ’’ مستدرک‘‘میں صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی تصحیح کو باقی رکھاہے اور کوئی جرح نہیں کی ہے۔(المستدرک مع تعلیقات الذہبی فی التلخیص،کتاب الفتن والملاحم)

اس حدیث میں جلیل القدر صحابی کے عمل سے اس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ صالحین کی قبروں سے برکت حاصل کرنا اور اِس نیت سے قبر پر چہرہ رکھنا جائزہے،اگریہ عمل شرک ہوتا تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کبھی بھی ایسا عمل نہ کرتے۔

ایک اور حدیث پاک ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں:

رَأیْتُ اُسَامَۃَ یُصَلِّی عِنْدَ قَبْرِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَخَرَجَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ فَقَالَ:تُصَلِّی إلٰی قَبْرِہٖ؟قَالَ:إنِّی أحِبُّہٗ۔ (صحیح ابن حبان،باب ذکر بغض اللہ الفاحش والمتفحش )

ترجمہ: میں نےحضرت اسامہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانورکے پاس نمازپڑھتے ہوئےدیکھا،اتنے میں مروان نکلا اور اُس نے کہا کہ تم قبرنبوی کے پاس نماز پڑھ رہے ہو؟ حضرت اسامہ نے جواب دیا کہ مجھے ان سے محبت ہے۔

اس حدیث پاک میں حضرت اُسامہ بن زید مشہور صحابی رسول کے عمل سے ثابت ہواکہ انھوں نے قبرنبوی کے پاس نماز ادا فرمائی اور اُن کا یہ نمازپڑھنا تبرک کے طورپر تھا۔ اس پر دلیل ان کا آخری جملہ إنِّی أحِبُّہٗ ہے(یعنی مجھے ان سے محبت ہے) ۔

ایک اور حدیث ہے جس میں حضرت سیدنا علی بن حسین اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں:

أنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کَانَتْ تَزُوْرُ قَبْرَ عَمِّہَا حَمْزَۃَ کُلَّ جُمُعَۃٍفَتُصَلِّی وَتَبْکِی عِنْدَہٗ۔ (مستدرک للحاکم،کتاب الجنائز)

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ کو اپنے چچاحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پرحاضر ہوتیں ، قبرکے پاس نماز پڑھتیں اورروتیں ۔

اس حدیث کے بارے میں امام حاکم نے فرمایاہے کہ اس کے رجال آخر سے ثقہ ہیں۔

ایک اور حدیث ہے جس میں حضرت اوس بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ پر سخت قحط پڑا،لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس قحط کا شکوہ کیا،یہ سن کراُنھوں نے فرمایا:

انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَليْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْعَلُوْا مِنْهُ كُوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتّٰى لَا يَكُوْنَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ۔ ( دارمی،باب مااکرم اللہ نبیّہ بعد موتہ)

 ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانور کو دیکھو اور اُس میں آسمان کی جانب سوراخ اس طرح کردوکہ قبر نبوی اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے۔

اس حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگو ں نے ویسا ہی کیا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا، چنانچہ اتنی بارش ہوئی کہ سبزے اور گھاس اُگ آئےاور اونٹ فربہ ہوگئے۔

اس حدیث کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

اس حدیث سے واضح طورپریہ ثابت ہوگیاکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے قبر نبوی سے ایک سوراخ آسمان کی جانب کرنے کا حکم دے کر بارش کے لیے قبرنبوی سے برکت حاصل کرنے کی تعلیم دی۔

مذکورہ بالا احادیث کریمہ کی روشنی میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ صالحین کی قبروںسے برکت حاصل کرنا بلاشبہ جائز ہےاور اِس میں شرک کا کوئی شائبہ نہیں،کیوں کہ صحابۂ کرام شرک کو مٹانے والوں کے سردار محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درسگاہ کے تربیت یافتہ تھے، ان سے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتاکہ وہ کوئی ایسا عمل کریں گے جوشرک یا شرک کی طرف لے جانے والا ہوگا۔

صالحین کی قبروں سے تبرک اور عقیدۂ اسلاف

صالحین کی قبروں سے تبرک اور عقیدۂ اسلاف

ضیاء الرحمان علیمی

امام احمد بن حنبل سے قبرنبوی کو چھونے اور چومنے کے بارے میں سوال کیاگیاتو اُنھوں نے اس عمل میں کوئی حرج نہیں سمجھا

صالحین کی قبروں پر دعا اور عقیدۂ اسلاف کے عنوان سے اسلاف کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں ان سے جہاں صالحین کی قبروں پر دعا کا جواز ثابت ہوتا ہے وہیں صالحین کی قبروں سے برکت حاصل کرنے کا عقیدہ بھی ثابت ہوتا ہے،کیوں کہ ان تمام واقعات میں صالحین کی قبروں کی زیارت اورپھراس مقام پر خصوصیت کے ساتھ دعا کا ذکر ملتاہے۔ویسےدعا توکہیں بھی کی جاسکتی ہے اور صالحین کا وسیلہ لینے کے لیےبھی ان کی قبروں پرجانا ضروری نہیں،بلکہ دور رہ کر بھی انھیں وسیلہ بنایاجاسکتا ہے لیکن خاص طورسے قبروں پر حاضر ہوکر دعاکرنایہ ثابت کرتا ہےکہ ہمارے اسلاف نے اس جگہ کی برکت اور صالحین کے جسموں کو سمیٹے ہونے کی وجہ سے خود ان قبروں کی برکت حاصل کرنے کا ارادہ کیااور صالحین کی قبروں کے واسطے سے رب تعالیٰ کے خیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔

خود شیخ ابن تیمیہ بھی قبروں پر دعاسے منع کرنے کے باوجود اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ صالحین کی قبریں برکت والے مقامات ہیں۔اپنی مشہورکتاب ’’اقتضاءالصراط المستقیم ‘‘میں لکھتے ہیں:

وَكَذٰلِكَ مَا يُذْكَرُ مِنَ الْكَرَامَاتِ،وَخَوَارِقِ الْعَادَاتِ، الَّتِي تُوْجَدُ عِنْدَ قُبُوْرِالْأنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ مِثْلَ نُزُوْلِ الْأنْوَارِ وَالْمَلَائِكَةِ عِنْدَهَاوَتَوَقِی الشَّيٰطِيْنِ وَالْبَهَائِمِ لَهَا،وَاِنْدَفَاعُ النَّارِعَنْهَاوَعَمَّنْ جَاوَرَهَا، وَشَفَاعَةُ بَعْضِهِمْ فِي جِيْرَانِهٖ مِنَ الْمَوْتٰى، وَاِسْتِحْبَابُ الْاِنْدِفَانِ عِنْدَ بَعْضِهِمْ،وَحُصُوْلُ الْأنْسِ وَالسَّكِيْنَةِ عِنْدَهَا،وَنُزُوْلُ الْعَذَابِ بِمَنْ اِسْتَهَانَهَا،فَجِنْسُ هٰذَا حَقٌّ۔ (جلد:۲،النوع الثانی،ص:۷۳۶،مکتبہ الرشد، الریاض )

 ترجمہ:یوں ہی انبیاوصالحین کی قبروں پر ظاہرہونے والی کرامتیں اور محیرالعقول باتیں مثلا وہاں پر انوار کا نازل ہونا،فرشتوں کا اُترنا،شیاطین اورجانوروں کاان کی قبروں سے دور رہنا،ان کا اور ان کے پڑوسیوں کا آگ سے محفوظ رہنا، اُن کے پڑوس میں رہنے والے مردوں کے حق میں ان کا شفاعت کرنا ، اُن کے جوار میں دفن کا مستحب ہونا،وہاں اُنس وسکینہ کا نازل ہونااور اُن کی قبروں کی بے حرمتی کرنے والوں پر عذاب کانازل ہونا، اس طرح کی دوسری باتیں برحق ہیں۔

مزیدآگے لکھتے ہیں:

 وَمَا فِي قُبُوْرِالْأنْبِيَاءِ وَالصَّالِحيْنَ،مِنْ كَرَامَةِ اللهِ وَرَحْمَتِهٖ، وَمَالَهَاعِنْدَاللهِ مِنَ الْحُرْمَةِوَالْكَرَامَةِ فَوْقَ مَايَتَوَهَّمَهٗ أكْثَرُ الْخَلْقِ۔ (نفس مصدر )

ترجمہ:انبیا اور صالحین کی قبروںپرجو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کرامت ورحمت ہے اور اُن کی قبروں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو مقام ومرتبہ حاصل ہے وہ اکثر لوگوں کے وہم و گمان سے بڑھ کر ہے۔

 شیخ ابن تیمیہ کی ان تصریحات سے یہ بات تو روشن ہوجاتی ہے کہ انبیاوصالحین کی قبروں پر برکتوں کا نزول ہوتا ہے اور یہ برکت والے مقامات ہیں،کیوں کہ اصطلاح شریعت میں برکت یہ ہے کہ کسی چیز میںرب تعالیٰ کی جانب سے خیر کا ہونا ثابت ہوجائے،اوراس بناپر اس سےبرکت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو اسی کو تبرک کہتے ہیں، اس لیے اب اگر کوئی بندہ مومن انبیاو صالحین کی قبروں پر پائی جانے والی برکتوں اور رحمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ کوئی شرکیہ عمل نہیں،بلکہ در حقیقت اس حدیث پاک پر عمل کرتاہے جس میں یہ فرمایاگیاہے:

 إنَّ لِلہِ فِی أیَّامِ دَہْرِکُمْ نَفْحَات ألَا فَتَعَرَّضُوْلَہَا۔ (معجم کبیر،محمدبن مسلمہ انصاری)

 ترجمہ:تمہارے زمانے کے اوقات میں رب تعالیٰ کی خوشبوئیں ہیں،اس لیے تم ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

 یہ خوشبوئیں رب تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں۔اسی لیے ہمارے اسلاف کرام نے انبیاو صالحین کی قبروں سے برکت حاصل کیااور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ان میں سے چند کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:

۱۔امام احمد بن حنبل(۲۴۱-۱۶۴ھ) 

 امام احمد بن حنبل بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو بطور تبرک چومنے کے جواز کے قائل ہیں۔

 حافظ ذہبی اپنی ’’معجم الشیوخ ‘‘میں فرماتے ہیں:

وَ قَدْ سُئِلَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ مَسِّ الْقَبْرِ النَّبْوِیِّ وَتَقْبِیْلِہٖ فَلَمْ یَرَ بِذٰلِکَ بَاسًا،رَوَاہُ عَنْہُ وَ لَدُہٗ عَبْدُاللہِ ۔ (ذکر احمد بن عبدالمنعم،ص:۵۶،دارالکتب العلمیۃ بیروت:۱۹۹۰)

ترجمہ:امام احمد بن حنبل سے قبرنبوی کو چھونے اور چومنے کے بارے میں سوال کیاگیاتو اُنھوں نے اس عمل میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔اس قول کو اُن کے صاحبزادے عبداللہ نے روایت کیاہے۔

 قبروں سے برکت حاصل کرنا اور ان کو بوسہ دینے میں اگرشرک کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو کیا احمد بن حنبل جیسے کتاب وسنت کے امام کو اِس کا علم نہ ہوتا؟

۲۔امام ابن مکندر(مابعد۱۳۰-۳۰ھ) 

امام حافظ و قدوۃ شیخ الاسلام ابوعبداللہ قرشی مدنی نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے حدیث کی روایت کی،نیز سفیان بن عیینہ ،سفیان ثوری، اوزاعی،ابوحنیفہ،مالک،جعفر صادق جیسے ائمہ کرام نے ان سے حدیث روایت کی۔

امام ابن مکندر کا مقام ومرتبہ ذکرکرنے کے بعدحافظ ذہبی لکھتے ہیں:

مصعب بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے اسمٰعیل بن یعقوب تیمی نے بیان کیاکہ ابن مکندر اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوتے تو کبھی کبھی ان کی زبان گنگ ہوجاتی۔چنانچہ وہ اسی حالت میں اٹھ جاتے اور قبرنبوی پر جاکر اپنا رخسار رکھ دیتے ، پھر لوٹ آتے،اس پر لوگوں نے کچھ نامناسب باتیں کیں تو آپ نے فرمایا کہ مجھے گنگ ہونے کاخطرہ محسوس ہوتاہے تو میں قبرنبوی سے مدد طلب کرتا ہوں۔ (سیراعلام النبلاء،طبقہ:۳،جلد:۵،بن مکندر، موسسۃ الرسالۃ،۱۴۲۲ھ)

محمدابن مکندر جیسےامام قبر نبوی سےاستعانت کررہے ہیں تو کیا توحید وشرک کےمسائل اُن پربھی واضح نہیں تھے؟

 ۳۔امام بخاری(۲۵۶ھ)

 امام بخاری ہر خاص وعام کے نزدیک مشہورومعروف ہیں۔یہی امام بخاری نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرمبارک کے پاس بیٹھ کر اپنی کتاب ’’التاریخ‘‘ لکھی۔

اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ ذہبی امام بخاری کے حوالے سےلکھتے ہیں:

وَصَنَّفْتُ کِتَابَ التَّارِیْخِ إذْ ذَاکَ عِنْدَقَبْرِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی اللَّیَالِی الْمُقْمِرَۃِ۔ (نفس مصدر،طبقہ:۱۴،جلد:۱۲،البخاری)

ترجمہ:میں (امام بخاری)نے التاریخ نامی کتاب اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرکے پاس چاندنی راتوں میں لکھی۔

کسی کتاب کی تصنیف کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کے انتخاب کی،اس کے علاوہ کوئی اور وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ انھوں نے قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے برکت حاصل کرنا چاہا۔

۴۔امام جعفر خلدی(م:۳۴۲ھ) 

امام ومحدث اور مقتدائے زمانہ شیخ ابومحمد جعفر بن محمد بغدادی خلدی امام جنید اورابوالحسین نوری کے اصحاب میں سے ہیں امام حاکم،ابوعلی شاذان وغیرہم نے آپ سے روایت کی ہے،خطیب بغدادی نے ان کو ثقہ کہاہے۔ (نفس مصدر،طبقہ:۲۰،جلد:۱۵،الخلدی)

اسی عظیم مقتدائے زمانہ کے حوالے سے حافظ ابن جوزی اپنی کتاب’’ المنتظم فی تاریخ الملوک والامم‘‘ میں اپنی سند سے نقل کرتے ہیں :

 کَانَ بِی جَرَبٌ عَظِیْمٌ فَتَمَسَّحْتُ بِتُرَابِ قَبْرِ الْحُسَیْنِ، فَغَفَوْتُ فَانْتَبَہْتُ وَلَیْسَ عَلَیَّ مِنْہُ شَیءٌ۔ (جلد:۵،حوادث:۶۱ھ)

 ترجمہ:مجھ کو سخت قسم کی خارش ہوگئی،چنانچہ میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی قبرکی مٹی لگاکر سوگیااور جب بیدار ہوا تو خارش کا کوئی اثر باقی نہیں تھا۔

 اس واقعے کی سند میں جعفر خلدی جن کی عظمت پر گفتگو ہوچکی ہے،ان کے اور حافظ ابن جوزی کے درمیان چار راوی ہیںاور وہ سب ثقہ ہیں،

پہلے راوی محمد بن ناصر بغدادی ہیں (۵۵۰-۴۶۷)ان کو حافظ ذہبی نے امام حافظ ومحدث لکھا ہے اور حافظ ابن جوزی، ابن نجار اور ابوطاہر سلفی کے حوالے سے ان کا ثقہ ہونا نقل کیاہے۔ (نفس مصدر،طبقہ:۲۹،جلد:۲۰،ابن ناصر)

 دوسرے راوی مبارک بن عبدالجبار بغدادی ابن طیوری (۵۰۰-۴۱۱)ہیں ان کو بھی حافظ ذہبی نے امام ومحدث کہاہے اور ابو سعد سمعانی،ابوعلی بن سکرہ صدفی،ابن ناصر،ابوطاہر سلفی وغیرہم کے حوالے سے ان کی ثقاہت کا قول کیاہے۔ (نفس مصدر،طبقہ:۲۶،جلد:۱۹،ابن طیوری)

 تیسرےراوی ابوالحسین احمد بن محمد عتیقی بغدادی (۳۶۷ھ ) ہیں،ان کو بھی حافظ ذہبی نے امام ومحدث ثقہ کے لقب سے یاد کیاہے۔ (نفس مصدر،الطبقۃ:۲۳،جلد:۱۷،العتیقی)

 چوتھے راوی ابوبکر محمد بن الحسن بن عبدان صیرفی ہیں۔ یہ بھی ثقہ ہیں ،ان کوعبیداللہ بن احمدنے ثقہ سے بھی اوپر درجے کا شخص قرار دیا ہے۔(تاریخ بغداد،جلد:۲،ص:۶۱۹،مکتبہ شاملہ)

۵۔حافظ ذہبی(۶۷۳-۷۴۸ھ) 

علوم اسلامیہ کا ہر طالب علم حافظ ذہبی کی عظمت سے واقف ہے ۔وہ اپنی کتاب’’معجم الشیوخ‘‘ میں فرماتے ہیں:

وَنَحْنُ مَالَمْ یَصِحّ لَنَامِثْلُ ہٰذَاالنَّصِیْبِ الْاَوْفَرِ تَرَامَیْنَاعَلٰی قَبْرِہٖ بِالْاِلْتِزَامِ وَالتَّبْجِیْلِ وَالْاِسْتِلَامِ وَالتَّقْبِیْلِ …وَھٰذَہِ الْاُمُوْرُ لَایُحَرِّکُہَا مِنَ الْمُسْلِمِ إلَّا فَرْطُ حُبِّہٖ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ذکر احمد بن عبدالمنعم،ص:۵۶)

 ترجمہ:جب ہم کو اسی طرح کا عظیم حصہ نہیں حاصل ہوسکا (جو صحابۂ کرام کو حاصل تھا)تو ہم ان کی قبر سےلپٹنے،تعظیم کرنے اوراستلام وبوسہ کے لیے ٹوٹ پڑے…اور مسلمانوں کی طرف سے ایسے افعال کا صدور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت ہی کی وجہ سے ہے۔

 یہاں تو خود حافظ ذہبی اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ قبرنبوی سے لپٹنا ،اس کی تعظیم کرنا اور اس کو چومنے کی وجہ محبت رسول ہے، کوئی اورچیز نہیں۔تو کیا اس مقام پر ذہبی جیسے ناقد بھی توحید وشرک کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکے۔

مذکورہ بالا اسلاف کے اقوال وافعال سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ نیکوں کی قبروں سے برکت حاصل کرنا درست ہے اور اس میں شرک جیسی کوئی بات نہیں،کیوں کہ ہر مسلمان صرف رب تعالیٰ کو ہی نفع ونقصان کا مالک سمجھتا ہے۔

سیلفی و تصویر کشی کے رجحان نے طواف و زیارت حرمین متاثر کر دیا

*سیلفی و تصویر کشی کے بڑھتے رجحان نے طواف و زیارت حرمین جیسی عظیم نعمت کی روح کو متاثر کر دیا*

غلام مصطفی رضوی

(نوری مشن مالیگاؤں)

مسلمان! حرمین مقدس کا احترام کرتے ہیں۔ حرمین سے محبت رکھتے ہیں۔ وہاں کی زیارت سعادت جانتے ہیں۔ اسی تمنا میں جیتے ہیں۔ بلاشبہہ کعبے کا دیدار عبادت۔ روضۂ رسول ﷺ کی حاضری سعادت و خوش نصیبی کی بات ہے۔ لوگ اسی آرزو میں عمریں گزار دیتے ہیں۔ پھر جب یہ انعام ملتا ہے تو مسرتوں کا عجب عالَم ہوتا ہے۔زہے نصیب یہ سعادت کم عمری میں مل جائے۔ عقیدتوں کے قافلے سوئے حرم رواں دواں ہوتے ہیں۔ کتنے ارمان سے سفرِ حرمین کی تیاری کی جاتی ہے۔ جذبات کا عالم بھی ایسا کہ محسوس قلب سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ایک طلاطم بپا ہوتا ہے۔ دل و جاں وجد کناں جھک گئے بہر تعظیم۔

ایسے مبارک سفر، ایسے تقدس مآب سفر جس کی آرزو میں لمحہ لمحہ انتظار میں گزرتاہے۔ خانۂ خدا کی حاضری؛ درِ محبوب رب العالمین ﷺ کی حضوری۔ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ لیکن بعض ایسے عوامل ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ زیارت حرمین سعادت مندی لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ اِس مبارک سفر کے آداب ملحوظ رہیں؛ ورنہ سعادتوں کے لمحے کہیں گناہوں کے ابتلا سے اعمال کو ضائع نہ کردیں۔ اِس ضمن میں راقم ایک اہم پہلو اپنے حالیہ سفرِ حجاز کے مشاہدے سے ذکر کرتا ہے؛ جو گزشتہ دنوں [6فروری تا 21فروری2018ء] درپیش ہوا۔

آج کل سیلفی و تصویر کشی و کیمرے کے بے جا استعمال نے انسانی اقدار؛ اخلاقی اطوار اور اعمال کی چاندنی کو گہنا دیا ہے۔ اِس کے بڑھتے رجحان نے کئی نازک لمحات میں خدمت انسانی کو فروگذاشت کردیا۔ مثلاً کوئی حادثہ ہوا تو فوقیت انسانی جان بچانے کو ہونی چاہیے؛ لیکن تصویر کشی کے رجحان نے فرض شناسی کو نظر انداز کر کے رکھ دیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہے سفرِ حرمین میں اِس رجحان کی تباہ کاریوں کا۔ جس کے زیرِ اثر اعمال کا توشہ گناہوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ مکۃ المکرمہ میں ایک نیکی کے بدل میں لاکھ نیکی کی بشارت ہے تو ایک گناہ بھی نامۂ اعمال میں کثیر گناہ کے اندراج کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس لیے ایسے کاموں سے بچنے کے جتن کیے جانے چاہئیں کہ گناہوں کا دفتر پُر نہ ہونے پائے۔

راقم نے دیکھا کہ بندگانِ خدا محوِ طواف ہوتے ہیں۔ سیلفی کے شائق دورانِ طواف سیلفی لیتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ طواف محویت کے ساتھ کیا جائے۔ رب کی رحمتیں ہماری سمت متوجہ ہیں۔ مطاف کی مقدس زمیں ہمارے اعمال کی گواہی دے رہی ہے۔ میزابِ رحمت، حطیم، حجر اسود، مقام ابراہیم سبھی ہمارے طواف کے گواہ بن رہے ہیں، یہ لمحات بڑے اَنمول ہیں۔ یہ بڑی قبولیت کی گھڑی ہے، ایسے قیمتی وقت میں عبادتوں سے نگاہیں موند کر سیلفی نکالنا؛ محض چند احباب کو دکھانے کے لیے ایسے گناہوں کا حرم محترم میں ارتکاب بڑی محرومی ہے۔ یہ رجحان گناہ در گناہ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ طبقۂ نسواں بھی محوِ طواف ہوتا ہے، سیلفی لینے والے یہ بھول جاتے ہیں؛ وہ تقدس فراموش کر کے نامعلوم کیسی کیسی تصویر نکال لیتے ہیں۔ایک گناہ کو کئی گناہ سے اور یوں کثیر گناہ سے بدل لیتے ہیں۔ راقم نے دیکھا کہ اس مرض میں ایک دو اورتین نہیں کثیر نوجوان حتیٰ کہ بعض بوڑھے بھی مبتلا ہیں۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پورا کنبہ کعبہ شریف کی جانب پیٹھ کیے کھڑے ہو کر تصویر بنوا رہا ہے۔ کبھی دورانِ سعی سیلفی لی جا رہی ہے۔ کبھی مروہ کی مقدس وادی میں سیلفی، کبھی صفا کے جلو میں سیلفی۔ جن نشانیوں کے سائے میں دعاؤں کی سوغات پیش کرنی تھی؛اعمالِ سیاہ کے دھبے دھونے تھے؛ تا کہ یہ دعائیں آخرت کا سرمایہ بنتیں وہاں ایسے اعمال جو شریعت نے ممنوع قرار دیے؛ کی انجام دہی کیا توشۂ آخرت بنے گی؟ یہ سوال بہت اہم ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

عبادت میں حضوریِ قلب درکار ہے۔ تصویر کشی کی فکر نے ریا و دکھاوے کوبڑھاوہ دیا؛ اخلاص کو رُخصت کردیا؛ یکسوئی میسر نہیں؛ موبائلوں کا بے محابا استعمال۔ بے جا استعمال نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ عبادت ہے؛ روحِ عبادت رُخصت ہوگئی۔ رسم باقی ہے خشیت رُخصت ہوگئی۔ خوفِ خدا معاذاللہ ایسا نکلا کہ حرم میں بھی دُنیا داری! اللہ اکبر! کاش میری قوم اس کا تصفیہ کرتی اور تصویر کشی کے مرض سے بچتی۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اِس میں کم علم و دنیا دار افراد تو الگ رہے؛ دین دار حتیٰ کہ بہت سے علماو مصلحین بھی مبتلا ہیں جس سے گفتار میں تاثیر نہیں رہی اور دل دنیا دار ہو کر رہ گئے۔ ایسوں کی قیادت فتنۂ ملت بیضا بن گئی ہے۔

روضۂ رسول ﷺ پر حاضری حیات کا غازہ ہے۔ زندگی کا حاصل ہے۔ سعادتوں کی اِس مسافرت میں جب ہم نے دیکھا کہ مواجہ شریف جہاں آواز بلند کرنا اعمال کے ضائع ہونے کا سبب ہے۔ جس کے احترام میں نص قطعی وارد۔ جس بارگاہ میں جبریل بھی مؤدب آتے۔ جہاں جنبش لب کشائی کی جرأت کسی کو نہ ہوئی۔ جہاں اسلاف نے سانسوں کو بھی تھامے رکھا۔ جہاں دلوں کی دھڑکنوں کو بھی ادب کا پیرہن دیا۔ جہاں خیالات بھی طہارت مآب رکھے جاتے؛ وہاں دھڑا دھڑ تصویریں کھینچی جا رہی ہیں؛ سلیفیاں لی جا رہی ہیں؛ کیمروں کی کھچاک سے مقدس بارگاہ کے سکوت کو توڑا اور ادب کا رُخ موڑا جا رہا ہے! اللہ اکبر! ہم کہاں آگئے۔ آقا ﷺ نے بلایا؛ اِس احسان کو لمحے میں بھلا دیا؛ کیسا کرم کیا کہ ہم تو طیبہ کے لائق نہ تھے؛ حاضری کا پروانہ دیا اور محبوب ﷺ کے در کا آداب بھی بجا نہ لائے؛ بلکہ غافل ہو کر سیلفیوں میں پاکیزہ لمحات آلودہ کر بیٹھے۔ کاش ہم اپنی اصلاح کرتے اور اِس خطرنات رجحان سے بچ کر قوم کو ادب کا شعور دیتے تو مبارک سفر توشۂ نجات بن جاتا۔ محبوب پاک ﷺ کی شفاعت کا مژدہ سنتے اور ادب کے طفیل ہر منزل پر با مُراد ہوتے۔ یہ مصائب کی بجلیاں خرمن پر نہ گرتیں؛ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کر لیں؛ خواص بھی دامنِ تقویٰ کو دھبوں سے بچائیں۔ احترام کی فضا آراستہ کریں۔ رب العالمین کی رحمتوں اور محبوب پاک ﷺ کی نوازشوں پر تشکر کے موتی لٹائیں۔ تصویر کشی سے حرمین کے تقدس کو بچائیں۔ بے شک ادب حیات ہے۔ ادب عبادت کی روح ہے۔ ادب ایمان کا زیور ہے۔ جو ادب و احترام بجا لایا اس کا سفر بھی سعادتوں کی صبح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ! محبوب پاک ﷺ کے درِ پاک کی حاضری احترام کے سائے میں نصیب کرے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا

ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

٭٭٭

مزارات پر حاضری

🔵مزارات پر حاضری🔵

🔹دلائل کی روشنی میں🔹

▫سوال: مزاراتِ اولیاء پر جانا کیسا ہے؟

جواب: مزاراتِ اولیاء پر جانا جائز اور مستحب کام ہے۔ جیسا کہ حضرت بریدہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ : رسول ﷲﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا۔ اب زیارت کیا کرو۔

📒( مسلم شریف ، کتاب الجنائز، ،حدیث نمبر 2260، مطبوعہ دارالسلام، ریاض سعودی عرب)

▫سوال: کیا حضورﷺ بھی مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے؟

جواب: حضور علیہ السلام بھی مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جیسا کہ مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی۔ آپﷺ نے وہاں گریہ فرمایا اور جو صحابہ آپﷺ کے ساتھ تھے وہ بھی روئے۔

📒(مسلم شریف ، کتاب الجنائز،حدیث 2258، مطبوعہ دارالسلام، ریاض سعودی عرب)

▫فقہ حنفی کی مایہ ناز کتاب رد المحتار میں حضور خاتم المحققین ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ (وصال1252ھ) فرماتے ہیں:

امام بخاری علیہ الرحمہ کے استاد امام ابن ابی شیبہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ السلام ہر سال شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے تھے ۔

📒(رد المحتار ، باب مطلب فی زیارۃ القبور ،مطبوعہ دارالفکر، بیروت)

▫امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ (سن وصال606ھ) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: حضور علیہ السلام ہر سال شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے اور آپ ﷺ کے وصال مبارک کے بعد چاروں خلفاء کرام علیہم الرضوان بھی ایسا ہی کرتے تھے

📒(تفسیر کبیر، زیر تحت آیت نمبر 20، سورہ الرعد)

▫سوال: کیا صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی کسی کے مزار پر جاتے تھے؟

جواب: جی ہاں! صحابہ کرام علیہم الرضوان حضورﷺ کے مزار اقدس پر حاضری دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت مالک دار رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے۔ ایک صحابی نبی کریم ﷺ کی قبر اطہر پر آئے اور عرض کیا۔ یارسولﷺ آپ اپنی امت کے لئے بارش مانگئے کیونکہ وہ ہلاک ہوگئی۔

📒(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث نمبر 32002، مکتبہ الرشد، ریاض، سعودی عرب)

▫فائدہ: زیارت مزار کے ساتھ، صاحب مزار سے مدد طلب کرنا صحابہ کا طریقہ ہے۔

▫حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مروان آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور نبی کریم ﷺ کے مزارِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے، تو اس (مروان) نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ توکیا کررہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تودیکھا وہ صحابی رسول ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری رضی ﷲ عنہ تھے۔ اور انہوں نے جواب دیا۔ ہاں میں جانتا ہوں۔ میں رسول ﷲﷺ کے پاس آیا ہوں ’’لم ات الحجر‘‘ میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔

📒(مسند امام احمد بن حنبل،حدیث نمبر 23646، مطبوعہ دارالفکر ، بیروت )

▫سوال: حدیث شریف میں ہے کہ تین مسجدوں (مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور مسجد نبوی شریف) کے سوا کسی جگہ کا سفر نہ کیا جائے۔ پھر لوگ مزارات اولیاء پر حاضری کی نیت سے سفر کیوں کرتے ہیں؟

جواب: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان تینوں مسجدوں میں نماز کا ثواب زیادہ ملتا ہے۔ لہذا ان مساجد میں یہ نیت کرکے دور سے آنا چونکہ فائدہ مند ہے، جائز ہے۔ لیکن کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا ’’یہ سمجھ کر ‘‘کہ وہاں ثواب زیادہ ملتا ہے۔ یہ ناجائز ہے کیونکہ ہر جگہ کی مسجد میں ثواب یکساں ہے اور حدیث میں اسی نیت سے سفر کو منع فرمایا ہے۔ آج لوگ تجارت کے لئے سفر کرتے ہیں۔ علم دین کے لئے سفر کرتے ہیں۔ تبلیغ کے لئے سفر کرتے ہیں اور بے شمار دنیاوی کاموں کے لئے مختلف قسم کے سفر کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ سب سفر حرام ہوں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ سارے سفر جائز ہیں اور ان کا انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ تو پھر مزارات اولیاء کے لئے سفر کرنا ناجائز کیوں ہوگا بلکہ لاکھوں شافعیوں کے پیشوا امام شافعی علیہ الرحمہ (سن وصال 204ھ) فرماتے ہیں۔ میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ سے برکت حاصل کرتا اور ان کے مزار پر آتا ہوں۔ اگر مجھے کوئی حاجت درپیش ہوتی ہے تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں اور ان کے مزار کے پاس جاکر ﷲ سے دعا کرتا ہوں تو حاجت جلد پوری ہوجاتی ہے۔

📒 (رد المحتار، مقدمہ، مطبوعہ دارالفکر ، بیروت)

▫فائدہ:امام شافعی علیہ الرحمہ اپنے وطن فلسطین سے عراق کا سفر کرکے امام صاحب کے مزار پر تشریف لاتے تھے اور مزار سے برکتیں بھی حاصل کرتے تھے۔کیا ان کا یہ سفر کرنا بھی ناجائز تھا؟

▫محمد بن معمر سے روایت ہے کہ کہتے ہیں: امام المحدثین ابوبکر بن خذیمہ علیہ الرحمہ، شیخ المحدثین ابو علی ثقفی علیہ الرحمہ اور ان کے ساتھ کئی مشائخ امام علی رضا بن موسیٰ رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کے مزار پر حاضر ہوئے اور مزار کی خوب تعظیم فرمائی۔

📒(تہذیب التہذیب، حروف العین المہملہ، مطبوعہ دارالفکر،بیروت)

اگر مزاراتِ اولیاء پر جانا شرک ہوتا تو…❗

🔹کیا حضورﷺ اپنی والدہ ماجدہ اور شہداء احد کے مزاروں پر تشریف لے جاتے؟

🔹کیا صحابہ کرام حضورﷺ کے مزار پر انوار پر حاضری دیتے؟ کیا تابعین، محدثین، مفسرین، مجتہدین مزارات اولیاء پر حاضری کے لئے سفر کرتے ؟

🔹پتہ چلا مزارات پر حاضری حضور علیہ السلام ﷺ ، آپ کے اصحاب اور امت کے مجتہدین، محدثین اور مفسرین کی سنت ہے اور یہی اہلِ اسلام کا طریقہ رہا ہے اور اس مبارک عمل پر شرک کے فتویٰ دینے والے صراط ِمستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

🔹ان کی اسی روش نے ان کے ھم خیال دھشت گرد گروە کو تشدد کی راە دی

اور

آج مزارات اولیاء کو وھابی دھشت گرد بموں سے شھید کر رھے ھیں- جبکہ وھابیوں نے حرمین کے قبرستانوں میں صحابہ کرام و اکابرین کے مزارات کو زمین بوس کر دیا-

▫مزارات ِ اولیاء پر ہونے والی خرافات

اکثر مخالفین مزاراتِ اولیاء مزارات پر ہونے والی خرافات کو امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مزارات اولیاء پر ہونے والی خرافات کا اہلسنت و جماعت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنی تصانیف میں ان کا رد بلیغ فرمایا ہے۔

#ملفوظات حضور شیخ الاسلام غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ

جو مزارات اولیاء کا بوسہ دیتا ہے اللہ پاک اسکا دل نور معرفت کے لیۓ کھول دیتا ہے….