خون کے آنسو

حکایت نمبر153: خون کے آنسو

حضرت سیدنا اسماعیل بن ہشام علیہ رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ایک مرید نے بتایا :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمتِ بابر کت میں حاضر ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے ہوئے تھے، آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھا، ہتھیلیاں آنسوؤں سے تر بتر تھیں۔ مَیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب ہوا اور غور سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف دیکھا تو میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش تھی جس کی وجہ سے آنسو سرخی مائل ہوگئے تھے ۔”

مَیں یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا اور عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ عزوجل کی قسم! سچ سچ بتائیں؟کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش ہے ؟”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :”اگر تُو نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں ہر گزنہ بتاتا لیکن اب مجبور اًبتا رہا ہوں کہ واقعی میری آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ خون بھی بہتا ہے اسی وجہ سے آنسوؤں کی رنگت تبدیل ہوگئی ہے ۔”میں نے عرض کی: ”حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے اور آخرایسا کون سا غم آپ کو لاحق ہے کہ آپ خون کے آنسو روتے ہیں؟ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”میں روتا تو اس لئے ہوں کہ میں اللہ عزوجل کے اَحکام پر عمل نہ کرسکا ، اس کی عبادت میں کوتا ہی کرتا رہا، مَیں اپنے مالک حقیقی عزوجل کی کَمَاحَقُّہٗ فرمانبردار ی نہ کرسکا اور آنسوؤں میں خو ن اس لئے آتا ہے کہ مجھے یہ خوف ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے کہ میرا یہ رونا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مقبول بھی ہے یا نہیں ۔ میرے اعمال میرے مولیٰ عزوجل کی بارگاہ میں قبول بھی ہوئے ہیں یا نہیں؟” بس یہی خوف مجھے خون کے آنسو رُلاتا ہے ۔”اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دو بارہ رونے لگے ۔پوری زندگی آپ کی یہی کیفیت رہی او راسی حالت میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا۔وصال کے بعد میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں دیکھا تو عرض کی: ”مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟” آپ نے جواب دیا :” میرے رحیم وکریم پروردگا ر عزوجل نے مجھے بخش دیا ۔”پھر میں نے پوچھا: ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں کا آپ کو کیاصلہ دیا گیا ؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”میرے پاک پرورگار عزوجل نے مجھے اپناقُرب خاص عطا فرمایا اور پوچھا: ”اے فتح مو صلی!تم دنیا میں آنسو کیوں بہایا کرتے تھے ؟” میں نے عرض کی: ”میرے رحیم وکریم پروردگار عزوجل! مَیں اس خوف سے آنسو بہاتا تھا کہ میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہ کیا، تیری اطا عت نہ کرسکا، تیرے اَحکامات پر عمل پیرا نہ ہوسکا۔” پھر اللہ عزوجل نے مجھ سے پوچھا:” تمہارے آنسوؤں میں خون کیوں آتا تھا ؟” میں نے عرض کی:” اے میرے پاک پروردگار عزوجل !مجھے ہر وقت یہ خوف دامن گیر رہتا کہ نہ جانے میرے اَعمال تیری بارگاہ میں مقبول بھی ہیں یا نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ میرے اعمال ا کارت ہوگئے ہوں، بس یہی خوف مجھے خون کے آنسورلاتا تھا ۔”یہ سن کرمیرے پاک پروردگار عزوجل نے ارشاد فرمایا: ”اے فتح موصلی !یہ تیرا گمان تھا کہ تیرے اعمال مقبول ہیں یا نہیں، مجھے میری عزت وجلال کی قسم !چالیس سال سے تمہارے نامہ اعمال میں تم پر نگہبان فرشتوں(یعنی کراماً کاتبین) نے ایک گناہ بھی نہیں لکھا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

ٹوٹی ہو ئی صراحی

حکایت نمبر152: ٹوٹی ہو ئی صراحی

حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، آنکھوں سے آنسوؤں کی بر سات ہورہی تھی، بڑے درد مندانہ اَنداز میں رو رہے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک صراحی ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے جاکر سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا ۔ مجھے دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رونا بند کردیا۔ میں نے عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟ آخر آپ کو ایسا کون ساغم لاحق ہوگیا ہے جس کی وجہ سے آپ اتنی گریہ و زاری کر رہے ہیں؟”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:” آج میں روزے سے تھا ، میری بیٹی یہ صراحی لے کر آئی، اس میں پانی بھرا ہوا تھا ۔اس نے مجھ سے کہا: اے میرے والد گرامی! آج گرمی بہت زیادہ ہے، مَیں یہ صراحی لے کر آئی ہوں تا کہ اس میں پانی ٹھنڈا ہو جائے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ٹھنڈے پانی سے روزہ افطار کریں۔” یہ کہنے کے بعد میری بیٹی نے وہ صراحی ٹھنڈی جگہ رکھ دی ، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں ایک حسین وجمیل عورت دیکھی، اس نے چاندی کی قمیص پہنی ہوئی تھی ، اس کے پاؤں میں ایسی خوبصورت جوتیاں تھیں کہ میں نے آج تک ایسی جوتیاں کہیں نہیں دیکھیں اور نہ ہی ایسے خوبصورت پاؤں کبھی دیکھے۔ وہ میرے پاس اسی دروازے سے اس کمرے میں آئی۔میں نے اس سے کہا :”تُو کس کے لئے ہے ؟” اُس نے جواب دیا : ”مَیں اس کے لئے ہوں جو ٹھنڈے پانی کی خواہش نہ کرے اور صراحی کا ٹھنڈاپانی نہ پئے۔”اِتنا کہنے کے بعد اس نے صراحی کو اپنی ہتھیلیو ں سے گھمانا شروع کیا ۔ میں نے وہ صراحی اس سے لی اور زمین پر دے ماری پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ یہ جو تم سامنے ٹو ٹی ہوئی صراحی دیکھ رہے ہو یہ وہی صراحی ہے ۔”حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :”اس کے بعد حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی نے کبھی بھی ٹھنڈا پانی نہ پیا۔ مَیں جب بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر جاتا تو دیکھتا کہ وہ صراحی اسی طر ح ٹوٹی ہوئی پڑی ہے اور اس پر گرد وغبار کی تہہ جم چکی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس خواب کے بعد صراحی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

خواجہ معین الدین چشتی قدس اللہ سرہٗ

خواجہ معین الدین چشتی قدس اللہ سرہٗ 

 جہاں گیرحسن مصباحی

سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ سیستان کے قصبہ سنجر میں۵۳۷ہجری کو پیدا ہوئے۔آپ ایک دین داراور علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نجیب الطرفین سیدہیں۔بچپن ہی سے نرم دل اور شریف طبیعت کے مالک تھے۔آپ کی طبیعت بچوںکی عام عادت اور مزاج سے یکسرجداتھی،بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بچپن کے زمانے سے ہی خواجہ غریب نواز کے اندر وہ تمام آثارنمایاں تھے جو ایک مردمومن کی علامت اور پہچان ہوتی ہے۔

تعلیم وتربیت:

حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی نشو و نما خراسان میں ہوئی اوروہیںپلے بڑھے۔جب پندرہ سال کے ہوئے تو والد بزرگوار کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ترکہ میں ایک باغ ملاہواتھا، اسی کی نگہبانی کیا کرتے تھے۔ ایک دن ابراہیم قندوزی نامی بزرگ باغ میں آئے۔ خواجہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی خدمت میں انگور کے خوشے پیش کیے لیکن انھوں نے انگور نہیں کھایااورکھلی کے ایک ٹکڑے کو دانتوں سے چبا کر خواجہ غریب نوازرحمۃ اللہ علیہ کو دیا۔اس کھلی کا کھانا تھا کہ حضرت کا دل انوار الٰہی سے معمورہو گیا۔ علائق کو چھوڑ کر طلب حق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور سمرقندوبخارا پہنچے۔وہیں کلام مجید حفظ کیا اور علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی۔

شرف بیعت : 

تعلیم مکمل کر نے کے بعد عراق پہنچے اور حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ سے شرف بیعت حاصل کی۔کچھ دنوںتک مرشد کی خدمت میں رہے اورطریقت و معرفت کی منزلیں طے کیں۔ پھرجب عشق رسول کی تپش بڑھی تو مدینہ طیبہ کا ارادہ کیا،وہاںکچھ دن گذارنے کے بعدبارگاہ نبوی سے اشارہ ملا کہ ہندوستان جائو اور دین اسلام کی تبلیغ کرو۔

ہندوستان آمد: 

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت کرتے ہوئے ہندوستان تشریف لائے۔ آپ جس وقت تشریف لائے،اس وقت ہندوستان میں ہر طرف کفر و ضلالت کابازار گرم تھا۔ انسانیت انسانوں کے ہاتھوں پامال ہو رہی تھی۔ لوگ ایک خدا کی پرستش کے بجائے کئی خداؤں کا تصور رکھتے تھے اور طرح طرح کے خرافات میںمبتلا تھے۔ ایسے حالات میں آپ نے توحید و رسالت کی ایسی شمع روشن کی کہ اس کی روشنی سے سرزمین ہندآج تک منورہے اورتاقیامت یوں ہی منور رہے گی۔

ہر دور میں ہندوستان کے حکمرانوں کو خواجہ رحمۃ اللہ علیہ سے بے پناہ عقیدت رہی۔اس کے شواہد تاریخی دستاویزات کے ساتھ ساتھ، درگاہ اجمیر شریف میں ان بادشاہوں کی حاضری، تعمیرات اور نذر و نیاز جیسے اعمال ہیں۔

ازدواجی زندگی:

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی دو شادیاں ہوئیں، جن میں ایک ’’عصمت بی بی‘‘ جو حاکم اجمیر کی بیٹی تھیں اور دوسری ایک ہندو راجہ کی لڑکی ’’بی بی امۃاللہ‘‘ تھیں جو مشرف بہ اسلام ہو گئی تھیں۔

خواجہ علیہ الرحمہ کے تین لڑکے سید فخرا لدین، سید ضیاء الدین ابو سعید اور سید حسام الدین رحمۃ اللہ علیہم تھے اور ایک بیٹی ’’بی بی حافظہ جمال ‘‘رحمۃ اللہ علیہا تھیں۔

معمولا ت:

ایمان کی اصل یہ ہے کہ مومن کے اندر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ماں ،باپ ، اولاد اور مال، بلکہ ہرچیزسے زیادہ ہو،جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہوگی اسی قدر ایمان میں مضبوطی آئے گی۔خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے معمولات دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی تمام زندگی عشق الٰہی اورعشق رسول میں گزری۔اللہ عز وجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بہت ہی والہانہ انداز سے کرتے اورہمیشہ اس بات کا خوف رہتا کہ کہیں حقوق اللہ اور حقوق العبادمیں کوئی کوتاہی نہ ہوجائے،جس کے سبب کل قیامت میں اللہ عز وجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندہ ہوناپڑے۔

مجاہدے کا یہ عالم تھا کہ بہت ہی کم سوتے۔ اکثر عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے۔کثرت سے کلام پاک کی تلاوت کیا کرتے۔ کسی شہر میں پہنچتے تو قبرستان میں قیام کرتے اور جب لوگوں کو ان کی خبر ہو جاتی تو وہاں سے چل دیتے۔بدن پر برابرفقیرانہ لباس ہوتا۔ اگر وہ کہیں سے پھٹ جاتا تو جس رنگ کا کپڑا ملتا اسی کا پیوند لگا لیتے۔ کھانا بہت کم کھاتے۔اکثر روزہ رکھاکرتے۔بعض تذکرہ نگاروں نے لکھاہے کہ آپ صائم الدہر تھے۔ سفر میں تیر و کمان، نمکدان اور چقماق ساتھ رکھتے ،تاکہ افطار میں کوئی دقت نہ ہو۔

یوں تو تمام صوفیااوراولیا حلیم وبردباراور عفوودرگذرکاپیکر ہوتے ہیں لیکن خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ درویشانہ صفت کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ ’’ یا رَبِّ حَبْلِیْ اُمَّتِی‘‘ کی طرزپراپنے مریدین ومتوسلین کے لیے دعائیں کرتے اور اپنے ہر عمل سے سنت نبوی کاپیغام دیتے ۔پڑوسیوں کا بھی اچھی طرح خیال رکھتے۔ جب کوئی ہمسایہ انتقال کر جاتا تو اس کے جنازے میں شریک ہوتے۔ لوگ واپس لوٹ جاتے لیکن آپ دیر تک اس کی قبر کے پاس دعائیںکرتے رہتے۔عذاب قبر کا خوف بھی آپ میں حد درجہ تھا، جب کبھی قبر کا ذکر آتا تو چیخیں مار کر رو پڑتے۔

سماع: 

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ سماع کا بھی ذوق رکھتے تھے۔ان کی محفل سماع میںبڑے بڑے علماا ور مشائخ شریک ہوتے تھے۔ان کاخیال تھا کہ سماع اسرار حق اور معرفت الہٰی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ سماع میں اللہ اور بندے کے درمیان کے سارے حجابات اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ پھرجب بندے پرعشق الہی کا غلبہ ہوتاہے اوراللہ کی ہیبت و خشیت طاری ہوتی ہے تواس کا قلب انواروتجلیات سے بھرجاتاہے اوروہ و جدوسرور کی ایمانی کیفیت سے سرشارنظرآتا ہے۔

تصانیف:

بعض لوگوں نے خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کی جانب جن تصانیف کو منسوب کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔انیس الارواح

۲۔ گنج اسرار

۳۔کشف الاسرار

۴۔دلیل العارفین

اول الذکر تصنیف خواجہ عثمان ہارونی کے ملفوظات پر مشتمل ہے ۔اس میں دیوان معین کے علاوہ کئی مختلف رسالے بھی ہیں جبکہ آخرالذکرتصنیف خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات پر مشتمل ہے، جس میں اخلاق، نماز، روزہ، تلاوت،معرفت کی باتیں اور سلوک کے مقامات وغیرہ کا ذکرمختصر اورجامع طورپرہے۔

وصا ل:

خواجہ رحمۃ اللہ علیہ عشا کی نماز پڑھ کر اپنے حجرے میں گئے ، دروازہ بندکرلیااورکچھ دیربعدایسے پاؤں پٹکنے کی آواز آنے لگی جیسے کوئی وجد وکیف کے عالم میں پٹکتاہے اور اسی وجد کے عالم میں آخر شب کو ان کی روح پرواز کر گئی اور یوں ’’حبیب اللہ، حب اللہ‘‘ کی خاطر جاں بحق ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن

علماء کی شان وشوکت

حکایت نمبر141: علماء کی شان وشوکت

حضر ت سیدنا امام ابن شہاب زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے مروی ہے کہ جب ابراہیم بن ہشام حاکم بنا تو میں اس کے ساتھ ہی رہتا ۔وہ کئی معاملات میں مجھ سے مشورہ کرتا ۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا :” اے زہری (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) !کیا ہمارے شہر میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی صحبت پائی ہو، اگر کوئی ایساشخص تمہاری نظر میں ہے تو بتا ؤ ۔” میں نے کہا : ”ہاں،حضرت سیدنا ابو حازم علیہ ر حمۃ اللہ الدائم اس شہر میں رہتے ہیں، انہیں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبتِ با برکت حاصل ہوئی ہے او ران سے سنی ہوئی کئی حدیثیں بھی آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) بیان فرماتے ہیں ۔”

چنانچہ ابراہیم بن ہشام نے ایک قاصد بھیج کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بلوایا ، آپ تشریف لائے اور سلام کیا ۔ابراہیم بن ہشام نے جواب دیا اور کہا:” اے ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم !ہمیں کوئی حدیث سنائیے ۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اے ابراہیم بن ہشام! اگر مجھے تمہاری آخرت کی بھلائی مقصود نہ ہوتی تو میں کبھی بھی تیرے پاس حدیث نبوی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سنانے نہ آتا۔ ابراہیم بن ہشام نے پوچھا: ”حضور! آپ یہ بتائیں کہ ہمیں نجات کس طرح حاصل ہوگی؟”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” اس کا ایک ہی طر یقہ ہے کہ تم اللہ عزوجل کے اَحکام کو تمام مخلوق پر ترجیح دو، اللہ عزوجل کے حکم کے خلاف کسی کی بھی بات نہ مانو، مال حلال طریقے سے حاصل کر و اور جہاں اسے صرف کرنے کا حق ہے وہیں صرف کرو ۔”ابراہیم بن ہشام کہنے لگا :” ان باتوں پرکَمَا حَقُّہٗ کون عمل کر سکتا ہے؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ” اے ابراہیم! اگر تُو چاہتا ہے کہ تجھے دنیا میں سے اتنی چیز ملے جو تجھے کافی ہو تو تیرے لئے تھوڑی سی دنیوی نعمتیں بھی کافی ہیں اگر تو صبر کرے۔ اور اگر تُودنیا کا حریص ہے تو چاہے کتنا ہی مال و زر جمع کرلے تیری حرص ختم نہ ہوگی تُو کبھی بھی دُنیوی دولت سے بے نیاز نہ ہوگا، ہر وقت اس میں اضافے کا متمنی ہوگا ۔”ابراہیم بن ہشام نے پوچھا :”کیا بات ہے کہ ہم جیسے لوگ موت کو ناپسند کرتے ہیں ؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”تم لوگو ں نے اپنی ساری تو جہ دنیا کی دولت پر دے رکھی ہے او رہر وقت تمہارے سامنے دنیوی نعمتیں موجود رہتی ہیں ۔ اس لئے تمہیں ان نعمتوں سے جدا ہونا پسند نہیں۔ اگر تم آخرت کی تیاری کرتے اور آخرت کے لئے اعمال صالحہ کئے ہوتے تو تم موت کو کبھی بھی ناپسند نہ کرتے بلکہ آخرت کی نعمتوں کی طرف جلدی کرتے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر حضرت سیدنا امام زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا:” اے امیر!خدا عزوجل کی قسم !میں نے آج تک کبھی بھی اس کلام سے بہتر کلام نہیں سنا۔” شیخ ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم نے کیسے جامع کلمات کے ساتھ ہمیں نصیحت کی ہے، میں عرصہ دراز سے ان کا پڑوسی ہوں لیکن افسوس !میں کبھی ان کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوسکااوران کی صحبتِ بابر کت سے محروم رہا ۔”شیخ ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم نے فرمایا: ”اے ابن شہاب زہری( رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )! اگر تو ان علماء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم میں سے ہوتا جو دنیا داروں سے بے نیاز ی کو پسند کرتے ہیں تو ضرور میری مجلس میں بیٹھتا اور ضرور مجھ سے ملاقات کا سلسلہ رکھتا ۔”اس پر حضرت سیدناابن شہاب زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے عرض کی: ”اے ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم ! مجھے آپ کی اس بات نے غمزدہ کردیاہے۔” توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اے زہری علیہ رحمۃ اللہ القوی! جب کوئی شخص اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر علم حاصل کرتا ہے تو وہ شخص اپنے اس علم کی بدولت مخلوق سے بے نیاز ہوجاتا ہے، اسے کوئی دُنیوی غرض وغایت نہیں ہوتی اور ایسے عالم ِربّانی کی طرف لوگ اِکتسابِ علم کے لئے آتے ہیں۔ بڑے بڑے اُمراء ودنیا دار لوگ اس عالم ربّانی کی بارگاہ میں دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا عالم اُمراء اور عوام دونوں کے لئے با عث نجات ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ انہیں حق با ت ہی کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے۔اگر علماء کودنیا کی حرص با دشا ہوں کے درباروں میں لے جائے تو پھر علماء اپنی شان کھو بیٹھتے ہیں اور اُمراء ان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے، ایسے لوگو ں کا علم حاصل کرنا اس لئے ہوتاہے کہ ہماری تعظیم کی جائے، ہماری بات کو اہمیت دی جائے لیکن جب یہ امراء کی محفل میں جاتے ہیں تو ان کا وقار گر جاتا ہے ۔یہ حق بات کہنے کی جرأ ت نہیں رکھتے، ہر وقت با دشاہوں اور اُمراء کی خوشنودی کے طالب ہوتے ہیں ، ایسے علماء ان بادشاہوں اور عوام الناس دو نوں کے لئے ہلاکت کا باعث بنتے ہیں ۔”حضرت سیدنا ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم کی یہ باتیں سننے کے بعد ابراہیم بن ہشام نے کہا :”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی حاجت بیان کریں، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو جس چیز کی ضرورت ہو وہ دی جائے گی۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اے ابراہیم بن ہشام! میں اپنی حاجتیں اس پاک پروردگار عزوجل کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں جو زمین وآسمان کا مالک ہے، میری اُمیدوں کا مرکز صرف میرامالکِ حقیقی عزوجل ہے ۔میں اس کے علاوہ کسی اور کا محتاج نہیں ، میرا مالک عزوجل مجھے جو چیز بھی عطا فرماتا ہے میں اسے بخوشی قبول کرلیتا ہوں اور جس چیز کو مجھ سے روک لیتا ہے میں کبھی بھی اس کی شکایت نہیں کرتا نہ ہی ناشکری کرتا ہوں بلکہ میں اپنے پروردگار عزوجل سے ہر حال میں خوش ہوں۔اس کے علاوہ کسی چیز کو پسند نہیں کرتا۔ یہ دو نعمتیں میرے نزدیک بہت بڑا سرمایہ ہیں:(۱)۔۔۔۔۔۔ اللہ عزوجل کی رضا(۲)۔۔۔۔۔۔زُہدوتقوی۔یہ دو نعمتیں مجھے ہر چیز سے محبوب ہیں۔”ابراہیم بن ہشام نے عرض کی:” اے ابو حازم (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ! برائے کرم آپ ہمارے ہاں تشریف لایا کریں تا کہ ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اکتساب فیض کر سکیں ، اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہ آنا چاہیں تو میں خودحاضر ہوجایا کرو ں گا۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” اے ابراہیم بن ہشام !تُو میرا خیال چھوڑدے اور میرے گھر بھی نہ آنا، اسی میں میری بھلائی ہے ، ہاں اتنا ضرور ہے کہ تُونیک اعمال کی طر ف را غب ہوجا، اگر نیک کام کریگا تو کامیابی کی راہ پر گا مزن ہوجائے گا اور تجھے نجات حاصل ہوجائے گی ۔” اتنا کہنے کے بعدآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے تشریف لے گئے ۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

ظلم کا انجام

حکایت نمبر140: ظلم کا انجام

حضرت سیدنا عبدالمُنعِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والدسے اور وہ حضرت سیدنا وہب علیہ رحمۃ اللہ الاحد سے روایت کرتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک ظالم ومغروربادشاہ رہا کر تا تھا ۔ اس نے ایک عظیم الشان محل بنوایا اور اس کی تعمیر پرکافی مال خرچ کیا ، جب تعمیر مکمل ہوچکی تو اس نے ارادہ کیا کہ میں سارے محل کا دورہ کروں او ردیکھوں کہ یہ میری خواہش کے مطابق بنا ہے یا نہیں ۔ چنانچہ با دشاہ نے اپنے چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور محل کو دیکھنے چل پڑا۔ا ندر سے دیکھنے کے بعد اس نے محل کے بیرونی حصوں کو دیکھنا شروع کیا اور محل کے اردگرد گرد چکر لگانے لگا ۔ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گیا اور ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: ”یہ ہمارے محل کے ساتھ جھونپڑی کس نے بنائی ہے ؟” سپاہیوں نے جواب دیا:” چند روزسے یہاں ایک مسلمان بوڑھی عورت آئی ہے ، اس نے یہ جھونپڑی بنائی ہے اوروہ اس میں اللہ عزوجل کی عبادت کرتی ہے۔”

جب بادشاہ نے یہ سنا تو بڑے مغرورانہ انداز میں بولا:” اس غر یب بڑھیاکویہ جرأ ت کیسے ہوئی کہ ہمارے محل کے قریب جھونپڑی بنائے ، اس جھونپڑی کو فوراً گرا دو ۔” حکم پاتے ہی سپاہی جھونپڑی کی طر ف بڑھے،بڑھیا اس وقت وہاں موجود نہ تھی ۔ سپاہیوں نے آن کی آن میں اس غریب بڑھیا کی جھونپڑی کوملیا میٹ کر دیا۔ بادشاہ جھونپڑی گر وانے کے بعد اپنے دوستوں کے ہمراہ اپنے نئے محل میں چلا گیا ۔

جب بڑھیا واپس آئی تو اپنی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کو دیکھ کر بڑی غمگین ہوئی اور لوگو ں سے پوچھا :” میری جھونپڑی کس نے گرائی ہے ۔” لوگو ں نے بتا یا :” ابھی کچھ دیر قبل بادشاہ آیا تھا، اسی نے تمہاری جھونپڑی گروائی ہے ۔” یہ سن کر بڑھیا بہت غمگین ہوئی اور آسمان کی طر ف نظر اٹھا کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں یوں عرض گزار ہوئی: ”اے میرے پاک پرور دگار عزوجل !جس وقت میری جھونپڑی توڑی جارہی تھی، میں موجود نہ تھی لیکن میرے رحیم وکریم پر ودگار عزوجل! تُو تو ہر چیز دیکھتا ہے، تیری قدرت تو ہر شئے کو محیط ہے ، میرے مولیٰ عز وجل !تیرے ہوتے ہوئے تیری ایک عاجز بندی کی جھونپڑی توڑدی گئی ۔”اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس بڑھیاکی آہ وزاری او ر دعا مقبول ہوئی ۔ اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس پورے محل کو با دشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت تباہ وبر باد کر دے ۔” حکم پاتے ہی حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام زمین پر تشریف لائے اور سارے محل کو اس ظالم بادشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت زمین بوس کر دیا۔”(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ حقیقت ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ضرور دیا جاتا ہے۔ مظلوم کی دعا بارگاہ خدا و ندی عزوجل میں ضرور قبول ہوتی ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھے اور ہماری وجہ سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اے اللہ عزوجل !ہمیں ہر وقت اپنی حفظ وامان میں رکھ اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

اچھے لوگ کون ہيں؟

حکایت نمبر139: اچھے لوگ کون ہيں؟

حضرت سیدنا زید بن عباس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں کہ جب خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے حج کیا تو ان سے کہا گیا کہ اس سال زمانے کے مشہور ولی حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان بھی حج کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ جب خلیفہ ہارو ن الرشیدعلیہ رحمۃ اللہ المجید نے یہ سنا تو اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ بڑے ادب واِحترام سے انہیں میرے پاس لے آؤ ،ہم ان کی صحبت سے فیضیاب ہونا چاہتے ہیں۔” چنانچہ حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان کو بڑے ادب واِحترام کے ساتھ امیر المؤمنین ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید کے پاس لا یا گیا۔ خلیفہ نے انہیں اپنے پاس بٹھایا اورعرض کی : ”مجھے کچھ نصیحت کیجئے تا کہ میں آخرت میں نجات پا جاؤں۔” تو حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان نے فرمایا :” اے امیر المؤمنین! میں عربی زبان سے اچھی طرح واقف نہیں ، آپ کسی ایسے شخص کو بلوا لیں جو میری تر جمانی کر سکے ۔”

چنانچہ ایک ایسے شخص کو لایا گیا جو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تر جمانی کر سکے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس شخص سے کہا : ”امیر المؤمنین سے کہہ دیجئے کہ جو شخص تجھے عذابِ آخرت سے ڈراتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اللہ عزوجل کی طرف سے بے خوف نہ ہونا جب تک تُو امن والی جگہ(یعنی جنت )میں نہ پہنچ جائے ، ایسا شخص اس سے بہتر ہے جو تجھے لمبی لمبی اُمیدیں دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ بس اب تو تُو بخش دیا گیا ہے حالانکہ ابھی تیری زندگی باقی ہے اور ابھی تُو امن والی جگہ میں پہنچا ہی نہیں ؟” ترجمان نے امیر المؤمنین کویہ بات بتائی تواس نے کہا:” اپنے ان کلمات کی مزید وضاحت فرما دیں ۔” توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تر جمان سے فرما یا:”امیر المؤمنین سے کہہ دو کہ نصیحت کرنے والوں میں تجھے دوقسم کے لوگ ملیں گے ایک تو وہ جوتجھے اس طر ح نصیحت کریں گے :” اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل سے ہردم ڈرتے رہو تم بھی اُمت محمدیہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام کے ایک فرد ہو مگر تم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری آپڑی ہے اللہ عزوجل نے تمہیں لوگوں پرامیر مقرر فرمایا ہے اور ان کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری تمہیں سونپی ہے۔ کل بر وز قیامت تم سے تمہاری ذمہ داری کے متعلق پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اللہ عزوجل سے ڈرتے رہو، عدل وانصاف سے کام لو، کسی کے ساتھ ظلم نہ کرو، سیدھا راستہ اختیار کرو، دشمنانِ اسلام سے جنگ کرنے کا موقع آئے تو ان سے بھرپور انداز میں جہاد کرو اوراپنے معاملے میں اللہ عزوجل سے ہر وقت ڈرتے رہو کبھی بھی اپنے آپ کو لوگوں سے بالا تر نہ سمجھو۔ ہر دم اللہ عزوجل کے خوف سے کا نپتے رہو۔”اے امیر المؤمنین! نصیحت کرنے والوں کی دوسری قسم میں ایسے لوگ شامل ہیں جو تمہیں اس طرح کہیں گے :” اے امیر المؤمنین !آپ تو بڑی شان والے ہیں ، آپ کو آخرت کے معاملے میں زیادہ پر یشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ آپ تونبی کریم ،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرابت داروں میں سے ہیں لہٰذا اب آپ بے فکر ہوجائیں ۔”پھر اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ تمہیں کسی غلط بات پرٹو کتے بھی نہیں اور مسلسل ایسی باتیں کرتے ہیں کہ خوفِ آخرت جاتا رہتا ہے اورایسی امیدوں کی وجہ سے بندہ آخرت کے معاملات سے بالکل بے فکر ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ تمہیں اُمیدیں ہی دلاتے رہیں گے او رتم اپنے آپ کومغفرت یافتہ لوگو ں میں شمار کرنے لگو گے حالانکہ ابھی نہ تو تمہیں امان ملی اورنہ ہی ابھی تم امن والی جگہ (یعنی جنت) میں داخل ہوئے ۔اے امیر المؤمنین! ان دو سری قسم کے لوگو ں سے پہلی قسم کے لوگ اچھے ہیں۔ عشرہ مبشرہ صحابہ کرام علیہم الرضوان جنہیں دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری دے دی گئی تھی لیکن پھر بھی ان کا عمل مزید بڑھتا ہی گیا۔ خوفِ خدا عزوجل میں مزید اضافہ ہی ہوا ۔ انہوں نے کبھی بھی یہ سوچ کر کوئی نامناسب کام نہیں کیا کہ ہمیں تو جنت کی بشارت مل گئی اب ہم جو چاہیں کریں بلکہ وہ پاکیزہ لوگ ہر آن اللہ عزوجل سے ڈرتے رہتے۔ انہوں نے خوف ورجاء والا معقول راستہ اختیار کیا ،اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہوئے اور اس کے غضب سے بے خوف بھی نہ ہوئے لہٰذا اے امیر المؤمنین! راستہ وہی اچھا جو معتدل ہو نہ تو اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس ہونا چاہے کہ اہلِ بیت اَطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو حضور نبی ئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی قرابت کی وجہ سے بڑی شان ملی ہے اور آخرت میں بھی شفاعت ضرور نصیب ہوگی لیکن اللہ عزوجل کی طر ف سے بے خوف بھی نہیں ہونا چاہے ۔” حضرت سیدنا شیبان علیہ رحمۃ اللہ المنان کی یہ حکمت بھری باتیں سن کر امیر المؤمنین خلیفہ ہارو ن الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید اور ان کے ساتھی زارو قطا ر رونے لگے ۔ پھر امیر المؤمنین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی:”کچھ اور نصیحت فرمایئے ۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”ان پر عمل کر لو یہ تمہارے لئے کا فی ہیں۔” اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ امیر المؤمنین کے پاس سے تشریف لے گئے۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

احکامِ الٰہی عزوجل میں غوروفکر

حکایت نمبر138: احکامِ الٰہی عزوجل میں غوروفکر

حضرت سیدنا ابو صالح دمشقی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مَیں ”لکام” کے پہاڑوں میں گیا ۔ میری یہ خواہش تھی کہ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوجائے کیونکہ اللہ عزوجل کے کچھ مخصوص بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا سے الگ تھلگ جنگلوں ، صحراؤں اور پہاڑوں میں رہ کر خوب دل لگا کر ذکرِ الٰہی عزوجل میں مشغول رہتے ہیں۔ ایسے لوگو ں سے فیضیاب ہونے کے لئے میں ”لکام” کی پہاڑیوں میں سر گر داں تھا کہ یکایک مجھے ایک شخص نظر آیا جو ایک پتھر پر سر جھکا ئے بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا جیسے وہ کسی بہت بڑے معاملے میں غور وفکر کر رہا ہے ۔ میں اس کے قریب گیااور سلام کرکے پوچھا: ”تم یہاں اس ویرانے میں کیا کر رہے ہو؟” وہ شخص کہنے لگا:” میں بہت سی چیزو ں کو دیکھ رہا ہوں اور ان کے بارے میں غو روفکر کر رہا ہوں ۔” اس کی یہ بات سن کر میں نے کہا :” مجھے تو تمہارے سامنے پتھروں کے علاوہ کوئی اور چیز نظر نہیں آرہی پھر تم کن چیز وں کو دیکھ رہے ہو اورکِن اشیاء کے بارے میں غور وفکر کر رہے ہو؟ ” میری اس بات پر اس شخص کا رنگ متغیر ہوگیااوراس نے مجھ پر ایک جلال بھری نظر ڈالتے ہوئے کہا: ”میں ان پتھر وں کے بارے میں غو ر وفکر نہیں کر رہا بلکہ اپنے دل کی حالت پر غور وفکر کر رہا ہوں اور اس میں پیدا ہونے والے خدشات کے بارے میں سوچ رہاہوں اوران اُمور کے بارے میں متفکر ہوں جن کا میرے پاک پروردگار عزوجل نے حکم دیا ہے۔”

پھر وہ کہنے لگا:”اے شخص! مجھے میرے پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس نے ہماری ملاقات کرائی! تیرا یہ پوچھنا مجھے بہت عجیب لگا اور تیرے اس سوال پر مجھے بہت غصہ آیا لیکن اب میرا غصہ زائل ہوچکاہے ،اب ایسا کرو کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔”

میں نے اس نیک بندے سے عرض کی : ”مجھے کچھ نصیحت کیجئے تا کہ اس پر عمل کر کے دارین کی سعادتوں سے مالا مال ہوجاؤں۔تمہاری نصیحت بھری باتیں سننے کے بعد میں یہاں سے چلا جاؤں گا ۔”

یہ سن کر و ہ شخص بولا: ”جب کوئی شخص کسی کے دروازے پر ڈیرہ ڈال دے اور اس کی غلامی کرنا چاہے تو اس شخص پر لازم ہے کہ ہمیشہ اپنے مالک کی خوشنودی والے کا موں میں لگا رہے۔جو شخص اپنے گناہوں کو یاد رکھتا ہے اسے گناہوں پر شرمندگی کی نصیب ہوتی رہتی ہے (اور گناہوں پر نادم ہونا تو بہ ہے ، لہٰذا انسان کو ہر وقت اپنے گناہوں پر نظر رکھنی چا ہے)جوشخص اللہ عزوجل پر توکُّل کر لیتا ہے اور اپنے لئے اللہ عزوجل کی رحیم وکریم ذات کو کافی سمجھتا ہے وہ کبھی بھی محروم نہیں ہوتا۔ اسے رب تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے ، بس انسان کا یقین کامل ہونا چاہے ۔ اگر یقین کا مل ہوگا تو وہ کبھی بھی اللہ عزوجل کی رحمت سے مایوس نہ ہوگا ۔”

حضرت سیدنا ابو صالح دمشقی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں کہ اتنا کہنے کے بعد اس شخص نے مجھے وہیں چھوڑا اور خود ایک جانب روانہ ہوگیا ۔
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سبحان اللہ عزوجل!اس پہاڑی علاقے میں رہنے والے شخص کی کیسی نصیحت بھری گفتگو تھی، اس کے ان چند کلمات میں دنیا وآخرت کی بھلائی کے بہترین اُصول ہیں۔ اللہ عزوجل ہمیں ہر حال میں اپنا مطیع وفرمانبردار رکھے، اے اللہ عزوجل! ہمیں گناہوں پر نادم ہونے کی تو فیق عطا فرما ۔ جب بھی کوئی گناہ سر زد ہو فوراً ہمیں تو بہ کی توفیق عطا فرما،اے اللہ عز وجل !ہمارے حال زار پررحم وکرم فرما۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)
؎ ندامت سے گناہوں کا اِزالہ کچھ تو ہوجاتا ہمیں رونا بھی تو آتا نہیں ہائے ندامت سے