ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حکایت نمبر 154: ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حضرت سیدنا شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:” میں نے دو سو دینار کا ایک گھر خریدا اور ایک تحریر لکھ دی ، اور عادل لوگوں کو (اس پر) گواہ بنایا ، اس بات کی خبر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو پہنچی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے شریح! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو نے ایک گھر خریدا ہے اور ایک تحریر لکھی ہے اور اس پر عادل لوگوں کو گواہ بھی بنایا ہے ؟” میں نے عرض کی:” اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! یہ خبر حقیقت (پر مبنی)ہے ۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے شریح! جلد ہی تیرے پاس ایسا شخص آئے گا جو نہ تو تیری تحریر دیکھے گا اور نہ ہی تجھ سے تیرے گھر کے بارے میں سوال کریگا۔ وہ تجھے اس گھر سے نکال کر تیری قبر کے حوالے کردے گا ۔ اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرے لئے یہ مضمون لکھتا:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ

یہ وہ گھرہے جسے حقیر بندے نے اس شخص سے خرید ا ہے جسے کوچ کرنے ( کے حکم )کی وجہ سے پر یشان کیا گیا ہے اور مرنے والا ہے ۔ اس نے ایسا گھر لیا ہے جو دھوکے کا گھر ہے اور اس پر چار حدو د مشتمل ہیں ۔

ان میں سے پہلی حد مختلف امور کی طرف دعوت دینے والی چیزوں پر ختم ہوتی ہے ،دوسری حد مصائب وتکالیف کی طرف دعوت والی باتوں پر ، تیسری حد نفسانی خواہشات اور فضول کاموں پر اور چوتھی حدد ھوکے باز شیطان پر ختم ہوتی ہے اور اس میں اس گھر کا دروازہ شرو ع ہوتا ہے ۔

اس دھوکا میں پڑے شخص نے ایک امید کے ساتھ اس شخص سے سارا گھر خرید لیا جو پیغامِ اجل کی وجہ سے پریشان ہے۔ اب یہ قناعت کی عزت سے نکل کر لالچ کے گھر میں داخل ہوگیا ہے لیکن گھر خرید نے والے نے کون سی بہت بڑی حاجت پوری کرلی ہے جبکہ بادشاہوں کے اجسام کا مالک، جابر لوگو ں کی جانوں کوسلب کرنے والا ، فر عونوں جیسے کسرٰی ، تبع ، حمیر اور وہ جس نے محل بنایا پھراسے پختہ و مزین کیا اور لوگو ں کو اکٹھا کر کے انہیں غلام بنالیا اور جو اپنے بیٹے کے لئے بھی اس ملکیت کا گمان رکھتا تھا اور ان کی بادشاہت کو ختم کرنے والا ان سب کو میدا نِ حشر میں جمع فرمائے گا اورجب فیصلہ سنانے کے لئے کرسی رکھی جائے گی اس وقت باطل کام کرنے والے خسارے میں ہوں گے اور منادی اس طرح ندا کرے گا:”دوآنکھوں والے کے لئے حق کتنا واضح اور روشن ہے۔ بے شک سفر دو دن کا ہے، نیک اعمال کر کے زادِ راہ تیا رکرلو کیونکہ انتقال اور زوال کا وقت قریب آن پہنچا ہے” ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم) 

خون کے آنسو

حکایت نمبر153: خون کے آنسو

حضرت سیدنا اسماعیل بن ہشام علیہ رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ایک مرید نے بتایا :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمتِ بابر کت میں حاضر ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے ہوئے تھے، آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھا، ہتھیلیاں آنسوؤں سے تر بتر تھیں۔ مَیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب ہوا اور غور سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف دیکھا تو میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش تھی جس کی وجہ سے آنسو سرخی مائل ہوگئے تھے ۔”

مَیں یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا اور عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ عزوجل کی قسم! سچ سچ بتائیں؟کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش ہے ؟”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :”اگر تُو نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں ہر گزنہ بتاتا لیکن اب مجبور اًبتا رہا ہوں کہ واقعی میری آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ خون بھی بہتا ہے اسی وجہ سے آنسوؤں کی رنگت تبدیل ہوگئی ہے ۔”میں نے عرض کی: ”حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے اور آخرایسا کون سا غم آپ کو لاحق ہے کہ آپ خون کے آنسو روتے ہیں؟ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”میں روتا تو اس لئے ہوں کہ میں اللہ عزوجل کے اَحکام پر عمل نہ کرسکا ، اس کی عبادت میں کوتا ہی کرتا رہا، مَیں اپنے مالک حقیقی عزوجل کی کَمَاحَقُّہٗ فرمانبردار ی نہ کرسکا اور آنسوؤں میں خو ن اس لئے آتا ہے کہ مجھے یہ خوف ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے کہ میرا یہ رونا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مقبول بھی ہے یا نہیں ۔ میرے اعمال میرے مولیٰ عزوجل کی بارگاہ میں قبول بھی ہوئے ہیں یا نہیں؟” بس یہی خوف مجھے خون کے آنسو رُلاتا ہے ۔”اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دو بارہ رونے لگے ۔پوری زندگی آپ کی یہی کیفیت رہی او راسی حالت میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا۔وصال کے بعد میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں دیکھا تو عرض کی: ”مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟” آپ نے جواب دیا :” میرے رحیم وکریم پروردگا ر عزوجل نے مجھے بخش دیا ۔”پھر میں نے پوچھا: ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں کا آپ کو کیاصلہ دیا گیا ؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”میرے پاک پرورگار عزوجل نے مجھے اپناقُرب خاص عطا فرمایا اور پوچھا: ”اے فتح مو صلی!تم دنیا میں آنسو کیوں بہایا کرتے تھے ؟” میں نے عرض کی: ”میرے رحیم وکریم پروردگار عزوجل! مَیں اس خوف سے آنسو بہاتا تھا کہ میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہ کیا، تیری اطا عت نہ کرسکا، تیرے اَحکامات پر عمل پیرا نہ ہوسکا۔” پھر اللہ عزوجل نے مجھ سے پوچھا:” تمہارے آنسوؤں میں خون کیوں آتا تھا ؟” میں نے عرض کی:” اے میرے پاک پروردگار عزوجل !مجھے ہر وقت یہ خوف دامن گیر رہتا کہ نہ جانے میرے اَعمال تیری بارگاہ میں مقبول بھی ہیں یا نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ میرے اعمال ا کارت ہوگئے ہوں، بس یہی خوف مجھے خون کے آنسورلاتا تھا ۔”یہ سن کرمیرے پاک پروردگار عزوجل نے ارشاد فرمایا: ”اے فتح موصلی !یہ تیرا گمان تھا کہ تیرے اعمال مقبول ہیں یا نہیں، مجھے میری عزت وجلال کی قسم !چالیس سال سے تمہارے نامہ اعمال میں تم پر نگہبان فرشتوں(یعنی کراماً کاتبین) نے ایک گناہ بھی نہیں لکھا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

ٹوٹی ہو ئی صراحی

حکایت نمبر152: ٹوٹی ہو ئی صراحی

حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، آنکھوں سے آنسوؤں کی بر سات ہورہی تھی، بڑے درد مندانہ اَنداز میں رو رہے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک صراحی ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے جاکر سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا ۔ مجھے دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رونا بند کردیا۔ میں نے عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟ آخر آپ کو ایسا کون ساغم لاحق ہوگیا ہے جس کی وجہ سے آپ اتنی گریہ و زاری کر رہے ہیں؟”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:” آج میں روزے سے تھا ، میری بیٹی یہ صراحی لے کر آئی، اس میں پانی بھرا ہوا تھا ۔اس نے مجھ سے کہا: اے میرے والد گرامی! آج گرمی بہت زیادہ ہے، مَیں یہ صراحی لے کر آئی ہوں تا کہ اس میں پانی ٹھنڈا ہو جائے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ٹھنڈے پانی سے روزہ افطار کریں۔” یہ کہنے کے بعد میری بیٹی نے وہ صراحی ٹھنڈی جگہ رکھ دی ، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں ایک حسین وجمیل عورت دیکھی، اس نے چاندی کی قمیص پہنی ہوئی تھی ، اس کے پاؤں میں ایسی خوبصورت جوتیاں تھیں کہ میں نے آج تک ایسی جوتیاں کہیں نہیں دیکھیں اور نہ ہی ایسے خوبصورت پاؤں کبھی دیکھے۔ وہ میرے پاس اسی دروازے سے اس کمرے میں آئی۔میں نے اس سے کہا :”تُو کس کے لئے ہے ؟” اُس نے جواب دیا : ”مَیں اس کے لئے ہوں جو ٹھنڈے پانی کی خواہش نہ کرے اور صراحی کا ٹھنڈاپانی نہ پئے۔”اِتنا کہنے کے بعد اس نے صراحی کو اپنی ہتھیلیو ں سے گھمانا شروع کیا ۔ میں نے وہ صراحی اس سے لی اور زمین پر دے ماری پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ یہ جو تم سامنے ٹو ٹی ہوئی صراحی دیکھ رہے ہو یہ وہی صراحی ہے ۔”حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :”اس کے بعد حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی نے کبھی بھی ٹھنڈا پانی نہ پیا۔ مَیں جب بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر جاتا تو دیکھتا کہ وہ صراحی اسی طر ح ٹوٹی ہوئی پڑی ہے اور اس پر گرد وغبار کی تہہ جم چکی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس خواب کے بعد صراحی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

کعبۃاللہ شریف پر پہلی نظر

حکایت نمبر151: کعبۃاللہ شریف پر پہلی نظر

حضرت سیدنا حامد اسودعلیہ رحمۃ اللہ الصمد ، حضرت سیدنا ابراہیم خوّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کے عقید ت مندوں میں سے تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کبھی سفر پر روانہ ہوتے تو کسی کو بھی اطلاع نہ دیتے اور نہ ہی کسی کو اپنے ساتھ سفر پر چلنے کے لئے کہتے ۔جب کبھی سفر کا اِرادہ ہوتا تو ایک بر تن اپنے ساتھ لے جاتے جو وضو اور پانی پینے کے لئے استعمال فرماتے ۔

ایک مرتبہ اسی طر ح آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا بر تن اٹھایا اور ایک سمت چل دیئے۔ میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیچھے ہولیا۔ہماراسفرجاری رہاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ سفر مجھ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ ہم کوفہ پہنچ گئے ۔ وہاں ہم نے ایک دن اور ایک رات قیام کیا، پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ”قادسیہ” کی طر ف روانہ ہوئے ۔ جب ہم قادسیہ پہنچے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میری طرف متو جہ ہو کر پوچھنے لگے : ”اے حامد !تم یہاں کیسے آئے ؟” میں نے عرض کی:” حضور! میں آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے ساتھ ساتھ ہی سفرکرتا آرہا ہوں۔میں سارے سفر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ رہاہوں۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” میرا اِرادہ تو حج کرنے کا ہے، اگر اللہ عزوجل نے چاہا تو اب میں مکہ مکرمہ کی طرف جاؤں گا۔” تو میں نے عرض کی :”حضور ! ان شاء اللہ عزوجل میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ مکہ شریف چلوں گا۔” چنانچہ ہم سوئے حرم روانہ ہوئے اور مسلسل دن رات سفر کیا۔

ہمارا سفر اسی طرح جاری وساری تھا۔مکہ مکرمہ قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا۔اچانک ہمیں راستے میں ایک نوجوان ملا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ وہ ہمارے ساتھ ایک دن اور ایک رات سفر کرتا رہا لیکن راستے میں اس نے ایک بھی نماز نہ پڑھی۔یہ دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے کہا:”اے نوجوان !تُو کل سے ہمارے ساتھ ہے لیکن تُونے ایک بھی نماز نہ پڑھی حالانکہ نماز حج سے بھی زیادہ اَہمیت کی حامل ہے۔”اس نوجوان نے جواب دیا: ”اے شیخ! مجھ پر نماز فرض نہیں ۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ”کیا تُو مسلمان نہیں؟ ” اس نے جواب دیا: ”نہیں،بلکہ میں نصرانی ہوں اورمیں اس جنگل بیابان میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ مَیں توکُّل میں کتنا کامل ہوں او رمجھے میرے پروردگار عزوجل پر کتنا بھروسا ہے کیونکہ میرا نفس مجھ سے کہتا ہے کہ تو تو کُّل میں بہت کامل ہے لیکن میں نے نفس کی بات پر یقین نہ کیا اور یہ تہیہ کرلیا کہ اپنے آپ کو آزماؤں گا او رکسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں میرے او رمیرے رب عزوجل کے سوا کوئی نہ ہوپھر وہاں دیکھو ں گا کہ میرے اندر کتنا توکُّل ہے۔ چنانچہ میں اس جنگل بیابان میں آگیا ہوں اوراپنے آپ کو آزمارہا ہوں۔”

اس نوجوان کی یہ بات سن کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اٹھے اور چلتے ہوئے مجھ سے فرمایا: ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔” نوجوان بھی ہمارے ساتھ ہی چلنے لگا۔ حرم شریف سے قریب ”وادی مُرّ’ ‘میں پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے پرانے کپڑے اُتار کر دھوئے پھر وضو کرنے کے بعد اس نوجوان سے پوچھا:” تمہارا نام کیا ہے؟” اس نے جواب دیا: ” عبدا لمسیح” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” اے عبدالمسیح! اب حرم شریف کی حد شرو ع ہونے والی ہے اور کفار کا داخلہ حرم شریف میں حرام ہے۔

جیسا کہ اللہ عزوجل نے اپنی آخری کتا ب قرآن کریم میں ارشا د فرمایا:

اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ۚ

ترجمہ کنزالایمان:مشرک نرے ناپاک ہیں تواس برس کے بعدوہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔( پ10، تو بہ :28)

لہٰذا تم اب یہیں رکو اور ہر گزہرگز حرم شریف میں داخل نہ ہونا اگر تم داخل ہوئے تو ہم حُکّام سے تمہاری شکایت کر دیں گے ۔”

اِتنا کہنے کے بعد ہم نے اس نوجوان کو وہیں چھوڑ ا اور ہم مکہ مکرمہ کی نور بار مشکبار فضاؤں میں داخل ہوگئے ۔پھر ہم میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں حاجیوں کا ہجوم تھا اچانک ہم نے اسی نوجوان کو میدانِ عرفات میں دیکھا اس نے حاجیوں کی طر ح اِحرام باندھا ہوا تھا اور بے تا بانہ نظر وں سے کسی کو تلاش کر رہا تھا جونہی اس نے ہمیں دیکھا فوراً ہمارے پاس چلا آیا اور حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی کو بوسہ دینے لگا۔ یہ صورتحال دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:” اے عبد المسیح! تم یہاں کیسے آگئے ؟” اس نوجوان نے عرض کی:”حضور! اب میرا نام عبد المسیح نہیں بلکہ عبد اللہ ہے (یعنی اب وہ عیسائی مسلمان ہو چکا تھا)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اپنا پورا واقعہ بیان کر وکہ تم کس طرح مسلمان ہوئے، تمہاری زندگی میں یہ انقلاب کیسے آیا ؟” اس نوجوان نے عرض کی:” حضور! جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے چھوڑ کر آگئے تھے تو میں وہیں موجود رہا اور میرے دل میں یہ خواہش مچلنے لگی کہ آخر مَیں بھی تو دیکھوں کہ وہ مکہ مکرمہ کیسی جگہ ہے جس کی طرف مسلمان سفر و ہجر کی صعوبتیں بر داشت کر کے ہر سال حج کے لئے آتے ہیں۔آخر اس میں ایسی کیا عجیب بات ہے ۔” اسی خواہش کی بناء پر میں نے بھیس بدلا اورمسلمانوں جیسی حالت بنالی۔ میری خوش قسمتی کہ وہا ں ایک قافلہ پہنچاجو”حرمین شریفین ” آرہا تھا ۔ میں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور ا س قافلے میں شامل ہوگیا۔

جوں جوں ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ سے قریب ہوتا جارہا تھا میرے دل کی دنیا بدلتی جارہی تھی۔ عجیب وغریب کیفیت کا عالم تھاپھر جونہی میری نظر ”خانہ کعبہ” پر پڑی تو میرے دل سے تمام اَدیان باطلہ کی محبت نکل گئی اور ”دینِ اسلام ”کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی۔مَیں نے فوراً”عیسائیت ”سے توبہ کر کے محمد رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی غلامی اِختیار کرلی اور مسلمان ہوگیا ۔اس وقت میرا دل بہت خوشی محسوس کر رہا تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد میں نے غسل کیا احرام باندھا اور دعا کی:” اے اللہ عزوجل! آج میری ملاقات حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہوجائے ۔” بارگاہِ خداوندی عزوجل میں میری دعا قبول ہوئی اور میں اب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوں ۔”حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت خوش ہوئے۔ اسے خوب شفقتوں اور محبتوں سے نوازا۔پھر ہماری طرف متو جہ ہوئے اور فرمایا:” اے حامد ! دیکھ لو سچائی میں کتنی برکت ہے۔ اس نوجوان کو حق کی تلاش تھی اور یہ اپنی طلب میں سچا تھا لہٰذا اسے حق مل گیا یعنی یہ اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگیا ۔” پھر وہ نوجوان ہمارے ساتھ ہی رہنے لگا اور بہت بلند مرتبہ حاصل کیا ۔ بالآ خر وہ دارِ فناسے دارِ بقاء کی طرف روانہ ہوگیا ۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حکایت نمبر150: بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، مجھ سے حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اِیمان لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : مَیں” اصبہان” کے ایک گاؤں میں رہتاتھا، میرا باپ ایک بڑا جاگیردار تھا اور وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا، میں اس کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارا تھا۔ اسی محبت کی وجہ سے وہ مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیتا، ہر وقت مجھے گھر ہی میں رکھتا، میری خوب دیکھ بھا ل کرتا،میرے باپ کی یہ خواہش تھی کہ مَیں پکا مجوسی (یعنی آتش پرست) بنوں کیونکہ ہمارا آبائی مذہب ”مجوسیت” ہی تھاا ور میرا باپ پکا مجوسی تھا۔ وہ مجھے بھی اپنی ہی طر ح بنانا چاہتا تھا لہٰذا اس نے میری ذمہ داری لگا دی کہ میں آتش کدہ میں آگ بھڑکاتا رہوں اور ایک لمحہ کے لئے بھی آگ کو نہ بجھنے دو ں۔ میں اپنی ذِمہ داری سر انجام دیتا رہا۔ ایک دن میرا باپ کسی تعمیری کام میں مشغول تھا جس کی وجہ سے وہ زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا تھا۔

چنانچہ میرے باپ نے مجھے بلایا اور کہا: ”ا ے میرے بیٹے !آج میں یہاں بہت مصروف ہوں اور کھیتوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا ۔ آج وہاں تُو چلا جا او رخادموں کو فلاں فلاں کام کی ذمہ داری سونپ دینا اور ان کی نگرانی کرنا، اِدھر اُدھر کہیں متوجہ نہ ہونا، سیدھااپنے کھیتوں پرجانا ہے اور کام پورا ہونے کے فوراً بعدواپس آجانا۔” اپنے باپ کا حکم پاتے ہی میں اپنی زمینوں کی طرف چل دیا۔ راستے میں عیسائیوں کا عبادت خانہ تھا۔ جب میں اس کے قریب سے گزرا تو مجھے اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔وہاں کچھ راہب نماز میں مشغول تھے۔ میں جب اندر داخل ہوا اور ان کااندازِ عبادت مجھے بڑا انوکھااوراچھا لگامیں نے پہلی مرتبہ اس انداز میں کسی کو عبادت کر تے ہوئے دیکھا تھا۔میں چونکہ زیادہ تر گھر ہی میں رہتاتھا اس لئے لوگو ں کے معاملات سے آگاہ نہ تھا۔ اب جب یہاں ان لوگوں کو دیکھا کہ یہ ایسے انداز میں عبادت کر رہے ہیں جو ہم سے بالکل مختلف ہے تو میرا دل ان کی طر ف راغب ہونے لگا اور مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا۔

میں نے دل میں کہا :” خدا عزوجل کی قسم! ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے اچھا ہے ۔” پھر میں سارادن انہیں دیکھتا رہا اور اپنے کھیتوں پر نہیں گیا۔ جب تاریکی نے اپنے پر پھیلانا شروع کئے تو میں ان لوگو ں کے قریب گیا اور ان سے پوچھا: ” تم جس دین کو مانتے ہو اس کی اصل کہاں ہے؟ یعنی تمہارا مرکز کہاں ہے؟ ” انہوں نے بتا یا:” ہمارا مرکز” شام” میں ہے۔” پھرمیں گھر چلا آیا۔ میرا باپ بہت پریشان تھا کہ نہ جانے میرا بچہ کہا ں گم ہوگیا؟ اس نے میری تلاش میں کچھ لوگوں کو آس پاس کی بستیوں میں بھیج دیا تھا۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے باپ نے بے تاب ہوکر پوچھا:” میرے لال! تُو کہاں چلا گیا تھا؟ ہم تو تیری وجہ سے بہت پریشان تھے۔ ”میں نے کہا :”میں اپنی زمینوں کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں کچھ لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا ، مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا چنانچہ میں شام تک انہی کے پاس بیٹھا رہا۔”
یہ سن کر میرا باپ پریشان ہوااور کہنے لگا :”میرے بیٹے !ان لوگوں کے مذہب میں کوئی بھلائی نہیں۔ جس مذہب پر ہم ہیں اورجس پر ہمارے آباؤ اجدادتھے وہی سب سے اچھا ہے لہٰذا تم کسی اور طرف تو جہ نہ دو۔”میں نے کہا:” ہر گز نہیں، خداعزوجل کی قسم !ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے بہت بہتر ہے۔ ”میری یہ گفتگو سن کر میرے باپ کو یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں میرا بیٹا مجوسیت کو چھوڑ کرنصرانی مذہب قبول نہ کرلے۔ اسی خوف کے پیشِ نظر اس نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈالوا دیں اورمجھے گھر میں قید کر دیا تا کہ میں گھر سے باہر ہی نہ نکل سکوں۔ مجھے ان راہبوں سے بہت زیادہ عقیدت ہو گئی تھی۔ میں نے کسی طر یقے سے ان تک پیغام بھجوایا کہ جب کبھی تمہارے پاس ملکِ شام سے کوئی قافلہ آئے تو مجھے ضرور اطلاع دینا۔
چند رو ز بعد مجھے اِطلاع ملی کہ شام سے راہبوں کا ایک قافلہ ہمارے شہر میں آیا ہوا ہے۔ میں نے پھر راہبوں کو پیغام بھجوایا کہ جب یہ قافلہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد واپس شام جانے لگے تو مجھے ضرور اطلاع دینا ۔کچھ دن بعد مجھے اِطلاع ملی کہ قافلہ واپس شام جارہا ہے ۔میں نے بہت جدو جہد کے بعداپنے قدموں سے بیڑیاں اُتا ریں اور فوراً شام جانے والے قافلے کے ساتھ جا ملا ۔ مُلکِ ”شام ”پہنچ کر میں نے لوگوں سے پوچھا:” تم میں سب سے زیادہ معزز اورصاحب ِعلم وعمل کون ہے ؟” لوگوں نے بتا یا:”فلاں کنیسہ(یعنی عبادت خانہ) میں رہنے والا راہب ہم میں سب سے زیادہ قابل اِحترام اور سب سے زیادہ متقی و پر ہیز گار ہے ۔”چنانچہ میں اس راہب کے پاس پہنچا اور کہا:” مجھے آپ کا دین بہت پسند آیا ہے ، اب میں اس دین کے بارے میں کچھ معلومات چاہتا ہوں۔ اگر آپ قبول فرمالیں تومیں آپ کی خدمت کیا کروں گا اور آپ سے اس دین کے متعلق معلومات بھی حاصل کرتا رہوں گا۔ برائے کرم !مجھے اپنی خدمت کے لئے رکھ لیجئے ۔”
یہ سن کر اس راہب نے کہا:” ٹھیک ہے، تم بخوشی میرے ساتھ رہو اور مجھ سے ہمارے دین کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔”چنانچہ میں اس کے ساتھ رہنے لگا لیکن وہ راہب مجھے پسند نہ آیا۔وہ بہت بُرا شخص تھا، لوگو ں کو صدقات وخیرات کی ترغیب دلاتا ۔ جب لوگ صدقات وخیرات کی رقم لے کر آتے تو یہ اس رقم کو غریبو ں اور مسکینوں میں تقسیم نہ کرتا بلکہ اپنے پاس ہی جمع کرلیتا ۔ اس طرح اس بد با طن راہب نے بہت سارا خزانہ جمع کرکے سونے کے بڑے بڑے سات مٹکے بھر لئے تھے ۔ مجھے اس کی ان حرکتوں پر بہت غصہ آتا بالآخرجب وہ مرا تو لوگو ں کا بہت بڑا ہجوم اس کی تجہیز وتکفین کے لئے آیا ۔ میں نے لوگو ں کو بتایا: ” جس کے بارے میں تمہارا گما ن تھا کہ وہ سب سے بڑا راہب ہے وہ تو بہت لالچی اور گندی عادتو ں والا تھا۔ ” لوگ کہنے لگے :” یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ راہب بُر ا شخص تھا؟” میں نے کہا : ”اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں آتاتو میرے ساتھ چلو، میں تمہیں اس کامال ودولت اور خزانہ دکھاتا ہوں جو وہ جمع کرتا رہااورفقراء ومساکین اوریتیموں پر خرچ نہ کیا ۔” لوگ میرے ساتھ چل دیئے۔ میں نے انہیں وہ مٹکے دکھائے جن میں سونا بھر اہوا تھا ۔ انہوں نے وہ مٹکے لئے اور کہا:” خدا عزوجل کی قسم !ہم اس راہب کو دفن نہیں کریں گے ۔” پھر انہوں نے اس کے مردہ جسم کو سولی پر لٹکایا اور پتھر مار مار کر چھلنی کردیا پھراس کی لاش کو بے گور وکفن پھینک دیا۔ اس کے بعد لوگو ں نے ایک اور راہب کواس کی جگہ منتخب کرلیا۔ وہ بہت اچھی عادات وصفات کا مالک اورانتہائی متقی وپرہیز گار شخص تھا، طمع ولا لچ اس میں بالکل نہ تھی، دن رات عبادت میں مشغول رہتا۔ دُنیوی معاملات کی طر ف بالکل بھی تو جہ نہ دیتا ،میرے دل میں اس کی عقیدت ومحبت گھر کر گئی۔ میں نے اس کی خوب خدمت کی اوراس سے نصرانیت کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا ۔
جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کر تے ہیں ؟ آپ کے بعد میری رہنمائی کون کریگا ؟” وہ راہب کہنے لگا :” اے میرے بیٹے! اللہ عزوجل کی قسم! جس دین پر میں ہوں اس میں سب سے بڑا عالم وفقیہہ ایک شخص ہے جو ” موصل ” میں رہتا ہے۔میرے نزدیک اس سے بہتر کوئی نہیں جو تمہاری رہنمائی کر سکے، اگرتم سے ہوسکے تو اس کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ ۔” راہب کی یہ بات سن کر میں موصل چلا گیا اوروہاں کے راہب کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے واقعی اسے ایسا پایا جیسا اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ وہ بہت نیک وزاہد شخص تھا ۔چنانچہ میں اس کے پاس رہنے لگا پھر جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کاحکم دیتے ہیں جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟”اس نے جواب دیا : ” اللہ عزوجل کی قسم! اس وقت ہمارے دین کا سب سے بڑا باعمل عالم ” نصیبین ”میں رہتا ہے ۔میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی اور نہیں،اگر ہوسکے تو اس کے پاس چلے جاؤ ۔”
چنانچہ میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہوا ”نصیبین ” پہنچا اور اس راہب کے پاس رہنے لگا۔ وہ بھی نہایت متقی وپرہیزگار شخص تھا ، جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے پوچھا: ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں ؟ ”اس نے کہا: ”اس وقت ہمارے دین پر قائم رہنے والوں میں سب سے بڑا باعمل راہب ” عموریہ ” میں رہتا ہے، میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی نہیں، تم اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہاری صحیح رہنمائی کریگا۔” چنانچہ میں ”عموریہ” پہنچا اور اس راہب کی خدمت میں رہنے لگا ۔ وہ واقعی بہت نیک وصالح شخص تھا ۔ میں اس سے دینِ نصاری کے بارے میں معلومات حاصل کرتا اور دن کوبطورِ اجیر(یعنی مزدور) ایک شخص کے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا۔اس طرح میرے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی کہ میں نے کچھ گائے اور بکریا ں وغیرہ خرید لیں ۔ پھر جب اس راہب کی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا:”آپ مجھے کس کے پاس بھیجیں گے جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟ ”
اس راہب نے کہا:” اے میرے بیٹے! اب ہمارے دین پر قائم رہنے والا کوئی ایسا شخص نہیں جس کے پاس میں تجھے بھیجوں۔ ہاں! اگر تم نجات چاہتے ہو تو میری بات تو جہ سے سنو: اب اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جلوہ گری کا وقت بہت قریب آگیا ہے جو دینِ ابراہیمی لے کر آئے گا۔ وہ سر زمین عرب میں مبعوث ہوگا اور کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت فرمائے گا ۔ اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی کچھ واضح نشانیاں یہ ہیں:”(۱) ۔۔۔۔۔۔وہ ہدیہ قبول فرمائیں گے (۲)۔۔۔۔۔۔ لیکن صدقے کا کھانا نہیں کھائیں گے اور (۳)۔۔۔۔۔۔ اُن کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی ۔”
اگر تم اُس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کازمانہ پاؤ تو ان کے پاس چلے جانا ان شاء اللہ عزوجل تم دنیا وآخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے ۔اے میرے بیٹے !تم اس رحمت والے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ضرور ملنا ۔ اِتنا کہنے کے بعد اس راہب کا بھی اِنتقال ہوگیا۔پھرجب تک میرے رب عزوجل نے چاہا میں”عموریہ” میں ہی رہا۔پھر مجھے اِطلاع ملی کہ قبیلہ ”بنی کلب ”کے کچھ تاجر عرب شریف جارہے ہیں تو میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا: ”میں بھی تمہارے ساتھ عرب شریف جانا چاہتاہوں، میرے پاس کچھ گائیں اور بکریاں ہیں،یہ سب کی سب تم لے لو او رمجھے عرب شریف لے چلو۔” ان تاجروں نے میری یہ بات منظور کرلی اور میں نے انہیں تمام گائیں اور بکریاں دے دیں ۔چنانچہ ہمارا قافلہ سوئے عرب روانہ ہوا۔ جب ہم وادی ”قُرٰی” میں پہنچے تو ان تا جروں نے مجھ پر ظلم کیا اور مجھے جبراً اپنا غلام بنا کر ایک یہودی کے ہاتھوں فر وخت کردیا۔
یہودی مجھے اپنے علاقے میں لے گیا ۔وہا ں میں نے بہت سے کجھوروں کے درخت دیکھے تو میں سمجھا کہ شاید یہی وہ شہر ہے جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے کہ نبی آخر الزّماں، سلطان ِدو جہاں ،محبوبِ رب الانس والجاں عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہاں تشریف لائیں گے ۔ چنانچہ میں اس یہودی کے پاس رہنے لگا اور اس کی خدمت کرنے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد اس یہودی کا چچا زاد بھائی مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے اس کے پاس آیا۔ اس کا تعلق قبیلہ ”بنی قریظہ” سے تھا ۔یہودی نے مجھے اس کے ہاتھوں فر وخت کردیا ۔ وہ مجھے لے کر مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً کی طر ف روانہ ہوگیا۔ خدا عزوجل کی قسم! جب میں مدینہ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں پہنچا تو میں نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا کہ یہی جگہ میری عقیدتوں کا محور ومرکز ہے۔ یہی وہ پاکیزہ شہر ہے جس میں نبی آخر الزماں، سلطانِ دو جہاں ، سرور کون ومکاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری ہوگی۔ جو نشانیاں راہب نے مجھے بتائی تھیں کہ وہاں بکثر ت کھجوریں ہوں گی ،وہ میں نے وہاں پالی تھیں ۔
اب مَیں منتظر تھا کہ کب میرے کانوں میں یہ صدا گونجے کہ اس پاکیزہ ہستی نے اپنے جلوؤں سے مدینہ منورہ کو نور بارکردیا ہے جس کی آمد کی خبر سابقہ آسمانی کتب میں دی گئی ہے ۔
بالآخر اِنتظار کی گھڑیاں ختم ہو ئیں۔ ایک دن میں کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا تھا اور میرا مالک نیچے بیٹھا تھا ۔ اس کا چچا زاد بھائی آیا اور کہنے لگا:” اللہ عزوجل فلاں قبیلے (یعنی اوس وخزرج ) کو برباد کرے ،وہ لوگ مقام ”قباء ”میں جمع ہیں او رایک ایسے شخص کا دین قبول کرچکے ہیں جومکہ مکرمہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے آیا ہے اور وہ اپنے آپ کو اللہ عزوجل کا نبی کہتا ہے۔اس قبیلے (یعنی اوس وخزرج) کے اکثر لوگ اپنے آباء واجداد کادین چھوڑکر اس پر ایمان لاچکے ہیں۔” جب میں نے اپنے مالک کے چچازاد بھائی کی یہ بات سنی تو میں خوشی کے عالم میں جھوم اٹھا۔قریب تھا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر پڑتا لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور جلدی جلدی نیچے اُترا۔ پھر پوچھا: ”ابھی تم نے کیا بات کہی ہے؟ اور کون شخص مکہ سے آیا ہے ؟” میری یہ بات سن کر میرے مالک کو بہت غصہ آیا اور اس نے مجھے ایک زوردار طمانچہ مارا اور کہا:” تمہیں ہماری باتوں سے کیا مطلب؟ جاؤ! ”جا کر اپنا کام کرو ۔”
میں نے کہا : ”میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا ۔”یہ کہہ کر میں دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ میرے پاس کچھ رقم بچی ہوئی تھی۔ ایک دن موقع پاکر میں بازار گیا، کچھ کھانے پینے کی اشیاء خریدیں اور بے تا ب ہوکراس رخِ زیبا کی زیارت کے لئے قباء کی طر ف چل دیا جس کے دیدار کی تمنانے مجھے فارس سے مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً تک پہنچا دیا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے ان کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہوکر عرض کی: ”اے اللہ عزوجل کے بندے! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ اللہ عزوجل کے برگزیدہ بندے ہیں اور آپ کے اصحاب میں اکثر غریب اورحاجت مند ہیں، میں کچھ اشیائے خورد ونوش لے کر حاضر ہوا ہوں ، میں یہ اشیاء بطورِ صدقہ آپ کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں، آپ قبول فرمالیں۔”
یہ سن کراس پاکیزہ ومطہر ہستی نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”آؤ! اوریہ چیزیں کھالو ۔” لوگ کھانے لگے او رآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ یہ دیکھ کر میں نے دل میں کہا: ”ایک اور نشانی تو میں نے پالی ہے۔” پھر کچھ دنوں کے بعد میں کھانے کا کچھ سامان لے کر حاضر خدمت ہوا اور عرض کی: ”حضور! یہ کچھ کھانے کی چیزیں ہیں، انہیں بطور ِہدیہ قبول فرمالیں۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ کھایا اور اپنے اصحاب کو بھی اپنے ساتھ کھانے کا حکم فرمایا ۔ میں نے دل میں کہا :” یہ دوسری نشانی بھی پوری ہوگئی ہے۔”
پھر ایک دن میں جنت البقیع کی طر ف گیا تو دیکھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وہا ں موجود ہیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جسمِ اَطہر پر دو چادر یں ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گرد ا س طرح جمع ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے جمع ہوتے ہیں۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا اور پھر ایسی جگہ بیٹھ گیا جہاں سے میری نظرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پشت مبارک پر پڑے تاکہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک شانوں کے درمیان مہرِنبوت کو دیکھ سکوں کیونکہ مجھے راہب نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ سب کی سب میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذات میں دیکھ لی تھیں۔ بس آخری نشانی (یعنی مہرِ نبوت) دیکھنا باقی تھی ۔ میں بڑی بے تابی سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف دیکھ رہا تھا جب نبی غیب داں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میری یہ حالت دیکھی تو میرے دل کی بات جان لی اور میری طرف پیٹھ پھیرکر مبارک شانوں سے چادر اُتارلی جیسے ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چادر ہٹائی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہرِ نبوت جگمگارہی تھی۔ مَیں دیوانہ وار آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طر ف بڑھا اور مہرِ نبوت کو چُومنا شروع کردیا۔ مجھ پر رقت طاری ہوگئی ،بے اِختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ آج میری خوشی کی اِنتہاء نہ تھی جس کے روئے زیبا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مَیں نے اِتنی مصیبتیں اور مشقتیں جھیلیں آج وہ نورِمجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے سامنے موجود تھے اور میں ان کے جلوؤں میں اپنے جسم کومنور ہوتا دیکھ رہا تھا ۔
میں نے فوراً حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:”اے میرے محبوب آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیجئے اوراپنے غلاموں میں شامل فرمالیجئے۔” پھر الْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلّ َ مَیں مسلمان ہوگیا ۔میں ابھی تک حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مہرِ نبوت کو بو سے دے رہا تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:” اب بس کرو۔” چنانچہ میں ایک طرف ہٹ گیا، پھر میں نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنی ساری رُوداد سنائی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان بہت حیران ہوئے کہ میں کس طرح یہاں تک پہنچااورمیں نے کتنی مشقتیں برداشت کیں۔
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا:” اے سلمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! تم اپنے مالک سے مکاتبت کرلو( یعنی اسے رقم دے کر آزادی حاصل کرلو) جب حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مالک سے بات کی تو اس نے کہا :” مجھے تین سو کھجوروں کے درخت لگا دو اور چالیس اوقیہ چاندی بھی دو پھر جب یہ کھجور یں پھل دینے لگ جائیں گی تو تم میری طرف سے آزاد ہوجاؤگے ۔”
میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بیکس پنا ہ میں حاضر ہوا اور اپنے مالک کی شرطیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بتائیں ۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو ۔” چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھرپور تعاون کیا، کسی نے کھجوروں کے 30پودے لاکر دیئے، کسی نے 50 ۔ الغرض !مددگار صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مدد سے میرے پاس 300کھجوروں کے پودے جمع ہوگئے ۔

پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے سلمان فارسی( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !تم جاؤ او رزمین کو ہموار کرو۔” چنانچہ میں گیا اور زمین کو ہموار کرنے لگا تا کہ وہاں کھجور کے پودے لگائے جاسکیں ۔ ا س کام سے فارغ ہو کر میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں نے زمین ہموار کر دی ہے۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے ساتھ چل دیئے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہمراہ تھے ۔ ہم حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو کھجوروں کے پودے اُٹھا اُٹھا کر دیتے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے دستِ اقدس سے اسے زمین میں لگاتے جاتے ۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں سلمان فارسی ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی جان ہے ! حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جتنے پودے لگائے وہ سب کے سب اُگ آئے اور ان میں بہت جلد پھل لگنے لگے ۔”چنا نچہ میں نے 300کھجوریں اپنے مالک کے حوالے کیں۔ ابھی میرے ذمہ 40اوقیہ چاندی باقی رہ گئی تھی ؟پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس کسی نے مرغی کے انڈے جتنا سونے کا ایک ٹکڑا بھجوایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسارفرمایا: ”سلمان فارسی کا کیا ہوا ؟ ” پھر مجھے بلواکر فرمایا:”اسے لے جاؤ،اور اپنا قرض اداکرو۔”میں نے عرض کی :”ابھی 40 اوقیہ چاندی اور دینی ہے ،پھر مجھے غلامی سے آزادی ملے گی۔ ” 

حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے وہ سونے کا ٹکڑا دیا اورفرمایا:” جاؤ! او راس کے ذریعے 40اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ باقی ہے، اسے ادا کرو ۔” میں نے عرض کی:”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! یہ اِتنا سا سونا 40اوقیہ چاندی کے برابر کس طر ح ہوگا ؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”تم یہ سونا لو اور اس کے ذریعے 40 اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ ہے، اسے ادا کرو، اللہ عزوجل تمہارے لئے اسی سونے کو کافی کردے گااور تمہارے ذِمہ جتنی چاندی ہے یہ اس کے برابر ہوجائے گا ۔” میں نے وہ سونے کا ٹکڑا لیااوراس کا وزن کیا۔ اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! وہ تھوڑا سا سونا 40 اوقیہ چاندی کے برابر ہوگیا او راس طرح میں نے اپنے مالک کو چاندی دے دی اور غلامی کی قید سے آزاد ہوکر سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غلاموں میں شامل ہوگیا۔ پھر میں غزوہ خندق میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ شامل ہوا ۔اس کے بعد میں ہر غزوہ میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ رہا ۔

(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث سلمان الفارسی، الحدیث۲۳۷۹۸،ج۹،ص۱۸۵تا۱۸۹)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااندازِ دعا

حکایت نمبر149: حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کااندازِ دعا

حضرت سیدنا محمد بن محمود سمر قندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں ،زمانے کے مشہور ولی حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ علیہ رحمۃ اللہ الجباربارگاہِ خداوندی عزوجل میں اس طرح دعاکرتے :” اے میرے پروردگار عزوجل! میں تجھ سے اس زبان کے ذریعے دعا کرتا ہوں جو تُونے مجھے عطا کی ہے ، میرے مولیٰ عزوجل! تُو اپنے فضل وکرم سے میری دعا قبول فرما ۔ اے میرے پروردگار عزوجل! تُومجھے ہر حال میں رزق عطا فرماتا ہے اور ہر مصیبت میں میرامددگار تُو ہی ہے ، اے میرے مولیٰ عزوجل! میں تیری عظمتوں اور رحمتوں کو دل وجان سے ماننے والا ہوں، میں تیری عظمت کا مُعترِف ہوں، میرے پاس یہی دلیل وآسرا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میری تجھ سے محبت تیری بارگاہ میں میرے لئے شفیع ہے ۔ اے رحیم وکریم مولیٰ عز وجل! تُو نے ہمیں بغیرمانگے محض اپنے فضل وکرم سے ایمان کی دولت سے نوازا، دولت ایمان سب سے بڑی دولت ہے۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !جب ہم تجھ سے کوئی چیز مانگیں تُو ہمیں ضرور عطا فرما ئے گا ، جب بغیر مانگے تُو اتنی بڑی بڑی نعمتیں عطا فرماتا ہے تو مانگنے پربھی تُو ضرور ہماری حاجتیں پوری کریگا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! تُو ہم سے عفو ودر گزر والا معاملہ فرما ۔ اے میرے پاک پروردگار عزوجل !اگر معاف کرنا تیری صفت نہ ہوتی تواہل معرفت کبھی بھی تیری نافرمانی نہ کرتے۔ جب ایک لمحے کا ایمان پچاس سال کے کفر کو مٹا دیتا ہے اور انسان کو کفر کی پُرانی سے پُرانی گندگی سے پاک کردیتا ہے تو پچا س سال کا ایمان گناہوں کو کیسے نہیں مٹا ئے گا۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !مَیں اس با ت کی اُمیدرکھتا ہوں کہ جو ایمان اپنے سے قبل کفر جیسی گندگی کو انسان سے لمحہ بھر میں دور کردیتا ہے اور ایمان کی بدولت انسان کفر جیسی بیماری سے نجات پاجاتا ہے تو یہی ایمان اپنے مابعد گناہوں کو ضرور مٹا دے گا، چاہے گناہ کتنے ہی بڑے ہوں اِیمان کی بدولت ضرور معاف کردیئے جائیں گے ۔
اے الٰہی عزوجل !تیری ذات تو وہ عظیم ذات ہے کہ اگر کوئی تجھ سے نہ مانگے توتجھے اس پر جلال آتا ہے،میں تو تجھ سے مانگ رہا ہوں۔ لہٰذا میری دعا رَدْنہ کرنابلکہ قبول فرمالینا۔ اے میرے پاک پروردگار عزوجل !مجھ پر ہر گھڑی نظرِ رحمت فرما، میرے پاس بس ایک ہی حجت ودلیل ہے کہ میں تیری عظمتوں اور تیری تمام صفات کا معترف ہوں ۔اے اللہ عزوجل! اسی حجت کے سبب میری مغفرت فرمادے ۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! میرا اس بات پر یقینِ کامل ہے کہ میرا اور تمام جہاں کا پالنے والاتُو ہی ہے، اے اللہ عزوجل !میں اپنے آپ کو تیری رحمتوں کے سائے میں پاتا ہوں، تیری رحمت کی جلوہ گری ہر طرف ہے ۔ اے میرے پاک پرور دگار عزوجل! میں تجھ سے اس حال میں دعا کر رہا ہوں کہ میرے گناہوں سے لِتھڑے ہوئے ہاتھ دعا کے لئے پھیلے ہوئے ہیں اور آنکھیں تیری رحمت او رتیرے عفو وکر م کی اُمید سے بھیگی ہوئی ہیں ۔
ا ے میرے مولیٰ عزوجل !میری دعا قبول فرمالے کیونکہ تُوتوبُر د بار اور بخشنے والا مالک ہے ، میرے حال پر رحم فرما کیونکہ میں تو ایک کمزور و عاجز بندہ ہوں ۔اے میرے مولیٰ عزوجل !جب تجھ سے ڈرنے میں دل کو سرور و کیف حاصل ہوتا ہے تو جس وقت تُو ہم سے راضی ہوجائے گا اور ہمیں جہنم سے آزادی کا پر وانہ عطا فرمادے گا تو اس وقت ہمیں کتنا کیف وسرورحاصل ہوگا ۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !جب دُنیوی زندگی میں تیری تجلیات میں اورتیری رحمتوں کے سائے تلے ہم کسی محفل میں تیرا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں کتنا سرور ملتا ہے، توجب ہم اُخروی زندگی میں تیرے جلوؤں اور دیدار سے مشرف ہوں گے اس وقت ہماری خوشی اور کیف وسرور کا کیا عالم ہوگا۔اے اللہ عزوجل !جب ہم دنیاوی زندگی میں عبادات وریاضات کر کے خوش ہوتے ہیں اور مصیبتوں پر صبر کر کے خوش ہوتے ہیں تو جس وقت ہمیں آخرت میں بخششیں، مغفر تیں اور نعمتیں عطا ہوں گی اس وقت ہماری خوشی کا کیا عالم ہوگا ؟ جب ہم دنیا میں تیرے ذِکرکی لذت سے مَسْرور وشاداں ہوتے ہیں تو جس وقت اُخروی زندگی شر وع ہوگی اس وقت ہماری خوشی اور سرور کاعالم کیا ہوگا۔
اے میرے پاک پروردگار عزوجل! مجھے اپنے اَعمال پر بھروسا نہیں کہ میں ان کی وجہ سے بخشاجاؤ ں گا مجھے تو بس تیری رحمت سے اُمید ہے کہ تو مجھے ضروربالضرور بخشے گا مجھے تیری رحمت سے قوی اُمید ہے۔ اعمال میں اِخلاص شر ط ہے کیا معلوم کہ میرے اَعمال میں اِخلاص ہے بھی یا نہیں ؟ پھر میں کیوں نہ ڈروں اس بات سے کہ ہوسکتا ہے میرے اعمال تیری بارگاہ میں قبول ہی نہ ہوں۔اے اللہ عزوجل !میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میرے گناہ محض تیری رحمت ہی سے بخشے جائیں گے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تُو گناہوں کو معا ف نہ کرے حالانکہ توُتو جوادوغفار ہے تو ضروربالضرور میرے گناہوں کو بخشے گا۔
یا الٰہی عزوجل !مجھے اس وقت تک دنیا سے نہ اٹھا نا جب تک تُو مجھے اپنی ملاقات کا خوب شوق عطا نہ فرمادے۔ جب میں دنیا سے جاؤں تو میرے دل میں تجھ سے ملاقات کا شوق مچل رہا ہو ، تیری زیارت کے لئے میرا دل بے قرار ہو، تیرے جلوؤں میں گم ہونے کے لئے میری روح تڑپ رہی ہو۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !میرے پاس ایسی زبان نہیں جوتیری خوبیاں بیان کرسکے اور نہ ہی کوئی ایسا عمل ہے جسے میں حجت ودلیل بناسکوں اور اس کے ذریعے تیرا قُرب حاصل کر سکوں۔ میرے گناہوں کی کثرت نے مجھے بولنے سے عاجز کر دیا ہے اور میرے عیوب کی وجہ سے میری قوت بیانی ختم ہوچکی ہے۔
اے میرے پاک پروردگار عزوجل! میرے پاس کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیری بارگاہ میں وسیلہ بنا سکوں ،نہ ہی کوئی ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے میری کو تاہیاں معاف ہوجائیں ۔البتہ ! یہ بات ضرور ہے کہ میں تیری رحمت سے قوی اُمید رکھتا ہوں کہ تو مجھے ضرور بخشے گا تو ضرور مجھ پر احسان فرمائے گا اورمیں تیری ملاقات کو پسند کرتا ہوں۔ میرا یہ عمل بھی مجھے تیری بارگاہ سے ضرور مغفرت دِلوائے گا۔ یااللہ عزوجل! میں تجھے تیرے فضل وکرم کا واسطہ دیتا ہوں تُو میری غلطیوں اور کوتا ہیوں سے در گز ر فرما ۔ الٰہی عزوجل ! میری دعا کو قبول فرمالے اگر تُو قبول فرمالے گا تو میرے سارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ تیرے دریائے رحمت کا ایک قطرہ میرے تمام گناہوں کی سیاہی دھو ڈالے گا ۔ اے میرے مالک ومختار رب عزوجل !تُو نے ہم پر اپنی عبادت لازم فرمائی حالانکہ تُو ہماری عبادت کا محتاج نہیں بلکہ توُ تو بے نیازہے، ہماری عبادت کی تجھے کوئی حاجت نہیں لیکن اے میرے مولیٰ عزوجل! میں تجھ سے مغفرت کا طالب ہوں او رمیں مغفرت کا محتاج ہوں۔ اپنے کرم سے میری اس حاجت کو پورا فرمادے اور میری مغفرت فرما۔
اے میرے پیارے اللہ عزوجل! تُو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرو ں حالانکہ تجھے میری محبت کی کوئی حاجت نہیں۔ا ے میرے مولیٰ عزوجل !میں تجھ سے محبت کیوں نہ کرو ں حالانکہ توُ تو میرا پیدا کرنے والاہے اور مجھے تیری محبت کی حاجت ہے ،تیری محبت کے بغیرمیرا گزارہ ہی نہیں ہو سکتا پھر میں تجھ سے محبت کیوں نہ کروں۔
اے میرے مولیٰ عزوجل !میں تیرا اَدنیٰ وحقیر بندہ ہوں، میں تجھ سے محبت کرتا ہوں،میں نے تیرا دَر لازم کرلیا ہے اب کسی اور کی طر ف ہر گز ہرگز اِلتفات نہ کروں گا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !میرے دل میں یہ بات اچھی طرح گَھر کرچکی ہے کہ تیری رحمت کے سہارے میں ضرور بخشا جاؤں گا مجھے تجھ سے قوی اُمید ہے ۔پھریہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تجھ سے اُمید رکھوں پھر بھی میری مغفرت نہ ہو۔
میرا اس پاک پروردگار عزوجل پر پختہ یقین ہے جو دنیاوی زندگی میں ہماری کوتاہیوں کے با وجود ہمیں نعمتوں سے نوازتا جا رہا ہے ،وہ کل بر وزِ قیامت محض اپنے لُطف وکرم سے ہمارے حالِ زار پر ضرور رحم فرمائے گا۔وہ ایسا ستاروغفار ہے کہ دنیا میں ہماری نیکیوں کو ظاہر فرماتا اورہمارے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے وہ بر وز قیامت ضرور ہماری ٹو ٹی پھوٹی نیکیوں کوقبول فرمائے گا اور ہماری خطاؤں اور گناہوں سے در گزر فرما کر ہمیں ضرور مغفرت کا مژدہ جا ں فزا سنائے گا او ر جو کسی پر احسان کرتا ہے اس کی شان یہ ہے کہ وہ اِحسان کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے ۔ میرا مولیٰ عزوجل ہم پر اِحسان فرمانے والا ہے وہ ضرور ہمارے گناہوں کو چھپائے رکھے گا اور ضرور ہماری مغفرت فرمائے گا۔
اے میرے مولیٰ عزوجل! تیری بارگاہ میں میرا وسیلہ تیری نعمتیں ہیں، تیرا لطف وکرم ہی میرا وسیلہ اور تیرا احسان وشان کریمی ہی تیری بارگاہ میں میرے لئے شفیع ہیں۔ اے میرے مولیٰ عزوجل! میں گناہ گار ہوں پھر میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں اور جب تیری رحمت کی طر ف نظر کروں اور تیری بخششوں اور عطا ؤں کو مدِّ نظر رکھوں تو پھر میں غمگین اور پریشان کیسے رہ سکتا ہوں۔
اے اللہ عزوجل !جب میں اپنے گناہوں کی طر ف نظر کرتا ہوں تو سو چتا ہوں کہ تجھ سے دعا کس طر ح مانگوں؟ کس منہ سے تیری بارگاہ میں اِلتجا ئیں کروں لیکن جب تیری رحمت اور کرم کی طر ف نظر کرتا ہوں تو میری ڈھارس بندھ جاتی ہے کہ کریم سے نہ مانگوں تو کس سے مانگو ں۔ اے اللہ عزوجل! بتقاضائے بشریت مجھ سے گناہ سرزد ہوجاتے ہیں لیکن میں پھر بھی تجھ سے دعا ضرور کروں گا کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ گناہگاروں سے گناہوں کے صدور کے با وجود تُو انہیں اپنی نعمتو ں سے محروم نہیں کرتا۔ اے میرے مغفرت فرمانے والے پر وردگار عزوجل !اگر تُومیری مغفرت فرمادے گا تو بے شک یہ محض تیری عطا ہے اور تُو سب سے زیادہ مغفرت فرمانے والا ہے اور اگر تُو مجھے عذاب دے گا تو تُو اس بات پر قادر ہے۔ تیرا کسی کو عذاب دینا کوئی ظلم نہیں بلکہ یہ تو تیرا عدل ہے ۔
اے میرے پروردگار عزوجل! میں ذلیل وخوار ہوں، اپنی حیثیت کے مطابق تجھ سے طلب کر رہاہوں تو اپنے کرم کے مطابق عطا فرما ۔ یا اللہ عزوجل !جب مجھے تجھ سے سوال کرنے میں اِتنا سرور ملتا ہے کہ بیان سے باہر ہے تو جس وقت تُو میری دعا قبول فرمالے گا اور مجھے بخشش ومغفرت اوراپنی دائمی رضا کی دولت سے مالا مال کردے گا تو اس وقت میری خوشی کا کیا عالم ہوگا۔ اے میرے مولیٰ عزوجل !میں تیرے خوف سے تھر تھر کانپتا ہوں کیونکہ میں اِنتہائی گناہگار و خطا کار ہوں اور تیری رحمت کا اُمید وار بھی ہوں کیونکہ تُو کریم ہے تُو رحیم وحلیم ہے۔
اے میرے مولیٰ عزوجل! میری دعا قبول فرمالے کیونکہ تُولطیف وکریم ہے، میرے حال زار پر رحم فرما،بے شک میں کمزور وعاجز بندہ ہوں۔اے میرے مولیٰ !اے میرے پروردگار! اے میرے مالک! اے رحیم وکریم ذات! مجھ پر رحم فرمامیں تیرا محتاج ہوں،میں تیرا محتاج ہوں،میں تیری بارگاہ میں رحمت ومغفرت کاطلبگار ہوں، میں اپنی حاجتیں خود پوری نہیں کرسکتا، میری اُمید گاہ کا مرکز تیری ہی ذات ہے ، تیری رحمت و مغفرت کا سب سے زیادہ حق دار میں ہی ہوں، میرے گناہ بہت زیادہ ہیں اور آخرت کا معاملہ بہت سخت ہے۔ نہیں معلوم میرا کیا انجام ہوگا۔یا الٰہی عزوجل! مجھے اپنی حفظ وامان میں رکھ اگرچہ میرے پاس نیک اعمال کا ذخیرہ نہیں لیکن پھر بھی میں تیری رحمت کاطلب گار ہوں۔اے اللہ عزوجل!میرے پاس ایسا کوئی عذر نہیں جسے تیری بارگاہ میں پیش کرکے خلاصی حاصل کرسکوں ۔اے اللہ عزوجل !مجھے تمام آفتو ں اور مصیبتوں سے اسی وقت خلاصی مل سکتی ہے جب تُولطف وکرم فرمادے، میرے تمام گناہوں کو بخش دے اور میری تمام خطاؤں کو معاف فرمادے۔یا الٰہی عزوجل! تُوپاک ہے، تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تُو پاک ہے،تُو پاک ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)
؎ بخش ہمار ی ساری خطائیں ، کھول دے ہم پر اپنی عطائیں بر سادے رحمت کی برکھا ، یا اللہ(عزوجل)! میری جھولی بھر د ے

”کامل بھروسہ” ہوتو جنگل میں بھی” رزق” مل جاتا ہے

حکایت نمبر148: ”کامل بھروسہ” ہوتو جنگل میں بھی” رزق” مل جاتاہے

حضرت سیدنا ابو ابراہیم یمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ ہم چند رفقاء حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم کی ہمراہی میں سمندرکے قریب ایک وادی کی طر ف گئے۔ ہم سمندر کے کنارے کنارے چل رہے تھے کہ راستے میں ایک پہاڑ آیا جسے جبل” کفر فیر ” کہتے ہیں۔ وہاں ہم نے کچھ دیر قیام کیا اور پھر سفر پر روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک گھنا جنگل آیا جس میں بکثر ت خشک درخت اور خشک جھاڑیاں تھیں، شام قریب تھی، سردیوں کا موسم تھا۔ ہم نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی بارگاہ میں عرض کی :” حضور !اگر آپ مناسب سمجھیں تو آج رات ہم ساحل سمندر پر گزار لیتے ہیں۔ یہا ں اس قریبی جنگل میں خشک لکڑیاں بہت ہیں۔ ہم لکڑیاں جمع کر کے آگ روشن کرلیں گے اس طر ح ہم سردی اور درندوں وغیرہ سے محفوظ رہیں گے ۔”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔ ”چنانچہ ہمارے کچھ دوستوں نے جنگل سے خشک لکڑیاں اکٹھی کیں اور ایک شخص کو آگ لینے کے لئے ایک قریبی قلعے کی طر ف بھیج دیا ، جب وہ آگ لے کرآیاتو ہم نے جمع شدہ لکڑیوں میں آگ لگا دی اور سب آگ کے اِرد گر د بیٹھ گئے اور ہم نے کھانے کے لئے روٹیاں نکال لیں۔ اچانک ہم میں سے ایک شخص نے کہا :”دیکھو ان لکڑیوں سے کیسے اَنگارے بن گئے ہیں ، اے کاش! ہمارے پاس گو شت ہوتا تو ہم اسے ان اَنگاروں پر بھون لیتے ۔” حضرت سیدنا ابراہیم ابن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاعظم نے اس کی یہ بات سن لی اورفرمانے لگے :” ہمارا پاک پروردگار عزوجل اس بات پر قادرہے کہ تمہیں اس جنگل میں تا زہ گو شت کھلائے ۔ ”
ابھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ بات فرما ہی رہے تھے کہ اچانک ایک طر ف سے شیر نمودار ہوا جو ایک فربہ ہرن کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ ہر ن کا رُخ ہماری ہی طر ف تھا۔ جب ہرن ہم سے کچھ فاصلے پر رہ گیا تو شیر نے اس پر چھلانگ لگائی او راس کی گردن پرشد ید حملہ کیا جس سے وہ تڑپنے لگا ۔یہ دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم اُٹھے اور اس ہرن کی طرف لپکے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو آتا دیکھ کر شیر ہرن کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” یہ رزق اللہ عزوجل نے ہمارے لئے بھیجا ہے۔ چنانچہ ہم نے ہرن کو ذبح کیااور اس کا گوشت انگاروں پر بھون بھون کر کھاتے رہے اور شیر دور بیٹھا ہمیں دیکھتا رہا۔ اسی طر ح ہماری ساری رات گز ر گئی۔” سچ ہے کہ جو اس پاک ذات پر کامل یقین رکھتا ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)