دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

اسی طرح حضور کے خادم خاص حضرت ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایتیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعہ جمع ہوچکی تھیں۔( الطبقات الکبری لابن سعد ۲/۱۲۳)

حضرت سمرہ بن جندب کی روایتیں بھی انکی زندگی میں جمع ہوئیں اوریہ مجموعہ انکے خاندان میں ایک عرصہ تک محفوظ رہا ، انکے پوتے حبیب نے اسے دیکھ کر روایتیں کیں ۔(تہذیب التہذیب ۴/۱۹۸)

حضرت سعد بن عبادہ انصاری فن کتابت میں مہارت کی بنیاد پر مردکامل سمجھے جاتے تھے ،آپ نے بھی ایک صحیفہ احادیث مرتب کیا تھا ، آپکے صاحبزادے نے ان احادیث کو روایت کیا ۔(الجامع للترمذی، باب الیمین مع الشاہد، ۱/۱۶۰)

حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس بھی ایک مجموعہ تھا ،ایک مرتبہ آپ نے اپنے کاتب وراد ثقفی سے حضرت امیر معاویہ کو ایک حدیث لکھواکر بھیجی تھی۔( الجامع للبخاری، باب العساکر بعد الصلوۃ، ۱/۱۱۷)

حضرت براء بن عازب جلیل القدر صحابی ہیں ، انکی روایتیں انکی حیات ہی میں تحریری شکل میں مرتب ہوگئی تھیں ،انکے شاگردوں کے شوق کتابت کا یہ عالم تھا کہ کاغذ موجود نہ ہوتا تو ہتھیلیوں پر لکھ لیتے تھے۔(السنن للدارمی، ۶۶)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ایک خاص صحابی ہیں ،انہوں نے بھی حدیثیں کتابی شکل میں جمع کی تھیں ،سالم ابو النضر کا بیان ہے کہ میں نے آپکی تحریر کردہ ایک حدیث پڑھی ہے۔( الجامع للبخاری، باب الصبر عند القتال، ۱/۳۹۷)

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کتابت حدیث سے اتنی دلچسپی تھی کہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو نصیحت کرتے تھے کہ علم حاصل کرو ،کیونکہ آج تم قوم میں چھوٹے ہو لیکن کل بڑے ہوگے توقوم کو تمہاری ضرورت ہوگی ،جویاد نہ کرسکے تو اسے چاہیئے کہ وہ لکھ لیا کرے۔( جامع بیان العلم، ۴۰)

حضرت امیر معاویہ ،حضرت ثوبان اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مرویات انکے شاگرد خالد بن معدان کے ذریعہ تحریری شکل میں مدون ہوئیں ،انہوں نے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی تھی ،تحریر وتدوین کی جانب خاص توجہ کے باعث انکے پاس ایک باقاعدہ کتاب مرتب ہوگئی تھی۔( تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۱۱۹)

جن صحابہ کرام کی تحریری کوششوں کا ذکر ہم نے کیا ان میں بالخصوص وہ حضرات بھی ہیں جنکو مکثرین صحابہ میں شمارکیاجاتاہے یعنی جن سے ایک ہزارسے زائد احادیث روایت کی گئی

ہیں ۔ انکی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے ۔

۱۔ حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴

۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر ۲۶۳۰

۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶

۴۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰

۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۱۶۶۰

۶۔ حضرت جابر بن عبداللہ ۱۵۴۰

۷۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۱۱۷۰

انکے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعداد حدیث کے بارے میں آپ خود حضرت ابو ہریرہ کا فرمان پڑھ چکے کہ مجھ سے زیادہ احادیث حضرت ابن عمرو کی ہیں ۔اس طرح ان حضرات کی مرویات کی تعداد تیئیس ہزار سے زیادہ ہوگی ۔ اور بعض محدثین نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے تو کم از کم دوہزار کے مزید اضافہ سے یہ تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد ہوجائیگی ۔اور باقی صحابہ کرام کی روایات علیحدہ رہیں ۔

ناظرین اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عہد صحابہ میں تدوین حدیث کس منزل میں تھی ۔لہذا منکرین کا یہ کہنا کہ احادیث دوسوسال کے بعد ہی صحیفہ قرطاس پر ثبت ہوئیں ،اس سے پہلے فقط حافظوں پرموقوف تھیں یہ حقیقت سے کتنی بعید بات ہے ۔

امیرالمؤمنین حضرت علی مرتضی کا صحیفہ

امیرالمؤمنین حضرت علی مرتضی کا صحیفہ

ؑ آپ باب علم نبوت ہیں ، کوفہ کی علمی مجالس ابن مسعود اور آپ کی تعلیمات کی رہین منت تھیں ،آپکے پاس احادیث نبویہ اوراحکام شرعیہ پر مشتمل ایک صحیفہ تھا جسکو خود آپ نے تحریر فرمایا تھا ۔

فرماتے ہیں: ۔

ماکتبنا عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الا القرآن وما فی ہذہ الصحیفۃ ۔(الجا مع للبخا ری باب ما یکرہ من العمق الخ ۲/۱۰۸۴)

ہم نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے قرآن کریم اوراس صحیفہ کے سوا کچھ نہ لکھا ۔

یہ صحیفہ چمڑے کے ایک تھیلے میں تھا ،اس میں آپکی تلواربھی رہتی تھی ،اس میں خون بہا ، اسیروں کی رہائی ،کافرکے بدلے مسلمان کو قتل نہ کرنا ،حرم مدینہ کے حدود اور اسکی حرمت ،غیرکی طرف انتساب کی ممانعت ،نقض عہد کی برائی کے احکام و مسائل درج تھے ۔(الجا مع البخاری باب مایکرہ من العمق الخ ۲/۱۰۸۴)

حضرت زید بن ثابت کی مرویات

حضرت زید بن ثابت کی مرویات

آپ جلیل القدر صحابی اور جامع قرآن ہیں ،عہد صدیقی میں جمع وتدوین قرآن کاکام آپ ہی نے انجام دیا ۔پھر دورعثمانی میں مصحف شریف کی نقلیں آپ ہی نے تیار کیں اور دسرے علاقوں میں اسکو تقسیم کیاگیا ۔

کاتب وحی تھے اورحضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عبرانی زبان سیکھی تھی ، احادیث کا عظیم ذخیرہ آپکو محفوظ تھا، لیکن مشکل یہ تھی کہ آپ کتابت کے مخالف تھے ،ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ نے آپ کی احادیث قلمبند کرائیں لیکن آپ نے معلوم ہوتے ہی انکو مٹادیا تھا ۔ آخر میں مروان بن الحکم نے ایک طریقہ یہ نکالا کہ پردے کے پیچھے لکھنے والے بٹھادیئے اور پھر آپ کو بلاکر احادیث پوچھتا تھا اور پس پردہ احادیث لکھی جاتی ہیں۔( ا لسنن للدارمی ۶۶)

حضرت عروہ آپ کے تلامذہ میں تھے ، آپکی مرویات کو انہوں نے ۔جمع کیا اوراپنے بیٹے ہشام کو بھی اسکی تاکید کرتے تھے ۔

حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص کی روایتوں کے مجموعے

حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص کی روایتوں کے مجموعے

آپ پڑھ چکے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ سے کتابت حدیث کی کامل طور پر اجازت بلکہ حکم مل چکا تھا ۔لہذا آپ نے جو بھی سنا اسکو لکھا ۔ آپ نے اپنے صحیفہ کانام ’’الصادقہ ‘‘ رکھاتھا ،آپ نے بلا واسطہ روایات کو اس میں جمع کیاتھا۔

خودفرماتے ہیں :۔

ہذہ الصادقۃ فیہا ماسمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ولیس بینی وبینہ فیہااحد ۔ 

یہ صحیفہ صادقہ ہے ، اس میں وہ احادیث درج ہیں جو میں نے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہیں ، اسکی روایت کیلئے میرے اورحضور کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ۔

آپ کو یہ صحیفہ بہت عزیز تھا ،فرماتے تھے ۔

مایرغبنی فی الحیوۃ الاالصادقۃ والوہط ۔

زندگی میں میری دلچسپی جن چیزوں سے ہے ان میں ایک یہ صحیفہ ہے اور دوسری ’’وھط‘‘ نامی میری زمین ہے ۔

حفاظت کیلئے آپ اس صحیفے کو ایک صندوق میں بند رکھتے تھے ۔ آپ کے بعد آپ کے اہل خانہ نے بھی اس صحیفے کی حفاظت کی ۔اغلب یہ ہے کہ آپ کے پوتے حضرت عمرو بن شعیب اس صحیفے سے روایت کرتے تھے ۔ گو حضرت عمرو بن شعیب سے ساراصحیفہ مروی نہیں لیکن امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اسکے مندرجات کو روایت کردیا ہے ۔احادیث کی دوسری کتابوں میں بھی اس صحیفے کی احادیث ملتی ہیں ۔

اس صحیفے کی علمی اہمیت بہت زیادہ ہے ،کیونکہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور اس سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے احادیث لکھنے کا واضح ثبوت بھی ملتاہے ۔(ضیاء النبی ۷/۱۳۳)

کہتے ہیں اس میں ایک ہزار حدیثیں تھیں ۔

ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حکایت نمبر 154: ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حضرت سیدنا شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:” میں نے دو سو دینار کا ایک گھر خریدا اور ایک تحریر لکھ دی ، اور عادل لوگوں کو (اس پر) گواہ بنایا ، اس بات کی خبر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو پہنچی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے شریح! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو نے ایک گھر خریدا ہے اور ایک تحریر لکھی ہے اور اس پر عادل لوگوں کو گواہ بھی بنایا ہے ؟” میں نے عرض کی:” اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! یہ خبر حقیقت (پر مبنی)ہے ۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے شریح! جلد ہی تیرے پاس ایسا شخص آئے گا جو نہ تو تیری تحریر دیکھے گا اور نہ ہی تجھ سے تیرے گھر کے بارے میں سوال کریگا۔ وہ تجھے اس گھر سے نکال کر تیری قبر کے حوالے کردے گا ۔ اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرے لئے یہ مضمون لکھتا:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ

یہ وہ گھرہے جسے حقیر بندے نے اس شخص سے خرید ا ہے جسے کوچ کرنے ( کے حکم )کی وجہ سے پر یشان کیا گیا ہے اور مرنے والا ہے ۔ اس نے ایسا گھر لیا ہے جو دھوکے کا گھر ہے اور اس پر چار حدو د مشتمل ہیں ۔

ان میں سے پہلی حد مختلف امور کی طرف دعوت دینے والی چیزوں پر ختم ہوتی ہے ،دوسری حد مصائب وتکالیف کی طرف دعوت والی باتوں پر ، تیسری حد نفسانی خواہشات اور فضول کاموں پر اور چوتھی حدد ھوکے باز شیطان پر ختم ہوتی ہے اور اس میں اس گھر کا دروازہ شرو ع ہوتا ہے ۔

اس دھوکا میں پڑے شخص نے ایک امید کے ساتھ اس شخص سے سارا گھر خرید لیا جو پیغامِ اجل کی وجہ سے پریشان ہے۔ اب یہ قناعت کی عزت سے نکل کر لالچ کے گھر میں داخل ہوگیا ہے لیکن گھر خرید نے والے نے کون سی بہت بڑی حاجت پوری کرلی ہے جبکہ بادشاہوں کے اجسام کا مالک، جابر لوگو ں کی جانوں کوسلب کرنے والا ، فر عونوں جیسے کسرٰی ، تبع ، حمیر اور وہ جس نے محل بنایا پھراسے پختہ و مزین کیا اور لوگو ں کو اکٹھا کر کے انہیں غلام بنالیا اور جو اپنے بیٹے کے لئے بھی اس ملکیت کا گمان رکھتا تھا اور ان کی بادشاہت کو ختم کرنے والا ان سب کو میدا نِ حشر میں جمع فرمائے گا اورجب فیصلہ سنانے کے لئے کرسی رکھی جائے گی اس وقت باطل کام کرنے والے خسارے میں ہوں گے اور منادی اس طرح ندا کرے گا:”دوآنکھوں والے کے لئے حق کتنا واضح اور روشن ہے۔ بے شک سفر دو دن کا ہے، نیک اعمال کر کے زادِ راہ تیا رکرلو کیونکہ انتقال اور زوال کا وقت قریب آن پہنچا ہے” ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم) 

بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حکایت نمبر150: بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، مجھ سے حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اِیمان لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : مَیں” اصبہان” کے ایک گاؤں میں رہتاتھا، میرا باپ ایک بڑا جاگیردار تھا اور وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا، میں اس کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارا تھا۔ اسی محبت کی وجہ سے وہ مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیتا، ہر وقت مجھے گھر ہی میں رکھتا، میری خوب دیکھ بھا ل کرتا،میرے باپ کی یہ خواہش تھی کہ مَیں پکا مجوسی (یعنی آتش پرست) بنوں کیونکہ ہمارا آبائی مذہب ”مجوسیت” ہی تھاا ور میرا باپ پکا مجوسی تھا۔ وہ مجھے بھی اپنی ہی طر ح بنانا چاہتا تھا لہٰذا اس نے میری ذمہ داری لگا دی کہ میں آتش کدہ میں آگ بھڑکاتا رہوں اور ایک لمحہ کے لئے بھی آگ کو نہ بجھنے دو ں۔ میں اپنی ذِمہ داری سر انجام دیتا رہا۔ ایک دن میرا باپ کسی تعمیری کام میں مشغول تھا جس کی وجہ سے وہ زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا تھا۔

چنانچہ میرے باپ نے مجھے بلایا اور کہا: ”ا ے میرے بیٹے !آج میں یہاں بہت مصروف ہوں اور کھیتوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا ۔ آج وہاں تُو چلا جا او رخادموں کو فلاں فلاں کام کی ذمہ داری سونپ دینا اور ان کی نگرانی کرنا، اِدھر اُدھر کہیں متوجہ نہ ہونا، سیدھااپنے کھیتوں پرجانا ہے اور کام پورا ہونے کے فوراً بعدواپس آجانا۔” اپنے باپ کا حکم پاتے ہی میں اپنی زمینوں کی طرف چل دیا۔ راستے میں عیسائیوں کا عبادت خانہ تھا۔ جب میں اس کے قریب سے گزرا تو مجھے اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔وہاں کچھ راہب نماز میں مشغول تھے۔ میں جب اندر داخل ہوا اور ان کااندازِ عبادت مجھے بڑا انوکھااوراچھا لگامیں نے پہلی مرتبہ اس انداز میں کسی کو عبادت کر تے ہوئے دیکھا تھا۔میں چونکہ زیادہ تر گھر ہی میں رہتاتھا اس لئے لوگو ں کے معاملات سے آگاہ نہ تھا۔ اب جب یہاں ان لوگوں کو دیکھا کہ یہ ایسے انداز میں عبادت کر رہے ہیں جو ہم سے بالکل مختلف ہے تو میرا دل ان کی طر ف راغب ہونے لگا اور مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا۔

میں نے دل میں کہا :” خدا عزوجل کی قسم! ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے اچھا ہے ۔” پھر میں سارادن انہیں دیکھتا رہا اور اپنے کھیتوں پر نہیں گیا۔ جب تاریکی نے اپنے پر پھیلانا شروع کئے تو میں ان لوگو ں کے قریب گیا اور ان سے پوچھا: ” تم جس دین کو مانتے ہو اس کی اصل کہاں ہے؟ یعنی تمہارا مرکز کہاں ہے؟ ” انہوں نے بتا یا:” ہمارا مرکز” شام” میں ہے۔” پھرمیں گھر چلا آیا۔ میرا باپ بہت پریشان تھا کہ نہ جانے میرا بچہ کہا ں گم ہوگیا؟ اس نے میری تلاش میں کچھ لوگوں کو آس پاس کی بستیوں میں بھیج دیا تھا۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے باپ نے بے تاب ہوکر پوچھا:” میرے لال! تُو کہاں چلا گیا تھا؟ ہم تو تیری وجہ سے بہت پریشان تھے۔ ”میں نے کہا :”میں اپنی زمینوں کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں کچھ لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا ، مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا چنانچہ میں شام تک انہی کے پاس بیٹھا رہا۔”
یہ سن کر میرا باپ پریشان ہوااور کہنے لگا :”میرے بیٹے !ان لوگوں کے مذہب میں کوئی بھلائی نہیں۔ جس مذہب پر ہم ہیں اورجس پر ہمارے آباؤ اجدادتھے وہی سب سے اچھا ہے لہٰذا تم کسی اور طرف تو جہ نہ دو۔”میں نے کہا:” ہر گز نہیں، خداعزوجل کی قسم !ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے بہت بہتر ہے۔ ”میری یہ گفتگو سن کر میرے باپ کو یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں میرا بیٹا مجوسیت کو چھوڑ کرنصرانی مذہب قبول نہ کرلے۔ اسی خوف کے پیشِ نظر اس نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈالوا دیں اورمجھے گھر میں قید کر دیا تا کہ میں گھر سے باہر ہی نہ نکل سکوں۔ مجھے ان راہبوں سے بہت زیادہ عقیدت ہو گئی تھی۔ میں نے کسی طر یقے سے ان تک پیغام بھجوایا کہ جب کبھی تمہارے پاس ملکِ شام سے کوئی قافلہ آئے تو مجھے ضرور اطلاع دینا۔
چند رو ز بعد مجھے اِطلاع ملی کہ شام سے راہبوں کا ایک قافلہ ہمارے شہر میں آیا ہوا ہے۔ میں نے پھر راہبوں کو پیغام بھجوایا کہ جب یہ قافلہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد واپس شام جانے لگے تو مجھے ضرور اطلاع دینا ۔کچھ دن بعد مجھے اِطلاع ملی کہ قافلہ واپس شام جارہا ہے ۔میں نے بہت جدو جہد کے بعداپنے قدموں سے بیڑیاں اُتا ریں اور فوراً شام جانے والے قافلے کے ساتھ جا ملا ۔ مُلکِ ”شام ”پہنچ کر میں نے لوگوں سے پوچھا:” تم میں سب سے زیادہ معزز اورصاحب ِعلم وعمل کون ہے ؟” لوگوں نے بتا یا:”فلاں کنیسہ(یعنی عبادت خانہ) میں رہنے والا راہب ہم میں سب سے زیادہ قابل اِحترام اور سب سے زیادہ متقی و پر ہیز گار ہے ۔”چنانچہ میں اس راہب کے پاس پہنچا اور کہا:” مجھے آپ کا دین بہت پسند آیا ہے ، اب میں اس دین کے بارے میں کچھ معلومات چاہتا ہوں۔ اگر آپ قبول فرمالیں تومیں آپ کی خدمت کیا کروں گا اور آپ سے اس دین کے متعلق معلومات بھی حاصل کرتا رہوں گا۔ برائے کرم !مجھے اپنی خدمت کے لئے رکھ لیجئے ۔”
یہ سن کر اس راہب نے کہا:” ٹھیک ہے، تم بخوشی میرے ساتھ رہو اور مجھ سے ہمارے دین کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔”چنانچہ میں اس کے ساتھ رہنے لگا لیکن وہ راہب مجھے پسند نہ آیا۔وہ بہت بُرا شخص تھا، لوگو ں کو صدقات وخیرات کی ترغیب دلاتا ۔ جب لوگ صدقات وخیرات کی رقم لے کر آتے تو یہ اس رقم کو غریبو ں اور مسکینوں میں تقسیم نہ کرتا بلکہ اپنے پاس ہی جمع کرلیتا ۔ اس طرح اس بد با طن راہب نے بہت سارا خزانہ جمع کرکے سونے کے بڑے بڑے سات مٹکے بھر لئے تھے ۔ مجھے اس کی ان حرکتوں پر بہت غصہ آتا بالآخرجب وہ مرا تو لوگو ں کا بہت بڑا ہجوم اس کی تجہیز وتکفین کے لئے آیا ۔ میں نے لوگو ں کو بتایا: ” جس کے بارے میں تمہارا گما ن تھا کہ وہ سب سے بڑا راہب ہے وہ تو بہت لالچی اور گندی عادتو ں والا تھا۔ ” لوگ کہنے لگے :” یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ راہب بُر ا شخص تھا؟” میں نے کہا : ”اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں آتاتو میرے ساتھ چلو، میں تمہیں اس کامال ودولت اور خزانہ دکھاتا ہوں جو وہ جمع کرتا رہااورفقراء ومساکین اوریتیموں پر خرچ نہ کیا ۔” لوگ میرے ساتھ چل دیئے۔ میں نے انہیں وہ مٹکے دکھائے جن میں سونا بھر اہوا تھا ۔ انہوں نے وہ مٹکے لئے اور کہا:” خدا عزوجل کی قسم !ہم اس راہب کو دفن نہیں کریں گے ۔” پھر انہوں نے اس کے مردہ جسم کو سولی پر لٹکایا اور پتھر مار مار کر چھلنی کردیا پھراس کی لاش کو بے گور وکفن پھینک دیا۔ اس کے بعد لوگو ں نے ایک اور راہب کواس کی جگہ منتخب کرلیا۔ وہ بہت اچھی عادات وصفات کا مالک اورانتہائی متقی وپرہیز گار شخص تھا، طمع ولا لچ اس میں بالکل نہ تھی، دن رات عبادت میں مشغول رہتا۔ دُنیوی معاملات کی طر ف بالکل بھی تو جہ نہ دیتا ،میرے دل میں اس کی عقیدت ومحبت گھر کر گئی۔ میں نے اس کی خوب خدمت کی اوراس سے نصرانیت کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا ۔
جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کر تے ہیں ؟ آپ کے بعد میری رہنمائی کون کریگا ؟” وہ راہب کہنے لگا :” اے میرے بیٹے! اللہ عزوجل کی قسم! جس دین پر میں ہوں اس میں سب سے بڑا عالم وفقیہہ ایک شخص ہے جو ” موصل ” میں رہتا ہے۔میرے نزدیک اس سے بہتر کوئی نہیں جو تمہاری رہنمائی کر سکے، اگرتم سے ہوسکے تو اس کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ ۔” راہب کی یہ بات سن کر میں موصل چلا گیا اوروہاں کے راہب کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے واقعی اسے ایسا پایا جیسا اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ وہ بہت نیک وزاہد شخص تھا ۔چنانچہ میں اس کے پاس رہنے لگا پھر جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کاحکم دیتے ہیں جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟”اس نے جواب دیا : ” اللہ عزوجل کی قسم! اس وقت ہمارے دین کا سب سے بڑا باعمل عالم ” نصیبین ”میں رہتا ہے ۔میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی اور نہیں،اگر ہوسکے تو اس کے پاس چلے جاؤ ۔”
چنانچہ میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہوا ”نصیبین ” پہنچا اور اس راہب کے پاس رہنے لگا۔ وہ بھی نہایت متقی وپرہیزگار شخص تھا ، جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے پوچھا: ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں ؟ ”اس نے کہا: ”اس وقت ہمارے دین پر قائم رہنے والوں میں سب سے بڑا باعمل راہب ” عموریہ ” میں رہتا ہے، میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی نہیں، تم اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہاری صحیح رہنمائی کریگا۔” چنانچہ میں ”عموریہ” پہنچا اور اس راہب کی خدمت میں رہنے لگا ۔ وہ واقعی بہت نیک وصالح شخص تھا ۔ میں اس سے دینِ نصاری کے بارے میں معلومات حاصل کرتا اور دن کوبطورِ اجیر(یعنی مزدور) ایک شخص کے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا۔اس طرح میرے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی کہ میں نے کچھ گائے اور بکریا ں وغیرہ خرید لیں ۔ پھر جب اس راہب کی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا:”آپ مجھے کس کے پاس بھیجیں گے جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟ ”
اس راہب نے کہا:” اے میرے بیٹے! اب ہمارے دین پر قائم رہنے والا کوئی ایسا شخص نہیں جس کے پاس میں تجھے بھیجوں۔ ہاں! اگر تم نجات چاہتے ہو تو میری بات تو جہ سے سنو: اب اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جلوہ گری کا وقت بہت قریب آگیا ہے جو دینِ ابراہیمی لے کر آئے گا۔ وہ سر زمین عرب میں مبعوث ہوگا اور کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت فرمائے گا ۔ اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی کچھ واضح نشانیاں یہ ہیں:”(۱) ۔۔۔۔۔۔وہ ہدیہ قبول فرمائیں گے (۲)۔۔۔۔۔۔ لیکن صدقے کا کھانا نہیں کھائیں گے اور (۳)۔۔۔۔۔۔ اُن کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی ۔”
اگر تم اُس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کازمانہ پاؤ تو ان کے پاس چلے جانا ان شاء اللہ عزوجل تم دنیا وآخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے ۔اے میرے بیٹے !تم اس رحمت والے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ضرور ملنا ۔ اِتنا کہنے کے بعد اس راہب کا بھی اِنتقال ہوگیا۔پھرجب تک میرے رب عزوجل نے چاہا میں”عموریہ” میں ہی رہا۔پھر مجھے اِطلاع ملی کہ قبیلہ ”بنی کلب ”کے کچھ تاجر عرب شریف جارہے ہیں تو میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا: ”میں بھی تمہارے ساتھ عرب شریف جانا چاہتاہوں، میرے پاس کچھ گائیں اور بکریاں ہیں،یہ سب کی سب تم لے لو او رمجھے عرب شریف لے چلو۔” ان تاجروں نے میری یہ بات منظور کرلی اور میں نے انہیں تمام گائیں اور بکریاں دے دیں ۔چنانچہ ہمارا قافلہ سوئے عرب روانہ ہوا۔ جب ہم وادی ”قُرٰی” میں پہنچے تو ان تا جروں نے مجھ پر ظلم کیا اور مجھے جبراً اپنا غلام بنا کر ایک یہودی کے ہاتھوں فر وخت کردیا۔
یہودی مجھے اپنے علاقے میں لے گیا ۔وہا ں میں نے بہت سے کجھوروں کے درخت دیکھے تو میں سمجھا کہ شاید یہی وہ شہر ہے جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے کہ نبی آخر الزّماں، سلطان ِدو جہاں ،محبوبِ رب الانس والجاں عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہاں تشریف لائیں گے ۔ چنانچہ میں اس یہودی کے پاس رہنے لگا اور اس کی خدمت کرنے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد اس یہودی کا چچا زاد بھائی مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے اس کے پاس آیا۔ اس کا تعلق قبیلہ ”بنی قریظہ” سے تھا ۔یہودی نے مجھے اس کے ہاتھوں فر وخت کردیا ۔ وہ مجھے لے کر مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً کی طر ف روانہ ہوگیا۔ خدا عزوجل کی قسم! جب میں مدینہ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں پہنچا تو میں نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا کہ یہی جگہ میری عقیدتوں کا محور ومرکز ہے۔ یہی وہ پاکیزہ شہر ہے جس میں نبی آخر الزماں، سلطانِ دو جہاں ، سرور کون ومکاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری ہوگی۔ جو نشانیاں راہب نے مجھے بتائی تھیں کہ وہاں بکثر ت کھجوریں ہوں گی ،وہ میں نے وہاں پالی تھیں ۔
اب مَیں منتظر تھا کہ کب میرے کانوں میں یہ صدا گونجے کہ اس پاکیزہ ہستی نے اپنے جلوؤں سے مدینہ منورہ کو نور بارکردیا ہے جس کی آمد کی خبر سابقہ آسمانی کتب میں دی گئی ہے ۔
بالآخر اِنتظار کی گھڑیاں ختم ہو ئیں۔ ایک دن میں کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا تھا اور میرا مالک نیچے بیٹھا تھا ۔ اس کا چچا زاد بھائی آیا اور کہنے لگا:” اللہ عزوجل فلاں قبیلے (یعنی اوس وخزرج ) کو برباد کرے ،وہ لوگ مقام ”قباء ”میں جمع ہیں او رایک ایسے شخص کا دین قبول کرچکے ہیں جومکہ مکرمہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے آیا ہے اور وہ اپنے آپ کو اللہ عزوجل کا نبی کہتا ہے۔اس قبیلے (یعنی اوس وخزرج) کے اکثر لوگ اپنے آباء واجداد کادین چھوڑکر اس پر ایمان لاچکے ہیں۔” جب میں نے اپنے مالک کے چچازاد بھائی کی یہ بات سنی تو میں خوشی کے عالم میں جھوم اٹھا۔قریب تھا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر پڑتا لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور جلدی جلدی نیچے اُترا۔ پھر پوچھا: ”ابھی تم نے کیا بات کہی ہے؟ اور کون شخص مکہ سے آیا ہے ؟” میری یہ بات سن کر میرے مالک کو بہت غصہ آیا اور اس نے مجھے ایک زوردار طمانچہ مارا اور کہا:” تمہیں ہماری باتوں سے کیا مطلب؟ جاؤ! ”جا کر اپنا کام کرو ۔”
میں نے کہا : ”میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا ۔”یہ کہہ کر میں دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ میرے پاس کچھ رقم بچی ہوئی تھی۔ ایک دن موقع پاکر میں بازار گیا، کچھ کھانے پینے کی اشیاء خریدیں اور بے تا ب ہوکراس رخِ زیبا کی زیارت کے لئے قباء کی طر ف چل دیا جس کے دیدار کی تمنانے مجھے فارس سے مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً تک پہنچا دیا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے ان کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہوکر عرض کی: ”اے اللہ عزوجل کے بندے! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ اللہ عزوجل کے برگزیدہ بندے ہیں اور آپ کے اصحاب میں اکثر غریب اورحاجت مند ہیں، میں کچھ اشیائے خورد ونوش لے کر حاضر ہوا ہوں ، میں یہ اشیاء بطورِ صدقہ آپ کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں، آپ قبول فرمالیں۔”
یہ سن کراس پاکیزہ ومطہر ہستی نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”آؤ! اوریہ چیزیں کھالو ۔” لوگ کھانے لگے او رآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ یہ دیکھ کر میں نے دل میں کہا: ”ایک اور نشانی تو میں نے پالی ہے۔” پھر کچھ دنوں کے بعد میں کھانے کا کچھ سامان لے کر حاضر خدمت ہوا اور عرض کی: ”حضور! یہ کچھ کھانے کی چیزیں ہیں، انہیں بطور ِہدیہ قبول فرمالیں۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ کھایا اور اپنے اصحاب کو بھی اپنے ساتھ کھانے کا حکم فرمایا ۔ میں نے دل میں کہا :” یہ دوسری نشانی بھی پوری ہوگئی ہے۔”
پھر ایک دن میں جنت البقیع کی طر ف گیا تو دیکھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وہا ں موجود ہیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جسمِ اَطہر پر دو چادر یں ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گرد ا س طرح جمع ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے جمع ہوتے ہیں۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا اور پھر ایسی جگہ بیٹھ گیا جہاں سے میری نظرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پشت مبارک پر پڑے تاکہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک شانوں کے درمیان مہرِنبوت کو دیکھ سکوں کیونکہ مجھے راہب نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ سب کی سب میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذات میں دیکھ لی تھیں۔ بس آخری نشانی (یعنی مہرِ نبوت) دیکھنا باقی تھی ۔ میں بڑی بے تابی سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف دیکھ رہا تھا جب نبی غیب داں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میری یہ حالت دیکھی تو میرے دل کی بات جان لی اور میری طرف پیٹھ پھیرکر مبارک شانوں سے چادر اُتارلی جیسے ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چادر ہٹائی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہرِ نبوت جگمگارہی تھی۔ مَیں دیوانہ وار آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طر ف بڑھا اور مہرِ نبوت کو چُومنا شروع کردیا۔ مجھ پر رقت طاری ہوگئی ،بے اِختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ آج میری خوشی کی اِنتہاء نہ تھی جس کے روئے زیبا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مَیں نے اِتنی مصیبتیں اور مشقتیں جھیلیں آج وہ نورِمجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے سامنے موجود تھے اور میں ان کے جلوؤں میں اپنے جسم کومنور ہوتا دیکھ رہا تھا ۔
میں نے فوراً حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:”اے میرے محبوب آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیجئے اوراپنے غلاموں میں شامل فرمالیجئے۔” پھر الْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلّ َ مَیں مسلمان ہوگیا ۔میں ابھی تک حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مہرِ نبوت کو بو سے دے رہا تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:” اب بس کرو۔” چنانچہ میں ایک طرف ہٹ گیا، پھر میں نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنی ساری رُوداد سنائی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان بہت حیران ہوئے کہ میں کس طرح یہاں تک پہنچااورمیں نے کتنی مشقتیں برداشت کیں۔
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا:” اے سلمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! تم اپنے مالک سے مکاتبت کرلو( یعنی اسے رقم دے کر آزادی حاصل کرلو) جب حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مالک سے بات کی تو اس نے کہا :” مجھے تین سو کھجوروں کے درخت لگا دو اور چالیس اوقیہ چاندی بھی دو پھر جب یہ کھجور یں پھل دینے لگ جائیں گی تو تم میری طرف سے آزاد ہوجاؤگے ۔”
میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بیکس پنا ہ میں حاضر ہوا اور اپنے مالک کی شرطیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بتائیں ۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو ۔” چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھرپور تعاون کیا، کسی نے کھجوروں کے 30پودے لاکر دیئے، کسی نے 50 ۔ الغرض !مددگار صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مدد سے میرے پاس 300کھجوروں کے پودے جمع ہوگئے ۔

پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے سلمان فارسی( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !تم جاؤ او رزمین کو ہموار کرو۔” چنانچہ میں گیا اور زمین کو ہموار کرنے لگا تا کہ وہاں کھجور کے پودے لگائے جاسکیں ۔ ا س کام سے فارغ ہو کر میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں نے زمین ہموار کر دی ہے۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے ساتھ چل دیئے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہمراہ تھے ۔ ہم حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو کھجوروں کے پودے اُٹھا اُٹھا کر دیتے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے دستِ اقدس سے اسے زمین میں لگاتے جاتے ۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں سلمان فارسی ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی جان ہے ! حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جتنے پودے لگائے وہ سب کے سب اُگ آئے اور ان میں بہت جلد پھل لگنے لگے ۔”چنا نچہ میں نے 300کھجوریں اپنے مالک کے حوالے کیں۔ ابھی میرے ذمہ 40اوقیہ چاندی باقی رہ گئی تھی ؟پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس کسی نے مرغی کے انڈے جتنا سونے کا ایک ٹکڑا بھجوایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسارفرمایا: ”سلمان فارسی کا کیا ہوا ؟ ” پھر مجھے بلواکر فرمایا:”اسے لے جاؤ،اور اپنا قرض اداکرو۔”میں نے عرض کی :”ابھی 40 اوقیہ چاندی اور دینی ہے ،پھر مجھے غلامی سے آزادی ملے گی۔ ” 

حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے وہ سونے کا ٹکڑا دیا اورفرمایا:” جاؤ! او راس کے ذریعے 40اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ باقی ہے، اسے ادا کرو ۔” میں نے عرض کی:”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! یہ اِتنا سا سونا 40اوقیہ چاندی کے برابر کس طر ح ہوگا ؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”تم یہ سونا لو اور اس کے ذریعے 40 اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ ہے، اسے ادا کرو، اللہ عزوجل تمہارے لئے اسی سونے کو کافی کردے گااور تمہارے ذِمہ جتنی چاندی ہے یہ اس کے برابر ہوجائے گا ۔” میں نے وہ سونے کا ٹکڑا لیااوراس کا وزن کیا۔ اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! وہ تھوڑا سا سونا 40 اوقیہ چاندی کے برابر ہوگیا او راس طرح میں نے اپنے مالک کو چاندی دے دی اور غلامی کی قید سے آزاد ہوکر سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غلاموں میں شامل ہوگیا۔ پھر میں غزوہ خندق میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ شامل ہوا ۔اس کے بعد میں ہر غزوہ میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ رہا ۔

(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث سلمان الفارسی، الحدیث۲۳۷۹۸،ج۹،ص۱۸۵تا۱۸۹)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

حضرت جابر بن عبداللہ کے صحیفے

حضرت جابر بن عبداللہ کے صحیفے

آپکی مرویات بھی کثیر تعداد میں ہیں اورانکی جمع وتدوین کی روداد کچھ اس طرح ہے ۔ امام طحاوی انکے شاگردوں کا قول لکھتے ہیں: ۔

کنانأتی جابر بن عبداللہ لنسألہ عن سنن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فنکتنبھا۔ (شرح معانی الآثار للطحاوی، ۲/۳۰۴)

ہم لوگ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تاکہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنتیں معلوم کرکے قلمبند کریں ۔

آپکی روایتوں کے متعدد مجموعوں کو ذکر ملتاہے ۔

ایک مجموعہ اسمعیل بن عبدالکریم کے پاس تھا۔(تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۲۰۶)

دوسرا سلیمان یشکری کے پاس ۔(تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۲۱۱)

ابوبکر عیاش نے امام اعمش سے اس زمانہ کے لوگوں کی رائے نقل کی ہے ۔

ان مجاہدایحدث عن صحیفۃ جابر۔ (الطبقات اکبری لا بن سعد، ۵/۲۴۴)

حضرت مجاہد حضرت جابر کے صحیفہ سے روایت بیان کرتے تھے ۔

ایک صحیفہ حضرت جابرکے پاس اورتھا جسکو تابعی جلیل حضرت قتادہ بن دعامہ سدوسی بہت اہمیت دیتے تھے ۔ فرماتے تھے : مجھے سورۃ بقرہ کے مقابلہ میں صحیفہ جابر زیادہ حفظ ہے ۔(التاریخ الکبیر للبخاری)