الھُدٰ ی انٹرنیشنل فرحت ہاشمی کے باطل عقائد

الھُدٰی انٹرنیشنل فرحت ہاشمی کے باطل عقائد

الہُدٰی انٹرنیشنل کا نام اب ہمارے ملک میں غیر معروف نہیں رہا۔یہ ادارہ درس قرآن کے حلقوں کے ذریعے بڑے بڑے ہوٹلز شیرٹن اور میریٹ میں جلسے منعقد کرتاہے، اس ادارے کی بانی ڈاکٹر فرحت ہاشمی ہے ۔فرحت ہاشمی کے تعارف کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ انگلینڈ سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کرکے آئی ہے۔

فرحت ہاشمی اسلام آباد کے اعلیٰ حلقوں میں کام کرنے کے بعد اب کراچی میں بھی فرحت ہاشمی نے پوش علاقوں میں کام شروع کیاہے وہ مالدار عورتوں کو گھیر کر بڑے بڑے ہوٹلوں میں درس قرآن کے ذریعے عورتوں کے ذہنوں کو بدلتی ہے ۔عورتوں کے ذہنوں میں اپنے باطل عقائد ڈالتی ہے ۔

فرحت ہاشمی کے باطل عقائد و نظر یات }

الہدیٰ انٹرنیشنل کی نگراں محترمہ ڈاکڑ فرحت ہاشمی کے نظر یات کا نچوڑ پیش خدمت ہے۔

1)…اجماع اُمّت سے ہٹ کر ایک نئی راہ اختیار کرنا ۔

2)…غیر مسلم اور اسلام بیزار طاقتوں کے نظر یات کی ہمنوائی ۔

3)…تلبیس حق و باطل ۔

4)…فقہی اختلافات کے ذریعے دین میںشکوک و شبہات پیدا کرنا ۔

5)…آسان دین ۔

6)…آداب و مستحبات کو نظر انداز کرنا ۔

اب ان بنیادی نقاط کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے ۔

1)…اجماع اُمّت سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کرنا }

۱)قضائے عمری سنّت سے ثابت نہیں ۔صرف توبہ کرلی جائے قضا ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

۲)تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنا ۔

2)…غیر مسلم ،اسلام بیزار طاقتوں کے خیالات کی ہمنوائی }

۱) مولوی (علماء )مدارس اور عربی زبان سے دور ہیں ۔

۲) علماء دین کو مشکل بناتے ہیں۔آپس میں لڑاتے ہیں ۔عوام کو فقہی بحثوں میں الجھاتے ہیں بلکہ ایک موقع پر تو کہا کہ اگر کسی مسئلے میں صحیح حدیث نہ ملے تو ضعیف حدیث لے لیں لیکن علماء کی بات نہ مانیں ۔

۳) مدارس میں گرائمر ،زبان سکھانے ،فقہی نظریات پڑھانے میں بہت وقت ضائع کیا جاتا ہے ۔ قوم کو عربی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کو قرآن صرف ترجمے سے پڑھا دیا جائے ۔

3) …تلبیس حق و باطل }

۱) تقلید کو شرک کہتی ہے ۔

4)… فقہی اختلافات کے ذریعہ دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنا }

۱) اپنا پیغام ،مقصد اور متفّق علیہ باتوں سے زیادہ زور اور دوسرے مدارس اورعلماء پر طعن و تشنیع ۔

۲) ایمان ،روزہ،نماز،زکوٰۃ ،حج کے بنیادی فرائض ،سنتیں ،مستحبات ،مکروہات سکھانے سے زیادہ اختلافی مسائل میں الجھا دیا گیا ۔(پروپیگنڈہ ہے کہ ہم کسی تعصب کا شکار نہیں اور صحیح حدیث کو پھیلا رہے ہیں )

۳) نماز کے اختلافی مسائل رفع یدین ،فاتحہ خلف الامام ،ایک وتر ،عورتوں کو مسجد جانے کی ترغیب ،

عورتوں کی جماعت ان سب پر زور دیاجاتاہے ۔

۴) زکوٰۃ میں غلط مسائل بتائے جاتے ہیں خواتین کو تملیک کا کچھ علم نہیں ۔

5)…آسان دین }

۱) روزانہ یٰس شریف پڑھنا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔نوافل میں اصل صرف چاشت اورتہجد ہے ۔اشراق اور اوّابین کی کوئی حیثیت نہیں ۔

۲) دین آسان ہے ۔بال کٹوانے کی کوئی ممانعت نہیں ۔امہات المومنین میں سے ایک کے بال کٹے ہوئے تھے ۔

۳) حدیث میں آتا ہے کہ آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو ۔لہٰذا جس امام کی رائے آسان معلوم ہووہ لے لیں ۔

۴) دین کی تعلیم کیساتھ ساتھ پکنک پارٹی ،اچھا لباس ،زیورات کا شوق اور محبت ۔

۵) خواتین دین کو پھیلانے کے لئے گھر سے ضرور نکلیں ۔

6)…آداب و مستحبات کی رعایت نہیں}

۱)خواتین ناپاکی کی حالت میں بھی قرآن چھو سکتی ہیں اور آیات بھی پڑھ سکتی ہیں ،قرآن نیچے ہو ہم اُوپر کی طرف ہوں اس میں کوئی حرج نہیں ۔

متفرقات

1) قرآن کا ترجمہ پڑھا کر ہر معاملے میں خود اجتہاد کی ترغیب دینا ۔

2) قرآن و حدیث کے فہم کے لئے جو اکابر علماء کرام نے علوم سیکھنے کی شرائط رکھی ہیں وہ بے کار ،

جاہلانہ باتیں ہیں ۔

ڈاکڑ فرحت ہاشمی کے سارے نظریات باطل ہیں وہ ان عقائد کے ذریعہ عورتوں کو بہکا رہی ہیں عورت چھپی ہوئی چیز کا نام ہے اسطرح عورت کی آواز بھی عورت ہے جبکہ ڈاکڑ فرحت ہاشمی ٹی وی چینلوں پر سرے عام اپنی آواز پوری دنیا کے غیر محرم لوگوں کو سنا تی ہے ۔

ایک مرتبہ اس عورت نے حضور ﷺکو (معاذاللہ )ان پڑھ کہا اورنذر ونیاز کو حرام قرا ر دیا FM100پریہ باتیں ریکارڈ ہیں فرحت ہاشمی درس قرآن کے ذریعہ لوگوں میں فتنہ و فساد پیداکرتی ہے تاکہ لوگ قرآن کو دیکھ کر اسکے قریب آئیں اور پھر اس کے جال میں پھنس جائیں ۔

مسلمان عورتوں کو چاہئے کہ وہ اس فتنے سے بچیں اس کے عقائد باطل ہیں نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں ہیں ۔اس عورت کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے جو اس عورت پر کروڑوں روپیہ خرچ کررہے ہیں اس کو ڈالر اور ریال پال رہے ہیں ۔

حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

وسیلہ کے منکر غیرمقلد زبیر علی زئی حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کو اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ میں درج کرتا ہے اور اس پر جرح کر کے اس کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

لہذا ہم یہاں غیرمقلد زبیرعلی زئی کے ایک ایک اعتراض کو نقل کرتے جائیں گے اور ساتھ میں ان کا رد کرتے جائیں۔

زبیر علی زئی اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص 542 پر لکھتا ہے:

روح بن صالح کی بیان کردہ ایک روایت میں آیا ہے:

’’حدثنا سفیان الثوری عن عاصم الاحول عن انس بن مالک قال:

لما ماتت فاطمة بنت اسد بن هاشم ام علی، دخل علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم فجلس عند راسها فقال: رحمک الله یا امی، کنت امی بعد امی، تجوعین و تشبعینی و تعرین و تکوسننی و تمنعین نفسک طیب الطعام و تطمعینی، تریدین بذلک وجه الله والدار الآخرة، ثم امر ان تغسل ثلاثا و ثلاثا، فلما بلغ الماء الذی فیه الکافور سکبه علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده، ثم خلع رسول الله صلی الله علیه وسلم قمیصه فالبسه ایاه و کفنت فوقه، ثم دعا رسول الله صلی الله علیه وسلم اسامة بن زید و ابا ایوب الانصاری و عمر بن الخطاب و غلاما اسود لیحفروا فحفروا قبرها فلما یلغوا اللحمد حفره رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده و اخرج ترابه بیده، فلما فرغ دخل رسول الله صلی الله علیه وسلم فاضجع فیه وقال:

الله الذی یحیی و یمیت و هو حی لایموت، اغفرلامی فاطمة بنت اسد و لقنها حجتها و وسع علیها مدخلها بحق نبیک والانبیاء الذین من قبلی، فانک ارحم الراحمین، ثم کبر علیها اربعا، ثم ادخلوها القبر هو والعباس وابوبکر الصدیق رضی الله عنهم۔‘‘

ہمیں سفیان ثوری نے حدیث بیان کی، انھوں نے (عن کے ساتھ) عاصم الاحول سے، انھوں نے انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے، انھوں نے فرمایا:

جب علی رضی اللہ عنہ کی والدہ: فاطمہ بنت اسد بن ہاشم (رضی اللہ عنہما) فوت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے پھر آپ ان کے سر کی طرف بیٹھ گئے تو فرمایا: اے میری ماں! اللہ تجھ پر رحم کرے، میری (حقیقی) ماں کے بعد تو میری ماں تھی، تو خود بھوکی رہتی اور مجھے خوب کھلاتی، تو کپڑے (چادر) کے بغیر سوتی اور مجھے کپڑا پہناتی، تو خود بہترین کھانا نہ کھاتی اور مجھے کھلاتی تھی، تمھارا مقصد اس (عمل) سے اللہ کی رضامندی اور آخرت کاگھر تھا۔

پر آپ نے حکم دیا کہ انھیں تین، تین دفعہ غسل دیا جائے، پھر جب اس پانی کا وقت آیا جس میں کافور (ملائی جاتی) ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے ان پر پانی بہایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر انھیں پہنا دی اور اسی پر انھیں کفن دیا گیا۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید، ابو ایوب الانصاری، عمر بن الخطاب اور ایک کالے غلام کو بلایا تاکہ قبر تیار کریں پھر انھوں نے قبر کھودی، جب لحد تک پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کھودا اور اپنے ہاتھ سے مٹی باہر نکالی پھر جب فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قبر میں داخل ہوکر لیٹ گئے اور فرمایا:

اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ زندہ جاوید ہے کبھی نہیں مرے گا۔

(اے اللہ!) میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور اس کی دلیل انھیں سمجھا دے، اپنے نبی اور مجھ سے پہلے نبیوں کے (وسیلے) سے ان کی قبر کو وسیع کردے، بے شک تو ارحم الراحمین ہے۔

پھر آپ نے ان پرچار تکبیریں کہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)، عباس اور ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہما (تینوں) نے اسے قبر میں اتار دیا۔

(المعجم الاوسط للطبرانی ۱۵۲/۱۔ ۱۵۳ ح۱۹۱، وقال: ’’تفروبہ روح بن صلاح‘‘ و عنہ ابو نعیم الاصبہانی فی حلیۃ الاولیء ۱۲۱/۳، و عندہ: یرحمک اللہ… الحمدللہ الذی یحیی…، وعنہ ابن الجوزی فی العلل المتناہیہ ۲۶۸/۱، ۲۶۹ ح۴۳۳)

زبیرعلی زئی کے اعتراضات کے جواب:

اعتراض1: زبیرعلی زئی لکھتا ہے

یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے و مردود ہے:

اول: اس کا راوی روح بن صلاح جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔

ابن عدی نے کہا: ’’وفی بعض حدیثہ نکرۃ‘‘

اور اس کی بعض حدیثوں میں منکر روایات ہیں۔

(الکامل ۱۰۰۶/۳، دوسرا نسخہ ۶۳/۴)

الجواب: یہ اعتراض زبیر علی زئی کا علامہ ابن عدی کے منہج سے جاہل ہونے کا نتیجہ ہے حقیقت میں یہ جرح ہی نہیں ہے۔

اس کا جواب ہم محدثین کے حوالہ جات سے پیش کرتے ہیں:

امام ابن حجر عسقلانی (المتوفی: 752ھ) علامہ ابن عدی کے منہج کے بارے میں لکھتے ہیں:

و من عادتہ فیہ ان یخرج الاحادیث التی انکرت علی الثقۃ او علی غیرالثقۃ

اس کتاب (الکامل لابن عدی) میں علامہ ابن عدی کی یہ عادت ہے کہ وہ ثقہ اور غیر ثقہ کی منکر احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(مقدمہ فتح الباری ص 429)

امام تاج الدین سبکی (المتوفی: 771ھ) فرماتے ہیں:

و ذکر فی کل ترجمۃ حدیثا فاکثر من غرائب ذاک الرجل و مناکیرہ

اور علامہ ابن عدی ہر راوی کے ترجمہ میں اس کی غریب اور منکر احادیث میں سے ایک یا اس سے زیادہ کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج 3 ص 316)

امام ذہبی (المتوفی: 748 ھ) لکھتے ہیں:

و یروی فی ترجمۃ حدیثا او احادیث مما استنکر للرجل

اور علامہ ابن عدی راوی کے ترجمہ میں اس کی منکر احادیث میں سے ایک یا کئی احادیث ذکر کرتے ہیں۔

(سیراعلام النبلاء ج 16 ص 155- 156)

اس کے علاوہ خود علامہ ابن عدی بھی اپنی کتاب میں اپنے منہاج کی تصریح کی ہے چنانچہ مہلب بن ابی حبیبۃ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

لم ارلہ حدیثا منکرا فاذکرہ

میں نے ان کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی کہ اس کا تذکرہ کروں۔

(الکامل فی ضعفاء الرجال ج 8 ص 228)

اس سے ثابت ہوتا ہے علامہ ابن عدی کی عادت ہے کہ وہ اپنی کتاب الکامل فی ضعفاءالرجال میں ثقہ اور غیر ثقہ کی مناکیر روایات کا ذکر کرتے ہیں اور یہاں روح بن الصلاح کی مناکیر روایت کا ذکر کرنا جرح ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ اس روایت کو امام ابن عدی نے منکرات میں شمار نہیں کیا۔لہذا یہ اعتراض باطل ہے

روح بن الصلاح کی مناکیر روایات کا تحقیقی جائزہ

علامہ ابن عدی نے جو منکر روایات روح بن الصلاح کے ترجمہ میں ذکر کی ہیں حقیقت میں علامہ ابن عدی کو وہ روایات مجہول اور کذاب رواۃ کے طرق سے پہنچی ہیں جس میں روح بن الصلاح کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

اب آتے ہیں علامہ ابن عدی کی درج شدہ روایات پر پھر اس پر تحقیقی تبصرہ کر کے روح بن الصلاح کو بری ذمہ ثابت کرتے ہیں

علامہ ابن عدی کی پہلی روایت:

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ علي بْن بيان الغافقي بمصر في رجب سنة تسع وتسعين ومِئَتَين.

حَدَّثني رُوحُ بْنُ سِيَابةَ أَبُو الْحَارِثِ الَحَارِثِيُّ، حَدَّثني سَعِيد بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَن مُحَمد بْنِ عَبد الرَّحْمَنِ عَنْ عَبد اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنّ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وسَلَّم قَال: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں علامہ ابن عدی نے خود تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ علامہ ابن عدی کے شیخ جعفر بن احمد بن علی بن بیان الغافقی خود ان کے نزدیک کذاب ہیں۔

علامہ ابن عدی خود اپنے شیخ کے بارے میں لکھتے ہیں:

أَبُو الفضل الغافقي مصري يعرف بابن أَبِي العلاء كتبت عنه بمصر في الدخلة الأولى فِي سنة تسع وتسعين ومِئَتَين وكتبت في الدخلة الثانية في سنة أربع وثلاثمِئَة وأظن فيها مات (ح) وحدثنا هُوَ، عَن أَبِي صَالِح كاتب الليث وسعيد بْن عفير، وَعَبد اللَّه بْن يُوسُف التنيسي وعثمان بن صالح كاتب بن وهب وروح بْن صلاح، وَهو بن سيابة ونعيم بْن حَمَّاد وغيرهم بأحاديث موضوعة وكنا نتهمه بوضعها بل نتيقن فِي ذلك وَكَانَ مع ذلك رافضيا.

(الکامل لابن عدی ج 2 ص 400 رقم 348)

لہذا اس منکر روایت سے روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی دوسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ بْنُ بِجْمَاكَ البُخارِيّ بِدِمَشْقَ، قَال: حَدَّثني عِيسَى بْنُ صَالِحٍ الْمُؤَذِّنُ بِمِصْرَ، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَافِعٍٍ، عنِ ابْنِ عُمَر قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی علامہ ابن عدی نے تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ اس میں بھی خود علامہ ابن عدی کے شیخ عصمہ بن بجماک مجہول ہیں ۔خود اس کا تذکرہ علامہ ابن عدی نے بھی نہیں کیا اپنی کسی بھی کتاب میں اس کے علاوہ عیسیٰ بن صالح الموذن خود علامہ ابن عدی کے نزدیک بھی مجہول ہے۔

علامہ ابن عدی روح بن صلاح کے ترجمہ میں عیسیٰ بن صالح المؤذن کے بارے میں لکھتے ہیں:

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی تیسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ، حَدَّثني عَنْسِيُّ بْنُ صَالِحٍ المؤذن بمصر، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنِ الأَعْرَجِ وَأَبِي يُونُس، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی وہی عصمہ بن بجماک اور عیسیٰ بن صالح المؤذن راوی ہیں جو کہ مجہول ہیں ۔لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔اس لیے آخر میں علامہ ابن عدی کو بھی حقیقت تسلیم کرنی پڑی یہ لکھ کر

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

یہ دو احادیث اپنی سند کے ساتھ غیر محفوظ ہیں ۔شاید اس میں بلا (مصیبت) اس عیسٰی کی وجہ سے آئی ہے کیونکہ وہ مشہور نہیں ہے ۔

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس سے ثابت ہوا کہ علامہ ابن عدی کو کوئی بھی منکر روایت کی صحیح سند روح بن صلاح تک نہ مل سکی لہذا بنا کوئی دلیل کے علامہ ابن عدی کا روح بن صلاح کو ضعیف قرار دینا صحیح نہیں ہےاور اس سے علامہ ابن عدی کی جرح کمزور اور غیرمفسر ثابت ہو رہی ہے جو کہ اصول حدیث میں قبول نہیں۔

اعتراض نمبر2: ابن یونس المصری نے کہا: ’’روت عنہ مناکیر‘‘ اس سے منکر روایتیں مروی ہیں۔ (تاریخ الغرباء بحوالہ لسان المیزان ۴۶۶/۲، دوسرا نسخہ ۱۱۰/۳)

الجواب: یہ اعتراض بھی فضول ہے کیونکہ تاریخ ابن یونس میں روح بن صلاح کے بارے میں روت عنہ منکر نہیں کہا ۔ علامہ ابن یونس کی اصل عبارت یہ ہے۔

وقد قيل: إن «روح بن صلاح» من الموصل ناقلة إلى مصر. وأما دارهم، فبمصر فى مراد الحارثين. والله أعلم

(تاریخ ابن یونس ج 1 ص 302 رقم 816)

علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ سے یہاں تسامح ہو گیا ہے تاریخ ابن یونس سے عبارت نقل کرتے وقت (واللہ اعلم)

لہذا امام ابن یونس کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض 3: امام دارقطنی نے کہا: ’’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘

وہ حدیث میں ضعیف تھا، مصر می رہتا تھا۔ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳)

الجواب: اس بات کا تعلق امام دارقطنی کی دوسری کتاب کے ساتھ ہے لہذا اس کی وضاحت نیچے آ رہی ہے۔

اعتراض 4: ابن ماکولا نے کہا: ’’ضعفوہ فی الحدیث‘‘ انھوں نے اسے حدیث میں ضعیف قرار دیا ہے۔ (الاکمال ۱۵/۵، باب شبابہ و شبانہ و سیابہ)

الجواب: اس میں امام ابن ماکولا نے کوئی جرح نہیں کی بلکہ ا نہوں نے کسی اور کی طرف اشارہ کیا "ضعفوہ” میں واؤ ضمیر کا مرجع کون ہے؟؟؟

کیونکہ اس میں کسی نام کی تصریح نہیں کہ کس نے ضعیف قرار دیا ہے لہذا یہ جرح بھی مبہم اور غیرمفسر ہے۔

لہذا امام ابن ماکولا کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض5 :حافظ ذہبی نے کہا: ’’لہ مناکیر‘‘ اس کی منکر روایتیں ہیں۔ (تاریخ الاسلام ۱۶۰/۱۷)

الجواب: منکر روایات ہونا کوئی جرح نہیں یہ بھی زبیر زئی کی جہالت ہے کیونکہ بہت سے ثقہ محدثین نے مناکیر روایات روایت کی ہیں کیا وہ سب ضعیف ہو جائیں گے اس سے؟؟؟

اس کے باوجود امام ذہبی نے اس روایت کو منکر روایت میں شمار نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا ہے یہ روایت روح بن صلاح کی منکرات میں سے نہیں ہے

اعتراض 6: ابن الجوزی نے روح بن صلاح کو اپنی کتاب المجروحین (۲۸۷/۱) میں ذکر کیا اور اس کی بیان کردہ حدیث مذکور کو ’’الاحادیث الواھیۃ‘‘ یعنی ضعیف احادیث میں ذکر کیا۔ (دیکھئے العلل المتاہیہ: ۴۳۳)

الجواب: ابن جوزی نے یہاں ابن عدی کی تقلید کی اور اس کی مبہم اور غیرمفسر جرح سے روح بن صلاح کو ضعیف کہا جس سے ثابت ہوا کہ ابن جوزی صرف جرح کرنے والے ناقل ہیں خود انہوں نے جرح نقل نہیں کی لہذا اس کو جارح شمار کرنا باطل اور مردود ہے۔ امام ابن جوزی لکھتے ہیں

روح بن صَلَاح وَيُقَال روح بن شَبابَة يكنى أَبَا الْحَارِث

يروي عَن ابْن لَهِيعَة

قَالَ ابْن عدي هُوَ ضَعِيف

الضعفاء والمتروکین لابن جوزی ج 1 ص 287 رقم 1243

اعتراض6: احمد بن محمد بن زکریا ب ابی عتاب ابوبکر الحافظ البغدادی، اخومیمون (متوفی ۲۹۶ھ) نے کہا: ہمارا اس پر اتفاق ہوا کہ مصر میں علی بن الحسن السامی، روح بن صلاح اور عبدالمنعم بن بشیر تینوں کی حدیثیں نہ لکھیں۔ (لسان المیزان ۲۱۳/۴۔ ۲۱۴، سوالات البرقانی الصغیر: ۲۰، بحوالہ المکتبۃ الشاملۃ و سندہ صحیح)

الجواب : یہ جرح امام دارقطنی کی بات سے تعلق رکھتی ہے

جس کی پوری وضاحت یہ ہے۔

قال لی ابوالحسن : سمعت اباطالب یقول : قال لی اخو میمون ، اسمہ احمد بن محمد بن زکریا ابوبکر بغدادی اقام بمصر

‘اتفقنا علی ان لایکتب بمصر حدیث ثلاثۃ : علی بن الحسن السامی، و روح بن صلاح و عبدالمنعم بن بشیر۔(اس کا ترجمہ اوپر زبیر زئی نے کیا ہوا ہے آگے والی عبارت کو زبیر علی زئی نے چھپا لیا ہے کیونکہ اس سے امام دارقطنی کی جرح مبہم ثابت ہوتی تھی آگے والی ہم پیش کر کے زبیر زئی کا رد پیش کرتے ہیں)

اس عبارت کے آگے امام دارقطنی فرماتے ہیں:

ثم قال لی ابوالحسن : و روح بن صلاح یقال لہ ایضا : روح بن سیابۃ مصری ، و کذا عبدالمنعم مصری ، و علی بن الحسن السامی مصری۔

پھر مجھے امام دارقطنی نے کہا روح بن صلاح کے بارے میں اسی طرح کہا گیا ، روح بن سیابہ مصری اور اسی طرح عبدالمنعم مصری اور علی بن الحسن السامی مصری۔

(سوالات ابی بکر البرقانی للدارقطنی ، ص 56 رقم 18)

امام دارقطنی کی جرح ’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳) کی یہاں وضاحت ہوگی ہے اس سے مراد اس کی احادیث نہ لکھی جائیں۔

پہلے تو یہ اتفاق باطل ہے کیونکہ روح بن صلاح کی روایات بہت سے محدثین نے لکھیں ہیں خود امام دارقطنی نے بھی سنن دارقطنی رقم ٤٥١٤ میں لکھ کر خاموشی اختیار کی ہے.

لہذا اب یہاں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا "لایکتب حدیثہ” جرح مفسر ہوتی ہے؟؟

اس کا جواب غیر مقلدین کے ذہبی عصر عبدالرحمن معلمی غیرمقلد اپنی کتاب التنکیل ج1 ص 109 پر دیتا ہے۔

"ان کلمۃ لا تکتب حدیثہ لیس بتصریح فی الجرح”

یعنی لا تکتب حدیثہ کا کلمہ جرح میں صریح نہیں ہے۔

اس کے علاوہ زبیر علی زئی کے ممدوح ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں "

"کسی محدث کا کسی راوی سے حدیث نہ لینا اس کے ضعف کا موجب نہیں (توضیح الکلام ج1/548)

لہذا امام دارقطنی اورابوبکر بغدادی کی یہ جرح مبہم ہے اور زبیر علی زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔

اعتراض 7: ابن عدی، ابن یونس، دارقطنی، ابن ماکولا، ذہبی، ابن جوزی اور احمد بن محمد بن زکریا البغدادی (سات محدثین) کے مقابلے میں حافظ ابن حبان نے روح بن صلاح کو کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ (۲۴۴/۸)

حاکم نے کہا: ’’ثقہ مامون، من اھل الشام‘‘ (سوالات مسعود بن علی السجزی: ۶۸، ص۹۸)

اور یعقوب بن سفیان الفارسی نے اس سے روایت لی۔ (موضح اوہام الجمع و التفریق للخطیب ۹۶/۲، و فیہ علی بن احمد بن ابراہیم البصری شیخ الخطیب)

مختصر یہ کہ جمہور علماء کی جرح کے مقابلے میں تین کی توثیق مردود ہے۔

الجواب: ابن عدی کی جرح ضعیف و مبہم ہے امام دارقطنی اور اابوبکر بغدادی کی جرح کی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے وہ بھی مبہم ہے جس کو ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔

امام ابن یونس نے کوئی جرح نقل نہیں کی امام ابن ماکولا اور امام ابن جوزی ناقل ہیں خود جارح نہیں اس جرح میں۔امام ذہبی نے کوئی جرح نہیں کی۔اس سے ثابت ہوتا ہے زبیر علی زئی کی ریاضی کمزور ہے ناقلین کو بھی جارحین میں شمار کیا ہوا ہے۔

تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے جرح مبہم ہے اور مبہم جرح کو جمہور کہنا زبیر علی زئی کی جہالت ہے اور اس میں روح بن صلاح کی توثیق ہی راجح ہے۔ (واللہ اعلم)

اعتراض 8 دوم: روح بن صلاح (ضعیف) ااگر بفرض محال ثقہ بھی ہوتا تو یہ سند سفیان ثوری (مدلس) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔

سفیان ثوری کے بارے میں محمد عباس رضوی بریلوی نے کہا:

’’یعنی سفیان مدلس ہے اور روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصول محدثی کے تحت مدلس کا عنعنہ غیرمقبول ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا۔‘‘ (مناظرے ہی مناظرے ص۲۴۹)

سفیان ثوری کی تدلیس کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: ۶۷ ص۱۱۔۳۲

خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ سوال میں روایت مذکورہ غیر ثابت ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔

نیز دیکھئے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی (۳۲/۱۔ ۳۴ ح۲۳ وقال: ضعیف)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص542

الجواب : امام سفیان ثوری دوسرے طبقہ کے مدلس ہیں ان کی عن والی روایت جمہور کے نزدیک قبول ہے۔

خود غیر مقلد کفایت اللہ سنابلی اپنی جماعت کے غیر مقلد زبیر علی زئی کا رد کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

"اور سفیان ثوری رحمہ اللہ قلیل التدلیس ہی ہیں ، لہذا ان کا عنعنہ بھی مقبول ہے، بلکہ ان کے عنعنہ کے مقبول ہونے پر اجماع ہے۔(انوارالبدر طبع جدید ص 354)

خود زبیر علی زئی کے استاد محمد یحیی گوندلوی لکھتا ہے

"بلاشبہ بعض محدثین نے امام ثوری کو مدلس کہا ہے مگر یہ مدلس کے اس طبقہ میں ہیں جہاں تدلیس مضر اور روایت کی صحت کے مانع نہیں ہے۔حافظ ابن حجر کی اصولی تحریر سے واضح ہو گیا ہے کہ اگرچہ امام ثوری مدلس تھے مگر ان کی تدلیس مضر نہیں جو حدیث کی صحت پر اثر انداز ہو اور حدیث کو تدلیس کی وجہ سے رد کر دیا جائے،

(خیرالبراہین فی الجہربالتامین ص 25-26)

اس کے علاوہ اس مسئلہ پر خود زبیر علی کے استاد محب راشدی اور بدیع الدین راشدی نے اپنے شاگرد کا رد کیا۔مزید تحقیق کے لیے مقالات راشدیہ جلد اول اور مقالات اثریہ کا مطالعہ کریں۔

علامہ محمد عباس رضوی صاحب نے یہ بات غیر مقلد محمدسلیمان سے تحریری مناظرے میں الزامی جواب کے طور پر ہاتھ باندھنے کے موضوع پر لکھی ہے۔ کیونکہ غیرمقلدین حضرات رفع یدین کے مسئلہ پر امام سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف لکھتے ہیں۔

جب کہ خود علامہ محمد عباس رضوی نے اسی کتاب مناظرے ہی مناظرے ص 356 پر لکھتے ہیں امام سفیان ثوری پر جرح اور اس کا جواب۔اس سرخی میں غیرمقلدین کے اعتراضات کے جواب دیئے لہذا زبیر زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ روح بن صلاح حسن درجے کا راوی ہے اور زبیر علی زئی کے تمام اعتراض ضعیف اور مبہم جرح پر مبنی ہیں ایک جرح بھی مفسر نہیں اس کے علاوہ امام یعقوب بن سفیان جیسے متشدد محدث نے ان سے روایت لی اور یہ ان سے روایت لیتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں ۔امام حاکم کا تساہل صرف مستدرک تک محدود ہے اس کا اظہار خود غیرمقلد کفایت سنابلی نے بھی کیا ہے محدث فورم پر۔لہذا اس راوی پر امام حاکم کا تساہل ثابت نہیں ہوتا، اس کے علاوہ امام ابن حبان بھی اس توثیق میں منفرد نہیں ہیں لہذا یہاں ان سے تساہل ثابت نہیں ہوتا۔

اگر مبہم جرح کو تسلیم بھی کیا جائے تو پھر بھی راوی ضعیف ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس کی توثیق بھی ثابت ہے لہذا مبہم جرح اور توثیق کی تطبیق سے ثقہ کے درجہ سے گر کر یہ راوی حسن الحدیث پر ہی فائز ہوتا ہے اور زبیر علی زئی کا بھی یہ منہج ہے اپنی کتب میں۔ (واللہ اعلم)

خادم حدیث شریف:

رضاءالعسقلانی

غیر مقلدیت کا انجام غیر مقلدوں کے متضاد فتوے

غیر مقلدیت کا انجام غیر مقلدوں کے متضاد فتوے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بے نماز کاحکم : بے نماز کے بارے میں احادیث میں سخت وعید آئی ہے ۔ حتٰی کہ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جان بوجھ کر جو نماز چھوڑے وہ کافر ہو گیا ۔ اکثر علماء تو اس حکم کو تہدید اور تشدید پر محمول کرتے ہیں ۔ جبکہ غیر مقلدین کے اس بارہ میں دو قسم کے نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ بے نماز کافر تو ہو جاتا ہے ۔ مگر ملت اسلام سے خارج نہیں ہوتا اس لئے اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے ۔ چناچہ غیر مقلد شیخ الکل فی الکل مولانا نزیر حسین صاحب دہلوی ۔لکھتے ہیں ۔

جن احادیث سے تارک الصلوۃ کا کفر ثابت ہوتا ہے ۔ ان احادیث سے وہ بلا شبہ کافر ہیں اور ان کو کافر کہنا روا ہے ۔ مگر ہاں تارک الصلٰوۃ کا کفر ایسا کفر نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے وہ ملت اسلام سے خارج ہو جائے اور مغفرت و شفاعت و دخول جنت کا مستحق نہ رہے ۔ { فتاوٰی نزیریہ ج1 ص463 }

اور مبارکپوری صاحب نے بھی یہ مسئلہ بیان کرتے ہوئے اسی عبارت کو پیش کیا ہے ۔ {ملاحظہ ہو فتاوٰی ثنائیہ ج1 ص 467 و فتاوٰی علمائے حدیث ج4ص263 }

اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں ۔

ہاں فی زمانتا حسب مصلحت وقت تہدیدا تارک الصلٰوۃ کو مطلق کافر کہنا جائز ہے ۔ نہ یہ کہ مانند کفار غسل و تجہیز و تکفین و نماز جنازہ سے محروم کیا جائے ۔

{ فتاوٰی نزیریہ ج 4 ص 270 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ بے نماز کے بارہ میں غیر مقلدین حضرات کا یہ ہے کہ وہ کافر ہے اور ملت اسلام سے خارج ہے ۔چناچہ غیر مقلد عالم مولانا عبداللہ امرتسری صاحب ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں ۔

ہاں نماز ایسا رکن ہے کہ اس کے نہ پڑھنے سے ایمان ہی نہیں رہتا ۔

{ فتاوٰی اہلحدیث ج1 ص 116 }

اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ ۔ بے نماز کا جنازہ نہ پڑھنا چاہئے ۔ {فتاوٰی اہلحدیث ج2ص46 }

اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں ۔ جو کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے یا بالکل نماز کا تارک ہو اس کے ساتھ دوستانہ تعلق اور اس کے ساتھ محبت کے طور پر سلوک کرنا یا تحفہ وغیرہ بھیجنا اور ضیافت کرنا بالکل جائز نہیں ۔ ہاں عام لین دین جیسے ہندؤں وغیرہ سے کرتے ہیں ان کی دوکانوں سے سودا وغیرہ لیتے ہیں اور ان کی دوکانوں پر اشیاء وغیرہ فروخت کرتے ہیں اس کا کوئی حرج نہیں ۔ اور اسی صفحہ پر ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں ۔ بے نماز بے شک کافر ہے خواہ ایک نماز کا تارک ہو یا سب نمازوں کا ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج 2 ص 37 }

اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ بے نماز کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 38}،چشتی)

ایک مقام میں لکھتے ہیں ۔ بے نماز کی بابت صحیح یہی ہے کہ بالکل کافر ہے ۔ پس اس کے ساتھ کافروں سا سلوک چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 48 }

اور ایک مقام پر لکھتے ہیں ۔

بے نماز بے شک کافر ہے خواہ ایک نماز کا تارک ہو یا سب نمازوں کا ۔ پھر آگے لکھتے ہیں ۔ اور بے نماز جب کافر ہوا تو اس کا کھانا مثل عیسائی کے کھانے کے سمجھ لینا چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج3 ص364 }

بے نماز کی اولاد : غیر مقلدین بے نماز کو کافر کہتے ہیں اور کافر کا تو نکاح ہی معتبر نہیں ۔ جب اس کا نکاح نہیں تو اولاد کو ولدالحرام ہی کہنا چاہیے مگر یہاں آ کر غیر مقلدین کو احتیاط یاد آ گئی اور یوں کہنے لگے ۔

مگر چونکہ بے نماز کا کفر ظنی ہے اس لئے اس کی اولاد کو ولدالحرام کہنے میں زرا احتیاط چاہیے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 47 }

محترم قارئین : یہ ہیں غیر مقلدین جو مسلمانان احناف مقلدین کے بارہ میں تو خوب شور مچاتے ہیں کہ ان میں یہ اختلاف ہے وہ اختلاف ہے ۔ مگر اپنے گھر کے اختلافات پہ بالکل خاموش نظر آتے ہیں ۔

قرآن کریم کو بے وضو ہاتھ لگانا

غیر مقلدین حضرات کے نزدیک بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتا ہے ۔ چناچہ غیر مقلد عالم نواب نورالحسن بھوپالی لکھتے ہیں : محدث را مس مصحف جائز باشد ۔ {عرف الجادی ص15 }

یعنی بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا جائز ہے ۔

اور غیر مقلد عالم علامہ وحیدالزمان صاحب لکھتے ہیں : ولا یمنع الحدث المس ۔

{ کنزالحقائق ص 15}،چشتی)

یعنی بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا منع نہیں ہے ۔

اسی طرح انہوں نے اپنی کتاب نزل الابرار ص 26 ج 1 میں لکھا ہے کہ ۔ ہمارے اکثر اصحاب نے بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا جائز قرار دیا ہے۔

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود کر لیں کہ میرے اللہ کا حکم ہے کہ پاکی کے بغیر ہاتھ مت لگاؤ اور غیر مقلدین فرما رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں آپ لگا سکتے ہیں ۔

حیض والی عورت کے لئے قرآن کریم کی تلاوت

حیض والی عورت قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتی ہے یا نہیں ؟ اس بارہ میں غیر مقلدین کے دو نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ ایک دو حرف کی تلاوت کر سکتی ہےمگر پوری آیت نہیں ۔

چناچہ محدث مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں : واما قراء الآ یۃ بتمامھا فلا یجوز لھما البتۃ ۔ جنبی اور حیض والی عورت دونوں کے لئے قرآن کریم کی مکمل آیت کی تلاوت بالکل جائز نہیں ہے ۔ { تحفۃ الجوذی ج 1 ص 124 }

اسی طرح غیر مقلد عالم نواب نورالحسن خان بھوپالی لکھتے ہیں ۔ و جنب و حائض را در آمدن مسجد و خواندن قرآن حران ست نہ حلال ۔ جنبی آدمی اور حیض والی عورت کے لئے مسجد میں آ نا اور قرآن کریم پڑھنا حرام ہے ۔ { عرف الجادی ص15 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اگر حیض والی عورت متعلمہ ہے تو وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر سکتی ہے اور ہاتھ بھی لگا سکتی ہے ۔ چناچہ غیر مقلد عالم علامہ وحیدالزمان صاحب لکھتے ہیں ۔ ورخصواللحائضۃ المتعلمۃ فی مس المصحف والتلاوۃ ۔{ نزل الابرار ج1 ص 26}،چشتی)

یعنی غیر مقلدین حضرات نے طالبہ کے لئے جب کہ وہ حٰض کی حالت میں ہو تو اس کو قرآن کریم کو ہاتھ لگانے اور تلاوت کی اجازت دی ہے ۔

اسی طرح وہ اپنی کتاب کنزالحقائق ص 15 میں بھی حیض میں مبتلا طالبہ کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانے اور تلاوت کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود فرما لیں کہ ہاتھی کہ دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کی مانند غیر مقلدین کا اپنا کیا حال ہے ۔

تعظیم قبلہ : مسلمان قبلہ کی تعظیم کرتے ہیں اور ایسے کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جو قبلہ کی توہین کا باعث ہو اور جمہور مسلمان قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے پیشاب وغیرہ کرنے کو اور اسی طرح بلا عزر قبلہ کی جانب پاؤں پھیلانے کو بھی تعظیم کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ مگر غیر مقلدین کے اس بارہ میں دو نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ تعمیر شدہ بیت الخلاء میں اگر کوئی بیٹھ کر پیشاب وغیرہ کرے تو پھر کعبہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

چناچہ ایک سوال میں لکھا گیا کہ : قضائے حاجت کا کیا طریقہ ہے ؟

تو جواب دیا گیا کہ بیٹھنے کے وقت زمین کے قریب ہو کر کپڑا اٹھانا چاہیے قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنے سے پرہیز رکھے ہاں اگر آگے پیچھے پردہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج1 ص251}

اسی طرح قضائے حاجت کے مسائل بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ۔ پیشاب یا پخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے ۔ بیت الخلاء میں بوقت ضرورت جائز ہے ۔ { فتاوٰی علمائے حدیث ج1ص33}،چشتی)

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ یہ ہے کہ پیچاب اور پخانہ کی حالت میںقبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنا منع ہے خواہ کھلی جگہ ہو یا تعمیر شدہ بیت الخلاء ہو ۔ چناچہ نواب مولانا نورالحسن خان بھوپالی لکھتے ہیں ۔ واستقبال واستدبارقبلہ نزدریدن و شاشدن ۔ {عرف الجادی ص11}

اسی طرح غیر مقلد عالم محدث مبارکپوری صاحب اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : فالحاصل ان اولی الاقوال واقواھا عندی واللہ اعلم ھو قول من قال انہ لایجوزالاستقبال والاستدبار مطلقا ۔ { تحفۃ الاحوذی ج1ص20}

تو اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ : ان اقوال میں سے سب سے بہتر اور قوی قول میرے نزدیک ان لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ متلقا { خواہ کھلی جگہ ہو یا بیت الخلاء میں } قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے ۔ واللہ اعلم

محترم قارئین : غیر مقلد علماء کے نظریات ملاحظہ فرمالیں ایک صاحب فرما رہے ہیں کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر سکتے ہیں اور دوسرا صاحب فرما رہے ہیں کہ قطعا نہیں کر سکتے ۔

جرابوں پر مسح کرنا : جرابوں پر مسح کرنے کے بارہ میں غیر مقلدین کے دو نظریئے ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ ہر قسم کی جرابوب پر مسح جائز ہے ۔ چناچہ اس بارہ میں سوال ہوا تو جواب دیا گیا کہ : پائتا {جراب} پر مسح کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ؛ فتاوٰی ثنائیہ ج1ص441}،چشتی)

مولانا محمد صادق سیالکوٹی صاحب جرابوں پر مسح کی بحث کر کے آخر میں لکھتے ہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ جورب پاؤں کے لفافے یا لباس کو کہتے ہیں وہ لباس خواہ چرمی ہو ، خواہ سوتی یا اونی وغیرہ ہم اس پر مسح کر سکتے ہیں ۔ { صلوۃ رسول ص111 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ ہے کہ پتلی جرابوں پر مسح کرنا درست نہیں ہے چناچہ ایک سوال کے جواب میں مولانا ابوالبرکات صاحب لکھتے ہیں جسکی تصدیق محدث گوندلوی مرحوم نے کی ہے ۔ جرابوں پر مسح والی حدیث ضعیف ہے جس سے قرآن کی تخصیص درست نہیں لہٰزا ہم شرط لگاتے ہیں کہ جرابیں موٹی ہونے کی صورت میں مسح جائز ہے ۔ اگر موٹی نہیں تو پھر جائز نہیں ۔ { فتاوی برکاتیہ ص224 }

ایک سوال کے جواب میں مبارکپوری صاحب لکھتے ہیں ۔ المسح علی الجوربۃ لیس بجائز لانہ لم یقم علا جوازہ دلیل صحیح ۔ { فتاوی ثنائیہ ج1 ص243}

کہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے اسلئے کہ اس کے جواز پر کوئی صحیح دلیل نہیں ہے

ایک سوال ہو کہ اونی جرابوں پر مسح جائز ہے یا نہیں ؟ تو جواب دیا گیا مزکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے ۔ { فتاوی نزیریہ ج1 ص337 }

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود فرما لیں ایک صاحب فرما رہیے ہیں کہ جرابوں پر مسح جائز ہے اوردوسرے حضرت فرما رہے ہیں کہ جائز نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فتنہ غیر مقلدیت سے اہلِ ایمان کو بچائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No automatic alt text available.

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان اور میلاد مصطفیﷺ

Resultado de imagen de ‫بوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا‬‎

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان کی کتاب میں ذکر میلاد مصطفیﷺ کرنے کی تاکید

ماہ ربیع الاول میں ذکر

ولادت رسول ضرور کریں

الشمابوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا

الشمامتہ العنبریہ

اہل حدیث وہابی (غیر مقلّدین ) مذہب کے باطل عقائد

غیر مقلّدین وہابی گروپ جس کو آج کل اہل حدیث کہا جاتا ہے اسی نام سے وہ کام کررہے ہیں غیر مقلّدین اس لئے کہا جاتا ہے کہ اہل حدیث وہابی ائمہ مجتہدین امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام احمد ،امام مالک علیہم الرضوان کی تقلید یعنی پیرو ی کو حرام کہتے ہیں۔

وہابی گروپ اسلئے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ محمدین عبدالوہاب نجدی کو اپنا پیشوا اور بانی کہتے ہیں اپنے وقت کا مردود جس کی کفریہ عبارات آگے بیان کی جائیں گی اس کا نام ابنِ تیمیہ ہے غیر مقلّدین اس کو اپنا امام مانتے ہیں ۔

اہلحدیث غیر مقلّدین وہابی گروپ کاتاریخی پس منظر اور ان کے پوشیدہ راز انہی کی مستند کتابوں کے ثبوت سے بیان کی جائیں گے۔

غیر مقلّدین تاریخ کے آئینے میں 

کسی بھی شخصیت یا تحریک کی کردار کشی مؤر خانہ دیانت کے خلاف ہے ۔ہر انسان اللہ کا بندہ ،

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد اور حضور انور ﷺکی اُمت میں ہے ،ان تین رشتوں کا خیال رکھنا چاہیئے اس لئے راقم کی یہ کوشش رہتی ہے کہ جس زمانے کی اللہ نے قسم یاد فرمائی اس کی تاریخ دیانت دار انہ ،

غیر جانبدار انہ ،عادلانہ اور مومنانہ انداز میں قلم بندکی جانی چاہئے تاکہ پڑھنے والا تاریخ کے صحیح پس منظر کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرسکے اورکھرا کھوٹا الگ کرسکے ……

اس وقت ہم اہل حدیث (غیر مقلدین )کے بارے میں تاریخ کی روشنی میں کچھ عرض کریں گے ……

قرون اولیٰ میں ’’اہل حدیث ‘‘یا ’’صاحب الحدیث ‘‘ان تابعین کو کہتے تھے جن کو احادیث زبانی یاد ہوتیں اور احادیث سے مسائل نکالنے کی قدرت رکھتے تھے …پوری اسلامی تاریخ میں اہل حدیث کے نام سے کسی فرقہ کا وجو د نہیں ملتا …اگر مسلک کے اعتبار سے اہل حدیث لقب اختیار کرنے کی گنجائش ہوتی تو حضور ﷺ’’علیکم بسنّتی ‘‘نہ فرما تے بلکہ ’’علیکم بحدیثی ‘‘فرماتے ……

حضور ﷺکی حدیث پاک سے اہل سنت ،لقب اختیار کرنے کی تو تائید ہوتی ہے ’’اہل حدیث ‘‘ کی تائید نہیںہوتی …جیسا کہ عرض کیا گیا ہے پہلے علم حدیث کے ماہرین کو اہل حدیث کہتے تھے مگر ہر کس و ناکس کو کہنے لگے ،صاحب طر زاد یبوں ،مصنفوں کو اہل قلم کہتے ہیں …کیسی عجیب اور نامعقول بات ہوگی اگر ہر جاہل و غبی خود کو اہل قلم کہلوانے لگے ؟

پاک ہند میں لفظ ’’اہل حدیث ‘‘کی ایک سیاسی تاریخ ہے ۔جو نہایت ہی تعجب خیز اورحیران کن ہے ۔برصغیر میں اس فرقے کو پہلے وہابی کہتے تھے جو اصل میں غیر مقلد ہیں چونکہ انہوں نے انقلاب ۱۸۵۷؁ء سے پہلے انگریزوں کا ساتھ دیا اور برصغیر میں برطانوی اقتدار قائم کرنے اور تسلط جمانے میں انگریزوں کی مدد کی …انگریزوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد تو اہل سنت پر ظلم و ستم ڈھائے لیکن ان حضرات کو امن و امان کی ضمانت دی …

سرسید احمد خان (م ۔۱۳۱۵ھ/۱۸۶۸)کے بیان سے جس کی تائید ہوتی ہے :…

انگلش گورنمنٹ ہندوستان میں اس فرقے کے لئے جو وہابی

کہلایا ایک رحمت ہے جو سلطنتیں اسلامی کہلاتی ہیں ان میں

بھی وہا بیوں کو ایسی آزادی مذہب ملنا دشوار ہے بلکہ ناممکن

ہے سلطان کی عملداری میں وہابیوں کا رہنا مشکل ہے اور مکہ

معظمہ میں تو اگر کوئی جھوٹ موٹ بھی وہاں کہہ دے تو اسی

وقت جیل خانے یا حوالات میں بھیجا جاتا ہے …پس وہابی

جس آزادی مذہب سے انگلش گورنمنٹ کے سایہ عاطفت

میں رہتے ہیں دوسری جگہ ان کو میسر نہیں ۔ہندوستان ان

کے لئے دارالا من ہے …۲۰۲

یہ اس شخص کے تاثرات ہیں جو ہندوستانی سیاست بلکہ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتا تھا …ہندوستان میں ان حضرات کو امن ملتا اور سلطنت عثمانیہ میں نہیں (جو مسلمانوں کی عظیم سلطنت تھی ایشیاء ،یورپ ،افریقہ تک پھیلی ہوئی )امن اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ ان حضرات کا تعلق انگریزوں سے رہا تھا …آل سعود کی تاریخ پر جن کی گہری نظر ہے ان کو معلوم ہے کہ انہیں حضرات نے سلطنت اسلامیہ کے سقوط اور آل سعود کے اقتدار میں اہم کردار ادا کیا …یہ کوئی الزام نہیں تاریخی حقیقت ہے جو ہمارے معصوم جوانوں کا شکار رہی ہے …

خود اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی (جنہوں نے انگریز ی اقتدار کے بعد برصغیر کے غیر مقلدوں کی وکالت کی )کی اس تحریر سے سرسید احمد خان کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے ،وہ کہتاہے :…

اس گروہ اہل حدیث کے خیر خواہ وفاداری رعایا برٹش گورنمنٹ

ہونے پر ایک بڑی اور روشن دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ برٹش

گورنمنٹ کے زیر حمایت رہنے کو اسلامی سلطنتوں کے ماتحت

رہنے سے بہتر سمجھتے ہیں …۲۰۳

آخر کیا بات ہے کہ اسلام کے دعویدار ایک فرقے کو خود مسلمانوں کی سلطنت میں وہ امن نہیں مل رہا ہے جو اسلام کے دشمنوں کی سلطنت میں مل رہا ہے ۔ہر ذی عقل اس کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے اسکے لئے تفصیل کی ضرورت نہیں ……

ملکہ وکٹوریہ کے جشن جوبلی پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو سپاس نامہ پیش کیا اس میں بھی یہ اعتراف موجود ہے …آپ نے فرمایا :……

اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ

مسرت ہے اور ان کے دل سے مبارک باد کی صدائیں

زیادہ زور کے ساتھ نعرہ زن ہین …۲۰۴

یہی آدمی ایک اور جگہ تحریرکرتاہے :…

جو ’’اہل حدیث ‘‘کہلاتے ہیں وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز

کے نمک حلال اور خیر خواہ رہے ہیں اور یہ بات باربار

ثابت ہوچکی ہے اور سرکار ی خط و کتابت میں تسلیم کی جا

چکی ہے … ۲۰۵

یہو د ونصاری کو مسلمانوں کے جذبئہ جہاد سے ہمیشہ ڈر لگتا رہتا ہے …۱۸۵۷؁ء کے فوراًبعد انگریزوں کے مفاد میں اس جذبے کو سرد کرنے کی ضرورت تھی چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کے خلاف ۱۲۹۲؁ھ /۱۸۷۶؁ء میں ایک رسالہ ’’الا قتصادفی مسائل الجہاد ‘‘تحریر فرما یا جس پر بقول مسعود عالم ندوی حکومت برطانیہ نے مصنف کو انعام سے نوازا …۲۰۶

آپ نے باربار لفظ ’’اہل حدیث ‘‘سنا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس فرقے کو پہلے ’’وہابی ‘‘ کہتے تھے انگریزوں کی اعانت اور عقائد میں سلف صالحین سے اختلاف کی بنا ء پر برصغیر کے لوگ جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء کے بعد ان سے نفرت کرنے لگے اسلئے وہابی نام بدلو ا کر ’’اہل حدیث ‘‘

نام رکھنے کی درخواست کی گئی …یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :…

بنا بریں اس فرقے کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ (وہابی )کے

استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب وانکساری کے ساتھ

گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو

منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نا فذ کرے اور

ان کو ’’اہل حدیث ‘‘کے نا م سے مخاطب کیا جائے …۲۰۷

حکومت برطانیہ کے نام مولوی محمد حسین بٹالوی کی انگریزی

درخواست کا اردو ترجمہ جس میں حکومت برطانیہ سے’’وہابی ‘‘

کی جگہ ’’اہل حدیث ‘‘نام منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔

ترجمہ درخواست برائے الاٹمنٹ نا م اہل حدیث و منسوحی لفظ وھابی:

اشاعۃ السّنہ آفس لاہور

ازجانب ابو سعید محمد حسین لاہوری ،ایڈیٹر اشاعۃ السّنہ و وکیل اہل حدیث ہند

بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ !

میں آپ کی خدمت میں سطورِ ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کادر خواست گار ہوں ، ۱۸۸۶ء میں میں نے ایک مضمون اپنے ماہواری رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا تھا جسمیں اس بات کا اظہار تھا کہ لفظ وہابی ،جس کو عمو ماً باغی ونمک حرام کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے ،لہذا اس لفظ کا استعمال ، مسلمانانِ ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز کے نمک حلال و خیر خواہ رہے ہیں ،اور یہ بات سرکار کی وفاداری و نمک حلالی )بارہا ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے ،مناسب نہیں (خط کشیدہ جملے خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔)

بناء بریں اس فرقہ کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں ۔

اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ ،گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ (ہماری وفاداری ،جاں نثاری اورنمک حلالی کے پیش نظر )سرکاری طورپر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے ،اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے اس مضمون کی ایک کاپی بذریعہ عرضدا شت میں (محمد حسین بٹالوی )نے پنجاب گورنمنٹ اس مضمون کی طرف توجہ فرما دے ،اور گورنمنٹ ہند کو بھی اس پر متوجہ فرمادے اور فرقہ کے حق میں استعمال لفظ وہابی سرکاری خط و کتابت میں موقوف کیا جا وے اور اہل حدیث کے نام سے مخاطب کی جاوے ۔اس درخواست کی تائید کیلئے اور اس امر کی تصدیق کیلئے کہ یہ درخواست کل ممبران اہل حدیث پنجاب وہندوستان کی طرف سے ہے (پنجاب وہندوستان کے تمام غیر مقلد علماء یہ درخواست پیش کرنے میں برابر کے شریک ہیں )اور ایڈیٹر اشاعت السنہ ان سب کی طرف سے وکیل ہے ۔میں (محمد حسین بٹالوی )نے چند قطعات محضر نامہ گورنمنٹ پنجاب میں پیش کئے ،جن پر فرقہ اہل حدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے وستخط ثبت ہیں ۔اور ان میں اس درخواست کی بڑے زور سے تائید پائی جاتی ہے ۔

چنانچہ آنر یبل سرچار لس ایچی سن صاحب بہادر ،جو اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے ،گورنمنٹ ہند کو اس درخواست کی طرف توجہ دلاکر اس درخواست کو باجازت گورنمنٹ ہند منظور فرمایا ، اور اس استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام اہل حدیث کا حکم پنجاب میں نافذ فرمایا جائے ۔

میں ہوں آپ کا نہایت ہی فرمانبردار خادم

ابو سعید محمد حسین

ایڈیٹر’’اشاعت السنہ ‘‘

(اشاعۃ السنہ ص۲۴تا۲۶شمارہ ۲،جلد نمبر ۱۱)

یہ درخواست گورنر پنجاب سر چارلس ایچی سن کو دی گئی اور انہو ں نے تائیدی نوٹ کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اوروہاں سے منظور ی آگئی اور ۱۸۸۸؁ء میں حکومت مدراس ،حکومت بنگا ل ،

حکومت یوپی ،حکومت سی پی ،حکومت بمبئی وغیرہ نے مولوی محمد حسین کواسکی اطلاع دی ……

سرسید احمد خان نے بھی اسکا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں :…

جناب مولوی محمد حسین نے گورنمنٹ سے درخواست کی

تھی کہ اس فرقے کو درحقیقت اہل حدیث ہے …

گورنمنٹ اس کو ’’وہابی ‘‘کے نام سے مخاطب نہ کرے

…مولوی محمد حسین کی کوشش سے گورنمنٹ نے

منظور کرلیا ہے کہ آئندہ گورنمنٹ کی تحریرات میں

اس فرقے کو ’’وہابی ‘‘کے نام سے تعبیر نہ کیا جاوے

بلکہ ’’اہل حدیث ‘‘کے نام سے موسوم کیا جاوے …۲۰۸

اب آپ کو تاریخ کی روشنی میں فرقہ اہلِ حدیث (جو اصل میں غیر مقلد ہے )کی حقیقت معلوم ہوگئی … یہ فرقہ اہل سنت کا سخت مخالف ہے اور اجتہاد کا دعویٰ کرتا ہے …فلسطین کے مشہور عالم اور جامعہ ازہر مصر کے استاد علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی (م ۔۱۳۵۰؁ھ /۱۹۳۲؁ء) جو نابلس کے قاضی اورمحکمہ انصاف کے وزیر بھی رہ چکے ہیں )فرماتے ہیں :…

وہ مدعی اجتہاد ہیں مگر زمین میں درپے فساد ہیں ،اہل سنت

کے مذاہب میں کسی مذہب پر بھی گامزن نہیں ہوتے ۔

شیطان ان میں سے نئی نئی جماعتیں تیار کرتارہتا ہے

جو اہل اسلام کے ساتھ بر سر پیکار ہیں …۲۰۹

اس قتباس میں محکمہ انصاف کے اس وزیر اور جج نے تین باتیں فرمائی ہیں :…

غیر مقلّدین اہل حدیث وہابیوں کے پوشیدہ راز :

عقیدہ :غیر مقلّدین اہل حدیث وہابیوں کے نزدیک کا فر کا ذبح کیا ہو اجانور حلا ل ہے ۔اسکا کھانا جائز ہے ۔ (بحوالہ :دلیل الطالب ص 413،مصنف :نواب صدیق حسن خاں اہل حدیث )

(بحوالہ :عرف الجادی ص 247مصنف :نورالحسن خاں اہل حدیث )

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک رسول اللہ ﷺکے مزار مبارک کی زیارت کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ۔(بحوالہ :کتاب :عرف الجاری صفحہ نمبر 257)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک لفظ اللہ کے ساتھ ذکر کرنا بد عت ہے ۔

(بحوالہ :کتاب : البنیاں المر صوص ص173)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک بدن سے کتنا ہی خون نکلے اس سے وضونہیں ٹوٹتا ۔

(بحوالہ :کتاب :دستور المتقی )

عقیدہ :اہل حدیث وہابیوں کا امام ابن تیمیہ لکھتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین سو سے زیادہ مسئلوں میں غلطی کی ہے ۔(بحوالہ :کتاب :فتاوٰی حدیثیہ ص 87)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک خطبہ میں خلفائے راشدین کا ذکر کرنا بد عت ہے ۔

(بحوالہ : کتاب :ہدیۃ المہدی ص110)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک متعہ جائز ہے ۔(بحوالہ :کتاب :ہدیۃ المہدی ص 118)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال حجت نہیں ہیں ۔

(بحوالہ :کتاب ہدیۃ المہدی ص 211)

عقیدہ :اما م الوہابیہ محمد بن عبدالوہاب نجدی اپنی کتاب اوضح البر اہین صفحہ نمبر 10پر لکھتا ہے کہ حضور ﷺکا مزار گرا دینے کے لائق ہے اگر میں اسکے گرادینے پر قادر ہوگیا تو گرا دونگا ۔(معاذ اللہ )

عقیدہ :بانی وہابی مذہب محمد بن عبدالوہاب نجدی کا یہ عقیدہ تھا کہ جملہ اہلِ عالم و تما م مسلمانان دیار مشرک و کافر ہیں اور ان سے قتل قضال کرنا ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے ۔(ماخوذ حسین احمد مدنی ،الشہاب الثاقب ص 43)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک فجر کی نماز کے واسطے علاوہ تکبیر کے دو اذانیں دینی چاہئے ۔

(بحوالہ :اسرار اللنعت پارہ دہم ص 119)

عقیدہ :اہل حدیث امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام مالک ،امام احمد رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھلے عام گلیاں دیتے ہیں۔

عقیدہ :اہل حدیث اپنے سوا تمام مسلمانوں کو گمراہ اور بے دین سمجھتے ہیں۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک جمعہ کی دو اذانیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی جاری کردہ

بد عت ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک چوتھے دن کی قربانی جائز ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک تراویح 12رکعت ہیں 20رکعت پڑھنے والے گمراہ ہیں ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک فقہ بد عت ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک حالتِ حیض میں عورت پر طلاق نہیں پڑتی ہے ۔

(بحوالہ :روضۂ ندیہ ص 211)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک تین طلاقیں تین نہیں بلکہ ایک طلاق ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک ایک ہی بکری کی قربانی بہت سے گھر والوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے اگرچہ سو آدمی ہی ایک مکان میں کیوں نہ ہو۔(بحوالہ :بد ور الاہلہ ص 341)

عقیدہ :اہل حدیث مذہب میں منی پاک ہے ۔(بحوالہ :بدور الا ہلہ ص15دیگر کتب بالا )

عقیدہ :اہل حدیث مذہب میں مرد ایک وقت میں جتنی عورتوں سے چاہے نکاح کرسکتا ہے اسکی حد نہیں کہ چار ہی ہو ۔(بحوالہ :ظفر اللہ رضی ص141،ص142نواب صاحب )

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک زوال ہونے سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے ۔

(بحوالہ : کتاب :بدور الا ہلہ ص71)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک اگر کوئی قصداً (جان بوجھ کر )نماز چھوڑدے اور پھر اسکی قضا کرے تو قضا سے کچھ فائدہ نہیں وہ نماز اسکی مقبول نہیں اور نہ اس نماز کی قضا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے وہ ہمیشہ گنہگار رہیگا ۔(بحوالہ :دلیل الطالب ص250)

ان نام نہاد اہل حدیث وہابی مذہب کے عقائد و نظریات ہیں یہ قوم کو حدیث حدیث کی پٹی پڑھا کر ور گلاتے ہیں ان کے چنداہم اصول ہیں وہ اصول ملاحظہ فرمائیں ۔

وہابی اہل حدیث مذہب کے چند اہم اصول }

اصول نمبر1 :ان کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اگلے زمانے کے بزرگوں کی کوئی بات ہرگز سنی جائے چاہے وہ ساری دنیا کے مانے ہوئے بزرگ کیوں نہ ہوں ۔

اصول نمبر2 :غیر مقلدین اہل حدیث مذہب کا دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تفسیر لکھنے والے بڑے بڑے مفسرین اور قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے والے بڑے بڑے مجتہد ین میں سے کسی کی کوئی تفسیر اور کسی مجتہد کی کوئی بات ہر گز نہ مانی جائے ۔

اصول نمبر3 :تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ ہر مسئلے میں آسان صورت اختیار کی جائے (چاہے وہ دین کے منافی ہو )اور اگر اسکے خلاف کوئی حدیث پیش کرے تو اسے ضعیف کا اسٹیمپ لگا کر ماننے سے انکار کردیا جائے جو حدیثیں اپنے مطلب کی ہیں کہ ان کو اپنا لیا جائے اسلئے کہ انسان کی خاصیت ہے کہ وہ آسانی کو پسند کرتا ہے ۔تو حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی سب ہمارے (نام نہاد اہل حدیث وہابی )

مذہب کی آسانی دیکھ اپنا پرانا مذہب چھوڑ دیں گے اور غیر مقلّد ہوکر ہمارانیا مذہب قبول کرلیں گے ۔

اس کے چند نمونے یہ ہیں ۔

۱)تراویح لوگ زیادہ نہیں پڑھ سکتے تھک جاتے ہیں لہٰذا آٹھ پڑھا کر فارغ کردیا جائے ۔

۲)قربانی تین دن کی قصائی اور کام کاج کی مارا ماری کی وجہ سے چوتھے دن کی جائے یہ آسان ہے ۔

۳)طلاق دے کر آدمی بے چارہ بہ حواس پڑھتا ہے لہٰذا ایسی مشین تیار کی جائے کہ طلاقیں تین ڈالو باہر ایک نکالو تو ایک طلا ق نکلے ۔

۴)بزرگوں کے معاملات قرآن کی تفسیر یں ترقی یافتہ دور میں کون پڑھے بس اپنی من مانی کیئے جاؤ قرآن تمہارے سامنے ہے ۔

غیر مقلّدین اہل حدیث کا امام ابنِ تیمیہ کون تھا ؟

ابنِ تیمیہ کون تھا ؟}

ابنِ تیمیہ 661؁ھ میں پیدا ہوا اور 728؁ ھ میں مرا ابنِ تیمیہ وہ شخص تھا جس کو غیر مقلد ین اہل حدیث وہابی حضرات اپنا امام تسلیم کرتے ہیں مگر وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے اس نے بہت سے مسائل میں علماء حق کی مخالفت کی ہے یہاں تک کہ اس نے حضور ﷺکی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ کے سفر کو گناہ قرار دیا ہے اسکا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺکا کوئی مرتبہ نہیں ۔ اور یہ بھی اسکا عقیدہ ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی ذات میں تغیّر و تبدل ہوتا ہے ۔

۱)…اس امت کے امام شیخ احمد صاوی مالکی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر صاوی جلد اول کے صفحہ نمبر 96پر تحریر فرماتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ حنبلی کہلاتا تھا حالانکہ اس مذہب کے اماموں نے بھی اس کا رد کیا ہے یہاں تک علماء نے فرمایا کہ وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے ۔

۲)… علامہ شہاب الدین بن حجر مکّی شافعی علیہ الرحمہ اپنی فتاوٰی حدیثیہ کے صفحہ نمبر 116پر ابنِ تیمیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ جہنم فنا ہوجائے گی اور یہ بھی کہتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم اسلام معصوم نہیں ہیں اور رسول اللہ ﷺکا کوئی مرتبہ نہیں ہے ان کو وسیلہ نہ بنایا جائے اور حضور ﷺکی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے ایسے کفر میں نماز کی قصر جائز نہیں جو شخص ایسا کریگا وہ حضور ﷺکی شفاعت سے محروم رہیگا ۔

۳)…آٹھویں صدی ہجری کے عظیم اند لسی مورخ ابو عبداللہ بن بطوطہ اپنے سفر نامہ میں ابنِ تیمیہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں ۔

گو ابنِ تیمیہ کو بہت سے فنون میں قدرت تکلم تھی لیکن دماغ میں کسی قدر فتور آگیا تھا ۔

(رحلّہ ابنِ بطوطہ مطبع دار بیروت ص 95و مطبع خیریہ ص 68)(ترجمہ :رئیس احمد جعفری ندوی ص 126مطبوعہ ادارہ درس اسلام )

دماغ میں خرابی اورفتور کی وجہ سے جب اپنی تیمیہ نے بہت سے مسائل میں اجماعِ امّت کی مخالفت کی یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی اللہ عنہ کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا تو اہلسنّت و جماعت حنفی ، شافعی مالکی اور حنبلی ہر مذہب کے علماء نے ابنِ تیمیہ کا رد کیا اور اسے گمراہ گر قرار دیا ۔لیکن غیر مقلّدین نام نہاد وہابی اہل حدیث کہ جن کہ دلوں میں کھوٹ اور کجی پائی جاتی ہے انھوں نے دماغی خلل رکھنے والے ابنِ تیمیہ کی پیروی کرلی اور اسے اپنا امام پیشوا بنا لیا ۔

اہل حدیث مذہب والوں نے نیک اور قد آور شخصیات ائمہ اربعہ کو امام نہ مانا اور ان کی تقلید یعنی پیروی کو حرام لکھا تو ان کو سزا ملی کہ ابنِ تیمیہ جیسا زلیل ان لوگوں کا امام بنا اور انہوں نے اسے تسلیم بھی کیا ۔

غیر مقلّدین کو وہابی کیوں کہا جاتا ہے ؟}

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہابی تو اللہ تعالیٰ کا نام ہے حالانکہ یا د رہے اللہ تعالیٰ کا نام وہابی نہیں ہے بلکہ وہاب ہے ۔غیر مقلّدین اہل حدیث کو محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیر وی ہی کے سبب وہابی کہا جا تا ہے لیکن اس نا م کو پسند کرتے ہوئے مشہور غیر مقلّدین مولوی محمد حسین بٹالوی نے انگریز گورنمنٹ سے بڑی کوششو ں کے بعد نام جگہ اہل حدیث منظور کرایا ۔

سعودیہ عرب والے قا بض نجدیوں کا کیا عقیدہ ہے }

سعودیہ عرب کے قابض نجدیوں کا انہی وہابی عقائد رکھنے والوں سے گہرا تعلق ہے سعودی بھی محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیدا وار ہیں اور اسے اپنا پیشوا مانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غیر مقلّدین اہل حدیث پر وہ مکمل مہربان ہیں کروڑوں ،اربوں ریال ان کو امداد ملتی ہے جگہ جگہ مسجدیں ان کی کہا ں سے آئیں سارا سعودیہ کا چند ہ ہے اب غیر مقلّدین اہل حدیث بڑے فخر کیساتھ اپنا تعلق وہا بیت اور محمد بن عبدالوہاب نجدی سے جوڑتے ہیں اور ریالوں کی جھنکار سے فائد ہ اٹھا تے ہیں ۔

الد عوہ والا رشاد ،لشکرِ طیبہ ،جمعیت اہل حدیث ،تحریک اہل حدیث ،اہل حدیث یوتھ فورس ،سلفی تحریک (جتنے بھی سلفی لگاتے ہیں یہ تلفی ہیں سلفی نہیں ہیں سلفی کا مطلب سلف و صالحین کے پیروکار مراد ہے مگر یہ کسی کے پیر و کار نہیں )غرباء اہل حدیث یہ ساری تنظمیں اہل حدیث وہابی گروپ سے تعلق رکھتی ہے ۔

امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فتوٰی نویسی میں احتیاط کی ایک مثال

امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فتوٰی نویسی میں احتیاط کی ایک مثال

از: افتخار الحسن رضوی

امام اہل سنت سیدنا الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ والرضوان سے متعلق ایک عمومی رائے جو کہ مخالفین اہل سنت نے قائم کر رکھی ہے، وہ یہ کہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ متشدد، سخت گیر رویہ کے مالک اور تکفیری سوچ کے مالک تھے۔ اس رائے کے قائم ہو جانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے امام احمد رضا علیہ ا لرحمہ کی کتب کا خود مطالعہ نہیں کیا بلکہ سنی سنائی بات پر عمل کرتے ہیں۔ صحیحین میں یہ روایات موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی بھی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے پھیلا دے (بغیر تفتیش و تصدیق)۔ یہی معاملہ یہاں کارفرما ہے۔ لوگوں نے امام اہل سنت سے متعلق ان لوگوں کی گفتگو پر یقین کر لیا جو لوگ امام کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ امام اہل سنت سے ایک بار سوال کیا گیا کہ غیر مقلدین اہل سنت میں داخل ہیں یا مبتدع (بدعت کرنے والے) میں؟ اس پر امام اہل سنت کا ایک جواب ملاحظہ فرمائیں؛

"غیر مقلّدین مبتدع، گمراہ ہیں ۔ علمائے عرب و عجم کا اس پر اتفاق ہے ۔ دیکھو عرب شریف کافتوٰی، ”فتاوی الحرمین ” جس پر علمائے مکہ و مدینہ کی مُہریں ہیں اور کتاب ”فتح المبین” اور ”جامع الشواھد” جن پر عرب و ہند کے بہت سے علماء کی مہریں ہیں اور” طحطاوی حاشیہ درمختار” میں ان کے بدعتی ہونے کی تصریح ہے "۔ ( اظہار الحق الجلی)

مذکورہ بالا عبارت میں امام اہل سنت کی احتیاط کا انداز دیکھیں کہ ایک واضح سوال کے جواب میں آپ نے غیر مقلدین کومطلقاً نہ کافر لکھا اور نہ ہی گستاخ وغیرہ بلکہ ایک انتہائی مضبوط و مناسب اصطلاح استعمال فرمائی۔ جن علماء حضرات کے خلاف امام اہل سنت نے فتوٰی کفر صادر فرمایا ان میں رشیداحمد گنگوہی ، قاسم نانوتوی،خلیل احمد انبیٹھوی اور اشرف علی تھانوی شامل ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ امام احمد رضا نے ان لوگوں کے خلاف فتوٰی کفر دینے سے قبل طویل عرصے تک انہیں توبہ کی دعوت دی، انہیں تحریری و تقریری انداز میں یہ احساس دلانے کی بھرپور کوشش فرمائی کہ ان حضرات سے کفر و توہین کا ارتکاب ہوا ہے۔ "تحذیر الناس ” کی اشاعت کے تیس سال بعد اور "براہینِ قاطعہ” کی اشاعت کے سولہ سال بعد امام اہل سنت نے اپنے منصب کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے، امت مسلمہ کی خیر خواہی اور مذکورہ کتب کے مصنفین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے 1320 ہجری میں فتوٰی کفر صادر فرمایا۔

آپ علیہ الرحمہ کی صداقت و امانت کا ثبوت دیوبندی علماء نے بھی دیا اور یہاں تک کہا کہ اگر مولانا احمد رضا ہمارے متعلق فتوٰی کفر نہ دیتے تو وہ خود کافر ہو جاتے (کیونکہ ان کے نزدیک مذکورہ شخصیات کفر کی مرتکب تھیں)۔

لہٰذا یہ بات واضح اور روشن ہے کہ امام اہل سنت نے کبھی بھی ذاتی رنجش، عجلت اور غیض و غضب میں آکر فتوٰی جاری نہیں کیا بلکہ آپ نے ان کی خیر خواہی کی، انتظار کیا ، حجت تمام کی اور کئی برس گزر جانے کے بعد فتوٰی جاری فرمایا۔

عصرِ حاضر کے علماء کرام بلکہ بریلوی رضوی نسبت رکھنے والوں کی خدمت میں بصد احترام عرض ہے کہ امام اہل سنت کے اس طریقے پر عمل پیرا رہیں، جلدی سے کسی کے گستاخ، کافر ، صلح کلی یا بد مذہب ہو جانے کا فتوٰی مت صادر کر دیا کریں۔ جو غلطی پر ہو اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کریں، اور "فتوٰی” آخری آپشن کے طور پر استعمال کریں۔

احناف وغیر مقلدین کا تقابلی مطالعہ

احناف وغیر مقلدین کا تقابلی مطالعہ

علامہ عنایت الرحمن ہزاروی

محترم قارئین وبرادران اسلام! برصغیر پاک و ہند میں تقریبا بارہ صدیوں سے اسلام آیا۔ یہاں اسلام لانے والے‘ اسلام پھیلانے والے اور اسلام قبول کرنے والے سب کے سب اہل السنتہ والجماعتہ حنفی المسلک تھے یہاں تمام محدثین و مفسرین‘ فقہاء و اولیاء کرام و سلاطین عظام حنفی المسلک تھے۔ الحمدﷲ علی ذالک

لیکن جب سے انگریز کے شاطروغاصب قدم یہاں آئے تو وہ یورپ سے ذہنی آوارگی‘ مادر پدر آزادی اور دینی بے راہ روی کی سوغات ساتھ لائے اور مذہبی آزادی اور مذہبی تحقیق کے خوشنما اور دلفریب عنوانوں سے اس ملک میں ایک خود سرفرقے کو جنم دیا۔

اس فرقے کا پہلا قدم سلف صالحین سے بدگمانی اور اس کی انتہا سلف کے خلاف بدزبانی ہے یعنی اس فرقے کا ہر شخص اعجاب کل ذی رای برایہ پر نازاں و فرحاں ہونے کے ساتھ ساتھلعن آخر ہذہ الامتہ اولھا کا مصداق ہے۔ اس فرقے کا ہر فرد اپنے آپ کو آئمہ اربعہ بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے اعلیٰ و برتر سمجھتا ہے۔

محترم قارئین!

میں اس کے مکمل حقائق پر نہیں بلکہ جملہ حقائق میں ایک حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ہمارا موضوع بحث ہے اور وہ اس فرقہ زائفہ کی تاریخ پیدائش ہے۔ جس کے جاننے کے بعد آپ پر جھوٹے لبادے اہلحدیث کی حقیقت آشکارا ہوجائے گی۔

محترم قارئین!

اس ایک فرق کو ضرور سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ یہ فرقہ رسول اﷲﷺ کے زمانے سے ۱۴ سو سال بعد پیدا ہوا ہے جو فرقہ رسول اﷲﷺ کے زمانے سے اتنا بعد میں پیدا ہوا ہو وہ کیونکر علم و عمل اخلاص وللہیت اجتہاد و استنباط میں خیر القرون میں پائے جانے والے خواص تو کجا عوام کے مقابلے میں افضل ہوسکتا ہے چنانچہ

ان کی کہانی خود انہی کی زبانی

اس محاورے کے استشاد اور مطابقت کے لئے ملاحظہ ہو۔ مولانا عبدالخالق اور نذیر حسین دہلوی صاحبان فرماتے ہیں

سو بانی مبانی اس فرقہ نواحداث کا عبدالحق ہے جو چند دنوں سے بنارس میں رہتا ہے اور حضرت امیرالمومنین (سید احمدشہید) نے ایسی حرکات نائشہ کے باعث اسے اپنی جماعت سے نکال دیا اور علمائے حرمین معظمین نے اس کے قتل کا فتویٰ لکھا مگر کسی طرح وہ بھاگ کر وہاں سے بچ نکلا

(نتائج التقلید ص ۳ الحیات بعد الممات ص ۲۲۸)

حوالہ ثانی

ام المومنین کا گستاخ مولوی عبدالحق بنارسی نے برملا کہا عائشہ علی سے لڑی اگر توبہ نہ کی تو مرتد مری اور یہ بھی دوسری مجلس میں کہا کہ صحابہ کا علم ہم سے کم تھا ان میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ حدیثیں یاد تھیں اور ہم کو ان سب کی حدیثیں یاد ہیں۔ (کشف الحجاب ص ۴۲)

حوالہ ثالث

غیر مقلدین کے عالم و مجتہد مسلم نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں اس زمانے میں ایک ریاکار اور شہرت پسند فرتے نے جنم لیا ہے جو ہر قسم کی خامیوں اور نقائص کے باوجود اپنے لئے قرآن و حدیث کے علم اور ان پر عامل ہونے کے دعویدار ہیں حالانکہ علم اورعرفان سے اس فرقے کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ لوگ علوم آلیہ و عالیہ دونوں سے جاہل ہیں ۔(الحطہ ص ۱۵۳)

محترم قارئین!

اس قسم کے بیسیوں واقعات ان کی کتب سے نقل کئے جاسکتے ہیں مگر ھکذالقدر کفیٰ باالمرء عظۃکے طور پر کافی ہیں۔

مندرجہ بالااقتباسات میں کسی قسم کا کوئی اختلاف یا ابہام نہیں ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے۔ یہ عبارات اپنے معانی میں خود اظہر من الشمس ہیں۔ بالخصوص نواب صاحب نے تو انتہا کردی۔ خصوصی طور پر نواب صاحب کے یہ الفاظ قابل غور ہیں

(ہر قسم کی خامیوں کے باوجود اپنے لئے قرآن و حدیث کے علم اور ان پر عامل ہونے کے دعویدار ہیں)

محترم قارئین!

آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس فرقے کی تاریخ پیدائش کیا ہے۔ پھر غیر مقلدین کہتے ہیں کہ غیر مقلد نام تم نے ہمارا رکھا ہے۔ ورنہ ہم اہلحدیث ہیں اور یہ اصطلاح حدیث کی تدوین کے وقت سے چلی آرہی ہے لہذا ہم محدثین کے مسلک پر ہیں۔ تم ہمیں کیسے کہتے ہو کہ ہم بعد میں پیدا ہوئے ہیں۔

محترم قارئین!

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر یہ بیان کیا جائے کہ اہل حدیث کی اصطلاح کتب متقدمین و متاخرین میں جو استعمال ہوئی ہے اس کا مصداق کون ہیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ جو حضرات حدیث کی خدمت میں روایتہ و درایتہ معروف ہوئے ہوں ایسے صاحبان علم و عمل کے لئے علماء امت اصحاب الحدیث اہل الحدیث اہل الاثر محدثین کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت ان اصطلاحات کے الفاظ میں تو اختلاف ہے معنی میں اتحاد ہے بالفاظ دیگر یہ سب باہم مترادف المعنی ہیں۔

اس دعوے کی دلیل کے لئے بجائے اصول حدیث کی کتب کے حوالے نقل کئے جائیں‘ قطع مسافت کے طور پر ایک غیر مقلد عالم مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی کتاب تاریخ اہل حدیث سے حوالہ نقل کردیتا ہوں۔ ملاحظہ ہو

(بعض جگہ تو ان کا ذکر لفظ اہل حدیث سے ہوا ہے اور بعض جگہ اصحاب حدیث سے بعض جگہ اہل اثر کے نام سے اور بعض جگہ محدثین کے نام سے مرجع ہر لقب یہی ہے) (تاریخ اہل حدیث ص ۱۲۸)

محترم قارئین!

سیالکوٹی صاحب کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصطلاحات ان کے نزدیک بھی متراف المعنی ہیں۔ بزعم خویش اہل حدیث یعنی غیر مقلدین اور انفاس قدسیہ اہل حدیث میں بچند وجوہ فرق ہے۔

جماعت یا فرقہ اسے کہتے ہیں جو اصول و فروع میں ایک نظریہ پر متفق ہیں جیسے متقدمین و متاخرین علماء کی کتب میں متعدد فرق کا ذکر ہے مثلا مرجئہ قدریہ جبریہ معتزلہ خوارج روافض وغیرہ ان فرقوں کا بطور فرقہ ذکر ہیٍ مثلا مرجئہ بالکل اعمال کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کرتے‘ دخول جنت کے لئے نفس ایمان کو کافی سمجھتے ہیں تو اس کی ایک خاص نظریہ رکھنے والے گروہ کو مرجئہ سے موسوم کیا گیا۔ جبکہ قابل غور بات یہ ہے کہ اہل حدیث اگر کوئی فرقہ ہوتا اگرچہ حقانی ہوتا تو اس طریق پر ان کا ذکر ضرور ہوتا یعنی یہ کہا جاتا کہ یہ خوارج کا مسلک ہے اور اس کے مقابلے میں اہل حدیث کا مسلک یہ ہے جبکہ ایسا نہیں تو اس طرح ذکر نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ اہل حدیث کہتے ہی ایسے اشخاص و افراد کو ہیں جو خدمت حدیث میں روایتہ و درایتہ معروف ہو‘ قطع نظراس سے کہ اس کا اپنا فقہی مسلک کیا ہے۔

چنانچہ جب ہم محدثین کا تذکرہ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ احناف شوافع مالکیہ حنابلہ سب ہی اہل حدیث گزرے ہیں چنانچہ ذیل میں ایسے چند افراد کا ذکر مشتے نمونہ از حروارے کے طور پر کئے دیتا ہوں۔ ملاحظہ ہو

اہل الحدیث احناف

(۱) امام اعظم‘ عبدالکریم شہرستانی نے چند افراد کے نام گنوائے ان میں سے ایک امام اعظم بھی ہیں اور آخر میں فرمایا “وھوء لاء کلہم آئمتہ الحدیث”

اور اسی طرح علامہ ذہبی نے امام صاحب کو ان القابات سے یاد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

الامام الاعظم فقیہ العراق متورع عالم عامل متقی اور کبیر الشان ان القابات کے ذریعہ تذکرہ کرتے ہوئے آپ کو حفاظ حدیث میں شمار کیا ہے۔ (تذکرہ الحفاظ ج ۱ ص ۱۵۸)

محترم قارئین!

آپ کی جلالت پر سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ہمارا اس وقت ان فضائل و اشعیاب مقصود نہیں ہے۔

(۲) زمربن ہزیل (۳) امام ابو یوسف (۴) قاسم بن معن (۵) علی بن مسر (۶) امام طماوی (۷) عافیہ بن یزید (۸) عبداﷲ بن مبارک ۔

عبداﷲ بن مبارک فرماتے ہیں۔

تعلمت الفقہ الذی عندی من ابی حنیفہ (بغدادی ج ۱۳ ص۳۸۸)

(۹) یحیی بن سعید القطان (۱۰) یحیی بن معین

یحیی بن معین فرماتے ہیں۔

القرأہ عندی قرأہ حزہ والفقہ فقہ ابی حنیفہ علی ھذا ادرکت الناس (بغدادی ج ۱۳ ص ۳۴۷)

کہ میرے نزدیک قراۃ حمزہ کوفی کی اور فقہ حضرت امام اعظم کا راحج ہے۔

تلک عشرہ کاملتہ

اہل الحدیث شوافع

(۱) صاحب مذہب امام ادریس شافعی رحمتہ اﷲ علیہ (۲) امام ترمذی رحمتہ اﷲ علیہ (۳) امام مسلم رحمتہ اﷲ علیہ (۴) امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ (۵) ابو خضر رحمتہ اﷲ علیہ (۶) ابن حبان رحمتہ اﷲ علیہ (۷) ابو السید رحمتہ اﷲ علیہ  (۸) ابن ماجہ رحمتہ اﷲ علیہ

اہل الحدیث مالکیہ

(۱) امام ابو نطیب (۲) قاضی ابو طاہر زملی (۳) امام ابن الباجی (۴) امام اسماعیل القاضی

اہل الحدیث حنابلہ

(۱) امام المقدسی (۲) الاشرم (۳) ابن الجوزی (۴) ابن شیخ عبدالقادر جیلانی یعنی ابوبکر عبدالرزاق

محترم قارئین!

یہ چند اسماء بطور نمونہ ذکرکئے ہیں اس میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ مسالک اربعہ کے محدثین ہیں۔ ان سب کے محدثین اور اہل الحدیث ہونے پر اتفاق ہے مگر آپ غور تو فرمائیں۔ ان میں حنفی شافعی مالکی حنبلی کیوں ہیں جبکہ ہمارے زمانے کے نام نہاد اہل الحدیث تو نہ حنفی ہیں نہ شافعی ‘ مالکی حنبلی ہیں۔ اس فرق کو آپ ایک مثال سے سمجھیں۔ اگر میں آپ سے کہوں کہ زید کا مسلک کیا ہے؟ تو جواب دینے والا اگر یہ کہے کہ وہ تو اہل الحدیث ہے تو آپ انصاف سے بتائیں کہ آپ کے ذہن میں کیا آئے گا۔ لامحالہ طور پر ایک فرقے کا تصور جسے ہمارے دیار میں وہابی کا لقب ملا۔ اب بزعم خویش وہ اہل الحدیث کہلاتے ہیں۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ اس فرقہ نوپید کا نام شروع میں محمد بن عبدالوہاب نجدی کے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے وہابی کہا جانے لگا۔ بعد میں ان کے فطری حلیف انگریز سرکار نے اہل حدیث سے مسمیٰ کیا۔ چنانچہ مولانا حسین بٹالوی صاحب رقم طراز ہیں

بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ!  میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا خواست گار ہوں۔  ۱۸۸۶ء میں میں نے اپنے ماہواری رسالہ اشاعتہ السنہ شائع کیا تھا جس میں اس کا اظہار تھا کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی اور نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لہذا اس لفظ کا استعمال مسلمانان ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلائے جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز کے نمک حلال اور خیرخواہ رہے ہیں اور یہ بات بار بار ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے۔ ہم کمال ادب و انکساری کے ساتھ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیںکہ وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہاب یکو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاویٍ اس درخواست پر فرقہ اہل حدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے دستخط ثبت ہیں۔

(اشاعتہ السنہ ص ۲۴ جلد ۱۱ شمارہ ۲)

محترم قارئین!

بٹالوی صاحب کی اس واضح المعنیٰ عبارت پر تبصرہ کی ضرورت نہیں ہیٍ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس اصطلاح الحدیث کی الاٹمنٹ ان کے دیرینہ یار انگریز نے بطور ہدیہ عنایت کی ہے۔ بے شک کلمتہ حق ارید بہا الباطل اس موقع کے لئے کہا گیا ہیٍ۔ اس حقیقت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو محدثین گزشتہ صدیوں میں گزرے ہیں وہ فرق میں کسی نہ کسی امام کے عیال تھے اور اگر کوئی ایسا نہ تھا تو وہ از خود فقیہ و مجتہد ہوتا تھا۔

محترم قارئین!

مسابق میں جو بیان ہوا یہ تو تھا تصویر کا ایک رخ۔ اس فرقے کے مقابلہ میں احناف کب سے ہیں‘ ان کا تاریخی پس منظر کیا ہے۔ اس کو ملاحظہ فرمائیں۔

(۱) غیر مقلدین کا فرقہ چودھویں صدی میں عبدالحق بنارسی نے بنایا ہے جبکہ احناف خیر القرون قرنی ثم  الذین یلونہم کا مظہر ہیں اور دوسری صدی احناف کا محور اجتہاد رہا اور ابتداء ہوئی۔

(۲) امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کبار تابعین میں سے ہیں جبکہ بانی غیر مقلدین عبدالحق بنارسی تابعی تو کیا تبع تابعی تو کیابلکہ گیارہویں صدی کے کبار علماء تک کا دیدار نہ کرسکا۔

(۳) حضرت امام صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق احادیث میں بشارت ہے کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو تو تب بھی ایک فارسی شخص اسے حاصل کرلے گا۔ جبکہ عبدالحق بنارسی کے لئے کوئی ایک موضوع مخترع روایت بھی موجود نہیں ہے۔

ہاں اب گڑھ لیں تو اور بات ہے۔

محترم قارئین کرام!

اس ہیچمداں نے اپنی بے بغاعتی اور کم علمی کے باوجود حقیقت کی نقاب کشائی و تصویر کشی کی ہے۔ فیصلہ آپ کریں کہ ۱۴ سو سال قبل کے سواداعظم کے طریق پر رہنا بہتر اور حقانی ہے یا شتر بے مہار غیر مقلد بننا۔

راہ و منزل کا انتخاب آپ پر ہے۔