نماز میں پینٹ شلوار کو موڑنا

سوال: آج کل ہمارے نوجوانوں میں یہ بیماری پھیلتی جارہی ہے خصوصا وہ نوجوان جو پینٹ شرٹ میں ملبوس ہوتے ہیں‘ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی پینٹ کے پائنچوں کوموڑ لیتے ہیں اور بہت زیادہ موڑتے ہیں اور بعض لوگ شلوار کو نیفے کی طرف سے گھرستے ہیں یا موڑتے ہیں‘ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: جب ہم نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو گویا ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں جو سارے حاکموں کا حاکم ہے۔ اس کی بارگاہ سے بڑھ کر کوئی بارگاہ نہیں لہذا اس کی بارگاہ میں انتہائی ادب کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے۔ نہایت ہی سلیقے کے ساتھ‘ اچھا لباس پہن کر حاضر ہوں۔ اس مثال کو یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ہم کسی دنیاوی افسر کی خدمت میں جاتے ہیں تو پہلے اپنا حلیہ اچھا کرتے ہیں پھر اپنا لباس درست کرتے ہیں‘ آستین چڑھی ہوئی ہوتی ہے تو اسے سیدھی کرلیتے ہیں‘ شلوار کا پائنچا اگر اوپر نیچے ہو تو اسے درست کرتے ہیں تو جب دنیاوی دربار کا اس قدر احترام ہے تو جو بارگاہ تمام بارگاہوں سے افضل و اعلیٰ ہے اس بارگاہ کا احترام کس قدر ہونا چاہئے‘ اب شلوار کو نیفے کی طرف سے یا پینٹ کے پائنچے کو نیچے سے موڑنے کی مذمت میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔

حدیث شریف

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ سرکار اعظمﷺ فرماتے ہیں کہ: مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں (منہ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے) اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ موڑوں (بخاری شریف جلد اول ص ۱۱۳‘ مسلم شریف جلد اول ص ۱۹۳‘ ترمذی شریف جلد اول ص ۶۶)

شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں لیکن اصطلاح شرعی میں کپڑے کا موڑنا اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے‘ یہ فعل کپڑں کا ٹخنوں کے نیچے بغیر تکبر کی نیت سے ہونے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا بغیر تکبر کی نیت سے نیچی رہنے میں نماز مکروہ تنزیہی ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا) ہے (شارح بخاری ‘ عینی جلد ص ۹۰)

درمختار میں ہے اور اس کے تحت علامہ عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کف ثوب مکروہ ہے یعنی کپڑے کا اٹھانا اگرچہ کپڑا مٹی سے بچانے کے لئے ہو جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا‘ جب بھی مکروہ ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف سے اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں‘ خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ ہے (جلد اول ص ۵۹۸)

معلوم ہوا کہ کوشش کی جائے کہ شلوار‘ پینٹ یا ازار ٹخنوں سے تھوڑی سی اوپر سلائی جائے۔ اگر بالفرض پینٹ یا شلوار ٹخنوں سے بڑی ہے تو اس کو اوپر یا نیچے سے فولڈ یعنی موڑا نہ جائے‘ کیونکہ ایسا فعل مکروہ تحریمی ہے یعنی اگر کسی شخص نے ایسی حالت میں نماز پڑھی تو شلوار یا پینٹ درست کرکے نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہوگی۔

کپڑے ٹخنے سے اوپر رکھنے کا حکم

حدیث شریف: حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکار اعظمﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا کپڑا تکبر سے نیچے کرے گا‘ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس فرمان کو سنتے ہی عرض کیا یارسول اﷲﷺ میرا تہبند تو نیچے لٹک جاتا ہے مگر اس وقت کہ جب میں اس کا خاص خیال رکھوں (اس کے شکم پر تہبند رکتا نہیں تھا سرک جاتا تھا) سرکار اعظمﷺ نے فرمایا تم ان میں سے نہیں جو تکبر کے طور پر ازار بند لٹکائے ہیں یعنی یہ وعید ان لوگوں کے لئے ہے جو قصدا (جان بوجھ کر) تکبر کی نیت سے تہبند و شلوار وغیرہ نیچی رکھتے ہیں ۔ (بحوالہ بخاری شریف جلد دوم ص ۸۶۰)

اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ کپڑے ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی دو صورتیں ہیں۔

۱۔ بطور تکبر    ۲۔ بغیر تکبر

پہلی صورت حرام ہے اس میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے اور دوسری صورت میں بغیر تکبر کی نیت سے ازار یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا مکروہ تنزیہی بلکہ خلاف اولیٰ ہے۔ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا یہ فعل ازراہ تکبر نہ تھا کیونکہ ان کے شکم مبارک کی وجہ سے ازار نیچے سرک جاتا تھا اسی وجہ سے سرکار اعظمﷺ نے فرمایا یعنی اے ابوبکر رضی اﷲ عنہ! تم تکبراً کپڑا نیچے کرنے والے نہیں ہو۔

الغرض کہ پائنچوں کا ٹخنے کے نیچے ہونا اگر تکبر کی نیت سے ہو تو حرام ہے اور وہ حصہ بدن جہنم کی آگ سے نہ بچ سکے گا اور اس میں نماز مکروہ تحریمی بھی ہوگی اور اگر تکبر کی نیت سے نہیں تو مستحق عذاب و عتاب نہیں اور نماز مکروہ تنزیہی بلکہ خلاف اولیٰ ہے۔

لہذا کوشش کی جائے کہ شلوار یا ازار لمبی سلوائی ہی نہ جائے کہ ٹخنے سے نیچے رہے کیونکہ یہ صرف نماز کی حالت میں خرابی نہیںبلکہ عام حالت میں بھی اتنی ہی خرابی ہے جتنی نماز کی حالت میں ہے۔ احادیث میں ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اتنی چھوٹی ہو کہ دیکھنے والوں کو معیوب لگے‘ لوگ سمجھیں کہ چھوٹے بھائی کی شلوار پہن لی ہے۔

کیاتائب کے لیے قضائے عمری ضروری ہے؟

کیاتائب کے لیے قضائے عمری ضروری ہے؟

غلام مصطفی اظہری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جونماز ادا کرنا بھول جائےتو جب اسے یاد آئے اسی وقت نماز ادا کرے

(۲)عمداً تارک صلاۃ کافر نہیں ہے ،سخت ترین فاسق و فاجر ہے ، اس کو کوڑا مارا جائے گا ، جیل کی سزا دی جائے گی اور اگر پھر بھی ترک پر اِصرار کرے تو قتل کردیا جائے گا، اور اگر اس نے توبہ کرلی تو اُس پر ضروری ہےکہ وہ تمام قضا نمازوں کا اعادہ کرے اور اللہ رب العزت کی رحمت و مغفرت سے بخشش کی اُمید رکھے۔یہ مذہب امام شافعی و امام مالک رحمہمااللہ کا ہے اور ایک روایت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے ،یہی مذہب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے لیکن امام ابو حنیفہ کسی بھی صورت میں قتل کو جائز نہیں سمجھتے ۔

 تارک صلاۃ کافر نہیں 

۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ(نسا۴۸)

 یعنی اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ ہر گناہ کو بخش دےگا۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًا(۶۸) یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗ(۶۹) اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (فرقان ۷۰)

ترجمہ:وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پوجتے اور ناحق کسی ایسی جان کو نہیں مارتے جس کی اللہ نے حرمت رکھی اور بدکاری نہیں کرتے اور جو بھی ایسا کام کرے اس پر قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب ہوگااور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور نیک عمل کرےتو ایسوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

۲۔قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِهِمْ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (زمر۵۳)

ترجمہ:تم فرماؤ ،اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر گناہ کرکے زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو، بےشک اللہ تعالیٰ ہر طرح کے گناہ بخش دیتا ہے، وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

جہاں تک احادیث کریمہ میں تارک صلاۃ کو کفر کی طرف منسوب کرنے کا مسئلہ ہےتو فقہا و شارحین حدیث نے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں ،جیسے ترک صلاۃ کفر سے قریب کرنے والا ہے ،یااس کفر سے مراد کفرانِ نعمت ہے ۔ یہ لفظ زجر و توبیخ کے طور پراستعمال کیا گیا ہے،یاپھر استخفافاً ترکِ صلاۃ کرنے والے کو کافر کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

توبہ کے بعد قضا نمازوں کا ادا کرناضروری ہے 

۱۔حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُّقْضٰی۔(بخاري ،کتاب الصیام ، باب من مات وعليه صوم۔ صحيح مسلم، کتاب الصیام ، باب قضاء الصيام عن الميت)

ترجمہ:اللہ کے حقوق ادا کرو ، کیوں کہ اللہ وفا کا زیادہ حق دار ہے۔

۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:

 اگر کوئی شخص کوئى نماز پڑھنا بھول جائے تو یاد آتے ہی اُسے پڑھ لے،قضا سے ہٹ کر اُس کا اور کوئی کفارہ نہیں ہے۔(صحیح بخاری،باب من نسي صلاة فليصل اذا ذكر۔ صحیح مسلم،باب قضاء الصلاة الفائتة)

جب بھولنے والے پر نماز کی قضا واجب ہے حالاں کہ بھولنے پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ ہى کوئى مواخذه تو اَعلی سے ادنی پر تنبيہ كے قاعدے کى رعايت كرتے ہوئے جان بوجھ کر چھوڑنے والے پر قضا بدرجۂ اولیٰ واجب ہونى چاہيے۔

 (۳)متواتر عمداً تارک صلاۃ کافر نہیں، سخت ترین فاسق ہے ، صرف سچی توبہ ہی اس کے نجات کا واحد راستہ ہے، توبہ کے بعد اس پرترک شدہ نمازوںکی قضا واجب نہیں ۔ بعض صوفیائے کرام اورمحققین کایہی مذہب ہے۔

اس مذہب اور اس سے پہلے مذکور مذہب کے درمیان صرف ایک بنیادی فرق ہے کہ اس مذہب کے قائلین یہ کہتے ہیں کہ متواتر عمداً نماز ترک کرنے والے پر توبہ کے بعد قضا نہیں ہے جب کہ اس سے پہلے مذہب کے قائلین کا ماننا ہے کہ اگر اُس نے ۶۰ ؍ سال کی عمر میں بھی توبہ کی تو اُس پر ضروری ہے کہ وہ مرنے سے پہلے پہلے ۴۵ ؍سال کی قضا نمازوں کو ادا کرے۔

کاہلی اور سستی عام ہوجانے کی وجہ سے ائمہ مجتہدین نے صحابۂ کرام کے متفقہ مذہب سے عدول کیا، یعنی عمداً تارک صلاۃ کو کافر کہنے سے گریز کیا تو اِس دور اخیرمیں جہاں دین بیزاری عام بات ہے ،ایمان ہی کے لالے پڑے ہیں ،عمل کو کون پوچھتاہے، جس قوم کے علما و مفکرین، مشائخ دین اور طالبان علوم قرآن و سنت ہی دین کے اہم رکن نماز کو عام طور پر ترک کردیتے ہوں،ان کے وقتوں پر ادا نہیں کرتے وہاں ۳۰، ۳۰ ؍سال بلکہ اس سے بھی زیادہ قضا نمازوںکی ادا ئیگی کی باتیں کرنا گنبد پر اخروٹ رکھنے اور گدھے کے سر میں سینگ تلاش کرنے کے مثل ہے، ذرااس مذہب کی دلیلوں پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

 ۱۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ (توبہ۱۰۴)

ترجمہ:کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔

۲۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

 التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ،كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهٗ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الزہد، باب ذكر التوبة)

ترجمہ:گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔

۳۔ حدیث قدسی ہے:

أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهٗ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهٖ ذَكَرْتُهٗ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهٗ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهٗ هَرْوَلَةً۔ (بخاري ،کتاب التوحید، باب قول الله تعالى: {ويحذركم الله نفسه})

 ترجمہ:میں اپنے بندےکے ساتھ وہی کرتا ہوں جس کا بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے ، میں اس کے پاس ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے ، اگر وہ مجھے دل ہی دل میں یاد کرے تو میں بھی اسی طرح اس کا ذکر کرتا ہوں ،اگر وہ مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہےتو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے بھی زیادہ اس سے قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔

یہی اس مذہب کی بنیادی دلیل ہے کہ توبہ تمام گناہوں کا کفارہ ہے ، توبہ کے بعد کفر و شرک کرنے والوں سے فوت شدہ ارکان اسلام کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا،تو ایک مسلم سے جو اب تک کفر معنوی میں مبتلا تھا توبۂ نصوح کے بعد اتنی نمازوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جانا تکلیف ما لا یطاق نہیں؟

 ۴۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمْ:الصَّلَاةُ، يَقُولُ رَبُّنَاتَبَارَكَ وَتَعَالٰى لِلْمَلَائِكَةِ وَهُوَ أَعْلَمُ:اُنْظُرُوْا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهٗ تَامَّةٌ وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: اُنْظُرُوْا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهٗ تَطَوُّعٌ قَالَ:أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهٗ مِنْ تَطَوُّعِهٖ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلٰى ذٰلِكُمْ۔(مسند احمد،ابوہریرہ، ح: ۹۴۹۰۔ سنن ابی داود،أبواب تفريع استفتاح الصلاة)

ترجمہ:قیامت کے دن لوگوں سےان کے اعمال میں سب سے پہلےنماز کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائےگا:اے فرشتو !(حالاں کہ وہ سب کچھ جانتاہے) میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو، وہ پوری ہیں یا کم ؟اگر پوری ہوں گی پوری لکھ دی جائیں گی اور اگر کچھ کم ہوئیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل نمازیں بھی ہیں ؟ اگر ہوں گی تو اللہ فرمائے گا: فرض کی کمی کو نفل سے پورا کردو،پھر یہی حکم دوسرے فرائض کے متعلق بھی ہوگا۔

اس سے یہ معلوم ہوتاہےکہ جب نوافل بھی فرائض کے قائم مقام ہوں گے تو توبہ کے بعد اُن قضا نمازوں کی جگہ نفل کا کثرت سے ادا کرنا بھی کافی ہوگا۔

وضاحت

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ فرض کے بغیر نفل قابل قبول نہیں ،یہ بات اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن اس مذہب کے مطابق توبہ کے بعد قضاہوئےفرائض ساقط ہوگئے تواَب ایسی صورت میں نفل نمازیں کیوں قابل قبول نہ ہوں گی؟

دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث صحیح کے مقابل کوئی قول یا ضعیف حدیث قابل قبول نہیں،یاپھران احادیث و اقوال کو بطور زجر و توبیخ مانیں گے جو اِس صریح حدیث کے مقابل میں آئیں گے۔

۵۔عمداً قضاکی گئی نمازوں کی ادائیگی کاحکم نہ قرآن میں ہے نہ سنت میں۔ بعض فقہا نے نیند اور نسیان کی وجہ سے ترک شدہ نماز کی قضا والی احادیث پر قیاس کرکے عمداً ترک شدہ نمازپر بھی قضا کا حکم لگا دیا ہے۔ یہ قیاس مع الفارق ہے، کیوں کہ نیند اور نسیان سے قضا ہونے والی نماز کا وقت ختم نہیں ہوتا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا۔(سنن دار قطنی ، کتاب الصلاۃ،باب وقت الصلاة المنسية، یہ روایت ضعیف ہے)

ترجمہ:جو شخص نماز بھول جائے تو اُس کا وقت وہی ہے جب اُسے یاد آئے۔

 صحیحین میں بھی اسی طرح کی ایک روایت ہے:

 مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا۔

ترجمہ:جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائےتو جب اسے یاد آئے اسی وقت نماز ادا کرے۔

اس حدیث میں لفظ إذا ظرف زمان ہے جو وقت کو بتاتا ہے، یعنی یاد آنے والا وقت ہی اس قضا نماز کا وقت ہے، جب کہ عمداً قضا کی ہوئی نماز کا تو وقت جاتا رہا ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(نسا۱۰۳)

ترجمہ:مومنین پر نماز وقت وقت پر فرض کی گئی ہے ۔

 نماز اپنے وقت میں ادا کرنے ہی سےادا ہوگی ،جب تک کہ شارع کی جانب سے اس پر کوئی واضح حکم نہ ہوکہ فلاں حالت میں نماز کا وقت فلاں ہے ۔

۶۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

مَنْ كَانَتْ لَهٗ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيْهِ مِنْ عِرْضِهٖ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهٗ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لا يَكُوْنَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهٗ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهٖ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهٗ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهٖ فَحُمِلَ عَلَيْهِ۔(صحیح بخاری ، كتاب المظالم والغصب)

ترجمہ:جو شخص اپنے بھائی پر کسی بھی طرح کا ظلم کرے، اُسے چاہیے کہ آج ہی اس سے معافی تلافی کرلے،اس دن سے پہلے جس دن نہ کوئی دینار اور نہ کوئی درہم ہوگا،اگراُس کے پاس کوئی نیکی ہوگی تو ظلم کے حساب سے اس سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اُس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوئی تو مظلوم کے گناہ اس ظالم شخص پر ڈال دیے جائیں گے۔

حق العباد جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا،فقہانے حق اللہ یعنی نماز و روزہ کو بھی اسی پر قیاس کرلیا ہے اور یہ کہا کہ

فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى۔

(اللہ کا حق وفا کا زیادہ حق دار ہے۔)

یہ قیاس بھی ناقابل فہم ہے،کیوں کہ حق دار کو اپنا حق معاف کرنے کا پورا اِختیار ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے معافی کا عام اعلان کردیا ہے کہ جو بھی توبہ کرے گا میں اس کی مغفرت کروں گا، میری رحمت وسیع ہے اور اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا،یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ جہاں تک حقوق العباد کا سوال رہا تو اللہ نے اس کا اختیار بندوں کو دے رکھا ہے، اسی لیے ان کے معاف کیے بغیر اللہ معاف نہیں فرمائےگا۔

۷۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهٗ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا، وَأَبْشِرُوْا۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب: الدین یسر)

ترجمہ:بے شک دین آسان ہے اور ہرگز کوئی شخص دین میں سختی نہ کرے گا مگر وہ اس پر غالب آجائے گا (یعنی اس کو اعتدال اور آسانی کی طرف لے آئےگا)پس آسان اور برحق دین اختیار کرو،یا کم سےکم اس کے قریب ہی رہواور لوگوں کو خوش خبری دو۔

 اوردرحقیقت آسانی اسی میں ہے کہ عمداً لگاتارترک کی ہوئی نمازوں کو ادا نہ کروایا جائے،کیوں کہ جو مذہب عورتوں سے ان کے مخصوص ایام کی نمازوں کی قضا کا تقاضا نہیں کرتا، کسی شخص پر پانچ وقت متواتر جنون طاری رہے اس سے بھی اسلام ان وقتوں کی قضا کا مطالبہ نہیں کرتا۔ آخر وہ دین ایسے شخص سے کیسے اتنی نمازوں کا مطالبہ کرے گا جو اسلام میں پورے طور پر ابھی کفر معنوی سے توبہ کرکے داخل ہوا ہے، جس نے اس ناپاک دنیا کی غلاظتوںسے ابھی ابھی طہارت معنوی حاصل کی ہے،اورایک لمبی مدت کے بعد خواہشات کے جنون سےباہر آنے کی کوشش کی ہے،بھلا ایسے شخص سے بھی اسلام اتنی طویل مدتی نماز کا مطالبہ کرے گا؟ ہرگز نہیں ۔

متقدمین فقہا و مجتہدین کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تھا ،ہمارے زمانے سے اُن کا زمانہ غنیمت تھا ، اس وقت سبھی لوگ نماز ضرور ادا کرتے تھے ، اگرچہ گنتی کے چند لوگ پابند نہیںہوتے ،کبھی کبھی چھوڑ دیتےتھے ، اس لیے ان کے اقوال اور اُن کے فتاوے اس عہد کے مناسب تھے کہ لوگوں کی نمازیں قضا کم ہوتیں تھیں ، ادا کرنا آسان تھا ، اب توحال یہ ہے کہ مساجدمیں عوام تو عوام اکثر علما و طلبا بھی نہیں پہنچ پاتے ہیں، بعض تو وہ بھی ہیں جن کی پیشانیاں سجدوں کے انتظارمیں عمریں گزار دیتیں ہیں، اللہ کی پناہ، ایسے ہی عہد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهٖ هَلَكَ،ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهٖ نَجَا۔ (سنن ترمذی ،کتاب الفتن، باب: ۷۹،ح:۲۲۷۴ )

 ترجمہ:تم ایسے زمانے میں ہوکہ تم میں سے جس نے ان اعمال کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دیا جن کا اُسے حکم دیا گیا تو وہ ہلاک ہوجائے گا ،پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جو اُن اعمال میں سے دسویں حصے پر بھی عمل کرلے گا جن کا اُسے حکم دیا گیا ہے تووہ نجات پاجائے گا۔

بھلا اس پُر فتن عہد میں اس سے زیادہ کی کیا اُمید کی جاسکتی ہے کہ توبہ پر استقامت ہوجائے، اب سے ہی فرائض و واجبات ادا کرتا رہے اور حرام سے بچتا رہے۔ اگر اس نے اسی پر ہمیشگی برت لی تو اللہ تبارک وتعالیٰ اُسےضرور بخشش دے گا،کیوں کہ وہ غفار الذنوب، ستار العیوب ،اور ارحم الرحمین ہے۔

 ۸۔ فرض سے سبکدوشی اور ہے ، اورنماز کا حق ادا کرنا اور ، اس نا گفتہ بہ عہد میں جو لوگ نماز ادا کرتے ہیں وہ بھی صرف ارکان نماز کی ادائیگی ہی کرتے پاتے ہیں،حالاں کہ نماز تو ذکر کے لیے قائم ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

 وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (طہ۱۴)

ترجمہ: نماز میرے ذکر کے لیے قائم کرو۔

 فَاذْکُرُونِیْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُونِ (بقرہ۱۵۲)

ترجمہ:تم مجھے یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری نافرمانی نہ کرو ۔

اور ذکر کا تقاضہ یہ ہے کہ دل حاضر رہے ، صرف زبان سے ذکر ، ذکر نہیں ہے ، اصل ذکر تو حضوری ٔقلب کے ساتھ ہوتا ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَجْتَمِعُونَ فِي الْمَسَاجِدِ لَيْسَ فِيهِمْ مُؤْمِنٌ ۔(المستدرك على الصحيحين ،كتاب الفتن والملاحم)

ترجمہ:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ وہ مساجد میں جمع ہوں گے لیکن ان میں کوئی کامل ایمان والا نہیں ہوگا۔

حاکم نے اس حدیث کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے ، ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔

 انہی سب دلائل کی بنیاد پراس مذہب کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے اشخاص جنھوں نے توبہ کرکےنماز ادا کرنا شروع کیا ہے،ان سے قضائے عمری ادا کرنے کا مطالبہ مناسب نہیں ہے،بلکہ ان کو اس بات کی تلقین کرنا بہتر ہے کہ تم اب کبھی نماز نہیں چھوڑنا، زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرنا اور جہاں تک ہوسکے فقرا و مساکین پر صدقات کرنا۔اللہ تمہاری توبہ قبول کرے اور استقامت عطا فرمائے ۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان سچے تائبین اور مشائخ عظام کے طفیل حقیقت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

سیلفی و تصویر کشی کے رجحان نے طواف و زیارت حرمین متاثر کر دیا

*سیلفی و تصویر کشی کے بڑھتے رجحان نے طواف و زیارت حرمین جیسی عظیم نعمت کی روح کو متاثر کر دیا*

غلام مصطفی رضوی

(نوری مشن مالیگاؤں)

مسلمان! حرمین مقدس کا احترام کرتے ہیں۔ حرمین سے محبت رکھتے ہیں۔ وہاں کی زیارت سعادت جانتے ہیں۔ اسی تمنا میں جیتے ہیں۔ بلاشبہہ کعبے کا دیدار عبادت۔ روضۂ رسول ﷺ کی حاضری سعادت و خوش نصیبی کی بات ہے۔ لوگ اسی آرزو میں عمریں گزار دیتے ہیں۔ پھر جب یہ انعام ملتا ہے تو مسرتوں کا عجب عالَم ہوتا ہے۔زہے نصیب یہ سعادت کم عمری میں مل جائے۔ عقیدتوں کے قافلے سوئے حرم رواں دواں ہوتے ہیں۔ کتنے ارمان سے سفرِ حرمین کی تیاری کی جاتی ہے۔ جذبات کا عالم بھی ایسا کہ محسوس قلب سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ایک طلاطم بپا ہوتا ہے۔ دل و جاں وجد کناں جھک گئے بہر تعظیم۔

ایسے مبارک سفر، ایسے تقدس مآب سفر جس کی آرزو میں لمحہ لمحہ انتظار میں گزرتاہے۔ خانۂ خدا کی حاضری؛ درِ محبوب رب العالمین ﷺ کی حضوری۔ یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔ لیکن بعض ایسے عوامل ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ زیارت حرمین سعادت مندی لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ اِس مبارک سفر کے آداب ملحوظ رہیں؛ ورنہ سعادتوں کے لمحے کہیں گناہوں کے ابتلا سے اعمال کو ضائع نہ کردیں۔ اِس ضمن میں راقم ایک اہم پہلو اپنے حالیہ سفرِ حجاز کے مشاہدے سے ذکر کرتا ہے؛ جو گزشتہ دنوں [6فروری تا 21فروری2018ء] درپیش ہوا۔

آج کل سیلفی و تصویر کشی و کیمرے کے بے جا استعمال نے انسانی اقدار؛ اخلاقی اطوار اور اعمال کی چاندنی کو گہنا دیا ہے۔ اِس کے بڑھتے رجحان نے کئی نازک لمحات میں خدمت انسانی کو فروگذاشت کردیا۔ مثلاً کوئی حادثہ ہوا تو فوقیت انسانی جان بچانے کو ہونی چاہیے؛ لیکن تصویر کشی کے رجحان نے فرض شناسی کو نظر انداز کر کے رکھ دیا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ ہے سفرِ حرمین میں اِس رجحان کی تباہ کاریوں کا۔ جس کے زیرِ اثر اعمال کا توشہ گناہوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ مکۃ المکرمہ میں ایک نیکی کے بدل میں لاکھ نیکی کی بشارت ہے تو ایک گناہ بھی نامۂ اعمال میں کثیر گناہ کے اندراج کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس لیے ایسے کاموں سے بچنے کے جتن کیے جانے چاہئیں کہ گناہوں کا دفتر پُر نہ ہونے پائے۔

راقم نے دیکھا کہ بندگانِ خدا محوِ طواف ہوتے ہیں۔ سیلفی کے شائق دورانِ طواف سیلفی لیتے نظر آتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ طواف محویت کے ساتھ کیا جائے۔ رب کی رحمتیں ہماری سمت متوجہ ہیں۔ مطاف کی مقدس زمیں ہمارے اعمال کی گواہی دے رہی ہے۔ میزابِ رحمت، حطیم، حجر اسود، مقام ابراہیم سبھی ہمارے طواف کے گواہ بن رہے ہیں، یہ لمحات بڑے اَنمول ہیں۔ یہ بڑی قبولیت کی گھڑی ہے، ایسے قیمتی وقت میں عبادتوں سے نگاہیں موند کر سیلفی نکالنا؛ محض چند احباب کو دکھانے کے لیے ایسے گناہوں کا حرم محترم میں ارتکاب بڑی محرومی ہے۔ یہ رجحان گناہ در گناہ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ طبقۂ نسواں بھی محوِ طواف ہوتا ہے، سیلفی لینے والے یہ بھول جاتے ہیں؛ وہ تقدس فراموش کر کے نامعلوم کیسی کیسی تصویر نکال لیتے ہیں۔ایک گناہ کو کئی گناہ سے اور یوں کثیر گناہ سے بدل لیتے ہیں۔ راقم نے دیکھا کہ اس مرض میں ایک دو اورتین نہیں کثیر نوجوان حتیٰ کہ بعض بوڑھے بھی مبتلا ہیں۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پورا کنبہ کعبہ شریف کی جانب پیٹھ کیے کھڑے ہو کر تصویر بنوا رہا ہے۔ کبھی دورانِ سعی سیلفی لی جا رہی ہے۔ کبھی مروہ کی مقدس وادی میں سیلفی، کبھی صفا کے جلو میں سیلفی۔ جن نشانیوں کے سائے میں دعاؤں کی سوغات پیش کرنی تھی؛اعمالِ سیاہ کے دھبے دھونے تھے؛ تا کہ یہ دعائیں آخرت کا سرمایہ بنتیں وہاں ایسے اعمال جو شریعت نے ممنوع قرار دیے؛ کی انجام دہی کیا توشۂ آخرت بنے گی؟ یہ سوال بہت اہم ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

عبادت میں حضوریِ قلب درکار ہے۔ تصویر کشی کی فکر نے ریا و دکھاوے کوبڑھاوہ دیا؛ اخلاص کو رُخصت کردیا؛ یکسوئی میسر نہیں؛ موبائلوں کا بے محابا استعمال۔ بے جا استعمال نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ عبادت ہے؛ روحِ عبادت رُخصت ہوگئی۔ رسم باقی ہے خشیت رُخصت ہوگئی۔ خوفِ خدا معاذاللہ ایسا نکلا کہ حرم میں بھی دُنیا داری! اللہ اکبر! کاش میری قوم اس کا تصفیہ کرتی اور تصویر کشی کے مرض سے بچتی۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ اِس میں کم علم و دنیا دار افراد تو الگ رہے؛ دین دار حتیٰ کہ بہت سے علماو مصلحین بھی مبتلا ہیں جس سے گفتار میں تاثیر نہیں رہی اور دل دنیا دار ہو کر رہ گئے۔ ایسوں کی قیادت فتنۂ ملت بیضا بن گئی ہے۔

روضۂ رسول ﷺ پر حاضری حیات کا غازہ ہے۔ زندگی کا حاصل ہے۔ سعادتوں کی اِس مسافرت میں جب ہم نے دیکھا کہ مواجہ شریف جہاں آواز بلند کرنا اعمال کے ضائع ہونے کا سبب ہے۔ جس کے احترام میں نص قطعی وارد۔ جس بارگاہ میں جبریل بھی مؤدب آتے۔ جہاں جنبش لب کشائی کی جرأت کسی کو نہ ہوئی۔ جہاں اسلاف نے سانسوں کو بھی تھامے رکھا۔ جہاں دلوں کی دھڑکنوں کو بھی ادب کا پیرہن دیا۔ جہاں خیالات بھی طہارت مآب رکھے جاتے؛ وہاں دھڑا دھڑ تصویریں کھینچی جا رہی ہیں؛ سلیفیاں لی جا رہی ہیں؛ کیمروں کی کھچاک سے مقدس بارگاہ کے سکوت کو توڑا اور ادب کا رُخ موڑا جا رہا ہے! اللہ اکبر! ہم کہاں آگئے۔ آقا ﷺ نے بلایا؛ اِس احسان کو لمحے میں بھلا دیا؛ کیسا کرم کیا کہ ہم تو طیبہ کے لائق نہ تھے؛ حاضری کا پروانہ دیا اور محبوب ﷺ کے در کا آداب بھی بجا نہ لائے؛ بلکہ غافل ہو کر سیلفیوں میں پاکیزہ لمحات آلودہ کر بیٹھے۔ کاش ہم اپنی اصلاح کرتے اور اِس خطرنات رجحان سے بچ کر قوم کو ادب کا شعور دیتے تو مبارک سفر توشۂ نجات بن جاتا۔ محبوب پاک ﷺ کی شفاعت کا مژدہ سنتے اور ادب کے طفیل ہر منزل پر با مُراد ہوتے۔ یہ مصائب کی بجلیاں خرمن پر نہ گرتیں؛ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کر لیں؛ خواص بھی دامنِ تقویٰ کو دھبوں سے بچائیں۔ احترام کی فضا آراستہ کریں۔ رب العالمین کی رحمتوں اور محبوب پاک ﷺ کی نوازشوں پر تشکر کے موتی لٹائیں۔ تصویر کشی سے حرمین کے تقدس کو بچائیں۔ بے شک ادب حیات ہے۔ ادب عبادت کی روح ہے۔ ادب ایمان کا زیور ہے۔ جو ادب و احترام بجا لایا اس کا سفر بھی سعادتوں کی صبح ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ! محبوب پاک ﷺ کے درِ پاک کی حاضری احترام کے سائے میں نصیب کرے۔ بقول اعلیٰ حضرت ؎

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا

ارے سر کا موقع ہے او جانے والے

٭٭٭

کامیاب شخص

حدیث نمبر :14

روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبداﷲسے ۱؎کہ ایک نجدی شخص۲؎حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بال بکھیرے حاضرہوا جس کی گنگناہٹ توہم سنتے تھےمگرسمجھتے نہ تھے کہ کیاکہتاہےیہاںتک کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تو اسلام کے بارے میں پوچھنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں ہیں بولا ان کے سواء میرے ذمہ اور نماز بھی ہے فرمایا نہیں ۳؎ ہاں چاہو تو نفل پڑھو۴؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماہ رمضان کے روزے بولا کیا مجھ پر اس کے سوا ءاور بھی ہیں فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے فرمایا اُس سےحضور علیہ الصلوۃ والسلام نےزکوۃ کا ذکر فرمایا بولا کیا میرے ذمہ کچھ اور بھی ہے فرمایا نہیں مگرنفل ادا کرے ۵؎فرمایا اس نے پیٹھ پھیرلی یہ کہتا جاتا تھا کہ مَیں اِس سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ شخص سچا ہے تو کامیاب ہوگا ۶؎

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابومحمدہے،قرشی ہیں،ابوبکرکےبھتیجے،قدیم الاسلام ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،جنگ احدمیں حضور کے لیے ڈھال بنے اور چوبیس زخم کھائے،آپ کےجسم پرکل ۷۵ زخم تھے جو غزوات میں کھائے تھے،جنگ جمل ۳۶ھ؁ میں بصرہ میں شہید ہوئے،وہاں ہی آپ کا مزار پر انوار ہے،فقیر نے مزارپاک کی زیارت کی ہے،حضور کی دعوت اور دعوت کے معجزات آپ کے ہاں ظاہر ہوئے جو مشہور ہیں۔

۲؎نجدعرب کا ایک صوبہ ہے جو مکہ معظمہ اور عراق کے درمیان واقع ہے۔اس صوبہ کے متعلق حضور نے دعاء خیر نہ فرمائی اوروہاں سے وہابی فرقے کے نکلنے کی خبر دی جو آخر کتاب میں ان شاءاﷲ ذکر ہوگا۔

۳؎یعنی ان پانچ نمازوں کے سوا اور نماز اسلام کا فرض نہیں،عیدین اور وتر واجب ہے،نماز جمعہ ظہر کی قائم مقام ہے لہذا یہ ان ہی پانچ میں شامل ہے۔

۴؎نفل سے لغوی معنی مراد ہیں فرض پر زائد،رب فرماتا ہے:”فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ”لہذا اس میں وتر وعیدین داخل ہیں۔یا اس وقت تک یہ نماز اسلام میں آئی نہ تھیں،بہرحال یہ حدیث وتر وعیدین کے وجوب کے خلاف نہیں احناف کے مخالف نہیں۔

۵؎یہ جملہ بھی فطرے اور قربانی کے وجوب کے خلاف نہیں جیسا کہ؀ ۴ کی تقریر سے واضح ہے۔

۶؎ یعنی اگرصدق دل سے وعدہ کیا ہے تو کامیاب ہوگا یا اگر اس وعدے کو پوراکر دکھائے تو کامیاب ہوگا۔معلوم ہوتاہے کہ نجدیوں کا اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ اس سے پہلے ایک سائل کے ان ہی الفاظ پر حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فلاح و کامیابی کا قطعی حکم دے دیا،اس نجدی کے ان ہی الفاظ پر مشکوک طریقہ سے کامیابی بیان فرمائی۔

ارکان اسلام

حدیث نمبر : 2

روایت ہے حضرت ابن عمرسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا۲؎ اس کی گواہی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کےبندےاور رسول ہیں۳؎ اورنمازقائم کرنا۴؎ زکوۃ دینا اور حج کرنا۵؎ اور رمضان کے روزے۔(بخاری و مسلم)

شرح

۱؎

۱؎ آپ کا نام عبداﷲ بن عمر ہے،ظہور نبوت سے ایک سال پہلے پیداہوئے، ۷۳ ؁ھ میں شہادت ابن زبیر سے تین ماہ بعد وفات پائی، ذی طویٰ کے مقبرہ مہاجرین میں دفن ہوئے،چوراسی سال عمر شریف پائی،بڑے متقی اور اعمل بالسنۃ تھے۔رضی اللہ عنہ۔(مرقاۃ وغیرہ)

۲؎

۲؎ یعنی اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارج ہوگا،اور اس کا اسلام منہدم ہوجاویگا۔خیال رہے کہ ان اعمال پر کمال ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفس ایمان موقوف،لہذا جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز روزہ کا پابند نہ ہو،وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں،اور جو ان میں سےکسی کا انکارکرے وہ کافر ہے۔لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،نہ اعمال ایمان کے اجزاء ہیں۔

۳؎

۳؎ اس سےسارےعقائد اسلامیہ مرادہیں جوکسی عقیدے کامنکرہے وہ حضورکی رسالت ہی کا منکرہے۔حضور کو رسول ماننے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی ہر بات کو مانا جاوے۔
۴؎ ہمیشہ پڑھنا،صحیح پڑھنا،دل لگا کر پڑھنا،نماز قائم کرنا۔

۴؎

۵؎ اگر مال ہو تو زکوۃ و حج ادا کرنا فرض ہے ورنہ نہیں مگر انکا ماننا بہرحال لازم ہے۔نماز ہجرت سے پہلے معراج میں فرض ہوئی،زکوۃ وروزہ ۲ھ ؁ میں،اور حج ۹ ھ ؁ میں فرض ہوئے۔

کپڑے موڑ کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال: آج کل ہمارے نوجوانوں میں یہ بیماری پھیلتی جارہی ہے، خصوصا وہ نوجوان جو پینٹ شرٹ میں ملبوس ہوتے ہیں، وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی پینٹ کے پائنچوں کو موڑ لیتے ہیں اور بہت زیادہ موڑتے ہیں اور بعض لوگ شلوار کو نیفے کی طرف گھرستے ہیں یا موڑتے ہیں۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: ہم جب نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو گویا ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہورہے ہیں جو سارے حاکموں کا حاکم ہے۔ اس کی بارگاہ سے بڑھ کر کوئی بارگاہ نہیں۔ لہذا اس کی بارگاہ میںانتہائی ادب کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے۔ نہایت ہی سلیقے کے ساتھ اچھا لباس پہن کر حاضر ہوں۔ اس مثال کو یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ہم کسی دنیاوی افسر کی خدمت میں جاتے ہیں توپہلے اپنا حلیہ اچھا کرتے ہیں پھر اپنا لباس درست کرتے ہیں، آستیں چڑھی ہوئی ہوتی ہیں تو اسے سیدھی کرلیتے ہیں۔ شلوار کا پائنچا اگر اوپر نیچے ہو تو اسے درست کرتے ہیں تو جب دنیاوی دربار کا اس قدر احترام ہے تو جو بارگاہ تمام بارگاہوں سے افضل و اعلیٰ ہے اس بارگاہ کا احترام کس قدر ہونا چاہئے۔ اب شلوار کو نیفے کی طرف سے یا پینٹ کے پائنچے کو نیچے سے موڑنے کی مذمت میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث= عن ابن عباس امر النبی ﷺ ان یسجد علی سبعۃ اعضاء ولا یکف شعراء ولا ثوبا الجبھۃ، والیدین، والرکبتین، والرجلین (بخاری شریف، باب السجود علی سبعۃ اعظم، کتاب الاذان، حدیث 809، ص 155، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)
ترجمہ= حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صاحب لولاکﷺ نے سات اعضاء پر سجدہ کرنے اور بالوں اور کپڑے کو نہ موڑنے کا حکم دیا ہے (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پائوں۔
شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں کپڑے کا موڑنا (فولڈ کرنا) اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے۔ یہ فعل کپڑے کاٹخنوں کے نیچے رہنے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کیونکہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا بغیر تکبر کی نیت کے ٹخنے سے نیچے رکھنے میں نماز مکروہ تنزیہی (برا) ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے (مکروہ تحریمی ہے) اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین وغیرہ موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا ہے)
(بحوالہ: عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 6، ص 90)
علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ کی شرح سے دو باتیں سامنے آئیں کہ اگر شلوار، ازار یا پینٹ بغیر تکبر کی نیت سے ٹخنوں سے نیچے ہو تو مکروہ تنزیہی یعنی برا فعل ہے جبکہ شلوار ازار یا پینٹ کو اوپر یا نیچے سے موڑنا (فولڈ کرنا) مکروہ تحریمی ہے یعنی نماز لوٹانی ہوگی۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اگر ہمارے سامنے دو مصیبتیں ہوں، ایک چھوٹی اور ایک بڑی تو چھوٹی مصیبت اپنا لینی چاہئے لہذا ازار یا پینٹ بڑی ہے تو مکروہ تحریمی سے بچنے کے لئے فولڈ نہ کریں۔ کوشش کریں کہ شلوار، ازار یا پینٹ جب بھی سلوائیں ٹخنوں کی اوپر ہی سلوائیں، بالفرض یہ بات علم میں نہ تھی تو اب جس قدر ہوسکے ، اوپر کرلیں، باوجود اوپر کرنے کے بھی ٹخنوں تک آجاتی ہے تو اب اوپر یا نیچے سے فولڈ نہ کریں۔ اسی حالت میں نماز پڑھ لیں۔
در مختار میں ہے اور اس کے تحت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کف ثوب مکروہ تحریمی ہے یعنی کپڑے کا موڑنا اگرچہ کپڑے کو مٹی سے بچانے کی نیت سے ہو، جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میںنماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا جب بھی مکروہ تحریمی ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا (فولڈ) کرنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں، خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ تحریمی ہے (در مختار، جلد اول، ص 598)
کپڑا ٹخنے سے اوپر رکھنے کا حکم
حدیث= عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم من جرثوبہ خیلاء لم ینظر اﷲ الیہ یوم القیمۃ فقال ابوکر ان احد شقی ثوبی یسترخی الا ان اتعاھدذلک منہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انک لست تصنع ذلک خیلاء (بخاری کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لو کنت متخذا خلیلا،حدیث 3665، ص 667، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
ترجمہ: حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا جو ازراہ تکبر و غرور کپڑا گھسیٹ کر چلے، قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اس کی طرف نظر رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے کہا یا رسول اﷲﷺ میرے کپڑے کا ایک کونہ لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ میں اس کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔رسول اﷲﷺ نے فرمایا (اے ابوبکر) تم یہ تکبر و غرور سے نہیں کرتے۔
اس حدیث شریف سے واضح ہوگیا کہ کپڑے ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی دو صورتیںہیں۔
1۔ تکبر کے ساتھ
2۔ بغیر تکبر کے
پہلی صورت تکبر کے ساتھ شلوار ٹخنوں کے نیچے لٹکانا حرام اور مکروہ تحریمی ہے۔ دوسری صورت میں بغیر تکبر کی نیت سے شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا مکروہ تنزیہی ہے۔
سوال: شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھناہی تو تکبر ہے؟
جواب: یہ بات درست نہیں ہے۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ موجودہ دورمیں ہر دوسرے آدمی کی شلوار ٹخنوں سے نیچے ہوتی ہے تو کیا سب کو متکبر (تکبر کرنے والوں میں) شمار کیا جائے گا۔ ایسا کہنا زیادتی ہے کیونکہ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کو رسول پاکﷺ کی جانب اجازت سے کامل جانا کہ اے ابوبکر رضی اﷲ عنہ! تم تکبراً نیچے کرنے والے نہیں ہو، ثابت کرتا ہے کہ اس میں نیت کا بڑا عمل دخل ہے۔
سوال: لوگوں کی کافی تعداد مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی شلوار اوپر سے اور پینٹ نیچے سے فولڈ کرلیتی ہے اور مسجد سے باہر نکلتے ہی فورا اپنی شلوار اور پینٹ درست کرلیتی ہے؟
جواب: یہ سب لاعلمی کی وجہ سے ہے۔ ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ شلوار یا پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم ہروقت ہے۔ صرف نماز کے لئے خاص نہیں ہے۔مذکورہ حدیث میں کہیں یہ نہیں حکم دیا گیا کہ نماز کے وقت یہ اہتمام کرو بلکہ ہر وقت اس کی احتیاط ضروری ہے۔

نماز کے فرائض

نماز کے فرائض
نماز کے سات فرائض ہيں۔
۔1۔  تکبير تحريمہ جو دراصل نماز کي شرائط ميں سے ہے مگر نماز کے افعال سے بہت زيادہ تعلق ہونے کي وجہ سے اسے نماز کے فرائض ميں بھي شمار کيا جاتا ہے۔
تکبير تحريمہ کہنے کے وقت نماز کي کوئي بھي شرط نہ پائي گئي تو نماز نہ ہوگي۔
اگر مقتدي نے لفظ  (اللہ)  امام کے ساتھ کہا ليکن  (اکبر)  کو امام سے پہلے ختم کر ليا تو نماز نہ ہوئي۔  اگر مقتدي امام کو رکوع کي حالت ميں پائے تو مقتدي کو چاہيے کہ تکبير تحريمہ قيام کي حالت ميں کہے اور پھر دوسري تکبير کہتے ہوئے رکوع ميں جائے۔ اگر پہلي رکعت کا  رکوع مل جائے تو تکبير اولي کي فضيلت مل جاتي ہے۔
۔2۔ قيام يعني سيدھا کھڑا ہونا نماز ميں فرض ہے۔ قيام اتني دير تک ہے جتني دير تک قرات کي جائے۔ قيام اس وقت ساقط ہوگاجب کوئي کھڑا نہ ہوسکے يا سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو يا اس سے مرض ميں زيادتي ہوتي ہو يا ناقابل برداشت تکليف ہوتي ہو۔
معمولي بخار يا قابل برداشت تکليف کے باعث قيام چھوڑنا جائز نہيں، اسکي اہميت اس قدر ہے کہ اگر مريض عصا يا خادم يا ديوار سے ٹيک لگا کر کھڑا ہو سکتا ہو تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے ۔ اگر کچھ دير کھڑا ہوسکتا ہو اگرچہ اتنا ہي کہ کھڑا ہو کر اللہ  اکبر  کہہ لے تو فرض ہے کہ کھڑا ہو کر اتنا کہہ لے پھر بيٹھ کر نماز ادا کرے۔
۔3۔  قرات يعني تمام حروف کا مخارج سے ادا کرنا تاکہ ہر حرف دوسرے حروف سے ممتاز ہوجائے نيز ايسے پڑھنا کہ اسے خود سن سکے، فرض ہے۔ محض لب ہلانا تلاوت کے ليے کافي نہيں۔ پڑھنے کي تعريف يہ ہے کہ کم از کم اتني آواز سے پڑھے کہ خود سنے۔  اگر ايسے پڑھے  کہ خود نہ سن سکے جبکہ سننے سے مانع کوئي سبب مثلا شور و غيرہ نہ ہو تو نماز نہ ہوگي۔
فرض نماز کي پہلي دو رکعتوں ميں اور وتر و نوافل کي ہر رکعت ميں مطلقا ايک آيت پڑھنا فرض ہے۔ امام کي قرات مقتديوں کے ليے کافي ہے لہذا مقتدي کو کسي نماز ميں قرات جائز نہيں خواہ وہ سري نماز ہو (يعني  ظہر  و  عصر)  يا جہري نماز (فجر،  مغرب،  عشاء)
۔4۔  رکوع بھي فرض ہے۔ اسکا ادني درجہ يہ ہے کہ اتنا جھکا جائے کہ ہاتھ بڑھائيں تو گھٹنوں تک پہنچ جائيں اور اعلي يہ ہے کہ کمر سيدھي ہو نيز سر اور پيٹھ يکساں اونچے ہوں۔
۔5۔ سجود يعني ہر رکعت ميں دوبار سجدہ کرنا فرض ہے۔ پيشاني اور ناک کي ہڈي کا زمين پرجمنا سجدہ کي حقيقت ہے اور ہر پاؤں کي ايک انگلي کا پيٹ لگنا شرط۔ اگر کسي نے اس طرح سجدہ کيا کہ دونوں پاؤں زمين سے اٹھے رہے تو نماز نہ ہوئي بلکہ اگر صرف انگلي کي نوک زمين سے لگي جب بھي نماز نہ ہوئي۔
۔6۔  قعدہ اخيرہ يعني تمام رکعتيں پڑھ کر اتني دير بيٹھنا کہ پوري تشہد پڑھ لي جائے، فرض ہے۔ اگر سجدہ سہو کيا تو اسکے بعد بقدر تشھد بيٹھنا فرض ہے۔
۔7۔ خروج بصنعہ يعني آخري قعدہ کے بعد سلام پھيرنا فرض ہے۔قيام و رکوع و سجود اور قعدہ اخيرہ ميں ترتيب بھي فرض ہے۔ نيز جو چيز يں فرض ہيں ان ميں امام کي پيروي مقتدي پر فرض ہے۔