ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ان دنوں مِن حَیثُ القوم ہم ایک دوسرے کی قبریں کھودنے ‘ چیتھڑے اڑانے ‘ طعنہ زنی ‘عیب جوئی اور تذلیل وتحقیر میں مصروف رہتے ہیں اور اس میں ہمیں بڑا لطف آتا ہے‘ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان عادات واقدار کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

(1)”ہلاکت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو منہ پر طعنے دیتا ہے اور پسِ پشت عیب جوئی کرتا ہے‘جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا ‘وہ گمان کرتا ہے کہ اُس کا مال اُسے حیاتِ جاودانی عطا کرے گا‘ہرگز نہیں!وہ ”حُطَمَۃ‘‘ میں ضرور پھینک دیا جائے گا اور آپ کو کیامعلوم ”حُطَمَۃ‘‘کیا ہے ‘وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (جس کے شعلے ) سینوں تک بلند ہوں گے ‘بے شک وہ آگ ان پر ہر طرف سے لمبے لمبے ستونوں میںبند کی ہوئی ہوگی ‘(الہُمَزہ:1-9)‘‘۔ 

تفسیر کبیر میں ہے:”ھُمَزَہ‘‘ سے مراد غیبت کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد عیب جوئی کرنا ‘ ابوزید نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد ہاتھ یا اشاروں سے اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد زبان سے عیب جوئی کرنا ‘ ابوالعالیہ نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد سامنے طعن کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد پیٹھ پیچھے غیبت کرنا‘ ایک معنی یہ بیان کیا ہے کہ ھُمَزَہ سے مراد ظاہراً اور لُمَزَہ سے مراد آنکھ یا ابروکے اشارے سے طعن کرنا ‘ ولید بن مغیرہ ایسے ہی کرتا تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت نفیس انداز میں فرمایا:”اپنے عیب نہ نکالواور(ایک دوسرے کو)برے ناموں سے نہ پکارو‘‘ (الحجرات:11)۔ اس میں نفسیاتی انداز میں بتایا گیا کہ تم جس کے عیب نکالتے ہو‘ وہ تمہارا ہی بھائی ہے ‘ تمہاری ملّت کا ایک فرد ہے‘ کوئی غیر تو نہیں ہے ‘ یعنی اس کی توہین کر کے تم اپنی توہین کر رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(1) ”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو‘ بے شک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگائو اور نہ تم ایک دوسرے کی غیبت کرو‘ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ سو تم اس کو ناپسند کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘(الحجرات: 12)۔(2) ”اور(اے مخاطَب!) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی ٹوہ میں نہ لگ جائو‘ بے شک کان ‘ آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (روزِ قیامت) باز پرس ہوگی‘‘ (الاسرائ: 36)۔اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگانے سے منع فرمایا ‘ حدیث پاک میں اسے ”تجسُّس‘‘اور ”تَحَسُّس‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے:

” رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارا: اے لوگو! جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور (ابھی) ایمان تمہارے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا‘ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائو‘ انہیں عار نہ دلائو‘ ان کی پوشیدہ باتوں کے درپے نہ ہوجائو‘ پس بے شک جو اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ راز کے درپے ہوگا‘اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائے گااور جس کے عیوب کو اللہ ظاہر کر دے ‘وہ رسوا ہوجائے گاخواہ وہ کجاوے میں بیٹھا ہو‘نافع بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرکی نظر بیت اللہ پر پڑی تو انہوں نے کہا: (اے بیت اللہ!)تیری عظمت بے پایاں ہے ‘ تیری حرمت عظیم ہے لیکن ایک (بے قصور)مسلمان (کے خونِ ناحق) کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘ (سنن ترمذی:2032)۔

(2)”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان‘ مسلمان کا بھائی ہے‘ وہ نہ اس پر خود ظلم کرے اور نہ کسی اور کو اس پر ظلم کرنے دے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے‘اللہ تعالیٰ اس کی حاجت براری فرماتا ہے اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی مصیبت دور کی تو اللہ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی مصیبت دور فرمادے گا اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا‘ اللہ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا‘‘ (صحیح البخاری:2442)۔

اسلام نے ایک دوسرے کی پردہ دری اور عیب جوئی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اپنے دین کے دشمنوں کو اپنا رازدار نہیں بنانا چاہیے ‘ اس کا انجام نقصان ہی نقصان ہے ‘ فرمایا:”اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بنائو‘ وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے‘ انہیں وہی چیز پسند ہے ‘جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ‘ان کی باتوں سے تودشمنی عیاں ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے‘ وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے‘ اگر تم عقل سے کام لیتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے نشانیوں کو بیان کردیا ہے‘‘(آل عمران:118)۔بہت سے حضرات اپنا راز دوسروں پر افشا کرتے ہیں اور پھر اُن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اُس پر پردہ ڈالے رہیں ‘ جب ایک شخص خود اپنے رازوں کی حفاظت نہیں کرسکتا تو کسی دوسرے سے توقع رکھنا عبث ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مفاسد کا منبع زبان ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا: (1)”جو مجھے اس چیز کی (شریعت کے تابع رکھنے کی )ضمانت دے گا جو دو داڑھوں اور دو ٹانگوں کے درمیان ہے(یعنی زبان اور شرمگاہ) ‘ تو میں اُسے جنت کی ضمانت دوں گا‘‘ (بخاری: 6474)۔(2)”جو خاموش رہا‘ اس نے نجات پائی‘‘ (سنن ترمذی:2501)۔(3)”جب بنی آدم صبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اعضازبان کے تابع ہوتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ ‘ کیونکہ ہمارے حقوق کی حفاظت تمہارے ذریعے ہے‘ اگر تو صحیح رہے گی تو ہم بھی صحیح رہیں گے اور اگر تو کجی اختیار کرلے گی تو ہم میں بھی کجی آجائے گی‘‘ (ترمذی:2407)۔(4)سفیان بن عبداللہ ثقفی نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے وہ چیز بتائیے‘ جسے میں مضبوطی سے تھام لوں‘ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو:میرا رب اللہ ہے ‘ پھر اس پر ثابت قدم رہو ‘ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے‘ جس سے مجھے سب سے زیادہ خوفزدہ رہنا چاہیے ‘ تو آپ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ(یعنی زبان)‘‘ (ترمذی: 2410)۔(5)”نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپایا‘اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب پر پردہ ڈالے گااور جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ دری کی تو قیامت میں اللہ تعالیٰ اُس کے عیب کو فاش کردے گایہاں تک کہ اُسے اپنے گھر میں رسواکرے گا‘ ‘(سنن ابن ماجہ:2546)۔

اب حکومتِ وقت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اس پر کریک ڈائون کی بات کر رہی ہے ‘ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کا شعار بھی ہماری آج کی حکمراں جماعت نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے رائج کیا اور اب اُسی کاہتھیار اس کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور وہ اس سے بچائو کی تدبیر اختیار کرنے پر مجبور ہے‘ ماضی کی حکومت نے جب سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی تھی تو جنابِ عمران خان نے اس کی شدیدمخالفت کی تھی ‘لیکن : دیر آید درست آید‘ موجودہ حزبِ اختلاف یقینااس کی مخالفت کرے گی ۔ ہمارے سیاسی رہنماہرچیز کے حُسن وقبُح کے بارے میں وقتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج سوشل میڈیا موجودہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا تو اس کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے ‘ اس اقدام کانیک نیتی پر مبنی ہوناصرف اُس صورت میں سمجھا جائے گاکہ حکومت خود بھی اپنے ماضی کے رویے پراظہارِ ندامت کرے اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم کرے تو یہ اقدام قابلِ ستائش ہے ‘ لیکن اگر اپنے خلاف موادپر مواخذہ کرے اور دوسروں کی بدستور تضحیک کرے ‘تو اسی کو چنیدہ انصاف کہتے ہیں؛البتہ جو لوگ اسلام دشمن عناصر بالخصوص قادیانی‘ سیکولرز لبرلز کامہذب انداز میں ردّاور اسلام کا دفاع کرتے ہیں‘ توان پرپابندی کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ ہمیشہ دائمی مفاد پیشِ نظر رہنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی بابت ایک عالم نے کہا: ” فوائد ونقصانات دونوں کے حامل جدید آلات کوان کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کا موازنہ کیے بغیراستعمال نہ کریں ‘ انسان جلد باز ہے‘ وہ مثبت پہلوئوں سے جلد متاثر ہوتا ہے اور منفی گوشوں سے غفلت برتتا ہے۔ ذرائع ابلاغ واشتہارات کے ذریعے جب کسی نئی چیز کا فائدہ اس کے علم میں آتا ہے‘ تو وہ فوراً اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کے منفی پہلوئوں اور نقصانات پر غور نہیں کرتا؛ چنانچہ وہ نتائج سے بے خبر رہ کربتدریج ان کے نقصانات کاشکار ہوجاتا ہے‘‘۔اسلام نے شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے شراب اور جوئے سے اجتناب کے بارے میں یہی اصول تعلیم فرمایا: ”(اے رسول !)وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ آپ کہیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیںاور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ‘‘ (البقرہ:219)۔اسی کو فقہ کی اصطلاح میں ”سدِّ ذرائع‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی دفعِ شر کوحصولِ منفعت پر مقدم رکھنا۔ اس آفت میں بعض دین دار لوگ بھی مبتلا ہوگئے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی فہم میں شر کو خیر کے حصول کا ذریعہ بنارہے ہیں ‘ کیونکہ اُن کے نزدیک اپنے مخالف کا رَد یا اہانت خیر ہے ۔

سوشل میڈیا کے غیر دانشمندانہ استعمال کا نقصان شعارِدین کو بھی ہورہا ہے‘ بعض ایسے لوگ جو اہلیت نہیں رکھتے‘جہاد باللسان یا جہاد بالقلم سمجھ کر اپنے اپنے فتوے صادر کردیتے ہیں اور ردعمل میں لبرل طبقہ چاہتا ہے کہ صریح کفر کے سدِّباب کے لیے جہاں فتویٰ ضروری ہے ‘وہاں بھی پابندی لگا دی جائے‘ تاکہ کفروضلالت کے آگے کوئی شرعی رکاوٹ ہی نہ رہے اور دین بازیچۂ اطفال بن جائے۔ یہ لوگ کچھ حساس و اہم اسلامی قوانین کوبے اثر بنانے کیلئے شہادتِ مردودہ کوبہانہ بنا کرشعوری طور پراسی حربے کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ماضی میں ”اِنِ الْحُکمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘ (یعنی حکم اور فیصلہ تو اللہ ہی کا نافذہو گا)کا نعرہ لگا کر خوارج نے فتنہ برپا کیا‘ جو مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے ‘ اسی حربے کی فتنہ سامانی پرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”یہ کلمۂ حق ہے ‘جسے باطل مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ‘‘۔ الغرض باطل کو حق کے لیے یا حق کو باطل کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

 

مولانے

مولانے

نام لکھنے کی ضرورت نہیں ‘ آپ خود سمجھ جائیں گے کہ اتنا ”شیریں دہن‘‘ معروف دانشورکون ہے‘ ان سے کسی مولانا کے حوالے سے سوال ہواتو وہ بھرے بیٹھے تھے ‘ چھلک پڑے۔ کافی عرصے سے ٹیلی ویژن کے پروگرام نہیں دیکھ رہا ‘ بس صرف ہیڈ لائنز اورٹِکرزپر اکتفا کرتاہوں۔موصوف اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں ‘ اپنی دانش پر افتخاراوردوسروں کی توہین اُن کا پسندیدہ شیوہ ہے۔اس سے شاید انہیں قلبی سکون ملتا ہے ۔بعض لوگ فطرتاً مردم آزاروآدم بیزار ہوتے ہیں‘ جنابِ شاہنواز فاروقی کے کالم میں درج ذیل اقتباسات پڑھے ‘ آپ بھی ان کے افکار سے لطف اندوز ہوں:

”یار خدا کا واسطہ! یہ” مولانے‘‘ مسلمانوں کو جینے دیں‘ انہیں زندہ رہنے دیں‘ یہ ہمارے بچوں کو مغرب سے مقابلہ کرنے دیں‘ احسان کریں‘ کس بات کا انتقام لے رہے ہیں یہ ہم سے۔ بیڑہ غرق ستیاناس مسلمانوں کا تب سے شروع ہوا جب مولانا اسلام نے کہا پرنٹنگ پریس نہیں چاہیے‘ہم صدیوں پیچھے چلے گئے‘ پہلا میڈیکل کالج‘ مولانا نے کہا: نہیں یہ غیر اسلامی ہے۔ صبح کرتے ہیں‘ یہ فلش سسٹم‘ٹوتھ پیسٹ‘یہ سب اہلِ مغرب لائے‘سمجھ آئی بات۔ کوئی کنویں کھودنے والے( یعنی مسلمان)نہیں‘ یہ ہینڈ پمپ گورا لایا تھا‘ یہ رحم کریں ہم لوگوں پہ‘ بیمار ہوتے ہیں پہنچ جاتے ہیں ہسپتال‘ کوئی ایک دوائی‘ کوئی وہ جسے سرجیکل کہتے ہیں‘آلات‘ مشین‘ وہ تمہاری میری بنائی ہوئی ہیں‘شرم نہیں آتی‘ اس سے تو بہتر ہے مر جائیں۔ہسپتال جانے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود کو مغرب کے رحم و کرم پہ ڈال دیا‘ سارے ٹیسٹ وغیرہ یہ وہ۔جہاز پر بیٹھتے ہیں حج اور عمرہ کا ثواب کمانے‘ تو یار کوئی توپانچ فیصد ثواب اُس (کافر)کو بھی دے دو جس نے تمہیں Facilitateکیا۔ عمریں بیت جاتی تھیں حج اور عمرہ پہ جاتے ہوئے‘ واپس آتے ہوئے اور پتا بھی نہیں ہوتا تھا کہ واپس لوٹے گا کہ نہیں‘اب ہماری زیادہ تر مسجدیں ماشا اللہ ائرکنڈیشنڈہیں‘ وہاں بیٹھ کے پرسکون طریقے سے اب آپ نماز ادا فرماتے ہیں۔ بجلی انہوں نے دی جس کے صدقے یہ گفتگو ہورہی ہے اور کروڑوں لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ ریل اور کار‘ اس پہ تشریف رکھ لیتے ہیں اور کروزوں پہ ہاں‘ سائیکل سے لے کرسیٹلائٹ تک اہلِ مغرب نے‘پولٹری سے لے کر ہائی برِڈ سیڈ تک‘ ٹی وی سے لے کرسپر کمپیوٹرتک‘سمارٹ فون سے لے کر خون کی تبدیلی تک انہوں نے دی‘ کوئی شرم حیا ہمیں نہیں آتی۔انجکشن جس کا مذاق اڑایا تھا ”ملا حضرات‘‘ نے‘لائوڈ سپیکر کا مذاق اڑایا‘ اسے شیطانی آلہ قرار دیا۔ڈسپرین سے لے کرلیور ٹرانسپلانٹ تک۔ میں دعاگو ہوں اللہ ان کی صحت درست رکھے‘ چلتے پھرتے جائیں‘ لیور ٹرانسپلانٹ کی نوبت نہ آئے۔ خدا کا خوف کرو‘ روبوٹ سے لے کر مریخ تک جانا ہے‘ یہ ہمارے پلے کیا ہے‘ یہ جو عہدِ حاضر ہے اس میں مسلمانوں کی بنی نوع انسانی کے لیے ایک کنٹری بیوشن بتائو او زندگیاں تم ان کے صدقے گزار رہے ہو۔ترکی سے انہوں نے برباد‘ سلطنت عثمانیہ‘ خلافت عثمانیہ‘ تین کانٹی نینٹ پہ حکومت‘ انہوں نے مسلمانوں کو ایسا ریورس پر ڈالا‘ ان کے نزدیک پتا ہے کیا ہے مغرب۔ننگی ٹانگیں اور حجاب نہ ہونا یا الکوحل اور نہیں ہے۔ ایڈیسن نے اپنی زندگی دے دی‘ ہمیں ایک ہزار سے زیادہ ایجادات دینے کے لیے‘ ان کو یہ کیوں نہیں لگتا‘ ان کے دماغوں میں اہلِ مغرب بھی مخلوق ہے میرے رب کی مخلوق ہے۔ قرآن ایک وزڈم بتاتا ہے‘ لکھا ہے:بے شک تم غالب آئوگے اگر تم مومن ہو‘غالب ہمیشہ وہ ہوتا ہے جو مومن کے قریب تر ہواور ہم جھوٹے لوگ ہیں۔ ہمارے یہاں خالص چیز کوئی نہیں ملتی‘ وہاں ملاوٹ کا تصور ہی نہیں ہے‘ دو نمبر فیکٹریاں ہیں‘ ملک لوٹ کر باہر جاتے ہیں‘ او تم کرتے کیا ہو؟ اور گالیاں اہلِ مغرب کو‘او کس بات پہ ہم ایٹمی طاقت ہیں‘ تم ایٹمی طاقت کہاں سے ہو‘ یہ تو سیکنڈورلڈ وار میں ایک پرزہ‘ ایک آلہ‘ یہ اسلحہ‘ یہ تواستعمال ہوچکا‘ اس سے پہلے اسے Conceiveکیا گیا تھا‘بنالیا گیا‘پھر یہ ہیروشیما‘ ناگاساکی یہ تو پھر۔ تو ہم ایٹمی طاقت‘ ٹینک‘ یہ جتنا ماڈرن ہتھیارہے‘ کدھر ہے‘ یہ کون لوگ ہیں‘ اہلِ مغرب‘ اوئے اہل مغرب سے مقابلہ کرنے کے لیے بچے تیار کرو اپنے‘ اپنے بچے تیار کرو ورنہ ہمارے بچے ان کے قدموں تلے روند دیے جائیں گے‘ جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے۔ او اعلیٰ تعلیم کے لیے جاتے کہاں ہو تم‘ تمہارے تو پورے ملک میں اعلیٰ تعلیمی ادارہ ڈھنگ کا نہیں ہے‘یہ میرا بلڈ پریشر تباہ کرنے کے لیے تم نے یہ سوال کیا ہے‘ مولانا خدا کا خوف کرو‘ ڈرو اس طرح کی باتیں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری نظر میں روزِ محشر نہیں ہے‘ انصاف نہیں ہونا‘ اس کا مطلب یہ ہے‘ اہلِ مغرب موریلٹی میں‘ اخلاقیات میں بلند ترین مقام پر فائز ہیں‘ میں کہہ رہا ہوں‘ دو فتویٰ میرے خلاف اور ہمارے قدم قدم پر تمہارے الیکشن جھوٹے‘ خود کہہ رہے ہو‘ تمہاری اسمبلیاں جھوٹی‘ ہمارے الیکشن فراڈ‘تمہارا وزیراعظم‘ تمہارا سب کچھ غلط‘ ان کا سب کچھ صحیح‘ پھر اہلِ مغرب او ان کی نقل کرلو‘ زندہ رہ لو‘ کیوں ہم کو برباد کررہے ہو‘‘ ۔

اس عہدِ تنزُّل میں بھی ہمارے لبرل سیکولر اسلام بیزار دانشور اپنی شدید خواہش کے باوجود اسلام پر براہِ راست حملہ کرنے کی جسارت نہیں کرپاتے ‘تو علامت کے طور پر کسی مولانا کا ہیولیٰ ذہن میں تشکیل دے کر سنگ باری فرماتے ہیں ۔اگر نشانے پر کسی دوسرے مسلک کا عالم ہے ‘تو مخالف مسلک کے لوگ خوش ہوتے ہیں ‘ یہ نہیں سوچتے کہ ہدف شخص نہیں ہے ‘اس کا نام توعلامت کے طور پر لیاجارہا ہے ‘اصل ہدف دین اور اسلام ہے ‘ پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا کا سیلابِ بلا خیز آنے کے بعد مُصلحِ اعظم بن کرسٹوڈیوز میں یہی اینکر پرسنزبراجمان ہیں ‘ لیکن پھر بھی قصور وار ”مولانے ‘‘ ہیں۔ 

آپ اس کالم کو بار بار پڑھیے ‘اس کاTheme یا مرکزی خیال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ یا پاکستان کے زوال کا سبب دینی طبقات ہیں ۔ پاکستان کی حد تک ستر سال میں دینی طبقات تختِ اقتدار پر کب فائز ہوئے ہیں‘ نظامِ حکومت کی ڈرائیونگ سیٹ پر کب بیٹھے ہیں ‘ کیا ریاست کے زیرِ انتظام یا پرائیویٹ سیکٹر میں یونیورسٹیوں کے ریکٹر یا وائس چانسلر ”مولانے‘‘ ہیں تاکہ انہیں کوس کر تسکین حاصل کی جائے۔ نظام تو روزِ اول سے سیکولر لبرل طبقات کے پاس ہے ‘ اسٹیبلشمنٹ پر انہی طبقات کو غلبہ حاصل ہے ‘وہی الیکشن کراتے ہیں‘ تخت پر بٹھاتے اور اتارتے ہیں‘ کیا ملک کی پالیسیاں ”مولانے‘‘بناتے ہیں‘ کیا ملک کے زوال کا سبب ”مولانے‘‘ ہیں‘ کیا ہمارے ہاں سائنسی ایجادات ‘ فنی ترقی ‘ معاشی استحکام کے نہ ہونے اور سیاسی انتشار کا سبب فقط دینی طبقات اور”مولانے ‘‘ہیں ۔ کیا ملک کو مذہبی طبقات نے لوٹا ہے ‘کیا قومی خزانوں کی کنجیاں ہمیشہ ان کے پاس رہی ہیں۔ کیا کسی ایک قومی انتخاب میں بھی قوم نے کلی اقتدار دینی طبقات کو سونپا ہے تاکہ انہیں کوسنے کا جواز مل جائے۔ باستثنائے انقلابِ ایران‘ جو داستان پاکستان کی ہے وہی تمام مسلم ممالک کی ہے ‘ کیا ستاون مسلم ممالک کے صدور ‘وزرائے اعظم‘ آمرین اور ملوک وسلاطین ”مولانے‘‘ ہیں۔ کیا کسی ”مولانا ‘‘کے ٹرین یالائوڈ سپیکر کی مخالفت کرنے سے ان دونوں چیزوں کا برصغیر میں چلن موقوف ہوگیا تھا۔ کیا ملک کو غریبوں‘ مفلسوں اور ناداروں نے لوٹا ہے یا انہوں نے جن کے پاس حدیث پاک کے مطابق سونے کی ایک وادی ہے تو دوسری کی تمنا ‘دو ہیں تو تیسری کی تمنا انہیں بے چین کیے رہتی ہے ‘ کوئی بتائے کہ ان بالادست طبقات میں ”مولانے‘‘کتنے ہیں ۔ نفرت کرنا آپ کا اختیارہے ‘ لیکن خدارا! انصاف پر مبنی بات کیجیے‘ دینی مدارس نے ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جن پر مغرب کی یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی ہورہا ہے۔ دین سے آپ کو نفرت ہے تو براہِ راست اپنا مؤقف بیان کیجیے‘ ہاتھ گھماکر کان پکڑنے کا تکلف کیوں ‘ کیا ملک کے بڑے سرمایہ دار ‘ جاگیر دار وزمیندار‘ سیاسی مقتدرین اور اسٹیبلشمنٹ کے ستون ”مولانے‘‘ ہیں ‘اہلِ دین کی اکبر الٰہ آبادی کی زبان میں ایک عاجزانہ سی التجا ہوتی ہے :

جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو

اللہ کو اور اس کی حقیقت کو نہ بھولو

کیا ایسا ہوا ہے کہ آپ مریخ کی طرف پرواز کررہے تھے اور کوئی مولانا آپ کے راستے میں رکاوٹ بن گیا‘آپ نے سائنسی ایجادات اور فنی کمالات کا ہمالیہ کھڑا کردیا اور کسی مولانا نے انہیں آگ لگادی‘ اُن پر پردہ ڈال دیا ‘ انہیں چرا لیا اوراُن کی نفی کردی ۔ مولانا ئوںکے بھی قصور یقینا ہوں گے‘ لیکن جو سوال یونیورسٹیوں سے کرنا چاہیے ‘وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ جو وقت کے اہلِ اقتدار اورعدالت سے کرنا چاہیے ‘ وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ جو خود سے کرنا چاہیے وہ بھی مولانا سے ہورہا ہے ‘ علامہ اقبال نے کہا ہے: 

خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے‘ وہ خطا کیا ہے!

موصوف کو علامہ اقبال سے بھی بہت نفرت ہے ‘لیکن ہر خطیب اور لکھاری کی مجبوری ہے کہ عنوان کوئی بھی ہو‘ مشکل میں اقبال کام آتے ہیں ‘ موصوف نے اُن پر بھی چاند ماری فرمائی ہے۔

اہلِ دانش سے گزارش ہے کہ ”مولانوں‘‘ کے جرائم کی فہرست ایک ہی بار اور ایک ہی جگہ مرتب کر دیجیے تاکہ ان کواپنا جائزہ لینے اور اصلاح کرنے کا موقع مل سکے ‘ وہ بھی اپنے اندر جھانک سکیں اور اپنی کوتاہیوںکا ازالہ کرسکیں ‘ لیکن زندگی کو جرم بنادیا جائے اور ”بے خطائی‘‘کو خطا قرار دے کر سزا دے دی جائے ‘ تو اس کا حل ہمارے پاس نہیں ہے ۔ جب تحریکِ پاکستان چل رہی تھی ‘ تو یہی ”مولانے‘‘ صفِ اول میں تھے ‘ استاد قمر جلالوی نے کہا تھا:

اس چمن میں اب اپنا گزارا نہیں

اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں

سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی

یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

آپ کی وفا کا تقاضا یہ ہے کہ جن کے آپ قصیدے پڑھ رہے ہیں‘وہ آپ کو اپنے دیس اوراس دنیا کی جنت میں لے جائیں تاکہ ”مولانوں‘‘ سے آپ کی جان چھوٹے ‘ہمہ وقت کڑھنے سے آپ کو راحت ملے ‘وہاں لذتوں کے بڑے سامان ہیں ‘ الکوحل بھی پانی کی طرح دستیاب ہے ‘ عریاں نظارے ‘ رقص وسرود‘عَشوَہ وطرَب ‘ رنگ ونور ‘الغرض !کیا ہے جو وہاں نہیں ہے ‘سونے پر سہاگہ یہ کہ وہاں ”مولانے‘‘ بھی نہیں ہیں۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

Brexit

Brexit

برطانیہ عظمیٰ یعنی Great Britainکسی وقت سپر پاور تھا اور کہا جاتا تھا: ”اس کی حدودِسلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا‘ ایک خطے میں سورج غروب ہورہا ہوتا تو دوسرے میں طلوع ہورہا ہوتا ‘‘۔ امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ ‘ برصغیر پاک وہند‘ ہانگ کانگ اور افریقا کے کئی ممالک اس کے زیر نگیں تھے‘ پھر اس کے عالمی اقتدار کا سورج بتدریج غروب ہوتا چلا گیااور جنگ عظیم دوم کے بعد اس سمٹائو کی رفتار تیز تر ہوگئی ۔آج کا برطانیہ چار اکائیوں پر مشتمل ہے : انگلینڈ‘ ویلز‘سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ۔سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں بھی یو کے سے علیحدگی کی تحریک موجود ہے‘ مستقبل میں ‘اگر یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں تو برطانیہ انگلینڈ اور ویلزتک محدود ہوکر رہ جائے گا۔

یورپین یونین نومبر1993ء میں قائم ہوئی‘ یونین کے قیام کے بعداس کے رکن اٹھائیس ممالک الگ الگ خود مختار ریاستیں رہنے کے باوجود ایک مشترکہ منڈی میں شامل ہوگئے ہیں۔اس میں چار چیزوں کی آزادانہ نقل وحرکت کی ضمانت دی گئی ہے ‘یعنی؛ سامانِ تجارت‘ سرمایہ‘ خدمات اور لیبر‘ ان اٹھائیس ممالک کے درمیان کسٹم اور امیگریشن کی چیک پوسٹیں نہیں ہیں ۔ برطانیہ یورپین یونین کے قیام کے باوجود کافی عرصہ الگ تھلگ رہا‘ مگر آخر کار 1998ء میں یونین میں شامل ہوگیا‘ تاہم اس نے اپنی کرنسی پائونڈ سٹرلنگ برقرار رکھی۔

اس کے نتیجے میں برطانیہ میں یورپی یونین کے لوگوں کی آزادانہ آمد شروع ہوئی‘ پولینڈ ودیگر ممالک سے سستی لیبر کی درآمد ہونے لگی‘ سوشل ویلفیئر کے شعبے پر بھی دبائو پڑا۔ انگریزوں کے اندر اپنے ماضی کے اعتبار سے برتری اور تفاخر کا ایک احساس تھا ‘ انہیں خدشہ لاحق ہوا کہ یورپ کی وسیع تر وحدت میں کہیں ان کی انفرادیت اور امتیاز گم نہ ہوجائے‘ سو بوجوہ یونین سے علیحدگی کی تحریک چلی اور آخر کار23جون 2016ء کو اس مسئلے پر ریفرنڈم ہوا‘ جذباتی فضا میں عواقب پر نظر رکھے بغیر محض دو فیصد کی اکثریت سے علیحدگی کا فیصلہ ہوا ۔ یورپین یونین سے علیحدگی کا عمل بھی کافی پیچیدہ ہے اور اسی لیے اس عمل کے مکمل ہونے کے لیے کافی وقت رکھا گیا ہے۔ اُس وقت کے مقبول وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون علیحدگی کے حق میں نہیں تھے‘ ریفرنڈم کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آیا تو انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفا دے دیا‘ تاکہ یورپین یونین سے علیحدگی کی مہم ایک نئی قیادت انجام دے۔

ٹرِسامَے نئی وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور ان کی قیادت میں بریگزٹ کا عمل شروع ہوا۔ بریگزٹ Britishکے مخفَّفBR اور Exitکا مرکب ہے ‘اس کے معنی ہیں: ”یورپین یونین سے برطانیہ کا خروج‘‘۔ عربی کا محاورہ ہے :”قَدِّمِ الْخُرُوجَ قَبْلَ الْوُلُوْج‘‘یعنی داخل ہونے سے پہلے نکلنے کی بابت سوچو کہ اگر کہیں اس کی نوبت آگئی تو تدبیر کیا ہوگی‘ اس کو ہم یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں:”کسی کام کے آغاز سے پہلے انجام کی سوچو‘‘۔انگریزوں کی بابت ہمارے ہاں مشہور ہے کہ سو سال بعد کی سوچتے ہیں‘ شاید یورپین یونین میں شمولیت کے وقت وہ یہ نہ کرسکے۔ 

ٹرِسامَے کو آج یہی مشکل درپیش ہے ‘انہوں نے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد یورپین یونین کے ساتھ یونین سے علیحدگی کا جو معاہدہ ”بریگزٹ ڈیل‘‘ کے عنوان سے طے کیا‘ برطانوی پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دینے سے انکار کردیا‘ پھر اس میں چند ترمیمات پیش ہوئیں‘ مگر پارلیمنٹ نے انہیں بھی رد کردیا‘ آخر میں صرف ایک ترمیم کی منظوری ہوئی: ”No Brexit with out deal‘‘ یعنی ڈیل کے بغیر بریگزٹ نہیں ہوگی‘ جبکہ بظاہر تا حال No Dealکے آثار زیادہ ہیں۔ ٹرِسامَے ہاتھ پائوں مار رہی ہیں ‘ان کی حالت قابلِ رحم ہے ‘ لیکن یورپین یونین ڈیل پرنظرثانی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انگریزوں نے سوچا نہیں ہوگا کہ ایسی بند گلی میں بھی پھنس سکتے ہیں۔

در اصل دو ایسے تضادات ہیں‘ جن میں بیک وقت تطبیق آسان نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ یورپین یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ اور یونین کے دیگر ممالک کے درمیان کسٹم ڈیوٹی اور امیگریشن چیک پوسٹ کے روایتی اصول لاگو ہوں گے‘افراداور سامان کی بلا روک ٹوک اور آزادانہ نقل وحمل کی سہولت ختم ہوجائے گی‘ الغرض برطانیہ یونین کے دوسرے ممالک کے لیے اجنبی ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ برطانیہ اورجمہوریہ آئر لینڈ کے درمیان 2003میں ”Good Friday Agreement‘‘کے نام سے یہ معاہدہ طے پاچکا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اورشمالی آئر لینڈکے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ نہیں ہوگی اور لوگوں کی دونوں طرف آمد ورفت اور سامان کی نقل وحمل آزادانہ رہے گی ۔ آئر ش قوم کے یہ دونوں حصے خشکی پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں‘ جبکہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان سمندر ہے ۔ آئر لینڈ کے دونوں حصوں کی صورت ایسی ہی ہے‘ جیسے ہمارے قبائلی علاقہ جات میں افغانستان کے لوگوں کی آمد ورفت کسٹم اور امیگریشن کے بغیر جاری رہتی ہے ‘ کیونکہ دونوں طرف ایک ہی قبائل کے لوگ رہتے ہیں۔واضح رہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ آزاد ملک ہے اور بدستوریورپین یونین کا رکن ہے اور شمالی آئر لینڈ برطانیہ کے زیر اقتدار ہے۔

شمالی آئر لینڈ برطانیہ کا حصہ ہے ‘لہٰذا اب بریگزٹ کے بعد یونین قوانین کا تقاضا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان باقاعدہ ہارڈکسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹیں ہوں ‘ سامان کی آزادانہ نقل وحمل اور دونوں طرف کے لوگوں کی آزادانہ آمد ورفت موقوف ہوجائے‘ جب کہ شمالی آئر لینڈ کے لوگ اس پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گے‘ ماضی میں فسادات ہوتے رہے ہیںاوراگرآئر لینڈ کے دونوں حصوں کے درمیان سامان اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل اور آمد ورفت جاری رہتی ہے تو یورپین یونین کا مطالبہ ہے کہ برطانیہ اور یونین کے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ کے لیے کوئی بیک اپ لائن ہونی چاہیے‘ جبکہ ٹرسامَے کہتی ہیں کہ ہم سمندر میں لائن کیسے کھینچ سکتے ہیں‘ کیونکہ ایک ہی ملک ہے۔ 

سو‘ اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے اور ٹرِسامے مشکل میں ہے۔ پس آج ماضی کی سپر پاور کا المیہ یہ ہے کہ بریگزٹ اُس کے گلے کا چھچھوندر بنا ہوا ہے‘ نہ نگلا جارہا ہے اور نہ اگلا جارہا ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں گارڈین اخبار نے لکھا: ”یہ مذاکرات بے خبر لوگوں کے لیے کسی تیاری کے بغیر نامعلوم ایجنڈے کے تحت نامعلوم نتائج حاصل کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں ‘‘۔ 

ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جہل کو فروغ دینے کے لیے شہباز شریف‘ عبدالعلیم خاں ‘شیخ رشید اور فواد چودھری ایسے اہم موضوعات میں اتنا مصروف ہے کہ نئی نسل کوعالمی مسائل کے بارے میں آگہی دینے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور شاید ہمارے کالج اور یونیورسٹی سطح کے نوجوان طلبہ بھی عالمی امور کی ان نزاکتوں سے آگاہ نہیں ہوں گے ۔

فطرت سے بغاوت: کیتھولک مسیحیت میں ان کے مذہبی پیشوامرد وزن تجردکی زندگی گزارتے ہیں‘ شادی نہیں کرتے‘ وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی تھی‘ یہ لوگ رُہبان (راہب کی جمع) اور راہبات (راہبہ کی جمع)کہلاتے ہیں اورانگریزی میں انہیں Monksاور Nunsکہتے ہیں‘ یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کریمﷺ کے امتی کی حیثیت سے قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے :”شادی بھی کریں گے‘‘۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”یہ تمہارے لیے کیسامقامِ افتخار ہوگا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘ (مسند احمد: 7680)۔بالفرض شادی کی روایت سے کسی کو اختلاف بھی ہو تو وہ نبی ہیں اور نبی معصوم ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا نے جب حضرت مریم کے حجرۂ عبادت میں اُن کے پاس بے موسم کا تازہ پھل دیکھا ‘ تو اُن کے دل میں امنگ پیدا ہوئی کہ جوقادرِ مطلق بے موسم کا تازہ پھل عطافرماسکتا ہے ‘ وہ بڑھاپے میں اولاد بھی عطا فرماسکتاہے۔سو‘ انہوں نے اولاد کے لیے دعا کی اور اس کی قبولیت کی بابت قرآنِ کریم میں ہے: ” بے شک اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے‘ جو کلمۃ اللہ (حضرت عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘سردار ہوں گے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور نیک لوگوں میں سے نبی ہوں گے ‘‘ (آل عمران:39)۔پس غیر ِنبی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصیات پرقیاس نہ کرے۔سیدنا محمد ﷺ کی بھی بہت سی خصوصیات وامتیازات ہیں‘ جو امت کے لیے واجب الاتباع نہیں ہیں‘ جیسے: ایک وقت میں چار سے زیادہ ازواجِ مطہرات کا نکاح میں ہونا‘ افطار کیے بغیر پے در پے روزے رکھنااور تہجد کی نماز کااضافی ہوناشامل ہے۔ اس لیے سنت صرف آپ ﷺ کے اُن اقوال‘ افعال اور احوالِ مبارکہ کو کہتے ہیں ‘جو امت کی اتباع کے لیے ہیں۔

عیسائی مذہبی پیشوائوں کا تجرُّد کا شعار فطرت کے خلاف ہے اور ان کے منفی نتائج کا برآمد ہونا ناگزیر ہے ؛ چنانچہ اب کیتھولک عبادت گاہوں میں بچوں اور خود ان کی راہبات (Nuns)کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں۔ پہلے تو کیتھولک چرچ ان جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا تھا‘ لیکن کچھ عرصے سے مغربی پریس نے ان واقعات کو بہت زیادہ اچھالنا شروع کردیاہے‘لہٰذا اب کیتھولک مسیحیت کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پراعتراف کیا ہے کہ راہبات کو جنسی غلام بنا لیا جاتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ مسیحی چرچ اس پر غور کرے اور اپنے راہبوں(Monks) اور راہبات (Nuns) کو شادیوں کی اجازت دے‘ تاکہ چرچ میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا سدِّباب ہوسکے۔ قانون فطرت سے انحراف منفی نتائج کو جنم دیتا ہے‘ آپ پانی کے فطری بہائو کو روکیں گے تو وہ کسی اور جانب سے اپنا راستہ بنالے گا۔

الحمد للہ علیٰ احسانہٖ! میرے فتاویٰ کا مجموعہ ”تفہیم المسائل ‘‘ کے عنوان سے دس مجلّدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے‘ گیارہویں جلد زیر ترتیب ہے اور روزنامہ دنیا میں مطبوعہ کالموں کا مجموعہ ”آئینہ ایام‘‘ کے نام سے پانچ مجلدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے اور ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور/کراچی سے دستیاب ہے ‘ تفہیم المسائل کا مجموعہ خواجہ بک ڈپو جامع مسجد دہلی کے زیر اہتمام انڈیاسے بھی شائع ہوچکا ہے ۔الحمد للہ! ہمارے کالموں اور تحریروںکے قارئین دیگر ممالک کے علاوہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھی کافی تعداد میں ہیں ‘ ان کے ساتھ برطانیہ کے دوست علماء کے توسط سے ہمارابالواسطہ رابطہ ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

کیسی بلندی کیسی پستی

کیسی بلندی کیسی پستی

منگل 5فروری کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے توسط سے پوری قوم کے سامنے ”سٹیٹ آف دی یونین ‘‘خطاب کیا ۔ انہوں نے کئی بلند بانگ دعوے کیے ‘جن میں امریکہ کے دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور سب سے بڑی دفاعی اور فوجی قوت ہونے کا دعویٰ کیا ۔ انہوں نے کہا:” آج امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد میں یعنی تقریباً سولہ کروڑ لوگ برسرِ روزگار ہیں ‘ ہماری اقتصادی پالیسیوں کے کامیابی کے ثمرات سامنے آرہے ہیں ‘ ہم نے مڈل کلاس کو تقویت دی ہے اور معیشت کی بہتری کے سبب مڈل کلاس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ‘ پچاس لاکھ افراد نے سوشل سیکورٹی سے فوڈ سٹمپ یعنی حکومتی اعانت لینا چھوڑ دیا ہے۔ چینی درآمدات پر ہم نے دو سو پچاس ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کیے ہیں‘ جس کے نتیجے میں ہمارے خزانے میں اربوں ڈالر وصول ہورہے ہیں ۔ چین ہماری صنعت کو نقصان پہنچاتا رہا ہے ‘وہ ہماری دولتِ دانش ‘ جسے Intellectual Propertyکہاجاتا ہے‘ چراتا رہا ہے‘یعنی جن ایجادات وتحقیقات پر امریکہ کروڑوںاربوں ڈالر خرچ کرتا ہے ‘ چین مفت میں چرا کر اُن سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ میں چینی صدرکا احترام کرتا ہوں اور ژی جن پنگ کے ساتھ مل کر نئے تجارتی معاہدے پر بات کروں گا۔انہوں نے NAFTAمعاہدے کو ایک تاریخی غلطی اور تباہی قرار دیا اوراُس کے متبادل معاہدے پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ رو س سے درمیانی فاصلے کے ایٹمی میزائلوں کی تحدید کے معاہدے آئی این ایف سے امریکہ پہلے ہی علیحدگی اختیار کرچکا ہے اوراب ہم سٹیٹ آف دا آرٹ میزائل بنائیں گے اور اس سال ہمارے خلاباز نئی بلندیوں پر جائیں گے ‘‘۔الغرض صدر ٹرمپ نے انتہائی تعلّی اور قومی تفاخر سے معمور خطاب کیا ‘اس میں لفاظی اپنی انتہا پر تھی ‘نوے منٹ کی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا: 

”آج یہاں اس عظیم الشان جمہوریہ کے قانون ساز جمع ہیں۔مختلف ریاستوں کا نام لیتے ہوئے انہوں نے کہا: آپ مین (Maine)کی چٹانوں والے ساحل ‘ ہوائی کی آتش فشاں چوٹیوں ‘ وسکونسن کی برفانی لکڑیوں‘ ایریزوناکے سرخ صحرائوں ‘ کنٹکی کے سبزہ زاروں اور کیلی فورنیا کے سنہری ساحلوں سے آئے ہیں ۔ ہم سب متحد ہوکر انسانی تاریخ کی غیر معمولی قوم کے نمائندہ ہیں۔اس لمحے ہمیں کیا کرنا ہے ‘ ہم کیسے یاد رکھے جائیں گے ‘ میں کانگریس کی خواتین وحضرات سے سوال کرتا ہوں ۔ذرا اُن مواقع کی جانب دیکھیے جو ہمارے سامنے ہیں ‘ عظیم تر مقاصد جوابھی ہم نے حاصل کرنے ہیں ‘ترقی کے پرجوش سفرجو ابھی ہمارے منتظر ہیں ‘ ہماری عظیم فتوحات جوابھی آنی ہیں ‘ ابھی ہم نے اور بلندیوں کے خواب دیکھنے ہیں ۔ ہمیں انتخاب کرنا ہے کہ ہم اختلافات والی قوم کے طور پر یاد کیے جائیں گے یا ہمیں ارتقاکی حدوں کو عبور کرنا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا ہم اپنے عظیم ورثے کو فضامیں تحلیل کر دیں گے یا ہم فخر کے ساتھ یہ اعلان کریں گے کہ ہم امریکی ہیں ۔ہمیں ناقابلِ یقین کامیابیاں حاصل کرنی ہیں اور ناممکن کو ممکن بنانا ہے ‘ ہم نے نامعلوم دنیا کو فتح کرنا ہے ۔یہ وقت ہے کہ ہم امریکی تخیّلات کو پرجوش بنائیں ‘ہمیں بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا ہے اور روشن ترین ستاروں پر نظر رکھنی ہے‘ ہمیں محبت کے عہد اور وفا کی شمع کو دوبارہ جلانا ہے اور اُن یادوں کو جِلا بخشنا ہے جو ہمیں بطور شہری ‘بطور پڑوسی اور بطورِ محب وطن متحد رکھیں۔ یہ ہمارا مستقبل ہے ‘ہماری تقدیر ہے اور وہ انتخاب ہے جو ہمیں حاصل کرنا ہے ۔ میرا آپ سے مطالبہ ہے کہ ہم عظمتوں کا انتخاب کریں ‘خواہ کیسی ہی مشکلات کا ہمیں سامنا کرنا پڑے‘ کیسے ہی چیلنج در پیش ہوں‘ کسی مشکل کی پرواہ کیے بغیر ہمیں آگے بڑھتے چلے جانا چاہیے ۔ ہمیں اپنے دلوں میں امریکہ کو مقدم رکھنا ہے ‘ہمیں اپنی روحوں میں آزادی کی شمع کو روشن رکھنا ہے اور ہمیں ہمیشہ امریکہ کی بلندیٔ تقدیر پریقین رکھنا ہے‘ یعنی ایک اللہ کی بندگی میں ایک قوم بن کر رہنا ہے ‘ہمیں اقوامِ عالَم کے درمیان امید ‘اُمنگ ‘ روشنی اور عظمت کا مینار بن کر رہنا ہے‘‘۔ 

ایک طرف امریکہ کے یہ بلند بانگ دعوے ‘ یہ تعلّی ‘ یہ تفاخر ‘ یہ عُجب واستکبار اور موجودہ دنیا میں کسی حد تک اس کا جواز بھی موجود ‘ لیکن اللہ کی شان دیکھیے اور اس بلندی کے مقابل ذرا پستی کا نظارا کیجیے۔نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملے کا اعلان کرتے وقت اُس وقت کے امریکی صدر جارج واکر بش نے کہا تھا: ”اس میں کوئی شک نہیںکہ یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے ‘‘۔ پھر امریکہ اپنے اٹھائیس اتحادی ممالک کی تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار افواج اور جدید ترین سامانِ حرب کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا اور بے سروسامان مجاہدین کے خلاف سترہ سال تک ایک بے نتیجہ جنگ لڑی اورآج جب موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: ”وہ لڑتے لڑتے تھک چکے تھے اور در اصل ہم سب ہی تھک چکے تھے‘‘۔ یعنی دنیا کی واحد سپر پاور کو اُن بے سروساماں مجاہدین نے طویل جنگ کے بعد تھکا دیا ۔ اپنے سٹیٹ آف دا یونین ایڈریس میں ٹرمپ نے کہا: ”ہمارے سات ہزار فوجی لقمۂ اجل بنے اور باون ہزار سے زائد شدید زخمی ہوئے اور کوئی بھی قوم نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں لڑ سکتی‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبانِ افغانستان نہ ختم ہونے والی جنگ لڑنے کی جرأت وہمت ‘ حوصلہ اور استعداد رکھتے ہیں‘ اس لیے سپر پاور کو طالبان سے مذاکرات کے لیے پاکستان کی مدد لینی پڑی اور اُن کی شرائط پر اُن کے مذاکرات کاروں کو دہشت گردوں کی لسٹ سے نکالنا پڑا۔اس کے برعکس طالبان کے نمائندے شیر محمد عباس استانکزئی نے کہا: ”ہمارے لیے امن جنگ سے مشکل کام ہے‘‘۔میں نے ایک باخبر شخص سے پوچھا:”قطر میں چھ دن تک مذاکرات میں کیا ہوتا رہا‘ کیونکہ جو خبریں باہر آئیں ‘اُن میں تین باتیں سامنے آئیں : (1) افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا نظام الاوقات‘(2) افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی‘ (3) طالبان اقتدار میں تمام طبقات کو شامل کریں گے‘‘۔تو مجھے بتایا گیا :”طالبان کے نمائندے تو با اختیار تھے‘ لیکن زلمے خلیل زاد اور امریکی وفد با اختیار نہیں تھا‘ انہیں بار بار مذاکرات کے سیشن ملتوی کرنے پڑتے تاکہ وہ واشنگٹن سے ہدایات لے سکیں ‘‘۔ 

جب امریکہ نے اُن سے یہ رعایت مانگی کہ افغانستان میں ہمارا ایک اڈہ رہنے دیا جائے تو انہوں نے جواباً کہا: ”ہمیں بھی امریکہ میں ایک اڈہ رکھنے کی اجازت دی جائے ‘‘۔ امریکہ فوری جنگ بندی چاہتا تھا ‘ طالبان نے کہا:”جنگ بندی اور انخلا ساتھ ساتھ ہوگا اور امریکہ کو پرامن واپسی کی ضمانت دی جائے گی‘‘۔طالبان کا مؤقف اصولی اور اخلاقی اعتبار سے قوی ہے کہ وہ اپنے وطن کی آزادی اور غیر ملکی قابض افواج کے انخلا کے لیے لڑ رہے ہیں ‘ جبکہ امریکہ کے پاس اس طرح کا کوئی اصولی اور اخلاقی جواز نہیں ہے ۔ اس کے بعدطالبان نے ماسکو میں مختلف افغان گروپوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں خواتین کی تعلیم اور بعض دیگر معاملات کی یقین دہانیاں کرائیں اور آپس کے روابط کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ۔

سی این این پر لوگوں سے ٹرمپ کے خطاب پر رائے مانگی جارہی تھی تو بعض دلچسپ تبصرے دیکھنے کو ملے‘ ایک صاحب نے لکھا:” یہ تقریر نویس اور ٹیلی پرومپٹرکا کمال تھا کہ ٹرمپ بااعتماد دکھائی دے رہے تھے اور گفتگو میں ربط تھا‘‘۔ واضح رہے کہ ٹیلی پرومپٹر وہ آلہ ہے جو بولنے والے کے سامنے رہتا ہے اور اُس کی تقریر کی رفتار سے متن جلی حروف میں سامنے چلتا رہتا ہے‘ آج کل ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھنے والوں کے سامنے بھی ٹیلی پرومپٹر ہوتا ہے ۔ اس شخص نے مزیدلکھا:”یہ تشخص و تاثرمصنوعی اور عارضی ہے ‘ یہ اگلے دن ٹرمپ کے ایک ٹویٹ کی مار ہے ‘پھریہ مصنوعی شخصیت تحلیل ہوجائے گی اور اصل ٹرمپ سے لوگوں کی ملاقات ہوجائے گی‘‘۔ 

جہاں تک امریکہ کی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع کی بہتری کا تعلق ہے ‘ اس کا سلسلہ 2016ئمیں سابق صدر اوباما کے آخری سال میں شروع ہوچکا تھا ۔ در اصل سرمایہ دارانہ معیشت میں ایک شیطانی چکر وقفے وقفے سے آتا ہے کہ اچانک معیشت بلندی کی جانب محو پرواز ہوجاتی ہے ‘ جسے ٹرمپ نے بوم سے تعبیر کیا ہے اور کچھ عرصے کے بعد

پھر مائل بہ زوال ہوجاتی ہے ‘ جیسے 2008ئسے 2015ئتک کا عرصہ ہم نے دیکھا ہے۔ چونکہ امریکہ سرمایہ دارانہ معیشت کا صفِ اول کاقائدہے ‘ اس لیے وہ اٹھتا ہے تو سب کو لے کر اٹھتا ہے اور ڈوبتا ہے تو سب کو ساتھ لے کر ڈوبتا ہے ‘ کیونکہ سرمایہ دارانہ معیشت میں سب کچھ حقیقی نہیں ہوتا ‘ بہت سی چیزیں مصنوعی ہوتی ہیں ‘ جیسے سٹاک ایکسچینج یا رِئیَل سٹیٹ کی مارکیٹ کا اتار وچڑھائو‘ جس میں سٹے کا دخل ہوتا ہے ۔ مثلاً: حال ہی میں جب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت اچانک غیر معمولی شرح سے گری ‘تو کسی کو پتا نہیں کہ راتوں رات کس نے اربوں کما لیے اور کس کے اربوں روپے ڈوب گئے ۔ ان معاشی دیووں (Giants)کے آگے حکومتیں بھی بے بس ہوتی ہیں ۔

امریکہ کے نزدیک نارتھ کوریا اور ایران کا جرم ایک ہی ہے ‘ لیکن نارتھ کوریا کو شروع میں صفحۂ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں دیں ‘مگر پھر صدر کِم جونگ سے مذاکرات شروع کیے اور اب اگلا دوراسی مہینے میں ویتنام میں منعقد ہوگا۔ اس کے برعکس ایران کے بارے میں ٹرمپ نے کہا: ”یہ یقینی بنانا ہے کہ بدعنوان ڈکٹیٹر شپ کو کسی صورت میں ایٹمی اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ‘ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ تباہ کن ایٹمی معاہدے سے اپنے آپ کو الگ کرلیا اور اس پر ایسی سخت پابندیاں عائد کیں جو امریکہ نے کبھی کسی ملک پر عائد نہیں کیں ‘ ہم ایسی حکومت کو ہمیشہ نظر میں رکھیں گے جو ”مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے لگائے اور یہودیوں کو نسل کشی کی دھمکی دے ‘ ہم یہود دشمنی پر مبنی گھٹیا زہریلی سوچ کو کبھی نظر اندا زنہیں کریں گے ‘‘۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

مُجدِّد ومُحَدَّث

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو منصب قرآنِ کریم میں مذکور ہے ‘وہ ہے :”نبوت ورسالت‘‘۔اللہ تعالیٰ نے کئی انبیائے کرام کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا: ”بے شک وہ ہمارے نزدیک چنیدہ وپسندیدہ ہیں ‘(ص:47)‘‘۔قرآنِ کریم میں پچیس انبیائے کرام کے نام صراحت کے ساتھ آئے ہیں ‘اُن پر نام بنام ایمان لانا فرض ہے اور اُن میں سے کسی ایک کی نبوت کا انکار بھی کفر ہے ‘ اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

(1) حضرت آدمؑ (2) حضرت نوح ؑ(3) حضرت ابراہیمؑ(4) حضرت اسماعیلؑ (5) حضرت اسحاقؑ (6) حضرت یعقوبؑ (7) حضرت یوسفؑ (8) حضرت موسیٰؑ (9) حضرت ہارونؑ (10) حضرت شعیب ؑ(11) حضرت لوطؑ (12) حضرت ہودؑ (13) حضرت داؤدؑ(14) حضرت سلیمانؑ (15) حضرت ایوبؑ (16) حضرت زکریاؑ (17) حضرت یحییٰؑ (18) حضرت عیسیٰؑ (19) حضرت الیاسؑ (20) حضرت الیَسَعؑ (21) حضرت یونُسؑ (22) حضرت ادریسؑ (23) حضرت ذُوالکِفلؑ (24) حضرت صالحؑ (25)اورخاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ‘صلوات اللّٰہ تعالیٰ وسلامہٗ علیہم اجمعین۔

حضرت عزیر علیہ السلام کا نام التوبہ:30میں صراحت کے ساتھ آیا ہے ‘اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور یہود نے کہا: ”عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا: مسیح اللہ کے بیٹے ہیں‘ یہ محض ان کے منہ سے کہی ہوئی (بے سروپا) باتیں ہیں‘‘۔ اسی طرح البقرہ : 258میں حیات بعد الموت کے حوالے سے ایک تجربہ اور مشاہدہ بیان ہوا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر اس حال میں گزرا کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی ‘ اس نے (تعجب سے) کہا: اللہ اس بستی والوں کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گاتو اللہ نے سو برس تک اس پر موت طاری کردی ‘ پھر اس کو زندہ کر کے اٹھایا ‘‘۔مفسرینِ کرام نے یہاں عزیر علیہ السلام مراد لیے ہیں ‘ بعض علما نے انہیں نبی کہا ہے لیکن ان کی نبوت قطعی نہیں ہے ‘ بلکہ ظنی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ قرآنِ کریم میں مذکور نہیں ہے ‘ اُن کی نبوت کے بارے میں بھی اختلاف ہے‘ تاہم جمہور علمائے امت کی رائے یہ ہے کہ وہ نبی تھے ‘ اُن کا ذکرالکہف:65 میں ان الفاظ میں ہے: ”تو اُن دونوں (حضراتِ موسیٰ ویوشع ) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے ( خضر )کو پایا ‘جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت اورعلم عطا کیا تھا‘‘۔قرآنِ کریم نے اسے ”عِلمِ لَدُنِّی‘‘ سے تعبیر فرمایا ‘یعنی وہ علم جو کسی استاذ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔الغرض تکوینی امور کے پیچھے جو اللہ تعالیٰ کے اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں ‘”عِلمِ لَدُنِّی‘‘سے اُن کا علم مراد ہے ۔اللہ تعالیٰ نے المؤمن:78میں فرمایا: ”اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسول بھیجے‘ اُن میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرمادیا اور بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان نہیں فرمایا ‘‘۔اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ سارے انبیائے کرام علیہم السلام کے احوال قرآنِ کریم میں بیان نہیں ہوئے‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور ہر امت میں( اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے والاگزرا ہے‘ (فاطر:24)‘‘۔

لیکن اِجمالاً تمام انبیا پرایمان لانا ضروری ہے ‘ البقرہ:285میں فرمایا: ”رسول ایمان لائے اُس کلام پر جو اُن پر اُن کے رب کی جانب سے اتارا گیا اور سب مومن بھی ‘سب کے سب اللہ پر‘ اس کے فرشتوں پر‘ اُس کی کتابوں پر اور اُس کے (سب ) رسولوں پرایمان لائے‘‘۔ اسی آیۂ مبارکہ میں فرمایا :”ہم (ایمان لانے میں)اُس کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ‘‘۔ تاہم قرآنِ کریم نے یہ ضرور بتایا کہ انبیائے کرام کے مابین درجہ بندی موجود ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”یہ (سب) رسول ہیں‘ ہم نے ان میںسے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے‘ (البقرہ:253)‘‘۔انبیائے کرام کی قطعی تعداد قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث صحیح میں مذکور نہیں ہے کہ اس کا انکار کفر وضلالت قرارپائے‘ البتہ بعض روایات میں انبیائے کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم وبیش‘ رسولوں کی تعداد313اور صُحفِ سماوی کی تعداد110بتائی گئی ہے‘ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اپنے اپنے زمانے میں جسے بھی اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بناکر بھیجا‘ وہ سب کے سب برحق تھے اور ہم ان پر ایمان لاتے ہیں۔ 

خاتم المرسلین ﷺ نے خود بیان فرمایا: ”بنی اسرائیل کی سیاست کے امور انبیائے کرام انجام دیتے تھے ‘ جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا ‘مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘ بس خلفاہوں گے‘ (صحیح البخاری:3455)‘‘۔ سو آپ ﷺ کے بعد خلافت کا تصور موجود ہے ‘لیکن خلیفہ نبی اور رسول کی طرح منصوص نہیں ہوتاکہ اُس کی خلافت پر ایمان نہ لانے والے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے ۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں مُجَدِّد اور مُحَدَّث کے مناصب کا بھی ذکر آیا ہے ‘ لیکن مُجدِّد یا مُحَدَّث بھی نبی اور رسول کی طرح منصوص اور مُعیَّن نہیں ہوتا کہ اس کی اس حیثیت کا انکار کفر قرار پائے ۔ نبیﷺ نے فرمایا:”بے شک اللہ اِس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کا فریضہ انجام دے گا‘ (سنن ابودائود: 4291)‘‘۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب دین کی تعلیمات مٹ جاتی ہیں یا اُن میں باطل کی آمیزش کردی جاتی ہے یا دین کو اپنی خواہشات کے تابع بنادیا جاتا ہے ‘بدعات ومُنکَرات اہلِ دین میں نفوذ کرجاتی ہیںاور دین کا روشن چہرہ دھندلانے لگتا ہے ‘تو اللہ تعالیٰ پردۂ غیب سے ایسے اشخاص کو غیر معمولی علمی وفکری صلاحیتوں‘قوتِ عملی اور جذبۂ صادق سے فیض یاب کر کے ظاہر فرماتا ہے جو دین کی تعلیمات کو باطل کی ہر آمیزش سے پاک وصاف کر کے اپنی اصل پاکیزہ شکل میں دوبارہ پیش کرے ‘ اسی کو تجدید واِحیائے دین کہتے ہیں ‘ حدیث میں ایسی ہی عالی مرتبت شخصیات کی طرف اشارہ ہے ۔واضح رہے کہ تجدید اور تجدُّدْ میں زمین آسمان کا فرق ہے ‘ تجدید دین کو اپنی اصل شکل میں پیش کرنا ہے اور تَجدُّدْ سے مراد دین کو اپنے باطل افکار اور خواہشات کے تابع بنانا ہے۔مُجدِّد یقینا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ظہور میں آتا ہے اور دین کے حوالے سے انقلابی کارنامہ انجام دیتا ہے ‘ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کا نام منصوص نہیں ہوتا‘ اس لیے کوئی کسی مجدِّد کا انکار کرے تو اس پر کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا جائے گا۔ مختلف صدیوں میں روئے زمین کے مختلف خطوں میں اپنے اپنے زمینی حقائق اور تقاضوں کے مطابق لوگوں نے شخصیات کو مجدِّد قرار دیا ہے ‘اس لیے ایک وقت میں مختلف خطوں میں ایک سے زائد مجدِّدین کا ہونا بعید از امکان نہیں ہے‘ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کوئی شخص خود سے مجدِّد ہونے کا دعویٰ کرے ‘ اہلِ علم اُن کے تجدیدی کارناموں کے سبب انہیں جان لیتے ہیں ‘ علامہ علی القاری لکھتے ہیں: 

”مُجدِّد سنت کو بدعت سے ممتاز کرتا ہے‘ علم کو فروغ دیتا ہے‘ اہلِ علم کو عزت سے سرفراز کرتا ہے ‘ بدعت کو جڑ سے اکھیڑ کر اہلِ بدعت کی سازشوں کو توڑ دیتا ہے‘ علامہ ابن اثیر جذری نے ”جامع الاصول‘‘ میں لکھا ہے: ”علماء نے اس حدیث کی تاویل میں کلام کیا ہے اور ہر ایک نے اپنی سوچ کے مطابق کسی نہ کسی عالم کو مجدِّد اور اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے ‘ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو عموم پر محمول کیا جائے ‘ کیونکہ لفظِ ”مَنْ‘‘ کا اطلاق واحد وجمع دونوں پر ہوتا ہے اور تجدید کا تعلق صرف فقہا کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے ‘ اگرچہ امت کو زیادہ فائدہ انہی سے پہنچاہے ‘ مجدِّد کسی عہد کا اولوالامر یا صاحبِ اقتدار بھی ہوسکتا ہے ‘ ہر شعبے کے لیے الگ الگ مجدِّد بھی ہوسکتے ہیں ‘کیونکہ دین اور مسلمانوں کے امورِ اجتماعی کی تدبیر اور عدل کا قیام صاحبانِ اقتدار کی ذمے داری ہے ‘ علومِ دینیہ کے مختلف شعبوں کے غیر معمولی ماہرکو بھی اپنے شعبے کا مجدِّد قرار دیا جاسکتا ہے ‘لیکن شرط یہ ہے کہ ان فنون میں مجدِّد اپنے عہد کے لوگوں میں ممتاز ہواور اُس کے نمایاں تجدیدی کارنامے سب پر عیاں ہوں۔مجدِّد کے لیے شخصِ واحد ہونا بھی ضروری نہیں ‘بلکہ ایک جماعت مل کر بھی تجدیدی کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ تجدید ایک اضافی امر ہے‘ کیونکہ علم روبہ زوال اور جہل مائل بہ ترقی ہے ‘ سو مجدِّد کا اپنے عہد کے لوگوں سے تقابل ہوگا نہ کہ قرنِ اول سے لے کر آخر تک ‘ کیونکہ متقدمین عہدِ نبوت سے قرب کے سبب علم ‘عمل ‘حلم‘ فضل اور تحقیق وتدقیق میں یقینا متاخِّرین پر فضیلت رکھتے ہیں ‘ کیونکہ جس کادور منبعِ نورِ ہدایت سے جتنا قریب رہا‘ اُس پر نور کا فیضان اتنا ہی زائد رہا‘(مرقاۃ المفاتیح‘ ج:1ص:322ملخصاً)‘‘۔ 

حدیث پاک میں ایک منصب ”مُحَدَّث‘‘ کا بھی آیا ہے ‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا:” بے شک تم سے پہلی امتوں میں ”مُحَدَّث‘‘ گزرے ہیں اور اگر میری امت میں اس منصب کا حامل کوئی ہے تو وہ یقینا عمر بن خطاب ہیں‘ (بخاری:3469)‘‘۔ محدِّثینِ کرام نے اس حدیثِ مبارک کی شرح میں فرمایا: محدَّث سے مرادپاکیزہ قلب ‘نورانی ذہن‘علمِ نافع اور اعمالِ صالحہ کی حامل وہ شخصیت ہے‘ جس کے قلب وذہن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِلقاوالہام ہوتا ہے ‘ یعنی اُس کا ظاہر اتنا پاکیزہ اور باطن اتنا نورانی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پرحق کاالقاہوتا ہے ‘اُن کا ذہن منشائے ربانی کے سانچے میں ڈھلا ہوتا ہے اور وہ وہی بات سوچتے ‘ وہی بات کہتے اور وہی بات کرتے ہیں جو رِضائے باری تعالیٰ کے عین مطابق ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت ایسی ہی صفات کی حامل تھی ۔کئی مواقع پر انہوں نے نزولِ وحی سے پہلے ہی منشائے ربانی کو پالیا‘پھر وحیِ ربانی نے اُن کی تائید کی ‘ ایسی آیات کو ”مُوَفَّقَاتِ عُمَر‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اس کی مزید تائید ان احادیث سے ہوتی ہے (1):”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ حق کو عمر کی زبان اور قلب پر جاری فرماتا ہے‘ (ترمذی:3682)‘‘۔(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” بے شک اللہ حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیتا ہے ‘ پھر وہ بیان کرتے ہیں‘ (ابن ماجہ:108)‘‘۔ یہاں ہم نے کالم کی محدودیت کے پیشِ نظر ہر صدی کے مجدِّدین کا ذکر نہیں کیا‘ کیونکہ ہر دور کے اکابر علما نے اپنے اپنے خطے کے اعتبار سے مجدِّدین کا ذکر کیا ہے ۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

کیا افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے ؟

کیا افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے ؟

آج کل پوری دنیا اور خاص طور پر ہمارے وطنِ عزیز اور گردوپیش کے خطے میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا ”افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے ‘‘‘ اس کا حقیقت پسندانہ جواب یہ ہے :”ہنوز دلی دور است ‘‘۔ انگریزی کا محاورہ ہے: ”There are many slips between the cup and the lips‘‘‘کسی نے اس کاخوب ترجمہ کیا ہے:”ہزاروں لغزشیں حائل ہیں لب تک جام آنے میں ‘‘۔غالب نے کہا ہے :

دامِ ہر موج میں ہے حلقہء صد کام نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

اگرچہ ہماری مخلصانہ دعا ہے کہ کل کی بجائے آج اور آج کی بجائے ابھی یہ مسئلہ حل ہوجائے ‘ کیونکہ یہ مسئلہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور افغانستان کے لیے جتنا اہم ہے ‘اتنا ہی پاکستان کے لیے اہم ہے ۔1979ء میں افغانستان میں سوویت یونین کی در اندازی سے لے کر اس کے انخلا اور پھر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دراندازی سے لے کر آج تک پاکستان نے اس کی بھاری قیمت چکائی ہے ‘ دوستوں کے اعتماد کو زک پہنچائی اور جن کے لیے یہ سب کچھ کیا‘اُن کی طرف سے بے اعتمادی ‘ دھوکہ دہی ‘ منافقت اور دروغ گوئی کے طعنے ملے ۔

یہ ایسا کمبل ہے ‘جس سے جان چھڑانا ہمارے لیے آسان نہیں ہے ‘ہم الگ تھلگ ہوکر گوشۂ عافیت میں بیٹھنا بھی چاہیں ‘تب بھی ہمارے لیے جائے امان نہیں ہے ‘کیونکہ اس مسئلے میں افغانستان ‘ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سمیت ‘روس ‘ایران ‘ ہندوستان اور گردوپیش کے دیگر ممالک بھی ملوث ہیں اور اب سی پیک کی وجہ سے پرامن افغانستان چین کی بھی ضرورت ہے ‘ کیونکہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوجاتا ‘ اس وقت تک گوادر پورٹ کو سنٹرل ایشیا کے راستے یورپ سے منسلک کرنے کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی ۔ گوادر پورٹ اگرمنصوبے کے مطابق فعال اور متحرک ہوجاتی ہے تواس کے دبئی کی مرکزیت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے ‘ لہٰذا اُن کی بھی اس پر گہری نظر ہے۔ چین کے صوبۂ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کا مسئلہ بھی جہادی فکر سے جڑا ہوا ہے اورچین سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں حقیقی معنی میں امن قائم ہوجائے تو پھر اس خطے میں جہادیوں کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گی اور چین کی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔ 

یہ درست ہے کہ امریکہ سترہ سالہ جنگ ‘جدید سامانِ حرب اور اپنے اتحادیوں کی پوری حمایت کے باوجود افغانستان میں اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام رہا ‘جبکہ اس عرصے میں اس کے جنگی اخراجات کا تخمینہ ٹریلینز یعنی سینکڑوں ارب ڈالرمیں ہے ‘اب امریکہ کو اس جنگ سے نکلنے کے لیے کوئی آبرومندانہ راستہ چاہیے ۔ صدر ٹرمپ کی خواہش اپنی جگہ ‘ لیکن امریکہ کے انٹیلی جنس ادارے اور پینٹا گون افغانستان سے مکمل طور پر اپنے اڈے ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں ۔ 

تحریکِ طالبانِ افغانستان ماضی میں حامد کرزئی اور اب اشرف غنی کی حکومت کو اپنا حریف ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ‘ وہ انہیں امریکہ کا کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں اور یہ کہ امریکہ کی آشیر باد کے بغیر ان کو افغانستان میں قرار ودوام نہیں مل سکتا اور ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے ‘تحریکِ طالبانِ افغانستان کا بنیادی مطالبہ غیر ملکی قابض افواج کا انخلا ہے ‘ کیونکہ قانونِ بین الاقوام اور مسلّمہ جمہوری اقدارکی رو سے ان کے لیے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘ لیکن خود امریکہ کے اندر بھی افواج کے مکمل انخلا اور اپنے فوجی اڈے ختم کرنے کے حوالے سے کوئی اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔ تاہم سترہ سال بعد پہلی مرتبہ امریکہ کا طالبان کواپنا حقیقی حریف مان کر چھ روز تک اُن سے براہِ راست سنجیدہ مذاکرات کرنا اور کسی حد تک انہیں خوش آئند قرار دینا ‘یہ طالبان کی بہت بڑی کامیابی ہے‘ کیونکہ ماضی میں امریکہ طالبان کوصرف ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا رہا ہے ‘مگر اب وہ انہیں مسئلۂ افغانستان کا اصل سٹیک ہولڈر ماننے کے لیے عملاً آمادہ ہوگیا ہے‘ یہ امریکہ کی طرف سے اپنے سابق موقف میں لچک اور جھکائو کاواضح ثبوت ہے۔ بھارت اور ایران اس صورتحال پر متفکر اور جِزبِز ہوں گے اور وہ بھی اپنے مہرے تیار کرنے اور نئی چالیں چلنے کیلئے کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی یقینا کر رہے ہوں گے۔ روس کی بھی خواہش ہوگی کہ امریکہ افغانستان میں اُس جیسے انجام سے دوچار ہو اور اس حوالے سے امریکہ کی برتری کا تاثّر ختم ہوجائے ‘ لہٰذا اُس کا بھی طالبان سے یقینا کسی نہ کسی سطح پر رابطہ ہوگا اور کوئی بعید نہیں کہ وہ انہیں کسی نہ کسی طریقے سے سامانِ حرب بھی فراہم کرتا ہو‘ چین بھی طالبان کے ساتھ روابط قائم کیے ہوئے ہے ‘کیونکہ اب اس خطے میں اُس کے اقتصادی مفادات اور مستقبل کے امکانات بہت زیادہ ہیں ‘لہٰذا وہ بھی اپنے آپ کو ایک اہم سٹیک ہولڈر سمجھتا ہے۔لیکن اُسے جنگ میں مبتلا افغانستان کے بجائے ایک پر امن افغانستان زیادہ مطلوب ہے‘ اُسے سنٹرل ایشیا اور آگے روس اور یورپ تک پر امن تجارتی راہداری درکارہے ‘ وہ اُس پورے خطے کو اپنی تجارتی منڈی بنانا چاہتا ہے ۔ اس وقت چین جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں ارتقا کے مرحلے سے گزر رہا ہے ‘ وہ اپنے آپ کو فضائوں میں اور عالمی سمندروں میں امریکہ کے مقابل فوجی قوت بنانے میںمصروف ہے ‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے آپ کو ایک برتر عالمی اقتصادی قوت بھی بنارہا ہے‘ کیونکہ سوویت یونین کے زوال سے اُس نے یہ سبق حاصل کیا کہ اقتصادی قوت کے بغیر محض سامانِ حرب کے بل پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ 

امریکہ کی خواہش ہے کہ اگلے مرحلے میں طالبان اشرف غنی حکومت کے ساتھ بھی براہِ راست مذاکرات کریں ‘ افغانستان کے واحد سٹیک ہولڈر نہ بنیں‘ بلکہ آئین وقانون یعنی امریکہ کے قائم کردہ نظمِ اجتماعی اور ہیئتِ مقتدرہ کو تسلیم کرتے ہوئے اُس میں حصہ بقدرِ جُثّہ کے مطابق حصے دار بنیں ۔ اس مطالبے پر اترنا طالبان کے لیے آسان نہیں ہے‘ کیونکہ اس صورت میں انہیںاپنی بالادستی اور برتر حیثیت کو قربان کرنا پڑے گا اور یہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف طویل جنگ کے مقاصد اور جواز کی نفی کے مترادف ہوگا۔ حزبِ اسلامی کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار نے یہی حکمتِ عملی اختیار کی ‘ لیکن ظاہر ہے کہ اب اُن کی وہ حیثیت نہیں ہے ‘ امریکہ تحریکِ طالبان کو افغانستان کا بالادست سٹیک ہولڈر اور اپنا حریف ماننے پر مجبور ہوگیا ہے‘ اُس نے گلبدین حکمت یار کو یہ حیثیت کبھی نہیں دی ‘ جنابِ حکمت یار اشرف غنی حکومت کے ساتھ براہِ راست معاہدہ کر کے افغانستان میں منظر عام پر آئے اور اب آنے والے ممکنہ صدارتی انتخابات میں اُن کی حیثیت کا تعین ہوگا‘ جبکہ طالبان شاید ہی اُن کے دستوری ڈھانچے کو قبول کرنے پر آمادہ ہوں ‘اُن کا موقف یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے نکل جائیں ‘بعد میں افغانوں کے تمام فریق اپنے معاملات کو خود طے کریں۔ 

ہمارے ہاں کے صحافتی و دانشور حلقے اور تجزیہ نگار تحریکِ طالبانِ افغانستان کی حقیقی قوت کا ادراک کرنے میں شاید غلط فہمی کا شکارہیں ‘کیونکہ اُن کے نزدیک یہ ایک مذہبی طبقہ ہے اور یہ ملک کو ماضی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ‘یہ قدامت پسند اور دقیانوسی ہیں‘ یہ جدید عہد کے ساتھ چلنے کے اہل نہیں ہیں ۔اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ اگرچہ طالبان کی قیادت علما کے پاس رہی ہے ‘ لیکن اس کے اثرات پورے معاشرے پر محیط ہیں ‘ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک پختون اسلامک موومنٹ ہے ‘ جس میں تقریباً سارے پشتون قبائل شامل ہیں اور یہ اُن کی قومی آزادی کی تحریک ہے ۔ یہی سبب ہے کہ انہیں وسیع پیمانے پر مقامی آبادی کی حمایت حاصل ہوتی ہے ‘ وہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کرتے ہیں اور شاید ان کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں ۔ نیز یہ تیر و کمان اور تلوار سے جنگ نہیں کر رہے ‘بلکہ جدید سامانِ حرب سے دنیا کی جدید ترین حربی طاقت کا مقابلہ کر رہے ہیں‘ ان کے پاس جدید اسلحے کو استعمال کرنے کی تکنیک بھی ہے ۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے جدید ترین حساس سیٹلائٹ کیمروں کے ذریعے زمین پر چند سنٹی میٹر کی چیز کو بھی تلاش کرلیتے ہیں‘ لیکن اس کے باوجود طالبان ایسی جنگی چالیں اور تدابیر اختیار کرنے میں کامیاب ہیں کہ اُن سے بچ بچا کر اپنے ہدف کو نشانہ بنا لیتے ہیں ۔ نیز جنگِ افغانستان نے ثابت کیا ہے کہ جدید سائنسی اسلحہ وتکنیک بہت کچھ ہے ‘لیکن سب کچھ نہیں ہے اور بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی یہ جذبۂ قربانی کا متبادل نہیں ہے ۔ 

گوریلا جنگ لڑنے والوں کی برتری کا مدار ہی اس پر ہے کہ وہ آمنے سامنے کی میدانی جنگ نہیں لڑتے کہ میدانِ جنگ میں آر یا پار کی طرح فتح وشکست کا فیصلہ ہوجائے ‘ اس جنگ میں پہل کاموقع اُن کے پاس ہوتا ہے ‘وہی ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے ہیں ‘ وہ اپنی سہولت کے مطابق اپنے ہدف کا تعیّن کرتے ہیں ‘اُس کے لیے موقع ومحل کی مناسبت سے تیاری کرکے اچانک حملہ آور ہوجاتے ہیں ‘ گویا یہ دشمن کو تھکا تھکا کر مارتے ہیں ‘ یہ بھاری جانی قیمت بھی چکاتے ہیں ‘ جب کہ دشمن کے لیے یہی سب سے مشکل کام ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی زیادہ سے زیادہ موت سے ڈرا سکتے ہیں ‘لیکن جو لوگ موت کو اپنی آرزو بنا لیں ‘ انہیں کس چیز سے ڈرائیں گے ۔قرآنِ کریم نے موت کے خوف کو ہی بنی اسرائیل کی سب سے بڑی کمزوری قرار دیا ہے ‘اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اے رسول!) کہہ دیجیے! اگر دارِ آخرت دوسرے لوگوں کے بجائے خالص تمہارے لیے ہے ‘ تو اگر اپنے اس دعوے میں تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو‘ اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ‘ وہ اپنے پچھلے کرتوتوں کے سبب ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے ‘ اور آپ انہیں ضرور سب لوگوں اور مشرکوں سے بھی زندگی کازیادہ حریص پائیں گے ‘ ان میں سے ہر ایک کی آرزو ہے : ”کاش کہ وہ ہزار سال تک جیے‘‘اور یہ (ہزار سالہ زندگی) بھی انہیں عذاب سے نہیں بچاسکے گی اور اللہ اُن کے تمام کرتوتوں کو خوب دیکھ رہا ہے‘ (البقرہ:94-96)‘‘۔ اسی مضمون کو سورۂ جمعہ آیات : 6تا 8میں بھی بیان کیا گیا ہے۔