امیرالمؤمنین حضرت علی مرتضی کا صحیفہ

امیرالمؤمنین حضرت علی مرتضی کا صحیفہ

ؑ آپ باب علم نبوت ہیں ، کوفہ کی علمی مجالس ابن مسعود اور آپ کی تعلیمات کی رہین منت تھیں ،آپکے پاس احادیث نبویہ اوراحکام شرعیہ پر مشتمل ایک صحیفہ تھا جسکو خود آپ نے تحریر فرمایا تھا ۔

فرماتے ہیں: ۔

ماکتبنا عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الا القرآن وما فی ہذہ الصحیفۃ ۔(الجا مع للبخا ری باب ما یکرہ من العمق الخ ۲/۱۰۸۴)

ہم نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے قرآن کریم اوراس صحیفہ کے سوا کچھ نہ لکھا ۔

یہ صحیفہ چمڑے کے ایک تھیلے میں تھا ،اس میں آپکی تلواربھی رہتی تھی ،اس میں خون بہا ، اسیروں کی رہائی ،کافرکے بدلے مسلمان کو قتل نہ کرنا ،حرم مدینہ کے حدود اور اسکی حرمت ،غیرکی طرف انتساب کی ممانعت ،نقض عہد کی برائی کے احکام و مسائل درج تھے ۔(الجا مع البخاری باب مایکرہ من العمق الخ ۲/۱۰۸۴)

ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حکایت نمبر 154: ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حضرت سیدنا شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:” میں نے دو سو دینار کا ایک گھر خریدا اور ایک تحریر لکھ دی ، اور عادل لوگوں کو (اس پر) گواہ بنایا ، اس بات کی خبر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو پہنچی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے شریح! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو نے ایک گھر خریدا ہے اور ایک تحریر لکھی ہے اور اس پر عادل لوگوں کو گواہ بھی بنایا ہے ؟” میں نے عرض کی:” اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! یہ خبر حقیقت (پر مبنی)ہے ۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے شریح! جلد ہی تیرے پاس ایسا شخص آئے گا جو نہ تو تیری تحریر دیکھے گا اور نہ ہی تجھ سے تیرے گھر کے بارے میں سوال کریگا۔ وہ تجھے اس گھر سے نکال کر تیری قبر کے حوالے کردے گا ۔ اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرے لئے یہ مضمون لکھتا:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ

یہ وہ گھرہے جسے حقیر بندے نے اس شخص سے خرید ا ہے جسے کوچ کرنے ( کے حکم )کی وجہ سے پر یشان کیا گیا ہے اور مرنے والا ہے ۔ اس نے ایسا گھر لیا ہے جو دھوکے کا گھر ہے اور اس پر چار حدو د مشتمل ہیں ۔

ان میں سے پہلی حد مختلف امور کی طرف دعوت دینے والی چیزوں پر ختم ہوتی ہے ،دوسری حد مصائب وتکالیف کی طرف دعوت والی باتوں پر ، تیسری حد نفسانی خواہشات اور فضول کاموں پر اور چوتھی حدد ھوکے باز شیطان پر ختم ہوتی ہے اور اس میں اس گھر کا دروازہ شرو ع ہوتا ہے ۔

اس دھوکا میں پڑے شخص نے ایک امید کے ساتھ اس شخص سے سارا گھر خرید لیا جو پیغامِ اجل کی وجہ سے پریشان ہے۔ اب یہ قناعت کی عزت سے نکل کر لالچ کے گھر میں داخل ہوگیا ہے لیکن گھر خرید نے والے نے کون سی بہت بڑی حاجت پوری کرلی ہے جبکہ بادشاہوں کے اجسام کا مالک، جابر لوگو ں کی جانوں کوسلب کرنے والا ، فر عونوں جیسے کسرٰی ، تبع ، حمیر اور وہ جس نے محل بنایا پھراسے پختہ و مزین کیا اور لوگو ں کو اکٹھا کر کے انہیں غلام بنالیا اور جو اپنے بیٹے کے لئے بھی اس ملکیت کا گمان رکھتا تھا اور ان کی بادشاہت کو ختم کرنے والا ان سب کو میدا نِ حشر میں جمع فرمائے گا اورجب فیصلہ سنانے کے لئے کرسی رکھی جائے گی اس وقت باطل کام کرنے والے خسارے میں ہوں گے اور منادی اس طرح ندا کرے گا:”دوآنکھوں والے کے لئے حق کتنا واضح اور روشن ہے۔ بے شک سفر دو دن کا ہے، نیک اعمال کر کے زادِ راہ تیا رکرلو کیونکہ انتقال اور زوال کا وقت قریب آن پہنچا ہے” ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم) 

کامیابی کی ضمانت

حکایت نمبر136: کامیابی کی ضمانت

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں :”حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے بارہ ایسے کلمات ارشاد فرمائے کہ اگر لوگ ان پر عمل کریں تو کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوجائیں اورکبھی بھی غلط حرکات نہ کریں۔” لوگوں نے عرض کی:”اے امیر المؤمنین! وہ کون سے کلمات ہیں؟”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :” وہ نصیحت آموز کلمات یہ ہیں :۔

(۱)۔۔۔۔۔۔تو اپنے مسلمان بھائی کی پسند کا خیال رکھ ، اس کے ساتھ بھلائی کر ۔ پھر تجھے بھی اس کی طرف سے تیری پسندیدہ چیز ہی ملے گی۔ 

(۲)۔۔۔۔۔۔کبھی بھی کسی مسلمان بھائی کے کلام میں بدگمانی نہ کر (یعنی ہمیشہ اچھا پہلو تلاش کر )تجھے ضروراس کے کلام میں کوئی اچھی بات مل جائے گی۔ 

(۳)۔۔۔۔۔۔جب تیرے سامنے دو کام ہوں تو اس کام میں ہرگز نہ پڑ جس میں نفس کی پیروی کرنا پڑے کیونکہ نفس کی پیروی میں سرَاسر نقصان ہے ۔

(۴)۔۔۔۔۔۔جب کبھی تو اللہ عزوجل سے اپنی کسی حاجت میں حاجت برآری چاہتاہو تو دعا سے پہلے اس کے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر کثرت سے درود پاک پڑھ۔ بے شک اللہ عزوجل اس شخص پر بہت لطف وکرم فرماتاہے جو اس سے اپنی حاجتیں طلب کرے۔ پھر اگر کوئی شخص اللہ ربُّ العزَّت سے دو چیزیں مانگتاہے تو اللہ عزوجل اسے وہ چیز عطافرماتاہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے اور جو نقصان دہ ہواسے بندے سے روک لیتاہے ۔ 

(۵)۔۔۔۔۔۔جو شخص یہ چاہے کہ ہر وقت اللہ عزوجل کے ذکر میں مشغول رہے تو اسے چاہے کہ صبر کو اپنا شِعار بنالے اورہر مصیبت پر صبر کرے ۔

(۶)۔۔۔۔۔۔اورجو شخص دنیوی زندگی (میں طوالت) کا خواہش مند ہو توا سے چاہے کہ مصائب کے لئے تیار ہوجائے۔ 

(۷)۔۔۔۔۔۔جو شخص یہ چاہے کہ اس کا وقار وعزت برقرار رہے تو اسے چاہے کہ رِیاکاری سے بچے۔ 

(۸)۔۔۔۔۔۔جو شخص قائد ورہنما(یعنی سردار)بنناچاہے تو اسے چاہے کہ ہر حال میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ چاہے اسے کتنی ہی دشواری کاسامنا کرنا پڑے (یعنی سرداری کے لئے ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی مشقت برداشت کرناضروری ہے۔ بغیرمشقت کے انسان کو بلند رتبہ حاصل نہیں ہوتا)۔

(۹)۔۔۔۔۔۔جس بات سے تیرا تعلق نہ ہو خواہ مخواہ اس کے بارے میں سوال نہ کر۔

(۱۰)۔۔۔۔۔۔بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جان اورفرصت کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھا ، ورنہ غم وپریشانی کا سامنا ہو گا ۔

(۱۱)۔۔۔۔۔۔استقامت آدھی کامیابی ہے، جیسا کہ غم آدھا بڑھا پا ۔ 

(۱۲)۔۔۔۔۔۔جو چیز تیرے دل میں کھٹکے اسے چھوڑ دے کیونکہ اس کو چھوڑ دینے ہی میں تیری سلامتی ہے ۔ 

(سبحان اللہ عزوجل !ہمارے بزرگان دین نے ہماری رہنمائی کے لئے کیسے کیسے نصیحت آموز کلمات ارشاد فرمائے، مذکورہ بالا کلمات ایسے جامع اورحکمت آموز ہیں کہ اگر کوئی شخص ان پر عمل کرلے تو وہ دارین کی سعادتوں سے مالا مال ہوجائے، اسے دین ودنیا کے کسی معاملے میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ان بارہ کلمات میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ َتعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ہمیں زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ بتا دیاہے کہ اگر اس طرح زندگی گزارو گے تو بہت جلد ترقی وکامیابی کی دولت نصیب ہوگی اور اللہ عزوجل کی رضا نصیب ہوگی۔ 

یہ حضرات خود علم وعمل کے پیکر ہوا کرتے تھے اورجو شخص مخلص وباعمل ہو اس کے سینے میں اللہ عزوجل علم وحکمت کے چشمے رواں فرمادیتاہے، پھر اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات کتنے ہی مُردہ دلوں کو زندہ کردیتے ہیں ، کتنوں کی بگڑی بن جاتی ہے ۔ جب یہ لوگ کسی کو نصیحت کرتے ہیں تو خیر خواہی کی نیت سے کرتے ہیں اورجو بات دل کی گہرائیوں سے نکلے وہ مؤثر کیوں نہ ہو۔ حقیقۃً وہی بات اثر کرتی ہے جو دل سے نکلتی ہے ۔ 

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

؎ دل سے جوبات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے پر نہیں،طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

اللہ عزوجل ہمیں بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے ۔ امین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

داعیان دین کے لئے بزرگوں کی نصیحتیں باب مدینۃ العلم حضرت علی کرّم اللہ تعا لیٰ وجہہ الکریم کے اقوال زرّیں

داعیان دین کے لئے بزرگوں کی نصیحتیں

باب مدینۃ العلم حضرت علی کرّم اللہ تعا لیٰ وجہہ الکریم کے اقوال زرّیں

(۱) کسی حریص کو اپنا مشیر نہ بنائو کیو نکہ وہ تم سے وسعت قلب اور استغناء چھین لے گا ۔

(۲) کسی جاہ پسند کو اپنا مشیر نہ بنائو کیو نکہ وہ تمہارے اندر حرص و ہوس پیدا کرکے تمہیں ظالم و آمر بنا دے گا ۔

(۳) تنگ دلی ، بزدلی ،اور حرص انسان سے اس کا ایمان سلب کر لیتی ہے۔

(۴) ایسے مشیر بہتر ہیں جنہیں خدا نے ذہانت و بصیرت دی ۔ جن کے دامن داغِ گناہ اور کسی ظلم کی اعانت سے پاک ہوں ۔

(۵) کار خانئہ قدرت میں فکر کرنا بھی عبادت ہے ۔

(۶) زمانے کے لمحے لمحے میں آفات پوشیدہ ہیں ، موت ایک بے خبر ساتھی ہے ۔

(۷)ندامت گناہون کو مٹا دیتی ہے اور غرور نیکیوں کو ۔

(۸) جلد معاف کرنا انتہائی شرافت،اور انتقام میں جلدی انتہائی رذالت ہے ۔

(۹) برا آدمی کسی کے ساتھ نیک گمان نہیں کرتا کہ وہ ہر ایک کو اپنی طرح سمجھتا ہے۔

(۱۰) میزانِ اعمال کو خیرات کے وزن سے بھاری کرو ۔

(۱۱) جو لوگ مردار دنیا کے سبب بھائی بند بنے ایسی بھائی بندی دنیا کی حرص میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے مانع نہیں ہوتی ۔

(۱۲)جو شخص اپنے اقوال میں حیا دار ہے وہ اپنے افعال میں بھی حیادار ہوگا (۱۳) جس کے اپنے خیالات خراب ہوتے ہیں وہ دوسروں کے حق میں ذیادہ بد ظن ہوتا ہے ۔

(۱۴) دنیا داروں کی دوستی معمولی اورادنیٰ بات پر ٹوٹ جاتی ہے ۔

(۱۵) نیک کام میں کسی کے پیچھے ہونا ،بُرے کام کی پیشوائی سے بہتر ہے۔

(۱۶) قدر ملے یا نہ ملے تو اپنی نیکی بند نہ کر ۔

حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نوجوانان جنت کے سردار ہیں

حسنین کریمین رضی اللہ عنہما نوجوانان جنت کے سردار ہیں

حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

"الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِلَّا ابْنَيِ الخالة: عيسى بن مريم، ويحيى بن زكريا”

حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) نوجوانان جنت کے سردار ہیں ماسوا دو خالہ زاد بھائیوں حضرت عیسیٰ بن مریم اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے۔

السنن الکبریٰ للنسائی ج 7 ص 318 رقم الحدیث 8113

صحیح ابن حبان ج 15 ص 412 رقم 6959

امام حاکم اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

هَذَا حَدِيثٌ قَدْ صَحَّ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، وَأَنَا أَتَعْجَبُ أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ

لیکن امام ذہبی علیہ الرحمہ امام حاکم علیہ الرحمہ کا تعاقب کرتے ہوئے تلخیص میں لکھتے ہیں :

الحكم بن عبد الرحمن بن أبي نعم فيه لين

المستدرک علی الصحیحین للحاکم ج 3 ص 182 رقم الحدیث 4778

امام ہیثمی علیہ الرحمہ نے طبرانی شریف کے طرق سے اسی متن والی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:

رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

مجمع الزوائد ج 9 ص 182 رقم الحدیث 15083

شعیب الانوؤط نے اس حدیث کو صحیح قرار دے دیا۔

حاشیہ صحیح ابن حبان ج 15 ص 412 رقم 6959

اس روایت کی سند کو سلفی عالم ابو اسحاق الجوینی نے حسن قرار دیا ہے۔

کتاب الحلی بتخریج الخصائص علی ص 118 رقم الحدیث 126

سلفی عالم ناصرالبانی صاحب نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دے دیا۔

صحیح الجامع الصغیر و زیادتہ ج 1 ص 607 رقم الحدیث 3181

لیکن میری تحقیق کے مطابق یہ حدیث سند کے لحاظ سے حسن ہے لیکن متن کے لحاظ سے صحیح ہے۔

حکم بن عبدالرحمن بن ابی نعم کی جرح و تعدیل پر ایک نظر:

امام یحییٰ بن معین علیہ الرحمہ نے اسے ضعیف کہا (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج 3 ص 123 رقم 565 و اسنادہ صحیح)

امام ابو حاتم الرازی علیہ الرحمہ نے اسے صالح الحدیث کہا (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم ج 3 ص 123 رقم 565 و اسنادہ صحیح)

امام ابن حبان علیہ الرحمہ نے اسے الثقات میں ذکر کیا۔(الثقات لابن حبان ج 6 ص 187 رقم 7394 و ج 8 ص 193 رقم 12935)

امام ابن خلفون علیہ الرحمہ نے اسے اپنی کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ (اکمال تہذیب الکمال للمغلطائی ج 4 ص 97 رقم 1291)

امام ذہبی علیہ الرحمہ کا اس راوی کو لین (کمزور) قرار دینا بھی اتنی سخت جرح نہیں ہے کہ اس کی روایت تحسین کے لیول سے گرے۔

باقی یہ کہ امام ابن حجرعسقلانی علیہ الرحمہ نے اس راوی کو صدوق سئ الحفظ (التقریب التہذیب ج 1 ص 175 رقم 1450) قرار دینا یہ ان کا تسامح ہے کیونکہ امام عسقلانی نے سئی الحفظ کی جرح تہذیب التہذیب میں کسی امام سے نقل نہیں کی اور نہ ہی کسی امام نے اس راوی کو سئی الحفظ کہا ہے۔ لہذا یہ ان کا تسامح ہے اور راوی کی توثیق راجح ہے اور یہ راوی حسن الحدیث ہی ہے۔

واللہ اعلم

خادم اہل بیت و صحابہ رضی اللہ عنہم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

12 جنوری 2019ء

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

مولانا غلام مصطفی قادری باسنوی

محبوبۂ محبوب رب العلمین ام السادات ام المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و کمالات سے قرآنی آیات اور احادیث نبوی علیٰ صاحبھا الصلوۃ والسلام بھری ہوئی ہیںان کی عظمت و کرامت کے کس کس پہلو پر خامہ فرسائی کی جائے ؎

کرشمہ دامن دل می کشدکہ جا اینجا است

جو خاتون ہی نہیں خواتین کی ماں ہیں ،عظمت و بلندی کی جس چوٹی پر آپ فائز ہیں دنیا میں کسی عورت کو وہ مقام نہیں مل سکاجو ایک طرف اما م الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہیں تو دوسری جانب افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاڈلی شہزادی ہیں جن کی عصمت اور پاک دامنی کے بارے میں خالق کائنات جل وعلا نے پوری سورئہ نور ناز ل فرمائی اور بہتان باندھنے والوں کا حال بھی بیان کردیا گیا اور یہ عظیم اصول بھی بیان فرمادیا

’’الخبیثت للخبیثین والخبیثون للخبیثت‘‘۔

جس کے بارے میں اگر یہ کہاجائے کہ وہ ملکۂ سلطنت عفت وعصمت ہے تو بے جا نہ ہوگا اس مختصر سے مقالے میں ان کی کن کن خوبیوں کو بیان کیاجائے، زبان اور قلم جواب دے سکتے ہیں مگر اس محترم ہستی کے حالات وکرامات کا بیان کما حقہ نہیں ہو سکتا ۔ سنئے سفیر عشق مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام امام احمد رضاخاں قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ والہانہ عقیدت کے ساتھ یوں نغمہ سرا ہیں ؎

بنت صدیق آرام جان نبی

اس حریم برأت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورئہ نور جس کی گواہ

ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

جن میں روح القدس بے اجاز ت نہ جائیں

اس سرادق کی عصمت پہ لاکھوں سلام

شمع تابان کاشانۂ اجتہاد

مفتیٔ چہار ملت پہ لاکھوں سلام

سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بعد تاجدار دوعالمﷺ نے اس عظیم المرتبت خاتون سے نکاح فرماکر اسے زوجیت کاشرف بخشا یہ بھی آپ کی خصوصیات میں سے ہے کہ رسول گرامی وقارﷺ نے جن گیارہ خواتین سے نکاح فرمایا ان میں آپ ہی کنوارتھیں بقیہ تمام بیویاں بوقت نکاح یا تو مطلقہ تھیں یا پھر بیوہ تھیں ۔ دوسری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی وہ خوش بخت خاتون ہیں جن کا حضور سے نکا ح خود رب العزت نے منتخب فرمایا جب کہ دوسری عورتوں کارشتہ اور نکاح دنیوی اعتبار سے ان کے والدین یا رشتہ دار کرتے ہیںاور رحمت عالمﷺ کے ان سے نکاح کرنے کے دو بڑے سبب تھے ایک تو آپ کی ذہا نت و فطانت اور پاکبازی اور دوسرا آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایثار ،یعنی اپنا گھر بار اور جان و دل سب نچھاور کرنا ۔ نیز رحمت عالم انے جن مقاصد حسنہ کے پیش نظر متعدد خواتین کو شرفِ زوجیت عطا فرمایا، بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ساتھ نکا ح سے وہ مقاصد حاصل ہوگئے ……اس طرح تاجدار کائنات ا نے اپنے مخلص ترین صحابی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی جانثاری کاسب سے بڑا صلہ جو اس دنیا میں ممکن تھا عطا فرمایا ۔( ضیاء النبی)

آپ پیکر شرم و حیا بھی تھیں اورمجسمۂ عفت و عصمت بھی ، مزاج میں نفاست ،طبیعت میں لطافت ،سیرت و خصلت اور ذہانت و فطانت نیز علم و ہنر میں وہ کمال تھا کہ اس وقت سے لے کرتا ایں دم عورتوں میں کوئی آپ کی مثال نہ پیش کرسکا ۔ علم و فضل میں آپ کا مقام نہ صرف دوسری عورتوں میں بلکہ تمام ازواج مطہرات اور اکثر صحابۂ کرام میں بہت اونچا تھا، کئی حضرات صحابہ وہ ہیں جنہوں نے آپ کے بحر علم سے خوب خوب استفادہ کیا ۔

یہ دیکھو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خود بہت بڑے عالم و فاضل اور جلیل القدر صحابی ہونے کا شرف رکھتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی حدیث پاک کو سمجھنے میں میں مشکل پیش آئی اور ہم نے اس کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو ان کے پاس اس حدیث کے متعلق علم پایا ۔

اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں ۔

’’میں نے کسی عورت کو طب ،فقہ اور شعرکے علوم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے بڑھ کرنہیں پایا ‘‘۔ (ضیاء النبی)

حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ بھی آ پ کے علم وہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔فرماتے ہیں :

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے علم کے مقابلے میںتمام امھات المومنین ،بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرت صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا ۔ (فضائل اہلبیت ص؍۲۲۲)

حضرت امام قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کے بعد مدینہ منورہ کے سات مشہور اہل علم تابعین میں سے ہیں،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت ہی میں مستقل طور پر افتاء کا منصب حاصل کرچکی تھیں حضرت عمر ،حضرت عثمان اور ان کے بعد آخر زندگی تک وہ برابر فتویٰ دیتی رہیں‘‘۔ (ابن سعد ۲؍۳۷۵بحوالہ فضائل اہلبیت)

حضرت عطاء بن ابورباح تابعی جن کومتعدد صحابہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہے ،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سب سے زیادہ سمجھنے والی سب سے زیادہ علم والی اور لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی رائے والی تھیں‘‘۔

بلا شبہ علم وفضل ،فہم وفراست میں آپ کے پا یہ کوکوئی خاتون نہیں پہنچ سکی ،کتاب اللہ اور سنت رسول اکے صحیح سمجھنے اور سمجھانے میں آپ کا جو ممتاز مقام تھاوہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور کیوں نہ ہو جس کے شوہر باوقار معلم کائنات اور عالم ماکان ومایکون ہو ں ان کے کاشانۂ اقدس میں رہنے والی خوش قسمت بیوی اور خاتون اسلام کا پھر کیا پوچھنا ۔خود آقائے کائنات ا ارشاد فرماتے ہیں:’’خذوانصف دینکم عن ھذہ الحمیراء‘‘اپنے دین کانصف علم اس حمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے سیکھو‘‘۔

اس مقدس خاتون اسلام کے امت مصطفوی پر بھی کئی احسانات ہیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے توسط سے امت پر کئی رحیمانہ احکام وضوابط کا نزول ہوا ۔کیا یہ معلوم نہیں ہے ہمیں کہ کوئی مرد وعورت وضو اور غسل کے لئے پانی پر قدرت نہ رکھے تو شریعت اسلامی کی طرف سے اسے تیمم کرکے پاکی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ تیمم کی اجازت اسی پاکیزہ بی بی کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ۔

(ضیاء النبی)

اب آیئے آپ کی ان خصوصیات کا بھی تذکرہ ملاحظہ کریں جو دیگر ازواج مطہرات میں سے صرف آپ کو عطا ہوئی ہیں ۔ سیدہ صدیقہ خود فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دس ایسی خوبیوں سے مالامال فرمایا ہے جو صرف میرے حصے میں آئیں ۔

(۱) حضورﷺ نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی

(۲) میرے سوا ازواج مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں ۔

(۳) اللہ تعالیٰ نے میری پاک دامنی کابیان آسمان سے قرآن میں اتارا

(۴) نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لاکر حضور اقدس ﷺ کو دکھلادی تھی اور آپ تین رات مجھے خواب میں دیکھتے رہے ۔

(۵) میں اور حضورﷺ ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیاکرتے تھے یہ شرف میرے سواازواج مطہرات میں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوا۔

( ۶) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نمازپڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المومنین میں سے کوئی بھی حضور اکرم اکی اس کریمانہ محبت سے سرفرازنہیں ہوئی ۔

(۷) میں حضور اقدسﷺکے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خداکی وحی نازل ہواکرتی تھی یہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجۂ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا۔

(۸) وفات اقدس کے وقت میں حضورﷺ کو اپنی گود میں لئے ہوئی تھی اور آپ کاسر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ ا کا وصا ل ہوا۔

(۹) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا

(۱۰) آقائے کا ئنات علیہ التحیۃوالثناء کی قبر انور خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ ) میں بنی ۔ (سیرۃالمصطفیٰ ا)

عبادت و ریاضت :

کاشانۂ نبوت میں اپنی زندگی کے ایام گزارنے والی خاتون کی عبادت کے انداز بھی نرالے ہی ہوں گے اور جو پیغمبر اسلامﷺ کی زوجۂ محترمہ ہو پھر جس کے توسط سے کچھ شرعی احکام کی امت کواجازت ملی ہوخوداس کی عبادت وریاضت کاکیا پوچھنا ، آپ بکثرت فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں ، ہر سال حج کرتیں ،بہت زیادہ سخی اور فیاض تھیں ۔ آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا روزانہ بلاناغہ تہجدکی نمازپڑھنے کی پابندتھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہاکرتیں ۔

خوف خداوندی اور خشیت ربانی کایہ عالم کہ ایک بار دوزخ یادآگئی تورونا شروع کردیا ۔سرکار مدینہﷺنے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیاکہ مجھے دوزخ کاخیال آگیا اس لئے رورہی ہوں ۔

اور سخاوت و فیاضی کایہ حال تھا کہ حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’ لقد رأیت عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقسم سبعین الفا و انھا لترقع جیب درعھا ‘‘

بے شک میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ستر ہزار کی رقم راہ خدائے پاک میں تقسیم کردی حالانکہ وہ خود اپنی قمیص کی جیب میں پیوند لگاتی تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء)

رسول کونینﷺ کی نگاہ میں بھی آپ کا مقام و رتبہ بڑا تھا اور تاجدا کونینﷺ انہیں بہت زیادہ چاہتے تھے آپ کا لقب ہی محبوبۂ محبوب رب العالمین ہے ۔تاجدار کونینﷺکو جو آپ سے محبت تھی وہ ناقابل بیان ہے۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب غزوۂ سلاسل سے واپس آئے تو انہوں نے حضور اقدسﷺ سے پوچھا ،یارسول اللہ ا ! ’’ای الناس احب الیک قال عائشۃ فقلت من الرجال قال ابوھا ‘‘آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ فرمایا عائشہ، انہوں نے عرض کی مردوں میں ؟ فرمایا ان کے والد(سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ )۔ ( بخاری شریف ج۱؍ ۵۱۷)

ّّ اللہ کامحبوب بنے جوتمہیں چاہے

اس کا تو بیان ہی نہیں جس کو تم چاہو

رسول کونینﷺ نے جو بھی تعلیمات امت کو عطا فرمائیں پہلے خود ان پر عمل کیا۔ آپ یقینا بے مثال شوہر تھے حقوق زوجیت کی جو آپ نے مثال پیش فرمائی وہ آج بھی سب کو متاثر کرتی ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک فارسی حضورﷺ کا پڑوسی تھا اس نے آپﷺ کی دعوت کی، فقال ھذہ لعائشۃ تو آپنے فرمایا ساتھ عائشہ کی بھی ؟فقال لا ۔فقال رسول اللہ الا؟اس نے کہا نہیں تو حضور انے فرمایا :پھر میں بھی قبول نہیں کرتا ۔وہ چلا گیا پھر دوبارہ آیا تو یہی سوال وجواب ہوا ۔تیسری مرتبہ پھر آیا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ساتھ عائشہ بھی ہوگی؟اس نے کہا ،جی ہاں ، پھر آپ اور سیدہ عائشہ اس کے گھر گئے ۔ (مسلم شریف جلد اول )

شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ آپ کے تنہا دعوت نہ قبول کرنے کی وجہ یہ تھی کی اس روز گھر میں فاقہ تھا ،آپ کے انس ومحبت اور لطف وکرم سے بعید تھا کہ گھر میں بیوی کو بھوکا چھوڑ کر اکیلے کھانا کھالیں۔ (فضائل اہل بیت ص؍۲۱۲)

جس جگہ سے حضرت عائشہ گوشت کھاتیں اسی جگہ سے سرکار بھی گوشت تناول فرماتے ،جس برتن سے حضرت عائشہ پانی پیتیں اسی برتن سے ان کے منھ لگنے کی جگہ سے آپ بھی پانی نوش فرماتے، حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم نور مجسم انے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عائشہ! جبرئیل تجھے سلام کہتا ہے میں نے کہا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ،

اور فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور اقدسﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب کبھی تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو میں جان لیتا ہوں اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو بھی جان لیتا ہوں ،حضرت عائشہ نے عرض کیا، وہ کس طرح ؟فرمایا :تم جب راضی اور خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے وقت یوں کہتی ہو’’ لاورب محمد‘‘مجھے محمد کے رب کی قسم !اور جب کبھی ناراض ہوتی ہو تو یوں قسم کھاتی ہو ۔لاورب ابراھیم مجھے ابراھیم کے رب کی قسم ،حضرت عائشہ نے عرض کیا بے شک یا رسول اللہ ا !بات ایسے ہی ہے لیکن میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں،آپ کی محبت تو میرے دل میں بدستور رہتی ہے ۔ ؎

اللہ اللہ عائشہ کا اتنا اونچا ہے مقام

حشر تک انہی کے گھر ہے محمد کاقیام

حضرت اُم المومنین کے یہ چند فضائل و کمالات پڑھکر ہماری ماں بہنوں کو ان کی سیرت و کردار کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنانا چاہیئے ورنہ ہمارا دعوئے محبت بیکار اور جھوٹا ہوگا۔کیا محبوب سے محبت کرنے والے محبوب کی سنتوں اور طریقوں سے منھ موڑ تے ہیں ۔ نہیں ہر گز نہیں، بلکہ وہ تو اپنے محبوب کی ایک ایک ادا پر جاں فدا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

آپ کی حیات مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ہماری ماں بہنیں اگر آپ کی سیرت کو اپنی زندگی میں بھی اپنائیں تو یقینا کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومے گی ۔مذکورہ بالا واقعات اورحالات سے ہمیں یہ درس ملتاہے۔

(۱) پہلی چیزجوہمیں سیدہ صدیقہ کی زندگی میں ملتی ہے وہ ہے خدا کا خوف و خشیت اور محبت خدا وعشق والفت مصطفوی ا میں شیفتگی ،کہ وہ ہر کام خدا ورسول جل وعلا اکی رضا و خوشنودی ہی کے لئے کرتی تھیں۔

(۲) حقوق شوہر کی ادائیگی جس اچھوتے انداز میں فرمائی وہ ہماری ماں بہنوں کے لئے مکمل نمونہ ہے اگر موجودہ دور میں زندگی بسر کرنے والی عورتیں اسے مشعل راہ بنالیں تو ضرور معاشر ہ میں نکھار پیدا ہوجائے ۔ کیا قسم کھانے والاواقعہ میں اس دور کی خواتین کے لئے درس نہیں ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کبھی نااتفاقی ہوجائے تو اسے نرمی سے حل کریں اور پیار ومحبت کے جملوں سے ایک دوسرے کادل خوش کردیں۔کیا ایک برتن سے پانی پینا ہماری ماں بہنوں کے لئے شوہر کو راضی کرنے کا ذریعہ نہیں ہے؟

(۳) کیا بی بی عائشہ کے علم وفضل میں کمال اور صحابۂ کرام علیھم الرضوان کا دینی مسائل میں آپ سے رجوع کرنا ہماری ماں بہنوں کے لئے درس نہیں ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی دینی تعلیم حاصل کرکے زندگی کو عمدہ بنانی چاہیئے تاکہ وہ خود نیک اور صالح کردار اپنا کر اپنی نسل کوبھی صحیح راستے پر چلائیں ۔

(۴) کیا آپ کاباریک دو پٹے کو پھاڑ دینا خواتین اسلام کو پردے اور عصمت وعفت کا خاص خیال رکھنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے ۔آپ کی زندگی کا ہر پہلو اسلام کی شہزادیوں کے لئے مکمل نمونۂ عمل اور مشعل راہ ہے ۔

حضرتِ فاطمہ کی طرف منسوب ایک موضوع روایت

حضرتِ فاطمہ کی طرف منسوب ایک موضوع روایت

امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ خاتون جنت، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی نسبت یہ بیان کرنا کہ روز محشر وہ برہنہ سر و پا ظاہر ہوں گی، امام حسن و حسین کے خون آلود اور زہر آلود کپڑے کاندھے پر ڈالے ہوئے اور نبی کریم ﷺ کے دندان مبارک جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے، اسے ہاتھ میں لیے ہوئے بارگاہِ الہی میں حاضر ہوں گی اور عرش کا پایہ پکڑ کر ہلائیں گی اور خون کے معاوضے میں گنہگار امت کو بخشوائیں گی، یہ صحیح ہے یا نہیں؟

امام اہل سنت جواباً لکھتے ہیں کہ یہ سب محض جھوٹ، افترا، کذب، گستاخی اور بے ادبی ہے- مجمع اولین و آخرین میں ان کا برہنہ تشریف لانا جن کو برہنہ سر کبھی آفتاب نے بھی نہ دیکھا، وہ کہ جب صراط پر گزر فرمائیں گی تو زیر عرش سے منادی ندا کرے گا کہ اے اہل محشر اپنے سر جھکا لو اور اپنی آنکھیں بند کر لو کہ فاطمہ بنت محمد ﷺ صراط پر گزر فرمائیں گی پھر وہ نور الہی ایک برق کی طرح ستر ہزار حوریں جلوے میں لیے ہوئے گزر فرمائے گا-

(ملخصاً: احکام شریعت، ج1، ص160)

عبد مصطفی