سیدنا ابراہیمؑ پر کانٹ کے اعتراض کامفصل جواب

سیدنا ابراہیمؑ پر کانٹ کے اعتراض کامفصل جواب

اعتراض:-

اٹھارویں صدی کے سب سے بڑے مغربی فلسفی عمانوئل کانٹ1724-1804ء نے سیدنا ابراہیم ؑ پر یہ اعتراض کیا کہ بیٹے کے گلے پر چھری چلا کر ابراہیمؑ نے اپنی وہ ذمہ داری تو پوری کر دی جو خدا کی طرف سے ابراہیمؑ پر عائد ہوتی تھی لیکن ابراہیمؑ اپنی وہ ذمہ داری پوری نہ کر پائے جو بحثیت باپ بیٹے کی جانب سے ابراہیمؑ پر عائد ہوتی تھی۔ بالفاظ دیگر ابراہیم ؑ نے بحثیت نبی خدا کا حکم مان کر خدا کا حق تو ادا کر دیا لیکن بیٹے کے گلے پر چھری چلا کر بحثیت باپ اپنے بیٹے اسماعیلؑ کا حق ادا نہ کر پائے کیونکہ کوئی بھی باپ بیٹے کی گردن پر چھری نہیں چلاتا، تو چونکہ ابراہیمؑ نے بیٹے کی گردن پر چھری چلائی ہے، لہذا انہوں نے اولاد کے حق زندگی کی حق تلفی کی ہے۔ ابراہیم ؑ نے بیٹے سے "حقِ زندگی” چھینے کی کوشش کی ہے!(معاذ اللہ)

جواب:-

یہ کانٹ کا سیدنا ابراہیمؑ پر اعتراض ہے، جس کا جواب دینے کی اس تحریر میں کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ اعتراض فلسفیانہ ہے اور پھر ہے بھی ایک بڑے فلسفی کی جانب سے لہذا اس کے جواب کیلئے فلسفے کی حدود میں داخل ہونا ہمارے لئے نا گزیر ہے۔

کسی بھی اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ پہلے آپ معترض (اعتراض کرنے والا) کے مابعد الطبیعی ایمان Metaphysical Assumptionsکا جائزہ لیں اور ساتھ ہی یہ دیکھیں کہ وہ کن فلسفیانہ یا نظریاتی بنیادوں پر کھڑا ہو کر اعتراض کر رہا ہے۔ چنانچہ کانٹ کے اعتراض کے پس منظر کو سمجھنے کیلئے لازم ہے کہ پہلے ہم "حق زندگی” کے تاریخی تناظر پر روشنی ڈال لیں۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اعتراض فلسفیانہ ہے اس لئے ہمیں فلسفے میں جانا ہی پڑے گا، تو بنیادی طور پر فلسفے کی پانچ شاخوں میں سے ایک اہم شاخ "اخلاقیاتEthics”ہے۔ یہی وہ شاخ ہے جس میں اخلاقیات، معیاراتStandards، اقدارSocial Values، روایات Traditionsاور خیر و شر Good and Evilجیسے مضامین کا فلسفیانہ سطح پر مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اخلاقیات میں حقوق کی بحث بھی چھیڑی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ کوئی حق آخرکب حق بنتا ہے؟ حق Rightکا ماخذ کیا ہوتا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ

کانٹ سے پہلے بھی متعدد فلسفیوں مثلا تھامس ہوبز وغیرہ نے حقوق کے حوالے سے فلسفہ جھاڑا تھا لیکن وہ فلسفی جس نے اس ضمن میں سب سے زیادہ نام کمایا اس کا نام جان لاک John Locke ہے جو مغرب کا سب سے بڑا سیاسی فلسفی گزرا ہے۔ کانٹ کے نظریات پر بھی لاک کی گہری چھاپ ہے۔ درحقیقت کانٹ کا سارا فلسفہ ڈیکارٹ اور لاک کے فلسفوں میں تطبیق پیدا کرنے ہی سے عبارت ہے۔ تو خیر جان لاک نے حقوق Human Rightsپر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

لیکن لاک کو سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان حالات پر سرسری سی نظر دوڑا لی جائے جن میں جان لاک پروان چڑھا۔ لاک یورپ کے عہد تنویر(روشن خیالی Enlightenment) کا فلسفی تھا، نہ صرف فلسفی بلکہ وہ تنویری مفکرین کی روح رواں تھا۔ اس کا شمار مغربی روشن خیالی (جو درحقیقت تاریک ذہنی ہے) کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ لاک کے زمانے میں حقوق انسانی کے حوالے سے (سیاسی سطح پر) متعدد فلسفے موجود تھے جن میں سے ایک اہم فلسفہ یہ تھا کہ حقوق کا ماخذ خدا کی بجائے خود انسان ہے۔ لاک نے بھی اسی فلسفے کو مزید پروان چڑھایا اور اس کی نوک پلک سنواری۔

لاک حقوق کو دو اقسام میں تقسیم کرتا ہے۔

1) سیاسی حقوقPolitical Rights

2) فطری حقوق Natural Rights

لاک سے پہلے مسیحی اور باقی تمام مذہبی دنیا میں فطری حقوق نامی کسی شے کا کوئی وجود نہ تھا۔ تمام انسان(چاہے کسی بھی مذہب کے ہوں) یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ خدا ہر شے کی اصل ہے، ہر اصول کا ماخذ صرف اور صرف خدا ہے، انسان کی حیات و کائنات کی مکمل توجیہ خدا اور اس کے بھیجی ہوئی ہدایت (وحی) کے ذریعے ہی کی جاتی تھی۔ لاک نے آ کر یہ کہا کہ نہیں ہر اصول کا مآخذ خدا کی ذات نہیں ہے بلکہ کچھ حقوق ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر انسان اپنی پیدائش کے وقت ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔

یہ نکتہ توجہ طلب ہے۔

میں ایک انسان ہوں اور مجھے پورا حق ہے کہ میں زندہ رہ سکوں، یعنی میرا "حق زندگی” محفوظ ہے، کسی بھی دوسرے انسان کو اجازت نہیں کہ وہ مجھے قتل کر کے مجھ سے میرا حق زندگی چھین لے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجھے زندہ رہنے کا یہ حق کس نے عطا کیا؟ گویا میرے حق زندگی کا ماخذ کیا ہے؟

جیسا کہ میں نے پہلے اشارہ کیا کہ ماضی میں ہر انسان حقوق کا ماخذ خدا تعالیٰ کی ذات کو قرار دیتا تھا۔ تو اس مذہبی تناظر میں اگر میں بات کروں تو مذکورہ سوال کا جواب یہ ہو گا کہ مجھے حق زندگی خدا نے عطا کیا ہے! جب خدا نے مجھے حق زندگی عطا کیا ہے تو گویا زندگی کوئی ایسی شے نہیں جس پر میرا پیدائشی حق ہو، بلکہ زندگی میرے پاس ایک امانت ہے جو خدانے میرے پاس رکھی ہے وہ جب چاہے مجھ سے اپنی امانت واپس لے سکتا ہے۔ یہ بات زرا سمجھنے والی ہے۔

دیکھیں، دو باتیں ہیں، ایک بات یہ ہے کہ زندگی خدا کی امانت ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ نہیں زندگی خدا کی امانت نہیں بلکہ ایک ایسی شے، ایک ایسی قدر، ایک ایسا حق ہے جو میں اپنی پیدائش کے وقت ساتھ لئے ہوئے پیدا ہوا ہوں۔ ان دونوں جملوں میں فرق ہے۔ پہلی صورت میں زندگی کی توجیہ خدا سے ہوتی ہے جبکہ دوسری صورت میں خدا کو نفی کر کے انسان کو ہی زندگی کا ماخذ قرار دے دیا گیا ہے۔ اب آئیے لاک کی طرف، وہ کہتا ہے کہ

حقوق دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اولا وہ حقوق جو ریاست کسی شہری کو عطا کرتی ہے، مثلا یہ حق کہ اگر آپ کسی ریاست کے شہری ہیں تو پھر یہ آپ کا حق ہے کہ آپ جب چاہیں قانون کے مطابق جس روڈ پر چاہیں گاڑی چلا سکتے ہیں۔ اس جیسے حقوق کو ریاستی حقوق کہا جاتا ہے۔

دوم وہ حقوق جو ہر انسان بوقت ولادت ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے(جو خدا نے عطا نہیں کئے بلکہ ان کا ماخذ، خود انسان ہے) ان حقوق کو فطری حقوق یا Basic Human Rights یا Natural Rightsکہا جاتا ہے۔ نیچرل یا فطری حقوق میں جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ لاک کے مطابق ان حقوق کا ماخذ خدا کی بجائے خود انسان ہے۔ فطری حقوق کا تعارف تنویری فلسفیوں نے کروایا ورنہ اصلا یہ سراسر الحاد ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فطری حقوق نامی کوئی شے وجود نہیں رکھتی،حق ہمیشہ خدائی عطا ہوتا ہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس فلسفیانہ تناظر کے بعد اب کانٹ کی طرف چلئے۔ کانٹ کو یہ سب معلوم تھا اور وہ اس ضمن میں جان لاک کے نظریات کا قائل تھا۔ لاک کی طرح وہ بھی یہی ایمان رکھتا تھا کہ حقوق انسانی کا ماخذ خدا کی بجائے انسان ہے۔ ناصرف کانٹ بلکہ تمام تنویری مفکرین خدا کو ہر شعبہ ہائے زندگی سے بے دخل کرنے پر تلے ہوئے تھے، اب بھی تلے ہوئے ہیں!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماخذ خدا کی بجائے انسان کو قرار دے دینے سے آخر فرق کیا پڑتا ہے؟

یہی اصل سوال ہے اور اسی میں ساری بحث سمٹی ہے۔ اس کو اگر آپ سمجھ لیں تو پھر کانٹ کے اعتراض کا جواب محض ایک سطر کی مار ہے۔۔۔!!!

تو چلئے اب یہ دیکھتے ہیں کہ ماخذ سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دیکھئے، جب ہم خدا کو کسی بھی شے کاماخذ قرار دیتے ہیں تو بین السطور ہمارا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے نظریات کی بنیاد خدا ہے، بالفاظ دیگر گویا ہم خدا کے وجود کے قائل ہوتے ہیں اور تمام مظاہر حیات و کائنات کی توجیہ و تشریح اسی سے کررہے ہوتے ہیں۔ خدا ہمارے دائرے کا مرکز ہوتا ہے، ہماری زندگی، ہمارے نظریات اور غرض ہماری ہر شے کا معیار اور بنیاد خدا قرار پاتا ہے۔ اس لحاظ سے گویا ہم مذہبی پیراڈائم میں کھڑے ہوتے ہیں یا سادہ الفاظ میں جب ہم خدا کو ماخذ قرار دیتے ہیں تو تب ہم ایک مذہبی انسان ہوتےہیں۔

اس کے برعکس جب خدا کی بجائے انسان کو ماخذ قرار دے دیا جائے تو تب گویا ہم انسان کو خدا کے مقام پر لا بیٹھاتے ہیں۔ پھر ہم پر لازم ہوتا ہے کہ ہم ہراس مظہر کی توجیہ، جس کی تشریح ہم پہلے خدا سے کرتے تھے، اب انسان سے کریں۔ تو گویا اب ہمارا کلمہ لا الہ الا اللہ نہیں رہتا بلکہ لا الہ الا الانسان بن جاتا ہے۔ یہی ہیومنزم ہے، یہی انسانیت پرستی ہے کہ ہم خدا کے مقام پر انسان کو لے آئیں اور انسان کی پرستش شروع کر دیں۔ انسان کی پرستش کے معنی یہی ہیں کہ ہم حیات و کائنات کی توجیہ انسان سے کرنے لگ جائیں۔

ماخذ کے بدل جانے سے مرتب ہونے والے اثرات کی ایک مثال بھی عرض کر دینا چاہتا ہوں تاکہ بات مزید واضح ہو جائے۔ اسے میں دو کیسز سے واضح کروں گا۔

پہلے کیس میں ہم خدا کو حقوق کا ماخذ قرار دے کر بات کرتے ہیں۔

میں یہ مان لیتا ہوں کہ حقوق کا ماخذ خدا ہے!

اس سے اب مجھ پر یہ لازم ہو گیا کہ میں یہ تسلیم کر لوں کہ میرے تمام حقوق کا اصل مالک خدا ہے، جبکہ میں محض ان حقوق کا امین ہوں۔ حقوق کا اصل مالک جب چاہے مجھ سے اپنی امانت واپس لے سکتا ہے۔ مثلا میری دولت پر میرا حق ہے(حق ملکیت)۔ جب میں نے یہ مان لیا کہ میرے حقوق کا ماخذ خدا ہے تو گویا مجھ پر لازم ہو گیا کہ میں یہ بھی مان لوں کہ میرا سارا مال خدا کی امانت ہے۔ یعنی یہ مال میرا نہیں اللہ کا ہے۔ وہ جب چاہے جتنا چاہے مجھ سے فی سبیل اللہ واپس لے سکتا ہے۔ مجھ پر فرض ہو گیا کہ جب بھی وہ مجھ سے تقاضا کرے، میں اسے اس کی امانت لوٹاوں۔ (زکوۃ کا فلسفہ درحقیقت یہی ہے)

یہ پہلا کیس تھا۔ دوسرا کیس یہ ہے:

بالفرض میں یہ مان لیتا ہوں کہ حقوق کا ماخذ انسان ہے۔

اس سے اب مجھ پر لازم ہو گیا کہ میں خود کو خدا پر برتری دوں، اپنے تمام حقوق، مال و اسباب وغیرہ پر پہلا حق اپنا جتاوں اور دوسرے کسی فرد کو ثانوی حیثیت دوں،چاہے وہ خدا ہی کیوں نہ ہو۔ مگر وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ جب میں نے خود کو خدا کے مقام پر لاکھڑا کیا تو اب معاذ اللہ خدا میں خود ہوں، اب بحثیت خدا میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہوں کہ مجھے اپنا مال کسے دینا ہے اور کسے نہیں۔ وہ تمام اختیارات جو پہلے مجھے بحثیت امین حاصل تھے اب مجھے بحثیت مالک حاصل ہو جائیں گے کیونکہ اب خدا میں خود بن چکا ہوں۔

اب آپ کو ماخذ کی اہمیت کا خوب اندازہ ہو چکا ہو گا۔ توجناب! لاک کی طرح کانٹ بھی یہی عقیدہ رکھتا تھا کہ خدا کو انسانی زندگی سے بے دخل کر دیا جانا چاہئے اور مظاہر حیات کی توجیہ صرف اور صرف انسان کی ذات ہی سے کی جانی چاہئے۔ کانٹ کا عقیدہ تھا کہ حق زندگی، حق ملکیت، حق مذہب وغیرہ فلاں فلاں جتنے بھی انسانی حقوق ہیں ان سب کا ماخذ انسان ہے۔ اب جب اس نے انسان کو خدا بنا ڈالا تو اصل خدا کی اہمیت تو ثانوی ہو کر ہی رہنی تھی۔ پس یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کے سبب اس نے ایک جید نبی پر اعتراض داغ دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اعتراض کا جواب بہت سادہ سا ہے : وہ یہ ہے کہ

"حق زندگی” سیدنا اسماعیل ؑ کا کوئی ایسا حق تھا ہی نہیں جسے وہ بوقت ولادت ساتھ لے کر پیدا ہوئے تھے۔ یعنی ان کا یہ حق پیدائشی یا فطری حق Natural Right نہیں تھا بلکہ سیدنا اسماعیل ؑ کا یہ حق انہیں خدا نے تفویض کر رکھا تھا۔ زندگی کوئی ایسی شے نہیں تھی جس کے مالک حضرت اسماعیلؑ خود تھے، بلکہ وہ جان کے امین تھے، ان کی جان کا اصل مالک اللہ تعالیٰ تھا۔ اصل مالک اب اپنی امانت واپس طلب کر رہا تھا۔۔۔! اسماعیل ؑ کے حقِ زندگی کی حق تلفی تو تب ہوتی جب وہ خود اپنی جان کے مالک ہوتے!

دوم ابراہیم ؑ پر جو ذمہ داری بحثیت باپ کے عائد ہوتی تھی وہ بھی کوئی پیدائشی یا فطری ذمہ داری نہیں تھی بلکہ ایک ایسی ذمہ داری تھی جس کا ذمہ دار انہیں سیدنا اسماعیل ؑ نے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بنایا تھا۔

چھری چلا کر ابراہیمؑ نے خدا کی بات مان لی، خدا کا حق (کہ اس کا حکم مانا جائے) ادا ہو گیا۔ لیکن کانٹ اگلی بات نہ سمجھ سکا۔ وہ سمجھنے لگا کہ حق زندگی اسماعیل ؑ کا فطری حق تھا۔اگر کانٹ کی طرح زندگی کو انسان کا ایک فطری حق مان لیا جائے تو پھر کانٹ کا اعتراض بالکل درست قرار پاتا ہے ۔ کانٹ کا اعتراض غلط اس وجہ سے ہے کیونکہ زندگی کوئی فطری حق ہے ہی نہیں۔ زندگی کا حق تو خدا نے عطا کیا ہے، انسان اپنی جان کا مالک تو ہے ہی نہیں، انسان تو جان کا امین (امانت دار) ہے پس کانٹ کا اعتراض غلط ہے۔ اگر کانٹ محض اپنے مابعدالطبیعی ایمان Metaphysical Assumption کو درست کر لیتا تو ایسا اعتراض ہر گز نہ کرتا۔ اس کے ذہن میں "فطری حقوق” والا خلل تھا، جس نے اسے گمراہ کیا۔

تو کل ملا کر بات صرف اتنی ہے کہ

مغربی فلاسفہ کے ہاں کچھ حقوق فطری ہوتے ہیں اور کچھ سیاسی

جبکہ اہل مذہب اور خصوصا اسلامی فلسفے میں حقوق صرف اور صرف خدا کے تفویض کردہ ہوتے ہیں۔

تو بات آ جا کر خدا پر رکتی ہے،

ہم مسلمان خدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں لہذا حیات کی توجیہ اسی سے کرتے ہیں

جبکہ مغربی ملحدین خدا کی بجائے انسان کی الوہیت پر ایمان رکھتے ہیں لہذا حیات کی توجیہ انسان سے کر کے الحاد کے ساتھ ساتھ شرک اکبر کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔

فیصل ریاض شاہد

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پند ونصائح

حکایت نمبر85: حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پند ونصائح

حضرت سیدنا عمر بن سیلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :ایک مرتبہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے حواریوں کے پاس اس حالت میں تشریف لے گئے کہ آپ علیہ السلام کے جسم انور پر اُون کا جبہ تھا اور ایک عام سی شلوار پہنی ہوئی تھی، ننگے پاؤں تھے اور سر پر بھی کوئی کپڑا وغیرہ نہیں تھا، آنکھوں سے آنسو رواں تھے، بھوک کی وجہ سے آپ علیہ السلام کا رنگ متغیر ہوگیا تھا اور پیاس کی شدت سے ہونٹ بالکل خشک ہوچکے تھے۔

آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو سلام کیا، اور فرمایا: ”اے بنی اسرائیل! اگر میں چاہوں تو اللہ عزوجل کے حکم سے دنیا تمام تر نعمتوں کے ساتھ میرے قدموں میں آجائے لیکن میں اس بات کو پسند نہیں کرتا۔اے بنی اسرائیل!تم دنیا کو ہمیشہ حقیر جانو، اسے کوئی وقعت نہ دو یہ خود تمہارے لئے نرم ہوجائے گی،تم دنیا کی مذمت کرو تمہارے لئے آخرت مزین ہوجائے گی، ایسا ہرگز نہ کرنا کہ تم آخرت کو پسِ پشت ڈال دو اور دنیا کی تعظیم وتوقیر کر و،بے شک دنیا کوئی قابل احترام شے نہیں کہ اس کی تعظیم کی جائے۔ دنیا تو تمہیں ہر روز کسی نہ کسی نئی آفت یا نقصان کی طرف بلاتی ہے لہٰذا اس کے دھوکے سے بچو۔”

پھر فرمایا:” اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میرا گھر کہا ں ہے؟ ”لوگوں نے کہا :”اے اللہ عزوجل کے نبی علیہ السلام! آپ کا گھر کہاں ہے؟” آپ علیہ لسلام نے فرمایا:”مساجد میری قیام گاہ ہیں، میری خوشبو اور عطریات پانی ہے، میرا بھوکا رہنا ہی میری شکم سیری ہے، میرے پاؤں میری سواری ہیں،رات کوچمکتا ہوا چاند میرا چراغ ہے، سخت سردیوں کی راتوں میں نماز پڑھنا میرا محبوب ترین عمل ہے، میرا کھانا خشک پتے وغیرہ ہیں، زمین کی گھاس اور نباتا ت میرے لئے پھلوں کی مانند ہیں، انہی سے جانوروں کو خوراک ملتی ہے، وہی سبزی اور نباتات میں کھالیتا ہوں، میرا لباس اُون ہے ، اللہ عزوجل سے ڈرنا میرا شعار ہے ، اور مساکین وفقراء میرے محبوب ترین رفقاء ہیں۔  میں صبح اس حالت میں کرتا ہوں کہ میرے پاس دنیاوی اشیاء میں سے کوئی شے نہیں ہوتی اور ایسی ہی حالت میں شام کرتا ہوں کہ میرے پاس کوئی دنیاوی شے نہیں ہوتی لیکن پھر بھی میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ فلاں شخص اتنا مال دار ہے۔ میں اپنی اس حالت میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت اور بہت زیادہ غنی سمجھتا ہوں (یعنی میں اس حال میں بھی اپنے رب عزوجل کی رضا پر راضی ہوں )۔”آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ بھی بیان کیا جاتاہے کہ آپ علیہ السلام دنیاسے بہت زیادہ بے رغبت تھے، کبھی بھی دنیوی نعمتوں کو خاطر میں نہ لاتے ، آپ علیہ السلام نے ایک ہی اُون کے جبہ میں اپنی زندگی کے دس سال گزار دیئے، جب وہ جبہ کہیں سے پھٹ جاتا تو اسے رسّی سے باندھ لیتے یا پیوند لگا لیتے، آپ علیہ السلام نے چار سال تک اپنے مبارک بالوں میں تیل نہ لگایا، پھر چار سال بعدچربی کی چکنائی بالوں میں لگائی اور چربی کو تیل کی جگہ استعمال فرمایا۔آپ علیہ السلام نے اللہ عزوجل پر بھروسہ کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے بنی اسرائیل! مساجد کو لازم پکڑلو ، اور انہی میں پڑے رہو، تمہارے اصلی گھر تو تمہاری قبریں ہیں، دنیا میں تو تم ایک مہمان کی حیثیت سے ہو، عنقریب یہاں سے اپنے اصلی گھر(یعنی قبر) کی طرف چلے جاؤ گے ۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ پرندے آسمان کی طرف پر واز کرتے ہیں، نہ تو وہ کھیتی اگاتے ہیں، نہ ہی فصل کا ٹتے ہیں لیکن پھر بھی تمام جہانوں کا پروردگار عزوجل انہیں رزق عطا فرماتا ہے۔ اے لوگو ! جَو کی روٹی کھاکر بسر اوقات کرو ، اور زمین کے نباتا ت اور سبزی وغیرہ کھاکر پیٹ بھرلیا کرو۔ اگر تم اتنی ہی دنیا پر قناعت کر لوتب بھی تم اللہ عزوجل کی نعمتوں کا شکر ادانہیں کرسکتے اور اگر تم کثیر نعمتوں کے طلبگار بنو گے اور ان سے فائدہ اٹھاؤ گے تو پھر کس طرح ان نعمتوں کا شکر ادا کرو گے ۔”ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا:” اگر تم چاہتے ہوکہ میں تمہیں اپنا دوست اوررفیق رکھوں تو تم دنیا داروں سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلو، مالداروں سے بالکل جدا رہو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر میں تمہیں اپنے ساتھ نہ رکھوں گااور تمہارارفیق بھی نہ بنوں گا۔بے شک تمہیں اپنے مقصد میں کامیابی اسی وقت ہوگی جب تم اپنی خواہشات کو ترک کردو گے ، تم اس وقت تک اپنی پسندیدہ چیز کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک تم ناپسندیدہ چیزوں پرصبر نہ کرو،اور خبردار! بدنگاہی سے ہمیشہ بچتے رہنا کیونکہ بد نگاہی کی وجہ سے دل میں شہوت ابھرتی ہے۔خوشخبری ہے اس عظیم شخص کے لئے جس کی نظر اپنے دل پر ہوتی ہے،وہ سوچ سمجھ کر نظر اٹھاتا ہے اور اپنے دل کو نظر کے تا بع نہیں کرتابلکہ نظر کو دل کے تابع رکھتا ہے۔ افسوس ہے اس شخص پر جو دنیا کے لئے اتنی مشقتیں بر داشت کرتاہے حالانکہ یہ بے وفا دنیا اسے چھوڑ کر چلی جائے گی اور موت اسے دنیا سے جدا کردے گی،کتنا بے وقوف ہے وہ شخص جو دنیا کی فکر میں سر گرداں ہے اور دنیا اسے دھوکا دیتی جارہی ہے وہ دنیا پر اعتما د کرتاہے اور دنیا اسے دھوکا دیتی ہے اور اس سے بے وفائی کرتی ہے۔افسوس ہے ان لوگوں پر جو دنیا کے دھوکے میں پھنسے ہوئے ہیں ۔عنقریب انہیں وہ چیز (یعنی موت ) پہنچنے والی ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں اور جس دن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ دن (یعنی قیامت کادن)ان سے بہت قریب ہے۔ جس چیز کووہ پسند کرتے ہیں اور جو محبوب اشیاء ان کے پاس ہیں عنقریب وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اس دارِفانی سے رخصت ہوجائیں گے ۔اے لوگو! تم فضول گوئی سے بچتے رہو، کبھی بھی ذکر اللہ عزوجل کے علاوہ اپنی زبان سے کوئی لفظ نہ نکالو، ورنہ تمہارے دل سخت ہوجائیں گے، بے شک دل نرم ہوتے ہیں لیکن فضول گوئی انہیں سخت کردیتی ہے۔اور جس شخص کا دل سخت ہوجائے وہ اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے(یعنی اگر تم اللہ عزوجل کی رحمت کے امید وار ہو تو اپنے دلوں کو سختی سے بچاؤ)(اے ہمارے پاک پروردگار عزوجل !ہمیں قساوت قلبی کی بیماری سے بچا ،اور ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے معمور رکھ، فضول گوئی سے ہماری حفاظت فرما اورہر وقت اپنا ذکر کرنے والی زبان عطا فرما)میں بے کار باتوں سے بچ کر ہمیشہکروں تیری حمدو ثنا یا الٰہی عزوجل!

مقام ِتسلیم و رضا

تسلیم ور ضا کے معنی ہیں :اپنے آپ کو اللہ کے سپر د کردینا ‘ اپنی نفسانی خواہشات و ترجیحات کو اللہ کی رضا کے تابع کر دینا ‘ اپنی انا کو اس کی رضا میں فنا کر دینا ‘ اسی کو فنا فی اللہ بھی کہتے ہیں ۔ انگریزی میں اسے Total Submissionسے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی معنویت کو ان آیاتِ مبارکہ میں بیان فرمایا ہے : 

(1) ” اور لوگوں میں سے ایک شخص ایسا ہے ‘جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان کا سودا کر لیتا ہے‘ ‘(بقرہ : 207)۔ (2) ”بے شک اللہ نے اہلِ ایمان سے اُن کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا ہے ‘ وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ‘ پس مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں ‘ اللہ کااس پر تورات ‘ انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے ‘ سو تم اپنے اس سودے پر‘جو تم نے اللہ سے کیا ہے‘خوشی مناؤ اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے‘ ‘ (توبہ : 111)۔ 

اللہ تعالیٰ کے محبوب ومقرّب بندوں کو آزمائش کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: یارسول اللہ! سب سے زیادہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے ‘پھر اُن کی جو مرتبے میں اُن سے قریب تر ہیں اور پھر حسب مراتب‘‘(سنن ترمذی:2398) یعنی جن کے رتبے ہیں سوا‘ اُن کو سوا مشکل ہے ۔اسی سنتِ الٰہیہ کے تحت حضرت ابراہیم ؑ کو بھی آزمائش کے کڑے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا ‘ تو وہ اس آزمائش میں پورا اترے ‘ اللہ نے فرمایا : میں تمہیں انسانیت کا امام بنانے والا ہوں‘‘ (بقرہ: 124)پھر اللہ تعالیٰ نے حضراتِ ابراہیم واسماعیل علیہم السلام کی آزمائش کے مختلف مراحل میں سے ایک کا ذکر کیا اور فرمایا: ”سو جب (باپ بیٹا) دونوں نے (اللہ کے حکم پر)سرتسلیم خم کردیااورابراہیم نے اپنے بیٹے کوپیشانی کے بل لٹادیااور ہم نے اُسے پکارا: اے ابراہیم! بے شک آپ نے اپنا خواب سچا کردکھایا اور بے شک ہم نکوکاروں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں‘ بے شک یہ ضرور کھلی آزمائش تھی ‘‘ (الصّٰفّٰت:103-106)۔

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کو امتحان میں پورا اترنے پر اس اعزاز سے نوازا : ”بے شک ابراہیم اپنی ذات میں ایک امت تھے ‘اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار ‘باطل سے ہٹ کرحق پر قائم رہنے والے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے ‘ اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے ‘ (اللہ نے) انہیں چن لیا اور ان کو سیدھے راستے کی ہدایت فرمائی اور ہم نے ان کو دنیا میں اچھائی عطا فرمائی اور بے شک وہ آخرت میں بھی نکو کاروں میں سے ہوں گے ‘‘ (النحل : 120-122)۔ 

تسلیم ورضا کا یہ شِعار حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوا اور حضرتِ اسماعیل ؑ کے توسط سے رحمۃللعالمین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا۔ غزوۂ حنین میں قبیلۂ ہوازن کی شدید تیر اندازی کے سبب جب وقتی طور پرمجاہدین کے قدم اکھڑ گئے ‘تو رسول اکرم ﷺ تنہا میدان میں پوری استقامت کے ساتھ کھڑے رہے اور فرمایا : ”میں نبی ہوں یہ کوئی جھوٹ نہیں ہے ‘ میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں ‘‘۔ رسول کریم ﷺ سے اللہ کی راہ میں عزیمت و استقامت اور جاں نثاری کی یہ وراثت آپ ﷺکے اہلِ بیتِ اطہار کو منتقل ہوئی اور میدانِ کربلا میں امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہلِ بیتِ اطہار و اعوان و انصار رضی اللہ عنہم کے ذریعے یہ روایت اپنی معراج کو پہنچی ‘ علامہ اقبالؔ نے کہا تھا : 

غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم 

نہایت اس کی حسین‘ ابتدا ہے اسماعیل 

اللہ تعالیٰ کے محبوب و مقرّب بندے سراپا تسلیم و رضا ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ کی قضا و قدر پر شاکی نہیں ہوتے ‘بلکہ راضی رہتے ہیں۔ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بھی عبدالرحمن بن ملجم کودیکھتے تو اس کی نشاندہی اپنے قاتل کے طور پر کرتے ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیاگیا : ”آپ اس کو قتل کیوں نہیں کرتے ‘‘ اس پر حضرت علی نے کہا: ”میں اپنے قاتل کو کیسے قتل کردوں‘‘(الفخری فی آداب السلطانیہ ‘ج:1ص:105) ۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی شہادت کا علم تھا؛چنانچہ ایک موقع پر رسول اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ کے جسم پر مٹی لگی ہوئی دیکھی‘ تو فرمایا:” اے ابوتراب!میں تمہیں دو بدبخت ترین آدمیوں کے بارے میں نہ بتادوں‘حضرت علیؓ نے عرض کیا:یارسول اللہ! ضرور بتائیے‘ آپﷺ نے فرمایا: (ایک )قومِ ثمود کاأُحَیْمِرُہے ‘جس نے (حضرت صالح علیہ السلام کی)ناقہ کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اے علی! (دوسرا) وہ شخص ہوگا ‘جو تمہارے سر پر ضرب لگائے گااور خون سے تمہارے جبڑے تک تر ہوجائے گا‘‘(مسند احمد:18321)۔

یہ تمام حقائق اس بات پر شاہد ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی شہادت کاعلم تھا اور شاید قاتل کا بھی علم تھا‘ اسی لیے انہوں نے اپنے قاتل کا خاتمہ نہیں کیا‘ بلکہ برضا ورغبت شہادت کے لیے تیار رہے ۔ یہی صورتِ حال امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ کی بھی تھی کہ شہادت کی منزل انہیں آفتاب نصف النہار کی طرح اپنی نگاہوں کے سامنے نظر آرہی تھی‘لیکن آپ کے پائے ثبات میں کو ئی لغزش نہ آئی اور اس منزل کو پانے کے لیے آپ تیار رہے ۔ شب عاشورکو انتہائی فصیح وبلیغ کلمات میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا: ”جو آج کی شب اپنے خاندان والوں کے پاس جانا چاہتا ہے‘ تو میں اسے اجازت دیتا ہوں ‘تم پر رات کی ظلمت چھاچکی ہے ‘ تم میں سے ہر ایک میرے گھر کے ایک فرد کا ہاتھ پکڑ لے اوررات کی تاریکی میں اپنے خاندانوں کی طرف نکل جائے ‘اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے ‘قوم کو صرف میرا خون چاہیے ‘جب وہ مجھے شہید کردیں گے ‘ تو ان کی پیاس بجھ جائے گی ‘ کسی اور سے انہیں کیا غرض ‘‘۔آپ کے اہلبیت کے مردوں نے کہا: ”آپ کے بعد جینے میں کوئی مزا نہیں ہے ‘لوگ کہیں گے :تم نے اپنے بزرگوار ‘ اپنے سردار ‘اپنے چچازاد اور بہترین چچا کو تنہا چھوڑ دیا‘تم نے ان کی مدافعت میں ایک تیر اور ایک نیزہ بھی نہ چلایا ‘دنیاوی زندگی کی خاطر تم نے تلوار تک نہ چلائی ۔واللہ! ہم آپ پر اپنی جانوں ‘اپنے مالوں اور اپنے اہل وعیال کو قربان کردیں گے اور آخری سانس تک آپ کی مدافعت میں لڑیں گے ‘آپ کے بعدجینے کا کیا مزا ‘‘۔

الغرض وہ سب کوہِ استقامت تھے ‘ موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کے باوجود آپ کا ساتھ نہ چھوڑا‘ مقامِ تسلیم ورضا اسی کا نام ہے کہ انسان جب دنیاوی نفع ونقصان سے ماوراہوکر حیاتِ ابدی اور رضائے الٰہی کو اپنی منزل بنالیتاہے ‘تو اُس کے لیے جان کی قربانی بھی آسان ہوتی ہے ‘علامہ اقبالؔ نے کیاخوب کہاہے : 

برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی

ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی 

تو اسے پیمانۂ امروز و فرداسے نہ ناپ 

جاوداں‘ پیہم رواں‘ ہر دم جواں ہے زندگی 

صبحِ عاشور آپ نے اتمامِ حجت کرتے ہوئے حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا:کیا مجھ جیسی شخصیت کو قتل کرنا تمہیں گوارا ہے ‘ میں تمہارے نبی کا شہزادہ ہوں اور آج میرے سوا اللہ کی زمین پر کسی نبی کا فرزند موجود نہیں ہے ‘علی میرے باپ ہیں ‘جعفرطیار میرے چچا ہیں ‘سید الشہداء حمزہ میرے والد کے چچا ہیں ‘میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”یہ دونوں نوجوانانِ جنت کے سردار ہیں ‘میرا مقام جاننا ہو تو اصحابِ رسول سے پوچھو ‘‘۔لیکن ان کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی اور سعادت ان کے مقدر میں نہ تھی ۔

شعارِ تسلیم ورضا کوحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں اُس معراج تک پہنچایا کہ جس کی نظیر تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی ۔ اللہ کی راہ میں ایثار وقربانی کا کوئی ایسا عنوان باقی نہ رہا‘ جسے آپ نے اپنی نسبت سے مُشرَّف نہ کیاہو ۔ اس سے پہلے جب آپ مدینۂ منورہ سے عزمِ سفر کرنے لگے ‘تو جلیل القدر صحابہ حضرت عبداللہ بن عباس ‘حضرت عبداللہ بن زبیر ‘حضرت ابوسعید خدری وغیرہم رضی اللہ عنہم اجمعین نے آپ کو اس سفر سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اہلِ کوفہ کی جفا کابھی حوالہ دیا ‘لیکن آپ اپنے عزم پر قائم رہے ۔ اس کاسبب یہ تھا کہ اہلِ کوفہ نے بڑی تعداد میں خطوط بھیج کر آپ کوفہ آنے کی دعوت دی تھی اورامیرالمومنین و خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے آپ کی بیعت کا وعدہ کیاتھا ۔ آپ بجاطورپر یہ سمجھتے تھے کہ رسول ﷺ سے نسبتِ قرابت ‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرزند اور حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کالختِ جگر ہونے اور اپنے علم اور ورَع وتقویٰ کے سبب آپ خلافت کے اہل ہیں ؛ چنانچہ آپ عمرہ اداکرنے کے بعد منازلِ سفر طے کرتے ہوئے کربلا پہنچے اور محرم الحرام 61ھ کے یومِ عاشور کو جب کوفے کی مساجد سے اذانِ جمعہ کی آوازیں بلند ہورہی تھیں ‘ شقی القلب لوگ تقریباً اُسی وقت نواسۂ رسول کی گردن پر خنجر چلارہے تھے ۔یہ منظر کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابلِ تصور ہے‘ لیکن امت کی بدنصیبی کہ بظاہریہ ناممکن فعل واقع ہوا اور آج تک اس پر تمام اہلِ ایمان اور محبانِ رسول ﷺ ومحبانِ اہلِ بیتِ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین رنجیدہ ہیں ۔

لیکن ستم یہ ہے کہ محبت ِحسین کے دعوے دار تو بہت ہیں اور اپنے اپنے انداز میں ان کی یاد بھی مناتے ہیں ‘ان کا غم بھی تازہ کرتے ہیں اور مجالس بھی منعقدکرتے ہیں‘مگر اُن کی اقدار کو زندہ کرنے والے آج بھی کم یاب‘ بلکہ نایاب ہیں ‘ علامہ اقبالؔ نے سچ کہا تھا : 

گرچہ تابدار ہے ‘اب بھی گیسوئے دجلہ و فرات

قافلۂ حجاز میں ‘ایک حسین بھی نہیں

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

 

حضرت آدم و موسیٰ

حدیث نمبر 79

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم و موسیٰ نے اپنے رب کے نزدیک ۱؎ مناظرہ کیا تو آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ آپ وہ آدم ہیں جنہیں اﷲنے اپنے دستِ قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی روح پھونکی ۲؎ اور اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا ۳؎ آپ کو جنت میں رکھا۴؎ پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو نیچے اتاردیا ۵؎ حضرت آدم نے فرمایا کہ آپ ہی وہ موسیٰ ہیں جنہیں اﷲ نے اپنی پیغمبری اور ہمکلامی کے لیئے چنا ۶؎ اور آپ کوتختیاں بخشیں جن میں ہر چیز کاکھلا بیان ہے ۷؎ اور ایک کوخصوصی ہمکلامی سے قرب بخشا فرمایئے کہ آپ نے میری پیدائش سے کتنے پہلے توریت کو پایا کہ رب نے لکھ دیا تھا۸؎ حضرت موسیٰ نے فرمایا چالیس سال پہلے۹؎ حضرت آدم نے فرمایا تو کیا آپ نے توریت میں یہ بھی دیکھا ۱۰؎ کہ آدم نے اپنے رب کی فرمانبرداری سےلغزش کی تو کامیاب نہ ہوئے فرمایا ہاں آپ نے فرمایا کیا آپ اس لغزش پر ملامت کرتے ہیں ۱۱؎ جس کا کرلینا میرے مقدر میں میری پیدائش سے چالیس سال پہلے لکھا جاچکا تھا ۱۲؎ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ حضرت آدم موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے۱۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یا تو عالم ارواح میں،یا موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں آدم علیہ السلام کو زندہ فرما کر اور ان سے ملاقات کرا کے،یا اس طرح کہ حضائرقدس میں اُن کی ملاقات ہوئی۔مرقات میں ہے کہ انبیائے کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں نمازیں پڑہتے ہیں۔دیکھو ہمارے حضور نے معراج میں تمام نبیوں سے ملاقات کی اور انہیں نماز پڑھائی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ عالم ارواح پر بھی ہے کہ وہاں کے حالات ملاحظہ فرماتے اور لوگوں کو سناتے ہیں کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ حضور یہ دیکھا ہوا واقعہ بیان فرمارہے ہیں۔

۲؎ یعنی آپ کا جسم شریف بلاواسطہ فرشتہ اور بغیرتوسل ماں باپ دستِ قدرت سے بنایا اور اپنے تمام کمالات کا مظہر کیا اور اپنی پیدا کی ہوئی روح آپ کے جسم میں جاری فرمائی۔یہاں اضافت شرافت کی ہے ورنہ خدائے تعالٰی خود روح سے پاک ہے،حقیقتِ روح رب ہی جانے مگر معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھونکنے کے قابل چیز ہے کیونکہ ہر جگہ اس کے لیئے پھونکنے کا لفظ ہی آتا ہے۔اولیاء اﷲ کا جھاڑ پھونک ان جیسی احادیث اور آیات سے ماخوذ ہے۔

۳؎ سارے فرشتوں سے مقربین ہوں،یا مدبّراتِ امر،زمین کے ہوں یا آسمان کے،تعظیمی سجدہ زمین پر پیشانی رکھ کر نہ فقط رکوع اور نہ صرف جھکنا۔رب تعالٰی فرماتا ہے:”فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ "یہ سجدۂ عبادت نہ تھا کہ خدا کو ہوتا اور آدم علیہ السلام قبلہ ہوتے جیسا کہ لَكَ کے لام سے معلوم ہوا،ورنہ شیطان کبھی ا س سے انکار نہ کرتا۔

۴؎ عارضی طور پر تربیت دینے کے لئے تاکہ زمین کو اس طرح آباد کریں ورنہ آپ کی پیدائش زمین کی خلافت کے لیئے تھی اس کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی میں دیکھو۔

۵؎ یعنی خطاء اجتہادی اور بُھول سے گندم کھالیا جس کی وجہ سے آپ زمین پر تشریف لائے۔اور نسل یہاں چلی،اگر آپ وہیں رہتے تو ہم سب وہیں پیدا ہوتے۔

لطیفہ: ایک گستاخ نے کسی عالم سے کہا کہ دادا کا گناہ ہم بھگت رہے ہیں،گندم انہوں نے کھایا سزا ہمیں ملی،وہ ہمیں نیچے اتار لائے،عالم نے کہا غلط،بلکہ تجھ جیسے مردودوں نے انہیں نیچے اتارا،رب جانتا تھا کہ ان کی پشت میں تجھ جیسے بے ایمان بھی ہیں حکم دیا کہ اے آدم ان خبیثوں کو زمین پر پھینک آؤ،پھر واپس آجانا۔موسیٰ علیہ السلام کی یہ عرض و معروض گستاخی کے طور پرنہیں،انبیاء جدّ امجد کی گستاخی سے معصوم ہیں۔

۶؎ زمین پر رہ کر بلاواسطۂ فرشتہ رب تعالٰی سے کلام کرنا موسیٰ علیہ السلام کی خصوصیّت ہے،اسی لیئے آپ کا لقب کلیم اﷲ ہے،لامکان میں پہنچ کر ربّ کا دیدار اور اس سے کلام ہمارے حضور کی خصوصیّت ہےکیونکہ آپ حبیب اﷲ ہیں۔

۷؎ یعنی توریت شریف جو زبرجد کی تختیوں پر لکھی ہوئی عطا فرمائی گئی اس میں احکام شرعیہ اور سارے علوم غیبیہ کا کھلا بیان تھا۔خیال رہے کہ بوقتِ عطا توریت میں ہدایت بھی تھی اور ہر چیز کا بیان بھی مگر جب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قوم کی بچھڑا پرستی پر غصّہ کی وجہ سے زمیں پر گرگئیں۔تو ہدایت و رحمت تو رہ گئی”تَبْیَانُ کُلِّ شَیْءٍ”اس میں سے اٹھالی گئی،رب تعالٰی فرماتاہے:”وَلَمَّا سَکَتَ عَنۡ مُّوۡسَی الْغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلْوَاحَ وَ فِیۡ نُسْخَتِہَا ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمْ لِرَبِّہِمْ یَرْہَبُوۡنَ "۔دیکھو یہاں تبیان کا ذکر نہیں۔ خلاصہ یہ کہ توریت میں سارے علوم غیبیہ تھے مگرباقی نہ رہے لیکن قرآن شریف میں سارے علوم غیبیہ تھے بھی اور باقی بھی رہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:”نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیٰنًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ” لہذا موسیٰ علیہ السلام کا علم ہمارے حضور کے برابر نہیں ہوسکتا۔

۸؎ یعنی آپ کو تو خبر ہے کہ میری پیدائش سے کتنا عرصہ پہلے توریت شریف لوح محفوظ میں،یا فرشتوں کے صحائف میں،یا ان تختیوں میں لکھی جاچکی تھی۔تیسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی نگاہ اس عالم کی پیدائش سے پہلے واقعات کو بھی دیکھتی ہے کہ جو واقعہ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قبل ہوچکا تو وہ موسیٰ علیہ السلام کی نگاہ میں ہے جیسا کہ وَجَدتَّ سے معلوم ہوتا ہے۔

۹؎ اگرتختیوں میں لکھنا مراد ہے تو سال سے اس دنیا کے سال مراد ہوں گے،اور اگر لوح محفوط میں لکھنا مراد ہے تو رب تعالٰی کے سال مراد ہوں گے جو ایک سال یہاں کے ہزار سال سے بھی زیادہ ہے،لہذا یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف نہیں کہ لوح محفوظ کی تحریر آسمان زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے ہوئی(ازاشعہ و مرقاۃ)۔خیال رہے کہ توریت کلام الٰہی قدیم ہے اس کے نقوش کا لکھنا حادث اسی کا یہاں ذکر ہے۔

۱۰؎ یعنی غلط فہمی سے جس مقصد کے لیئے گندم کھایاتھا انہیں وہ حاصل نہ ہوا ہمیشگی اورموت سے بچ کر جانا۔خیال رہے کہ انبیائےکرام نبوت سے پہلے اوربعدگناہ صغیرہ اور کبیرہ سب سےمعصوم ہیں۔(مرقاۃ)ہاں خطاءلغزش اجتہادی غلطی ہوسکتی ہے اور عتاب الٰہی جو اُن کی لغزشوں پر آتا ہے اس میں ہزارہاحکمتیں ہوتی ہیں لہذا "عصیٰ”اور”غویٰ”کے وہی معنٰے ہیں جوفقیرنے عرض کیے۔

۱۱؎ یعنی ملامت کے انداز میں گفتگو کررہے ہو ورنہ موسیٰ علیہ السلام آپ کو نہ ملامت کرسکتے تھے نہ کی۔بیٹے کو باپ پر خصوصًا بنی باپ پرشاگردکو استاد پر ملامت کرنے کا حق نہیں۔

۱۲؎ اور رب تعالٰی نے بھی اس کی معافی کا اعلان فرمادیا۔خیال رہے کہ یہاں موسیٰ علیہ السلام کی نظر ظاہر پر تھی اور آدم علیہ السلام کا جواب حقیقت پرمبنی ہے آج ہم جیسے گنہگار تقدیر کی آڑ لےکر اپنے گناہوں سے بری نہیں ہوسکتے،یعنی اے موسیٰ!میری یہ خطا اور جنت سے زمین پر آنا،یہاں یہ باغ و بہار لگانا سب رب تعالٰی کے ارادہ اور اسکی مرضی سے تھا جس میں ہزاروں اسرار تھے تم صاحبِ اسرار ہو کر مجھ سے یہ سوال کیوں کرتے ہو؟۔

۱۳؎ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سوال شریعت پر اور حضرت آدم کا جواب حقیقت پر مبنی ہے حقیقت غالب رہتی ہے،حقیقت والے خضر علیہ السلام نے بچے کو بلا گناہ قتل کردیا اور ان پرکوئی فتویٰ جاری نہ ہوا۔