زنا حرامزادے اور مسیحی قوم۔

زنا حرامزادے اور مسیحی قوم۔

مندرجہ ذیل تحریر ایسے حقائق ہیں کہ جن کو تحریر کرنا اور پڑھنا بہت آسان نہیں ہے لیکن یہ بالکل واضح حقائق ہیں ۔

مغربی ممالک جہاں مسیحی اکثریت میں ہیں اور دیسی مسیحی خود کو یورپی سمجھتے بھی ہیں اور ہمیں بار بار باور بھی کرواتے ہیں۔

مسیحی حضرات خود کو مادر پدر آزاد سمجھتے ہیں اور شریعت کو نجات دہندہ کی بجائے لعنت سمجھتے ہیں ۔

لہذا بائبل مقدس کے مطابق گناہ کو گناہ نہیں سمجھا جاتا لہذا مسیحی اکثریتی ممالک میں جہاں زنا عام ہے وہیں شادی اور باپ کا تصور بھی ختم ہوتا جا رہا ہے ۔

یورپی ویب سائٹ statista کے مطابق 2009 تا 2012 تک یورپی یونین میں تقریبا 50 فیصد بچے ولد حرام تھے اور اکثریت ان کی ہے جن کے والد کا علم نہیں ۔

جنوبی افریقہ میں وزارت داخلہ کی رجسٹریشن کے مطابق 61.7% بچے کے برتھ سرٹیفیکیٹ پر والد کا نام نہیں یعنی نامعلوم ہے۔

امریکہ میں تھوڑا سا زیادہ تقریبا 62 فیصد بچوں کے والد کا علم نہیں۔

انکے اپنے مسحی عالمی شہرت یافتہ سکالر جیمی سواگت جو کے اپنے دور کے دنیا کے سب سے بڑے ٹیلی اونجلسٹ ہے ان کے بقول کچھ حقائق ہیں جو انہوں نے اپنی کتب میں لکھے…

جس کے مطابق امریکہ 1984 کے عدادوشمار کے مطابق صرف امریکہ 5.5. کڑوڑ شرابی ہیں (یاد رہے 1984 میں امریکہ کی آبادی 20 کڑوڑ بھی نا تھی).

امریکہ میں 2.5 کڑوڑ ہم جنس پرست ہیں یعنی Gay….

اوریج کے مطابق ہر آدمی 8 گرل فرینڈز سے جنسی تعلق کرچکا ہوتا ہے… اور ہر آٹھ میں. ایک بندہ اپنے ہی محرم رشتوں سے یعنی ماں. بیٹی اور بہن وغیرہ سے جسمانی تعلق رکھ چکا ہوتا ہے…..

آئس لینڈ کو تو باقاعدہ bastard state کہا جاتا ہے

غضب تو یہ ہے کہ چرچ کے تحت ہونے والے مذہبی پروگراموں میں بھی شراب اور شباب کی محفلیں سجائی جاتی ہیں اور لوگ انجوائے کرتے ہیں ۔

حرامی لوگوں کی بات آئے تو چرچ آف کینٹربری کے سربراہ جسٹن ویلبائے کو بھلایا نہیں جا سکتا وہ ایک ثابت شدہ حرامی ہیں ان کا اصل باپ چرچل کا پرائیوٹ سیکریٹری ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ بائبل مقدس دسویں پشت تک حرامزادے کو خداوند کی جماعت سے داخل ہونے سے روک دیتی ہے لیکن یہ تو دیسی مسیحیوں کی چرچ کا سربراہ بنا ہوا ہے ۔

جنوبی افریقہ میں مقیم مکس ریس کمیونٹی جو کہ تقریبا 20 فیصد ہے وہ تمام ہی گورے اور کالے کے ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہے

جبکہ باسٹارڈ ایک قوم بھی ہے جو فخر کرتے ہیں وہ ولد زنا جرمن نسل سے ہیں ان کی زیادہ تعداد نیمیبیا میں پائی جاتی ہے ان کو باسٹارڈ کہیں وہ فخر محسوس کرتے ہیں سب کیتھولک چرچ اور پروٹسٹنٹ سے تعلق رکھتے ہیں یعنی ایک بھی حلالی نہیں اور نہ ہی وہ پسند کرتے ہیں ۔

بیرون ممالک رہنے والے جانتے ہیں کہ مسیحی اکثریتی معاشروں میں زنا ایک نارمل چیز ہے اور گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کلچر بھی اب دم توڑ چکا ہے اور اب جہاں مرضی جتنے مرضی مرد و خواتین کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں یہ مقبول ترین عمل ہے پورے کا پورا معاشرہ سر عام ایسی کئی خباثتوں میں ملوث ہے ۔

میں نے ذاتی طور پر ایسا کوئی مسیحی نہیں دیکھا جس نے بچے شادی کے بعد پیدا کئے ہوں (جنوبی افریقہ)

مسیحی حضرات بھی قادیانیوں کی طرح پاکستان کو برا ملک سمجھتے ہیں اور چند واقعات کو بنیاد بنا کر ملک اور معاشرے کو مورد الزام ٹھہرانا فرض عین سمجھتے ہیں لیکن میں ان کو واضح کر دینا چاھتا ہوں کہ شکر کریں آپ کے برتھ سرٹیفیکیٹ پر آپ کے والد اور دادا کا نام لکھا جاتا ہے نا معلوم نہیں لکھا جاتا ۔

ورنہ کئی جون پیٹر پال آج ہمیں گالیاں دے رہے ہوتے اور والد سے ناواقف ہوتے ۔

کئی چرچوں نے اب ( gay marriage ) کی سروس شروع کر دی ہے اور پوادران ان سے دہ یکی وصولنے سے بھی عار نہیں سمجھتے ۔

جو مسیحیت میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے وہ مذہب نہیں بلکہ ایک عیاشی اور لاقانونیت کا گڑھ ہے دیکھتا جا شرماتا جا۔

عارف محمد۔

فہم الحدیث حدیث جبرئیل

فہم الحدیث حدیث جبرئیل

علامہ محمد کمال الدین رضوی

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام ایک دن لوگوں کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہا یارسول اﷲﷺ ایمان کیا ہے؟ ارشاد فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اﷲ عزوجل پر‘ اس کے سب فرشتوں پر ‘ سب رسولوں پر‘ اس کی ملاقات پر اور قبر سے اٹھائے جانے پر ایمان لائے۔ اس نے کہا یا رسول اﷲﷺ اسلام کیا ہے؟ ارشاد فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اﷲ عزوجل کی عبادت کرے‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے‘ نماز قائم کرے‘ فرض زکواۃ ادا کرے اور رمضان کا روزہ رکھے۔ اس نے کہا یارسول اﷲﷺ احسان کیا ہے؟ ارشاد فرمایا احسان یہ ہے کہ تو اﷲ کی اس طرح سے عبادت کرے کہ گویا تو اﷲ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر تجھ میں ایسے تصور کی قوت نہ ہو تو (یہ تصور کرے) کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا یارسول اﷲﷺ قیامت کب آئے گی؟ ارشاد فرمایا جس سے قیامت کے بارے میں سوال کیا گیا وہ (یعنی میںﷺ) سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اور (لیکن) میں اس کی نشانیوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔

باندی اپنے آقا کو جنے گی (یعنی مائیں ایسی اولاد جنہیں گی جو ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کرے گی) کالے اونٹ چرانے والے (بڑی بڑی) عمارتوں میں فخر کریں گے۔ قیامت کا وقت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں (بالذات) اﷲعزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر حضورﷺ نے تلات فرمائی (ترجمہ) بے شک اﷲ کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہ بارش نازل کرتا ہے اور جنتا  ہے کہ جو کچھ مائوں کے پیٹ میں ہے اور (اﷲ کے بتائے بغیر) کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی۔ بے شک اﷲ جانتا بھی ہے اور خبر بھی دیتا ہے پھر وہ شخص چلا گیا۔ حضورﷺ نے صحابہ سے فرمایا اسے واپس لائو! صحابہ باہر گئے تو وہاں کسی کو نہیں دیکھا۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا یہ جبرائیل تھے لوگوں کو دین سکھانے آئے تھے۔ (صحیح بخاری جلد ۱ص ۱۲)

تشریح: یہ حدیث ’’حدیث جبرئیل‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ اس حدیث مبارکہ پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں اسلام کا مکمل ضابطہ بیان کردیا گیا ہے۔ مقام ہذا چونکہ زیادہ تفصیلات کا متحمل نہیں ہے۔ اس لئے چند اہم توضیحات و تشریحات پر اکتفا کیا جائے گا۔ اصل بحث کی طرف جانے سی پہلے چند شبہات کا ازالہ ضروری سمجھتا ہوں تاکہ عوام بھائی تردد کا شکار نہ ہوں۔ حدیث مذکور میں واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اسلام دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ مذکورہ حدیث مبارک سمیت بعض مقامات ایسے ہیں جہاں ظاہری اعمال کے لئے اسلام کا لفظ استعمال ہوا ہے ورنہ قرآن مجید نے اہل اسلام کو مسلمان اور مومن دونوں نام سے یاد کیا ہے۔

ترجمہ: پس اس بستی میں جتنے مومن تھے (یعنی لوط علیہ السلام کے گھر والے) ہم نے ان کو نکال لیا (یعنی عذاب آنے سے پہلے ان کو اس بستی سے نکال لیا) سو ہم نے صرف ایک ہی گھر کو (یعنی لوط علیہ السلام کے گھر والوں کو) مسلمان پایا (الذریات ۳۵۔۳۶)

اس فرمان مبارک میں دیکھئے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر والوں کو مومن بھی فرمایا اور مسلمان بھی۔ نیز ہمارے عرف میں بھی اس حوالے سے کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک ہی شخصکو مسلمان بھی کہا جاتا ہے اور مومن بھی۔

دوسری بات اس میں یہ ہے کہ نبی کریم علیہ الصلواۃ والسلام سے جب قیامت کے وقت کے متعلق پوچھا گیا تو آپ علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ’’جس سے سوال کیا گیا وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا‘‘ یعنی اے جبرائیل (علیہ السلام) میں تم سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس عبارت سے حضورﷺ کے علم غیب کی نفی نہیں ہوتی بلکہ ایک عام سا انسان بھی اگر تھوڑی سی عقل خرچ کرے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ حضور علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نہیں جانتا۔ بلکہ مذکورہ فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اے جبرائیل علیہ السلام قیامت کی آمد کے متعلق جتنا تم جانتے ہو میں بھی اتنا ہی جانتا ہوں۔ اس میں دونوں کا علم برابر ہے۔ بخاری شریف کے شارحین کا اسی معنی پر اتفاق ہے۔

آگے جن پانچ چیزوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو اﷲ عزوجل کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس کا مطلب ہے اﷲ تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو ان کا علم نہیں ہے۔ علم غیب سے متعلق علماء اہلسنت کی کتب بالخصوص امام اہلسنت مجدد دین و ملت علیہ الرحمہ کی کتاب ’’الدولتہ المکیتہ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

باقی حدیث پاک میں مذکور قیامت کی نشانیوں اور عبادات کے بارے میں ہر مسلمان کچھ نہ کچھ معلومات ضرور رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ایک موضوع پر مستقل کتابیں بھی موجود ہیں۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔ اب ہم اپنی اصل بحث کی طرف چلتے ہیں۔

حدیث پاک میں دو چیزوں کا بیان بڑا اہم ہے (۱) اﷲ تعالیٰ پر ایمان (۲) رسولوں اور فرشتوں پر ایمان

اﷲ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو واحد‘ قادر مطلق‘ ہر چیز کا خالق حقیقی‘ فاعل حقیقی مانا جائے۔ اس کی الوہیت میں کسی غیر کو شریک نہ مانا جائے۔ رسولوں اور فرشتوں پر ایمان لانے کی کیفیت یہ ہے کہ رسولوں کو اﷲ تعالیٰ کی جانب سے ہدایت کی خاطر بھیجے ہوئے بندے مانا جائے۔ ان کے پیغامات و ہدایات کو قبول کیا جائے اور ان پر یقین کیا جائے۔ انہیں خدا نہ سمجھا جائے۔ اسی طرح فرشتوں کواﷲ تعالیٰ کی نورانی مخلوق مانا جائے۔ خدا یا خدا کے بیٹے یا بیٹیاں نہ مانا جائے۔

الحاصل…ازل سے اﷲ جل جلالہ کا یہی پیغام رہا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو واحد و یکتا اور اس کے نبیوں اور رسولوں (علی نبینا و علیہم الصلواۃ والتسلیم) کو ہادی اور اﷲ عزوجل کے بندے مانا جائے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا کثیر لوگ اﷲ تعالیٰ کے حقیقی پیغام کو بھولتے چلے گئے پھر اﷲ تعالیٰ کے دیئے ہوئے صاف و شفاف دین کے اصول و ضوابط میں من مانیاں کرنے لگے۔ اپنی طرف سے طرح طرح کے لغو اور بے کار قسم کے عقائد و عبادات گھڑلیں۔ اپنے اپنے مفادات کے اصول و ضوابط گھڑنے کی خاطر طرح طرح کے فرقے وجود میں آگئے۔ ان میں سے دو گروہ بڑے مشہور ہوئے (۱) یہود (۲) نصاری (جنہیں عیسائی بھی کہا جاتا ہے) ان دونوں گروہوں کے مذہب میں ان کے ماننے والوں نے اس قدر اصول و ضوابط گھڑے‘ اپنی نفسانی خواہشات و رضا کے اس قدر گرویدہ ہوئے کہ گہرے مطالعہ سے بھی ان کے مذاہب (یہودیت و عیسائیت) کا کوئی بنیادی ڈھانچہ واضح نہیں ہوتا۔ اپنی ہی باتوں اور عقائد میں بے شمار تضادات اور اغلاط لئے ہوئے ہیں۔  اب ہم ان مذاہب میں سے صرف عیسائیت پر بحث کریں گے تاکہ اسلام اور عیسائیت میں تقابل واضح ہوجائے۔ اور موجودہ عیسائیت کی حقیقت بھی واضح ہوجائے۔

عیسائیت کا آغاز

حضرت عیسٰی علیہ السلام کی آمد سے پہلے بنیادی طور پر ایک ہی گروہ ’’یہود‘‘ تھا (اگرچہ اس کے بہت سارے فرقے تھے) یہ لوگ ابتداء میں موسیٰ علیہ الصلواۃ والسلام کے پیروکار تھے (اگرچہ اب بھی ان کا یہی دعویٰ ہے) پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا یہودی قوم اخلاقی‘ معاشرتی‘ سیاسی اور دینی افکار و ہدایات سے پستیوں کی گہرائیوں میں گرتی چلی گئی ان کے علماء شکم پرست‘ مشائخ مادہ پرست اور عوام اوہام پرست ہوگئے۔ لاتعداد فرقے پیدا ہوگئے۔ ہر ایک کے اپنے اپنے عقائد ونظریات تھے۔ کسی کا نظریہ تھا کہ قیامت‘ آخرت ‘جزا و سزا‘ حشر ونشر سب باتیں غلط ہیں۔ کسی کا نظریہ تھا کہ قیامت‘ آخرت اور جزا و سزا سب برحق ہیں۔ الغرض ہر فرقہ کا اپنا نظریہ تھا۔ اس کثیر تعداد میں فرقوں کے ہوجانے اور آپس میں بے شمار اختلافات کی وجہ سے یہودی قوم کے دلوں میں یہ خواہش بھڑکنے لگی کہ کاش کوئی نجات دہندہ آئے اور ہماری شیرازہ بندی کرے۔ ہماری کھوئی ہوئی عزت کو بحال کرے اور ازسرنو سیاسی‘ فکری اور دینی اقدار و معیار کو قائم کرے۔ بالاخر اﷲ تبارک و تعالیٰ نے انہیں پھر موقع عطا فرمایا۔ ان میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ جب حضرت عیسٰی علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے یہودی قوم کے غلط عقائد ونظریات کی خوب مذمت کی اور ان کی تردید شروع کردی۔ ان کو صراط مستقیم کی طرف بلایا لیکن علمائے یہودکے بجائے اس کے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی حقانیت کو قبول کرتے‘ مخالفت پر اتر آئے۔ اس کی بنیادی طور پر دو وجوہات تھیں (۱) انہوں نے جو قوم میں دھوکہ و فریب کے ذریعے اپنا مقام و مرتبہ بنالیا تھا‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے اس کو شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے (۲) حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ان کے غلط عقائد و نظریات کی تردید کرنی شروع کردی تھی اور موسیٰ علیہ السلام کے دین کے بعض و احکام جو آپ علیہ السلام کے دین کے موافق نہیں تھے‘ ان کو منسوخ کردیا تھا۔

جس کے سبب یہودی قوم دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا مخالف ہوگیا۔ وہ بعد میں بھی تاحال یہودی کہلایا اور ایک گروہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کا پیروکار بن گیا بعد میں یہ گروہ نصاریٰ اور عیسائی کے نام سے موسوم ہوگیا۔ جبکہ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک یہودیت یا نصرانیت کے نام سے کوئی دین موسوم نہیں ہے بلکہ فقط اسلام ہی کے نام سے دین الٰہی موسوم ہے۔ ان الدین عنداﷲ الاسلام (القرآن)

عیسائیت کی تعریف

انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن کے مسٹر الفریڈ اے گاروے لکھتے ہیں: عیسائیت وہ اخلاقی‘ تاریخی‘ کائناتی موحدانہ اور کفارے پر ایمان رکھنے والا مذہب ہے جس میں خدا اور انسان کے متعلق کو خداوند یسوع مسیح کی شخصیت اور کردار کے ذریعے سے پختہ کردیا گیا ہے۔

اس تعریف میں ایک لفظ بہت قابل غور اور عیسائی حضرات کے لئے بہت بڑا چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کہ ایک طرف ان کاعقیدہ  تثلیث (تین خدائوں) کا ہے اور دوسری جانب ان کی مذہبی تعریف اس کی نفی کرتی ہے‘ وہ لفظ ہے ’’موحدانہ‘‘ جس کا مطلب ہے خدا کو ایک ماننا‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ماننا۔

بائبل

یہ ایک کتاب ہے۔ جسے اردو میں ’’کتاب مقدس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے کو عہدنامہ قدیم کہتے ہیں اور دوسرے حصے کو عہدنامہ جدید کہتے ہیں۔ عہدنامہ قدیم (یعنی پرانا عہدنامہ) یہودیوں کے مقدس صحیفوں کا مجموعہ ہے۔ یہ تورات‘ صحائف انبیاء اور صحائف مقدسہ پر مشتمل ہے۔ عہدنامہ جدید (ستائیس) چوٹی چھوٹی کتابوں پر مشتمل ہے۔ ابتدائی چار کتب اناجیل اربعہ کہلاتی ہیں۔ وہ چاروں کتابیں متیٰ کی انجیل‘ مرقس کی انجیل‘ لوقا کی انجیل اور ہوحنا کی انجیل کہلاتی ہیں۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے متعلق عیسائی عقیدہ

عیسائی مذہب کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں اور یہ ان کا معجزہ ہے۔

لوقا کی انجیل باب ۱ آیات ۲۶ تا ۳۱ میں ہے:

’’چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرۃ تھا‘ ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا۔ جس کی منگنی دائود کے گھرانے کے ایک مرد یوسف نام سے ہوئی تھی اور اس کنواری کا نام مریم تھا اور فرشتہ نے اس کے پاس اندر آکر کہا سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے‘ خداوند تیرے ساتھ ہے ۔ وہ اس کلام سے بہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی یہ کہ کیسا سلام ہے‘ فرشتہ نے اس سے کہا اے مریم خوف نہ کر کیونکہ خدا کی طرف سے تجھ پر فضل ہوا ہے اور دیکھ تو حاملہ ہوگئی اور تیرے بیٹا ہوگا اس کا نام یسوع رکھنا۔‘‘

نتیجہ: لوقا کی ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش بغیر باپ کے ہے اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے یہ عیسٰی علیہ السلام کا معجزہ ہے۔ اس بات پر عیسائیت اور اسلام متفق ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ لوگ تین خدائوں کے قائل ہیں جوکہ انتہائی حیرت کی بات ہے کہ ایسا عقیدہ جس سے ان کا اپنا دل مطمئن نہیں ہے (اس عقیدہ کی وضاحت آگے آرہی ہے)

موجودہ بائبل غلط بیانی اور تضادات پر مبنی کتاب ہے

یہود صرف عہدنامہ قدیم کو مانتے ہیں اور عیسائی اپنے پس منظر کی بناء پر عہدنامہ قدیم اورجدید دونوں کو مانتے ہیں۔ ابھی آپ نے عیسائی حضرات کا عقیدہ ملاحظہ فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہی لوقا کی انجیل حضرت عیسٰی علیہ السلام کا سلسلہ نسب بھی بیان کرتی ہے اسی طرح متی کی انجیل بھی حضرت عیسٰی علیہ السلام کا سلسلہ نسب بیان کرتی ہے۔

اﷲ تعالیٰ کی قدرت دیکھئے ان دونوں کے غلط ہونے پر سب سے بڑی بین دلیل یہ ہے کہ انجیل متی حضرت ابراہیم علیہ السلام تک ۴۲ پشتیں اور انجیل لوقا ۵۴ پشتیں بیان کرتی ہے۔ ۱۲ پشتوں کا اختلاف ہے۔ مزید یہ کہ ان دونوں کتابوں میں ۲۷ ناموں پر اختلاف ہے۔ کہئے ان کی عقل پر داد دینی چاہئے یا نہیں؟ اس قدر واضح تضاد کے باوجود یہ ایک مقدس کتاب ہے؟

غلط اور تضاد بیانیوں کی مختصر تفصیل

ذیل میں چند متضاد باتوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس سے واضح ہوجائے گا کہ بائبل اپنی اصلی حالت میں نہیں ہے۔

(۱) آدم کو کہا گیا کہ جس دن تو نیک و بد کے درخت سے پھل کھائے گا تو ضرور مرے گا (پیدائش باب ۲ آیت ۱۷)

(۲) انسان کو خدا نے حیوانات پیدا کرنے کے بعد بنایا (پیدائش باب ۲۵ آیت ۲۷)

(۳) سلح ار فکسڈ کا بیٹا تھا۔(پیدائش باب ۱۱ آیت ۱۲)

(۴) خدا پچھتاتا ہے (پیدائش باب ۶ آیت ۶)

(۵) حضرت دائود علیہ السلام نے سات ہزار ارامیوں کو قتل کیا (تواریخ اول باب ۱۹ آیت ۱۸)

(۶) میکل مرتے دم تک بے اولاد رہی (سیموئیل دوم باب ۶ آیت ۲۳)

دوسری جانب

(۱) مگر آدم پھل کھانے کے بعد ۹۳۰ برس جیتا رہا (پیدائش باب ۵ آیت ۵)

(۲) خدا نے آدم کے پاس جانور بنا کر بھیجے ‘یعنی آدم پہلے اور جانور بعد میں پیدا ہوئے (پیدائش باب ۲ آیت ۱۸ تا ۲۰)

(۳) مسلح ارفکسڈ کا پوتا تھا (لوقاباب ۳آیت ۳۶)

(۴) خدا پچھتاتا نہیں (گنتی باب ۲۳ آیت ۹)

(۵) حضرت دائود علیہ السلام نے سات سو ارامیوں کو قتل کیا (سیموئیل دوم باب ۱۰ آیت ۱۸)

میکل کے پانچ بیٹے تھے (سیموئیل دوم باب ۲۱ آیت ۲)

نتیجہ: حوالہ جات میں مذکور تمام کتابیں بائبل کے حصے ہیں۔ یہ تو چند جھلکیاں تھیں جن سے یقینا آپ پر واضح ہوگیا ہے کہ بائبل اصلی حالت میں موجود نہیں ہے لیکن حیرت ہے کہ اس کے باوجود عیسائی حضرات اسے مقدس کتاب اور اس سے روحانی اور قلبی سکون ملنے کا راگ الاپتے ہیں۔

موجودہ توریت اصلی نہیں ہے

چونکہ موجودہ توریت بھی بائبل کا حصہ ہے۔ ہم صرف ایک حوالہ پیش کریں گے جس سے واضح ہوجائے گا کہ موجودہ توریت اصلی حالت میں نہیں ہے:

موجودہ توریت پانچ کتابوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک استثناء کی کتاب باب ۳۱ کی آیت ۶ اور ۷ پیش خدمت ہیں:

’’پس خداوند کے بندہ موسیٰ نے خداوند کے کہنے کے موافق وہیں موآب کے ملک میں وفات پائی اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی بیت فغور کے مقابل دفن کیا۔ پر آج تک کسی آدمی کو اس کی قبر معلوم نہیں اور موسیٰ اپنی وفات کے وقت ایک سو بیس برس کا تھا اور نہ تو اس کی آنکھ دھندلانے پائی تھی اور نہ اس کی طبعی قوت کم ہوئی تھی‘‘

عیسائی عقائد

(۱) عقیدہ تثلیث: اس عقیدہ کے مطابق عیسائیوں کے نزدیک تین خدا ہیں۔ (جبکہ ہم سابق میں واضح کرچکے ہیں کہ عیسائیت کی بنیادی تعریف میں ایک ہی خدا کا تصور موجود ہے۔ اس کے باوجود ڈھٹائی کا مظاہرہ کہ وہ تین خدا مانتے ہیں۔ حالانکہ بائبل میں کئی مقامات میں ایک خدا کا صراحتا ذکر موجود ہے) ان لوگوں کا کہنا ہے کہ (۱) باپ خدا ہے (۲) بیٹا خدا ہے (۳) روح القدس خدا ہے۔

اس اجمال میں باپ سے مراد اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے۔ بیٹے سے مراد اﷲ تعالیٰ کی صفت کلام ہے جوکہ موسیٰ علیہ السلام کے جسم میں اتر گئی ہے۔ اس لئے کلام کو خدا مانتے ہیں۔ روح القدس سے مراد باپ (اﷲ تعالیٰ) اوربیٹے (کلام) کے درمیان جو صفت حیات اور صفت محبت ہے۔

(العیاذ بال) دیکھا آپ نے کس قدر تعجب خیزعقیدہ ہے۔ مزید ان کا یہ کہنا ہے کہ خدا تو تین ہیں لیکن ہمیں کیتھولک مذہب منع کرتا ہے کہ ان کو تین خدا کہیں بلکہ ان سب کو ایک خدا ماننے کا حکم دیتا ہے (واہ! تعجب ہے) (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا)

(۱) عقیدہ حلول و تجسمم

اس عقیدہ کا مطلب ہے ’’اﷲ تعالیٰ اپنی خدائی صفت کو چھوڑے بغیر انسان (عیسٰی علیہ السلام) کے وجود میں ظاہر ہوگیا اس عقیدہ کا دوسرا جز ہے کہ خدا کا کلام جسم کی صورت اختیار کرکے عیسٰی کی صورت میں ظاہر ہوگیا‘‘

غور کیجئے اس عقیدہ میں خود تضاد موجود ہے۔ پہلے جزمیں ہے کہ خود خدا انسان (عیسیٰ علیہ السلام) کی صورت میں ظاہر ہوگیا۔ دوسرے جز میں ہے کہ خدا کا کلام عیسٰی کے روپ میں ظاہر ہوگیا۔

(۲) عیسٰی علیہ السلام کو سولی دینے کاعقیدہ

اس عقیدہ کے مطابق ان کا کہنا ہے ’’اﷲ کے بیٹے (عیسٰی علیہ السلام) نے صلیب پر مرکز ہمیں اولاد آدم کے موروثی گناہ کی سزا سے بچالیا ہے اور ان کی موت ہمارے لئے کفارہ ہوگئی ہے‘‘

(۳) عیسٰی کی دوسری زندگی کا عقیدہ

اس عقیدہ کے مطابق ان کا کہنا ہے ’’مسیح کو صلیب پر مار کر دفن کردیا تھا مگر تیسرے روز وہ دوبارہ جی اٹھے اور حواریوں سے کچھ باتیں کرکے آسمان پر چلے گئے۔

(۴) کفارے کا عقیدہ

اس عقیدے کے مطابق ان کا کہنا ہے ’’یہ یسوع مسیح کی وہ قربانی ہے جس کے ذریعہ سے ایک گناہ گار انسان یک لخت خدا کی رحمت کے قریب ہوجاتا ہے۔‘‘ یہ عیسائی حضرات کا مرکزی عقیدہ ہے۔ اس عقیدہ کی بنیاد دو (غلط) معروضوں پر ہے۔

(۱) آدم علیہ السلام کے گناہ کی وجہ سے انسان خدا کی رحمت سے دور ہوگیا تھا (نعوذ باﷲ من ذالک)

(۲) خدا کی صفت کلام (بیٹا) اس لئے انسانی جسم میں آئی تھی کہ وہ انسان کو دوبارہ خدا کی رحمت کے قریب کردے۔

عیسائی تہوار

(۱) عشائے ربانی: یہ ان کی رسم عبادت ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اتوار کے دن حضرت عیسٰی علیہ السلام کی یاد میں گرجاگھر میں شراب اور روٹی پر پادری تینوں خدائوں کی برکت سے دعا کرتا ہے پھر یہ چیزیں سب لوگ کھاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے وہ لوگ پاک صاف ہوجاتے ہیں۔ (استغفراﷲ)

(۲) تیوہار  (Sunday) اتوار کو یہ لوگ مقدس دن سمجھتے ہیں اس دن عبادت کرتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دن کا عیسائیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ نام SUNDAY سے ظاہر ہے۔ یہ یونانی مشرکوںکے ہاں سورج دیوتائوں کی پوجا کا دن تھا۔ عیسائیوں نے ان مشرکین کو اپنا بنانے کے لئے یہ دن مقرر کیا تھا۔

(۳) کرسمس: 25 دسمبر کو یوم ولادت عیسٰی علیہ السلام مناتے ہیں۔ یہ دن رومی مشرکین کے ایک دیوتا کی یادگار تھا۔ انہیں خوش کرنے کے لئے عیسائیوں نے اس دن کو یوم میلاد بنالیا۔ حالانکہ وہ موسم گرما میں پیدا ہوئے تھے۔ انجیل میں ہے ’’مریم نے بچہ کو جن کر چرنی میں ڈال دیا‘ اگر یہ دسمبر کا مہینہ ہوتا (فلسطین وغیرہ قریب کے علاقوں میں یہ مہینہ سخت سردی کا ہوتا ہے) تو یہ ایک چھوٹے ننگے بچے کو چرنی میں کیسے ڈالا جاسکتا تھا؟

ایسٹر: یہ دن عیسٰی علیہ السلام کے وصال کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی یاد میں  ۲۱ مارچ کو مناتے ہیں حالانکہ یہ دن ایرانیوں کی عید نوروز کا دن تھا۔ ہندوئوں کی نسبت اور آئرلینڈ والوں کے ہاں موسم بہار کے دنوں آسٹر کی پوجا کا دن تھا۔ نام بدل کر ایسٹر بنایا اور پھر اسے اپنالیا۔

اسلام

اسلام کا لغوی معنی امن و سلامتی ہے۔ یہ دین امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کو احد و یکتا اور خالق و قادر مطلق ماننے اور اس کے رسولوں‘ نبیوںعلیہم السلام اور فرشتوں پر ایمان لانے اور حضور پاکﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو دل و جان سے قبول کرکے ان پر عمل کرنے کا درس دیتا ہے۔

الحمدﷲ! علی احسانہ اس دین میں کوئی تضاد نہیں ہے جس شکل میں آیا تھا اس میں بلکہ اس سے زیادہ پرنور اور جگمگاتا ہوا جاری و ساری ہے۔ اس دین میں محمد عربیﷺ پر جو کتاب (قرآن مجید) نازل ہوئی تھی چودہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بالکل اصلی حالت میں محفوظ ہے۔ جوکہ اس کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ نیز اس کتاب کا خاصا ہے کہ مسلمان کا بچہ بچہ اسے یاد کرلیتا ہے۔ آج کروڑوںلوگوں کے دلوں میں محفوظ ہے (لیکن بائبل اس کاتو بمشکل ایک بھی حافظ نہیں ہے) اسلام کے حوالے سے علمائے اہلسنت کی بے شمار کتب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ مطالعہ کیجئے۔ یہ مقام اس قدر تفصیل کی گنجائش نہیں رکھتا۔

ذیل میں مختصر اور آسان انداز میں عیسائیوں کی تردید اور ضروری باتوں کو درج کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔

(۲) عقیدہ تثلیث کا رد

عیسائی حضرات عیسیٰ علیہ السلام کو یوں خدا مانتے ہیں کہ ان کی ذات میں خدا کی ذات اپنی صفات کے ساتھ حلول (اتر) کرگئی ہے۔ یہ عقیدہ اس قدر بوگس اور مضحکہ خیز اور باطل ہے کہ اس کی رو سے خود اﷲ تعالیٰ کی ذات پر بھی بات آجاتی ہے۔ کیونکہ جو ذات کسی دوسری ذات میں حلول (اتر) کر جاتے وہ قدیم اور ازلی و ابدی نہیں ہوسکتی جبکہ ان کا بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ قدیم ازلی اور ابدی ہے۔ معلوم ہوا عقیدہ تثلیث غلو اور باطل ہے۔ عیسٰی علیہ السلام خدا نہیں ہوسکتے کیونکہ ان کی پیدائش سے پہلے ان کے خدا ہونے کا کوئی تصور نہیں تھا بلکہ ایک خدا (اﷲ تعالیٰ) کا تصور تھا جو کائنات کو چلا رہا تھا اور چلا رہا ہے لہذا ضروری ہے وہی ذات (اﷲ تعالیٰ) معبود ہو۔ نیز حضرت عیسٰی علیہ السلام کو تو بھوک لگتی تھی اور تھکن بھی ہوتی تھی اور وہ خدا نہیں ہوسکتا جس کو بھوک لگے یا تھک جائے۔ اسی طرح وہ صفت کلام اور صفت محبت کو خدا مانتے ہیں جبکہ ان کا عقیدہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جو ہرقائم بالذات ہے اور کسی کا محتاج نہیں ہے جبکہ صفت قائم بالذات نہیں ہوتی بلکہ موصوف کا محتاج ہوتی ہے اور محتاج چیز کبھی بھی خدا اور معبود نہیں ہوسکتی۔

اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے ترجمہ ’’اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا اور مہربان‘‘ (سورہ البقرہ ۱۶۳)

اس تردید سے عقیدہ حلول و تجسم کی بھی تردید ہوگئی ہے۔

عیسٰی کو سولی دینے کے عقیدے کا رد

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے : وما قتلوہ وما صلبوہ و لکن شبہ لھم (سورہ النساء ۱۵۷)

ترجمہ: یہود نے نہ تو انہیں قتل کیا اور نہ انہیں صلیب پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے دوسرے شخص کو عیسٰی علیہ السلام کے مشابہ بنادیا (اور انہوں نے اسی شخص کو صلیب پر چڑھایا)

اس آیت سے کفارہ کے عقیدے کا بھی رد ہوجاتا ہے کیونکہ اس عقیدہ کی بنیاد بھی اسی سولی دینے پر ہے۔

عیسائیت کے تمام تہوار باطل ہیں

اب صرف شریعت مصطفوی رائج اور نافذ اور قابل عمل بلکہ واجب العمل ہے۔ اور موجودہ عیسائی حضرات نہ تو اصلی اہل کتاب ہیں اور نہ اسلام کے قائل ہیں۔ بلکہ مشرکین ہیں ان کا عشائے  ربانی (اسلام میں تو ایسے بھی ناجائز ہے) اس چیز کی کوئی اصل دین عیسٰی علیہ السلام میں نہیں ملتی اس طرح تیوہار ‘ کرسمس اور ایسٹر بھی مشرکین کو خوش کرنے کیلئے اپنائے گئے تھے ان کی بھی کوئی اصل دین عیسٰی علیہ السلام میں موجود نہیں ہے۔

اﷲ تعالیٰ واحد اورلاشریک لہ‘ ہے

اﷲ تعالیٰ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘ وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا‘ اس کی کوئی بیوی اور اولاد نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ہر چیز کا خالق و مختار حقیقی وہی ہے اس کے چاہے بغیر ذرہ بھی نہیں ہل سکتا (خلاصہ سورہ اخلاص و آیات قرآنیہ) معلوم ہوا ہے اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے لہذا عیسٰی علیہ السلام بھی ابن اﷲ (اﷲ کے بیٹے) نہیں ہوسکتے۔ عیسٰی علیہ السلام بن باپ کے فقط ماں سے پیدا ہوئے اور یہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت ہے (سورہ مریم خلاصہ آیت ۲۱)

عیسائیت سے متعلق اہل اسلام کا عقیدہ

(۱) بائبل کی وہ باتیں جن میں اﷲ تعالیٰ کی شان میں بے ادبیاں اور رسولوں کی شان میں بے ادبیاں ہیں۔ الحاصل جو بات واضح طور پر یا کنایتاً غلط ہیں ہم ان کا انکار کریں گے۔ دوسری باتوں کی نہ تصدیق کریں گے اور نہ تکذیب کریں گے بلکہ خاموش رہیں گے۔

(۲) عیسٰی علیہ السلام سمیت تمام انبیاء و رسل علیہ السلام برحق ہیں۔ ان کی تعلیمات پاک و صاف ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی اپنی عبادت کرنے کا نہیں کہا بلکہ صرف اﷲ واحد کی عبادت کا حکم دیا۔ ان کی کتابیں (توریت‘ زبور‘ انجیل) اور صحائف برحق تھے۔ اب وہ اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں۔ قرآن پاک میں بے شمار آیات اس بات پر گواہ ہیں۔

(۳) ہم صرف حضور پاکﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں (ملخص از کتب عامہ و عقائد)

(۴) مذکورہ تمام اقوال سے معلوم ہوا کہ موجودہ عیسائی اہل کتاب نہیں ہیں بلکہ مشکرین ہیں لہذا ان سے شادی بیاہ ناجائزو حرام ہے۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں پیارے رسولﷺ سے وسیلتہ جلیلہ سے دین اسلام پر استقامت اور اسی پر خاتمہ عطافرمائے۔ آمین

(نوٹ) عیسائی عقائد وتہوار کے متعلق جن باتوں کے حوالہ جات نہیں دیئے گئے ہیں وہ کتب و مذاہب عالم کاتقابلی مطالعہ از پروفیسر چوہدری غلام رسول چیمہ‘ مذاہب عالم کاانسائیکلو پیڈیا از مسٹر لیوس مور‘ تقابل ادیان و مذاہب از پروفیسر میاں منظور احمد سے ماخوذ ہیں۔ ان مذکورہ کتابوں میں باقاعدہ اصل مراجع مذکور ہیں۔