پیشاب سے پرہیز

حدیث نمبر :322

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دیئے جارہے ہیں اورکسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جارہے ان میں سے ایک تو پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور مسلم کی روایت میں ہے کہ پیشاب سے پرہیز نہ کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا پھر آپ نے ایک ہری تر شاخ لی اور اسے چیرکر دو۲ حصے فرمائے پھر ہرقبر میں ایک گاڑ دی لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ نے یہ کیوں کیا،تو فرمایا کہ شاید جب تک یہ نہ سوکھیں تب تک ان کا عذاب ہلکا ہو ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ حدیث بڑے معر کے کی ہے اس سے بے شمار مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

(۱)حضور کی نگاہ کے لئے کوئی شے آڑ نہیں،کھلی چھپی ہرچیز آپ پر ظاہر ہے کہ عذاب قبر کے اندر ہے حضور قبر کے اوپر تشریف رکھتے ہیں اور عذاب دیکھ رہے ہیں۔

(۲)حضور خلقت کے ہر کھلے چھپے کام کو دیکھ رہے ہیں کہ کون کیا کررہا ہے اور یہ کیا کرتا تھا،فرمادیا کہ ایک چغلی کرتا تھا اور ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔

(۳)گناہ صغیرہ پر حشر و قبر میں عذاب ہوسکتا ہے۔دیکھو چغلی وغیرہ گناہ صغیر ہ ہیں مگر عذاب ہورہا ہے۔

(۴)حضور ہر گناہ کا علاج بھی جانتے ہیں،دیکھو قبر پر شاخیں لگائیں تاکہ عذاب ہلکا ہو۔

(۵)قبروں پر سبزہ،پھول،ہار وغیرہ ڈالنا سنت سے ثابت ہے کہ اس کی تسبیح سے مردے کو راحت ہے۔

(۶)قبر پر قرآن پاک کی تلاوت،وہاں حافظ بٹھانا بہت اچھا ہے کہ جب سبزہ کے ذکر سے عذاب ہلکا ہوتا ہے تو انسان کے ذکر سے ضرور ہلکا ہوگا۔اشعۃ اللمعات نے جامع الاصول سے روایت کی کہ حضرت بریدہ صحابی نے وصیت کی تھی میری قبر میں دو ہری شاخیں ڈال دی جائیں تاکہ نجات نصیب ہو۔

(۷)اگرچہ ہرخشک و ترچیزتسبیح پڑھتی ہے مگر سبزے کی تسبیح سے مردے کو راحت نصیب ہوتی ہے۔ایسے ہی بے دین کی تلاوت قرآن کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس میں کفر کی خشکی ہے۔مؤمن کی تلاوت مفید ہے کہ اس میں ایمان کی تری ہے۔

(۸)گنہگاروں کی قبر پر سبزہ عذاب ہلکا کرے گا،بزرگوں کی قبروں پر سبزہ مدفون کا ثواب و درجہ بڑھائے گا۔جیسے مسجد کے قدم وغیرہ۔

(۹)حلال جانوروں کا پیشاب نجس ہے جس سے بچنا واجب۔دیکھو اونٹ کا چرواہا اونٹ کے پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوا۔

(۱۰)خشک نہ ہونے کی قید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاثیر صرف حضور کے ہاتھ شریف کی نہ تھی ہم بھی قبر پر سبزہ ڈالیں تو یہی تاثیر ہوگی۔

(۱۱)بزرگوں کے قبرستان میں قدم رکھنے کی برکت سے وہاں عذاب اٹھ جاتا ہے یا کم ہوجاتا ہے۔(مرقاۃ)

ملاوٹ کرنے کی سزا

حکایت نمبر99: ملاوٹ کرنے کی سزا

حضرت عبد الحمید بن محمود رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”ایک مرتبہ میں حضرت سیدناابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر تھاکہ ایک شخص آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس آیااورعرض کی:” حضور! ہم بہت سے لوگ حج کرنے آئے ہیں۔ صفا ومروہ کی سعی کے دوران ہمارے ایک دوست کا انتقال ہو گیا۔ غسل و تکفین وغیرہ کے بعد اسے قبرستان لے جایا گیا۔ جب اس کے لئے قبر کھودی تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک بہت بڑا اژدہاقبرمیں موجود ہے۔ ہم نے اسے چھوڑکر دوسری قبر کھودی۔ وہاں بھی وہی اژدہا موجود تھا۔پھر تیسری قبر کھودی تو اس میں بھی وہی خوفناک سانپ کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ ہمیں بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔ اب ہم اس میّت کو وہیں چھوڑ کرآپ کی بارگاہ میں مسئلہ دریافت کرنے آئے ہیں کہ اس خوفناک صورت حال میں کیا کریں؟”

حضرت سیدناابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:”وہ اژدہا اس کا بُرا عمل ہے جووہ دنیا میں کیا کرتا تھا۔تم جاؤاور ان تین قبروں میں سے کسی ایک میں اسے دفن کر دو،اللہ عزوجل کی قسم! اگر تم اس شخص کے لئے ساری زمین بھی کھو د ڈالو تب بھی وہاں اس اژدہے کو ضرور پاؤگے۔”

وہ شخص واپس چلا گیا اور اس فوت شدہ شخص کو ان کھودی ہوئی قبروں میں سے ایک قبر میں دفن کر دیا گیا اور اژدہا بدستور اس قبر میں موجود تھا ۔پھر جب ہماراقافلہ حج کے بعد اپنے علاقے میں پہنچا تو لوگو ں نے اس شخص کی زوجہ سے پو چھا:” تمہارا شوہر ایسا کون سا گناہ کرتا تھا جس کی وجہ سے اس کو ایسی درد ناک سزا ملی ؟”اس عورت نے افسوس کرتے ہوئے کہا : ”میرا شوہر غَلِّے کا تاجر تھااوروہ غلّے میں ملاوٹ کیا کرتاتھا۔ روزانہ گھر والوں کی ضرورت کے مطابق گندم نکال لیتا اور اتنی مقدار میں جَو کا بھوسا گندم میں ملا دیتا ،یہ اس کا روز کا معمول تھا ۔بس اس (ملاوٹ کے ) گناہ کی اس کو سزا دی گئی ہے ۔ ”

(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں عذاب قبر سے محفوظ رکھنا، ہمار ی قبر میں سانپ اور بچھو نہ آئیں بلکہ ہمارے پیارے آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری ہو اور اُن کے نورانی جسم سے ہماری قبرمنورہو جائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)؎ جب فرشتے قبر میں جلوہ دکھائیں آپ کا ہو زباں پر پیارے آقا الصلوٰۃ والسلامیاالٰہی گورتیرہ کی جب آئے سخت رات ان کے پیارے منہ کی صبح ِ جانفزا کاساتھ ہو

عذابِ قبر سے نجات کا ذریعہ

عذابِ قبر سے نجات کا ذریعہ

از:

حضرت مولانا محمد شاکر علی نوری

امیر سُنی دعوتِ اسلامی

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ

وَ عَلٰی آلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہِﷺ

ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے جہاں پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں

(سرکارِ اعلیٰ حضرت)

آج مسلمان دنیوی لذتوں میں اتنا ڈوب چکا ہے کہ اسے آخرت میں جواب دہی کا تصور یاد نہیں رہا۔ یاد رکھو! اللہ عزوجل کل بروزِ قیامت لمحے لمحے کا حساب لے گا۔ قبر کے سوالات و جوابات اور وختیاں یہ سب اللہ عزوجل کی طرف سے مقرر ہیں۔ مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں جس طرح طبیعت چاہئے زندگی گزارو تو ایسا نہیں ہے زندگی خداوندِ قدوس کے فرمان کے مطابق اور نیکیوں میں گزارو گے تو قبر میں راحت نصیب ہوگی اور تکلیف سے نجات پائو گے۔

اس کتاب میں چند احادیث اور روایات کے ذریعہ وہ اعمال بتائے گئے ہیں جو قبر میں راحت اور نجات اُخروی کا ذریعہ ہیں۔

اللہ عزوجل قارئین اور جملہ مومنین اور راقم کی بخشش فرما کر آخرت کا سکون عطا فرمائے۔ آمین

طالبِ دعائے مغفرت

محمد شاکر نوریؔ

خادمِ سُنی دعوتِ اسلامی ممبئی۔۳

حدیث شریف:۱۔ حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ آج کی رات میں نے عجیب خواب دیکھا کہ ایک شخص کی روح قبض کرنے کو ملک الموت تشریف لائے لیکن اس کا ماں باپ کی اطاعت کرنا سامنے آگیا اور وہ بچ گیا اور ایک شخص پر عذاب چھا گیا لیکن اس کے وضو نے اسے بچا لیا، ایک شخص کو شیاطین نے گھیر لیا لیکن اللہ کے ذکر نے اسے بچا لیا، ایک شخص کو عذاب کے فرشتوں نے گھیر لیا لیکن اسے نماز نے بچا لیا، ایک شخص کو دیکھا کہ پیاس کی شدت سے زبان نکالے ہوئے تھا اور حوض پر پانی پینے جا تا تھامگر لوٹا دیا جاتا تھا کہ اتنے میں اس کے روزے آگئے اور اس کو سیراب کر دیا، ایک شخص کو دیکھا کہ انبیاء علیہم السلام حلقے بنائے بیٹھے تھے وہ ان کے پاس جانا چاہتا تھا لیکن دھتکار دیا جاتا تھا کہ اتنے میں اس کا غسلِ جنابت آیا اور اس کو میرے پاس بٹھا دیا۔ ایک شخص کو دیکھا اس کے ہر طرف تاریکی ہی تاریکی تھی تو اس کا حج و عمرہ آگیا اور اس کو منور کر دیا۔

ایک شخص کو دیکھا وہ مسلمان سے گفتگو کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی اس کو منہ نہیں لگاتا تو صلہ رحمی آکر مومنین سے کہتی ہے کہ تم اس سے کلام کرو، ایک شخص کے جسم اور چہرے کی طرف آگ بڑھ رہی ہے وہ وہ اپنے ہاتھ سے بچا رہا ہے تو اس کا صدقہ آگیا اور اس کو بچا لیا۔ ایک شخص کو زبانیہ (خاص قسم کے فرشتے) نے چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن اس کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آیا اور اسے بچا لیا اور رحمت کے فرشتوں کے حوالے کر دیا، ایک شخص کو دیکھا جو گھٹنوں کے بل بیٹھا ہے لیکن اس کے اور خدا کے درمیان حجاب ہے مگر اس کا حسنِ خلق آیا اور اسے بچا لیا اور خدا سے ملا دیا۔ ایک شخص کو صحیفہ بائیں طرف سے دیا گیا تو اس کا خدا سے ڈرنا آگیا اور اس کا صحیفہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا۔ ایک شخص کا وزن ہلکا رہا مگر اس کا سخاوت کرنا آگیا اور نیکیوں کا وزن بڑھ گیا۔ ایک شخص جہنم کے کنارے پر کھڑا تھا لیکن اللہ سے ڈرنا آگیا اور وہ بچ گیا۔ ایک شخص جہنم میں گر گیا لیکن اس کے وہ آنسو آگئے جو اس نے خشیتِ الٰہی میں بہائے اور وہ بچ گیا۔ ایک شخص پُلصراط پر کھڑا تھا اور ٹہنی کی طرح لرز رہا تھا لیکن اس کا اللہ تعالیٰ کا حسنِ ظن آیا اور اسے بچا لیا اور وہ پُلصراط سے گزر گیا۔ ایک شخص جنت کے دروازے تک پہنچ گیا لیکن جنت کا دروازہ بند ہو گیا تو توحید کی شہادت آئی اور دروازہ کھل گیا اور وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ کچھ لوگوں کے ہونٹ کاٹے جا رہے تھے،میں نے جبرئیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ کون ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ لوگوں کے درمیان چغل خوری کرنے والے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ان کی زبانوں سے لٹکا دیا گیا تھا۔ میں نے جبرئیل (علیہ السلام) سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ لوگوں پر بلا وجہ الزام گناہ لگانے والے ہیں۔

قرطبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت ہی عظیم ہے اس میں ایسے مخصوص اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو خاص آفات سے محفوظ رکھیں گے۔

(طبرانی، ترمذی)

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! غیب داں نبیﷺنے آخرت میں نجات دلانے والی چیزوں کا ذکر فرما کر ہم پر کتنا بڑا احسان فرمایا۔ یقینا سب سے زیادہ تکلیف آخرت کی تکلیف ہے۔ کاش ہم اپنی زبان، دل و جان سب کو اللہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کا اطاعت گزار بنا دیں تو جملہ دنیوی و اخروی آفات سے محفوظ رہیں گے۔ انشاء اللہ

اللہ عزوجل ہم سب کو توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

حدیث:۲۔ حضرت مقدام بن معدی کرب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا شہید کو خدا کے یہاں چھ چیزیں ملیں گی (۱)خون کے پہلے ہی قطرہ میں اس کی مغفرت کر دی جائے گی اور اپنا ٹھکانہ جنت میں دیکھ لیتا ہے (۲)عذابِ قبر سے محفوظ ہو جاتا ہے (۳)فزعِ اکبر سے محفوظ ہو جاتا ہے (۴)اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے وہ تاج ایسا ہوتا ہے کہ اس کا ایک یاقوت دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوتا ہے (۵)بہتر حور عین سے شادی ہوتی ہے (۶)ستر رشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ (ترمذی و ابنِ ماجہ)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! موت برحق ہے۔ موت سے کسی کو فرار نہیں۔ لیکن اللہ عزوجل کی راہ میں اگر موت واقع ہو جائے تو وہ خود تو جنتی ہو جائے گا ساتھ ہی ساتھ اس کی قربانی کی صدقہ میں اللہ عزوجل اس کے ستر رشتہ داروں کو بھی نجات عطا فرمائے گا۔ شہید کا جب یہ حال ہے تو پیارے آقاﷺکا کیا حال ہوگا۔ (سبحان اللہ)

حدیث:۳۔ حضرت سمّان بن صرد اور خالد بن عرطفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا جو پیٹ کی بیماری میں مرا جنت میں داخل ہوگا۔ (ترمذی، بیہقی، ابن ماجہ)

حدیث:۴۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص سے کہا کیا میں تم کو ایک حدیث کا تحفہ دوں جس سے تم خوش ہو جائو؟ اس نے کہا کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا سورۂ مُلک خود بھی پڑھو اور اپنے بیوی بچوں اور گھر میں رہنے والے بچوں نیز پڑوسیوں کو بھی سکھائو کیوں کہ یہ نجات دلانے والی ہے اور رب سے مخاصمہ کرکے نجات دلائے گی۔

حدیث:۵۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سورۂ ملک مانعہ ہے یعنی عذابِ الٰہی کو روکتی ہے۔ جب عذابِ قبر سرکی جانب سے آتا ہے تو اسے روک دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس نہ آ کیوں کہ اس نے سورۂ ملک یاد کی ہے۔ جب عذاب پیروں کی طرف سے آتا ہے تو کہتی ہے کہ اے عذاب تو لوٹ جا کیوں کہ یہ مجھ کو ان پیروں پر کھڑے ہو کر پڑھتا تھا۔ (شرح الصدور)

حدیث:۶۔ حضرت خالد بن معدان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ الٓمٓ تنزیل قبر میں قبر والے کی طرف سے جھگڑا کرے گی کہ اے اللہ! اگر میں تیری کتاب سے ہوں تو اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما اور اگر میں تیری کتاب سے نہیں تو کتاب سے مجھے مٹا دے اور وہ پرند کی مانند ہو کر اپنے اوپر اس پر چھالے گی۔

(دارمی)

روایت

روض الریاحین میں بعض یمنی صالحین سے مروی ہے کہ وہ ایک مردہ کو دفن کر کے واپس ہونے لگے تو انہوں نے قبر میں مارنے کوٹنے کی آواز سُنی پھر قبر سے ایک کالا کتا نمودار ہوا، شیخ نے کہا تیری خرابی ہو توں کون ہے؟ اس نے کہا میں میت کا عمل ہوں۔ شیخ نے کہا کیا تیری پٹائی ہو رہی تھی یا اس مردے کی؟اس نے کہا سورۂ یٰسین اور دوسری سورتیں اس کے پاس تھیں وہ میرے اور اس کے درمیان حائل ہو گئیں اور مجھ کو مار بھگایا۔

اے سرکارِ مدینہﷺکے پیارے دیوانو! قبر کی تاریک وادی میں کوئی کام نہ آئے گا۔ قبر کی تاریک وادی میں صرف نیک عمل کام آئے گا۔ اگر دنیا میں زبان کو اللہ عزوجل کے ذکر اور رحمتِ عالمﷺپر دورد شریف پڑھنے میں مصروف رکھے تو قبر میں راحت ہی راحت نصیب ہوگی۔ انشاء اللہ

سورۂ یٰسین اور دیگر سورتوں کو بھی یاد کریں۔ توبہ و استغفار کریں اور آخرت کی سامان کی تیاری میں لگ جائیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطافرمائے۔ آمین

حدیث:۷۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے جمعہ کے دن مغرب کے بعد دو رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور اذا زلزلت الارض پندرہ مرتبہ پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس پر سکرات اور عذابِ قبر آسان فرمائے گا اور قیامت کے روز وہ بہ آسانی پُل صراط پر سے گزر جائے گا۔ (اصبہانی)

حدیث:۸۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا جمعہ کے روز مرنے والا عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔

حدیث:۹۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک میں عذابِ قبر مردوں پر نہیں ہوتا۔ (بیہقی)

حدیث:۱۰۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا جس نے اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے حج کیا تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے آزاد کر دے گا اور جن کی طرف سے حج کیا گیا ہے ان کو پورا اجر ملے گا۔ نیز ارشاد فرمایا سب سے بہتر صلہ رحمی یہ ہے کہ اپنے مردہ رشتہ دار کی جانب سے حج کیا جائے۔ (بیہقی)

رحمتِ عالمﷺکے شیدائیو! اللہ عزوجل استطاعت عطا فرمایا ہو تو ضرور حج ایصالِ ثواب کے لئے کرنا چاہئے۔ انشاء اللہ حج کرنے والے کو اور جس کو ثواب پہنچایا اس کو پروردگار عزوجل جہنم سے آزاد فرمادے گا۔

حدیث:۱۱۔ حضرت ثابت بنانی سے روایت ہے کہ جب آدمی قبر میں جاتا ہے تو اس کے اعمالِ صالحہ اس کو گھیر لیتے ہیں۔ پھر جب فرشتۂ عذاب آتا ہے تو اس کے اعمالِ صالحہ میں سے ایک عمل کہتا ہے کہ دور ہو اگر میں ہی تنہا ہوتا تو قریب نہ آسکتا تھا۔

اے رحمتِ عالمﷺنے دیوانو! سب سے اچھا ساتھی نیک عمل ہے جو مرنے کے بعد بھی ساتھ نہیں چھوڑتا، لہٰذا اپنی زندگی کے ایام کو قیمتی سمجھ کو اسے نیکیوں میں گزار دینا چاہئے تاکہ قبر میں راحت نصیب ہو۔

حدیث:۱۲۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب مومن کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو مومن کے اعمالِ صالحہ اس کو گھیر لیتے ہیں۔ نماز، روزہ حج، جہاد، صدقہ۔ جب عذابِ کے فرشتے پیروں کی طرف سے آتے ہیں تو نماز کہتی ہے کہ پیچھے ہٹ کیوں کہ ان پیروں سے کھڑا ہو کر یہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا۔ تو عذاب سر کی جانب سے آتا ہے تو روزہ کہتا ہے دور رہو کہ یہ خدا کے لئے پیاسا رہا تو عذاب جسم کی طرف سے آتا ہے تو حج و جہاد آڑے آتے ہیں تو عذاب ہاتھوں کی جانب سے آتا ہے تو صدقہ حائل ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ ان ہاتھوں کو کیوں کر عذاب ہو سکتا ہے جو اللہ کی راہ میں رزق بانٹتے تھے پھر اس انسان کو مبارکباد دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ تو زندگی اور موت دونوں ہی میں کامیاب رہا پھر فرشتے اس کے لئے جنتی بچھونا بچھاتے ہیں اور اس کی قبر کو حدِّ نگاہ وسیع کر دیا جاتا ہے اور قندیل قیامت تک کے لئے وہاں روشن کر دی جاتی ہے۔

شمعِ رسالت کے پروانو! نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، صدقہ، جہاد ان اعمال کے کرنے میں تکلیف تو ہوتی ہے لیکن آخرت کی راحت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ لہٰذا مذکورہ اعمال میں کوتاہی نہ کریں تاکہ آخرت میں عذاب سے نجات حاصل ہو۔

حدیث:۱۳۔ یزید بن ابی منصور سے روایت ہے کہ ایک شخص قرآن پڑھتا تھا جب اس کی موت کا وقت آیا تو رحمت کے فرشتے آئے کہ اس کی روح قبض کریں تو قرآن نکل آیا اور کہنے لگا اے مولیٰ! اس کا سینہ میری قیام گاہ تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کو چھوڑ دو۔

سبحان اللہ! میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! آج مسلمان دنیوی گندے کتابچہ، لٹریچر، ناول، فحش کتابیں، گانے کی کتابیں وغیرہ خریدتے ہیں اور اسے پڑھ کر وقت ضائع کرتے ہیں۔ خدارا اپنے آپ کو قرآن مقدس کے ساتھ روکے رکھو اور اس کویاد کرنے کی کوشش کرو تاکہ قرآنِ مقدس موت کے وقت رحمت کے فرشتوں کی آمد کا ذریعہ بن جائے۔ آمین

حدیث:۱۴۔ بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے سب عمل منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین اعمال ہے (۱)صدقۂ جاریہ (۲)علم نافع (۳)نیک اولاد جو والدین کے لئے دعا کرتی ہے۔

رحمتِ عالمﷺکے شیدائیو! اگر مرنے سے پہلے کوئی رفاہِ عام کے لئے کنواں کھدوایا یا کتابیں لکھیں یا کچھ شاگرد تیار کئے یا پھر نیک اولاد اپنے پیچھے چھوڑے تو ان سب کے عمل کا فائدہ مرنے والے ہو ضرور ملے گا۔ انشاء اللہ

حدیث:۱۵۔ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کا بدلہ اس کو بھی ملے گا اور جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے اور ان کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی اور جس نے کوئی بُرا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کی سزا ملے گی اورقیامت تک جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان کی سزا بھی لے گی اور کسی کی سزا میں کمی نہ ہوگی۔ (مسلم شریف)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! گناہوں کے طریقے اور ماحول سے بچتے رہنا چاہئے جہاں تک ہو سکے اچھائیوں کے طریقے ایجاد کرنا چاہئے برائیوں سے اپن آپ کو بچائو گے انشاء اللہ جہنم سے بچ جائو گے، نیکیوں کی طرف توجہ دو گے جنت کے حقدار بن جائو گے۔ انشاء اللہ

حدیث:۱۶۔ ابن سعد نے رجا بن حیٰوۃ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے سلیمان بن عبد الملک سے کہا کہ اگر آپ قبر میں محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو کسی مردِ صالح کو خلیفہ بنائیں۔

حدیث:۱۷۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے اللہ کی کتاب سے ایک آیت پڑھی یا علم دین کا کوئی باب پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر قیامت تک بڑھائے گا۔ (ابن عساکر)

پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! اللہ عزوجل کی کتاب قرآن مقدس سے کسی آیت کا پڑھنا یا علم دین کا حاصل کرنا قیامت تک اجر کے بڑھنے کا ذریعہ ہے۔ اس فضیلت سے قرآن آیت اور علم دین کی اہمیت سمجھ مین آتی ہے۔ لہٰذا علم دین حاصل کرنے میں اپنا وقت گزارنا چاہئے کہ یہ بے حد مفید ہے۔

اللہ عزوجل ہم سب کو توفیق نصیب فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰہ و التسلیم

حدیث:۱۸۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا چند چیزیں ہیں جن کا ثواب قبرمیں انسان کو پہنچتا ہے۔ علم، ولد صالح، کوئی کتاب، کوئی مسجد، مسافر خانہ، نہر، کنواں، کھجور وغیرہ کا درخت، صدقہ جاریہ، ان تمام اشیاء کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملے گا۔ (ابن ماجہ)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! اگر اللہ عزوجل توفیق دے تو اس دنیا سے جانے سے پہلے مذکورہ کام کر لینا چاہئے تا کہ بعد مردن اس کا فائدہ ملتا رہے۔

حدیث:۱۹۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک بندے کا درجہ جنت میں بلندفرماتا ہے تو بندہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ! یہ کس سبب سے ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تیری اولاد کے استغفار کے باعث ہے۔ (بخاری)

رحمت عالمﷺکے شیدائیو!اپنی اولاد کو دینی ماحول سے وابستہ کریں گے تو وہ مرنے کے بعد ہمیں اپنی دعائوں میں یاد رکھیں گے اور بخشش کی دعا کریں گے۔ لہٰذا دینی ماحول سے وابستہ کرنے کی ضرور کوشش کریں تاکہ ان کی دعائوں سے اللہ عزوجل ہماری بخشش فرمائے۔

حدیث:۲۰۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا کہ مردے کا حال قبر میں ڈوبتے ہوئے انسان کے حال کی مانند ہے کہ وہ شدت سے انتظار کرتا ہے کہ کوئی رشتہ دار یا دوست اس کی مدد کوپہنچے اور جب کوئی اس کی مدد کو پہنچتا ہے تو اس کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبر والوں کو ان کے زندہ متعلقین کی طرف سے ہدیہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے۔ زندوں کا ہدیہ مردوں کو استغفار ہے۔ (بیہقی)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث شریف سے آپ ایصال ثواب کا فائدہ سمجھ گئے ہوں گے۔ لہٰذا ضرور از ضرور اپنے مردوں کو پابندی سے ایصالِ ثواب کرتے رہیں تاکہ انہیں قبر میں فرحت اور سکون میسر ہو۔

روایت: ابن ابی دنیا نے ایک بزرگ سے روایت کی انہون نے کہا کہ ایک رات میں نے اپنے بھائی کو قبر میں دیکھا تو پوچھا اے بھائی! کیا ہم لوگوں کی دعا تم کو پہنچتی ے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں وہ نورانی لباس کی شکل میں آتی ہے جو ہم پہن لیتے ہیں۔

روایت: ابن ابی دنیا نے ابو قلابہ سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں میں شام سے بصرہ آیا تو ایک خندق میں اترا، وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کی پھر اپنا سر قبر پر رکھ کر سوگیا خواب میں دیکھتا ہوں کہ صاحب قبر مجھ سے کہہ رہا ہے کہ تم نے مجھ کو تکلیف پہنچائی ہم جانتے ہیں اور تم کو پتہ نہیں ہم عمل پر قادر نہیں۔ تم نے دو رکعت جو نماز پڑھی وہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے پھر اس نے کہا کہ اہل دنیا کو اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے جزائے خیر دے جب وہ ہم کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں تو وہ ثواب نور کے پہاڑ کی مثل ہم ر داخل ہوتا ہے۔

روایت: حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں میں جمعہ کی رات ایک قبرستان میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک نور چمک رہا ہے تو میں نے کہا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبرستان والوں کی مغفرت کر دی ہے۔ تو ایک غیبی آواز آتی ہے اے مالک بن دینار! یہ مومنوں کا تحفہ ہے اپنے مومن بھائیوں کے لئے۔ میں نے غیبی آواز کو خدا کو واسطہ دے کر پوچھا کہ یہ ثواب کس نے بھیجا ہے؟ تو آواز آئی ایک مومن بندہ اس قبرستان میں داخل ہوا اور اچھی طرح وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز ادا کی اور اس کا ثواب اہلِ مقابر کے لئے بخش دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس ثواب کی وجہ سے یہ روشنی اور نور ہم کو دیا۔ مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ پھر میں بھی ہر شب جمعہ کو ثواب ہدیہ کرنے لگا تو خواب میں حضور سرورِ کائنات فخر موجودات ا کی زیارت نصیب ہوئی تو آپ ا فرما رہے تھے اے مالک! جتنے نور تونے ہدیہ کئے ان کے بدلے اللہ تعالیٰ جل شانہٗ تیری مغفرت فرمادی اور تیرے لئے جنت میں قصر منیف بنا دیا۔ (شرح الصدور)

حدیث:۲۱۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ ا میں اپنی ماں کی طرف سے صدقہ کرنا چاہتا ہوں کون سا صدقہ افضل رہے گا؟ آپ ا نے فرمایا پانی۔ چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ امّ سعد کا ہے۔ (احمد)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! والدین کا حق ان کے انتقال کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ لہٰذا والدین کے انتقال کے بعد ان کے ایصال ثواب کے لئے جو کچھ ممکن ہو کرنا چاہئے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

حدیث:۲۲۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہ ا نے فرمایا کہ صدقہ کرنے والے قبر کی گرمیوں سے محفوظ رہیں گے۔ (طبرانی)

رحمت عالمﷺنے شیدائیو! صدقہ صرف بیماری کے وقت ہی نہ دیں بلکہ صدقہ آرام کی زندگی میںدینا ہے۔ یہ صدقہ قبر کی گرمی سے محفوظ رہنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یقینا قبر کی گرمی ناقابل برداشت ہوگی جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ صدقہ دیتے رہیں تاکہ قبر میں ٹھنڈک اور راحت میسر ہوں۔ اللہ عزوجل توفیق دے۔

حدیث:۲۳۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا جب کوئی شخص صدقہ کرے تو اس کا ثواب اپنے والدین کو پہنچائے کیوں کہ اس طرح اس کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ (طبرانی)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! اپنے ہر نیک عمل کا ثواب اپنے والدین کی خدمت میں نذر کریں یہاں تک کہ کوئی چیز صدقہ کریں تو اس کا ثواب بھی اپنے والدین کا پہنچائیں۔ انشاء اللہ صدقہ کرنے والے کے ثواب میں کچھ کمی کئے بغیر میرا کریم اس کے والدین کو ثواب عطا فرمائے گا۔

حدیث:۲۴۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ا کو فرماتے ہوئے سنا جب کوئی شخص میت کو ایصالِ ثواب کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام اسے نور کے طباق میں رکھ کر قبر کے کنارے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں اے قبر والے! یہ ہدیہ تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے قبول کر۔ یہ سن کر وہ خوش ہوتاہے اور اس کے پڑوسی اپنی محرومی پر غمگین ہوتے ہیں۔ (طبرانی اوسط)

رحمتِ عالمﷺکے شیدائیو! اپنے والدین، رشتہ دار، عزواقارب اور مومنین کے ایصال ثواب کے لئے کچھ نہ کچھ نیک عمل کرنا چاہئے اس کا فائدہ ضرور از ضرور مرنے والے کو پہنچتا ہے، صرف پندرہویں شعبان کو ہی ایصالِ ثواب کا اہتمام کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا چاہئے تاکہ قبر میں میت کو راحت نصیب ہو۔ آج ہم سب میت کو یاد رکھیں گے تو انشاء اللہ ہمارے انتقال کے بعد لوگ ہمارے لئے بھی بخشش کی دعا کریں گے۔

روایت: یسار بن غالب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہا کو دیکھا میں ان کے لئے بہت دعا کرتا تھا انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے یسار! تمہارے بھیجے ہوئے ہدئے مجھ کو نورانی طباقوں میں ریشمی رومالوں سے ڈھک کر پیش کئے جاتے ہیں۔

حدیث:۲۵۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اعظم ا نے فرمایا کہ میری امت قبر میں گناہ سمیت داخل ہوگی اور جب وہ نکلے گی تو وہ بے گناہ ہوگی کیوں کہ وہ مومنین کی دعائوں سے بخش دی جاتی ہے۔ (طبرانی)

میرے پیارے آقا ا کے پیارے دیوانو! اگر کسی مومن کی بخشش کی دعا کی جائے تو اللہ عزوجل اس کی دعا سے مومن کی مغفرت فرما دیتا ہے بتائو اگر تمہاری زبان کے چلا دینے سے کسی مومن کی نجات ہو جائے تو تمہیں کیا حرج ہے۔ لہٰذا ضرور جملہ مومنین کے لئے بخشش کی دعا کرنی چاہئے۔ اللہ عزوجل مومنین کی اور ہم سب کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

حدیث:۲۶۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ا! میری ماں اچانک مر گئی میرا خیال ہے اگر بولتیں تو صدقہ کا حکم دیتیں۔ تو کیا اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کو اس کا اجر ملے گا؟ تو حضور ا نے فرمایا ہاں۔ (شیخین)

حضور رحمتِ عالمﷺنے شیدائیو! جس کام کے کرنے کا حضور ا نے حکم دیا ہے اس میں یقینا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ مذکورہ حدیث شریف سے ثابت ہوا۔ لہٰذا اپنے والدین کے لئے ان کے انتقال کے بعد کارِ خیر کرنے رہنا چاہئے۔

حدیث:۲۷۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی والدہ ان کی غیر موجوگی میں وفات پاگئیں، جب وہ آئے تو حضور ا کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا کافی ہے؟ حضور ا نے فرمایا ہاں تو انہوں نے حضور ا کو گواہ بناتے ہوئے کہا کہ میرا یہ باغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے۔ (بخاری شریف)

سبحان اللہ! کتنے خوش نصیب تھے وہ صحابہ جن کے دلوں میں ماں کی راحت و سکون کا خیال موجود تھا کہ بعد از مرگ ماں کے لئے باغ صدقہ کر کے مان کو ان کی قبر میں راحت پہنچانا یہ صحابۂ کرام کا معمول تھا۔ جو اپنی والدہ کو بعد از انتقال آرام پہنچانا چاہتا ہے بھلا وہ عالم حیات میں کتنی راحت پہنچاتا ہوگا۔

اللہ عزوجل ہم سب کو بھی اپنے والدین کو راحت پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تمت بالخیر

قبر میں مومن اور کافر کا حال

حدیث نمبر :137

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ مردہ قبر میں پہنچتا ہے پھر اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے نہ گھبرایا ہوا نہ پریشان ۱؎ پھر اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا ؟وہ کہتا ہے اسلام میں تھا۲؎ پھر کہا جاتا ہے یہ کون صاحب ہیں؟وہ کہتاہے محمدرسول اﷲ ہیں جو ہمارے پاس رب کی طرف سے نشانیاں لائے ہم نے ان کی تصدیق کی۳؎ تب کہا جاتا ہے کیا تو نے اﷲ کو دیکھا ہے ؟۴؎ وہ کہتا ہے کوئی خدا کو نہیں دیکھ سکتا۵؎ پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ ادھر دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہی ہے ۶؎ پھر اس سے کہاجاتا ہے کہ ادھر دیکھو جس سے تجھے اﷲ نے بچالیا ۷؎ پھر جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے تو وہ اس کی ترو تازگی کی طرف اور جو اس میں ہے دیکھتا ہے۸؎ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تو یقین پر تھا اسی پر مرا اور ان شاءاﷲ اسی پر اٹھے گا ۹؎ برا آدمی اپنی قبر میں بٹھالا جاتا ہے حیران پریشان۱۰؎ اس سے کہا جاتا ہے تو کس دین میں تھا؟وہ کہتا ہے مجھے نہیں خبر پھرکہا جاتا ہے یہ صاحب کون ہیں؟وہ کہتا ہے میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا وہ میں نے بھی کہا تھا ۱۱؎ تب اس کے سامنے جنت کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ وہاں کی ترو تازگی اور جو کچھ اس میں ہے دیکھتا ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے وہ دیکھ جو اﷲ نے تجھ سے پھیر دیا پھر دوزخ کی طرف کھڑکی کھولی جاتی ہے دیکھتا ہے کہ بعض بعض کو کچل رہا ہے پھر کہا جاتا ہے یہ ہے تیرا ٹھکانہ۲؎۱ تو شک پر تھا اس پر مرا اسی پر ان شاءاﷲ اٹھے گا۳؎۱(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ مؤمن کا حال ہوگا اسی اطمینان کی وجہ سے سوالات کا جواب آسانی سے دے گا وہ دنیا میں کافی گھبرا اور ڈرچکا اب اس کے اطمینان کا زمانہ آگیا۔

۲؎ یعنی زندگی میں بھی اسلام پر تھا اور اب بھی لیکن چونکہ سزاوجزا کا دارومدار زندگی کے ایمان و اعمال پر ہے اس لیئے یہاں اسی کا ذکر کیا گیا،بعض صالحین قبر میں تلاوت قرآن،بلکہ نمازبھی اداکرتے ہیں مگر انہیں اس کا کوئی ثواب نہیں،لذات روحانی ہے،اسی لیئے بزرگوں کی ارواح کو بھی نیکیوں کا ثواب بخشاجاتاہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کُنْتُ کیوں فرمایا۔

۳؎ خیال رہے کہ اگرچہ اسلام میں توحید،رسالت اور سارے عقائد آگئے تھے لیکن پھر بھی آخری سوال حضور کے بارے میں ہوتا ہے۔کلمہ ختم ہو تو ان کے نام پر،نمازختم ہو تو ان کے سلام پر،امتحان قبر ختم ہو تو ان کی پہچان پر،خاتمیت کا سہرا انہی کے سر ہے،ہر جگہ نجات انہی کے سہارے ہے۔

۴؎ یعنی تو جو کہتا ہے وہ اﷲ کے پاس سے نشانیاں لائے کیا تونے خدا کو انہیں نبی بناکر بھیجتے،نشانیاں دیتے دیکھا تھا ؟ وہ کہتا ہے کہ خود تو نہیں دیکھا،دیکھنے والے محبوب سے سنا تھا،مجھے ان کے کلام پر اپنی آنکھوں سے زیادہ اعتماد ہے،میری آنکھیں جھوٹی ہوسکتی ہیں ان کا کلام غلط نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ یہ گفتگو امتحان کے علاوہ ہے۔فرشتے خوش ہو کر اس سے یہ باتیں کرتے ہیں۔

۵؎ دنیا میں ان آنکھوں سے۔سبحان اﷲ!جاہل مسلمان بھی مرتے ہی عقائد کا عالم بن جاتا ہے۔

۶؎ خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت دوزخ کی آگ نظر آتی ہے تکلیف بالکل نہیں پہنچاتی،کچلنے کا یہ مطلب ہے کہ اس قدر زیادہ آگ ہے گویا آگوں کی بھیڑہوگئی ہے کہ بعض بعض کو کچلے دیتی ہے۔

۷؎ اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ دوزخ سے بچنا محض اپنے عمل سے نہیں بلکہ رب تعالٰی کے فضل سے ہے کہ اسی کے کرم سے قبر میں کامیابی ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ ہر شخص کی جگہ جنت میں بھی ہے اور دوزخ میں بھی،مؤمن جنت میں اپنی جگہ بھی سنبھالتاہے اور کافر کی بھی،مؤمن کو دوزخ کی جگہ پہلے دکھانا اسے زیادہ خوش کرنے کے لیئے ہے۔

۸؎ صرف دیکھتا ہی نہیں بلکہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور دوزخ کی کھڑکی فورًا بندکردی جاتی ہے مگر یہ کھڑکی تا قیامت کھلی رہتی ہے۔

۹؎ یعنی دنیا میں تجھے اپنے عقائد کا علم الیقین تھا جو سن کر حاصل ہوا،قبر میں ان سب چیزوں کو دیکھ کر عین الیقین حاصل ہوا۔اور بعد حشر وہاں پہنچ کر حق الیقین نصیب ہوگا،یقین دائمی رہا اس کے مرتبوں میں ترقی ہوتی رہی یاد رکھو کہ جیسے جیو گے ویسے ہی مرو گے ان شآءاﷲ فرمانا برکت کے لیے ہے نہ کہ شک کے لیئے رب تعالٰی نے فرمایا:”لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللہُ "۔

۱۰؎ کیونکہ کافر دنیا میں خدا سے بے خو ف رہا اب اس کا خو ف شروع ہوگیا۔

۱۱؎منافق نے فقط زبان سے لوگوں کی دیکھا دیکھی رسول اﷲ کہہ دیا تھا،کافر اپنے دوستوں سے سن کر انہیں جادو گر وغیرہ کہتے تھے،غرض تسلی بخش جواب نہ دے سکے گا۔

۱۲؎ یہاں بھی گزشتہ تقریر یاد رہے کہ کافر جنت کو صرف دیکھتا ہے اس سے فائدہ بالکل نہیں اٹھاتا اور جنت کی کھڑکی فورًا بند بھی کردی جاتی ہے یہ دکھانا زیادتی حسرت کے لیئے ہے دوزخ کو دیکھتا بھی ہے اور اس کی گرمی سے تکلیف بھی پاتا ہے اور یہ کھڑکی کبھی بند بھی نہیں ہوتی۔

۳؎۱ عام کافروں کو اپنے دین پر جزم نہیں ہوتا،ذرا سی مصیبت میں دین چھوڑ دیتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:”دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ”ہم نے ہندؤوں کو مسجدوں کے دروازہ پر نمازیوں کے جوتوں کی خاک چومتے دیکھا ہے،مشائخ کرام کے تلوؤں کو چومتے دیکھا ہے،اور جن خاص کافروں کو اپنے مذہب پر جزم اوراعتماد ہے وہ بھی یقین نہیں کہلاتا بلکہ جہل مرکب یعنی جھوٹی بات کو سچا جان لینا،نیز اس کا یہ اعتماد مرتے ہی ختم ہوجاتا ہے،اب اسے مرنے کے بعد سمجھ میں نہیں آتا کہ دین برحق کیا ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت سے کافرو ں کو اپنے مذہب پر یقین ہوتا ہے پھرحدیث کیونکہ صحیح ہوئی۔

جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے

حدیث نمبر :136

روایت ہے حضرت جابررضی اللہ عنہ سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ جب میت قبر میں داخل کی جاتی ہے تو اسے سورج ڈوبتا ہوا معلوم ہوتاہے ۱؎ تو وہ آنکھیں ملتا ہوا بیٹھتا ہے اور کہتا ہے مجھے چھوڑ و میں نماز پڑھ لوں ۲؎ (ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ احساس منکر نکیر کے جگانے پر ہوتا ہے۔خواہ دفن کسی وقت ہو چونکہ نماز عصر کی زیادہ تاکید ہے اور آفتاب کا ڈوبنا اس کا وقت جاتے رہنے کی دلیل ہے،اسی لئے یہ وقت دکھایا جاتا ہے۔

۲؎ یعنی اے فرشتو سوالات بعد میں کرنا عصر کا وقت جارہا ہے مجھے نماز پڑھ لینے دو۔یہ وہی کہے گا جو دنیا میں نماز عصر کا پابند تھا،اﷲ نصیب کرے اسی لیئے رب فرماتا ہے:”حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی”تمام نمازوں کی خصوصًا عصر کی بہت نگہبانی کرو۔صوفیاءفرماتے ہیں جیسے جیوگے ویسے ہی مرو گے اور جیسےمرو گے ویسے ہی اٹھو گے۔خیال رہے کہ مؤمن کو اس وقت ایسا معلوم ہوگا جیسے میں سوکر اٹھا ہوں نزع وغیرہ سب بھول جائے گا ممکن ہے کہ اس عرض پر سوال جواب ہی نہ ہوں اور ہوں تو نہایت آسان کیونکہ اس کی یہ گفتگو تمام سوالوں کا جواب ہوچکی۔

فتنۂ قبر

حدیث نمبر :135

روایت ہے اسماء بنت ابوبکر سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے لیے کھڑے ہوئے ۲؎ تو آپ نے فتنۂ قبر کا ذکر فرمایاجس میں انسان مبتلا ہوتا ہے۳؎ تو جب یہ ذکر کیا تو مسلمانوں نے چیخ ماری۴؎ بخاری نے اسی طرح روایت کی نسائی نے یہ اور زیادہ کیا کہ ان کے درمیان چیخ حائل ہوگئی کہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھ سکوں جب شوتھما تو میں نے اپنے نزدیکی آدمی سے کہا کہ اﷲ تجھے برکتیں دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر کلام شریف میں کیا فرمایا؟۵؎ وہ بولے کہ حضور نے یہ فرمایا کہ مجھے وحی ہوئی ہے کہ تم اپنی قبروں میں فتنۂ دجال کے قریب فتنہ میں مبتلا کیے جاؤ گے۶؎

شرح

۱؎ آپ کا لقب ذات النطاقین ہے،عائشہ صدیقہ کی بڑی بہن،زبیر ابن عوام کی زوجہ،عبداﷲ ابن زبیر کی والدہ،ابوبکر صدیق کی صاحبزادی ہیں،آپ اٹھارھویں مؤمنہ ہیں،مکہ معظمہ میں ایمان لائیں،عائشہ صدیقہ سے دس سال بڑی تھیں،آپ کے صاحبزادے عبداﷲ ابن زبیرکو حجاج ابن یوسف نے سولی دی تھی۔چوب سے آپ کی لاش اتارنے کے دس روز بعد حضرت اسماء کا انتقال ہوا مکہ معظمہ میں دفن ہوئیں،یہ واقعہ۷۳ ھ؁ میں ہوا۔

۲؎ مسجدنبوی شریف میں جہاں مردوں اورعورتوں کا اجتماع تھا مرد آگے تھے عورتیں پردے کے ساتھ پیچھے جیسا کہ اس زمانہ میں عام مروج تھا بلکہ عورتوں کو حکم تھا کہ وعظ کی مجالس میں شرکت کیا کریں تاکہ انہیں اپنے احکام و مسائل معلوم ہوں۔خیال رہے کہ خطبہ اور وعظ کھڑے ہو کر کہنا سنت ہے۔شامی میں ہے کہ خطبۂ نکاح بھی کھڑے ہوکر پڑھاجائے۔

۳؎ فتنۂ قبر سے مراد وہاں کا امتحان ہے۔اَلْمَرْءُسےمعلوم ہوا کہ حساب قبرصرف انسانوں سے ہے جنات یا جانوروں سے نہیں کیونکہ ان کے لیئے نہ جنت ہے،نہ وہاں کی نعمتیں۔کفار جن کے لیئے صرف جہنم ہے جانوروں کے لیئے دونوں میں کچھ نہیں،بلکہ مظالم کا بدلہ کرا کر انہیں مٹی کردیا جائے گا اس کی تحقیق ہمارے فتویٰ میں دیکھو۔

۴؎ ہیبت سےگھبرا کر رو پڑے اور بے اختیاری چیخ نکل گئی،اس میں ریاء کی گنجائش نہ تھی۔خیال رہے کہ خوفِ الٰہی میں صرف آنسوؤں سے رونا بہت بہترہے،رب تعالٰی فرماتاہے:”تَرٰۤی اَعْیُنَہُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ "لیکن اگر بے اختیاری میں لوگوں کے سامنے چیخ نکل جائے تو بھی عبادت۔

۵؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ عورت اجنبی مرد سے ضرورتًا پردے میں رہ کر کلام کرسکتی ہے،بشرطیکہ سادی گفتگو کرے آواز میں شیرینی اور لوچ نہ ہو،رب فرماتاہے:”وَ اِذَا سَاَلْتُمُوۡہُنَّ مَتٰعًا فَسْـَٔلُوۡہُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ”اورفرماتا ہے:”فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ”۔دوسرے یہ کہ دعائیں دےکر کوئی بات پوچھنا بہتر ہے تاکہ مخاطب کو خوشی ہو،مؤمن کو خوش کرنا بھی عبادت ہے۔تیسرے یہ کہ دینی باتوں میں ایک کی خبربھی قبول ہے گواہیوں کی ضرورت نہیں۔

۶؎ یعنی فتنۂ قبرفتنۂ دجال کی طرح بڑا ہی خطرناک ہے جیسے دجال کی شرسے وہی بچے گا جسے اﷲ بچائے،ایسے ہی حساب قبر میں وہی کامیاب ہوگاجسے اﷲ کامیاب کرے،ان دونوں جگہ ثابت قدمی اپنی بہادری سے نہیں،دجال دعوئے خدائی کرے گا اور بہت لوگ اس کا اقرار کرلیں گے،قبر میں شیطان سامنے آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیرا رب ہوں،مجھے رب مان لے کامیاب ہوجائے گا،اس کی ذریت میت کے مرے ہوئے عزیزوں کی شکل میں آکر کہتی ہے کہ بیٹے اسے خدا مان لے،دیکھو اعلٰی حضرت قُدِّسَ سِرُّہ کی کتاب ایذان الاجر اور ہماری کتاب "جاء الحق”اسی لیئے قبر پر اذان کہہ دیتے ہیں تاکہ شیاطین دفع ہوں۔

بعد دفن قبر پر تسبیح و تکبیر

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :133

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں جب حضرت سعد ابن معاذ ۱؎ نے وفات پائی تو ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی طرف گئے جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز پڑھ لی اور وہ اپنی قبر میں رکھے گئے اور ان پر مٹی برابر کردی گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دراز تسبیح پڑھی ہم نے بھی تسبیح پڑھی پھر تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی ۲؎ عرض کیا گیا یارسول اﷲ اولًا تسبیح پھر تکبیر کیوں کہی ؟ فرمایا اس نیک بندے پر ان کی قبر تنگ ہوگئی تھی حتی کہ اﷲ نے کشادہ کردی۳؎(اسے احمدنے روایت کیا)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ انصار میں اوس کے سردار ہیں،بیعت عقبہ اولٰی کے بعد مدینہ منورہ میں ایمان لائے،آپ کے ایمان سے عبد اشہل بھی ایمان لائے،حضور نے ان کا نام سید الانصار رکھا،جلیل القدر صحابی ہیں۔حضور کے ساتھ بدر و احد میں شریک رہے،خندق کے دن کندھے میں تیر لگا جس سے خون جاری ہوا اور نہ ٹھہرا ایک ماہ کے بعد ذیقعد ۵ھ؁ میں وفات ہوئی،۳۷ سال عمر ہوئی،حضور کے ہاتھوں جنت بقیع میں دفن ہوئے۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ بعد دفن قبر پر تسبیح و تکبیر پڑھنا سنت ہے کہ اس سے غضب الٰہی دفع ہوتا ہے،لگی ہوئی آگ بجھ جاتی ہے. اس سے قبر پر اذا ن کا مسئلہ ماخوذ ہے کہ اس میں تکبیر بھی ہے اور تلقین بھی اور یہ دونوں سنت ہیں۔

۳؎ یہ تنگیٔ قبر عذاب نہ تھی بلکہ قبر کا پیار تھا،قبر مؤمن کو ایسے دباتی ہے جیسے ماں بچے کو گود میں لے کر،مگر میت اس سے ایسی گھبراتی ہے جیسے ماں کے دبانے پر بچہ روتا ہے،اسی لیئے حضور نے عبدصالح فرمایا،عذاب قبر کافر یا گنہگار کو ہوتا ہے،اگلی حدیث اس کی شرح ہے حضور کی برکت اور تکبیر و تہلیل کے ذریعہ یہ تنگی بھی دور ہوگئی۔اس سے معلوم ہوا کہ قبر پر تسبیح و تکبیر میت کو مفید ہے،نیز پتہ لگا کہ حضور کی نگاہ اوپر سے قبر کے اندر کا حال دیکھ لیتی ہے،آپ کے لیئے کوئی شے آڑ نہیں۔خیال رہے کہ حضور کے قدم کی برکت سے قبر کی مصیبتیں دور ہوتی ہیں،یہ تکبیر فرمانا ہم کو تعلیم دینے کے لیئے ہے،کوئی گستاخ یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضور کے ہوتے ہوئے عذاب کیوں ہوا کیونکہ یہ عذاب تھا ہی نہیں۔

حدیث نمبر :134

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ وہ ہیں جن کے لیئے عرش ہل گیا،اور ان کے لیئے آسمان کے دروازے کھولے گئے ۱؎ اور ان پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے ۲؎ بے شک چپٹائے گئے چپٹایاجاتا پھراﷲ نے ان کے لیے آسانی کردی۳؎(نسائی)

شرح

۱؎ یعنی سعد ابن معاذ کے لیئے آسمان کے دروازے کھلے،وہاں کے فرشتوں نے ان کی روح کا استقبال کیا اور ان کی روح کے پہنچنے پر عرش اعظم خوشی میں ہلا آسمان سے فرشتے اور رحمتیں اتریں۔مرقاۃ میں فرمایا کہ مؤمنین کی ارواح جنت میں رہتی ہیں جو ساتویں آسمان کے اوپر ہیں۔

۲؎ اﷲ کی رحمتیں لےکر یا ان کے جنازے میں شرکت کرنے کے لیئے۔

۳؎ یہ عبارت گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ تنگی عذاب قبر نہ تھی بلکہ قبر کی رحمت تھی اور ا ن کے لیئے وحشت،بلی اپنے بچے کو بھی منہ میں دباتی ہے اور چوہے کوبھی مگر دونوں میں فر ق ہے۔