کیا فون کالز ، میسجز ، إیمیلز کے ذریعے طلاق ہوجاتی ہے؟

سؤال: کیا فون کالز ، میسجز ، إیمیلز کے ذریعے طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين،

وبعد:

اللہ رب العزت نے أمت مسلمہ پہ فقہاء کرام و محدثین عظام کے ذریعے إحسان عظیم فرمایا ہے کہ جنہوں نے إنسان کی زندگی کے متعلق تمام أحکام کو قرآن و أحادیث سے مستنبط و مستخرج فرماکر کتب مرتب کردیں ،

لہذا فون کالز ، إیمیلز یا میسجز کے ذریعے جو طلاق کا مسئلہ ہے إسکو ہم فقہاء کرام – رحمھم اللہ جمیعا – کے بیان کردہ مسئلہ طلاق بالکتابۃ أور رسالۃ پر تخریج کرسکتے ہیں ،

مذاہب أربعۃ کے معتمد قول کے مطابق لکھ کر دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے اختلاف صرف إس میں ہے کہ لکھ کر دی جانے والی طلاق کنایات میں سے ہے یا صریح ألفاظ میں سے؟

ہم درج ذیل میں فقہ حنفی کو بیان کرتے ہیں :

فون کالز، میسجز یا إیمیلز کے ذریعے طلاق واقع ہوجائے گی بشرطیکہ أس میں کسی قسم کا شک نہ ہو أور طلاق دینے والے سے تائید کی جائے کہ فون کالز پر وہی تھا یا کسی أور نے أسکی آواز نکال کر طلاق کا کہا ؟

پھر أگر وہ اقرار کرلے کہ میں ہی تھا تو طلاق واقع ہو جائے گی لیکن أگر وہ کہے کہ نہیں کوئی أور تھا تو پھر أس سے پوچھا جائے گا کہ کیا أسکو طلاق دینے کے لیے آپ نے کہا یا نہیں؟

أگر وہ کہے کہ مینے نہیں کہا تو طلاق نہیں ہوگی أور اگر وہ کہے کہ: جی، مینے أسے طلاق دینے کا کہا تھا تو پھر طلاق واقع ہوجائے گی۔

علامہ کاسانی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"عدم الشک من الزوج فی الطلاق وھو شرط الحکم بوقوع الطلاق حتی لو شک فيه لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته ؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك”

( بدائع الصنائع للکاسانی الحنفی ، فصل فی الرسالۃ فی الطلاق ، 3/126 )

مفہوم عبارت: أگر زوج کو شک ہوکہ أس نے طلاق دی ہے یا نہیں تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ نکاح کا ثبوت یقینی ہے أور نکاح کے ختم ہونے کا ثبوت شک پر مبنی لہذا یقین شک سے ختم نہیں ہوتا تو طلاق بھی نہیں ہوگی .

إس عبارت کا واضح مفہوم ہے کہ شک ہو تو طلاق نہیں ہوگی أور أگر خاوند انکار کرے تو من باب أولی نہیں ہوگی.

یہ فون کالز کے ذریعے طلاق والا مسئلہ طلاق بالرسالۃ پہ تخریج ہوگا.

رہی بات میسجز یا إیمیلز کے ذریعے طلاق دینے کی بات تو اس میں بھی درج بالا سوالات پوچھیں جائیں گے جب تائید ہوجائے أورکسی قسم کا شک نہ رہے تو طلاق واقع ہوجائے گی بشرطیکہ أس نے میسج یا إیمیلز یوں کی ہو:

أے میری بیوی تجھے طلاق ہے یا جب تو یہ مسج یا إیمیلز پڑھے تو تجھے طلاق ہے یعنی أسکو أیڈریس کرے۔

لیکن أگر وہ میسج یا إیمیلز یوں لکھتا ہے کہ :

میری بیوی کو طلاق ہے تو اس صورت میں یہ الفاظ کنائی ہونگے تو أس سے نیت پوچھی جائے کہ کیا آپکی نیت طلاق کی ہے یا نہیں؟ اگر کہے نہیں تو طلاق نہیں ہوگی أور أگر کہے کہ جی نیت تھی تو طلاق ہوجائے گی۔

( بدائع الصنائع ، 3/109 )

أگر اسکا شوہر کہے کہ مینے فلاں شخص کو طلاق دینے کا نہیں کہا تھا بذریعہ میسج یا فون کالز یا إیمیلز لیکن دوسرا شخص کہے کہ نہیں تونے ہی مجھے کہا تھا تو اس صورت میں اعتبار شوہر کا ہوگا لہذا طلاق نہیں ہوگی ، جیسے کہ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه "

( حاشیۃ ابن عابدین الحنفی ، مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ، 3/246 )

ترجمہ: ہر وہ کتاب جسکو نہ أس نے أپنے ہاتھ سے لکھا ہو أور نہ ہی وہ خود أس کے لیے راضی ہو تو طلاق نہیں ہوگی جب تک وہ اقرار نہ کرلے کہ یہ أسکی کتاب ہے ( یعنی أس نے خود لکھا ہے یا کال کی ہے یا میسج یا پھر ایمیل کی ہے یا کروایا ہے ).

تو لہذا اختلاف کے وقت بات شوہر کی مانی جائے گی ۔

تنبیہ:

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ أن پڑھ لوگوں کو دھوکا دے کر طلاق والے پیپرز پہ انگوٹھا لگوا لیتے ہیں أور پھر جاکر کسی بھی مفتی سے فتوی لے کر طلاق دلوا دیتے ہیں تو یہ طلاق نہیں ہوگی أگر انگوٹھا لگانے والا انکار کردے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس پہ کیا لکھا ہوا ہے؟

واللہ أعلم .

عورت کتنے دن عدت گزارے گی

سوال نمبر ۳۵:-عورت کتنے دن عدت گزارے گی ؟

جواب:-اگر شوہر فوت ہوگیا تو عورت۴مہینے۱۰دن عدت گزارے گی (البقرۃ۲۳۴) اور اگر عورت حاملہ ہو تو عدتِ وفات بچہ جننا ہے ایک گھنٹے بعد جَن دے یا۹ مہینے بعد ( الطلاق ۴) اور اگر شوہر نے عورت کو طلاق دی ہو تواسمیں متعدد صورتیں ہیں(۱) عورت حاملہ ہو بچہ جننا عدت ہے۔(الطلاق ۲۸) (۲)عورت کو حیض آتا ہے تو مکمل تین حیضوں کا گزر جانا (البقرۃ ۲۲۸) اور اگر عورت کو حیض میں طلاق دی ہو تو اس حیض کا اعتبار نہیں ،بلکہ اس کے بعد نئے سرے سے مکمل تین حیضوں کا گزرنا ضروری ہے ،(۳)اگر عورت کو حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا یا عورت اتنی عمر کی ہوچکی ہے کہ حیض آنا بند ہوگیا ہے ۔تو ان کی عدت تین مہینے ہے (الطلاق۲۸) البتہ اگر لڑکی کو حیض نہیں آیا تھا اور وہ مہینے کے حساب سے عدت گزار رہی تھی ۔ کہ حیض شروع ہوگیا تو اب تین حیض سے ہی عدت پوری کرے گی ۔
وفات کی عدت تو عورت کو بہرصورت گزارنی ہوتی ہے عورت چھوٹی عمر کی ہو یا زیادہ عمر کی ،شوہر سے خلوت ہوئی یا نہیں ۔ البتہ طلاق کی عدت اسی صورت میں گزارنا پڑے گی ۔ جب عورت سے مرد کی خلوت ہوئی ہو اگرمرد و عورت کی خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تو عدت بھی نہیں بلکہ عورت طلاق کے فورا بعد نکاح کرسکتی ہے ۔

الحمد للہ ! طلاق کے موضوع پر چند مسائل جمع کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اسے اپنی بارگاہِ عزت میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، عام عوام کے لیے فائدہ مند اور حصول علم کا ذریعہ اور راقم کیلئے مغفرت کا سبب بنائے ۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و صحبہ وسلم
محمد قاسم العطاری عفی عنہ
۲۶ ربیع النور ۱۴۲۴ھ بمطابق ۲۹ مئی ۲۰۰۳

عورت عدت کیسے گزارے گی ؟

سوال نمبر ۳۴:-عورت عدت کیسے گزارے گی ؟

جواب :-اگر عورت کو طلاق رجعی ہوئی ہے تو عورت عدت میں بناؤ سنگھار کرے جبکہ شوہر موجود ہو اور عورت کواس کے رجوع کرنے کی امید ہو۔ اور اگر شوہر موجود نہیں یا عورت کو شوہر کے رجوع کرنے کی امید نہیں ۔ تو زینت نہ کرے ۔ اور شوہر کا رجوع کرنے کا ارادہ نہ ہو تو وہ بھی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ جائے اور جب عورت کے مکان میں جائے تو خبر دیدے یا کھنکھار کر جائے یا اس طرح کہ عورت جوتے کی آواز سُنے۔ اور اگر عورت طلاق بائن یا وفات کی عدت میں ہے تو اُسے زینت کرنا حرام ہے۔ زینت نہ کرنے کا معنی یہ ہے ۔ہر قسم کے زیور سونے ، چاندی ،جواہر وغیرھا کے اور ہر قسم اور ہر رنگ کے ریشم کے کپڑے اگر چہ سیاہ ہوں نہ پہنے ۔ اور کپڑے اور بدن پر خوشبو نہ لگائے۔ نہ تیل استعمال کرے نہ کنگھی کرے نہ سیاہ سرمہ لگائے یوہیں سفید خوشبودار سرمہ بھی نہ لگائے ۔یونہی مہندی لگانا یا زعفران یا کسم یا گیروکے رنگے ہوئے کپڑے یا سرخ کپڑے پہننا یہ سب ممنوع ہیں ۔ البتہ سر درد کی وجہ سے سر میں تیل لگا سکتی ہے اور موٹے دندانوں کی کنگھی بھی کرسکتی ہے اور آنکھوں میں درد کی وجہ سے بقدر ضرورت سرمہ بھی لگاسکتی ہے ۔یعنی اگر رات کو سرمہ لگانا کفایت کرے تو رات ہی کو لگانے کی اجازت ہے ۔دن میں نہیں اور سفید سرمہ سے ضرورت پوری ہوجائے تو سیاہ سرمہ لگانا منع ہے ۔ یونہی عدت میں چوڑیاں پہننا گلے میں ہار یا لاکٹ، کانوں میں یا ناک میں کانٹے بالیاں پہننا سب ممنوع ہے ۔ (رد المحتار ۵/ ۲۱۷،۲۱۹)
دورانِ عدت عورت گھر سے باہر بھی نہیں جاسکتی البتہ اگر وفات کی عدت میں ہو۔ اور کسب حلال کیلئے باہر جانا پڑے تو عورت دن کے وقت جاسکتی ہے جبکہ رات کا اکثر حصہ گھر میں گزارے اور یہ جانا بھی اس صورت میں ہے جب خرچے کے لئے رقم نہ ہو اگر بقدر کفایت رقم ہے تو باہر نکلنا ممنوع ۔ جس مر ض کا علاج گھر میں نہیں ہوسکتا اس کے لئے بھی باہر جاسکتی ہے ۔جس مکان میں عدت گزارنا واجب ہے اُس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ البتہ اگر شوہر یا مالکانِ مکان یا عدتِ وفات میںشوہر کے ورثاء نکال دیں یا مالکِ مکان کرایہ مانگے اورکرایہ ہے نہیں یاجہاں مال ، آبرو کو صحیح اندیشہ لاحق ہو ۔تو مکان بدل سکتی ہے۔(رد المحتار۵/۲۲۳،۲۲۵)

عورت کو جب طلاق ہوجائے ۔تو وہ کیا کرے ۔کیا طلاق کے بعد بھی شوہر کے ذمہ عورت کے کچھ حقوق رہتے ہیں

سوال نمبر ۳۳:-عورت کو جب طلاق ہوجائے ۔تو وہ کیا کرے ۔کیا طلاق کے بعد بھی شوہر کے ذمہ عورت کے کچھ حقوق رہتے ہیں ؟
جواب :-عورت کو جب طلاق ہوجائے تو وہ عدت گزارے گی اور شوہر کے ذمہ عدت کے دوران عورت کو رہائش اور خرچہ دینا لازم ہے ۔ عورت اسی مکان میں عدت گزارے گی جس میں طلاق کے وقت شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھی ۔اگر کسی اور جگہ عورت گئی ہوئی تھی تو اطلاع ملتے ہی شوہر کے گھر پہنچ جائے ۔

اگر مرد نے عورت کو تنہائی میں تین طلاقیں دیں او ر اب انکار کرتا ہے تو عورت کیا کرے ؟

سوال نمبر ۳۲:-اگر مرد نے عورت کو تنہائی میں تین طلاقیں دیں او ر اب انکار کرتا ہے تو عورت کیا کرے ؟

جواب :-شوہر نے عورت کو تین طلاقیں دیں پھر انکار کرے اور عورت کے پاس گواہ نہ ہوں تو جس طرح ممکن ہو عورت اُس سے پیچھا چھڑائے مہر معاف کرکے یا اپنامال دے کر اس سے علیحدہ ہوجائے ۔ غرض جس طرح بھی ممکن ہو اُس سے کنارہ کشی کرے اور کسی طرح مرد نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے ۔ مگر ہر وقت اِسی فکر میں رہے کہ جس طرح ممکن ہو رہائی حاصل کرے اور پوری کوشش اس کی کرے کہ صحبت نہ کرنے پائے ۔ یہ حکم نہیں کہ خود کشی کرلے عورت جب ان باتوں پر عمل کرے گی تو معذور ہے اورشوہر بہرحال گناہگار ہے ۔

اگر شوہر نے طلاق لکھ کر دی یا طلاق کی تحریر پر دستخط کئے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟

سوال نمبر ۳۱:-اگر شوہر نے طلاق لکھ کر دی یا طلاق کی تحریر پر دستخط کئے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟

جواب :- جس طرح زبانی طلاق ہوجا تی ہے اسی طرح تحریر ی طلاق بھی ہوجاتی ہے بلکہ اس میں متعدد صورتیں ہیں (۱)خود طلاق کا مضمون تحریر کیا (۲) دوسرے کو مضمون تحریر کرنے کا کہا(۳)دوسرے نے اپنی طرف سے طلاق کاکاغذ لکھا شوہرنے کاغذ پڑھ کر یا مفہوم جان کررضا مندی کا اظہار کر دیا یا دستخط کردیے (۴)پڑھوا کر تو نہیں سنا مگر یہ معلوم تھا کہ اس میں میری بیوی کو طلاق دی گئی ہے اس پر رضامندی کر دی یادستخط کر دیئے۔ ان تمام صورتوں میں رضامندی کا اظہار کیا یادستخط کئے یا انگوٹھا لگا یا طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور تحریر ی طلاق میں لکھ دینے سے ہی یا لکھے ہوئے پر دستخط کرنے تھے تو دستخط کرتے ہی طلاق ہوجائے گی ۔ وہ کاغذ عورت تک پہنچے یا نہ پہنچے ۔اور خواہ یہ خود یا کوئی اور وہ کاغذ پھاڑ دے ۔ البتہ اگر تحریری طلاق کے الفاظ یہ ہوں ” میرا یہ خط جب تجھے پہنچے تو تجھے طلاق ہے ۔ تو عورت کو جب تحریر پہنچے گی اس وقت طلاق ہوگی ۔ عورت چاہے پڑھے یا نہ پڑھے ۔ او ر اگر اُسے تحریر پہنچی ہی نہیں مثلاً شوہر نے مذکورہ الفاظ تولکھ دیے مگر وہ تحریر بھیجی نہیں یا پھاڑ دی یا راستے میں گم ہوگئی یا عورت کے باپ یا بھائی یا کسی اور رشتے دار کو پہنچی اُس نے عورت تک پہنچنے سے پہلے ہی پھاڑ کر پھینک دی تو ان سب صورتوں میں طلاق نہ ہوگی ۔ البتہ اگر یہ تحریر لڑکی کے باپ کو پہنچی اور اس نے وہ تحریر پھاڑدی تو اگر لڑکی کے تمام کاموں میں باپ تصرف کرتا ہے اور وہ تحریر اُس شہر میں باپ کو ملی جہاں لڑکی رہتی ہے تو طلاق ہوگئی ورنہ نہیں ۔

طلاق دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟

سوال نمبر۳۰:-طلاق دینے کا شرعی طریقہ کیا ہے ؟

جواب :-طلاق دینے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو ان پاکی کے دنوں میں جن میں عورت سے جماع نہ کیاہو ایک طلاق دی جائے او ر چھوڑ دیا جائے حتی کہ عدت کے دن گزرجائیں او راس سے کم اچھا طریقہ متعدد صورتوں پر مشتمل ہے۔ (۱)جس عورت سے خلوت نہ ہوئی اس کو طلاق دی جائے اگر چہ حیض کے دنوں میں ہو ۔ (۲)جس سے خلوت ہوچکی اس کو تین طہروں (پاکی کے دنوں میں) تین طلاقیں دی جائیں ہر طلاق ایک طہر میں واقع ہو اور کسی طہر میں عورت سےجماع نہ کیا ہواور نہ ہی حیض کے دنوں میں عورت سے جماع کیا ہو (۳)وہ عورت جسے حیض نہیں آتا مثلاً نابالغہ یا حاملہ یا حیض نہ آنے کی مدت کو پہنچی ہوئی عورت ان سب کو تین مہینوں میں تین طلاقیں دیں اگر چہ جماع کرنے کے بعد یہ سب صورتیں بھی جائز ہیں ان میں کچھ کراہت نہیں ۔ او ر اس کے علاوہ حیض میں طلاق دینا یا ایک ہی طہر (پاکی کے دنوں) میں تین طلاقیں دینا یا جس طہر میں عورت سے جماع کیا اس میں طلاق دینا یا طلاق طہر میں دی مگر اس سے پہلے جو حیض گزرا اس میں عورت سے جماع کیا تھا یا پہلے والے حیض میں طلاق دی تھی یا یہ سب باتیں نہیں مگر طہر میں طلاق بائن دی تھی یعنی وہ طلاق جس میں بغیر نکاح کے رجوع نہیں ہوسکتا جس کی تفصیل (سوا ل نمبر ۲۱) کے جواب میں گزری ان سب صورتوں میں طلاق دینا بہت برا اور ممنوع ہے ۔ مگر سب صورتوں میں طلاق ہوجائے گی۔ لہذاچاہیے کہ سب سے پہلا طریقہ اختیار کیا جائے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک طلاق شاید ہوتی ہی نہیں تین طلاقیں ہی صحیح طلاق ہوتی ہے۔ یہ بات درست نہیں جیسا کہ مذکورہ بالا تفصیل سے واضح ہوچکا ۔