درس 033: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 033: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَطْلَبٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ

(وَمِنْهَا): الِاسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ لِمَا رُوِيَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَمُعَاوِيَةُ، وَابْنُ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ، حَتَّى قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً، وَطَهُورًا

استنجا کا بیان:

پانی سے استنجا کرنا( بھی) سنت ہے، اس لئے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت سے مروی ہے جن میں حضرت علی، حضرت معاویہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم شامل ہیں، یہ سب ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کرتے تھے، حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے ایسا کیا اور اس طریقہ کو دوا اور طہارت کا ذریعہ پایا۔

وَعَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ النَّاسَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بالماءِ بَعْد الإستنجاءِ بِالْأَحْجَارِ، وَيَقُولُ: إنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ يَبْعَرُ بَعْرًا، وَأَنْتُمْ تَثْلِطُونَ ثَلْطًا فَأَتْبِعُوا الْحِجَارَةَ الْمَاءَوَهُوَ كَانَ مِنْ الْآدَابِ فِي عَصْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اور حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ لوگوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کریں اور فرماتے تم سے پہلے کے لوگ مینگنیوں کی طرح (سخت) فضلہ خارج کرتے تھےاور تم لوگ پتلا فضلہ خارج کرتے ہو، تو ڈھیلوں کے بعد پانی سے استنجا کیا کرو۔

اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں یہ طریقہ آداب میں سے شمارہوتا تھا۔

وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَغَسَلَ مَقْعَدَهُ بِالْمَاءِ ثَلَاثًا»، وَلَمَّا نَزَلَ قَوْله تَعَالَى {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] فِي أَهْلِ قِبَا سَأَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَأْنِهِمْ، فَقَالُوا: إنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اوراپنے مقعد شریف (بیٹھنے کی جگہ) کا پانی سے تین بار استنجافرمایا۔

پھر جب اہلِ قبا کے حق یہ آیت نازل ہوئی: "اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے” (التوبہ، 108) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا، تو انہوں نے کہا: ہم ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔

ثُمَّ صَارَ بَعْدَ عَصْرِهِ مِنْ السُّنَنِ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ كَالتَّرَاوِيحِ

پھررسول اللہ ﷺ کے بعد پانی سے استنجا کرنا صحابہ کرام کے اجماع کے سبب سنت قرار پایا، جیسے نمازِتروایح کی جماعت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*پانی سے استنجا*

جیسا کہ ہم نے پچھلے دروس میں ذکر کیا کہ نجاست سے پاکیزگی حاصل کرنا اصل مقصد ہے، جس کا سب سے بہترین ذریعہ پانی ہے۔۔لیکن نجاست تھوڑی لگی ہو تو اس کے لئے ڈھیلے کو بھی روا رکھا گیا ہے تاکہ نجاست کو پونچھ کر طہارت حاصل کی جاسکے۔

*استنجا ڈھیلے سے یا پانی سے۔۔؟*

نبی کریمﷺسے دونوں طریقے ثابت ہیں، آپ نے ڈھیلوں سے بھی استنجا فرمایا ہے اور پانی سے بھی استنجا فرمایا ہے۔

مسند امام احمد، ترمذی، نسائی وغیرہم میں حدیث موجود ہے کہ حضرت عائشہ نے عورتوں کو فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضاء حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھولیا کریں کیونکہ نبی کریمﷺ بھی یونہی کرتے تھے۔

ابوداؤد اور ابن ماجہ کی حدیث ہے فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے لئے پانی لیکر کھڑے ہوگئے، بعد فراغت حضور ﷺ نے فرمایا: عمر یہ کس لئے؟ عرض کیا: تاکہ آپ اس سے طہارت حاصل کرسکیں، ارشادفرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو پانی سے طہارت حاصل کروں۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طرزِعمل بھی مختلف تھا۔

*بعض صحابہ کرام ڈھیلے اور پانی دونوں کا استعمال فرماتے جیسے اہلِ قبا کے لوگ۔۔ علامہ عینی نے لکھا ہے کہ انصار صحابہ کرام ڈھیلوں اور پانی دونوں کا استعمال کیا کرتے تھے اور انہی کے حق میں سورہ توبہ کی آیت 108 نازل ہوئی۔

*بعض صرف ڈھیلوں کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عمر فاروق۔

*بعض صرف پانی کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عائشہ۔

رضی اللہ عنہم اجمعین۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ استنجا کے تین درجات ہیں:

*پہلادرجہ:* پہلے ڈھیلے سے استنجا کیا جائے پھر پانی سے استنجا کیا جائے، یعنی ڈھیلے اور پانی دونوں کوجمع کرلیا جائے، یہ طریقہ مسجدِ قبا کے نمازی صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ تھا جس کی اللہ تبارک و تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے حق میں آیت نازل فرمائی جو اوپر مذکور ہے۔ لہذا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح)

*دوسرا درجہ:* اس کے بعد پانی سے استنجا افضل ہے، اسلئے کہ اس سے بہت اچھے انداز پر طہارت حاصل ہوجاتی ہے۔ (الاختیارلتعلیل المختار)

*تیسرا درجہ:* سب سے آخری درجہ ڈھیلوں کا ہے، یہ رسول اللہ ﷺ سے منقول اور بہت سے صحابہ کرام کا اسی پر عمل تھا۔

*پانی سے استنجا سنت میں شامل ہے یا آداب میں۔۔؟*

مطالعہ کے دوران فقہاء کرام کی مختلف رائے میرے سامنے آئیں، بعض فقہاء نے ڈھیلے کو دائمی سنت (راتبہ) شمار کیا اور پانی کو ادب اور فضیلت والی چیز قراردیا ہے جیسے علامہ سرخسی نے المبسوط میں لکھا ہے۔

بعض نے مزید اضافہ کیا کہ صحابہ کرام کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا سنت شمار کیا جاتا اور پانی آداب میں شمار کیا جاتا لیکن ہمارے زمانے میں پانی سے استنجا کرنا ہی سنت ہے، اسی کی طرف امام حسن بصری نے اشارہ کرتے ہوئے عقلی توجیہ بھی بیان کی کہ صحابہ کرام کے زمانے میں لوگوں کا فضلہ مینگنیوں کی طرح سخت ہوتا تھا لہذا انہیں پانی کی اتنی حاجت نہیں ہوتی اور کوئی کرلے تو آداب کا حصہ شمار ہوتی لیکن تم لوگوں کا فضلہ (غذا کی وجہ سے) پتلا ہوتا ہے لہذا پانی استعمال کرنا ہی سنت ہے۔۔ علامہ کاسانی نے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کلام فرمایا ہے۔

لیکن صحیح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ پانی سے استنجا ہر زمانے میں سنت رہا ہے کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں۔ (رد المحتاروغیرہ)

نفسِ سنت پانی یا ڈھیلے کسی سے بھی ادا ہوجائے گی۔ (فتاوی رضویہ)

ہاں فضیلت کے درجات ہم نے دلائل کے ساتھ اوپر ذکر کردئے ہیں۔

علامہ کاسانی نے ایک اور عمدہ توضیح پیش کردی اور پانی کو آداب میں شمار کرنے والوں کو جواب بھی دے دیا کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا رائج تھا اور پانی سے استنجا آداب سے شمار ہوتا تھا مگر بعد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان پانی کے ساتھ استنجا پر عمل پیرا ہوگئے تو ان کے اجماع کے سبب اسے بھی سنت کا درجہ حاصل ہوگیا، جیسے تراویح کی جماعت کا مسئلہ تھا۔

*ابو محمد عارفین القادری*

کیا مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟

کیا مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟

أگر محراب کی طرف میت رکھنے کے لیے متصل کمرہ بنادیا جائے تو کیا پھر نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا جائز ہو جائے گی؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

سب سے پہلے ہم إس مسئلہ میں جو محل اتفاق و اختلاف ہے وہ واضح کرتے ہیں ، پھر مذاہب فقہیہ مع الترجیح أور آخر میں ساری تحریر کا خلاصہ.

محل اتفاق:

تمام مذاہب فقہیہ کا اتفاق ہے کہ أگر عذر ہو جیسے بارش وغیرہ جب جنازہ گاہ کی چھت نہ ہو ، یا رستے کے خوف کی وجہ سے جیسے بعض علاقوں میں جنازہ گاہ دور ہوتا ہے تو رات کو وہاں جنازہ کروانا کافی مشکل ہوتا ہے ، أور إسی طرح أگر مسجد کے علاوہ کوئی أور جگہ بھی نہ ہو جنازہ کی جیسے ڈیفنس إیریاز وغیرہ میں ہوتا ہے تو إن حالات میں نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا بالاتفاق جائز ہے.

أور أگر تلویث مسجد کا خوف ہو جیسے میت سے کوئی خون یا پیپ وغیرہ نکل رہی ہو جس سے مسجد میں نجاست گرنے کا خوف ہو تو تمام مذاہب فقہیۃ کا اتفاق ہے کہ أیسی صورت میں مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا ممنوع ہے کیونکہ مسجد کو نجاست سے پاک رکھنا فرض ہے ، أور بغیر عذر کے فرض کا تارک گنہگار ہوتا ہے .

محل اختلاف :

بغیر عذر کے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب فقہیہ کے ہاں اختلاف ہے ،

أور إس مسئلہ میں فقہائے کرام کے دو مذہب ہے:

پہلا مذہب :

مذہب حنفی و مالکی کے معتمد قول کے مطابق مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے.

إمام محمد الجامع الصغیر میں نقل کرتے ہیں :

” وتکرہ الصلاة على الجنازة في المسجد "

ترجمہ: مسجد میں میت پر ( نماز ) جنازہ پڑھنی مکروہ ہے.

( الجامع الصغیر لإمام محمد مع شرحہ النافع الکبیر لعبد الحی اللکھنوی ، کتاب الکراہیۃ ، ص : 582 )

لیکن مذہب حنفی میں اختلاف ہے کہ جو إمام محمد رحمہ اللہ نے لفظ کراہت استعمال کیا ہے ، أس سے مراد کراہت تحریمی ہے یا کراہت تنزیہی؟

إس میں مذہب حنفی کے تین مسالک ہوئے:

مسلک کراہت تحریمی:

بعض نے کراہت تحریمی کو ترجیح دی جیسے ابن قطلوبغا الحنفی وغیرہ أور انہوں نے إیک مکمل رسالہ لکھا ہے إسی ثبوت کے لیے کہ إمام محمد کے إس کلام میں کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہے جیسے کہ آپ نے فرمایا:

” قلت: الأظهر قول شرف الأئمة المكي : أنها كراهة تحريم كما سمعت من قول محمد "

ترجمہ :

میں کہتا ہوں : شرف الأئمہ مکی کا قول زیادہ ظاہر کے مطابق ہے کہ وہ ( مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا) مکروہ تحریمی ہے جیسے کہ مینے إمام محمد کے قول سے سنا ہے.

( رسالة دخول الجنازة في المسجد مع رسائل ابن قطلوبغا، ص : 233 )

مسلک کراہت تنزیہی:

بعض أحناف نے کراہت تنزیہی کہا :

ابن عابدین فرماتے ہیں :

” فینبغی الإفتاء بالقول بكراهة التنزيه الذي هو خلاف الأولى كما اختاره المحقق ابن الهمام ، وإذا كان ما ذكرناه عذرا فلا كراهة أصلاً "

ترجمہ:

کراہت تنزیہ والے قول کے ساتھ فتوی دینا چاہیے جیسے کہ محقق ابن ہمام نے بھی اسکو اختیار کیا ہے ، أور جیسے ہم نے ذکر کیا تھا کہ أگر عذر ہو تو پھر أصلا کوئی کراہت نہیں ( بغیر کسی کراہت کے مسجد میں نماز جنازہ جائز ہو گا)

( حاشیة ابن عابدين ، مطلب في كراهة صلاة الجنازة في المسجد ، 2/227 )

مسلک الجمع بین المسلکین :

بعض أحناف نے دونوں قول میں تطبیق کی ہے کہ أگر تلویث مسجد کا خوف ہو تو کراہت تحریمی ہوگی أور أگر صرف جنازہ کی وجہ سے مسجد میں دیگر أذکار کرنا ممکن نہ ہو جیسے نماز وغیرہ پڑھنا تو پھر کراہت تنزیہی ہوگی.

( مراقی الفلاح شرح نور الإیضاح للشرنبلالی مع حاشیۃ الطحطاوی ، ص : 296 )

دوسرا اختلاف مذہب حنفی میں یہ ہے کہ میت مسجد کے اندر یا باہر مطلقا ہو یا پھر صرف أگر میت مسجد کے اندر ہو تو مکروہ أور باہر ہو تو غیر مکروہ:

إمام سرخسی فرماتے ہیں :

أگر میت مسجد سے باہر رکھی جائے أور نماز مسجد کے اندر پڑھی جائے تو یہ ہمارے نزدیک مکروہ نہیں ہے.

( المبسوط للسرخسی ، باب غسل المیت ، 2/68 )

لیکن صاحب ہدایہ نے إمام سرخسی کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے فرمایا:

” إذا كان الميت خارج المسجد اختلاف المشايخ "

ترجمہ:

أگر میت مسجد سے باہر ہو تو مشایخ کا اختلاف ہے ( کہ مکروہ ہوگی یا نہیں )

( الہدایہ مع البنایہ ، صلاۃ الجنازۃ فی المسجد ، 3/231 )

إمام مالک فرماتے ہیں:

"أکرہ أن توضع الجنازۃ فی المسجد ، فإن وضعت قرب المسجد للصلاة عليها فلا بأس أن يصلي من المسجد عليها بصلاة الإمام الذي يصلي عليها إذا ضاق خارج المسجد بأهله”

ترجمہ:

میں نا پسند کرتا ہوں( مکروہ ہے) کہ جنازہ مسجد میں رکھا جائے ، پس أگر مسجد کے قریب ( باہر والی سائڈ) میں رکھا جائے تو کوئی حرج نہیں کہ مسجد میں وہ نماز جنازہ پڑھے إمام کی اقتدی میں جو أس ( میت) کا جنازہ پڑھا رہا ہے جب مسجد کے باہر والی جگہ نمازیوں سے تنگ ہوجائے.

( المدونة للإمام مالك ، الصلاة على الجنازة في المسجد ، 1/254 )

دوسرا مذہب:

مذہب شافعی و حنبلی کے مطابق مسجد میں نماز جنازہ پڑھ جائز ہے بغیر کسی کراہت کے،

لیکن جائز کہنے والوں کا اختلاف ہے کہ کیا مسجد میں پڑھنا أفضل ہے یا مسجد سے باہر پڑھنا؟

مذہب شافعی کے مطابق مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا أفضل ہے ، أور مذہب حنبلی میں دو روایتیں ہیں :

إیک روایت کے مطابق مسجد میں پڑھنا أفضل ہے ، أور دوسری روایت کے مطابق باہر پڑھنا أفضل ہے أور إسی کو بعض حنابلہ نے ترجیح دی ہے.

ابن حجر الہیتمی الشافعی فرماتے ہیں:

” إن خيف تلويث المسجد حرم "

ترجمہ: أگر تلویث مسجد (پیپ وغیرہ گرنے) کا خوف ہو تو ( مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا) حرام ہے .

( تحفة المحتاج في شرح المنهاج مع الحواشي ، فصل فی الدفن وما یتبعه ، 3/198 )

إمام نووی الشافعی فرماتے ہیں:

"الصلاة على الميت في المسجد صحيحة جائزة لا كراهة فيها بل هي مستحبة صرح باستحبابها في المسجد الشيخ أبو حامد الاسفراييني شيخ الأصحاب والبندنيجي وصاحب الحاوي والجرجاني وآخرون هذا مذهبنا”

ترجمہ:

مسجد میں میت پر نماز پڑھنا بغر کسی کراہت کے جائز ہے بلکہ مستحب ہے استحباب ہونے کی تصریح شیخ أبو حامد الإسفرایینی جو أصحاب ( مذہب شافعی) کے شیخ ہیں نے کی ہے أور بندنیجی و صاحب الحاوی وجرجانی أور دیگر أصحاب نے یہی ہمارا مذہب ہے.

( المجموع شرح المہذب للنووی ، باب الصلاۃ علی المیت ، 5/213 )

إمام ابن قدامہ الحنبلی فرماتے ہیں:

” لا بأس بالصلاة على الميت في المسجد إذا لم يخف تلويثه "

ترجمہ:

مسجد میں میت نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تلویث مسجد کا خوف نہ ہو.

(مغنی لابن قدامہ ، فصل الصلاۃ علی المیت ، 2/368 )

أسامہ علی محمد سلیمان فرماتے ہیں:

” والأفضل أن يصلي عليه في مصلى الجنائز "

ترجمہ:

أفضل یہ ہے کہ میت پر نماز جنازہ جنازہ گاہ میں أدا کی جائے.

( التعلیق علی العدۃ شرح العمدۃ فی الفقہ الحنبلی لأسامہ علی محمد سلیمان ، الصلاۃ علی الجنازۃ فی المسجد ، 25/15 )

خلاصۂ کلام :

مذہب حنفی کی ظاہر الروایہ کے مطابق أگر جنازہ مسجد کے اندر ہو یا باہر مکروہ ہے مطلقاً لیکن اب اختلاف ہے کہ اس مکروہ سے مراد کیا ہے تنزیہی یا تحریمی ؟

ابن عابدین فرماتے ہیں فتوی تنزیہی کا دینا چاہیے یعنی مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا خلاف أولی عمل ہے.

فقیر کے نزدیک راجح یہی ہے کہ چاہے میت مسجد میں ہو یا باہر نماز جنازہ مکروہ تحریمی ہوگا أور یہی زیادہ ظاہر روایہ کے موافق ہے أور خروج عن الخلاف مستحب ہے فقہائے کرام کے ہاں.

کیونکہ ابن عابدین نے جو کراہت تنزیہی پر دلیل دی کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے پر کوئی وعید نہیں ہے کیونکہ أجر کی نفی سے عقاب لازم نہیں آتا.

بندہ فقیر عرض کرتا ہے کہ ابن عابدین کا قول غیر مسلم ہے کیونکہ جب أجر کی نفی کردی گئی ہے تو وعید ہی ہے کہ جس نماز پر ثواب ملنا تھا مسجد میں پڑھنے کی وجہ سے ثواب کی نفی کردی لہذا یہ بھی وعید کی أقسام میں سے ہے.

جو سؤال سائل کا ہے کہ محراب کی جانب مسجد میں متصل کمرہ بنادیا جائے تو میت أس میں رکھ دی جائے أور مسجد میں نماز جنازہ پڑھ لی جائے تو اس صورت میں بھی کراہت تحریمی ہوگی،

ہاں أگر کوئی عذر ہے تو بغیر کسی کراہت کے جائز ہے.

واللہ أعلم.

درس 032: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 032: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(وَأَمَّا) بَيَانُ مَا يُسْتَنْجَى مِنْهُ

فَالِاسْتِنْجَاءُ مَسْنُونٌ مِنْ كُلِّ نَجَسٍ يَخْرُجُ مِنْ السَّبِيلَيْنِ لَهُ عَيْنٌ مَرْئِيَّةٌ كَالْغَائِطِ، وَالْبَوْلِ، وَالْمَنِيِّ، وَالْوَدْيِ، وَالْمَذْيِ، وَالدَّمِ

ان وجوہات کا بیان جن کے سبب استنجاکرنا سنت ہے۔

استنجا سنت ہے، ہر اس نجاست کے بعد جو سبیلین (اگلے یا پچھلے مقام) سے خارج ہو، جسم رکھتی ہو اور جسے دیکھا جاسکتا ہو، جیسے پاخانہ، پیشاب، منی، ودی، مذی اور خون۔

لِأَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ لِلتَّطْهِيرِ بِتَقْلِيلِ النَّجَاسَةِ

اس لئے کہ استنجاکا مقصد نجاست کو کم کرکے طہارت حاصل کرناہے۔

وَإِذَا كَانَ النَّجِسُ الْخَارِجُ مِنْ السَّبِيلَيْنِ عَيْنًا مَرْئِيَّةً تَقَعُ الْحَاجَةُ إلَى التَّطْهِيرِ بِالتَّقْلِيلِ

اور جب نجاست سبیلین میں سے کسی ایک مقام سے خارج ہو، جسم رکھتی ہو اور دیکھی جاسکتی ہو تو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے کم کرکے طہارت حاصل کی جائے۔

وَلَا اسْتِنْجَاءَ فِي الرِّيحِ؛ لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِعَيْنٍ مَرْئِيَّةٍ.

اور ریح خارج ہونے کی وجہ سے استنجا نہیں کیا جاتا، اس لئے کہ ریح نہ ہی جسم رکھتی ہے اور نہ ہی اسے دیکھا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

معلوم ہوا استنجا مخصوص حالات میں سنت ہے۔ علامہ کاسانی نے ان کی شرائط اس طرح بیان کی ہیں:

1- نجاست ہو۔

2- سبیلین یعنی اگلے یا پچھلے مقام سے خارج ہو۔

3- جسم والی ہو۔

4- دیکھی جاسکتی ہو۔

*لہذا جب تک نجاست نہیں نکلے استنجا لازم نہیں ہے، کیونکہ استنجا نجاست سے طہارت حاصل کرنے کے لئے مشروع ہوا ہے۔

*نجاست تو نکلی مگر سبیلین سے نہیں بلکہ کسی اور مقام سے، مثلا ہاتھ یا پیر سے خون نکل آیا تو یہاں استنجا سنت نہیں ہے۔

* استنجا اسی وقت سنت ہے جب سبیلین سے نکلنے والی نجاست کاجسم (Physical Body) ہو اوراسے دیکھا جاسکتا ہو، مثلا پاخانہ، پیشاب وغیرہ۔۔

اگر جسم نہیں ہے یا اوراسے دیکھا بھی نہیں جاسکتا تو اس کے نکلنے پر استنجا سنت نہیں ہے۔

ہم نے پچھلے دروس میں علامہ شامی کے حوالے سے بیان کیا تھا کہ ریح کے بعد استنجا *بدعت* ہے۔

علامہ کاسانی نےنجاست کی مثال میں چھ چیزیں بیان کی ہیں، غائط، بول، منی، مذی، ودی، دم۔۔

ان کی تعریف وضو توڑنے والی چیزوں کے تحت بیان کی جائیں گی۔

اسکے بعد علامہ کاسانی نے سنتِ مسواک کا ذکر کیا ہے اور آگے پانی سے استنجا کو الگ سنت شمار کرکے مسائل ذکر کئے مگر ہم اگلے درس میں ان مسائل کو ذکر کرکے استنجا کے تمام مسائل کو سمیٹ کر اگلی سنت کا بیان شروع کریں گے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَجْمِرُ بِيَسَارِهِ، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ، وَلِأَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ.

اوراستنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہئے، اس لئے کہ روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدھے ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے اور بائیں ہاتھ سے استنجا فرمایا کرتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ دائیں ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے تھے اور بائیں ہاتھ سے استنجا کیا کرتے تھے۔اور اسلئے بھی کہ بایاں ہاتھ گندگی کے لئے ہے۔

وَهَذَا إذَا كَانَتْ النَّجَاسَةُ الَّتِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَدْرَ الدِّرْهَمِ، أَوْ أَقَلَّ مِنْهُ

استنجاکا حکم اس وقت تک ہے جب تک نجاست *مَخْرَج* پر *درہم* کے برابر یا اس سے کم ہو۔

فَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَمْ يُذْكَرْ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَزُولُ إلَّا بِالْغَسْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، لِأَنَّ الشَّرْعَ وَرَدَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ مُطْلَقًا مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ

اور اگر *مَخْرَج* پر درہم سے زائد نجاست لگی ہے تو *ظاہر الروایۃ* میں اس حوالے سے حکم مذکور نہیں ہے، لہذا علماء احناف میں اس سلسلے میں اختلاف واقع ہوا، بعض علماء فرماتے ہیں: مخرج پر لگی نجاست درہم سے زائد ہو تو پانی سے دھونا ضروری ہے، اور بعض علماء فرماتے ہیں: ڈھیلوں کے ذریعے بھی نجاست دور کی جاسکتی ہے، اور اسی دوسرے قول کو فقیہ ابو اللیث سمرقندی نے اختیار کیا ہےاور یہی قول صحیح ہے، اس لئے کہ شریعتِ مطہرہ میں ڈھیلوں سے استنجا کا حکم بغیر کسی امتیاز کے مطلق (Without Condition) بیان ہوا ہے۔

وَهَذَا كُلُّهُ إذَا لَمْ يَتَعَدَّ النَّجَسُ الْمَخْرَجَ

یہ تمام احکام اس وقت ہیں جب نجاست *مَخْرَج* کے اردگرد نہ پھیلے۔

فَإِنْ تَعَدَّاهُ يُنْظَرُ إنْ كَانَ الْمُتَعَدِّي أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ يَجِبُ غَسْلُهُ بِالْإِجْمَاعِ

اگر نجاست مَخْرَجَ کے ارد گرد پھیل جائے، تو دیکھا جائے گا، اگر وہ درہم کی مقدار سے زیادہ ہے تو بالاجماع (یعنی تمام علماء کا متفق ہونا) اس جگہ کا پانی سے دھونا واجب ہے۔

وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَا يَجِبُ غَسْلُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَأَبِي يُوسُفَ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يَجِبُ.

اگر نجاست درہم کی مقدار سے کم ہے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اس کا دھونا واجب ہے۔

وَذَكَرَ الْقُدُورِيُّ فِي شَرْحِهِ مُخْتَصَرَ الْكَرْخِيِّ أَنَّ النَّجَاسَةَ إذَا تَجَاوَزَتْ مَخْرَجَهَا وَجَبَ غَسْلُهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ خِلَافَ أَصْحَابِنَا

امام قدوری نے مختصر الکرخی کی شرح کرتے ہوئےذکر کیا ہے کہ نجاست اگر مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب ہے ، انہوں نے ہمارے ائمہ کے مذکورہ اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔

لِمُحَمَّدٍ أَنَّ الْكَثِيرَ مِنْ النَّجَاسَةِ لَيْسَ بِعَفْوٍ، وَهَذَا كَثِيرٌ

امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ *کثیر نجاست* معاف نہیں ہوتی، اور مخرج کے ارد گرد پھیلنے والی نجاست (مخرج کو ملاکر) کثیر شمار ہوگی۔

وَلَهُمَا أَنَّ الْقَدْرَ الَّذِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَلِيلٌ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ كَثِيرًا بِضَمِّ الْمُتَعَدِّي إلَيْهِ

اور شیخین یعنی امام اعظم اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ *مخرج* پر لگنے والی نجاست قلیل ہوتی ہے، اور یہ کثیر اس وقت شمار ہوگی جب اسے ارد گرد پھیلنے والی نجاست سے ملاکر شمار کیا جائے۔

وَهُمَا نَجَاسَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِي الْحُكْمِ، فَلَا يَجْتَمِعَانِ

اور *مخرج پر لگنے والی نجاست* اور *ارد گرد پھیلنے والی نجاست* حکم کے سلسلے میں مختلف ہیں، تو انہیں جمع نہیں کیا جائے گا۔

أَلَا يُرَى أَنَّ إحْدَاهُمَا تَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَالْأُخْرَى لَا تَزُولُ إلَّا بِالْمَاءِ، وَإِذَا اخْتَلَفَتَا فِي الْحُكْمِ يُعْطَى لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُكْمُ نَفْسِهَا، وَهِيَ فِي نَفْسِهَا قَلِيلَةٌ فَكَانَتْ عَفْوًا.

کیا دیکھا نہیں کہ ایک نجاست تو ڈھیلوں کے استعمال سے زائل ہوجاتی ہے جبکہ دوسری نجاست سوائے پانی کے کسی سے زائل نہیں ہوتی، اور جب یہ دونوں حکم میں مختلف ہیں تو دونوں کے موجود ہونے کے وقت ان کے لئے الگ الگ حکم نافذ ہوگا۔ اور ارد گرد پھیلنے والی نجاست چونکہ قلیل ہے اسلئے قابلِ عفو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*استنجا بائیں ہاتھ سے کیا جائے*

استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا سنت ہے، دائیں ہاتھ سے کرنا ممنوع اور گناہ ہے ۔(فتاوی رضویہ04) اسی طرح دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنا بھی مکروہ ہے۔

متعدد کتبِ حدیث میں بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے ممانعت آئی ہے۔ علامہ کاسانی نے جو حدیث شریف ذکر کی ہے وہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں مروی ہے۔

علامہ کاسانی نے بائیں ہاتھ سے استنجا کی ممانعت پر دو دلیلیں دی ہیں:

ایک تویہی کہ حدیث شریف میں ممانعت ہے۔

دوسری یہ کہ بایاں ہاتھ کا استعمال عموما گندگی کے لئے ہوتا ہے۔ "أَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ”

یہ بات مزاجِ شریعت سے معلوم ہوئی کہ گندگی، برائی یا کم بھلائی کے کاموں کو بائیں جانب شمار کیا جاتا ہے، اسی لئے بائیں ہاتھ سے کھانا مکروہ ہے، ناک پونچھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے، ناپسندیدہ خواب دیکھے تو بائیں جانب تھتکارنے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے، قرآن مجید نے جہنمیوں کو اصحاب الشمال یعنی بائیں طرف کے لوگ فرمایا۔۔ وغیرہ وغیرہ

یاد رکھیں یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر جگہ ہر کام کا واضح حکم ملے، کچھ چیزیں مزاجِ شریعت سے سمجھی جاتی ہیں جس طرح گندگی کے کاموں کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال رکھا ہے اسی طرح اچھے اور پاکیزہ کاموں کے لئے دائیں ہاتھ کا استعمال مطلوب اور محبوب ہوتا ہے۔ اور ان تمام چیزوں کے روحانی اثرات آپ کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

*استنجا۔۔اور۔۔ نجاست کی جگہ کے احکام*

یہ بحث ذرا سمجھئے گا۔۔

انسان کے اگلے یا پچھلے مقام سے نجاست خارج ہوتی ہے۔ جس جگہ سے نجاست خارج ہوتی ہے اسے *مَخْرَج* کہتے ہیں۔ لہذا مخرَج دو (2) ہیں:

1- مخرَج البول: پیشاب خارج ہونے کی جگہ۔

2- مخرج الغائط: پاخانہ خارج ہونے کی جگہ، اسے حَلْقَةُ الدُّبُر بھی کہتے ہیں۔

*مخرج البول:* پیشاب خارج ہونے کی جگہ مرد کی تنگ اور عورت کی کشادہ ہوتی ہےاسلئے عورت کے مسئلہ میں پیشاب کا درہم سے زیادہ جگہ تک پھیل جانا ممکن ہے، لہذا اگر مخرج کے علاوہ پیشاب اتنا پھیل جائے کہ درہم سے زیادہ جگہ گھیر لے تو اس جگہ کا پانی سے دھونا فرض ہے۔

*مخرج الغائط:* پاخانہ خارج ہونے کی جگہ پر نجاست کم لگی ہو یا زیادہ لگی ہو تو ڈھیلے سے استنجا کافی ہے لیکن مخرج کے علاوہ ارد گرد جگہ پر بھی نجاست پھیل گئی تو دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: اگر مخرج کے اردگرد نجاست درہم سے کم پھیلی ہے تو پانی سے دھونا فرض نہیں ہے کیونکہ *مخرج* کا الگ حکم ہے اور *حولِ مخرج* یعنی ارد گرد پھیلنے والی نجاست الگ حکم رکھتی ہے۔ لہذا قلیل ہونے کی وجہ سے دونوں کا دھونا فرض نہیں ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی ہے۔

دوسری صورت: اگر اردگرد نجاست درہم سے زیادہ پھیلی ہے تو بالاتفاق دھونا فرض ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے جو اختلاف ذکر کیا ہے اس میں مفتی بہ قول شیخین کا ہے، یعنی امام اعظم اور امام ابویوسف کے قول پر عمل کیا جاتا ہے۔ دیگر کتبِ فقہ سمیت فتاوی رضویہ اور بہارِ شریعت میں اسی قول پر فتوی دیا گیا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالْمُعْتَبَرُ فِي إقَامَةِ هَذِهِ السُّنَّةِ عِنْدَنَا هُوَ الْإِنْقَاءُ دُونَ الْعَدَدِ، فَإِنْ حَصَلَ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ كَفَاهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْصُلْ بِالثَّلَاثِ زَادَ عَلَيْهِ

اور ہم احناف کے نزدیک اس سنت پر عمل کرنے کے لئے صفائی کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ ڈھیلوں کی تعداد کا۔۔ تو اگر ایک ہی ڈھیلے سے صفائی ہوگئی تو کافی ہے اور اگر تین ڈھیلوں سے بھی صفائی نہ ہوسکے تو زیادہ ڈھیلے لینا ہوں گے۔

وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ الْعَدَدُ مَعَ الْإِنْقَاءِ شَرْطٌ، حَتَّى لَوْ حَصَلَ الْإِنْقَاءُ بِمَا دُونِ الثَّلَاثِ كَمَّلَ الثَّلَاثَ، وَلَوْ تَرَكَ لَمْ يُجْزِهِ.

اور امام شافعی کے نزدیک صفائی تو شرط ہے مگر اس کے ساتھ ڈھیلوں کی تعداد بھی شرط ہے، لہذا اگر تین سے کم ڈھیلوں میں صفائی ہوگئی پھر بھی تین کا عدد پورا کرنا ضروری ہوگا، اگر عدد پورا نہ کیا تو استنجاء کی سنت پوری نہیں ہوگی۔

وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِمَا رَوَيْنَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ» أَمْرٌ بِالْإِيتَارِ، وَمُطْلَقُ الْأَمْرِ لِلْوُجُوبِ.

امام شافعی کی دلیل وہ روایت ہے جو ہم (درس نمبر 26 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جو ڈھیلے سے استنجاء کرے اسے چاہئے کہ وہ طاق عدد (Odd Number) میں استعمال کرے۔ اس حدیث میں طاق عدد استعمال کرنے کا حکم ہے، اور مطلق (یعنی بغیر کسی کنڈیشن کے) حکم واجب کو ثابت کرتا ہے۔

(وَلَنَا) مَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَحْجَارَ الِاسْتِنْجَاءِ فَأَتَاهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَرَمَى الرَّوْثَةَ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ حَجَرًا ثَالِثًا،وَلَوْ كَانَ الْعَدَدُ فِيهِ شَرْطًا لَسَأَلَهُ إذْ لَا يُظَنُّ بِهِ تَرْكُ الْوَاجِبِ

اور ہماری دلیل عبد اللہ بن مسعود کی وہ حدیث ہے جسے ہم (درس نمبر 28 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عبد اللہ بن مسعود سے استنجاء کے ڈھیلے طلب فرمائے تو آپ دو ڈھیلے اور ایک لید کا ٹکڑا لے آئے، تو حضور ﷺ نے لید کا ٹکڑا پھینک دیا اور تیسرا پتھر طلب نہیں فرمایا۔

اگر استنجاء میں تعداد کا لحاظ رکھنا شرط ہوتا تو حضور ﷺ ان سے تیسرا ڈھیلا ضرور طلب فرماتے، اور حضور ﷺ سے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آپ واجب کو ترک کریں۔

وَلِأَنَّ الْغَرَضَ مِنْهُ هُوَ التَّطْهِيرُ وَقَدْ حَصَلَ بِالْوَاحِدِ، وَلَا يَجُوزُ تَنْجِيسُ الطَّاهِرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةِ.

نیز ڈھیلے کے استعمال کا اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے اور جب مقصد ایک ہی ڈھیلے سے حاصل ہوجائے تو بلاضرورت پاک شے کو ناپاک کرنا جائز نہیں ہے۔

(وَأَمَّا) الْحَدِيثُ فَحُجَّةٌ عَلَيْهِ

اور امام شافعی کی پیش کردہ حدیث انہیں کے خلاف حجت ہے۔

لِأَنَّ أَقَلَّ الْإِيتَارِ مَرَّةً وَاحِدَةً، عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِيتَارِ لَيْسَ لِعَيْنِهِ بَلْ لِحُصُولِ الطَّهَارَةِ فَإِذَا حَصَلَتْ بِمَا دُونَ الثَّلَاثِ فَقَدْ حَصَلَ الْمَقْصُودُ فَيَنْتَهِي حُكْمُ الْأَمْرِوَكَذَا اسْتَنْجَى بِحَجَرٍ وَاحِدٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ؛ لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فِي تَحْصِيلِ مَعْنَى الطَّهَارَةِ.

اسلئے کہ طاق عدد کم سے کم ایک ہوتا ہے اور حدیث میں طاق عدد کا حکم طہارت حاصل کرنے کے لئے ہے نہ کہ طاق کی گنتی پوری کرنے کے لئے، لہذا اگر تین سے کم میں بھی طہارت حاصل ہوگئی تو مقصود حاصل ہوگیا اور حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل بھی ہوگئی۔

اسی طرح اگرکسی نے ایک ایسے ڈھیلے سے استنجاء کیا جس کے تین کنارے (Three Sides) تھےتو طہارت حاصل ہوجائے گی، اس لئے کہ وہ ایک ڈھیلا تین ڈھیلوں کے برابر شمار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

استنجاء کے لئے کن چیزوں کا استعمال جائز ہے کن کا استعمال منع ہے، اس پر بحث ہوچکی۔

اب علامہ کاسانی ایک نئی بحث کا آغاز کررہے ہیں اور اسکی وجہ امام شافعی کا اختلاف ہے۔

*استنجاء میں کتنے ڈھیلے استعمال کرنے چاہئے۔۔؟؟*

ہم احناف کے نزدیک ڈھیلوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے، بلکہ جتنے ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے اتنے ڈھیلے استعمال کرنا سنت ہے، ہاں اگر ایک یا دو ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے تو تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے، اسی طرح چار سے حاصل ہوجائے تو پانچ کا عدد پورا کرنا مستحب ہے۔۔ وجہ یہ ہے کہ احادیث میں جہاں طاق عدد کا ذکر آیا ہے وہی تین کا عدد بھی مذکور ہے ۔ لہذا کم از کم تین کا عدد پورا کرنا بہرحال مستحب ہے۔

طہارت کے مسائل میں عدد کے حوالے سے ہم احناف کا موقف یہ ہے *نجاست کو زائل کرنا* ضروری ہے *عدد کا لحاظ* ضروری نہیں ہے، ہاں اگر ایک یا دو بار میں نجاست زائل ہوجائے اور احادیث میں کسی عدد کا ذکر ملتا ہو تو اس عدد کو پورا کرلیناحسبِ دلیل سنت یا مستحب ہوتا ہے۔

علامہ کاسانی نے امام شافعی کی جو دلیل ذکر کی ہے دراصل امام شافعی کا استدلال صرف لفظ *وتر* سے نہیں ہے بلکہ ان کے دلائل میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جس میں *ثلاثة احجار* یعنی تین پتھروں کے استعمال کا ذکر ہے۔ ابوداؤد، نسائی اور بیہقی وغیرہم کتبِ حدیث میں وہ روایات موجود ہیں۔

ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ اشکال آئے کہ علامہ کاسانی نے لکھا ہے کہ جب ایک ڈھیلے سے طہارت ہوگئی تو مقصد حاصل ہوگیا۔۔۔ پھر دو ٹھیلے لینا *تنجیس الطاہر* کے اصول کے مخالف ہے یعنی پاک چیز کو ناپاک کرنا ناجائز ہے تو دو ڈھیلے لینا بھی ناجائز ہے۔

علامہ کاسانی نے عبارت میں *بلاضرورت* کی قید لگاکر اس اشکال کو دور کردیا ہے، یعنی ضرورت ہو تو ایک ڈھیلے سے طہارت ہوجانے کے باوجود دو ڈھیلے لینا جائز ہے۔۔۔ اور حدیث کے ظاہر پر عمل کرنا بلاشبہ ضرورت میں شامل ہے، لہذا تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے ناجائز نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرنے کی جو مثال پیش کی ہے وہ امام شافعی کےموقف کو کمزور ثابت کرنے کی بہت اچھی دلیل ہے، کیونکہ امام شافعی ایک طرف تو تین ڈھیلے استعمال کرنے کو ضروری قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرلیا جائے تو تین کا عدد پورا ہوجائے گا۔

*ثلاثة أحجار* یعنی تین پتھر کے فرمان پر عمل کرنا ہے تو پتھر کا تعداد میں تین ہونا ضروری ہے، لہذا امام شافعی کا تین اطراف (Sides) کے مسئلہ کو جائز قرار دینا ان کے موقف کو کمزور ثابت کرتا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

ہمارے زمانے کی عورتیں

ہمارے زمانے کی عورتیں

عورتوں کے مسجد جانے کے متعلق ام المومنین، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے جو انھوں نے اب ایجاد کیا ہے تو ان کو (مسجد میں آنے سے) منع فرما دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا-

(بخاری شریف، ج1، ص472، ر869)

علامہ بدرالدین عینی حنفی علیہ الرحمہ (م855ھ) لکھتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتیں جو انھوں نے ہمارے زمانے میں ایجاد کر لیا ہے اور اپنی نمائش میں غیر شرعی طریقے اور مذموم بدعات نکال لی ہیں، خاص طور پر شہر کی عورتوں نے تو وہ (حضرت عائشہ صدیقہ) ان عورتوں کی بہت زیادہ مذمت کرتیں-

(عمدۃ القاری، ج6، ص227)

علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اگر علامہ عینی ہمارے زمانے کی فیشن زدہ عورتوں کو دیکھ لیتے تو حیران رہ جاتے- اب اکثر عورتوں نے برقع لینا چھوڑ دیا ہے، سر کو ڈوپٹے سے نہیں ڈھانپتیں، تنگ اور چست لباس پہنتی ہیں، بیوٹی پارلر میں جا کر جدید طریقوں سے میک اپ کراتی ہیں، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، مراتھن دوڑ میں حصّہ لیتی ہیں، بسنت میں پتنگ اڑاتی ہیں، ویلین ٹائنس ڈے مناتی ہیں، اس قسم کی آزاد روش میں عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو خیر کوئی امکان ہی نہیں ہے-

(نعم الباری فی شرح صحیح البخاری، ج2، ص798)

میں (عبد مصطفی) کہتا ہوں کہ اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سامنے کوئی جناب ہیں یا محترمہ! ایسا فیشن نکلا ہے کہ مرد اور عورت میں تمیز کرنا دشوار ہو گیا ہے-

ایک فکر لوگوں کے ذہنوں میں ڈالی جا رہی ہے کہ "عورتیں مردوں سے کم نہیں” اور اسی مقابلے کے چکر میں عورتوں نے شرم و حیا نام کی چیز کو اپنی لغت (ڈکشنری) سے مٹا (ڈلیٹ کر) دیا ہے!

اب تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے لیے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے-

عبد مصطفی

درس 029: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 029: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فَإِنَّ فِعْلَ ذَلِكَ يُعْتَدُّ بِهِ عِنْدَنَا، فَيَكُونُ مُقِيمًا سُنَّةً، وَمُرْتَكِبًا كَرَاهَةً

جو کوئی ان چیزوں سے استنجاء کرے (جس کی تفصیل پچھلے درس میں ہے) تو ہمارے نزدیک اسے استنجاء شمار کرلیا جائے گا۔ تو ایسا شخص بیک وقت سنت پر عمل کرنے والا اور مکروہ کا ارتکاب کرنے والا قرار پائے گا۔

وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ لِفِعْلٍ وَاحِدٍ جِهَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ، فَيَكُونُ بِجِهَةِ كَذَا، وَبِجِهَةِ كَذَا

اور یہ ممکن ہے کہ ایک ہی کام کے دو مختلف پہلو ہوں، ایک پہلو سے کچھ حکم ہو ایک سے کچھ حکم ہو۔

وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ لَا يُعْتَدُّ بِهِ، حَتَّى لَا تَجُوزَ صَلَاتُهُ إذَا لَمْ يَسْتَنْجِ بِالْأَحْجَارِ بَعْدَ ذَلِكَ.

اور امام شافعی کے نزدیک استنجاء شمار نہیں کیا جائے گا، حتی کہ اسکی نماز جائز نہیں ہوگی جب تک وہ دیگر چیزوں کے استعمال کے بعد پتھر سے استنجاء نہ کرلے۔

وَجْهُ قَوْلِهِ: إنَّ النَّصَّ وَرَدَ بِالْأَحْجَارِ فَيُرَاعَى عَيْنُ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ؛، وَلِأَنَّ الرَّوْثَ نَجَسٌ فِي نَفْسِهِ، وَالنَّجَسُ كَيْفَ يُزِيلُ النَّجَاسَةَ؟

انکی دلیل یہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں باقاعدہ پتھر کا ذکر ہے لہذا استنجاء میں پتھر کا ہی لحاظ رکھا جائے گا۔

اور اسلئے بھی کہ لید ازخود ناپاک ہے، اور ناپاک چیز سے ناپاکی کیسے دور ہوسکتی ہے۔

(وَلَنَا) أَنَّ النَّصَّ مَعْلُولٌ بِمَعْنَى الطَّهَارَةِ وَقَدْ حَصَلَتْ بِهَذِهِ الْأَشْيَاءِ كَمَا تَحْصُلُ بِالْأَحْجَارِ

اور ہم احناف کی دلیل یہ ہے کہ احادیث میں آنے والا حکم طہارت کے مفہوم کو بیان کرتا ہے، تو جس طرح پتھر سے طہارت حاصل ہوتی ہے اسی طرح دیگر چیزوں سے بھی حاصل ہوجائے گی۔

إلَّا أَنَّهُ كُرِهَ بِالرَّوْثِ لِمَا فِيهِ مِنْ اسْتِعْمَالِ النَّجَسِ، وَإِفْسَادِ عَلَفِ دَوَابِّ الْجِنِّ

ہاں لید سے استنجاء مکروہ (تحریمی) قرار دیا گیا ہے اسلئے کہ یہ ناپاک چیز کا استعمال کرنا ہے اور جنات کے جانوروں کا چارہ خراب کرنا ہے۔

وَكُرِهَ بِالْعَظْمِ لِمَا فِيهِ مِنْ إفْسَادِ زَادِهِمْ عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ الْحَدِيثُ

اور ہڈی سے بھی استنجاء مکرہ ہے اسلئے کہ اس سے جنات کی خوراک کو خراب کرنا لازم آتا ہے، جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا۔

فَكَانَ النَّهْيُ عَنْ الِاسْتِنْجَاءِ بِهِ لِمَعْنًى فِي غَيْرِهِ لَا فِي عَيْنِهِ

تو مذکورہ چیزوں سے استنجاء کی ممانعت ایسے مفہوم کی وجہ سے ہے جو بذات خود ان میں نہیں پایا جاتا بلکہ کسی اور شی میں پایا جاتا ہے۔

فَلَا يُمْنَعُ الِاعْتِدَادُ بِهِ

لہذا ان چیزوں سے کیا گیا استنجاء، استنجاء شمار ہوگا۔

وَقَوْلُهُ:”الرَّوْثُ نَجَسٌ فِي نَفْسِهِ” مُسَلَّمٌ، لَكِنَّهُ يَابِسٌ لَا يَنْفَصِلُ مِنْهُ شَيْءٌ إلَى الْبَدَنِ فَيَحْصُلُ بِاسْتِعْمَالِهِ نَوْعُ طَهَارَةٍ بِتَقْلِيلِ النَّجَاسَةِ.

اور امام شافعی کا قول: "لید ازخود ایک ناپاک چیز ہے” بالکل درست ہے، لیکن اس کے خشک ہونے کی وجہ سے اس کے اجزاء بدن پر نہیں لگتے، لہذا اس کے استعمال سےنجاست کی مقدار کم ہوکر ایک نوعیت سے طہارت ہو ہی جاتی ہے۔

وَيُكْرَهُ الِاسْتِنْجَاءُ بِخِرْقَةِ الدِّيبَاجِ وَمَطْعُومِ الْآدَمِيِّ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ لِمَا فِيهِ مِنْ إفْسَادِ الْمَالِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ، وَكَذَا بِعَلَفِ الْبَهَائِمِ، وَهُوَ الْحَشِيشُ؛ لِأَنَّهُ تَنْجِيسٌ لِلطَّاهِرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ.

دیباج (ریشمی) کپڑے اور انسانی خوراک یعنی گندم ، جو وغیرہ سے بھی استنجاء مکروہ ہے، اسلئے کہ اس سے بلا ضرورت مال کا ضائع کرنا لازم آتا ہے، اسی طرح جانوروں کے چارے یعنی گھاس وغیرہ سے بھی استنجاء مکروہ ہے، اسلئے کہ اس سے پاک چیز کو بلاضرورت ناپاک کرنا لازم آتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

ہم درس نمبر 28 میں مکمل وضاحت کرچکے ہیں کہ

*ہر وہ چیز جس سے نجاست کو پونچھا جاسکتا ہو، اس سے استنجاء ہوجائے گا۔۔ چاہے اس کا استعمال جائز ہو یا ناجائز*

علامہ کاسانی انہیں چیزوں کابیان کرتے ہوئے ایک نکتہ ذکر کرتے ہیں کہ۔۔

ایسا ممکن ہے کہ ایک ہی کام کے دو مختلف پہلو ہوں۔۔

کسی پہلو سے فرض پورا ہوتا ہو اور ساتھ ہی حرام کا ارتکاب بھی ہوتا ہے، استنجاء میں اسکی مثالیں بیان ہورہی ہیں کہ بہت سی چیزوں سے استنجاء کرنا ناجائز ہے مگر چونکہ "نجاست کا زائل” ہونا پایا جارہا ہے اسلئے بہرحال طہارت حاصل ہوجائے گی۔۔۔

فقہ میں اسکی کئی مثالیں موجود ہیں، مثلا

* کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرلیا اور وہاں نماز کے لئے صفیں بچھادیں۔۔ لوگوں کا وہاں نماز ادا کرنا ناجائز ہےلیکن نماز ادا ہوجائے گی۔

* عورت بغیر محرم کے حج یا عمرہ پر چلے گئی۔۔ گناہ گار ضرور ہوئی مگر حج یا عمرہ ادا ہوجائے گا۔

امام شافعی نے *حدیث کے ظاہر الفاظ* کو بنیاد بناکر کہا کہ چونکہ احادیث میں پتھر کا ذکر آیا ہے لہذا پتھر کا استعمال ضروری ہے اسکے بغیر استنجاء نہیں ہوگا۔

جبکہ ہم احناف کا موقف ہے کہ حدیث میں بیان ہونے والا حکم پتھر کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ مراد طہارت حاصل کرنا ہے چونکہ پتھر کااستعمال رائج تھا اسلئے پتھر کا ذکر آیا۔۔۔اور اہلِ علم یہ بات جانتے ہیں کہ حدیث کا مفہوم اگرچہ الگ ہو لیکن جہاں تک ممکن ہو *حدیث کے ظاہری الفاظ* کا لحاظ رکھنا مناسب ہوتا ہے، لہذا کپڑا یا مٹی وغیرہ کے مقابلے پتھر سے استنجاء کرنا افضل ہے۔

باقی جو مسائل ذکر ہوئے اس سے متعلق اصولی بحث ہم درس نمبر 28 میں کرچکے ہیں، مذکورہ عبارات میں انہیں چیزوں کا بیان ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*