شگون

لغت میں اس کے معنی ہیں: ”اچھی یا بری فال نکالنا‘‘ ہندومعاشرت کے اثرات کے تحت ہمارے ہاں نیک وبَد شُگون کی بہت سی روایات چلی آرہی ہیں ۔صَفرالمُظفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے ۔ظہورِ اسلام سے پہلے اہلِ عرب میں بھی اس مہینے کے بارے میں بہت سی روایات موجود تھیں ‘بعض لوگ اس کی طرف بیماری یامالی نقصان یا مصیبتوں کے نزول کی بدشُگونی منسوب کرتے تھے ۔رسول اکرم ﷺ نے ان تمام باتوں کی نفی فرمائی۔اس حوالے سے کتب احادیث میں متعدد روایات ہیں ۔ہم اُن تمام روایات کو یکجا کرکے درج کررہے ہیں ۔آپ ﷺ نے فرمایا : ” بدشُگونی کی کوئی حقیقت نہیں ‘کوئی مرض اپنی ذات سے مُتعدی نہیں ہوتا‘اُلّو کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ‘ماہِ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں‘ستاروں (کی چالوں )کا انسانوں کی تقدیر میں کوئی دخل نہیںاور بھوت پریت کی تاثیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔

قرآن مجید میں بد شگونی کے معانی میں ‘ ‘نَحس‘‘ اور ”طِیَرَہ‘‘ کے کلمات آئے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (۱)ترجمہ:” بے شک ہم نے اُن پر تُند وتیز مسلسل چلنے والی آندھی منحوس دن میں بھیجی ‘جو اُن کو اٹھاکر اس طرح مارتی تھی جیسے وہ جڑسے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں‘‘(القمر :19-20)۔(۲): ” سوہم نے (اُن کے )منحوس دنوں میں اُن پر خو ف ناک آواز والی آندھی بھیجی‘ تاکہ ہم اُنہیں دنیاکی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزا چکھائیں اور آخرت کا عذاب سب سے زیادہ رُسواکُن ہے ‘‘(حم ٓالسجدہ:16)۔(۳): ” اور رہے عاد ‘تو اُن کو گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیاگیا ‘(اللہ نے) اس آندھی کو اُن پرمسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلط رکھا ‘پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گر گئے‘‘ (الحاقّہ:6-7)۔(۴):”پس جب اُن پر خوشحالی آتی‘ تو وہ کہتے یہ ہماری وجہ سے ہے او راگر اُن پر کوئی بدحالی آتی ‘تووہ موسیٰ ؑ اور اُن کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے ‘ سنو!ان کافروں کی نحوست اللہ کے نزدیک ثابت ہے ‘لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے‘‘ (اعراف:131)۔(۵): ” کافروں نے (مُرسَلین سے)کہا: ہم تم سے براشگون لیتے ہیں اوراگر تم باز نہ آئے توہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تم کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا ۔اُنہوںنے کہا:تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ ہے ‘کیا تم نصیحت کو براسمجھتے ہو‘ بلکہ تم حد سے گزرنے والے ہو‘‘(یس:18-19)۔

ابتدائی تین آیات میں ”نَحس‘ کا کلمہ آیاہے ۔ ان آیات میں قومِ عاد پر عذاب کے دنوں کو منحوس قراردیاگیا اورحضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ قومِ عادپر عذاب بدھ کے دِن آیاتھا اوروہ اس دن کومنحوس کہتے تھے ‘اس کی تفسیر میں علامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں : ” میں کہتاہوں کہ تمام ایام برابر ہیں اور بدھ کا دن نحوست کے لیے خاص نہیں ‘یعنی اُن پر عذاب اُن کی سرکشی اوربغاوت کی وجہ سے آیانہ کہ بدھ کے دن کی وجہ سے اورہر گزرنے والی ساعت کسی شخص کے لیے اچھی اور مبارک ہوتی ہے اوروہی ساعت دوسرے شخص کے لیے بری اور منحوس ہوتی ہے اور ہر دن کسی شخص کے لیے خیر اور دوسرے شخص کے لیے شَر ہوتاہے‘یعنی ایک ہی دِن کہیں جنازہ اٹھتاہے اورکہیں شادیانے بج رہے ہوتے ہیں‘پس نحوست یا ناخوشگوار ہونے کاتعلق زمانے سے نہیں ہوتا ‘بلکہ افراد کے اعتبار سے ہوتاہے ؛ اگر کسی شخص پر عذاب یا کوئی مصیبت نازل ہونے کی وجہ سے بدھ کا دن منحوس ہے ‘تو ہردن‘ بلکہ ہرساعت میں کسی نہ کسی شخص پر کوئی نہ کوئی مصیبت اوربلا نازل ہوتی ہے ‘تواس طرح توتمام ساعتیں سَعد یا نحس قرار پائیں گی ‘‘(روح المعانی ‘ جلد 27 ص:86)۔

آخری دو آیات میں کُفار نے بالترتیب دعوتِ حق دینے والوں اور حضرت موسیٰ ؑ اور اُن کے ساتھیوں کی طرف نحوست کی نسبت کی ‘ تو اُنہیں جواب دیاگیاکہ تمہاری نحوست ‘تمہاری بداعمالیوں کے سبب اللہ تعالیٰ کے یہاں مُقدر ہے ‘حدیث پاک میں فرمایا : ”لَاطِیَرَۃَ‘‘ یعنی کسی خاص مقام ‘دِن یا وقت کے حوالے سے شریعت میں نحوست یا بدشگونی کا کوئی تصور نہیں ‘بلکہ ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”جوشخص کسی چیز سے بدشُگونی لے کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا ‘ اُس نے شرک کیا ‘‘۔شرک کی صورت یہ ہے :کسی کا یہ عقیدہ ہوکہ اس چیز یا واقعے کا ظہوراپنی ذات میں ناکامی کا سبب ہے اور اس بناپر اُس نے اپنا پروگرام ملتوی کردیا ‘تو گویا اُس نے اعتقادی طورپر شرک کا ارتکاب کیاکہ غیر اللہ کو مؤثر بالذات مانا ‘جیسے ہمارے ہاں بلی کے راستہ کاٹنے کو بھی نحس سمجھاجاتاہے۔

اس کے برعکس رسول اکرمﷺ نے فرمایا:” اسلام میں بدشگونی تونہیں ہے ‘(البتہ )نیک فال لینا بہترہے ‘صحابہ نے پوچھا : ” نیک فال کیاہے ؟‘آپ ﷺ نے فرمایا:ہروہ اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے ‘‘(صحیح بخاری:5754)۔

چنانچہ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر سہیل بن عمروقریش ِمکہ کے نمائندے کے طورپر مذاکرات کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے اُس کے نام سے نیک فال لیتے ہوئے فرمایا: ” اللہ نے تمہارا کام آسان کردیا ہے ‘‘‘کیونکہ سہیل کا مادّہ ”سہل ‘‘ ہے اوراس کے معنی ہیں:آسانی ‘اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے سفرِ ہجرت کے موقع پر کفارِ مکہ نے آپ کو گرفتارکرنے والے کے لیے سو اونٹ کا انعام مقرر کیا ‘ بُرَیدہ انعام کی لالچ میں قریش کے 70شہسواروں کے ساتھ روانہ ہوااور راستے میںرا خاندان کیاہے ؟‘اُس نے کہا: ”اسلم‘‘ ‘اس پرآپﷺ نے فرمایا:ہمیں سلامتی مل گئی ‘‘(کیونکہ اسلم کا مادّہ” سَلْم ‘‘بمعنیٰ سلامتی آپ تک جا پہنچا۔آپ ﷺ نے پوچھا:تم کون ہو؟‘اُس نے کہا: بُرَیدہ‘آپ نے اپنے رفیق سفر حضرت ابوبکر کی طرف مُتوجہ ہوکر فرمایا: ہمارے معاملے میں ٹھنڈک مقدر ہوگئی ‘پھر آپ نے اُس سے پوچھا : تمہاہے)‘پھرآپ ﷺنے پوچھا : تمہارا قبیلہ کیا ہے؟‘اُس نے جواب دیا : بنوسہم ‘آپ ﷺنے فرمایا: تمہارا تیر نکل گیا (سہم کے معنی ہیں :تیر)‘چنانچہ بُرَیدہ اور اُن کے سب ساتھی اسلام لے آئے ‘‘(سُبُل الھدی والرشاد ‘ جلد9ص:356)۔

رسول اکرمﷺ اچھے ناموں کو پسندفرماتے تھے اور بعض مواقع پر ناموں کو تبدیل فرمایا ۔آپ نے ”بَرّہ‘‘ نام کو تبدیل کرکے زینب اور جویریہ رکھا ‘ اَصرم کو بدل کر زُرعہ رکھا ۔اِسی طرح آپ نے ”عاص‘عزیز ‘عَتَلہ ‘غُراب ‘حُباب اور شِہاب‘‘ ناموں کو بھی بدلا ۔ سعید بن مُسیّب نے بتایاکہ اُن کے دادا کا نام ”حَزن‘‘ تھا ‘وہ حضور کے پاس آئے ‘آپ نے فرمایا: تمہارا نام سَہل ہے ‘اُنہوں نے کہا : میں اپنے باپ کے رکھے ہوئے نام کو نہیں بدلوں گا‘ چنانچہ اِسی کا اثرہے ہمارے خاندان کے مزاج میں سختی چلی آرہی ہے ۔

رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ ”صفر کی کوئی حقیقت نہیں ‘‘‘اس کے معنی یہ ہیں کہ ماہِ صفر کو جو لوگ منحوس تصور کرتے ہیں اور اس ماہ کی تیرہ تاریخ کو بعض لوگ تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اس مہینے میں شادی نہیں کرتے ‘ شریعت کی رُوسے یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور باطل ہیں ۔ امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا : صفر کے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اُس دن رسول ﷺ صحت یاب ہوئے تھے ‘لہٰذا وہ اس خوشی میں شیرینی تقسیم کرتے ہیں ‘بعض لوگ اس دن کو نَحس جان کر برتن توڑتے ہیں ۔ اُنہوں نے جواب دیا :آخری بدھ کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور اس دن برتن توڑنا مال ضائع کرنا ہے اور گناہ کا سبب ہے۔اُس دن آپ کی صحت یابی کا بھی کوئی ثبوت نہیں ‘بلکہ جس مرض میں آپ کا وصال ہوا ‘اُس کاآغاز صفر 11ھ کے آخری بدھ کے دن ہواتھا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ایوب ؑ کی ا بتلا ء بھی بدھ ہی کے دن شروع ہوئی تھی‘‘۔

رسول اکرم ﷺ کایہ فرمان کہ ” ستارے کی کوئی اصل نہیں‘‘اس کے معنی ہیں: بعض نجومیوں کے یہ نظریات کہ ستاروں کی چالیں یااُن کا کسی خاص برج میں ہونا انسانوں کی تقدیر پر اَثر انداز ہوتا ہے یا یہ کہ فلاں کا ستارہ یہ ہے اور برج یہ ہے اور اُس کا دن یاسال اِس طرح گزرے گا ‘یہ سب باتیں شریعت کی نظر میں باطل ہیں‘ علامہ اقبالؔ نے کہاہے : 

ستارہ کیا مِری تقدیر کی خبر دے گا؟

وہ خود فراخیٔ ِ افلاک میں ہے‘ خوار و زبوں 

یعنی جوستارہ اپنی مرضی سے حرکت نہیں کرسکتا‘وہ خود قادرِ مُطلق کے حکم کا پابندہے اور اُس کی مجال نہیں کہ اُس کے حکم سے سرتابی کرے یا بال برابر انحراف کرے ‘فرمایا: ”سورج کو سزاوار نہیں کہ وہ چاند کو جاپکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے‘‘(یس:40) کیونکہ:”سورج اور چاند اللہ کے مقررہ حساب سے چلتے ہیں‘‘(الرحمن:5)۔علامہ اقبالؔ نے کہا تھا:

ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے؟

خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے؟

عَبَث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں

تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟

”بدفالی شرک ہے‘‘‘اس حدیث کی شرح میں علامہ علی القاری لکھتے ہیں: ”اگر کسی نے یہ اعتقاد کیا کہ حصولِ نفع یا دفعِ ضرر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز مستقل مؤثر ہے ‘تو یہ شرکِ جلی ہے ‘آپ نے اس کو شرک اس لیے فرمایاکہ وہ یہ اعتقاد کرتے تھے کہ جس چیز سے انہوں نے بدفالی لی ہے‘ وہ مصیبت کے لزوم میں مؤثر ہے اور بالعموم ان اسباب کا لحاظ کرنا شرکِ خفی ہے ‘خصوصاً جب اس کے ساتھ جہالت اور سوئے اعتقاد بھی ہو ‘تو اس کا شرکِ خفی ہونا اور بھی واضح ہے‘‘ (مرقاۃ المفاتیح‘ج:9ص:6)۔ 

علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں:”خلاصہ یہ ہے کہ تمام دن اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کوئی دن نامسعود اور نامبارک نہیں ‘ اسی طرح تمام انسان اور اشیاء اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں اور ان میں سے کوئی چیز منحوس نہیں ہے اور حوادث‘ آفات‘ بلائوں اور مصائب کے نازل ہونے میں کسی چیز کا دخل نہیں ہے۔ بیماریوں ‘آفتوں اور مصیبتوں کے نازل ہونے کا تعلق تکوین اور تقدیر سے ہے‘ دن اور کسی شئے کا کسی شر کے حدوث اور کسی آفت کے نزول میں کوئی دخل اور اثر نہیں ہے ‘ہرچیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور بس!اسی لیے کسی بھی جائز اور صحیح کام کو کسی دن اور کسی چیز کی خصوصیت کی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں ہے اور کوئی دن اور کوئی چیز منحوس‘ نامسعود اور نامبارک نہیں ہے‘‘ (شرح صحیح مسلم‘ج:7ص:613)

 

 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

 

صفرالمظفر کے بارے میں توہمات اور اسلام کی تعلیمات

صفرالمظفر کے بارے میں توہمات اور اسلام کی تعلیمات

قرآن مجید میں ہے :-

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ………..

ترجمہ

بیشک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی اللہ کی کتاب (یعنی قرآن ) میں بارہ مہینے (لکھی) ہے جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین (کے نظام) کو پیدا فرمایا تھا ان میں سے چار مہینے ( ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب المرجب) حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے…….

اور پھر وہ دھوکے سے اپنی ضرورت کے پیش نظر ان حرمت والے مہینوں کی ترتیب کو بدل دیا کرتے

قرآن مجید میں ہے

اِنَّمَا النَّسِیۡٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الۡکُفۡرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُحِلُّوۡنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوۡنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوۡا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوۡا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ؕ…………….

(ترجمہ)

ان کا مہینے پیچھے ہٹانا (ترتیب کو بدلنا) یہ کفر میں بڑھنا ہے اس سے کافر بہکائے جاتے ہیں ایک برس اسے حلال ٹھہراتے ہیں اور دوسرے برس اسے حرام مانتے ہیں…………

مشرکین عرب لوٹ مار اور قتل و غارت کرنا ان کے معمولات میں شامل تھا ۔ اور ذوالقعدۃ، ذوالحج اور محرم یہ تین مہینے متواتر حرمت والے تھے۔ ان تین مہینوں میں قتال سے صبر کرنا مشرکین عرب کے لیے بہت مشکل اور دشوار تھا۔ انہیں جب محرم کے مہینے میں کسی سے لڑنے کی ضرورت پیش آتی تو وہ محرم کے مہینہ کی ترتیب بدل دیتے، اور صفر کے مہینہ کو محرم قرار دیتے اور اصل محرم کے مہینہ میں جنگ کر لیتے۔ اسی طرح وہ ہر سال محرم کے مہینہ کو ایک ماہ موخر کرتے رہتے۔

حتی کہ جس سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کیا، اس سال گیارہ مرتبہ محرم کا مہینہ موخر ہو کر اپنی اصل جگہ پر آچکا تھا۔ اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زمانہ گھوم کر اپنی اصل پر آچکا ہے۔

جس شکل پر جب اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا.

صفر المظفر کے بارے میں چند احادیث

چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :

لَا عَدْوٰی وَلَا طِیَرَۃَ وَلَاھَامَۃَ وَلَا صَفرَ (صحیح بخاری)

بدشگونی اور مخصوص پرندے کی بد شگونی اور صفر کی نحوست وغیرہ یہ سب باتیں بے حقیقت ہیں ۔

اور ایک دوسری حدیث

رسولﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ’’عدویٰ نہیں ، یعنی مرض لگنا اور متعدی ہونا نہیں ہے اور نہ بدفالی ہے اور نہ ہامہ ہے، نہ صفر ہے—-

تیسری روایت میں ہے،

کہ ایک اعرابی نے عرض کی، یارسول اﷲ! (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) اس کی کیا وجہ ہے کہ ریگستان میں اونٹ ہرن کی طرح (صاف ستھرا) ہوتا ہے اور خارشی اونٹ جب اس کے ساتھ مل جاتا ہے تو اسے بھی خارشی کر دیتا ہے؟ حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: ’’پہلے کو کس نے مرض لگا دیا۔‘‘ یعنی جس طرح پہلا اونٹ بیمار ہوا اسی طرح سارے……

کچھ لوگ ماہ صفر کو منحوس تصور کرتے، جس کی کوئی حقیقت نہیں.

ابو داود شریف کی روایت ہے کہ ،

رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے سامنے بدشگونی کا ذکر ہوا۔ حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا: نیک فال اچھی چیز ہے اور براشگون کسی مسلم کو واپس نہ کرے یعنی کہیں جارہا تھا اور برا شگون ہوا تو واپس نہ آئے، چلا جائے جب کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جو ناپسند ہے یعنی برا شگون پائے تویہ کہے۔ اَللّٰھُمَّ لَا یَـأْ تِیْ بِالْحَسَنَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّاٰتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

✭═══─┉●┉─═══✭

لیکن أفسوس کہ اسلامی تعلیمات کے برعکس موجودہ دور کے بہت سے مسلمان ماہ صفر کے بارے میں بڑی بد عقیدگی کا شکار ہیں اور اہل جاہلیت کی روش پر ابھی بھی قائم ہیں ,

چند جہالتیں

جہالت نمبر1

کچھ لوگ جہالت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مہینے میں مصائب و آلام کی ہوائیں پوری تیزی کے ساتھ چلنے لگتی ہیں

جہالت نمبر2

ہر سال دس لاکھ اسّی ہزار بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان میں صرف ایک مہینہ صفر میں نو لاکھ بیس ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں .

جہالت نمبر3

یہ اس مہینے میں نحوست ہے. چنانچہ وہ اس مہینہ کو منحوس خیال کرتے ہوئے صدقہ کرتے ہیں حالانکہ صدقہ صرف اسی مہینے میں نہیں بلکہ پورا سال چاہیے.

جہالت نمبر4

یہ مہینہ رحمتوں اور برکتوں سے خالی رہتا ہے.

جہالت نمبر5

شادی جوڑوں کو اس ماہ کے ابتدائی تیرہ دنوں میں ایک دوسرے سے الگ رکھا جاتا ہے. کہتے ہیں کہ ابتدائی 13 دن نحوست والے ہیں.

جہالت نمبر6

بعض مسلمان ماہ محرم میں اور صفر میں معزز ہستیوں کی وفات اور شہادت سے جوڑتے ہیں اگر کسی کی وفات اورشہادت کی وجہ سے نحوست ہوتی ہے تو پھر ان کے بارے میں کیا کہیں گے.

ربیع الأول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا.

جمادی الأول میں خلیفہ اول, یار غاررسول ابو بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا.

ذی الحجہ میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زخمی ہوئے اور خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی شہادت ہوئی.

رمضان المبارک میں خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی.

اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام, صحابہ کرام اور ائمہ اسلام کی وفات اور شہادت کے ایام و مہینوں کو منحوس قرار دیں , تو کوئی مہینہ, بلکہ کوئی دن نحوست سے خالی نہ رہے.

مگر میرا یہ کہنا ہے

کوئی مہینہ اور دن منحوس نہیں ہوتا منحوس آدمی کا اپنا ناجائز عمل اور غلط عقیدہ ہوتا ہے.

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے.

مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ ؕ .

اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور تجھے جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے.

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

محرم و صفر میں بیاہ شادی نہ کرنا اور سوگ منانا

*محرم و صفر میں بیاہ شادی نہ کرنا اور سوگ منانا*

ماہ محرم میں کتنی رسوم و بدعات و خرافات آج کل مسلمانوں میں رائج ہوگئ ہیں ان کا شمار کرنا بھی مشکل ےِ

انہیں میں سے ایک یہ بھی ےِ کہ یہ مہینہ سوگ اور غمی کا مہینہ ےِ اس ماہ میں بیاہ شادی نہ کی جائیں حالانکہ اسلام میں کسی بھی میت کا تین دن سے زیادہ غم منانا ناجائز ےِ اور ان ایام میں بیاہ شادی کو بُرا سمجھنا گناہ ےِ نکاح سال کے کسی بھی دن میں منع نہیں ےِ خواہ محرم ہو یا صفر یا اور کوئ مہینہ یا دن

بریلی کے تاج دار اعلی حضرت سرکار رضی اللہ تعالیٰ سے پوچھا گیا

اول بعض اہلسنت و جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں کہتے ہیں بعد دفن تعزیہ روٹی پکائ جاےُ گی

دوم دس دن میں کپڑے نہیں اُتارتے

سوئم ماہ محرم میں بیاہ شادی نہیں کرتے

چہارم ان ایام میں سواےُ امام حس و امام حیسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کسی اور کی نیاز و فاتحہ نہیں دلاتے ہیں یہ جائز ے یا ناجائز ؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا پہلی تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ےِ اور چھوتھی بات جہالت ہر مہینے میں ہر تاریخ میں ہر ولی کی نیاز اور ہر مسلمان کی فاتحہ ہوسکتی ہیں

دراصل محرم میں غم منانا سوگ کرنا فرقہ ملعونہ رافضیوں اور شیعوں کا کام ےِ اور خوشی منانا مردود خارجیوں کا شیوہ اور نیاز و فاتحہ دلانا نفل پڑھنا روزے رکھنا مسلمانوں کا کام ےِ

فالحمداللہ علی ذالک

خلیفہ داماد تاج الشریعہ فقیر محمد ندیم اختر صدیقی سبطینی شارق میاں بنارس

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

  سال مہینہ تاریخ یوم پیدائش 1300 صفر المظفر 21 یوم وصال 1367 ذوالحجہ 18

صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب

:آپ کا نام سید نعیم الدین بن معین الدین بن امین الدینبن کریم الدین ہے۔(رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم)

تاریخ ومقامِ ولادت

:آپ کی ولادت  بروزپیر،21 صفر المظفر 1300ھ بمطابق جنوری 1883ء مراد آباد (یو.پی)  میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللہ علیہ  جب چار سال کے ہوئے تو آپ کے والد گرامی نے "” بسم اللہ خوانی "” کی پاکیزہ رسم ادا فرمائی۔ ناظرہ قرآنِ پاک  ختم کرنے کے بعد آٹھ سال کی عمر میں حفظِ قرآن کی تکمیل کی۔ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل فرمائی ، متوسطات تک علوم درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب سے کی، اس کے بعدبقیہ علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت علامہ مولانا سید محمد گل صاحب کابلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کی۔

بیعت وخلافت:

آپ  اپنے ہی استاذ گرامی حضرت مولانا سید محمد گل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔ حضرت نے اپنے لائق وفائق تلمیذِ رشید کو چاروں سلسلوں اور جملہ اوراد ووظائف کی اجازت عطافرماکر ماذون ومجاز بنا دیا۔اس کے بعد غوث ِوقت، قطبِ دوراں، شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی نے بھی خلافت واجازت سے سر فراز فرمایا۔

سیرت وخصائص:

حضور صدر الافاضل اپنی علمی جاہ وحشمت، شرافتِ نفس، اتباعِ شریعت، زہد وتقویٰ، سخن سَنجی،حق گوئی، جرأت وبے باکی اور دین حق کی حفاظت کے معاملے میں فقید المثال تھے۔ آپ اپنی مختلف دینی، علمی، تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی مصروفیات اور مناظرہ ومقابلہ اور فِرَقِ باطلہ کے رد وابطال جیسی سرگرمیوں کے باوجود تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔آپ کا طرزِ تدریس بڑا دلچسپ و منفرد تھاافہام وتفہیم میں آپ یکتائے روزگار تھے جس کی بدولت اسباق طلبا کے دل ودماغ پر پوری طرح نقش ہو جاتے۔ طَلَبَہ کے خورد ونوش اور مدرسین کی تنخواہ آپ اداکرتے تھے۔ حضرت صدر الافاضل کو دیگر علوم وفنون کے علاوہ فنِ تقریرو مناظرہ میں بھی مہارت حاصل تھی۔ آپ اپنے وقت کے تقریباً تمام فِرَقِ باطلہ سے نبرد آزما رہے، ایک سے بڑھ کر ایک مناظر آپ کے مقابل آیا لیکن ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔جو دلائل و حجج قائم فرماتے کسی کو اتنی طاقت نہ ہوتی کہ توڑ سکتا مخالف ایڑی چوٹی کا زور لگاتا لیکن ناممکن تھا کہ جو گرفت فرمائی تھی اس سے گُلُو خلاصی پاسکتایا وہ گرفت نرم پڑ جاتی،مخالف غضب و عناد میں انگلیاں چباتے مگر کچھ نہ کر سکتے۔حضور صدر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجوددار الافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے،ہند وبیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور استفسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے۔ بفضلہ تعالیٰ فقہی جزئیات اس قدر مستحضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فقہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی۔قیامِ پاکستان میں آپ نے بھرپور حصہ لیا۔

وفات:

18 ذوالحجہ 1367ھ مطابق 23اکتوبر1948ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، ۱۲ بجکر ۲۰ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔ اِنَّا لِلّٰہ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجدکےبائیں گوشے میں کی گئی۔ ماخذ ومراجع: روشن دریچے بشکریہ ضیائے طیبہ