اللہ عزوجل پرتوکُّل کرنے کااجر

حکایت نمبر134: اللہ عزوجل پرتوکُّل کرنے کااجر

حضرت سیدناوہب بن منبہّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: بنی اسرائیل کاایک عابد بقدر کفایت رزقِ حلال کماتا اور باقی وقت اللہ عزوجل کی عبادت میں گزارتا۔ایک مرتبہ مسلسل کئی روز تک اسے کہیں بھی مزدوری نہ ملی اورفاقوں تک نوبت پہنچ گئی ، کئی روز تک گھر میں چولہا نہ جلا۔ وہ خود بھی بھوکا رہا اور اہل وعیال بھی بھوک کی مشقت برداشت کرتے رہے ۔جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو اس نے اپنی زوجہ سے کہا :” کل میں مزدوری کے لئے جاؤں گا تم دعا کرنا،اللہ عزوجل تمام مخلوق کو رزق دینے والا ہے وہ ہمیں بھی محروم نہ رکھے گا۔” اس کی زوجہ نے بھی یہی مشورہ دیا کہ تم یقین کامل کے ساتھ رزق کی تلاش میں نکلو اللہ عزوجل ضرور کوئی راہ نکالے گا۔صبح سویرے وہ عابداللہ عزوجل کا نام لے کر مزدوری کی تلاش میں نکلا اور وہ بھی دوسرے مزدوروں کے ساتھ بیٹھ گیاکہ جس کو ضرورت ہو گی وہ مجھے مزدوری کے لئے لے جائے گا ۔

یکے بعد دیگرے تمام مزدوروں کو کوئی نہ کوئی اجرت پر کام کروانے کے لئے لے گیا لیکن اس کے پاس کوئی نہ آیا۔جب اس عابد نے یہ صورت حال دیکھی تو کہنے لگا:”اللہ عزوجل کی قسم !میں آج مالکِ حقیقی عزوجل کی مزدوری (یعنی عبادت)کروں گا۔” چنانچہ وہ دریا پر آیا اور وضو کر کے نوافل پڑھنے لگا اور سارا دن اسی طرح رکوع و سجود میں گزار دیا۔ شام کو جب گھر پہنچا تو اس کی زوجہ نے پوچھا:”کیا کسی کے ہاں تمہیں مزدوری ملی ؟” اس نے جو اب دیا: ”میں نے آج بہت کریم مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے اس مزدوری کا بہت اچھا بدلہ دے گا۔

دوسری صبح دوبارہ یہ عابد مزدوروں کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ سب کو کوئی نہ کوئی اپنے ہاں کام پر لے گیا لیکن اس کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ اس نے دل میں کہا:” خدا عزوجل کی قسم! آج پھر میں مالک حقیقی عزوجل کی مزدوری کروں گا۔”وہ پھر دریا پر آیا وضو کیا اور خوب خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرنے لگا۔ سارا دن اسی طرح رکوع وسجود میں گزر گیا۔ شام کو جب وہ گھر پہنچا اور اس کی زوجہ نے اسے خالی ہاتھ دیکھا تو کہنے لگی:”آج کیا ہوا ؟”اس نے جواباً کہا:” آج پھر میں نے اسی مالک کے ہاں مزدوری کی ہے، وہ بڑا کریم ہے، اس نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ مجھے اس مزدوری کا اچھا بدلہ دے گا،میری اُجرت اس مالک کے پاس جمع ہو رہی ہے۔” فاقوں کی ماری زوجہ نے جب یہ بات سنی تو شوہر سے جھگڑنے لگی کہ یہاں کئی دن سے فاقے ہو رہے ہیں ،بچوں کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ دیکھی نہیں جاتی۔ ہم میں سے کسی نے بھی کئی دنوں سے ایک لقمہ تک نہیں کھایا اور تم جس مالک کے ہاں مزدوری کر رہے ہو اس نے تمہیں اج بھی تمہاری اُجرت نہیں دی، اس طرح کیسے گزارہ ہو گا؟” 

اس پروہ عابد بہت پریشان ہوا اور اس نے ساری رات کروٹیں بدلتے ہوئے گزار دی۔ بچے بھوک کی وجہ سے بلبلا رہے تھے۔ اس کی اپنی بھی حالت قابلِ رحم تھی بالآخر صبح وہ پھر بازار گیا اور مزدورں کی صف میں کھڑا ہو گیا ۔آج پھر اس کے علاوہ سب کو مزدوری مل گئی لیکن اسے کوئی بھی اپنے ساتھ نہ لے گیا ۔

وہ عابد بھی اپنے پاک پروردگا ر عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونے والا نہیں تھا۔ وہ دریا پر پہنچااوروضو کرنے کے بعد اپنے دل میں کہا:” میں اج پھر اپنے مالک حقیقی عزوجل کی مزدوری کروں گا، وہ ضرور مجھے اس کا بدلہ عطا فرمائے گا۔” چنانچہ آج پھر اس نے سارا دن عبادت میں گزار دیالیکن شام تک اسے کہیں سے بھی رزق کا بندوبست ہوتا ہوا نظر نہ آیا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ میں گھر جا کر بچوں اور بیوی کو کیا جواب دوں گا ؟پھر اس کے یقین نے اس کی ڈھارَس بندھائی کہ جس پاک پروردگار عز وجل کی تو عبادت کرتا ہے وہ تجھے مایوس نہ کریگا۔ اس کی ذات پر کامل یقین رکھ ،وہ ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ بالآخر وہ گھر کی طرف روانہ ہوا۔جب دروازے کے قریب پہنچا تو اسے گھر کے اندر سے کھانا پکنے کی خوشبو آئی اور ایسا محسوس ہواجیسے اندر بہت خوشی کا سماں ہے، سارے گھر والے خوشی سے باتیں کر رہے ہیں ۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں سچ مچ اپنے گھر میں خوشی کا سماں محسوس کر رہا ہوں اور میرے گھر سے کھانے کی خوشبو آرہی ہے۔بہر حال اس نے دروازہ کھٹکھٹایاتو اس کی زوجہ نے دروازہ کھولا۔وہ بہت خوش تھی ،اپنے شوہر کو دیکھتے ہی کہنے لگی: ”جس مالک کے ہاں تم نے مزدوری کی ہے، وہ تو واقعی بہت کریم ہے، آج تمہارے جانے کے بعداس کا قاصد آیا تھااس نے ہمیں بہت سارے درہم ودینار اور عمدہ کپڑے دئیے ،آٹااور گوشت وغیرہ بھی کافی مقدار میں دیا ۔”اور کہا:”جب تمہارا شوہر آجائے تواسے سلام کہنا اور کہنا کہ تیرے مالک نے تیرا عمل قبول کر لیا ہے،اور وہ تیرے اس عمل سے راضی ہے۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تو نے عمل کیا تھا اگر تو زیادہ عمل کرتا تو تیرا اجر بھی بڑھا دیا جاتا۔”

(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ تودنیا میں اس کے عمل کا کچھ اجرتھا،رب کریم اس کا اصل بدلہ تو جنت میں عطا فرمائے گا۔ اللہ عزوجل کسی کا عمل ضائع نہیں کرتا۔ جو اس سے امید رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ،جو اس پر توکُّل کرتا ہے وہ بہت نفع میں رہتا ہے)(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

ٹوکریوں والانوجوان

حکایت نمبر108: ٹوکریوں والانوجوان

حضرت سیدناابوعبداللہ بلخی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں:” بنی اسرائیل میں ایک نہایت ہی پاکباز حسین وجمیل نوجوان تھا جس کے حسن کی مثال نہ تھی، وہ ٹوکر یاں بنا کر بیچا کرتا۔ اسی طرح اس کی گزر بسر ہو رہی تھی ۔ ایک روز وہ ٹوکریاں بیچتا ہوا شاہی محل کے قریب سے گزرا۔ ایک خادمہ کی اس نوجوان پر نظر پڑی تو وہ فوراً شہزادی کے پاس گئی اور اسے بتایا کہ باہر ایک نوجوان ٹوکریاں بیچ رہا ہے، وہ اِتنا خوبصورت ہے کہ میں نے آج تک ایسا خوبصورت نوجوان نہیں دیکھا۔ یہ سن کر شہزادی نے کہا:” اسے میرے پاس بلا لاؤ۔”خادمہ باہر گئی اور نوجوان سے کہا:”اندرآجاؤ۔”

(نوجوان سمجھا شایدانہیں ٹوکریاں چاہیں ) پس وہ اس کے ساتھ محل میں داخل ہوگیا ۔ وہ اسے ایک کمرے میں لے گئی جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا اس خادمہ نے دروازہ بند کردیا ، پھر اسے دوسرے کمرے میں لے گئی اور اسی طر ح اس کا دروازہ بھی بند کردیا۔ جب وہ تیسرے کمرے میں پہنچا تو اس کے سامنے ایک خوبصورت نوجوان شہزادی موجود تھی، اس نے اپنا نقاب اُٹھایا ہوا تھا اور سینہ بھی عریا ں تھا ۔ جب نوجوان نے شہزادی کو اس حالت میں دیکھا تو کہنے لگا: ”جو چیزتم نے خرید نی ہے جلدی سے خرید لو۔” شہزادی کہنے لگی:” میں نے تجھے کوئی چیز خریدنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ مَیں تو تجھ سے قُرب چاہتی ہوں اور اپنی خواہش کی تسکین چاہتی ہوں ،آؤ اور میری شہوت کو تسکین دو۔” اس پاکباز نوجوان نے کہا :” اے شہزادی !تُو اللہ عزوجل سے ڈر۔” اس نیک نوجوان نے شہزادی کو بہت سمجھا یا لیکن وہ نہ مانی او ربار بار بُرائی کا مطالبہ کرتی رہی۔ پھراس نوجوان سے کہنے لگی :” اگر تُو نے میری با ت نہ مانی تو بادشاہ کو شکایت کردو ں گی کہ یہ نوجوان برائی کے اِرادے سے محل میں گھس آیا ہے پھر تجھے بہت سخت سزا دی جائے گی، تیری بہتری اسی میں ہے کہ تُو میری بات مان لے اور میری خواہش پوری کر دے ۔” نوجوان نے پھر اِنکار کیا اور اسے نصیحت کرنے لگا بالا ۤخر جب وہ باز نہ آئی تو اس عظیم نوجوان نے کہا :” میں وضو کرنا چاہتا ہو ں، میرے لئے وضو کا انتظام کر دو۔” یہ سن کر شہزادی بولی :” کیا تُو مجھے دھوکا دینا چاہتا ہے۔ پھر اس نے خادمہ سے کہا:” اس کے لئے محل کی چھت پر وضو کا برتن لے جاؤ تا کہ یہ فرار نہ ہوسکے ۔”

چنانچہ اس نوجوان کو چھت پرلے جایا گیا۔ محل کی چھت سطح زمین سے تقریباً 40گز اونچی تھی جس سے چھلانگ لگانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ جب نوجوان چھت پر پہنچ گیا تو اس نے اپنے پاک پرورد گار عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی: ”اے اللہ عزوجل !مجھے تیری نافرمانی پر مجبور کیا جارہاہے اورمَیں اس برائی سے بچنا چاہتا ہوں ، مجھے یہ تو منظور ہے کہ اپنے آپ کو اس بلند و بالا چھت سے نیچے گرا دوں لیکن یہ پسند نہیں کہ میں تیری نافرمانی کر وں۔”

چنانچہ اس نے بِسْمِ اللہِ شریف پڑھ کر چھت سے چھلانگ لگادی ۔ اللہ عزوجل نے ایک فرشتے کو بھیجا جس نے اس نوجوان کو بازو سے پکڑا او رزمین پر بڑے سکون سے اُتا ر دیا اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہوئی نوجوان نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:” اے میرے پاک پرور دگار عزوجل !اگر تُوچاہے تومجھے ان ٹوکریوں کی تجارت کے بغیر بھی رزق عطا فرماسکتا ہے۔ اے میرے پروردگار عزوجل !مجھے اس تجارت سے بے نیاز کر دے ۔” جب اس نے یہ دعا کی تو اللہ ربُّ العزَّت نے اس کی طرف ایک بوری بھیجی جو سونے سے بھری ہوئی تھی ۔ اس نے بوری سے سونا بھرنا شرو ع کردیا یہا ں تک کہ اس کی چادر بھر گئی ۔پھر اس عظیم نوجوان نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کی:” اے اللہ عزوجل !اگر یہ اسی رزق کا حصہ ہے جو مجھے دنیا میں ملنا تھا تو اس میں برکت عطا فرما او راگر یہ اس اَجر کا حصہ ہے جو مجھے آخرت میں ملنا ہے اور اس کی وجہ سے میرے آخرت کے اَجر میں کمی ہوگی تو مجھے یہ دولت نہیں چاہے۔”

جب اس نوجوان نے یہ کہا تو اسے ایک آواز سنائی دی :” یہ جو سونا تجھے عطا کیا گیا ہے یہ اس اَجر کا پچیسواں حصہ ہے جو تجھے اس گناہ سے صبر کرنے پر ملا ہے ۔”تو اس عظیم نوجوان نے کہا:” اے میرے پروردگار عزوجل !مجھے ایسے مال کی حاجت نہیں جو میرے آخرت کے خزانے میں کمی کا با عث بنے۔” جب نوجوان نے یہ بات کہی تو وہ سارا سونا غائب ہوگیا۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

اندھے ،گنجے اورکوڑھی کا امتحان

حکایت نمبر 100: اندھے ،گنجے اورکوڑھی کا امتحان

نبی کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:” بنی اسرائیل میں تین شخص تھے۔ایک برص(کوڑھ) کا مریض، دوسرا گنجا ،تیسرا اندھا ۔ اللہ عزوجل نے ان کی آزمائش کے لئے ایک فرشتہ (بشری صورت میں) ان کے پاس بھیجا۔پہلے وہ برص کے مریض کے پاس آیااوراس سے پوچھا:”تجھے سب سے زیادہ کون سی چیزمحبوب ہے؟”اس نے کہا:”مجھے اچھارنگ اوراچھی جِلد پسند ہے اور میری خواہش ہے کہ جس بیماری کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ مجھ سے دورہوجائے۔” فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیراتواس کی وہ بیماری جاتی رہی، اس کا رنگ بھی اچھا ہو گیا اور جِلد بھی اچھی ہو گئی۔” فرشتے نے پھر اس سے پوچھا: ” تجھے کو ن سا ما ل زیادہ پسند ہے ؟”اس نے کہا:” مجھے اونٹنی پسند ہے ۔” اسی وقت اسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی، اور فرشتے نے دعادی : ”اللہ تعالیٰ تجھے اس میں برکت دے ۔”

پھروہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا :” تجھے کون سی شے سب سے زیادہ محبوب ہے ؟”اس نے کہا: ”مجھے خوبصورت بال زیادہ پسند ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جس چیز کی وجہ سے لوگ مجھ سے گِھن کھاتے ہیں وہ دور ہوجائے۔” فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی وہ شے جاتی رہی جس سے لو گ گِھن کھاتے تھے اور اس کے سر پر بہترین بال آگئے۔”فرشتے نے پوچھا: ”تجھے کون سا مال زیادہ پسند ہے ؟”اس نے کہا:” مجھے گائے بہت پسند ہے ۔ ”چنانچہ اسے ایک گابھن گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے اس کے لئے دعا کی :” اللہ تعالیٰ تیرے لئے اس میں برکت دے۔”

پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور اس سے کہا :” تجھے سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے ؟”اس نے کہا: ”مجھے یہ پسند ہے کہ اللہ عزوجل میری بینائی مجھے واپس کردے تاکہ میں لوگو ں کو دیکھ سکوں۔”فرشتے نے اس پرہاتھ پھیرا تو اس کی آنکھیں روشن ہو گئیں ۔ ” پھر اس سے پوچھا :” تجھے کون سا مال زیادہ محبوب ہے ؟” اس نے کہا :” بکریا ں۔”چنانچہ اسے ایک گابھن بکری دے دی گئی ۔ اب اونٹنی ،گائے اور بکری نے بچے دینا شروع کئے۔ کچھ ہی عرصے میں ان کے جانور اِتنے بڑھے کہ ایک کے اونٹوں ، دوسرے کی گائیوں اور تیسرے کی بکریوں سے ایک پوری وادی بھر گئی ۔پھر فرشتہ اس برص کے مریض کے پاس اس کی پہلی صورت یعنی برص کی حالت میں آیا اور اس سے کہا:” میں ایک غریب و مسکین شخص ہوں، میرے پاس زادِراہ ختم ہوگیا ہے اور واپس جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی مگر اللہ عزوجل کی رحمت سے اُمید ہے اور مَیں تیری مدد کا طلب گار ہوں۔ جس ذات نے تجھے خوبصورت رنگ ،اچھی جِلد اور مال عطا کیامیں تجھے اس کا واسطہ دیتا ہوں کہ آج مجھے ایک اُونٹ دے دے تا کہ میں اپنی منزل تک پہنچ سکوں۔” یہ سن کر اس نے انکار کرتے ہوئے کہا :” میرے حقوق بہت زیادہ ہیں۔” توفرشتے نے کہا : ”مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں تجھے جانتا ہوں، کیا تُووہی نہیں جس کو کوڑھ کی بیماری لاحق تھی اور لوگ تجھ سے نفرت کیا کرتے تھے اور تو فقیر و محتاج تھا ،پھر اللہ عزوجل نے تجھے مال عطا کیا ۔” اس نے کہا : ”مجھے تو یہ سارا مال ورا ثت میں ملا ہے اور نسل در نسل یہ مال مجھ تک پہنچا ہے۔” فرشتے نے کہا : ”اگر تُو اپنی اس بات میں جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے ایسا ہی کر دے جیسا تُو پہلے تھا ۔”پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس اس کی پہلی صورت میںآیااور اس سے بھی وہی بات کہی جو برص والے سے کہی تھی ۔اس نے بھی برص والے کی طر ح جواب دیا ۔ فرشتے نے کہا: ”اگر تُو اپنی بات میں جھوٹا ہے تو اللہ عزوجل تجھے تیری سابقہ حالت پر لوٹا دے۔”پھر فرشتہ اندھے کے پاس اُس کی پہلی حالت میں آیااور کہا : ”میں ایک مسکین مسافر ہو ں اور میرا زادِراہ ختم ہو چکا ہے۔ آج کے دن میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا مگر اللہ عزوجل کی ذات سے اُمید ہے اور اس کے بعد مجھے تیرا آسرا ہے ۔ میں اسی ذات کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے آنکھیں عطا فرمائیں کہ مجھے ایک بکری دے دے تاکہ میں اپنی منزل تک پہنچ سکوں ۔” تو وہ کہنے لگا:” میں تو پہلے اندھا تھا پھر اللہ عزوجل نے مجھے آنکھیں عطا فرمائیں تو جتنا چاہے اس مال میں سے لے لے اور جتنا چاہے چھوڑ دے۔” خدا عزوجل کی قسم! تُو جتنا مال اللہ عزوجل کی خاطر لینا چاہے لے لے ،مَیں تجھے مشقت میں نہ ڈالوں گا (یعنی منع نہ کروں گا )۔”یہ سن کر فرشتے نے کہا : ”تیرا مال تجھے مبارک ہو ،یہ سارا مال تُو اپنے پاس ہی رکھ۔ تم تینوں شخصوں کاامتحان لیا گیا تھا ،تیرے لئے اللہ عزوجل کی رضا ہے اور تیرے دونوں دوستوں(یعنی کوڑھی اور گنجے)کے لئے اللہ عزوجل کی ناراضگی ہے۔”(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہمیں مال کے وبال اور اپنی ناراضگی سے بچا کر اپنی دائمی رضا عطا فرما ،اورہم سے ایسا راضی ہو جا کہ پھر کبھی نا راض نہ ہو)؎ عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہو جا گرکرم کردےتوجنت میں رہوں گا یا رب عزوجل 

عورت کا فتنہ

حکایت نمبر91: عورت کا فتنہ

حضرت عبد المُنعِم بن ادریس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا وہب بن منبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”بنی اسرائیل میں ایک عبادت گزار شخص تھا جو اپنے زمانے کا سب سے بڑا عبادت گزار شمار کیا جاتاتھا ، وہ بستی سے الگ تھلگ ایک مکان میں اللہ عزوجل کی عبادت کیا کرتا، اسی بستی میں تین بھائی اپنی ایک جوان کنواری بہن کے ساتھ رہا کرتے تھے ، اچانک ان کے ملک پر دشمن حملہ آور ہوگیا ،ان تینوں بہادر نوجوانوں نے جہاد پر جانے کا عزمِ مُصمَّم کرلیا ، لیکن انہیں اس بات کی فکر لاحق ہوئی کہ ہم اپنی جوان بہن کس کے سپر د کرکے جائیں انہوں نے بہت غورو فکر کیالیکن کوئی ایسا قابل اِعتماد شخص نظرنہ آیا جس کے پاس وہ اپنی جوان کنواری بہن کو چھوڑکر جاتے، پھر انہیں اس عابد کا خیال آیا او روہ سب اس بات پر راضی ہو گئے کہ یہ عابد قابل اِعتماد ہے، ہم اپنی بہن کو اس کی نگرانی میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
چنانچہ وہ تینوں اس عابد کے پاس آئے اور اسے صورت حال سے آگاہ کیا۔ عابد نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا:” میں یہ ذمہ داری ہرگز قبول نہیں کرو ں گا، لیکن وہ تینوں بھائی اس کی منت سماجت کرتے رہے بالآخر وہ عابد اس بات پر راضی ہوگیا کہ مَیں تمہاری بہن کو اپنے ساتھ نہیں رکھوں گا بلکہ میرے مکان کے سامنے جو خالی مکان ہے تم اپنی بہن کو اس میں چھوڑ جاؤ، وہ تینوں بھائی اس پر راضی ہوگئے اور اپنی بہن کو اس عابد کے مکان کے سامنے والے مکان میں چھوڑ کر جہاد پر روانہ ہوگئے ۔
وہ عابد روزانہ اپنے عباد ت خانے سے نیچے اُترتااور در وازے پر کھانا رکھ دیتا پھراپنے عبادت خانے کا دروازہ بند کر کے اُوپر اپنے عبادت خانے میں چلا جاتا پھر لڑکی کو آواز دیتا کہ کھانا لے جاؤ ،لڑکی وہاں سے کھانا لے کر چلی جاتی۔
اس طرح کا فی عرصہ تک عابد اور اس لڑکی کا آمنا سامنا نہ ہوا ۔وقت گزرتا رہا ، ایک مرتبہ شیطان مردود نے اس عابد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ بے چاری اکیلی لڑکی ہے، روزانہ یہاں کھانا لینے آتی ہے، اگر کسی دن اس پر کسی مرد کی نظر پڑگئی اور وہ اس کے عشق میں گرفتار ہوگیا تو یہ کتنی بری بات ہے،کم از کم اتنا تو کر کہ دن کے وقت تو اس لڑکی کے دروازے پر کھانا رکھ آیاکر،تا کہ اسے باہر نہ نکلنا پڑے، اس طر ح تجھے زیادہ اَجر بھی ملے گا اور وہ لڑکی غیر مردو ں کے شر سے بھی محفوظ رہے گی، اس عابد کے دل میں یہ وسوسہ گَھر کر گیا اور وہ شیطان کے جال میں پھنس گیا ۔
چنانچہ وہ روزانہ دن میں لڑکی کے مکان پر جاتااور کھانا دے کر واپس آجاتا لیکن اس سے گفتگونہ کرتا پھر کچھ عرصہ بعد شیطان نے اسے تر غیب دلائی کہ تیرے لئے نیکی کمانے کا کتنا عظیم موقع ہے کہ تُو کھانا اس کے گھر میں پہنچا دیا کر ،تا کہ اس لڑکی کو پریشانی نہ ہو، اس طر ح تجھے اس کی خدمت کا ثواب زیادہ ملے گا ، چنانچہ اس عابد نے اب گھر میں جاکر کھانا دینا شرو ع کردیا کچھ عرصہ اسی طر ح معاملہ چلتا رہا ،شیطان نے اسے پھر مشورہ دیا کہ دیکھ وہ لڑکی کتنے دنوں سے اکیلی اس مکان میں رہ رہی ہے، اسے تنہائی میں وحشت ہوتی ہوگی، اگر تُو اس سے کچھ دیر بات کرلے اور اس کے پاس تھوڑی بہت دیر بیٹھ جائے تو اس کی وحشت ختم ہوجائے گی اور اس طر ح تجھے بہت اَجر و ثواب ملے گا۔ عابد پھر شیطان لعین کے چکر میں پھنس گیا اور اس نے اب لڑکی کے پاس بیٹھنا اور اس سے بات چیت کرنا شرو ع کردی ، پہلے پہل تو اس طرح ہوا کہ وہ عابد اپنے عبادت خانے سے بات کرتا اور لڑکی اپنے مکان سے، پھر وہ دونوں دروازوں پر آکر گفتگو کرنے لگے، پھر شیطان کے اُکسانے پر وہ عابد اس لڑکی کے مکان میں جا کر اس کے پاس بیٹھتا او رباتیں کرتا، بالآخر شیطان نے اب اسے ورغلانا شروع کردیا کہ دیکھ یہ لڑکی کتنی خوبصورت ہے!کیسی حسین وجمیل ہے! جب اس نے جوان لڑکی کی جوانی پرنظر ڈالی تو اس کے دل میں گناہ کا اِرادہ ہوا ۔ایک دن اس نے لڑکی سے بہت زیادہ قربت اِختیار کی اور اس کی ران پرہاتھ رکھاپھر اس سے بوس وکنار کیا،بالآخراس بدبخت عابدنے شیطان کے بہکاوے میں آکر اس لڑکی سے زنا کیا جس کے نیتجے میں لڑکی حاملہ ہوگئی او راس حمل سے ایک بچہ پیدا ہوا۔
پھر شیطان مردودنے اس عابد کے پاس آکر کہا:” دیکھ !تیری حرکت کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے، تیرا کیا خیال ہے کہ جب اس لڑکی کے بھائی آئیں گے اور وہ اپنی بہن کو اس حالت میں دیکھیں گے تو تجھے کتنی رسوائی ہوگی اور وہ تیرے ساتھ کیا معاملہ کریں گے ؟ تیری بہتری اسی میں ہے کہ تُو اس بچے کو مارڈال تا کہ انہیں اس واقعہ کی خبر ہی نہ ہو اور تُو رسوائی سے بچ جائے۔” چنانچہ اس بد بخت نے بچے کو ذبح کر ڈالا اور ایک جگہ دفن کر دیا ، اب وہ مطمئن ہوگیا کہ لڑکی اپنی رسوائی کے خوف سے اپنے بھائیوں کو اس واقعے کی خبر نہ دے گی لیکن شیطان ملعون دوبارہ اس عابد کے پاس آیااور کہا : اے جاہل انسان !کیا توُنے یہ گمان کرلیا ہے کہ یہ لڑکی اپنے بھائیوں کو کچھ نہیں بتائے گی، یہ تیری بھول ہے ،یہ ضرور تیری حرکتوں کے بارے میں اپنے بھائیوں کو آگاہ کرے گی اور تجھے ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ،تیری بہتر ی اسی میں ہے کہ تُواس لڑکی کو بھی قتل کرکے دفن کردے تاکہ معاملہ ہی ختم ہو جائے۔ عابد نے شیطان کے مشورہ پر عمل کیا اور لڑکی کوقتل کر کے اسے بھی بچے کے ساتھ ہی دفن کر دیا اور عابد دوبارہ مصروفِ عبادت ہوگیا۔
وقت گزرتا رہا جب اس لڑکی کے بھائی جہاد سے واپس آئے تو انہوں نے اس مکان میں اپنی بہن کو نہ پاکر عابد سے پوچھا تواس نے بڑے مغموم انداز میں روتے ہوئے جواب دیا :” تمہارے جانے کے بعد تمہاری بہن کا انتقال ہوگیا اور یہ اس کی قبر ہے ،وہ بہت نیک لڑکی تھی،اتنا کہنے کے بعد وہ عابد رونے لگا اور اس کے بھائی بھی قبر کے پاس رونے لگے ۔کافی دن وہ اسی مکان میں اپنی بہن کی قبر کے پاس رہے پھر اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور انہیں اس عابد کی باتوں پر یقین آگیا ۔
ایک رات جب وہ تینوں بھائی اپنے اپنے بستروں پر آرام کے لئے لیٹے اور ان کی آنکھ لگ گئی تو شیطان ان تینوں کے خواب میں آیا اور سب سے بڑے بھائی سے سوال کیا :” تمہاری بہن کہاں ہے؟” اس نے کہا :”وہ تو مرچکی ہے اور فلاں جگہ اس کی قبر ہے ۔” شیطان نے کہا : ”اس عابد نے تم سے جھوٹ بولاہے ،اس نے تمہاری بہن کے ساتھ زنا کیااور اس سے بچہ پیدا ہوا،پھر اس نے رسوائی کے خوف سے تمہاری بہن اور اس بچے کو مار ڈالا اور ان دونوں کو ایک ساتھ دفن کردیا،اگر تمہیں یقین نہیں آئے تو تم وہ جگہ کھود کر دیکھ لو ۔” اس طرح اس نے تینوں بھائیوں کو خواب میں آکر ان کی بہن کے متعلق بتایا ، جب صبح سب کیآنکھ کھلی تو سب حیران ہوکر ایک دوسرے سے کہنے لگے :” رات تو ہم نے عجیب وغریب خواب دیکھا ہے ۔”پھرسب نے اپنا اپنا خواب بیان کیا ،بڑا بھائی کہنے لگا :”یہ محض ایک جھوٹا خواب ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، لہٰذا اسے ذہن سے نکال دو۔” چھوٹے بھائی نے کہا : ”میں اس کی ضرورتحقیق کرو ں گا اورضرور اس جگہ کو کھود کر دیکھو ں گا ۔”

آنکھ کھلی تو سب حیران ہوکر ایک دوسرے سے کہنے لگے :” رات تو ہم نے عجیب وغریب خواب دیکھا ہے ۔”پھرسب نے اپنا اپنا خواب بیان کیا ،بڑا بھائی کہنے لگا :”یہ محض ایک جھوٹا خواب ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں، لہٰذا اسے ذہن سے نکال دو۔” چھوٹے بھائی نے کہا : ”میں اس کی ضرورتحقیق کرو ں گا اورضرور اس جگہ کو کھود کر دیکھو ں گا ۔”

چنانچہ وہ تینوں بھائی اسی مکان میں پہنچے اور جب اس جگہ کو کھود ا جس کی شیطان نے نشاندہی کی تھی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ان کی بہن اور ایک بچہ ذبح شدہ حالت میں موجود ہیں۔ چنانچہ وہ اس بد بخت عا بد کے پاس پہنچے اور اس سے پوچھا: ” سچ سچ بتا تُو نے ہماری بہن کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ ”عا بد نے جب ان کا غصہ دیکھا تو اپنے گناہ کا اعتراف کرلیا اور سب کچھ بتا دیا۔ چنانچہ وہ تینوں بھائی اسے پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں لے گئے، بادشاہ نے ساری بات سن کر اسے پھانسی کا حکم دے دیا ۔

جب اس بدبخت عابد کو پھانسی دی جانے لگی تو شیطان مردو د اپنا آخری وار کرنے پھر اس کے پاس آیا اور اسے کہا:” میں ہی تیرا وہ ساتھی ہوں جس کے مشوروں پر عمل کر کے تو عورت کے فتنے میں مبتلا ہوا ،پھر تُو نے اسے اور اس کے بچے کوقتل کر دیا، ہاں! اگر آج تُو میری بات مان لے گا تو میں تجھے پھانسی سے رہائی دلوا دو ں گا۔” عا بد نے کہا: ”اب تومجھ سے کیا چاہتا ہے؟ ”شیطان لعین بولا: ”تُواللہ عزوجل کی وحدانیت کا اِنکار کردے اور کافر ہوجا،اگر تُوایسا کریگا تو میں تجھے آزاد کرو ا دوں گا ۔”یہ سن کر کچھ دیر تو عا بد سوچتا رہا لیکن پھر دنیاوی عذاب سے بچنے کی خاطر اُس نے اپنی زبان سے کفر یہ کلمات بکے اور اللہ عزوجل کی وحدانیت کا منکر ہوگیا (والعیاذ باللہ تعالیٰ) ۔جب شیطان ملعون نے اس بدبخت عابد کا ایمان بھی بر باد کروا دیاتو اُسے حالتِ کفر میں پھانسی دے دی گئی اور وہ فوراََاپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے غائب ہوگیا۔”

شیطان کی شیطانیت کے بارے میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے :

کَمَثَلِ الشَّیۡطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنۡسَانِ اکْفُرْ ۚ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿الحشر16﴾

ترجمہ کنزالایمان: شیطان کی کہاوت جب اس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب۔(پ 28، الحشر: 6 1)

(تفسیر القرطبی، سورۃ الحشر، تحت الآیۃ:۱۶، الجزء الثامن عشر،جلد۹،ص۳۰تا۳۲)

(اے ہمار ے پروردگار عزوجل!عورت کے فتنوں اور شیطان کی مکاریوں سے ہما ری حفاظت فر ما، ہمیں دنیوی اور اُخروی ذلت ورسوائی اور عذاب سے محفوظ فرما، ہما ری عصمتو ں اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرما ،اے اللہ عزوجل!ہم تیری ہی عطاسے مسلمان ہیں،تجھے تیرے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا واسطہ! ہمارا خاتمہ بالخیر فرما)

مسلماں ہے عطار ؔتیری عطا سے ہو اِ یمان پر خاتمہ یا الٰہی عزو جل
آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم

شیطان کا جال

حکایت نمبر90: شیطان کا جال

حضرت سیدنا عبد الرحمن بن زیاد بن انعم علیہ رحمۃ اللہ الا کرم فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ حضرت سیدنا موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام محفل میں تشریف فرما تھے کہ ابلیس ملعون آپ علیہ السلام کے پاس آیا ،اس نے اپنے سرپر مختلف رنگوں والی بڑی سی ٹوپی پہن رکھی تھی، ابلیس آپ (علیہ السلام) کے قریب آیا اوررنگین ٹو پی اُتا ر کر آپ علیہ السلام کے سامنے رکھ دی ، پھر کہنے لگا:اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ پر سلامتی ہو۔

حضرت سیدناموسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے اس سے پوچھا :” تُوکون ہے ؟” اس نے کہا: ”میں ابلیس ہوں۔” آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے یہ سن کر فرمایا:” تُو ابلیس ہے، اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی نہ دے بلکہ بر باد کرے، تُو میرے پاس کیوں آیا ہے ؟” اس لعین نے جواب دیا :” اللہ عزوجل کی بارگاہ میں آپ(علیہ السلام) کا مقام بہت بلند وبر تر ہے، آپ (علیہ السلام) اللہ عزوجل کے برگُزِیدہ پیغمبر ہیں، مَیں اسی لئے آپ کی بارگاہ میں سلام عرض کرنے آیا ہوں۔

آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے پوچھا:”یہ مختلف رنگوں والی ٹوپی کیا ہے اور تُو نے یہ کیوں پہن رکھی ہے ؟” ابلیس نے جواب دیا:” یہ میرا جال ہے، میں اس کے ذریعے لوگو ں کے دِلوں کو شکار کرتا ہوں، انہیں اپنے جال میں پھنساتا ہوں اور ان پر حاوی ہوجاتا ہوں۔”یہ سن کر آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام نے استفسار فرمایا: ”کس سبب سے تُو نیک لوگوں پر حاوی ہوجاتا ہے؟” شیطان نے کہا: ” جب انسان (اپنے اعمال پر) مغرورہوجائے،اپنی نیکیوں کو بہت زیادہ شمار کرنے لگے اور گناہوں کوبھول جائے تو میں اس پر غالب آجاتا ہوں اوراسے مضبوطی سے جکڑ لیتا ہوں ۔”اے موسیٰ (علیہ السلام) ! مَیں آپ کو تین باتوں سے خبر دار کرتا ہوں ،(۱)۔۔۔۔۔۔ کبھی بھی کسی ایسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہنا جو اَجنبیہ (یعنی غیر محرم) ہو کیونکہ جب انسان کسی غیر محرم عورت کے ساتھ ہوتا ہے تو ان دونوں کے درمیان تیسرا مَیں ہوتا ہوں اور انہیں گناہ میں مبتلا کر دیتا ہوں۔(۲)۔۔۔۔۔۔ جب کبھی اللہ عزوجل سے کوئی وعدہ کرو تو اسے ضرور پورا کرو،اور اسے پورا کرنے میں جلدی کرو کیونکہ جب بھی کوئی شخص اللہ عزوجل سے وعدہ کرتا ہے تو مَیں اور میرے ساتھی اس کو وعدہ پورا کرنے سے روکتے ہیں ۔(۳)۔۔۔۔۔۔ جب بھی کسی پر صدقہ کرنے کا ارادہ کرو تو فورا ًاس پر عمل کر و کیونکہ جب بھی کوئی شخص ایسا نیک ارادہ کرتاہے تو مَیں اور میرے ساتھی اسے وَرْغلاتے ہیں اور اسے اس نیک عمل سے روکتے ہیں۔اتنا کہنے کے بعد شیطان مردود آپ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃوالسلام کے پاس سے رخصت ہوگیاوہ یہ کہتا جا رہا تھا:”ہائے افسوس! موسیٰ (علیہ السلام) میرے تینوں وَاروں سے واقف ہوگئے ،ان کے ذریعے ہی تو میں لوگو ں کو بہکاتا ہوں، اب موسیٰ (علیہ السلام) تو لوگوں کوان با توں سے آگا ہ کر دیں گے۔”(اللہ عزوجل ہمیں شیطان کے حملوں سے محفوظ فرما ئے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

شہوت پرست بادشاہ اورلالچی عورت پر قہرالٰہی عزوجل

حکایت نمبر 89: شہوت پرست بادشاہ اورلالچی عورت پرقہرالٰہی عزوجل

حضرت سیدنامیسرہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :” بنی اسرائیل میں ایک بہت عبادت گزار لکڑ ہارا تھا ، اس کی بیوی بنی اسرائیل کی عورتوں میں سب سے زیادہ حسین وجمیل تھی، دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے ،جب اس ملک کے بادشاہ کو لکڑ ہارے کی بیوی کے حسن وجمال کی خبر ملی تو اس کے دل میں شیطانی خیال آیا اور اس نے تہیہ کر لیا کہ میں کسی طر ح اس عورت کوضرور حاصل کروں گا، چنانچہ اس ظالم وشہوت پرست بادشاہ نے ایک بڑھیا کو اس لکڑہارے کی بیوی کے پاس بھیجا تاکہ وہ اسے ورغلائے اور لالچ دے کر اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ لکڑہارے کو چھوڑ کر شاہی محل میں ملکہ بن کر زندگی گزارے ۔

چنانچہ وہ مکار بڑھیا لکڑہارے کی بیوی کے پاس گئی اور اس سے کہا:”تُو کتنی عجیب عورت ہے کہ اتنے حسن وجمال کے باوجودایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جو نہایت ہی مفلس اور غریب ہے جو تجھے آسائش و آرام فراہم نہیں کرسکتا، اگر تُو چاہے تو بادشاہ کی ملکہ بن سکتی ہے۔ بادشاہ نے پیغام بھیجا ہے کہ اگر تُو لکڑہارے کو چھوڑ دے گی تو مَیں تجھے اس جھونپڑی سے نکال کر اپنے محل کی زینت بناؤں گا،تجھے ہیرے جو اہرات سے آراستہ وپیراستہ کردو ں گا ، تیرے لئے ریشم اورعمدہ کپڑوں کا لباس ہوگا ، ہر وقت تیری خدمت کے لئے کنیزیں اور خُدّام ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے اور تجھے اعلیٰ درجے کے بستر اور تمام سہولتیں مل جائیں گی بس تُو اس غریب لکڑہارے کو چھوڑ کر میرے پاس چلی آ۔” جب اس عورت نے یہ باتیں سنیں تولالچ میں آگئی اور اس کی نظروں میں بلند و بالا محلات اور اس کی آسائشیں گھومنے لگیں ۔چنانچہ اس نے لکڑہارے سے بے رُخی اِختیار کرلی اور ہر وقت اس سے ناراض رہنے لگی ، جب اس نیک شخص نے محسوس کیا کہ یہ مجھ سے بے رخی اختیار کر رہی ہے تو اس نے پوچھا : ”اے اللہ عزوجل کی بندی !تم نے یہ رویہ کیوں اختیار کرلیا ہے ؟ ”یہ سن کر اس لالچی عورت نے مزید سخت رویہ اختیار کرلیا،بالآخر لکڑہارے نے مجبوراً اس حسین وجمیل بے وفالالچی عورت کو طلاق دے دی ، وہ خوشی خوشی بادشاہ کے پاس پہنچی ۔

بادشاہ اسے دیکھ کر پھولانہ سمایا،اس نے فوراََ اس سے شادی کرلی، بڑی دھوم دھام سے جشن منایا گیا پھر جب بادشاہ اپنی نئی دلہن کے پاس حجرہ عروسی میں پہنچا اور پردہ ہٹایا تویکدم بادشاہ بھی اندھا ہوگیااور وہ عورت بھی اندھی ہوگئی، نہ تو وہ عورت اس بادشاہ کو دیکھ سکی نہ ہی بادشاہ اس لالچی وبے وفا عورت کے حسن وجمال کاجلوہ دیکھ سکا ۔پھر بادشاہ نے اپنی دلہن کی طر ف ہاتھ بڑھایا تا کہ اسے چھوسکے لیکن اس کا ہاتھ خشک ہوگیا پھر اس عورت نے بادشاہ کو چھونا چاہا تو اس کے ہاتھ بھی خشک ہوگئے ، جب انہوں نے ایک دوسرے سے بات کرناچاہی تو دونوں ہی بہرے اور گونگے ہوگئے اور ان کی شہوت بالکل ختم ہوگئی، اب وہ دونوں بہت پریشان ہوئے صبح جب خُدّام حاضرِ خدمت ہوئے، تو دیکھا کہ بادشاہ اور اس کی نئی ملکہ دونوں ہی گونگے ، بہرے اور اندھے ہوچکے ہیں اور ان کے ہاتھ بھی بالکل بے کار ہوچکے ہیں۔جب یہ خبر اس دور کے نبی علیہ السلام کو پہنچی تو انہوں نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں ان دونوں کے بارے میں عرض کی تو بارگاہِ خداوندی عزوجل سے ارشاد ہوا : ”مَیں ہر گز ان دونوں کو معاف نہیں کرو ں گا، کیا انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ جو حرکت انہوں نے لکڑہارے کے ساتھ کی میں اس سے بے خبر ہوں۔”(اے ہمارے اللہ عزوجل ! ہمیں اپنے عذاب سے محفو ظ رکھ اور ہمیں دنیا اور عورت کے فتنے سے محفوظ رکھ ،ہماری خطاؤں کو اپنے فضل وکرم سے معاف فرما، دنیا کی محبت سے بچا کر اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے عشق حقیقی کی دولت سے مالامال فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)؎دل عشقِ محمد میں تڑپتا رہے ہر دم سینے کو مدینہ میرے اللہ عزوجل بنادے (آمین)

قصاب کی توبہ

حکایت نمبر 88: قصاب کی توبہ

حضرت سیدنا بکر بن عبد اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عا شق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن لونڈی کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا ،قصاب کو موقع مل گیا اوروہ بھی اس لونڈی کے پیچھے ہولیا ، جب لونڈی جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔جب اس لونڈی نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:

”اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ !حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُومجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گر فتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے ۔”

اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی لونڈی کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیربن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا: ” جب تُو اللہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پرور دگار عزوجل سے کیوں نہ ڈرو ں، مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا بندہ ہوں ، جا!تو بے خوف ہو کر چلی جا۔” اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی تو بہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔

راستے میں اسے شدید پیاس محسو س ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کو ئی نام ونشان نہ تھا قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شدت سے اس کا دم نکل جاتا، اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک قاصد ملا،جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:”تجھے کیا پریشانی ہے؟”کہا:” مجھے سخت پیاس لگی ہے۔”یہ سن کر قاصدنے کہا: ”آؤ! ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔”قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا: ”میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کرو ں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔”

اس قاصد نے کہا : مَیں دعا کر تا ہوں، تم آمین کہنا، پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا ۔

جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد اپنی منزل کی طر ف جانے لگا، بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجر ہ دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا :” تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں ، اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا ، پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے رہے ،لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ساتھ ہولیا ہے او رتمہارے سر پر سایہ فگن ہے ، سچ سچ بتاؤ! تم نے ایسی کو ن سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟” یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔اس پر اس قاصد نے کہا :” اللہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جومقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں ۔” (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

(اے ہمارے پاک پر وَردْگار عزوجل !ہمیں بھی اپنے گناہوں سے سچی تو بہ کی توفیق عطا فرمایا اور ہمیں اپنا خوف عطا فرما، اپنے خوف سے رونے والی آنکھیں عطا فرما، گناہوں کے مرض سے نجات عطا فرماکر بیمارِ مدینہ بنادے ،دنیا کے غموں سے بچا کر غم آخرت نصیب فرما ، ہر وقت تیرے خوف اور تیرے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکے غم میں رونے والی آنکھیں عطا فرما ۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

؎ ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الٰہی عزوجل!

بہتی رہے ہر وقت جو سرکار کے غم میں روتی ہوئی وہ آنکھ مجھے میرے خدا عزوجل دے 

کب گناہوں سے کنارہ میں کروں گا یارب عزوجل! نیک کب اے میرے اللہ بنوں گا یا رب عزوجل